21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsفہم القرآن

Ayahs 21:42–43

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

” اے نبی ان سے فرمائیں کہ کون ہے جو رات یا دن میں تمہیں رحمان سے بچا سکتا ہے ؟ مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ (42)

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا یہ معبود رکھتے ہیں۔ جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں گے ؟ وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے۔ “ (43)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرکین مکہ الرّحمن کے منکر تھے اس لیے یہاں الرّحمن کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ منکرین حق کو مختلف الفاظ اور انداز میں انتباہ کیا جا رہا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! استہزاء کرنے والوں سے پوچھیں کہ کون ہے ؟ جو رات اور دن میں تمہاری نگرانی کرتا ہے، کیا الرّحمن کے سوا کوئی اور ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ رب رحمن کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر تم پر نرمی اور مہربانی کرنے والا ہو۔ الرّحمن کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ تمہاری گستاخیوں کے باوجود دن، رات تمہاری نگرانی اور ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرنے والے ہیں۔ کیا ان کے اور بھی نگران اور حاجت روا ہیں ؟ جو ان کی رات اور دن میں حفاظت کرتے ہیں ؟ وہ نہ اپنے آپ کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری پکڑ سے بچ سکتے ہیں۔ پچھلی آیات میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مشفق نام ” الرحمن “ کے منکر تھے۔ اب انھیں الرّحمن کا تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ الرّحمن کی شفقت اور مہربانی کا نتیجہ ہے کہ تمہاری گستاخیوں کے باوجود تمہیں ڈھیل دیے ہوئے ہے ورنہ تم سے پہلے کتنے لوگ گزرے ہیں کہ ان میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ نے رات کے وقت اپنی گرفت میں لیا جو قیامت تک اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ کچھ ایسے تھے جن کو دن کے وقت عذاب نے آلیا اور وہ ہمیشہ کے لیے مغضوب ٹھہرے۔ نہ وہ اپنے آپ کو بچا سکے اور نہ ان کے دستگیر اور مشکل کشا کوئی مدد کرسکے۔ قرآن مجید نے اس بات کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص پر دو نگران مقرر کر رکھے ہیں۔ انسان اس وقت تک ان کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک انھیں حفاظت کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ (الرعد : 11) (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ ...إنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ عَنِ التَّعَرّٰی فَاسْتَحْیُوْا مِنْ مَآاءِکَۃِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لاَ یُفَارِقُوْنَکُمْ إلَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ حَالَاتٍ اَلْغَاءِطِ وَ الْجَنِابَۃِ وَ الْغُسْلِ فَإذَا اغْتَسَلَ أحَدُکُمْ بالْعُرَاءِ فَلْیَسْتَتِرْ بِثَوْبِہِ أوْ بِجَذْمَۃِ حَاءِطٍ أوْ بِبَعِیْرِہِ ) [ رواہ البزار ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں بیشک اللہ نے تمہیں ننگا ہونے سے منع کیا ہے پس تم اللہ کے فرشتوں سے شرم کرو۔ فرشتے صرف تم سے تین حالتوں میں جدا ہوتے ہیں۔ قضائے حاجت کے وقت، مباشرت اور غسل کے وقت، جب تم میں سے کوئی کھلے میدان میں غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ خود کو کسی کپڑے سے یا کٹے ہوئے درخت کے تنے کے پیچھے ڈھانپے یا پھر اپنے اونٹ کی اوٹ کرلے۔ “ ہمیشہ اللہ کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے : (اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلاَ تَکِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّأَصْلِحْ لِی شَأْنِیْ کُلَّہُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ) [ رواہ ابو داؤد : باب مایقول اذا اصبح ] ” اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے تمام معاملات درست فرما دے تیرے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ “ مسائل 1۔ الرحمن ہی دن، رات لوگوں کی نگرانی کرتا ہے۔ 2۔ اکثر لوگ اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی خود بچ سکتا ہے اور نا کوئی اسے بچا سکتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ انسان کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے : 1۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : 57) 2۔ اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (الشوریٰ : 6) 3۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : 102) 4۔ اللہ پر توکل کرو، اللہ بہترین کارساز ہے۔ (الاحزاب : 3) 5۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : 21)
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

” اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو اور ان کے آباو اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ ان کی مہلت طویل ہوگئی مگر کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں ؟ کیا یہ غالب آجائیں گے ؟ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کا اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرنے کا بنیادی سبب۔ اللہ تعالیٰ جب کسی فرد یا قوم کو طویل مدت تک اسباب عطا کرنے کے ساتھ ڈھیل دیتا ہے تو وہ اس کے شکر گزار بندے بننے کی بجائے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ناراض نہیں جس وجہ سے دنیا کے اسباب و وسائل، اقتدار اور وقار دئیے جا رہا ہے۔ خاص طور پر یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہے تو نافرمان لوگوں کا یہ اعتقاد بن جاتا ہے کہ واقعی ہی ہم میں ایسے اوصاف ہیں جس بناء پر ہم وسائل، اقتدار اور وقار کا حق رکھتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے لوگوں پر اچانک برے حالات و ارد کردیے جاتے ہیں جن کا یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہی صورتحال اہل مکہ کی تھی۔ وہ کئی نسلوں سے بیت اللہ کی وجہ سے دنیا میں بالعموم اور عرب میں بالخصوص نہایت وقار کی زندگی بسر کر رہے تھے اور وسائل کے اعتبار سے بھی عرب کے قبائل میں متمول سمجھے جاتے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سرور دو عالم ﷺ کی دعوت قبول کرکے اپنے رب کے شکر گزار بندے بن جاتے لیکن وہ آپ ﷺ کی مخالفت پر دن رات کمربستہ ہوگئے۔ جوں جوں وہ مخالفت میں تیز ہو رہے تھے اسی رفتار سے دن بدن اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ بالاخر وہ وقت بھی آیا جب ان کے لیے مکہ کی زمین تنگ ہوگئی اور انھیں اسلام کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا۔ اسی صورتحال کو یہاں بیان کی گیا ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو فائدہ دیا اور پھر طویل مدت تک انھیں مہلت دی۔ یہ مدت ان کے لیے فائدہ مند ہونے کی بجائے وبال ثابت ہوئی۔ کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے حالانکہ یہ اپنے آپ کو غالب سمجھ رہے۔ ارضیات کے سائنسدانوں کی تحقیق یہ ہے کہ زمین رقبہ کے لحاظ سے بھی دن بدن تنگ ہو رہی ہے۔ ( اللہ اعلم) (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ أَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ قَالَ فَأَیُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَسَاءَ عَمَلُہُ قَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی طُولِ الْعُمُرِ لِلْمُؤْمِنِ ] ” حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکرہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک ایک آدمی نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سے بہترین کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں۔ اس نے پھر عرض کی اللہ کے محبوب لوگوں میں سے بدترین کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ طویل عمر اور اسباب کی کشادگی عنایت فرمائے تو نافرمان بننے کی بجائے اپنے رب کی تابعداری کرنا چاہیے۔ 2۔ طویل عمر نیک آدمی کے لیے مفید اور برے شخص کے لیے وبال کا باعث ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو زمین کی وسعتوں کو انسان کے لیے تنگ و تاریک کر دے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی شخص اور قوم غالب نہیں آسکتی۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی غالب ہے : 1۔ اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 2۔ اللہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو حکم کرتا ہے۔ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 117) 3۔ ” اللہ “ اپنے بندوں پر غالب ہے اس نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کیے ہیں۔ (الانعام : 61) 4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : 1) 5۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : 49) 6۔ اللہ قوی اور غالب ہے۔ ( المجادلۃ : 21) 7۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 20)
Ayahs 21:45–46

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

” ان سے فرمادو کہ میں تمہیں وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں مگر بہرے آواز کو نہیں سنا کرتے جب انہیں خبردار کیا جائے۔ (45)

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر آپ کے رب کا معمولی سا عذاب انہیں آلے تو چیخ اٹھیں کہ ہائے ہم پر افسوس بیشک ہم ہی ظالم تھے۔ “ (46)

فہم القرآن ربط کلام : ایک دفعہ پھر منکرین حق کو انتباہ کیا گیا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان سے فرمائیں کہ میں تمہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ لیکن کانوں سے بہرے لوگ اس وحی کو ناسنتے ہیں اور نا ہی اس کے انتباہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر انھیں ان کے رب کی طرف سے عذاب کا معمولی جھٹکا بھی آجائے تو یہ آہ وزاری اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ اعتراف کریں گے کہ ہم ہی ظالم تھے۔ جب انسان مفاد کا بندہ اور تعصب کا غلام ہوجائے تو پھر نہ وہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نہ اچھی بات کو سننا گوارا کرتا ہے اور نہ ہی کسی بات پر غور و فکر کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے کان سننے کے قابل، آنکھیں دیکھنے اور عقل کے دریچے اس وقت کھلتے ہیں جب ان کے سروں پر عذاب منڈلانے لگتا ہے۔ ایسے لوگوں کی اسی حالت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اس وقت انھیں سننے اور دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ نبی اکرم ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ اپنی طرف سے ہمیں دھمکیاں دیتا ہے۔ اس کے جواب میں آپ کو حکم دیا گیا۔ کہ آپ وضاحت فرمائیں کہ میں اپنی طرف سے نہیں ” اللہ “ کی وحی کے مطابق تمہیں سمجھاتا اور تمہارے انجام سے ڈراتا ہوں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عذاب کے وقت مجرموں کا اعتراف : 1۔ مجرم کہیں گے ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔ (الانعام : 130) 2۔ اے ہمارے پروردگار ہماری بدبختی نے ہمیں گھیر لیا تھا اور ہم کافر ہوئے۔ (المومنون : 106) 3۔ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا یہاں سے نکلنے کا راستہ ہے۔ (المومن : 11)
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

” قیامت کے دن ہم پورے انصاف کے ساتھ ترازو رکھیں گے۔ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہوگا جس کا رائی کے دانے برابر بھی کوئی عمل ہوگا ہم اسے سامنے لے آئیں گے اور ہم حساب چکانے کے لیے کافی ہیں۔ “ (47)

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق کو دنیا میں ان کے جرائم کی پوری پوری سزا نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے قیامت کا دن مقرر کیا ہے۔ جس کے لیے ہر کسی کو اس کی نیکی، بدی کے مطابق جزا اور سزادی جائے گی۔ قیامت کے دن حساب و کتاب کے کئی مراحل ہوں گے۔ جن میں آخری مرحلہ فیصلہ کن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے ترازو قائم فرمائیں گے۔ اس دن کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہیں ہونے پائے گی۔ اگر کسی کی نیکی یا بدی رائی کے دانے کے برابر ہوئی تو اسے بھی اس کے سامنے لے آیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا حساب و کتاب لینے میں کسی کی معاونت کا محتاج نہیں۔ حساب و کتاب کے انداز اور طریقہ کار کے بارے میں قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ یہ بات بتائی ہے کہ ہر کسی کی نیکی، بدی اس کے سامنے پیش کی جائے گی۔ مجرم اپنا اعمال نامہ دیکھ کر پکار اٹھے گا کہ ہائے میرے اعمال نامہ میں ہر چیز لکھی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی چیز ایسی نہیں جسے چھوڑا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ (الکہف : 69) ہر کوئی نیکی اور بدی کو اپنی آنکھوں کے سامنے پائے گا۔ (الزلزال : 7۔ 8) جہاں تک اعمال نامے کا وزن کرنے کا معاملہ ہے۔ ماضی بعید میں کچھ لوگ اس بات پر گمراہ ہوگئے کہ نماز، روزہ اور انسان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کا وجود نہیں ہوتا تو پھر ان کا وزن کرنا کس طرح ممکن ہوگا۔ قرآن مجید نے اعمال کے حوالے سے صدیوں پہلے جس بات کا انکشاف کیا ہے آج جدید سائنس نے یہ بات عملاً ثابت کردی ہے کہ واقعی ہی اعمال کا وزن ہوسکتا ہے اور قیامت کے دن ایسا ضرور ہوگا۔ انسان کے جسم کی حرارت، بخار کا ٹمپریچر، ہوا کا وزن اور دباؤ وزن کیا جاسکتا ہے نہ معلوم مستقبل میں کیا کیا تجربات اور مشاہدات انسان کے سامنے آجائیں گے۔ اور کس کس چیز کا وزن کرسکے گا۔ سورة القارعۃ میں ارشاد ہے جس کے اعمال کا وزن بھاری ہوا وہ قیامت کے دن عیش و عشرت میں ہوگا۔ اور جس کے اعمال کا وزن ہلکا نکلا اس کی جگہ ہاویہ ہے اور آپ کیا جانیں ہاویہ کیا ہے ہاویہ دہکتی آگ ہے۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَیْکَ وَقَالَ یَدُ اللَّہِ مَلأَی لاَ تَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ، سَحَّاء اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ وَقَالَ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَآءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّہٗ لَمْ یَغِضْ مَا فِیْ یَدِہِ ، وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ، وَبِیَدِہِ الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَیَرْفَعُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ تعالیٰ وکان عرشہ علی الماء ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں۔ انسان خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ اس میں سے رات دن خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی، آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین بنائے ہیں کس قدر اللہ نے خرچ کیا ہوگا ؟ یقیناً اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ترازو ہے وہ اسے اوپر، نیچے کرتا ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ تُوضَعُ الْمَوَازِینُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُؤْتَی بالرَّجُلِ فَیُوضَعُ فِی کَفَّۃٍ فَیُوضَعُ مَا أَحْصِیَ عَلَیْہِ فَتَمَایَلَ بِہِ الْمِیزَانُ قَالَ فَیُبْعَثُ بِہِ إِلَی النَّارِقَالَ فَإِذَا أَدْبَرَ بِہِ إِذَا صَاءِحٌ یَصِیحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ لاَ تَعْجَلُوا لاَ تَعْجَلُوا فَإِنَّہُ قَدْ بَقِیَ لَہُ فَیُؤْتَی بِبِطَاقَۃٍ فیہَا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِی کَفَّۃٍ حَتَّی یَمِیلَ بِہِ الْمِیزَانُ ) [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عمرو ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ترازو قائم کیا جائیگا ایک آدمی کو ایک پلڑے میں اور اس کے اعمال کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائیگاتو گناہوں والا پلڑا جھک جائیگا آپ نے فرمایا اسے جہنم کی طرف روانہ کردیا جائیگا جب وہ پیچھے مڑکر دیکھے گا تو ایک چیخنے والے کو سنے گا جو رحمٰن کے قریب سے زور زور سے کہہ رہا ہوگا اس کے بارے میں جلدی نہ کرو ابھی اس کے کچھ اعمال باقی ہیں تو ایک کاغذ لایا جائیگا جس میں لا الٰہ الا اللہ لکھا ہوگا اس کو اس آدمی کے ساتھ پلڑے میں رکھ دیا جائیگا حتٰی کہ اس کا پلڑا بھاری ہوجائیگا۔ “ عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ فِی بَعْضِ صَلاَتِہِ اللَّہُمَّ حَاسِبْنِی حِسَاباً یَسِیرًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الْحِسَابُ الْیَسِیرُ قَالَ أَنْ یَنْظُرَ فِی کِتَابِہِ فَیَتَجَاوَزَ عَنْہُ إِنَّہُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَءِذٍ یَا عَاءِشَۃُ ہَلَکَ وَکُلُّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ یُکَفِّرُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ عَنْہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ تَشُوکُہُ ) [ روہ احمد : مسند عائشہ صدیقہ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی ﷺ کو آپ کی نماز میں یہ الفاظ پڑھتے ہوئے سنا آپ کہتے بارالٰہا ! میرا حساب و کتاب آسان فرماناجب آپ نماز سے فارٖغ ہوئے تو میں نے عرض کی۔ اللہ کے محبوب آسان حساب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ انسان کے نامہ اعمال کی طرف دیکھ کر اس سے چھوڑ دیا جائے۔ اس دن جس سے حساب و کتاب میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ ہلاک ہوگیا جو تکلیف مومن کو پہنچتی ہے اللہ عزوجل اس کے عوض اس کے گناہ مٹا دیتا ہے حتٰی کہ کانٹا لگنے سے بھی گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ “ ” سیدہ عائشہ ؓ ایک دن جہنم کو یاد کر کے رورہی تھی رسول اللہ ﷺ نے پوچھا اے عائشہ ! تجھے کس چیز نے رلایا ہے۔ سیدہ عائشہ نے کہا جہنم کی آگ یاد آئی تو میں رو پڑی۔ کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل و عیال کو یاد رکھ پائیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین مواقع ایسے ہیں جن میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ 1 اعمال تولے جانے کے وقت جب تلک یہ نہ پتہ چل جائے کہ اس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوا یا ہلکا۔ 2 نامہ اعمال دئیے جانے کے وقت جب کہنے والا کہے آؤ میرے نامہ اعمال کو پڑھ کر دیکھو حتٰی کہ اسے علم ہوجائے کہ اس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جا رہا ہے یا پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں 3 جب جہنم کے اوپر پل صراط کو رکھا جائے گا۔ [ رواہ ابوداؤد : باب فی ذکر المیزان ] مسائل 1۔ قیامت کے دن ہر کسی کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ 2۔ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ 3۔ رائی کے دانے کے برابر کی ہوئی نیکی اور برائی اس کے کرنے والے کے سامنے لائی جائے گی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا حساب کرنے پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن حساب کے مراحل : 1۔ قیامت کے دن عدل و انصاف کا ترازو قائم کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ ( الانبیاء : 47) 2۔ ہر انسان کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے گا اور حکم ہوگا اپنا نامہ اعمال پڑھو آج کے دن تیرا یہی حساب کافی ہے۔ ( بنی اسرائیل : 13، 14) 3۔ ہر کسی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا مجرم دیکھ کر کہیں گے کہ یہ نامۂ اعمال کیسا ہے جس میں ہر چھوٹی بڑی بات درج کردی گئی ہے۔ ( الکہف : 49) 4۔ جس دن صور پھونکا جائے گا سب رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی اور کوئی کسی کے متعلق کچھ دریافت نہیں کرے گا جن لوگوں کا نیکیوں پلڑا بھاری ہوگیا وہی لوگ کامیاب ہیں۔ ( المؤمنوں : 101، 102)
Ayahs 21:48–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

” پہلے ہم متقی لوگوں کی راہنمائی کے لییموسیٰ اور ہارون کو فرقان اور روشنی اور ذکر عطا کرچکے ہیں۔ (48)

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جو قیامت سے ڈرنے والے ہوں۔ (49)

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور اب یہ بابرکت ” ذکر “ ہم نے نازل کیا ہے کیا تم اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہو ؟۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : قیامت پر ایمان لانا اور اس کے حساب کی تیاری کرنے کے بارے میں صرف نبی اکرم ﷺ ہی لوگوں کو نہیں سمجھاتے تھے اس عقیدہ کی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) بھی تلقین کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ بات متعدد مقامات پر عیاں فرمائی ہے کہ نہ تو نبی آخر الزّماں پہلے نبی ہیں اور نہ ہی قرآن مجید کی تعلیمات انوکھی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں اور پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ قرآن مجید اپنے سے پہلی آسمانی کتابوں کی تائید کرتا ہے۔ بالخصوص تورات اور انجیل کے بنیادی مضامین اور احکام معمولی تبدیلی کے ساتھ وہی ہیں جن کی قرآن تعلیم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن الفاظ میں قرآن مجید کا تعارف کروایا گیا ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں تورات کا تعارف کروایا ہے۔ یہاں تورات کو الفرقان، روشنی اور ذکر کہا گیا ہے۔ تورات وانجیل سے ان لوگوں نے ہی فائدہ اٹھایا تھا جو برائی سے بچنے والے، اپنے رب سے غیب میں ڈرنے والے اور قیامت سے لرزاں رہنے والے تھے۔ یہی اصول قرآن مجید کی پہلی آیت میں بتلایا گیا ہے کہ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں یہ ان لوگوں کی رہنمائی کرتی ہے جو نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور غیب پر ایمان لاتے ہوئے پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے قرآن مجید کو الفرقان، ذکر اور بابرکت کہا گیا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمایا ہے لیکن اس کے باجود اہل کتاب اور دیگر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر قرآن مجید اور تورات کے نزول کا مقصد یکساں الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے کہ اے نبی ! اس کتاب کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا تاکہ آپ اپنے رب کے حکم سے لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں۔ ( ابراہیم : 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یوں ارشاد ہوا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی آیات نازل فرمائیں تاکہ ان کے ساتھ اپنی قوم کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ (ابراہیم : 5) قرآن مجید اور تورات کو اللہ تعالیٰ نے فرقان، روشنی اور ذکر قرار دیا ہے۔ اللہ کے ذکر یعنی اس کی نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں۔ قرآن مجید ذکر، نصیحت اور برکت والی کتاب ہے۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے مگر بیشمار لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔ مسائل 1۔ پہلی آسمانی کتب اس دور کے متقین کے لیے باعث نصیحت تھیں۔ 2۔ مومن اپنے رب اور قیامت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ 3۔ قرآن مجید بڑی بابرکت کتاب ہے۔ مومن غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجید شک و شبہ سے بالا تر کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید ایمان والوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (النحل : 64) 3۔ قرآن کریم برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 185) 4۔ قرآن حمید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : 1) 5۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 6۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے باعث رحمت اور شفا ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 7۔ اس کتاب کی آیات محکم ہیں اور یہ حکیم وخبیر کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (ھود : 1) 8۔ یقیناً قرآن سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 9) 9۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88)
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

” ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم کو ہدایت بخشی اور ہم اس کو خوب جاننے والے تھے۔ “ (51)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے خلیل اور عظیم پیغمبر ہیں۔ جن کا تذکرہ یوں شروع کیا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا اور ہم ابراہیم کو جاننے والے ہیں۔ یہ مسلّمہ حقیقت اور ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کو جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے ان کی ابتدا ہی سے خصوصی رہنمائی فرمائی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا اور ہم انھیں اچھی طرح جاننے والے تھے۔ میری سمجھ میں اس تعارف کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم نے ستارہ پرستوں کو عقیدہ توحید سمجھانے کے لیے استعارہ اور تمثیل کی زبان استعمال کی تھی۔ جس وجہ سے یہ شبہہ ہوسکتا تھا کہ شاید ابراہیم (علیہ السلام) بھی کچھ عرصہ شرک میں مبتلا رہے ہوں۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اس طرح تعارف کر وایا جائے تاکہ ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکین کے ساتھ جو مکالمہ ہوا اس سے کسی کو شبہ نہ ہوپائے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے دن یہ کہہ کر ستارہ پرستوں کے عقیدہ پر ضرب لگائی کہ دیکھو یہ ستارہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غائب ہوگیا تو فرمایا کہ غائب ہونے والوں کو میں پسند نہیں کرتا۔ دوسرے دن انھوں نے چمکتے ہوئے چاند کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا یہ میرا رب ہوسکتا ہے لیکن جب چاند چھپ گیا تو فرمایا کہ اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں گمراہ ہونے والوں میں سے ہوجاتا۔ تیسرے دن جگمگاتا ہوا سورج دیکھا تو فرمایا کہ یہ میرا سب سے بڑا رب ہوسکتا ہے لیکن جب سورج غروب ہوگیا تو فرمایا کہ اے میری قوم جو تم شرک کرتے ہو میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ میں نے اپنے چہرے کو مکمل طور پر اس ذات کے حوالے کیا ہوا ہے جو زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔ میں اپنے عقیدہ میں بالکل یکسو ہوں میرا مشرکوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ہے وہ رشد و ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس لیے بھی رشد کا لفظ استعمال کیا گیا کیونکہ جس ماحول بالخصوص جس گھر میں انھوں نے تربیت پائی تھی وہ شرک کا مرکز اور ان کا باپ شرکیہ عقیدے کا بہت بڑا ترجمان تھا۔ لیکن اس کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے بچے رہے۔ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لأَبِی یَا حُصَیْنُ کَمْ تَعْبُدُ الْیَوْمَ إِلَہًاقَالَ أَبِی سَبْعَۃً سِتًّا فِی الأَرْضِ وَوَاحِدًا فِی السَّمَاءِ قَالَ فَأَیُّہُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِکَ وَرَہْبَتِکَ قَالَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ قَالَ یَا حُصَیْنُ أَمَا إِنَّکَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُکَ کَلِمَتَیْنِ تَنْفَعَانِکَ قَالَ فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَیْنٌ قَالَ یَا رَسُول اللَّہِ عَلِّمْنِی الْکَلِمَتَیْنِ اللَّتَیْنِ وَعَدْتَنِی فَقَالَ قُلِ اللَّہُمَّ أَلْہِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی) [ رواہ الترمذی : باب جامِعِ الدَّعَوَاتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ] ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے میرے باپ کو فرمایا اے حصین تم کتنے معبودوں کی عبادت کرتے ہو۔ میرے باپ نے کہا سات کی۔ چھ زمین میں ہیں اور ایک آسمان میں ہے آپ نے فرمایا خوف اور امید کے وقت کس کو پکارتا ہے۔ اس نے کہا جو آسمانوں میں ہے۔ آپ نے فرمایا اے حصین اگر تو اسلام لے آئے تو میں تجھے دو کلمات ایسے سکھلاؤں گا جو تیرے لیے نہایت ہی مفید ہوں گے۔ جب حصین اسلام لے آئے انہوں نے عرض کی اللہ کے محبوب مجھے وہ کلمات سکھلادیں جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا پڑھیں : قُلِ اللَّہُمَّ أَلْہِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی اے اللہ مجھے رشدوہدایت عطا فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے رشد و ہدایت اور سمجھداری سے سرفراز فرمایا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبّہ کی ایک جھلک : 1۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے ابتداء سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا۔ (الانبیاء : 51) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اطمینان قلب کی درخواست کی تھی۔ ( البقرۃ : 260) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل اور بردبار تھے۔ (التوبۃ : 114) 4۔ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت راست باز نبی تھے۔ (مریم : 41) 5۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم، بڑے خیر خواہ اور نرم دل تھے۔ (ہود : 75) 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے مومن بندوں میں سے تھے۔ (الصّٰفٰت : 111) 7۔ ابراہیم (علیہ السلام) معبودان باطل کے انکاری اور ان سے براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : 4)
Ayahs 21:52–59

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

” یاد کرو وہ بات جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن کا تم اعتکاف کرتے ہو ؟ (52)

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ (53)

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

اس نے کہا تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ (54)

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تو ہمارے سامنے حقیقت پیش کر رہا ہے یا مذاق کر رہا ہے ؟ (55)

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے جواب دیا نہیں حقیقت یہ کہ تمہارا رب وہی ہے جو زمین و آسمانوں کا رب اور ان کا پیدا کرنے والا ہے میں اس پر تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں۔ “ (56)

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

” اور اللہ کی قسم میں تمہاری غیر حاضری میں ہر صورت تمہارے بتوں کی خبر لوں گا۔ (57)

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چناچہ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور صرف ان کے بڑے بت کو چھوڑا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ (58)

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے جس نے ہمارے خداؤں کا یہ حال کیا ہے وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ “ (59)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبوت کا پہلا اور مرکزی پیغام ” توحید “ ہے جس بنا پر انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے ” اللہ “ کی توحید پیش فرمائی اور بتوں کی بےثباتی ثابت کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کیا لہٰذا سب سے پہلے باپ کے سامنے عقیدہ توحید پیش کرتے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے۔ لہٰذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغامِ حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جاتی۔ چناچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ توحید کی دعوت پہلے باپ کی خدمت میں پیش فرمائی اور اس کے ساتھ ہی قوم کو سمجھایا کہ ان مورتیوں اور مجسموں کے سامنے کیوں جھکتے اور اعتکاف کرتے ہو ؟ قوم کا پہلا جواب یہ تھا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طرح ہی کرتے ہوئے پایا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تم اور تمہارے آباؤ اجداد راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہو۔ قوم کا دوسرا جواب یہ تھا کہ ابراہیم تم اپنی دعوت میں سنجیدہ ہو یا شغل کے طور پر ایسی باتیں کر رہیہو۔ گویا کہ قوم سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ان کے خداؤں اور آباء و اجداد کے طریقۂ عبادت کی کوئی شخص مخالفت کرسکتا ہے۔ اسی لیے پوچھتے ہیں کہ ابراہیم اپنی بات میں سنجیدہ ہو یا شغل کے طور پر یہ بات کہہ رہے ہو ؟ ابراہیم (علیہ السلام) پوری سنجیدگی اور جلالت کے ساتھ فرماتے ہیں کیونکہ نہیں۔ جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سچ اور حق ہے۔ میرا اور تمہارا وہ رب ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا میں اسی عبادت کی دعوت دیتا ہوں۔ نامعلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس کس انداز اور کتنی مدت تک اپنے باپ اور قوم کو سمجھاتے رہے۔ طویل عرصہ تک سمجھانے کے باوجود جب قوم سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوئی تو آپ نے سوچا کہ اگر دلائل انکی سمجھ میں نہیں آرہے اور یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے اور ان مورتیوں پر مرے جا رہے ہیں تو اب ان کے معبودوں کی عملی طور پر خبر لینا چاہیے۔ تب ڈنکے کی چوٹ کہا اللہ کی قسم ! اب یہ مجسمے میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ (وَ تَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ) [ الأنبیاء : 57] ” اور اللہ کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے بتوں کی ضرور خبر لوں گا۔ “ (فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوم فَقَالَ إِنِّی سَقِیمٌ) [ الصّٰفٰت 88، 89]” تاروں کی طرف دیکھا اور کہا میں بیمار ہوں۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) بڑے ذہین تھے : جتنے بھی نبی اپنے اپنے زمانے میں تشریف لائے وہ اپنے دور کے سب سے ذہین اور فطین انسان تھے۔ دیکھیے ابراہیم (علیہ السلام) کتنے زیرک اور فطین ہیں کہ سب بتوں کو توڑا مگر بڑے کو چھوڑ دیا۔ تاکہ قوم واپس آکر کے دیکھے گی تو اس حادثے پر غور وفکر کرتے ہوئے یقیناً اس کی طرف رجوع کرے گی۔ اگر اَلِیْہِ کی ضمیر (اشارہ) بڑے بت کی طرف ہو تو شاید یہ سوچیں کہ بڑے میاں نے کسی بات پر ناراض ہو کر چھوٹوں کا تیاپانچہ کردیا ہے۔ یا کم ازکم ان کے دلوں میں یہ خیال ضرور آئے گا کہ واقعی ابراہیم سچ کہتا تھا کہ یہ سب بےکار ہیں بتوں نے نہ اپنے آپ کو بچایا اور نہ ہی بڑے میاں ابراہیم کا ہاتھ پکڑ سکے۔ اگر ” اَلِیْہِ “ کا اشارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف ہے تو معنی بالکل صاف ہے کہ جب میرے پاس آئیں گے مجھے مزید بات کرنے کا موقع مل جائے گا۔ میں کہونگا مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے عقیدے کے مطابق بڑے بت سے پوچھو۔ اگر یہ بولتے ہیں تو انکا بڑا تو موجود ہے۔ ” کہنے لگے ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کردیا ؟ وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ کچھ کہنے لگے ہم نے ان کے خلاف ایک ابراہیم نامی نوجوان کو چیلنج کرتے سنا ہے۔ “ فتح مکہ کے موقعہ پر بتوں کو توڑا : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ مَکَّۃَ وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاث ماءَۃٍ وَّسِتُّوْنَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعَنُھَا بِعُوْدٍ فِيْ یَدِہٖ وَجَعَلَ یَقُوْلُ (جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ) الآیۃ) [ رواہ البخاری : کتاب المظالم والغصب، باب ھل تکسر الدنان التی فیھا الخمر ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور کعبے کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت تھے آپ انہیں اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی سے گراتے اور فرماتے : (حق آچکا اور باطل بھاگ گیا) ۔ “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ اور قوم بتوں کے سامنے مراقبے اور اعتکاف کرتے تھے۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو بتوں کے سامنے مراقبے اور اعتکاف کرنے سے روکا۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا جواب یہ تھا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طرح پایا ہے۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کو توڑنے کی دھمکی دی اور پھر اس پر عمل کر دکھایا۔ 5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھرپور جوانی میں یہ کام کیا تھا۔ تفسیر بالقرآن دعوت توحید کی تحریک میں جوانوں کا کردار : 1۔ وہ کچھ جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہم نے انکی ہدایت میں اضافہ کردیا۔ (الکہف : 13) 2۔ ہم نے ایک نوجوان کا تذکرہ سنا ہے جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ (الانبیاء : 60) 3۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا۔ (القصص : 14) 4۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم عطا کیا۔ (یوسف : 22) 5۔ حضرت موسیٰ پر نوجوانوں کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا کیونکہ لوگ فرعون سے ڈرتے تھے۔ ( یونس : 83)
Ayahs 21:60–65

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

” کچھ لوگ بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا جس کا نام ابراہیم ہے۔ (60)

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اسے سب کے سامنے پکڑ لاؤ تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں۔ (61)

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا کیوں ابراہیم تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے ؟ (62)

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے جواب دیا بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں۔ (63)

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

یہ سن کر وہ لوگ اپنے گریبانوں میں جھانکنے لگے اور اعتراف کیا کہ تم خود ہی ظالم ہو۔ (64)

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

مگر پھر ان کی عقل الٹی ہوگئی اور کہنے لگے تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔ “ (65)

فہم القرآن ربط کلام : بتوں کو پاش پاش کرنے پر قوم کا رد عمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی مسرت و شادمانی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی۔ زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے پھر دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوا فَأْتُوْا بِہٖ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ان کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ کس غیظ وغضب کے ساتھ کس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو پکڑ کر لائے ہوں گے۔ کتنے آوازے کسے ہوں گے اور کتنی گستاخیاں کی ہوں گی ؟ لیکن ابراہیم ہجوم مشرکین کو زمین کے ذرات سے بھی حقیر تصور فرماتے ہوئے ایسی جرأت اور مردانگی سے جواب دیتے ہیں کہ ان کی کئی کئی گز لمبی زبانیں اس طرح گنگ ہوگئیں، جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ ان میں نام نہاد دانش، پڑھے لکھے اور ان پڑھ ہر قسم کے لوگ موجود ہیں لیکن کوئی بولنے کی جرأت نہیں کر پاتا۔ بولیں تو کس بنیاد پر بات کریں۔ یہی تو ہمارے رب کا فرمان ہے۔ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ إِلَہًا آخَرَ لَا بُرْہَانَ لَہُ بِہٖ فَإِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہٖ إِنَّہُ لَا یُفْلِحُ الْکَافِرُوْنَ ) [ المؤمنون : 117] ” جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی پکارتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ان کا حساب رب کے ذمہ ہے۔ یقین جانیے کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ “ جرگہ ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کرتا ہے : ابراہیم (علیہ السلام) کو جرگے کے سامنے پیش کیا گیا تو سرداران شرک و بدعت بڑے طمطراق اور رعب ودبدبہ کے ساتھ لال پیلے ہو کر پوچھتے ہیں۔ (قَالُوْا أَأَنْتَ فَعَلْتَ ہٰذَا بِاٰ لِہَتِنَا یَا إِبْرَاہِیْمُ )[ الأنبیاء : 62] ” اے ابراہیم آیا کہ تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے۔ “ جواب : (قَالَ بَلْ فَعَلَہُ کَبِیْرُہُمْ ہَذَا فَاسْأَلُوْہُمْ إِنْ کَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ) [ الانبیاء : 63] ” فرمانے لگے بلکہ ان کے بڑے نے یہ کاروائی کی ہوگی۔ پوچھ لیجئے ! اگر یہ بات کرسکتے ہیں۔ “ خاموشی ہی خاموشی ہے اور ہو کا عالم۔ اکڑی ہوئی گردنیں جھک گئیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے لگے۔ (فَرَجَعُوْا إِلٰی أَنْفُسِہِمْ فَقَالُوْا إِنَّکُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُوْنَ ثُمَّ نُکِسُوْا عَلٰی رُءُ وسِہِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا ہٰؤُلَاءِ یَنْطِقُوْنَ ) [ الانبیاء : 64، 65] ” یہ سن کر وہ لوگ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور اپنے دل میں کہنے لگے واقعی ہی تم خود ظالم ہو۔ مگر پھر گردنیں جھکا کر کہنے لگے ابراہیم تو جانتا ہے ! یہ تو بات نہیں کرسکتے۔ “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ 2۔ قوم نے بالآخر یہ اقرار کیا کہ ہمارے معبود بات نہیں کرسکتے۔ تفسیر بالقرآن معبودان باطل کی بےحیثیتی : 1۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے انسان ہیں اگر وہ کچھ نفع و نقصان کے مالک ہیں تو انھیں پکار کر دیکھ لو۔ کیا ان کے پاس چلنے کو پاؤں، پکڑنے کو ہاتھ، دیکھنے کو آنکھیں اور سننے کو کان ہیں۔ اپنے معبودوں کو بلالو پھر اپنی تدبیر کرلو اور مجھے ڈھیل نہ دو ۔ (الاعراف : 195) 2۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگر مکھی کچھ چھین کرلے جائے تو واپس نہیں لے سکتے۔ ( الحج : 73) 3۔ فرما دیجیے ! جن کو تم اللہ کے سوا بااختیار تصور کرتے ہو وہ تم سے تکلیف دور نہیں کرسکتے۔ (بنی اسرائیل : 56) 4۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کچھ پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں مردہ ہیں زندہ نہیں انھیں تو وہ اتنا جانتے بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (النحل : 20۔ 21) 5۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : 3) 6۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : 16) 7۔ بلاؤ اپنے معبودوں کو اگر تم سچے ہو۔ (البقرۃ : 23) 8۔ اس دن ان سے کہا جائے گا بلاؤ اپنے معبودان باطل کو، وہ بلائیں گے تو انھیں جواب نہیں ملے گا۔ (القصص : 64) 9۔ فرما دیجیے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے۔ (الاحقاف : 4)
Ayahs 21:66–68

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

” ابراہیم نے کہا پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان دے سکتی ہیں۔ (66)

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

افسوس ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے ؟ (67)

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا اسے جلا دو کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو۔ “ (68)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے اقرار جرم کرلینے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انھیں ایک دفعہ پھر سمجھانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خداداد صلاحیت اور پوری دانشمندی کے ساتھ ایک مکالمے کے ذریعے اپنی قوم کو اس مقام پر لے آئے کہ جب انھوں نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اقرار کیا کہ اے ابراہیم ! تو جانتا ہے یہ تو پتھر اور مٹی کے بنے ہوئے بت ہیں جو بول نہیں سکتے۔ اس حقیقت کا اقرار کروانے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں پوچھا کیا پھر تم ان کے سامنے مراقبے، سجدے اور اپنی حاجات پیش کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان دے سکتے ہیں۔ تم پر اور تمہارے معبودوں پر نہایت ہی افسوس ہے۔ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود بھی تم عقل سے کام لینے کے لیے تیار نہیں ہو۔ ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں دلائل، عملی مشاہدہ اور عقل و فکر کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ لوگو ! اگر اپنے معبودوں کو بچانا اور ان کی مدد کرنا چاہتے ہو تو پھر ابراہیم کو جلا کر راکھ کر دو ۔ اس کے بغیر اس سے تم اور تمہارے معبود نہیں بچ سکتے۔ مسائل 1۔ معبودان باطل اپنے آپ اور کسی کو نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عقل و دانش کے حوالے سے بھی اپنی قوم کو توحید سمجھانے کی کوشش کی۔ 3۔ قوم نے عقل سے کام لینے کی بجائے مخالفت میں آکر ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دینے کا فیصلہ کیا۔
Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

” ہم نے کہا اے آگ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔ (69)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں قوم اور حکومت کا انتہائی اقدام : ابھی خاص وعام کے ساتھ یہ کشمکش جاری تھی کہ حکومت وقت نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا۔ جب حاکم وقت نمرود کے پاس مکمل رپورٹ پہنچی تو وہ آپے سے باہر ہوگیا۔ چناچہ اسے فکر لاحق ہوئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی خدائی کا انکار کرتا ہے تو میری خدائی کب تسلیم کرتا ہوگا۔ فوراً حکم صادر کیا کہ ابراہیم جہاں کہیں ہو، اسے فی الفور میرے حضور میں پیش کیا جائے۔ باپ، رشتہ دار، پوری قوم یہ چاہتی تھی یہ تحریک دب جائے اور اس کے داعی کو عبرت ناک سزا سے دو چار کیا جائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حاکم وقت کے سامنے جاتے ہیں۔ حاکم وقت نے حاکمانہ لب ولہجے میں پوچھا اے ابراہیم ! ہمارے ہوتے ہوئے تم کسی اور کو بھی رب مانتے ہو ؟ ابراہیم (علیہ السلام) بھرپور اعتماد سے فرمانے لگے ! ہاں میں زمین و آسمان میں صرف اور صرف ایک ذات کو رب مانتا ہوں۔ اس کے بغیر سب مجبور و محکوم ہیں۔ سب کا خالق ومالک ” اللہ “ ہے۔ تو بھی اسی طرح کا ایک انسان ہے جس طرح ہم انسان ہیں نمرود چونک اٹھا، کرسی پر اکڑتے ہوئے گردن اٹھا کر بولا۔ ہاں ہاں تو میرے بغیر بھی کسی کو خدا مانتا ہے۔ فوراً اپنے رب کے اوصاف بیان کرو ورنہ تیری ہڈیاں توڑ دی جائیں گی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا نمرود کے ساتھ مکالمہ : ” کیا آپ نے اس شخص کے بارے میں غور نہیں کیا ؟ جو ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑ رہا تھا۔ اس بات پر کہ ابراہیم کا رب کون ہے ؟ اس وجہ کہ اللہ نے اس کو حکومت سے نوازا تھا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ بادشاہ کہنے لگازندگی اور موت میرے اختیار میں بھی ہے۔ ابراہیم نے فرمایا اچھا اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال لاؤ۔ کافر ششدر رہ گیا۔ اللہ ایسے ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ “ [ البقرۃ : 258] حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سوچا کہ بیوقوف بادشاہ لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے لہٰذا انہوں نے اس دلیل کی لطافت کو سمجھانے کی بجائے فورا ایسی دلیل دی جس سے کوئی مغالطہ نہیں دیا جاسکتا تھا۔ فرمایا کہ میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے تو اسکو مغرب سے طلوع کر کے دکھا۔ یہ سوال سنتے ہی وہ ششدررہ گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ بادشاہ اطاعت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتا۔ لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور عوام کو قابو رکھنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا جو ہر دور میں ظالم اور فاسق حکمران کیا کرتے ہیں۔ امن عامہ کے تحت گرفتاری : فوراً حکم دیا کہ امن عامہ کے تحت اسے گرفتار کرلیا جائے۔ چناچہ آپ کو دس دن تک جیل میں رکھا گیا اور پھر اس کی کونسل نے انہیں زندہ جلاد ینے کا فیصلہ کیا بالفاظ دیگر باپ، عوام اور حکمران بھی سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ اسکو زندہ نہ چھوڑا جائے بلکہ عبرتناک سزا دی جائے۔” اگر اپنے خداؤں کو بچانا چاہتے ہو تو فوراً اس کو زندہ جلا دو ۔ “ [ الانبیاء : 68] شاہی کونسل کا فیصلہ : (قَالُوا ابْنُوْا لَہُ بُنْیَانًا فَأَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ ) [ الصّٰفٰت : 97] ” اس کے لیے ایک بڑا گہرا قلعہ بناؤ اس کو آگ سے بھر کر اس کو دہکتے ہوئے انگاروں میں پھینک دو ۔ “ شا ہی آرڈنینس کے تحت پوری مشینری آگ بھڑ کا نے میں لگی ہوئی ہے۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ لوگوں کے جذ بات کا عالم یہ تھا کہ عورتیں نذریں ما نتی تھیں۔ اگر فلاں مشکل یا بیماری رفع ہوجائے تو میں اتنی لکڑیاں آگ میں پھینکوں گی مؤ رخین نے تحریر کیا ہے۔ کہ عراق کی سرزمین پر آج تک آگ کا اتنا بڑا الاؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ جب آگ میں پھینکنے کا وقت آیا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اتنی وسیع آگ میں کس طرح پھینکا جائے۔ شا ہی کو نسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔ زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ ابر اہیم (علیہ السلام) کو آگ میں کس طرح پھینکا جائے ؟ فیصلہ ہوتا ہے کہ ایسی مشین تیار کئی جائے جس میں جھو لادے کر آگ کے درمیان میں پھینکا جائے لہٰذا اس طرح ہی کیا گیا۔ اُف خدا یا کیسا منظر ہے جو آج تک تیرے فرشتوں نے بھی نہیں دیکھا ہوگا۔ نظر اٹھائی تو جبرا ئیل (علیہ السلام) نمو دار ہوئے۔ روح الا میں عرض کرتے ہیں جناب میں حا ضر ہوں کوئی خد مت ہو تو فرمائیں۔ ابرا ہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ کو رب العزت کی طرف سے حکم ہے جبریل (علیہ السلام) جواب دیتے ہیں کہ نہیں۔ کہا پھر جاؤ مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ” حَسْبِیَ اللّٰہ “ کہہ کر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کیا۔ اب کا رروائی زمین پر نہیں عرش پر ہوگی۔ : چنانچہ حکم ہوا کہ اے آگ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سلامتی والی ہوجا۔ تفسیر ابن ابی حا تم میں ہے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) چا لیس دن تک آگ میں رہے۔ حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے جتنا آرام میں نے چالیس دن آگ کے اندر پا یا ساری زندگی اتنا آرام میسر نہیں آیا۔ یاد رہے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) کو آگ میں برہنہ کرکے پھینکا گیا تھا۔ ” وَأَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیم “ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیا مت کے دن جس خوش نصیب کو سب سے پہلے جنت کا لباس پہنایا جائے گا وہ ابرا ہیم (علیہ السلام) ہوں گے۔[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء،] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والا بنا دیا۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو انھوں نے جلا دینے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں ناکام کردیا۔
Ayahs 21:70–71

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم کو نقصان پہنچائیں مگر ہم نے ان کو بری طرح ناکام کردیا۔ “ (70)

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

” اور ہم ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے لوگوں کے لیے برکات رکھیں ہیں۔ “ (71)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے سلامت نکل کر ہجرت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ (فَأَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَسْفَلِیْنَ ) [ الصّٰفٰت : 98] ” وہ چاہتے تھے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) کو مار دیں لیکن ہم نے ان کو بری طرح ذلیل کردیا۔ “ (وَأَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنَاہُمُ الْأَخْسَرِیْنَ ) [ الانبیاء : 70] ” انہوں نے ابرا ہیم (علیہ السلام) کو ما رناچا ہا لیکن ہم نے ان کو ناکام کردیا۔ “ اہل ایمان کے لیے اس واقعہ میں بہت سے اسباق عبرت ہیں۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے باپ اور دو سرے لوگوں نے نیچا دکھا نے کی کوشش کی لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کامیاب اور دوسرے ناکام رہے۔ حتی کہ انہوں نے آگ میں جانا قبول کرلیا۔ مگر نظریہ توحید کو نہ چھو ڑا۔ اے اہل ایماں اگر تم بھی سچی بات پر قائم رہو تو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ نا معلوم آگ سے نکلنے کے بعد ابرا ہیم (علیہ السلام) نے کتنی مدت تک تبلیغ کا کام کیا۔ جو بات انہوں نے آگ سے نکل کر لوگوں کے سامنے رکھی قرآن کے الفاظ میں پڑھیے۔ (وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِنْ دُون اللّٰہِ أَوْثَانًا مَوَدَّۃَ بَیْنِکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَمَأْوَاکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ نَاصِرِیْنَ ) [ العنکبوت : 25] ” ابراہیم نے ان سے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو آپس میں محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ مگر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرو گے۔ تمہارا ٹھکانہ آگ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کرتے ہیں : صاحب قصص القرآن نے لکھا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے دوران ہجرت پہلا قیام کلدانین میں فرمایا۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) بمعہ حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے حاران نامی بستی میں قیام پذیر ہوئے۔ آپ (علیہ السلام) کچھ عرصہ تک حاران نامی بستی میں ٹھہرے۔ یہاں بھی دین حنیف کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ بالآخر آپ اپنی رفیقہ حیات اور بھتیجے کے ساتھ ارض فلسطین میں تشریف لے گئے۔ یہی وہ سر زمین ہے جسکی روحانی ومادی برکات دنیا میں مسلمہ ہیں۔ دنیا کے کسی خطے میں اتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) نہیں ہوئے۔ آج بھی اس ارض فلسطین میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک اکثر انبیاء کرام (علیہ السلام) آرام فرما ہیں۔ فلسطین میں قیام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بھتیجے جناب لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن میں تبلیغ کے لیے مقرر فرمایا اور فلسطین کے مغربی اطراف میں خود سکونت پذیر ہوئے۔ اس زمانے میں یہ علاقہ کنعانیوں کے زیر اقتدار تھا۔ یہاں کچھ عرصہ قیام فرمانے کے بعد آپ (علیہ السلام) مصر کی طرف چلے گئے۔ (از قصص القرآن) نازک ترین آزمائش : ہجرت کے سفر میں آپ ( علیہ السلام) کو اس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا جس سے شاید صرف اور صرف ابراہیم (علیہ السلام) کو سابقہ پڑا۔ یعنی عزت وناموس کی آزمائش۔ بادشاہ نے آپ کی حرم پاک پر دست درازی کرنے کی ناپاک کوشش کی۔ حضرت امام بخاری نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس الم ناک واقعہ کو صحیح بخاری میں نقل فرمایا۔ یہ ایسی آزمائش ہے کہ اس موقع پر بڑے بڑے لوگوں کے اوسان خطا ہوجایا کرتے ہیں لیکن خلیل خدا ( علیہ السلام) بڑے حوصلہ کے ساتھ اپنی رفیقہ حیات کو ایک تجویز سمجھاتے ہیں۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی رفیقہ حیات حضرت سارہ اللہ کے فضل وکرم سے سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔ بے حیا ظالم اور بےشرم بادشاہ اپنے آپ میں ذلیل ہوا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو راضی کرنے کے لئے اپنی بیٹی آپ کے ہمراہ کردی۔ تفصیل کے دیکھیں۔ (بخاری : باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ظالم قوم سے نجات دی۔ 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) بیت المقدس کی طرف ہجرت کر گئے۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی بیوی حضرت سارہ (علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ہجرت کی۔
Ayahs 21:72–73

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

” اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا کیا اور پوتا یعقوب بھی دیا جنہیں صالح بنایا۔ (72)

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو امام بنا دیا وہ ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی۔ وہ ہماری عبادت کرنے والے تھے۔ “ (73)

فہم القرآن ربط کلام : سفر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنا ملک، گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ یہ کمی محسوس ہوئی۔ کہ اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے۔ جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ ساتھ میرے بعد تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ تمام مورخین نے تحریر فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر سو سال اور آپ (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ ( علیہ السلام) کی عمر نوے سال تھی۔ قرآن مجید نے ولادت اسحاق (علیہ السلام) کے سلسلے میں متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے کہ فرشتے انسانوں کی شکل میں جناب خلیل (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ ” جب ابراہیم ( علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر پہنچے تو فرشتوں نے عرض کیا۔ اے ابراہیم آپ پر سلام ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں کہا تم پر بھی سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ لگائی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا ضیافت کے لیے لے آئے۔ مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتے۔ تو وہ ان سے مشتبہ ہوگئے اور دل میں ان سے خوف محسوس کیا۔ فرشتوں نے کہا آپ ڈریں نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ “ [ ھود : 69، 70] ” اور اس کی بیوی (اس کے) پاس کھڑی تھی۔ وہ یہ سن کر ہنس پڑی، پھر ہم نے اس کو اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی۔ اس نے کہا اف ! کیا اب میرے ہاں بچہ ہوگا۔ جب کہ میں نہایت بوڑھی ہوچکی ہوں۔ اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہوچکا ہے۔ یہ تو عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کرتی ہو۔ اے ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہیں۔ یقیناً اللہ نہایت تعریف والا اور بلند شان کا مالک ہے۔ “ [ ھود : 71، 72، 73] حضرت اسحاق (علیہ السلام) : جناب اسحاق (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے تیرہ یا چودہ سال چھوٹے ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت سارہ [ بطن سے پیدا ہوئے۔ جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں انہی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ اور ہم نے اس ( ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) عطا کیے اور اس کی نسل کو کتاب اور نبوت سے نوازا۔ تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شام میں پیدا ہوئے اور ایک سو اسی سال کی عمر میں انتقال کیا۔ مقام جرون آپ ( علیہ السلام) کی آخری آرامگاہ ہے، جو فلسطین میں ہے۔ عظیم خانوادہ نبوت : ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا۔ تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک کس کا مرتبہ زیادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو پرہیزگار ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ہمارا یہ مقصد نہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا۔ خاندانی لحاظ سے سب سے بہتر اور افضل یوسف (علیہ السلام) جو نبی تھے۔ ان کے باپ نبی (یعقوب) تھے۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے باپ اسحاق (علیہ السلام) نبی تھے۔ اور ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) نبی خلیل اللہ تھے۔ “ [ رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیک وقت بیٹے اور پوتے کی خوشخبری عطا فرمائی۔ 2۔ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی اللہ کے پیغمبر تھے۔ 3۔ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہدایت کے امام تھے۔ 4۔ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نماز قائم کرنے والے، زکوٰۃ دینے والے اور نیکی کے کاموں میں پیش پیش تھے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو عبادت گزار بندوں میں شمار فرمایا ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : 1۔ ہم نے اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) کو ہدایت سے نوازا۔ ( الانعام : 84) 2۔ حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے منتخب کردہ ہیں۔ (ص : 45 تا 47) 3۔ اسحاق اور یعقوب (علیہ السلام) نیکوکار تھے۔ ( الانبیاء : 72) 4۔ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکوکار نبی اسحاق کی بشارت دی۔ ( الصٰفٰت : 112)