Ayahs 21:89–90فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں اکیلے تھے اور حضرت زکریا (علیہ السلام) بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو اکیلا خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی دعا کو قبول فرمایا اس لیے یونس (علیہ السلام) کے بعد حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ان کے لخت جگر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔
حضرت مریم [ جب بڑی ہوئیں تو انہیں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں دیا گیا۔ اس زمانے کے مذہبی رواج کے مطابق اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف لوگ تارک الدّنیا ہو کر مسجد اقصیٰ میں تعلیم و تربیت اور ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا کے معاملات سے الگ کرلیا ہوتا تھا۔ حضرت مریم [ انہی ذاکرات میں شامل ہو کر اپنے حجرے میں محو عبادت رہا کرتی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام ان کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے سپر دتھا۔ ایک دن زکریا (علیہ السلام) ان کے ہاں حجرے میں تشریف لائے تو ان کے پاس غیر موسمی عمدہ پھل دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ بیٹی مریم یہ پھل کہاں سے آئے ہیں ؟ مریم [ نے جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بلا حساب رزق سے نوازتا ہے۔ یہ سنتے اور اللہ کی قدرت دیکھتے ہی حضرت زکریا (علیہ السلام) کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور وجود تھّر تھرّانے لگا اور بےساختہ ہاتھ ” اللہ “ کے حضور اٹھے اور فریاد کرنے لگے کہ اے میرے رب ! مجھے بھی اپنی جناب سے نیکو کار اولاد نصیب فرما یقیناً تو دعا سننے والا ہے زکریا (علیہ السلام) ابھی اسی حجرے میں نماز کی حالت میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کا نزول ہوا اور انہوں نے آپ کو یہ نوید سنائی کہ اے زکریا ! خوش ہوجائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائیں گے جس کا نام یحییٰ ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کی تصدیق کرے گا اور سردار ہوگا۔ نہایت ہی پاک باز، اپنے آپ کی حفاظت کرنے والا اور انبیاء میں سے ہوگا۔
بیٹے کی خوشخبری سناتے ہوئے ملائکہ نے یہ بھی کہا اس کا نام یحییٰ ہوگا اور اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔ تو زکریا (علیہ السلام) حیرت زدہ ہو کر اللہ کے حضور عرض کرتے ہیں کہ بار الٰہ ! مجھے کس طرح بیٹا نصیب ہوگا جب کہ میں بوڑھا اور میری بیوی جسمانی طور پر بچہ جننے کے لائق نہیں ؟ ملائکہ نے خوشخبری سنائی تو تعجب کا اظہار فرمانے لگے مگر تعجب کا اظہار ملائکہ سے کرنے کے بجائے براہ راست اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں۔ کیونکہ اولاد دینے والا تو وہی ہے اور یہ خوشخبری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ فرشتہ تو محض پیغام رساں ہے۔ زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کے جواب میں ارشاد ہوا کہ میرے بندے ! اللہ اپنے کام کو خود ہی جانتا ہے اور وہ اسی طرح ہی کرتا ہے جس طرح اس کی منشا ہوا کرتی ہے۔ پھر عرض کرنے لگے : اے رب ! میرے لیے بیٹے کی کوئی واضح نشانی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارے کے علاوہ کلام نہیں کرسکو گے۔ ان ایام میں خاص طور پر صبح وشام اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکریہ ادا کرتے رہو۔
سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر گرامی
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت زکریا (علیہ السلام) کے صاحبزادے اور ان کی پیغمبرانہ دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔ جس عمر میں اولاد کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے اس عمر میں حضرت زکریا کو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) عطا کئے گئے اور نام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجویز ہوا۔ جو اس سے پہلے کسی شخص کا نام نہ تھا۔
خصوصی صفات :
1۔” حَکَم یعنی قوت فیصلہ، معاملات میں ٹھیک، ٹھیک فیصلہ سنانے والا۔
2۔ حَنَّانَ دل کی نرمی اور شفقت یعنی انتہائی درجے کی شفقت جو ماں کو اپنے بچے کے ساتھ ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ بچے کی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے اس سے کہیں زیادہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے دل میں بندگان خدا کے لیے شفقت پیدا کی گئی تھی۔
3۔ ” حُصُوْرً “ لذات وشہوات پر قابو پانے والا انتہا درجہ محتاط و متقی۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی حالات زندگی :
تاریخی روایات کے مطابق حضرت یحییٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے چھ ماہ بڑے تھے، ان کی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ آپس میں حقیقی بہنیں تھیں۔ تقریباً تیس سال کی عمر میں منصب نبوت پر فائز کئے گئے۔ شرق اردن کے علاقے میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا۔ فرمایا کرتے تھے کہ لوگو ! توبہ کرو اور نماز، روزے کی پابندی اختیار کرو۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اپنے والد حضرت زکریا (علیہ السلام) کی طرح اولوالعزم نبی تھے تورات کی شریعت کے پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کو تین اوقات میں سلامتی سے نوازا۔
وقت ولادت وقت موت وقت حشرونشر
یہ حقیقت ہے کہ انسان کے لیے یہ تین اوقات سب سے زیادہ نازک اور اہم ہوتے ہیں (1) انسان ولادت کے وقت بطن مادر سے جدا ہو کر عالم دنیا میں آتا ہے۔ (2) موت کے وقت دنیا سے رخصت ہو کر عالم برزخ میں پہنچتا ہے۔ (3) عالم برزخ سے نکل کر میدان محشر میں اعمال کی جزاء وسزا کے لیے پیش ہوتا ہے۔
جس شخص کو رب کریم کی طرف سے ان تینوں اوقات کے لیے سلامتی کی بشارت مل جائے گویا کہ اسے سب کچھ مل گیا۔
مسائل
1۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور بیٹے کی دعا کی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) کی بیوی کو صحت عطا فرما کر یحییٰ (علیہ السلام) عنایت فرمائے۔
3۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، ان کی بیوی اور ان کے بیٹے یحییٰ (علیہ السلام) نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے والے تھے۔
4۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ اپوری رغبت اور خوف کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
نیکی میں سبقت کرنے کا حکم :
1۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ : 148)
2۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر : 32)
3۔ سبقت کرنے والے اللہ کے مقرب ہوں گے۔ (الواقعہ : 10، 11)
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر خیر ہے : آل عمران : 39، الانعام : 85، مریم : 7۔ 12، الانبیاء : 90۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کا تذکرہ : آل عمران : 37۔ 38، الانعام : 85، مریم : 2۔ 7، الانبیاء : 89
Ayah 21:91فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم [ کے خالو ہیں۔ اس لیے ان کا ذکر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بعد کیا گیا ہے۔
یہودی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے ناصرف حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی بلکہ اس کے ساتھ ہی حضرت مریم (علیہ السلام) کی پاک دامنی، شرم و حیا اور ان کے عبادت گزار ہونے کی شہادت دی۔ قرآن مجید نے اس قدر ٹھوس دلائل اور مؤثر انداز میں حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ کو بیان کیا ہے کہ اس کے بعد یہودیوں کا پراپیگنڈہ بےاثر ہو کر رہ گیا۔ یہ قرآن مجید کا عیسائیوں پر عظیم احسان ہے جس کا انھیں اعتراف کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ عیسائی نا صرف اس احسان کو فراموش کرچکے ہیں۔ بلکہ وہ یہودیوں کی دیکھا دیکھی اور مسلمانوں سے تعصب کی بناء پر وہ سرور دو عالم ﷺ کے بارے میں ایسی زبان بولتے اور اس قسم کی تحریریں لکھتے ہیں جو سراسر جھوٹ کا پلندہ اور انتہا درجے کی زیادتی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مریم [ کی پاکدامنی کی گواہی دی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ اور ان کی حیات مبارکہ کی ایک جھلک :
حضرت مریم [ کا قرآن مجید میں 13 مرتبہ تذکرہ ہوا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں 25 مرتبہ ذکر ہوا ہے۔
1۔ ” اللہ “ نے عیسیٰ ابن مریم کو معجزات سے نوازا اور روح القدس کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔ (البقرۃ : 87)
2۔ اے مریم ہم تجھے بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ (آل عمران : 45)
3۔ حضرت عیسیٰ کی تخلیق حضرت آدم (علیہ السلام) جیسی ہے۔ (آل عمران : 59) 4۔ مسیح ابن مریم اللہ کے رسول تھے۔ (النساء : 171)
5۔ زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس تمام کے تمام نیکو کار نبی تھے۔ (الانعام : 8)
Ayahs 21:92–93فہم القرآن
ربط کلام : سولہ انبیاء کرام کا ایک ہی عقیدہ اور ایک جیسا کردار ہونے کی بنا پر انہیں ایک ہی امت کے افراد قرار دیا گیا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل ترین جدوجہد، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اقتدار و اختیار، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اور عبادت گزاری، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ادریس اور حضرت ذالکفل (علیہ السلام) کا حوصلہ اور ان کی سیرت طیبہ، حضرت یونس (علیہ السلام) کی آزمائش اور اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی اپنے رب سے اپنے وارث کے لیے دعائیں، حضرت مریم [ کی پاکدامنی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد تمام انسانوں کو یہ سبق یاد کروایا ہے کہ اے لوگو ! یہ انبیاء اور صالحین کی جماعت تھی جو ایک ہی رب کے سامنے سرافگندہ ہونے والے تھے۔ ان سب کا ایک ہی رب اور ایک ہی دین تھا۔ تمہارے لیے بھی ایک ہی دین ہے میں ہی تمہارا رب ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔
قرآن مجید کے ارشاد سے واضح ہو رہا ہے کہ تمام انبیاء عقیدہ توحید پر متحد تھے اور وہ ایک رب کی عبادت کی دعوت دینے والے تھے۔ ان کے بعد ان کی امتیں شرک میں مبتلا ہوئیں، لوگ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے حالانکہ سب نے اپنے رب کے پاس جانا ہے اور وہ ان کے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا۔ فہم القرآن کے کئی مقامات پر عرض کیا ہے کہ ہر آیت بالخصوص ہر خطاب کے آخری الفاظ اس آیت اور خطاب کا خلاصہ ہوتے ہیں اسی اصول کے تحت یہاں اشارہ فرمایا ہے کہ دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں بالآخر تم نے ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ اس فرمان سے ثابت ہوا کہ عقیدہ توحید وحدت اور اتحاد کی ضمانت ہے۔ شرک انتشار اور خلفشار کا باعث ہے۔
عبادت کا جامع تصّور :
(قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ۔ لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ) [ الانعام : 162-163]
فرما دیجیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ “
دین ایک ہے اور فطرت کے مطابق ہے :
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقت جنم دیتے ہیں کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو ؟ پھر آپ نے آیت تلاوت کی۔” اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور درست دین ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِیُّ فَمَاتَ ہَلْ یُصَلَّی عَلَیْہِ وَہَلْ یُعْرَضُ عَلَی الصَّبِیِّ الإِسْلاَمُ ]
تمام انبیاء خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء رشتہ نبوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں لیکن ان کی مائیں مختلف ہیں۔ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء ]
مسائل
1۔ شرک سے پہلے لوگ توحید کے عقیدہ پر ہونے کی وجہ سے متحد تھے۔ 2۔ شرک کی وجہ سے لوگ گروہ در گروہ بنتے چلے گئے۔
3۔ تمام لوگوں کا ایک ہی رب ہے سب کو اسی کی عبادت کرنا چاہیے۔ 4۔ تمام لوگوں نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔
تفسیر بالقرآن
عقیدہ توحید اتحاد کی علامت، شرک انتشار کا سبب ہے :
1۔ تمام لوگ ایک ہی امت تھے انہوں نے جاننے کے باوجود آپس میں اختلاف کیا اگر اللہ کا کلمہ سبقت نہ لے چکا ہوتا تو ان کے درمیان اب تک فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ (یونس : 19)
2۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ایمان کے بعد شرک میں مبتلا نہیں ہوئے ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ ( الانعام : 83)
3۔ بلاشبہ یہ امت ایک ہی ہے اور میں تمہارا رب ہوں مجھ ہی سے ڈرو۔ (المؤمنون : 23)
4۔ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں تقسیم نہہو جاؤ۔ (آل عمران : 103)
5۔ جس نے طاغوت کے ساتھ کفر کیا اور اللہ پے ایمان لایا اس نے ایسے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو ٹوٹ نہیں سکتا۔ (البقرۃ : 256)
6۔ اے اہل کتاب آؤ کلمہ توحید پر متحد ہوجائیں۔ ( آل عمران : 63)
Ayah 21:94فہم القرآن
ربط کلام : اختلافات سے بچ کر نیک اعمال کرنے والوں کی جزا
انبیاء (علیہ السلام) اور حضرت مریم [ کا ذکر کرنے کے بعد ہر انسان کے لیے یہ اصول واضح کردیا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنے رب کے برگزیدہ بندے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے بڑے مراتب سے سرفراز فرمایا تھا۔ لیکن جو شخص بھی عقیدہ توحید پر رہتے ہوئے نیک اعمال کرے گا اس کے کسی نیک عمل کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے نیک آدمی کی ہر نیکی لکھی جا رہی ہے۔ لکھنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی طرف فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہاں مومن کی نیکی کی کتنی قدر ہے۔ سورة النساء آیت 147 میں یہ فرمایا کہ لوگو ! تمہیں عذاب دینے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اگر تم اس پر صحیح صحیح ایمان لاؤ اور اس کے شکر گزار بندے بن کر رہو تو اللہ تمہارے ہر نیک عمل کی قدر کرنے والا اور اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔
سورۃ الزلزال میں ارشاد فرمایا۔ جس نے رائی کے برابر نیکی یا برائی کی قیامت کے دن وہ اسے اپنے سامنے پائے گا۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَےِّبٍ وَّلَا ےَقْبَلُ اللّٰہُ اِلَّا الطَّےِّبَ فَاِنَّ اللّٰہَ ےَتَقَبَّلُھَا بِےَمِےْنِہٖ ثُمَّ ےُرَبِّےْھَا لِصَاحِبِھَا کَمَا ےُرَبِّیْ اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : باب الصَّدَقَۃِ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے شرف قبولیت بخشتا ہے اور اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے۔ اس کو اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہر مومن کے نیک اعمال لکھ رہا ہے۔ 2۔ مومن کے کسی نیک عمل کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔
Ayahs 21:95–96فہم القرآن
ربط کلام : صالح اعمال کرنے والوں کی قدر افزائی کا تذکرہ کرنے کے بعد برے لوگوں کے انجام کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی سزا دی اور قیامت کے دن بھی سزا پائیں گے۔
قرآن مجید نے اس حقیقت کو مختلف الفاظ اور انداز میں کئی بار واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی، اس کی مہربانی میں کوئی شخص رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کی گرفت سے کوئی کسی کو چھڑا سکتا ہے۔ جب وہ کسی بستی یا قوم کو تباہی کے گھاٹ اتارتا ہے تو پھر کوئی نہیں جو اسے دنیا میں واپس لے آئے۔ اسی حقیقت کو یہاں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ جب وہ کسی بستی کو اس کے جرائم کی پاداش میں تباہ کرتا ہے تو پھر اسے کوئی واپس نہیں لاسکتا۔ یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے۔ اس کا یہ مفہوم لینے کی بھی گنجائش ہے کہ تباہ و برباد ہونے والے لوگ دین کی طرف پلٹنے اور اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے نہ تھے۔ یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج نکل آئیں گویا کہ قیامت قائم ہوجائے۔ یاد رہے کہ قیامت کی تین قسم کی نشانیاں قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ جن میں کچھ نشانیاں وہ ہیں جو نبی ﷺ کی حیات مبارکہ تک پوری ہوچکی ہیں۔ جن میں ایک نشانی چاند کا دو ٹکڑے ہونا ہے۔ ان نشانیوں کا دوسرا حصہ نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے بعد شروع ہوتا ہے جس کی انتہاء کا تعیّن کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ قیامت کی نشانیوں کا تیسرا حصہ وہ ہوگا جس دور میں یا جوج ماجوج نمودار ہوں گے۔ جن کی تفصیل کے لیے سورة الکہف کی آیت 94 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یا جوج ماجوج ہر اونچی جگہ سے یلغار کرتے ہوئے لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے۔ یا جوج ماجوج کے خروج کے بعد قیامت قریب تر ہوجائے گی اور اس کا برپا ہونا برحق ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قیامت اس قدر اچانک برپا ہوگی کہ ” اللہ “ کے منکروں اور باغیوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ قیامت کی ہولناکیاں دیکھ کر کافر اور نافرمان لوگ آہ و زاریاں کرتے ہوئے کہیں گے ہائے افسوس ! ہم اپنی غفلت کی وجہ سے فسق و فجور میں مبتلا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔
قیامت کا برپا ہونا :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لاَ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِکَ حینَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہِ وَلاَ یَطْوِیَانِہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہِ فَلاَ یَطْعَمُہُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَہْوَ یَلِیطُ حَوْضَہُ فَلاَ یَسْقِی فیہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہُ إِلَی فیہِ فَلاَ یَطْعَمُہَا)
[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر تمام کے تمام لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت اس کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جو اس سے قبل نہ ایمان لایا اور نہ اس نے نیک اعمال کیے۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا دکاندار کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائے گا کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ حوض پروارد ہونے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ انسان اپنے منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
( عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِی ظِلِّ غُرْفَۃٍ لِرَسُول اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرْنَا السَّاعَۃَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آیَاتٍ طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوج الدَّابَّۃِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوق النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ )[ رواہ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب أمارات الساعۃ ]
” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم ﷺ کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے دوران گفتگو ہم نے قیامت کا ذکر کیا اس کے ساتھ ہی ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ پوری ہوجائیں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابہ جانور کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کا نزول، دھواں کا ظاہرہونا اور زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ مشرق میں اور ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں اور آخری نشانی آگ یمن کے علاقہ عدن سے رونما ہوگی جو لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو موت دے یا کسی بستی تباہ کر دے اسے کوئی زندہ کرنے والا نہیں۔
2۔ یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد قیامت کا وقت بالکل قریب آجائے گا۔ 3۔ یاجوج ماجوج ہر طرف دنگا و فساد کریں گے۔
4۔ جب قیامت برپا ہوگی تو لوگ چیخ و پکار کرتے ہوئے اپنے جرائم کا اعتراف کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کی نشانیاں اور اس کی ہولناکیوں کا ایک منظر :
1۔ سب نے اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ (یونس : 56) 2۔ قیامت کے دن لوگ مدہوش ہونگے۔ ( الحج : 2)
3۔ اس دن سے ڈر جاؤ جس دن تم اللہ کے ہاں لوٹائے جاؤ گے۔ (البقرہ : 281)
4۔ قیامت آنکھ جھپکنے میں آجائے گی۔ (النحل : 77) 5۔ قیامت کی ہولناکیاں بڑی سخت ہوں گی۔ (الحج : 1)
6۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : 49)
7۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقۃ : 30۔ 31)
8۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : 47)
Ayahs 21:97–100فہم القرآن
ربط کلام : آیت 94 میں صالح اعمال لوگوں کا اجر بیان ہوا۔ اس کے بعد برے لوگوں کا بیان ہوا۔ برے لوگوں کی برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کی بجائے دوسروں کی عبادت اور تابعداری کرتے تھے قیامت کے دن ایسے عابد اور معبود جہنم میں پھینکیں جائیں گے۔
سب سے بڑی برائی ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانا اور قیامت کے دن کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے کفار اور مشرکن کا معاملہ چکا یا جائے گا۔ رب ذوالجلال مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج تم اور تمہارے معبود جنہیں تم مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے پکارا کرتے تھے سب کو جہنم میں جھونکا جا رہا ہے۔ اگر وہ کسی قسم کا اختیار رکھنے والے ہوتے تو آج انھیں اور تمہیں جہنم میں داخل نہ ہونا پڑتا۔ یہاں معبودان باطل کو جہنم کا ایندھن قرار دیا ہے۔ اس سے مراد ہر قسم کے وہ بت ہیں جن کو لوگ خدا کا اوتار سمجھ کر ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے، رکوع اور سجود کرتے، چلہ کشی اور مراقبہ کرتے ہوئے ان کے ذریعے مدد طلب کرتے تھے۔ ایسے معبودوں کو اللہ تعالیٰ ان کے پجاریوں کے ساتھ جہنم میں پھینک دیں گے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کی پرستش ان کی زندگی میں یا ان کے دئیے ہوئے ماحول کی وجہ سے ان کے مزارات پر کی جاتی رہی۔ انھیں ان کے مریدوں اور قبر پرستوں کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔ جونہی جہنمی جہنم میں داخل ہوں گے وہ اس قدر آہ وزاری، چیخ و پکار اور واویلا کریں گے کہ کوئی کسی کی بات نہیں سن سکے گا۔ البتہ ان بزرگوں اور شخصیات کو جہنم سے محفوظ رکھا جائے گا جو اپنی زندگی میں لوگوں کو شرک و بدعت سے روکتے رہے۔ لیکن ان کی موت کے بعد لوگوں نے ان کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔
(وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ نَارُ جَھَنَّمَ لَا یُقْضٰی عَلَیْھِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمْ مِّنْ عَذَابِھَا کَذٰلِکَ نَجْزِیْ کُلَّ کَفُوْر وَ ھُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْھَا رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَ جَآءَ کُمُ النَّذِیْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ) [ فاطر : 36۔ 37]
” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے اس میں انہیں نہ موت آئے گی اور نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی ہم ہر ناشکرے کو ایسے ہی سزا دیتے ہیں۔ وہ اس میں چلاَئیں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال دے۔ ہم دنیا جو برے اعمال کرتے تھے ان کی بجائے نیک اعمال کریں گے اللہ فرمائے گا کیا ہم نے تمہیں سوچ و بچار کرنے کے لیے عمر نہ دی تھی اور تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے آج تم عذاب کا مزا چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ “
(قَالَ اخْسَؤُا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ) [ المؤمنون : 108]
اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ جہنم میں ذلیل و خوار ہوتے رہو بس مجھ سے بات نہ کرو۔ “
مسائل
1۔ معبودان باطل کو ان کے پرستش کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
2۔ مشرک ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں گے۔ 3۔ جہنمیوں کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں جہنمیوں کی چیخ و پکار اور واویلا :
1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
Ayahs 21:101–103فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا صلہ اور انعام۔
جن لوگوں کی فطرت اور کوشش کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں خیر اور نیکی رکھ دی ہے۔ وہ لوگ جہنم سے کوسوں دور رکھے جائیں گے۔ اس قدر جہنم سے دور اور محفوظ ہوں گے کہ نہ وہ جہنم کی آہٹ سنیں گے اور نہ جہنم کی بدبو ان تک پہنچ پائے گی۔ انھیں جنت میں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی دل میں چاہت کریں گے۔ انھیں قیامت کی ہولناکیوں اور گھبراہٹ کے بڑے بڑے مواقع پر کوئی غم اور پریشانی نہیں ہوگی۔ ہر موقعہ اور مقام پر ملائکہ انھیں سلام کریں گے اور کہیں گے یہ ہے وہ اجر و انعام کا دن جس کا رب کریم نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ قیامت کے دن زندہ ہونے کے بعد ہر انسان کو قیامت کے مختلف مراحل سے واسطہ پڑے گا ان میں کچھ مراحل ایسے ہوں گے۔ جب انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی نفسی، نفسی پکار رہے ہوں گے۔ ہر کوئی اپنے گناہوں کے مطابق اپنے پسینے میں شرا بور ہوگا۔ تاہم ہولناک مراحل میں اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اس بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔
(وَعَنِ الْمِقْدَادِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ تُدْ نَیْ الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْھُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ فَیَکُوْنُ النَّا سُ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ فِیْ الْعََرَ قِ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی حَقْوَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یُّلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہٖ اِلٰی فِیْہِ ) [ رواہ مسلم : باب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ أَعَانَنَا اللَّہُ عَلَی أَہْوَالِہَا ]
” حضرت مقداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سروردو عالم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے قیامت کے دن سورج لوگوں سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا۔ لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہوگا بعض کے ٹخنوں تک ‘ بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور بعض کے منہ تک پسینہ ہوگا۔ یہ بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے گا۔
2۔ جنتیوں کو ہر وہ نعمت عطا کی جائے گی جس کی وہ چاہت کریں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائیں گے۔
4۔ جنتیوں کو ملائکہ ہر مقام پر سلام پیش کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
ملائکہ کا ہر مقام پر جنتیوں کا استقبال کرنا :
1۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : 32)
2۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : 24)
3۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : 34)
4۔ فرشتے جب جنتیوں کے پاس جائیں گے تو انہیں سلام کہیں گے۔ (الزمر : 89)
5۔ اللہ کی توحید پر استقامت اختیار کرنے والوں پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور وہ انہیں خوشخبری دیتے ہوئے کہتے ہیں غم وحزن میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں تمہارے لیے جنت ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( حٰم السجدۃ : 30)
Ayahs 21:104–106فہم القرآن
ربط کلام : جس دن بروں کو سزا اور نیک لوگوں کو جزا دی جائے گی اس کی ابتداء اس طرح ہوگی۔
جب پہلا صور پھونکا جائے گا تب قیامت برپا ہوجائے گی۔ ہر چیز فنا اور ہر نفس ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور آسمان کو تحریر شدہ کاغذات کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ اسی حالت میں کردیں گے جس حالت میں پہلے تھی یعنی دنیا کی ہر چیز ختم کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسا ضرور کرے گا کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ یہ وعدہ ہے جسے ہم ضرور پورا کریں گے زمین کے وارث نیک اور صالح لوگ ہوں گے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل کی گئی، کتاب زبور میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ زبور کا اس لیے ذکر ہے کہ انبیاء کرام میں حضرت داؤد (علیہ السلام) پہلے نبی ہیں جو بیک وقت نبی اور باضابطہ حکمران بنائے گئے تھے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو اپنے رب کی غلامی اور بندگی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ قیامت کے دن آسمان کے لپیٹے جانے کی نوعیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ البتہ الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے جس طرح کھلے کاغذات کو لکھنے والا اپنی تحریر سے فارغ ہونے کے بعد سلیقے کے ساتھ اوپر، نیچے رکھ کر ایک دستے کی شکل دیتا ہے۔ یا بڑے کاغذات کو رول بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اسی انداز میں آسمانوں کو تہہ بہ تہہ جوڑ کر ایک طرف رکھ دیں۔ اس کے بعد نیک لوگوں کو نئی زمین یعنی جنت کا وارث بنایا جائے گا۔ کچھ جدت پسندوں نے اس آیت کا من ساختہ مفہوم لے کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ” صَالِحُوْنَ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اقتدار سنبھالنے اور مستحکم نظام چلانے کے اہل ہوتے ہیں۔ وہی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں اور انہیں ہی حکمران بنایا جاتا ہے۔ یہ ایسا معنی ہے جو سراسر انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی جدوجہد کے خلاف ہے۔ اگر اس سے مراد دنیا کا اقتدار لیا جائے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ کو وقت کے حکمرانوں کے ساتھ ٹکرانے کی کیا ضرورت تھی ؟ کیونکہ فرعون نمرود اور قریش مکہ سے بڑھ کر کس کا نظام مستحکم ہوسکتا ہے۔ جدت پسندوں کا استدلال اس لیے بھی حقیقت کے خلاف ہے کہ دنیا میں صالح لوگوں کو اقتدار خال خال ہی نصیب ہوا ہے۔ اس آیت کا حقیقی مفہوم اس کے سیاق وسباق کے حوالے سے بالکل واضح ہے کہ جب اس دنیا کو ختم کرکے ایک نئی دنیا معرض وجود میں لائی جائے گی تو اللہ تعالیٰ تبدیل شدہ زمین کا وارث نیک لوگوں کو بنائے گا۔ جسے جنت قرار دیا گیا ہے اور اسی کا جنتی شکرانے کے طور پر اظہار کریں گے۔ گویا کہ وہ یہ زمین نہیں بلکہ جنت کی زمین ہوگی۔
(وَقَالُوْا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِیْنَ ) [ الزمر : 74]
” وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدے کو سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا، ہم جنت میں جس مقام میں چاہیں رہیں کتنا اچھا اجر ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ “
کچھ مفسرین نے اس کا یہ بھی مفہوم لیا کہ زمین سے مراد جنت نہیں بلکہ یہ زمین ہے جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں۔ کچھ مفسروں نے اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس جنت کا قرآن ذکر کرتا ہے وہ آسمان پر نہیں بلکہ زمین میں چھپا کر رکھی گئی ہے، یہ تصور بھی قرآن اور حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ نبی ﷺ کو جنت اور جہنم کا مشاہدہ آسمانوں پر کروایا گیا تھا نہ کہ زمین پر۔ اللہ تعالیٰ جنت کا وارث صالح لوگوں کو بنائے گا۔ اس کے لیے 105 آیت پیش کی جاتی ہے۔ جس کا بظاہر ان آیات کے ساتھ سیاق وسباق نہیں ملتا۔ تاہم اگر کوئی اس آیت سے مراد دنیا کی خلافت لیتا ہے تو صالح سے مراد صرف توحید کے قائل اور نماز، روزہ کرنے والے نیک لوگ نہیں بلکہ اس سے مراد وہ صالح لوگ ہیں جو دین کے انفرادی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ اس کے اجتماعی تقاضے بالخصوص جہاد اور اتحاد کے تقاضے پورے کرنے والے ہوں گے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن آسمانوں کو کاغذات کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا وعدہ ہر صورت پورا کرئے گا۔
3۔ جنت کے وارث صرف صالح لوگ ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
جنت میں داخل ہونے والے حضرات کے اوصاف :
1۔ اللہ کی توحید کا اقرار کرکے اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ (الاحقاف : 14، حم السجدۃ : 30)
2۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 82)
3۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (النساء : 13) 4۔ اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ (الرحمن : 46)
Ayah 21:107فہم القرآن
ربط کلام : نیک بندوں کو اقتدار دینے کی خوشخبری سنانے کے بعد ایک عظیم ترین خوشخبری سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ جس کا حقیقی احترام کرنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے صلہ میں مسلمان پوری دنیا میں بر سراقتدار ہوئے اور ہونگے اور آخرت میں اپنے رب کی رحمتوں کے حقدار ٹھہریں گے۔
عقیدہ توحید کے دلائل کے جواب میں رسول معظم ﷺ کی بےمثال اور پرخلوص جدوجہد سے گھبرا کر کفار پروپیگنڈا کرتے تھے کہ اس شخص نے گھر گھر اختلاف پیدا کرکے ہمیں مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اس کی وجہ سے دن کا سکون غارت ہوا اور ہمارے لیے راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ اس شخص کی وجہ سے ہماری پریشانیوں میں اضافہ ہوا اور پورے کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ان کے زہریلے پروپیگنڈہ کے جواب میں نبی اکرم ﷺ کی ذات اور پیغام کو پورے عالم کے لیے نعمت قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کا وجود اہل مکہ کے لیے بھی رحمت کا باعث بنایا تھا۔ ارشاد فرمایا اے نبی ﷺ ! اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ توحید و رسالت کی مخالفت اور اپنے جرائم کی وجہ سے اس مقام پر آکھڑے ہوئے ہیں کہ انھیں ایک لمحہ کی تاخیر کیے بغیر تہس نہس کردیا جائے۔ لیکن ہم ایسا اس لیے نہیں کرتے کیونکہ آپ اور استغفار کرنے والے مسلمان مکہ میں موجود ہیں۔ (الانفال : 33)
آپ ﷺ کی ذات جانوروں کے لیے بھی باعث رحمت تھی :
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ؓ أَرْدَفَنِی رَسُول اللَّہِ ﷺ خَلْفَہُ ذَاتَ یَوْمٍ فَأَسَرَّ إِلَیَّ حَدِیثًا لاَ أُحَدِّثُ بِہِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَکَانَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ لِحَاجَتِہِ ہَدَفًا أَوْ حَاءِشَ نَخْل قَالَ فَدَخَلَ حَاءِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَی النَّبِیَّ ﷺ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ فَأَتَاہ النَّبِیُّ ﷺ فَمَسَحَ ذِفْرَاہُ فَسَکَتَ فَقَالَ مَنْ رَبُّ ہَذَا الْجَمَلِ لِمَنْ ہَذَا الْجَمَلُ فَجَاءَ فَتًی مِنَ الأَنْصَارِ فَقَال لِی یَا رَسُول اللَّہِ فَقَالَ أَفَلاَ تَتَّقِی اللَّہَ فِی ہَذِہِ الْبَہِیمَۃِ الَّتِی مَلَّکَکَ اللَّہُ إِیَّاہَا فَإِنَّہُ شَکَی إِلَیَّ أَنَّکَ تُجِیعُہُ وَتُدْءِبُہُ ) [ رواہ ابوداود : باب مَا یُؤْمَرُ بِہِ مِنَ الْقِیَامِ عَلَی الدَّوَابِّ وَالْبَہَاءِمِ ]
” حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے سوار کیا اور میرے ساتھ خاصگفتگو فرمائی جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ آپ ﷺ پردے کو پسند فرماتے تھے۔ جب آپ قضاء حاجت کے لیے نکلتے آپ کسی اوٹ یا درختوں کے جھنڈ کا انتخاب فرماتے۔ عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں آپ ﷺ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے آپ کو دیکھ کر ایک اونٹ بلبلایا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں نبی ﷺ اس کے قریب گئے اس کی گردن پہ پیار کیا تو وہ چپ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس اونٹ کا مالک کون ہے یا فرمایا یہ اونٹ کس کا ہے ؟ انصاری نوجوان نے آکر عرض کی یہ میرا اونٹ ہے آپ نے فرمایا تجھے اس کے بارے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے جس کا تجھے اللہ نے مالک بنایا ہے۔ اس نے میرے سامنے شکایت کی ہے کہ تو اسے کھلا تا تھوڑا اور کام زیادہ لیتا ہے۔ “
آپ ﷺ مومنوں کے لیے بالخصوص رحمت ہیں :
(لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ) [ التوبہ : 128]
” (لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے تمہاری تکلیف اس کو گراں گزرتی ہے وہ تمہاری بھلائی کا بہت خواہشمند ہے، اور مومنوں پر نہایت ہی شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔ “
آپ ﷺ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہیں :
” یقیناً اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا وہ ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ نفس ہے، ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ وہ اس سے پہلے واضح طور پر گمراہ ہوچکے تھے۔ “ [ ال عمران : 164]
تفصیل کے لیے قاضی سلیمان (رح) کی کتاب رحمت العالمین کا مطالعہ کریں۔
مسائل
1۔ سرور دو عالم ﷺ کا وجود اطہر بھی لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت کا باعث تھا۔
2۔ آپ ﷺ کا پیغام اور نظام اقوام عالم کے لیے رحمت کی ضمانت دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
آپ ﷺ کی ذات اور پیغام قرآن کے آئینہ میں :
1۔ ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا۔ (النساء : 89)
2۔ ہم نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ (البقرۃ : 119)
3۔ ہم نے آپ ﷺ کو جہانوں کے لے رحمت بنا کر بھیجا۔ (الانبیاء : 107)
4۔ اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا۔ (الاحزاب : 45)
Ayahs 21:108–112فہم القرآن
ربط کلام : رسول کریم ﷺ کی ذات کو رحمت عالم قرار دینے کے بعد آپ کی آمد کا بنیادی اور مرکزی مقصدبیان کیا گیا ہے۔
اسی سورة کی آیت ” 25“ میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ انھیں یہی حکم صادر فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں نبی اکرم ﷺ کو براہ راست یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو بتلاؤں اور سمجھاؤں کہ لوگو ! تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے کیا تم اس کے تابعدار ہونے کے لیے تیار ہو ؟ اگر تم عقیدہ توحید ماننے اور اللہ تعالیٰ کی تابعداری سے انکار کرتے ہو تو پھر جان لو کہ میں نے تمہیں پوری طرح آگاہ کردیا ہے۔ ہاں جس عذاب اور قیامت کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا دور۔ اللہ تعالیٰ اس کی آمد کو اچھی طرح جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے جو بات سر عام کرتے ہو یا جس کو تم چھپاتے ہو۔ نبی اکرم ﷺ کو رحمت عالم قرار دینے کے بعد عقیدہ توحید کا اس لیے ذکر کیا گیا کہ لوگوں کو یہ بتلایا جائے کہ بیشک آپ ﷺ رحمت عالم ہیں لیکن آپ کی نبوت کے حوالے سے رب کریم کی رحمت کا وہی شخص مستحق ہوگا جو آپ کی دعوت یعنی عقیدہ توحید کو قبول کرکے عملاً اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرے گا۔ آپ کی نبوت اسی باعث ہی جہانوں کے لیے حقیقی اور دائمی رحمت ہے اور یہی آپ کی نبوت کا پیغام ہے اور یہی آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت ہوا کرتی تھی۔ اسی دعوت کی کفار مخالفت کیا کرتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو اسی بات کا احساس دلایا اگر تم نے اللہ کی توحید اور میری اطاعت کا انکار کیا تو قیامت کے دن ہر صورت پکڑے جاؤ گے۔ کفار اس بات کو مثبت انداز میں لینے کی بجائے منفی طور پر لیتے اور آپ کو طعنہ کے طور پر کہتے جس عذاب اور قیامت سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ کب آئے گی ؟ اس سوال کے قرآن مجید میں مختلف جواب دیے گئے ہیں۔ یہاں فقط یہ جواب دیا ہے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ عذاب اور قیامت کب آئے گی۔ جو کچھ تم کہتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
یہاں تک قیامت یا عذاب کا معاملہ ہے اس کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ قیامت یا عذاب کب آئے گا تاہم یہ حقیقت ہے کہ حق کی مخالفت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مہلت دے رکھی ہے وہ تمہارے لیے ایک آزمائش کی حیثیت رکھتی ہے۔ تم اس وقت تک ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو جب تک اس کا حکم صادر نہیں ہوتا۔ اس جواب کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ دعا سکھلائی گئی کہ اے نبی آپ اور اپنے ساتھیوں کے لیے ان الفاظ میں اپنے رب کی نصرت مانگتے رہیں کہ اے ہمارے رب جو کچھ لوگ حق اور ہمارے بارے میں کہتے ہیں اس پر ہماری مدد فرما۔ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے درمیان حق اور سچ کے ساتھ فیصلہ فرما کیونکہ تو مظلوموں پر شفقت کرنے والا اور کمزوروں کی مدد کرنے والا ہے۔ طائف میں آپ ﷺ نے ان الفاظ میں دعا کی :
(اَللَّہُمَّ إلَیْکَ أشْکُوْ ضَعْفِ قُوَّتِیْ ، وَقِلَّۃِ حِیْلَتِیْ ، وَہَوَإنِیْ عَلَیْ النَّاسِ ، یَا أرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ، أنْتَ رَبِّ المُسْتَضْعَفِیْنَ ، وَأنْتَ رَبِّیْ ، إلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ ؟ إلیٰ بَعِیْد یَتَجَہَّمُنِیْ ؟ أمْ إلیٰ عَدُوِّ مَلَکْتَہٗ أمْرِیْ ؟ إنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَب فَلَا أُبَالِیْ ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ہِیَ أوْسَعُ لِیْ ، أعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْہِکَ الَّذِیْ أشْرَقْتَ لَہٗ الظُّلُمَاتِ ، وَصَلِّحْ عَلَیْہِ أَمْرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃُ مَنْ أنْ تُنَزِّلَ بِیْ غَضْبُکَ ، أوْ یَحِلُّ عَلَیَّ سَخَطُکَ ، لَکَ العُتْبَی حَتّٰی تَرْضٰی، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إلَّا بکَ ) [ الرحیق المختوم ]
” اے اللہ میں اپنی کمزوری، وسائل کی کمی کا اور لوگوں کے مقابلے میں کمزور ہونے کی تیرے حضور فریاد کرتا ہوں۔ اے رحم کرنے والے، آپ کمزوروں کے رب ہیں اور آپ میرے بھی رب ہیں تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے دوری کی طرف جو مجھے غصہ میں مبتلا کر دے یا دشمن کی طرف جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنایا اگر تو مجھ پر ناراض نہیں تو مجھے کسی کی پروا نہیں لیکن تیری عافیت مجھے درکار ہے میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور سے جس کے ساتھ تو نے اندھیروں کو جلا بخشی اور اسی کے ساتھ دنیا اور آخرت کا معاملہ درست ہوا۔ اس چیز سے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو۔ یا تیری مجھ پر ناراضگی حلال ہو۔ تیرے ہی لیے دونوں جانب ہیں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے تیری توفیق کے بغیر نیکی کی طاقت اور گناہوں سے بچا نہیں جاسکتا۔ “
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ کی نبوت کا مقصد اللہ کی توحید سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔
2۔ نبی کا کام لوگوں کو اچھے برے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔
3۔ نبی اکرم ﷺ کو بھی معلوم نہ تھا کہ قیامت کب آئے گی۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر کھلی اور چھپی بات کو جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ غائب اور حاضر کو جانتا ہے اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا :
1۔ اللہ ظاہر اور غائب کو جانتا ہے۔ (التوبۃ : 94)
2۔ اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : 19)
3۔ تم اپنی بات کو پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو اللہ سینوں کے بھید جانتا ہے۔ (الملک : 13)
4۔ اللہ کے لیے برابر ہے جو انسان چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ (الرعد : 10)
5۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ (الحشر : 22)
6۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے ؟ (البقرۃ : 77)
7۔ اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ ( الانعام : 59)
8۔ اللہ آسمانوں و زمین کے رازوں سے واقف ہے۔ (الفرقان : 6)