Ayahs 22:1–2فہم القرآن
ربط کلام : سورة الانبیاء کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا اس سورة کی ابتداء قیامت کی ہولناکیوں کے ذکر سے کی جا رہی ہے۔
اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ اور یقین کرو کہ قیامت کا زلزلہ بڑا عظیم تر زلزلہ ہوگا۔ قیامت کا زلزلہ انسان کے تصورات سے ماوراء ہے لیکن اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کے لیے غور فرمائیں کہ اگر فضا میں اڑنے والے دو طیارے آپس میں آمنے سامنے ٹکرا جائیں یا ریل گاڑیوں کا باہم ٹکراؤ ہوجائے تو یہ حادثہ کس قدر خوفناک اور دھماکہ خیز ہوگا۔ یہ حقیقت قریب قریب آشکارا ہوچکی ہے کہ زمین، سورج، چاند، تارے اور سیارے اپنے اپنے مدار اور فضا میں اپنی اپنی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ صرف زمین اور چاند کی رفتار کا اب تک جو اندازہ ہوا ہے کہ چوبیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں دوڑ رہے ہیں۔ غور فرمائیں کہ جب اسرافیل کے پہلا صور پھونکنے پر ان کے درمیان ٹکراؤ ہوگا تو زمین و آسمان پہاڑوں اور دریاؤں کی کیا کیفیت ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر بالقرآن سے اس حادثہ کا کچھ نہ کچھ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اس عظیم زلزلہ سے یہ کہہ کر آگاہ کیا ہے کہ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ۔ اس سے ڈرنے کا معنٰی شرک و بدعت سے بچ کر اپنے رب کی تابعداری کرنا ہے یہی انسان کی دانشمندی کی دلیل ہے۔
قیامت اس قدر اچانک اور ہولناک ہوگی اس دن دودھ پلانے والی اپنے بچے کو پھینک دے گی اور حاملہ عورت کا حمل گرجائے گا۔ لوگ مدہوش ہوں گے حالانکہ انھوں نے کسی قسم کا نشہ نہیں کیا ہوگا۔ ماں کا بچہ پھینکنا، حاملہ کا اپنا حمل گرا دینا اور لوگوں کا مدہوش جانا اس لیے ہوگا کیونکہ اس دن اللہ کا عذاب اور عتاب بہت سخت ہوگا۔ قیامت کے دن سورج ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ زمین تانبے کی طرح تپ رہی ہوگی۔ لوگ اپنے اپنے پسینے میں شرابور اور بعض لوگ اپنے پیسنے میں ڈبکیاں لے رہے ہوں گے سب برہنہ ہوں گے۔ رب ذوالجلال کے عتاب اور عذاب کی وجہ سے کوئی ترچھی آنکھ سے بھی کسی کو دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا یہ دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا۔ اس کا وہ مرحلہ سب سے سخت ہوگا جب رب ذوالجلال آدم (علیہ السلام) کو کھڑا کر کے حکم دیں گے کہ آدم اپنی اولاد میں سے نوسو ننانوے کو جہنم کے لیے الگ کرلو۔ اس وقت بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صلحاء نفسی، نفسی کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ سرور دو عالم ﷺ نے جب اس مرحلہ کا ذکر کیا تو صحابہ کرام ؓ بےانتہا خوفزدہ ہوئے۔ آپ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ نو سو ننانوے تم میں سے نہیں بلکہ یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے۔
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ بوڑھے ہوئے جا رہے ہیں آپ نے فرمایا سورة ھود، واقعہ، مرسلات، عم یتسالون اور سورة تکویر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ “ [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الْوَاقِعَۃِ ]
” حضرت شداد بن اوس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا عقل مند وہ ہے جس نے موت کے بعد کی زندگی کے لیے نیک عمل کیے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کے تابع کرلیا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے امید رکھے ہوئے ہے۔ “ [ رواہ الترمذی : باب الکیس من دان نفسہ ]
مسائل
1۔ قیامت کا دن بہت ہی شدید تر ہوگا۔ 2۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ماں اپنے بچے کو اپنی چھاتی سے چھڑا کر زمین پر پھینک دے گی۔
3۔ حاملہ کا حمل گرجائے گا اور لوگ خوف کے مارے مدہوش دکھائی دیں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کی ہولناکیوں کی ایک جھلک :
1۔ قیامت کا زلزلہ بہت بڑا ہوگا۔ ( الحج : 1)
2۔ قیامت کے دن ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور دودھ پلانے والی اپنا بچہ چھاتی سے پھینک دے گی۔ ( الحج : 2)
3۔ قیامت کے دن زمین میں زلزلہ ہوگا۔ ( الواقعہ : 3) 4۔ لوگ اڑتے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے۔ ( القارعۃ : 4)
5۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ( القارعۃ : 5) 6۔ قیامت کے دن لوگ بےہوش دکھائی دیں گے۔ ( الحج : 2)
7۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : 14)
Ayahs 22:3–4فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کا قیامت کے انکار اور اس کے احتساب سے نہ ڈرنے کی بڑی وجہ۔
جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات کا انکار کرتا ہے۔ تو ایسے شخص کو جس قدر سمجھایا جائے وہ اپنے کفر و شرک پر ڈٹا رہتا ہے۔ جس کی وجہ جہالت اور ہٹ دھرمی ہوا کرتی ہے۔ ایسے آدمی سے کوئی ایک گناہ سرزد نہیں ہوتا بلکہ اس سے ہر گناہ اور جرم کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی اتباع کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ وہ جدھر منہ پھیرتا ہے شیطان اسے اسی طرف ہی لیے پھرتا ہے۔ شیطان کے بارے میں یہ بات لکھی جا چکی ہے کہ جس نے اس کے ساتھ ناطہ جوڑا شطیان اسے گمراہ کر دے گا اور اسے جہنم کی طرف دھکیل دے گا۔ اسی بات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص رسول کی مخالفت پر اتر آئے اور مومنوں کے راستہ کو چھوڑ دے حالانکہ اس کے لیے ہدایت واضح کردی گئی۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اسی طرف پھیردیتا ہے جدھر وہ چلنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو رہنے کے لیے بدترین جگہ ہے۔ (النساء : 115)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے والا شخص حقیقی علم سے تہی دامن ہوتا ہے۔
2۔ جس شخص نے شیطان سے ناطہ جوڑا وہ گمراہ ہوا۔ شیطان اسے جہنم رسید کر کے چھوڑے۔
Ayahs 22:5–6فہم القرآن
ربط کلام : قیامت قائم ہونے کا ثبوت آدمی کی تخلیق اور زمین سے اگنے والی نباتات میں موجود ہے۔
قیامت کا انکار کرنے والا حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی سزا اور جزا کا انکار کرتا ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والا فکری طور پر نادان ہوتا ہے جس بنا پر اسے احساس ہی نہیں رہتا کہ جس رب نے مجھے پہلی دفعہ پیدا کیا ہے اس کے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوگا ہے ؟ اسی بات کو یہاں ایک ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اے لوگو ! اگر تمہیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک ہے تو غور کرو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہاری تخلیق کا ایک نطفے سے آغاز کیا، پھر وہ نطفہ جما ہوا خون بنتا ہے۔ اس کے بعد گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس لوتھڑے سے انسان کا وجود اور شکل و صورت بناتا ہے اور کبھی شکل و صورت بننے سے پہلے ہی اس کا وجود ختم کردیتا ہے۔ یہ حقیقت تمہارے لیے اس لیے بیان کی جاتی ہے تاکہ تم اپنے خالق کا اعتراف کرو۔ تم میں جس کے لیے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اسے مقررہ معیاد تک اس کی ماں کے رحم میں رکھتا ہے۔ پھر اسے نومولود کی صورت میں پیدا کرتا ہے۔ پھر اسے جوان کرتا ہے کچھ کو جوانی سے پہلے فوت کرلیتا ہے اور کچھ تم میں سے ارذل العمر کو پہنچ جاتے ہیں۔ جو بہت کچھ جاننے کے باوجود سب کچھ فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح بےآباد زمین کی مثال ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ شاداب اور ہر بھری دکھائی دیتی ہے اور ہر چیز بارش سے نمود پاتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات برحق اور اس کا فرمان سچا ہے۔ کہ وہ زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت مبارکہ میں موت کے بعد زندہ ہونے کے دو ایسے دلائل دیے گئے ہیں۔ جس سے ہر آدمی کو واسطہ پڑتا ہے۔ کسے معلوم نہیں ؟ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ لوگو ! تم اسی کی اولاد ہو۔ اس لیے بنیادی طور پر تم سب مٹی کی پیداوار ہو۔ دوسری اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان کی زندگی کا دار و مدار مٹی کے ساتھ ہے۔ انسان کی رہائش، چلنا پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا لیٹنایہاں تک کہ ہر انسان نے مٹی میں دفن ہونا ہے۔ بیشک وہ ڈوب کر مرے یا جل کر راکھ ہوجائے۔ بالآخر پانی اور راکھ بھی تو مٹی کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ جہاں تک انسان کی خوراک اور اس کی پیدائش کے مراحل ہیں اس سے ہر شخص آگاہ ہے۔ بےآباد زمین اور بارش کی مثال دے کر یہ حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ غور فرمائیں ! کہ جس زمین اور صحرا، کے بارے میں آدمی سوچ میں پڑجاتا ہے کہ اب اسے کس طرح زندگی اور شادابی حاصل ہوگی۔ جونہی بارش ہوتی ہے تو سراب کی طرح چمکنے والا صحرا، سبزے کی چادر لپیٹ لیتا ہے اور ہر طرف قلب کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈا کردینے والا منظر پیش کرتا ہے۔ نباتات میں کچھ ایسے پودے بھی ہوتے ہیں۔ جن کا بیج لمبی مدت تک زمین میں دفن رہتا ہے۔ بارش پر بارش ہونے کے باوجوداُگنے کا نام نہیں لیتا لیکن جب اس کے اگنے کا وقت آتا ہے تو پھر وہ معمولی بارش سے بھی زمین کی سطح پر نمودار ہوجاتا ہے۔ یہی انسان کی موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال ہے کہ صدیوں سے مرے ہوئے انسانوں کو اللہ تعالیٰ جب اٹھانا چاہے گا تو قیامت برپا کرنے کا حکم ہوگا اور ہر کوئی اٹھ کر محشر کے میدان میں پہنچ جائے گا۔ کیونکہ اللہ ہی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے۔ اس کی ذات سچ اور قیامت برپا کرنے کے بارے میں اس کا فرمان برحق ہے۔ وہ لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ قَدْ أَذْہَبَ اللَّہُ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَفَخْرَہَا بالآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ )[ رواہ الترمذی : باب فِی فَضْلِ الشَّأْمِ وَالْیَمَنِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہیں جاہلیت کا تکبر اور آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے منع کیا ہے، مؤمن متقی ہوتا ہے اور فاجر بدبخت ہوتا ہے۔ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَرَفَعَ الْحَدِیثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُولُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہِ ) [ رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ رِزْقِہِ وَأَجَلِہِ وَعَمَلِہِ وَشَقَاوَتِہِ وَسَعَادَتِہِ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ کہتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! گوشت کا لوتھڑا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا نیک اس کا رزق کتنا اور اس کی عمر کتنی ہے۔ اسی طرح سب کچھ انسان کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِک ٍ اَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَانَ یَدْعُو أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ، وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمُرِ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میں بخیلی، سستی، رذیل عمر، عذاب قبر، دجال کے فتنے اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ اللہ ہی انسان کو پیدا کرنے اور اس کی شکل و صورت بنانے والا ہے۔
2۔ اللہ ہی زمین سے انگوریاں اگاتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اپنی منشاء کے مطابق زندگی عطا فرماتا ہے۔
4۔ قیامت کے متعلق شک و شبہہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
انسانی تخلیق کے مختلف مراحل :
1۔ انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59)
2۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20)
3۔ کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے انسان بنایا۔ (الکھف : 37)
4۔ ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26)
5۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے نطفہ بنایا۔ (المومنون : 12۔ 13)
6۔ اے لوگو ! اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا۔ ( النساء : 1)
7۔ حوّا آدم سے پید اہوئی۔ (النساء : 1)
8۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
9۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر انسان کی شکل دی۔ (الحج : 5)
10۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67)
11۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
Ayahs 22:7–8فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی پیدائش اور نباتات کی تخلیق کے حوالے سے قیامت کا ثبوت پیش کرنے کے بعد یہ ثابت کردیا ہے کہ جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔
قیامت قائم کرنے کا مرکزی اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی ٹھیک ٹھیک سزا اور نیک لوگوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے۔ جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے۔ درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کذب بیانی اور اس کے عدل و انصاف کا انکار کرتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی وہ اپنے جھوٹے موقف پر اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہوئے بحث و تکرار کرتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والا۔ ناصرف علم سے تہی دست ہوتا ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی روشن کتاب کی رہنمائی اور ہدایت سے بھی محروم ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس دلائل نہیں ہوتے اس لیے وہ متکبرانہ انداز میں منہ موڑتے ہوئے لوگوں کو گمراہی کے راستے پر قائم رکھنے کے درپے رہتا ہے۔ اس کو دنیا میں ذلت اٹھانا پڑے گی اور آخرت میں جلا دینے والے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ اس کے بارے میں دوسرے مقام پر فرمایا کہ جب ان کے جسم جل جائیں گے تو ان کے جسم بدل دئیے جائیں گے۔ اس طرح ہمیشہ ہوتا رہے گا اور وہ ہمیشہ جہنم میں جلتے رہیں گے۔ (النساء : 56)
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنْ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّ سِتِّیْنَ جُزْءً اکُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ النَّارِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری دنیا کی آگ ‘ دوزخ کی آگ
Ayahs 22:9–10کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا ‘ اے اللہ کے رسول ﷺ جلانے کو تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے۔ ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ یعنی ابوہریرہ ؓ بھول گئے کہ نبی ﷺ نے کتنی مدت بتلائی تھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دومچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ “ [ رواہ البخاری : باب (یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا) زُمَرًا ] (دومچی سے مراد اس کا کوئی خاص ذرّہ ہے جو محفوظ رہتا ہے۔ )
مسائل
1۔ قیامت کو جھٹلانے والا حقیقتاً اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتا ہے۔ 2۔ قیامت کو جھٹلانے والے کے پاس عقلی و نقلی دلیل نہیں ہوتی
3۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلادینے والا عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے منکر کو عذاب :
1۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : 9)
2۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : 16)
3۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (الفرقان : 11)
Ayah 22:11فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کا انکار کرنے والا نیکی کرنے کے معاملہ میں مخلص اور مستقل مزاج نہیں ہوتا۔ انسان اخلاص کے ساتھ نیکی کرے گا تو اسے قیامت کے دن اپنے سامنے پائے گا اگر نمودونمائش کے لیے کرے گا تو دنیا وآخرت میں نقصان پائے گا۔
مشرک، منافق اور قیامت پر یقین نہ رکھنے والے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس وقت تک کرتا ہے جب تک اسے کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر اسے فائدہ حاصل ہو تو اللہ کی عبادت میں لگا رہتا ہے۔ اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو وہ الٹے پاؤں پھرجاتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ یہ ایسا کھلا اور بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ پہلے پارے میں دین کی مثال آسمان سے نازل ہونے والی بارش کے ساتھ دی ہے۔ جس میں اندھیرے، بجلی اور کڑک ہوتی ہے۔ گویا کہ بارش میں فائدے بھی ہیں اور نقصان بھی۔ منافق کو فائدہ پہنچتا ہے تو دینی کام کرتا ہے، نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ (البقرۃ : 19۔ 10) یہی حال مشرک اور قیامت کے منکر کا ہوتا ہے وہ اس وقت تک ہی خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جب تک اس کی مشکل رفع نہیں ہوتی مشکل رفع ہوجائے تو دین اور اللہ تعالیٰ پر مطمئن رہتا ہے۔ مشکل حل ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شامل کرلیتا ہے یا پھر مزارات اور غیروں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ ایسا عقیدہ اور کردار ہے کہ جس کا دنیا میں بھی نقصان ہوگا اور آخرت میں ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔ عربی میں ” حَرَفٌ“ کا معنی کنارہ ہے اور یہ محاورہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح ہماری زبان میں کسی شخص کی عجلت پسندی اور غیر مستقل مزاجی کو بیان کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کو چھوڑیے وہ تو بس کنارے پر بیٹھا ہوا ہے۔ یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں کہ وہ اس کام کو کب چھوڑ دے۔
نفع و نقصان کے بارے میں نبی ﷺ کا عقیدہ اور فرمان :
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلآی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ )
[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن میں سواری پر رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، اللہ کو یاد رکھے گا تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرنا۔ یقین رکھ کہ اگر تمام لوگ تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہوجائیں۔ وہ اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان دینے پہ تل جائیں۔ تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ “
مسائل
1۔ مشرک، منافق اور قیامت کے منکر صرف مفاد کی بنیاد پر دین اور اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہیں۔
2۔ ابن الوقت کو اللہ تعالیٰ کی بندگی میں فائدہ پہنچے تو مطمئن ہوتا ہے۔ ورنہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
3۔ مشرک اور منافق کو آخرت میں ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت میں نقصان پانے والے لوگ :
1۔ اپنے مالوں اور اولادوں کے بارے میں سستی کرنے والے دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ ( المنافقون : 9)
2۔ جو لوگ مساجد کو برباد کرتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں ذلّت اٹھائیں گے۔ ( البقرۃ : 114)
3۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ ( ہود : 21)
4۔ جن لوگوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی وہ دنیا وآخرت میں خسارہ پائیں گے۔ ( النحل : 109)
5۔ منافق دنیا وآخرت میں خسارہ پائے گا۔ (الحج : 11)
Ayahs 22:12–13فہم القرآن
ربط کلام : انسان جب اپنے رب کی بندگی چھوڑتا ہے تو پھر دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا اور جگہ جگہ ماتھا ٹیکتا ہے۔
مشرک اپنی مفاد پرستی کی وجہ سے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے رب سے مانگنے اور اس کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ عجلت پسندی کی وجہ سے ان کو پکارتا ہے جو نفع و نقصان پہچانے پر قدرت نہیں رکھتی۔
جلد باز اور مفاد پرست طبیعت کی وجہ سے مشرک اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ جس مزار یا بت کے سامنے اپنی حاجت پیش کررہا ہے وہ تو اسے نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ یہ فکر و عمل اس قدر گمراہ کن ہے کہ آدمی ہدایت قبول کرنا تو درکنار حق بات سننا بھی گوارا نہیں کرتا یہ عمل اس بات کی گواہی ہے کہ یہ شخص گمراہی میں بہت دور جا چکا ہے۔ ایسے شخص کو شعور نہیں ہوتا کہ جس کو پکار رہا ہے وہ تو فائدے کی بجائے اس کے لیے نقصان کا باعث بن رہا ہے کیونکہ یہ اپنے فائدے کی خاطر اسے پکارتا ہے وہ فائدہ تو پہنچا نہیں سکتے البتہ یہ فائدے کی بجائے ضرور نقصان اٹھاتا ہے۔ وہ فائدے کی بجائے اپنے آپ کا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے شخص کا انجام انتہائی بھیانک ہوگا۔ بہت ہی برا عقیدہ اور سہارا ہے جس کو مشرک نے اپنا یا ہے۔ جس انسان کا یہ فکر و عمل ہوجائے اس کو اللہ تعالیٰ کی بجائے دوسروں پر زیادہ اعتماد ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو مشکل کشا سمجھنے والا شخص فائدے کی بجائے نقصان کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ جن پر مشرک بھروسہ کرتا ہے۔ وہ برا مولیٰ وہ برا ساتھی ہے، مشرک ایک کی بجائے کئی مشکل کشاؤں کو پکارتا ہے، لیکن یہاں جمع کی بجائے واحد کا لفظ لایا گیا ہے۔ کیونکہ مشرک کے عقیدہ کا محرک اور سبب شیطان ہوتا ہے اس لیے بتلایا ہے۔ حقیقی خیر خواہی کی بجائے شیطان بد ترین خیر خواہی کرنے والا اور برا ساتھی ہے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِءْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ أَہْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ )
[ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ]
” حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین خلاء کے برابر اور اس کے بعد جس قدر وسعتیں ہیں تو جس قدر چاہتا ہے، تمام تعریفات کا تو ہی لائق ہے اور بزرگی کا سب سے زیادہ تو حقدار ہے جو تعریف اور عظمت بندے بیان کرتے ہیں ہم تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء کر دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں تجھ سے بڑھ کر کسی کی عظمت نہیں، تیری عظمت سے بڑھ کر کسی کی عظمت فائدہ نہیں دے سکتی۔ “
(عَنْ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ ؓ قَالَ عَلَّمَنِی رَسُول اللَّہِ ﷺ کَلِمَاتٍ أَقُولُہُنَّ فِی الْوِتْرِ إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضَی عَلَیْکَ وَإِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ ) [ رواہ ابوداود : باب الْقُنُوتِ فِی الْوِتْرِ ]
” حضرت حسن بن علی ؓ ‘ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وتر میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھلائی الٰہی بیشک تو فیصلہ کرتا ہے تیرے فیصلہ کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اسے کوئی ذلیل نہیں کرسکتا جس کا تو دوست بن جائے اور جس کے ساتھ تو دشمنی رکھے اس کو کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ “
مسائل
1۔ مشرک ان کو پکارتا ہے جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے سوا دوسروں کو پکارنے والا پرلے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں :
1۔ فرما دیجیے جن کو تم معبود تصور کرتے ہو ان کو بلا کردیکھو کیا وہ تمہاری تکلیف دور کرنے پر اختیار رکھتے ہیں ؟ (بنی اسرائیل : 107)
2۔ اللہ کے سوا ان کو پکارو جو تمہارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (یونس : 106)
3۔ کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ (الانبیاء : 66)
4۔ فرما دیجیے میں بھی اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : 188، یونس : 49)
Ayah 22:14فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور منافق کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اعتقاد اور ان کا بہتر انجام۔
سچا ایمان اور صالح کردار رکھنے والے حضرات کے لیے قرآن خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں جس میں اللہ تعالیٰ انھیں داخل فرمائے گا۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ اس آیت کے آخری الفاظ درحقیقت پچھلی آیت کا جواب ہے جس میں مشرک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جنہیں اپنا مولا اور ساتھی سمجھ کر پکارتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک نہیں نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ کسی نیک کی نیکی اور برے کی برائی اس کے فیصلے میں حائل نہیں ہوسکتی۔
مسائل
1۔ سچے ایماندار اور صالح عمل کرنے والوں کے لیے جنت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے :
1۔ بیشک میرا اللہ جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ (یوسف : 100) 2۔ اللہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے۔ (آل عمران : 13)
3۔ جو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوتا وہ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ (الدھر : 30)
4۔ جو تم چاہتے ہو وہ نہیں ہوتا مگر وہی ہوتا ہے جو جہانوں کا رب چاہتا ہے۔ (التکویر : 29)
5۔ ” اللہ “ جسے چاہے معاف فرمائے جسے چاہے عذاب دے۔ ( آل عمران : 129)
Ayahs 22:15–16فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور منافق اپنی بےاعتمادی اور بد اعتقادی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیروں سے مدد طلب کرتا ہے۔ اس لیے اسے ایک تمثیل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مشرک، منافق اور جو شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں کرے گا۔ اسے چاہیے کہ ایک رسی آسمان کی طرف لٹکائے پھر اسے کاٹ دے اور اب دیکھے کیا اس کا ایسا کرنا اس کے غصہ کو ٹال دے گا ؟ اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو بالکل کھول کر بیان کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ اسی کو ہدایت دیتا ہے جو ہدا یت کی چاہت اور ارادہ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عملی مثال کی طرف اشارہ فرما کر یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کفر و شرک اور بد اعتقادی کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مدد نہیں کرے گا۔ اس کی مثال تو ایسے شخص کی ہے کہ جو ایک رسی کے ذریعے چھت پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے مگر چڑھ نہیں سکتا وہ طیش میں آکر رسی کو کاٹ ڈالتا ہے۔ اسے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ایسا کرنے سے وہ چھت پر چڑھ جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں چڑھ سکتا۔ یہی مثال اس شخص کی ہے جو اپنی بد اعتقادی اور جلد بازی کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ ایک عرصہ بیت چکا مجھے دعائیں کرتے ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مشکل حل نہیں کی۔ وہ دل ہی دل میں طیش کھا کر اپنے رب کو چھوڑ کر کسی اور کے در پر جھکتا اور اس سے مانگتا ہے۔ اس کے اس طرح کرنے سے کیا لازم ہے کہ اس کی مصیبت کٹ جائے ؟ ظاہر ہے اس طرح اس کی مصیبت دور نہیں ہوسکتی۔ گویا کہ جس طرح رسّی کا ٹنے والا اوپر چڑھنے کی بجائے پستی پر گرپڑتا ہے۔ اسی طرح اپنے رب کو چھوڑ کر دوسروں سے مانگنے والا فکری اور عملی طور پر پستی کا شکار ہوجاتا ہے جس وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ اس مثال کے ذریعے توحید کی رفعت اور شرک کی ذلّت بتلا کر سمجھایا گیا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اپنے رب پر اعتماد اور اس کی رحمت پر امید رکھنی چاہیے۔ جو انسان اپنے رب پر بھروسہ ختم کردے اور اس کی رحمت سے ناامید ہوجائے دربدر کی ٹھوکریں کھانا یا خودکشی کے گھاٹ اترنا اس کا مقدر ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی شخص کی رہنمائی کرتا ہے جو اس سے خلوص نیت کے ساتھ ہدایت چاہتا ہے اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس سے مدد مانگتا ہے۔
(اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَہٗ اللّٰہُ ) [ الحج : 15] ” کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرے گا۔ “
کچھ مفسرین نے اس کا یہ مفہوم لیا ہے کہ ” ۂ “ کا اشارہ سرور دو عالم ﷺ کی طرف ہے اور اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی مدد نہیں کرے گا اسے چاہیے کہ وہ آسمان پر چڑھ کر آپ ﷺ پر نازل ہونے والی مدد کو روک لے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی اسلام کے غلبہ کو روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
(کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْز) [ المجادلۃ : 21]
” اللہ نے بات لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب آکر رہے گے بیشک اللہ بڑا ہی قوت و غلبہ والا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی مدد سے ناامید ہونے والا شخص آخری سہارا بھی کھو بیٹھتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرامین کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ راہنمائی حاصل کریں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی دنیا اور آخرت میں انسان کی مدد کرنے والا ہے :
1۔ وہ ذات جس نے آپ ﷺ کی اور مومنوں کی مدد فرمائی۔ (الانفال : 62)
2۔ اللہ کی طرف سے ہی مدد حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران : 126) 3۔ اللہ حق والوں کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ (الحج : 39)
4۔ اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے۔ (الروم : 5)
5۔ اے اللہ ! میں مغلوب ہوگیا ہوں میری مدد فرما ( نوح (علیہ السلام) کی دعا ) ۔ (القمر : 10)
6۔ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 150)
7۔ الٰہی اپنی طرف سے میرے لیے مددگار بنا۔ (بنی اسرائیل : 80)
Ayah 22:17فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے قبل اور ما بعد توحید باری تعالیٰ کا ذکر ہے اس لیے تمام مذہبی طبقات کو مخاطب کر کے انتباہ کیا گیا ہے کہ سب کے درمیان ” اللہ “ ہی فیصلہ صادر فرمائے گا۔ کہ کس کس نے ” اللہ “ کی توحید اور اس کے احکام کا انکار کیا اور کس نے اس کی توحید کو مانا اور شرک سے اجتناب کیا۔
اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کے ذکر کے ساتھ پانچ فرقوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جو دنیا کے مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ یہودی اپنے آپ کو اس لیے یہودی کہلواتے ہیں کہ وہ اپنی نسبت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے یہودہ کی طرف کرتے ہیں۔ صائبین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو زرتشت کے پیروکار کہتے ہیں۔ جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ پیغمبر تھے۔ عرف عام میں نصاریٰ عیسائیوں کو کہا جاتا ہے تاہم عیسائیوں میں ایک مخصوص فرقہ کا نام بھی نصاریٰ ہے۔ مجوسی وہ لوگ ہیں جو آگ کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ زمین و آسمان کے نظام کو چلانے والے دو خدا ہیں ایک کا نام اھرمن ہے جو نقصان پہنچانے پر اختیار رکھتا ہے دوسرے کا نام یزداں ہے جو خیر و برکت کا مالک ہے۔ مشرک کا بنیادی طور پر کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر علاقے اور زمانے کے لوگ مختلف معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور انہیں حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر ان کے سامنے رکوع و سجود کرنے کے ساتھ ساتھ نذر و نیاز پیش کرتے ہیں۔ ان مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان شدید اختلافات ہیں لیکن تمام مذاہب کے پیروکار ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف متحد رہے ہیں۔ بالخصوص یہودی اور مشرک مسلمانوں کی مخالفت کرنے میں ہمیشہ سے پیش پیش ہیں۔ دنیا میں ” اللہ “ کی توحید کی مخالفت اور شرک کی حمایت میں جو چاہے اور جس طرح چاہے تاویلات کرتا پھرے بالآخر قیامت کے دن سب کے درمیان رب ذوالجلال ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نظریات اور اعمال کو پوری طرح جانتا اور باخبر ہے۔
(عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کے عقائد اور اعمال درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی نیت اور اس کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا :
1۔ بیشک تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یونس : 93)
2۔ یقیناً اللہ تمہارے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ فرمائے گا۔ (النحل : 78)
3۔ اللہ قیامت کے دن تمہارے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (الحج : 69)
4۔ اللہ قیامت کے دن عدل و انصاف کا ترازو قائم فرمائے گا۔ (الانبیاء : 47)
5۔ اللہ عدل و انصاف کا فیصلہ فرماتا ہے۔ (المومن : 20 )
6۔ یقیناً اللہ تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا جو تم اختلاف کرتے تھے۔ (الزمر : 3)
7۔ اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور کافر مومنوں پر برتری نہیں پائیں گے۔ (النساء : 141)
8۔ وحی کی فرمانبرداری کرو اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ فرمادے۔ اللہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس : 109)
Ayah 22:18فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی بندگی کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ کائنات میں جو چیز پیدا کی گئی ہے، وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ ان میں کوئی ایک چیز ایسی نہیں جو اپنے رب کی حکم عدولی کرتی ہو۔ ہر چیز اپنے خالق کا حکم مانتی اور اس کے سامنے سربسجود ہوتی ہے اے انسان تجھے بھی اپنے خالق کے سامنے جھکنا چاہیے۔
عربی زبان میں ” تَرَیٰ “ کا معنی دیکھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ لفظ جاننا اور غور کرنے کے معنٰی میں بھی آتا ہے۔ یہاں اس کے دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ اس فرمان میں بالخصوص کفار اور مشرکین کو اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس رب کو وہ نہیں مانتے اس کی جلالت و جبروت کا عالم یہ ہے کہ اس کے سامنے آسمانوں کا چپہ چپہ اور زمین کا ذرہ ذرہ، شمس و قمر، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سے خوش قسمت انسان سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ البتہ انسانوں میں کثیر تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو اپنے رب کے حضور سرافگندہ ہونے سے اعتقاد اً یا عملاً انکار کرتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لازم ہوچکا ہے۔ جس پر ” اللہ “ کا عذاب لازم ہوگیا وہ ذلیل ہوگا۔ جسے اللہ تعالیٰ ذلیل کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ صادر فرتا ہے۔ زمینوں، آسمانوں میں جو بھی مخلوق ہے اس کے بارے میں قرآن مجید نے یہ بھی بتلایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرتی ہے۔ لیکن انسان ان کی زبان نہیں سمجھتے۔ (بنی اسرائیل : 44)
نا صرف ہر چیز اپنے رب کی حمد وثنا اور اس کے سامنے سجدہ کرتی ہے بلکہ ہر چیز کا سایہ بھی اپنے دائیں بائیں پھیل کر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ (النحل : 48) اس فضا میں سورج اور چاند بڑے سیارے میں شمار ہوتے اس لیے ان کا نام لے کر بتلایا ہے کہ وہ بھی اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمن : 5) یہ حقیقت بیان کر کے انسان کو باور کروایا ہے کہ اے انسان ! اپنے فکر و عمل پر غور کر کہ جس زمین پر تو رہتا ہے اس کا ذرہ ذرہ، جس آسمان کے نیچے پھرتا ہے اس کا چپہ چپہ اور جس فضا میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا لمحہ لمحہ اپنے خالق ومالک کی حمد و شکر میں مصروف ہے۔ ایک تو ہے جو اپنے رب کے حضور سجدہ کرنے سے انکاری اور اس کی تابعداری کرنے سے گریزاں ہے۔ مگر اے انسان یہ بات یاد رکھنا جس نے اپنے رب کی عبادت سے گریز اور اس کی تابعداری سے انکار کیا وہ ضرور ذلیل ہوگا اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا گویا کہ جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لأَبِی ذَرٍّ حینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِی أَیْنَ تَذْہَبُ قُلْتُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّہَا تَذْہَبُ حَتَّی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَسْتَأْذِنَ فَیُؤْذَنَ لَہَا، وَیُوشِکُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ یُقْبَلَ مِنْہَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ یُؤْذَنَ لَہَا، یُقَالُ لَہَا ارْجِعِی مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالَی (وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے سجدہ کرتا اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے۔ قریب ہے وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو۔ مشرق کی جانب سے طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اس کو اجازت نہ ملے۔ حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے “
مسائل
1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرتی ہے۔ 2۔ بہت سے انسان اپنے رب کے تابع فرمان اور اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔
3۔ انسانوں میں سے بہت سے لوگ نافرمان اور اپنے رب کی یاد سے غافل ہیں۔
4۔ جسے اللہ ذلیل کردے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔
Ayahs 22:19–22فہم القرآن
ربط کلام : عزت، ذلّت اور ہر قسم کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر پھر بھی لوگ اس کے سوا دوسروں کے سامنے جھکنے اور انہیں ” اللہ “ کی ذات اور صفات میں شریک کرتے اور ان کے حق میں جھگڑتے ہیں، ایسے لوگوں کو آگ کا لباس اور جہنم کا کھولتا ہوا پانی ان کے سروں پر ڈالا جائے گا۔
کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق ومالک کی تابعداری اور اس کی حمد وثنا میں لگا ہوا ہے۔ مگر انسانوں میں کثیر تعداد ایسی ہے جو نہ صرف اپنے رب کے نافرمان اور ناقدر دان ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں کچھ ان میں ذات کبریا کے منکر ہیں اور کچھ نے اس کی صفات میں دوسروں کو دخیل کر رکھا ہے۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ وہ اپنے باطل عقیدہ پر اہل حق سے جھگڑتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے ساڑھے نو سو سال جھگڑا کیا۔ نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بحث و تکرار کی۔ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کشمکش سب کو معلوم ہے۔ اہل مکہ نے اسی باطل عقیدہ کی حمایت پر رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے اور آپ کے خلاف بدر، احد اور خندق میں معرکہ آرائی کی۔ حق و باطل کی کشمکش اتنی طویل ہے کہ اس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ جونہی قیامت برپا ہوگی اللہ تعالیٰ حق اور سچ کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے۔ جو لوگ باطل کی حمایت میں جھگڑتے رہے ان کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا۔ ان کے سروں پر بےانتہا کھولتا ہوا پانی ڈالتے ہوئے انھیں اسے پینے کا حکم دیا جائے گا۔ جس سے ان کی آنتڑیاں اور جسم گل سڑ جائیں گے۔ ان کے سروں پر لوہے کے ہتھوڑے برسائے جائیں گے۔ ٹھیک ٹھیک سزا دینے کے لیے ان کے جسم مسلسل بدلے جائیں گے۔ جب یہ لوگ جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو فرشتے انھیں مار مار کر یہ کہتے ہوئے دھکیل دیں گے کہ اب تم نے اس جلا دینے والے عذاب میں ہمیشہ رہنا ہے۔ سر پر جہنم کا کھولتا ہوا پانی ڈالنے کی سزا کا اس لیے الگ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ شرک اور دیگر جرائم کی ابتداء بنیادی طور سوچ کی خرابی کے باعث ہوتی ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِنَّ الْحَمِیمَ لَیُصَبُّ عَلَی رُءُ وسِہِمْ فَیَنْفُذُ الْحَمِیمُ حَتَّی یَخْلُصَ إِلَی جَوْفِہِ فَیَسْلِتَ مَا فِی جَوْفِہِ حَتَّی یَمْرُقَ مِنْ قَدَمَیْہِ وَہُوَ الصَّہْرُ ثُمَّ یُعَادُ کَمَا کَانَ )
[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ شَرَابِ أَہْلِ النَّارِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بیشک گرم پانی جہنمیوں کے سروں میں ڈالا جائیگا۔ پانی ان کے سروں کو چھیدتے ہوئے انکے پیٹوں میں پہنچے گا تو ان کی آنتیں پگھل کرپاؤں کے راستے نکل جائیں گی پھر انہیں اسی طرح لوٹا دیاجائیگا۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ (اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَوْ أَنَّ قَطْرَۃً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِی دَار الدُّنْیَا لأَفْسَدَتْ عَلَی أَہْلِ الدُّنْیَا مَعَایِشَہُمْ فَکَیْفَ بِمَنْ یَکُونُ طَعَامَہُ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ شَرَابِ أَہْلِ النَّارِ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ” کہ اللہ سے ڈرو جس طرح اللہ سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت اسلام پر ہی آنی چاہیے “ آپ نے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا کے کسی گھر میں ڈال دیا جائے تو پوری دنیا کے لوگوں کا کھانا پینا خراب ہوجائے انکی کیا حالت ہوگی جن کا یہ کھانا ہوگا۔ “
” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا۔ یقیناً دوزخیوں میں سب سے معمولی عذاب پانے والے کے پاؤں میں آگ کے جوتے ہوں گے۔ جس کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھول رہا ہوگا۔ وہ خیال کرے گا کہ کسی دوسرے شخص کو اس سے زیادہ عذاب نہیں ہو رہا ‘ حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب أھون أھل النار عذابا ]
مسائل
1۔ جہنمیوں کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا۔ 2۔ جہنمیوں کو جہنم کا کھولتا ہوا پانی پینے کے لیے دیا جائے گا۔
3۔ جہنم کا کھولتا پانی جہنمیوں کے سر پر ڈالا جائے گا۔ 4۔ جہنمیوں کے سروں پر لوہے کے بھاری ہتھوڑے برسائے جائیں گے۔
5۔ جہنمی جب جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے تو انھیں مار مار کر واپس لوٹا دیا جائے گا۔
6۔ جہنمیوں کے لیے جلا دینے والا ہمیشہ ہمیش کا عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کی جہنم میں مختلف سزائیں :
1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : 35)
2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
3۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس طرح پیئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55)
4۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : 29)
5۔ ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہوگا۔ (الانعام : 70)
6۔ کفار کے لئے اُبلتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔ (یونس : 4)
7۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 43)
8۔ جہنمی گرم ہوا کی لپیٹ میں اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ (الواقعۃ : 42)
9۔ ان کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوگی مگر ضریع ہے۔ جو ناموٹا کرے گا اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے گا۔ (الغاشیۃ : 6۔ 7)
10۔ کھولتے ہوئے چشمے سے انھیں پانی پلایا جائے گا۔ (الغاشیۃ : 5)
11۔ جہنمیوں کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16)
Ayahs 22:23–24فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کی سزاؤں کے مقابلے میں جنتیوں کے انعامات۔
قاری کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے قرآن مجید اکثر مقامات پر دونوں قسم کے انجام کا بیک وقت ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن مجید پڑھنے والا شخص موقعہ پر صحیح فیصلہ کرسکے۔ کہ اسے کونسا کردار منتخب کرنا چاہیے اس لیے جہنمیوں کی سزاؤں کے مقابلے میں جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب پر حقیقی ایمان لائے اور خلوص نیت کے ساتھ صالح اعمال کرتے رہے۔ ان کا رب انھیں ہر صورت جنت میں داخل کرے گا۔ جس کے نیچے نہریں جاری ہیں انھیں سونے اور موتیوں کے کنگن اور زرق بر ق ریشم کا لباس پہننے کے لیے دیا جائے گا۔ یہ انعام اس لیے ہوگا کہ انھیں عقیدہ توحید سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق حاصل ہوئی اور وہ سیدھے راستے پر گامزن رہے۔ دنیا کی زندگی میں مومن مردوں کو سونے کے کنگن اور ریشم کا لباس پہننے سے منع کیا گیا تھا۔ لیکن جنت میں یہ پابندی اٹھا دی جائے گی۔ قول طیب سے مراد عقیدہ توحید ہے اور صراط حمید کا معنی ہے ایسا راستہ جو ہر خطرہ سے محفوظ اور اس پرچلنا قابل رشک اور قابل تعریف ہو بعض اہل علم نے ” اَلْحَمِیْدُ “ سے مراد ” اللہ “ کی ذات لی ہے۔ ” اللہ “ ہر اعتبار سے قابل تعریف ہے اسی لیے کائنات کی ہر چیز اس کی حمد و ثنا کرتی ہے۔ کچھ اہل دانش نے اس کا یہ مفہوم لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ۔
(وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ غَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا وَلَوْ اَنَّّ امْرَاأۃً مِّنْ نِّسَاءِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَاءَ تْ مَابَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَّلَنَصِیْفُھَا عَلٰی رَأسِھَا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا۔ ) [ رواہ البخاری : باب الْحُورُ الْعِینُ وَصِفَتُہُنَّ ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے ‘ تو مشرق ومغرب اور جو ان کے درمیان ہے روشن اور معطر ہوجائے نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “
(عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ]
” حضرت سہل بن سعد الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ ملنا زمین کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ “
مسائل
1۔ یقیناً مومنوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ 2۔ جنت میں مومنوں کو سونے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے۔
3۔ جنت میں جنتیوں کو ریشم کا زرق برق لباس پہنایا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک :
1۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34)
2۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15)
3۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 4۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21)
5۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33)
6۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 52)
7۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 76)
8۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
9۔ جنت میں جنتیوں کو ہر وہ نعمت میسر ہوگی جس کی وہ چاہت کریں گے۔ ( الانبیاء : 102)