22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsفہم القرآن

Ayahs 22:56–57

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

” اس دن بادشاہی اللہ کی ہوگی اور وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جو ایمان رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں ہوں گے۔ (56)

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ “ (57)

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہوگی۔ اس دن نیک و بد کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عارضی طور پر دنیا میں کچھ اختیارات دیے ہیں۔ اسی بناء پر مختلف وقتوں اور علاقوں میں کچھ لوگوں کو اقتدار دیا جاتا ہے تاکہ دنیا کا نظام اجتماعی شکل میں چلتا رہے لیکن حقیقی بادشاہی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی کے تحت دنیا کا اقتدار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں دیتا ہے۔ جب قیامت برپا ہوگی تو پورے کا پورا نظام ختم کردیا جائے گا۔ ربِّ ذوالجلال کے سوا کسی کے پاس کچھ اختیار نہیں ہوگا اس دن اعلان ہوگا کہ آج صرف اللہ کے لیے بادشاہی ہے۔ ” اللہ “ صالح اعمال کرنے والے ایمانداروں کو نعمتوں والی جنت میں داخل کرے گا اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ” اللہ “ کی آیات کو جھٹلایا ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ وَیَطْوِی السَّمَاءَ بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ ) [ رواہ البخاری باب قَوْلِہِ (وَالأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ کر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں کہاں ہیں زمین کے بادشاہ۔ “ جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ یَّسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ عَامٍ لَایَقْطَعُھَا وَلَقَابُ قَوْسِ اَحَدِکُمْ فِیْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعََتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے ‘ تب بھی اس سایہ ختم نہ ہو سکے گا اور یقیناً تم میں سے کسی ایک شخص کی جنّت میں کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے ‘ جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ “ جہنم کا ایک منظر (وَعَنِ ابْنْ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُوؤتٰی بِجَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَّجُرُّوْنَھَا۔ ) [ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِہَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِینَ ] حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے ‘ جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔ مسائل 1۔ ایمان اور صالح اعمال آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ 2۔ صالح اعمال کرنے والے ایمانداروں کو نعمتوں والی جنت میں داخل کیا جائے گا۔ 3۔ کفر و کذب اختیار کرنے والوں کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں کے انجام کا فرق : 1۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 73) 2۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ : 22) 3۔ جہنمیوں کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (ہمزہ : 90) 4۔ جہنمیوں کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16) 5۔ کھولتے ہوئے چشمے سے انھیں پانی پلایا جائے گا۔ (الغاشیۃ : 5) 6۔ جنتی جنت میں جو چاہیں گے سو پائیں گے۔ ( الانبیاء : 102) 7۔ دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ ( یونس : 27) 8۔ ملائکہ جنتیوں کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : 23۔ 24)
Ayahs 22:58–59

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

” اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیے گئے یا طبعی موت مرگئے۔ اللہ ان کو اچھا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے۔ (58)

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انہیں ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ خوش ہوجائیں گے بیشک اللہ جاننے والا اور حوصلے والا ہے۔ “ (59)

فہم القرآن ربط کلام : ذلیل کردینے والے عذاب سے مامون رہنے اور جنت کی نعمتیں پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کفر کے ماحول کو چھوڑ دے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیزکو ترک کرنا، چھوڑ دینا، لیکن شری اصطلاح میں جو چیز جو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہو اس کو چھو ڑنا ہجرت کہلاتا ہے اور چھوڑنے والا مہا جر ہوگا۔ کسی قوم کا داعی حق کے مقا بلے میں آجانا ہی ہجرت کا جو از پیدا نہیں کردیتا۔ بلکہ جب تک یہ واضح نہ ہوجائے کہ اس قوم میں خیر کی آبیاری ناممکن ہوگئی ہے ایسے حالات میں نبی کو اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آجایا کرتا ہے۔ مصلح اور عام داعی حق کو حکم نہیں آیا کرتا تاہم خدا داد بصیرت اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہجرت کرنے کا فیصلہ داعی کا اختیار ہوتا ہے۔ کسی قوم میں نبی کا ہجرت کر کے چلے جانا معمو لی بات نہیں کہ دل اکتایا، بوریا اٹھایا اور چل نکلے۔ ایسی بستی تو بزم ہستی کے لیے ایک بو جھ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اس لیے اس قوم کو بہت جلدنیست و نابود یا اس پر بھاری عذاب آجاتا ہے۔ ہجرت کرنا معمو لی کام نہیں کہ نبی جب چا ہے ملک و ملت کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلا جائے۔ نبی کو جب تک واضح حکم نہ آجائے وہ ہجرت کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ جیسا کہ یونس (علیہ السلام) کا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے۔ ” اور مچھلی والا (یو نس (علیہ السلام) جب غصے ہو کر چلا گیا اور وہ سمجھا تھا شاید ہم اس کو پکڑ نہیں سکیں گے، پھر یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں پکارا اے اللہ تیرے بغیر میرا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے یقیناً میں قصور وار ہوں، پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات بخشی اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔ “ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اسکے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں۔ یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے مہاجرین کو اصحاب صدق وصفا کے القاب سے نوازا ہے۔ جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے ہجرت کی اگر دوران سفر آخرت کو سدھارا تو اس کے گناہ معاف اور اسے آخرت میں سرخروئی نصیب ہوگی اگر منزل مقصود تک پہنچ گیا تو دنیا میں بھی فراخی پائے گا۔ (وَ مَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ وَ کَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) [ النساء : 100] ” جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ رہنے کے لیے زمین میں بہت جگہ پائے گا اور کھانے، پینے کے لیے فراخی ہوگی اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کے لیے نکلے لیکن راستہ میں اسکو موت آگئی اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ رحم کرنے اور معاف کردینے والا ہے۔ “ (عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِاِمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ الی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلَی دُنْےَا ےُصِےْبُھَا اَوِامْرَاَۃٍ ےَتَزَوَّجُھَا فَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَےْہِ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْیِ إِلَی رَسُول اللَّہِ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیت پر ہے اور آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس شخص نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔ “ مسائل 1۔ ہجرت کے دوران مہاجر قتل ہوجائے یا طبعی موت مرے اس کے لیے اجر لازم ہے۔ 2۔ اللہ کے لیے ہجرت کرنے والے کو دنیا میں بھی بہترین رزق دیا جائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔ 4۔ قیامت کے دن مہاجر کو اس کی پسند کا مقام دیا جائے گا۔ 5۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور بڑا ہی برد بار ہے۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

” یہ ہے ان کا انجام اور جو بدلہ لے ویسا ہی جیسا اس کے ساتھ کیا گیا ہے اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا اللہ معاف کرنے والا او درگزر کرنے والا ہے۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : بیشک اللہ تعالیٰ حوصلے والا ہے۔ لیکن وہ اپنے مظلوم بندوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔ بدلہ لینے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مظلوم اس قدر ہی بدلہ لے سکتا ہے جس قدر اس پر زیادتی کی گئی ہو۔ اگر بدلہ لینے والے پر دوبارہ زیادتی کی گئی تو اللہ تعالیٰ مظلوم کی مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، بخش دینے والا ہے۔ بدلہ فوجداری، دیوانی اور لسانی معاملات میں ہوگا۔ اخلاقی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے حدود کا نفاذ ہے یعنی اگر کسی کی بہو، بہن، بیٹی یا کسی عزیزہ کے ساتھ کوئی شخص بدکاری کرتا ہے تو اس کی شرعی سزا ہوگی نہ کہ بدکاری کرنے والے کی عزیزہ کے ساتھ بدکاری کی اجازت۔ ان معاملات میں حکومت کا فرض ہوگا کہ وہ شریعت کے مطابق مظلوم کی دادرسی کا انتظام کرے مظلوم کو بدلے کا حق دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ معاف کرنے والا، بخش دینے والا ہے۔ جس میں واضح طور پر اشارہ دیا گیا ہے کہ لوگو ! اگر اکثر معاملات میں ایک دوسرے کو معاف کر دو ۔ تو اللہ تمہیں بھی معاف کر دے گا۔ ابن جریج اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت صحابہ کے اس لشکر کے بارے میں نازل ہوئی جس کی مڈ بھیڑ کفار کے ایک جتھے سے حرمت والے مہینے میں ہوئی۔ مسلمانوں نے انہیں حرمت والے مہینے کے احترام سے آگاہ کیا کہ وہ اس کا احترام کریں۔ مشرک یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے، انہوں نے صحابہ پر حملہ کردیا تب مسلمانوں نے اپنا دفاع کیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور انہیں کفار پر غلبہ عطا فرمایا۔ ( ابن کثیر ) مسائل 1۔ مظلوم کو ظلم کے برابر بدلہ لینے کی اجازت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی ضرور مدد کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، بخش دینے والا ہے۔
Ayahs 22:61–62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

” یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ (61)

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں۔ اللہ ہی بلند وبالا اور بزرگ ہے۔ “ (62)

فہم القرآن ربط کلام : رات اور دن کی گردش سے بتلایا گیا ہے کہ اے رب کے راستے کے راہی تجھے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے یہ تو گردش ایام ہے۔ جو ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ بہتر حالات پیدا کرے گا۔ کیونکہ جس رب کی خاطر تو ہجرت کر رہا ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ حق کو ضرور غلبہ دے گا کیونکہ ” اللہ “ بالا دست اور بڑا ہے۔ ہجرت کا ذکر کرنے کے بعد اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یقیناً وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ لوگو ! اللہ تعالیٰ ہی معبودِ حق ہے۔ اس کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں وہ جھوٹ ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلند وبالا اور سب سے بڑا ہے۔ رات اور دن کا تذکرہ کرنے کے ساتھ فرمایا کہ اللہ ہر بات سننے اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح رات اور دن ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں بالکل یہی کیفیت انسان کی زندگی کی ہے کہ اس کی زندگی میں دکھ اور پریشانیاں بھی ہیں اور خوشیاں اور کامیابیوں کے روشن پہلو بھی موجود ہیں۔ جو ” اللہ “ رات کی تاریکیوں کو دن کے اجالے میں تبدیل کرتا اور دن کے اجالے کو رات میں بدلتا ہے۔ وہی غم کو خوشی میں تبدیل کرتا ہے اور وہی خوشی کی جگہ غم نازل کرتا ہے۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی رات کو دن اور دن کو رات، خوشی کو غم اور غم کو خوشی میں تبدیل کرنے والا نہیں۔ جب اس کے سوا کوئی ایسا نہیں کرسکتا تو پھر ” اللہ “ ہی حق ہے باقی سب باطل ہیں ’۔ لہٰذا ہر حال میں اسی سے مانگا کرو۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ باطل اور جھوٹ پر ہیں۔ یہاں باطل کے دو مفہوم ہیں ایک تو ان کا پکارنا باطل ہے دوسرا جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں یہ جھوٹ اور باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بلند وبالا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ تَعَوَّذُوا باللَّہِ مِنْ جَہْدِ الْبَلاَءِ ، وَدَرَکِ الشَّقَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ ، وَشَمَاتَۃِ الأَعْدَاءِ ) [ رواہ البخاری : باب مَنْ تَعَوَّذَ باللَّہِ مِنْ دَرَکِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ ] ” حضرت ابی ہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : اللہ سے پناہ مانگا کرو حد سے زیادہ مشقت، بدبختی، بری تقدیر سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ 3۔ اللہ کا فرمان اور اس کی ذات برحق ہے۔ مشرک جن کو پکارتے ہیں وہ باطل اور جھوٹ ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مشرک کے تصورات اور عقیدہ سے بلند وبالا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ حق ہے اور مشرک کا عقیدہ اور عمل باطل ہے : 1۔ ” اللہ “ ہی حق ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ ( الحج 62) 2۔ ” اللہ “ حق ہے، اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ ( الحج 6) 3۔ اللہ ہی تمہارا حقیقی پروردگار ہے اس کے علاوہ باقی سب باطل ہیں۔ ( یونس 32) 4۔ ” اللہ “ ہی حقیقی مولا ہے، باقی سب باطل ہیں۔ ( یونس 30) 5۔ یقیناً ” اللہ “ ہی حقیقی الٰہ ہے، و ہی حق کو واضح کرنے والا ہے۔ ( النور : 25) 6۔ ” اللہ “ ہی حقیقی بادشاہ ہے۔ ( المومنون : 116)
Ayahs 22:63–64

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے۔ پانی کی بدولت زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف وخبیر ہے۔ (63)

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بیشک وہ خزانوں کا مالک اور تعریف کے لائق ہے۔ “ (64)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے معبودِبرحق ہونے کے مزید دلائل۔ معبودِ حق کی کبریائی اور علّو مرتب جاننا چاہو تو اس بات پر غور کرو کہ وہ آسمان سے کس طرح بارش نازل کرتا ہے جس سے ویران اور مردہ زمین سبزہ کی چادر پہن لیتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں اسی کی ملکیت ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی اور ہر چیز سے بےنیاز اور ہر حوالے سے قابل تعریف ہے۔ بارش اور زمین کی شادابی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہایت باریک بین، باخبر اور ہر اعتبار سے غنی اور قابل تعریف ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے لطیف، خبیر زمین و آسمان کا مالک، غنی اور حمید کا حوالہ دے کر اپنے آپ کو معبود برحق ثابت کیا ہے اور مشرکوں کو یہ باور کروایا ہے کہ اس ذات کو چھوڑ کر غیروں کو پکارتے ہو ان میں اس قسم کی کوئی خوبی نہیں پائی جاتی۔ تو پھر انہیں مشکل کشا اور حاجت روا، داتا وغیرہ سمجھنے اور کہنے کا کیا جواز ہے ؟ یاد رکھو تمہاری کوئی چھپی ہوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ مردہ زمین کو سر سبز و شاداب کردیتا ہے تو تمہاری موت کے بعد تمہیں زندہ کرنا اس کے لیے کس طرح مشکل ہے ؟ اس کے باوجود تم اس ذات کی پرواہ اور اس کی عبادت نہیں کرتے تو یقین جانو کہ وہ کسی کی عبادت کا محتاج اور تعریف کا طلبگار نہیں کیونکہ وہ ہر اعتبار سے بےنیاز اور لائق تعریف ہے۔ ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے ماسوا اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ پس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس سب بدترین فاسق وفاجر انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کچھ نقص واقع نہیں کرسکتا۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر آدمی کو اس کی منہ مانگی مرادیں دے دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ والاداب، باب تحریم الظلم ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بارش نازل نہیں کرسکتا۔ 2۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی زمین کو ہریالی نہیں دے سکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لطیف وخبیر نہیں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا حقیقی مالک ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے اس کے خزانوں میں کبھی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے فیصلے قابل تعریف ہیں زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ لائق تعریف ہے اور زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہے : 1۔ بیشک اللہ تعریف کے لائق اور بڑی شان والا ہے۔ (ھود : 73) 2۔ زمین و آسمان میں سبھی کچھ اللہ کا ہے اور اللہ تمام تعریفات کے لائق ہے۔ (النساء : 131) 3۔ اللہ قرآن مجید نازل کرنے والا، حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حم السجدۃ : 42) 4۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (الحشر : 1) 5۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ : 1) 6۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے روشنی اور اندہیروں کو پیدا کیا۔ (الانعام : 1) 7۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت سے سر فراز فرمایا۔ ( الاعراف : 43)
Ayahs 22:65–66

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور اسی نے کشتی کو ایک قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے لیے نہایت شفقت کرنے اور مہربانی فرمانے والا ہے۔ “ (65)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

” وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی تم کو زندہ کرے گا سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ “ (66)

فہم القرآن ربط کلام : اگر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا ادراک چاہتے ہو تو پھر دریاؤں میں چلنے والی کشتیوں اور آسمان کی بلندیوں پر غور کرو۔ انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے دائیں بائیں، اوپر نیچے بیشمار چیزوں کو دیکھتا اور ان سے استفادہ کرتا ہے۔ مگر ان کی حقیقت جاننے کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ انسان کی توجہ حقائق کی طرف مبذول کرنے کے لیے قرآن مجید کئی مقامات پر اَلَمْ تَرَ کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ اے انسان ! کیا تو دیکھتا اور سوچتا نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز کو کس طرح پیدا فرمایا ہے ؟ یہاں زمین و آسمان اور سمندر میں چلنے والی کشتیوں کی طرف توجہ دلا کر ارشاد فرمایا ہے کہ یقین کرو کہ اللہ لوگوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت کرنے اور مہربانی فرمانے والا ہے۔ انسان زمین کی طرف غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کب سے اسے اس کے لیے مسخر کر رکھا ہے زمین پانی پر ہونے کے باوجود نہ کہیں سے جھکی اور نہ ہی کہیں سے دھنسی ہے۔ انسان کی خوراک، رہائش اور اس کی زیب وزینت کے لیے کب سے خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہی زمین ہے کہ اس پر حکمرانی کرنے والا انسان جب اس میں دفن کیا جاتا ہے تو چند دنوں کے بعد زمین اسے کھا جاتی ہے۔ سمندر میں چلنے والی کشتیوں پر غور کیا جائے جو پانی ایک سوئی برداشت نہیں کرسکتا وہ ہزاروں ٹن بوجھ اٹھانے والے جہازوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آسمان کی طرف دیکھیں نہ معلوم کتنی مدت سے بغیرسہارے کے کھڑا ہے۔ نہ اس میں کوئی دراڑ واقع ہوئی ہے اور نہ وہ کسی طرف سے جھکا ہے۔ یہ اللہ کے حکم کے مطابق تنا ہوا ہے اور نیچے گرنے کا نام نہیں لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو زمین جگہ جگہ سے پھٹ جائے، سمندر کا پانی برف بن جائے، آسمان زمین پر دھڑان آگرے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی شفقت و مہربانی ہے کہ وہ لوگوں کے کفرو شرک اور ہر قسم کی نافرمانی دیکھ کر بھی ہر چیز کو انسان کی خدمت میں لگائے ہوئے ہے لیکن پھر بھی انسان اس کو معبود برحق ماننے کے لیے تیار نہیں۔ انسان کس قدر ظالم ہے اور اللہ تعالیٰ کس قدر مشفق اور مہربان ہے۔ وہی ذات لوگوں کو زندہ کرنے والی ہے۔ پھر وہی لوگوں کو موت سے ہمکنار کرتی ہے۔ پھر وہی سب کو زندہ کرے گی۔ گویا کہ انسان کی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے قبضے میں انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے مرسکتا ہے۔ اتنے ٹھوس دلائل ہونے کے باوجود انسان اپنے رب کا ناقدردان اور ناشکرا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور کشتیوں کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی موت وحیات کا مالک اور دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ 3۔ انسان کی نافرمانی اور ناسپاہی کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں پر شفقت اور مہربانی کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان کا اپنے رب کے بارے میں رویہّ : 1۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : 6) 2۔ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب اس کو اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو اسے بھول جاتا ہے۔ (الزمر : 8) 3۔ جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور جب تکلیف پہنچے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 83) 4۔ جب انسان کو ہماری طرف سے رحمت ملتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ (الشوریٰ : 48)
Ayahs 22:67–69

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

” ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس کی ہر کوئی پیروی کرتا ہے اے نبی انہیں آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیں یقیناً آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ (67)

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر وہ آپ سے جھگڑیں تو فرما دیں کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ (68)

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ (69)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے دلائل دے کر اپنی توحید سمجھا دی ہے۔ اس کے باوجود کوئی شخص توحید کے تقاضے پورے نہیں کرتا تو اس کی مرضی کیونکہ ہر کسی کے لیے گمراہی اور ہدایت کا راستہ متعین ہوچکا ہے۔ یہود و نصاریٰ ہر اس بات پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں جو ان کی شریعت کے خلاف ہے۔ اس پر انھیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ جہاں تک دین کے بنیادی اصولوں کا معاملہ ہے وہ تو ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ لیکن ہر دور کے حالات کے مطابق شریعت یعنی دین کے کچھ اصولوں کی تشریح میں فرق رہا ہے۔ جس کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو دین پر عمل کرنا آسان رہے۔ اسی وجہ سے پہلی شریعتوں کے ساتھ شریعت محمدیہ کا بعض معاملات میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ بعض شریعتوں میں بیک وقت دو بہنوں سے نکاح کرنا جائز تھا لیکن شریعت محمدی میں حرام ہے، پہلے انبیاء پر مال غنیمت حرام تھا، امت محمدی کے لیے جائز قرار پایا، پہلی امتوں کے لوگ صرف اپنے عبادت خانوں میں ہی نماز ادا کرتے ان کے علاوہ کسی اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، لیکن مسلمانوں کے لیے بوقت نماز مسجد میں جانا ممکن نہ ہو جہاں چاہیں نماز ادا کرلیں۔ پہلی شریعتیں بھی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں تھیں اور شریعت محمدیہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ شریعت محمدیہ کے نزول کے بعد پہلی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں۔ اگر یہود و نصاریٰ اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو اے پیغمبر ! ان لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرنے کی بجائے انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے اور آپ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں یقیناً آپ ہی صحیح راستے پر گامزن ہیں۔ اگر لوگ پھر بھی جھگڑا کرنے سے باز نہیں آتے تو آپ یہ فرما کر ان سے الگ ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ بڑی اچھی طرح جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ وہی قیامت کے دن تمہارے اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ یہاں تک کہ جانوروں کے مابین بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لیے ایک شریعت مقرر کی تھی۔ 2۔ پہلی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں۔ اب شریعت محمدیہ پر عمل کرنا سب پر لازم ہے۔ 3۔ حقیقت جاننے کے باوجود لوگ حق کے بارے میں جھگڑا کریں تو انھیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ صادر فرمائیں گے : 1۔ اللہ مردوں کو اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : 36) 2۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : 6 تا 18) 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : 60) 4۔ صبر کا دامن نہ چھوڑیں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ صادر فرما دے۔ (یونس : 109) 5۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 1) 6۔ اللہ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ کرے گا۔ (البقرۃ : 113) 7۔ قیامت کے دن آپ کا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ (النحل : 124، النساء : 141)
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

” کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے اللہ کے لیے یہ مشکل نہیں ہے۔ “ (70)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے لوح محفوظ پر ہر چیز لکھ رکھی ہے۔ نبی کریم ﷺ کو جھگڑا لو لوگوں کے ساتھ نہ الجھنے کی تلقین کرنے کے بعد یہ کہہ کر تسلّی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر ! آپ کو ان کے ساتھ الجھنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نا صرف ان لوگوں کے اعمال کو جانتا ہے بلکہ وہ تو زمین و آسمانوں کے چپہ چپہ سے واقف ہے آپ سے اختلاف کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ صرف ان کے اعمال کو جانتا ہے وہ ان کے اعمال جاننے کے باوجود ان کا ہر قول و فعل لکھ بھی رہا ہے۔ ان کے اعمال کا احاطہ کرنا اور سب کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے مشکل نہیں، کتاب سے مراد ہر انسان کا اعمال نامہ ہے اور جو کچھ زمین و آسمانوں میں ہوچکا اور ہوگا اور جو کچھ انسان نے کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے لوح محفوظ پر لکھ رکھا ہے۔ جسے شریعت کی زبان میں تقدیر کہا گیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِےْرَ الْخَلَآ ءِقِ قَبْلَ اَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِےْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ) [ رواہ مسلم : باب حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسٰی ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دیں تھیں اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر چیز سے باخبر ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال لکھ رہا ہے۔ 3۔ زمین و آسمان میں جو کچھ موجود ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

” یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کررہے ہیں جن کے بارے میں نہ تو اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل کی ہے اور نہ یہ خود ان کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔ “ (71)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا اور اس نے سب کچھ لکھ رکھا ہے جس میں یہ بھی تحریر ہے کہ ہر دور کے مشرک کس کس کی عبادت کریں گے۔ انسان کے اعمال نامہ اور لوح محفوظ کا ذکر فرما کر یہ اشارہ دیا ہے کہ اے انسان تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس طرح بھی شرک کرے گا اسے اپنے اعمال نامہ میں درج پائے گا۔ اگر کتاب سے مراد لوح محفوظ لیا جائے تو اس کا معنٰی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں چھوٹی بڑی ہر بات لکھی ہے لیکن شرک کے حمایت میں کوئی بات درج نہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے کوئی عقلی و نقلی دلیل شرک کی حمایت میں نازل کی ہے۔ اس لیے شرک کرنے والے کسی آسمانی کتاب سے اس کی تائید میں کوئی دلیل نہیں دے سکتے۔ دوسرے الفاظ میں اس فرمان کا معنی یہ ہے کہ شرک کرنا اور اس کی دلیل دینا سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شرک کے پرچار کے لیے اکثر جھوٹی کرامات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور جن قبروں کے لوگ چکر لگاتے ہیں۔ ان میں دفن ہونیوالے کا کسی کو علم نہیں۔ اکثر قبریں نقلی ہیں جن کی کرامات بیان کی جاتی ہیں۔ ان کے نام کا تاریخ میں کوئی ثبوت ہی نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا اور اس کی حمایت میں جھگڑتا ہے وہ پرلے درجے کا ظالم ہے۔ مشرک اس لیے بھی ظالم ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں شریک ٹھہراتا ہے وہ تو کسی اعتبار سے بھی اس لائق نہیں کہ انھیں ذات کبریا کا شریک بنایا جائے۔ ایسا سوچنے اور کرنے والے ظالم ہیں اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔ سچے ہو تو شرک کے ثبوت پیش کرو : (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ شُرَکَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَھُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اَمْ اٰتَیْنٰھُمْ کِتٰبًا فَھُمْ عَلٰی بَیِّنَتٍ مِّنْہُ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا) [ فاطر : 40] ” فرما دیجئے کیا تم نے اپنے ان معبودوں کو دیکھا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے دیکھاؤ انہوں نے زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی کیا شراکت ہے یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے وہ اس میں سے کوئی دلیل رکھتے ہیں۔ بلکہ ظالم ایک دوسرے کے ساتھ مکروفریب کا وعدہ کرتے ہیں۔ “ (قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآءَ کَلَّا بَلْ ھُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) [ السبا : 27] ” فرما دیجئے مجھے وہ لوگ دیکھائے جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے کوئی نہیں بلکہ وہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “ مسائل 1۔ شرک کے لیے کوئی بھی عقلی و نقلی دلیل نہیں ہے۔ 2۔ شرکیہ عقیدہ کے پیچھے علم نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ 3۔ مشرک ظالم ہوتا ہے، ظالم کا قیامت کے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے : 1۔ شرکیہ عقیدے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : 117) 2۔ شرک سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : 31) 3۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم : 23) 4۔ اللہ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل : 64) 5۔ انھوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24) 6۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 175) 7۔ وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : 71) 8۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے تم ڈرتے نہیں حالانکہ اللہ نے شرک کی حمایت میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : 81)
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

” اور جب ان کو ہماری واضح آیات سنائی جاتی ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ منکرین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ ان لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان سے فرمائیں میں بتاؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے ؟ اللہ کی آگ ہے جس کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے جو حق قبول کرنے سے انکار کریں ان کے لیے بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ “ (72)

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی دلیل نہ ہونے کے باوجود مشرک کا ردِّ عمل۔ مشرکانہ طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ کی ذات، صفات اور اسی ایک کی عبادت کرنے کا ذکر کیا جائے تو اسے ایسی بات اور واعظ اچھا نہیں لگتا۔ حتٰی کہ ایسی آیات کے ساتھ بےاعتنائی ظاہر کرتے ہیں۔ اہل مکہ کے سامنے سرورگرامی ﷺ توحید پر مبنی آیات کی تلاوت کرتے تو طیش میں آکر ان کے چہروں کے رنگ بدل جاتے یہاں تک کہ وہ آپ پر ٹوٹ پڑنے کی کوشش کرتے اور اس پر سرور گرامی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ آج عقیدہ توحید کے ذکر کی وجہ سے تمہارے چہرے متغیر ہوجاتے ہیں لیکن وہ وقت یاد کرو جب تمہیں جہنم میں پھینکا جائے گا اور جہنم کی آگ تمہارے چہروں کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ کفار کے ساتھ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ جس جہنم میں تجھے پھینکا جائے گا وہ رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ اہل مکہ کو جس بات سے سب سے زیادہ چڑ تھی وہ عقیدہ توحید تھا۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مکہ والوں نے آپ کی ذات اور آپ کے ساتھیوں پر بےانتہا مظالم ڈھائے لیکن جب آپ کے ساتھی زیادہ ہوگئے بالخصوص حضرت عمر ؓ اور حضرت حمزہ ؓ ایمان لائے تو اہل مکہ نے مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ مصالحت کی پالیسی اختیار کی۔ انھوں نے بارہا دفعہ آپ سے مطالبہ کیا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔ (القلم : 9) لیکن سرور دو عالم ﷺ نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ توحید اور شرک کا آپس میں معاہدہ اور ملاپ نہیں ہوسکتا۔ ” اے پیغمبر ! فرما دو کہ اے کافرو ! جن کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا اور جس الٰہ کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔ اور جن کی تم پرستش کرتے ہو ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں۔ اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے “ [ الکافرون ] مسائل 1۔ مشرک کی نشانی ہے کہ وہ توحید خالص کا تذکرہ سننا گوار انہیں کرتا۔ 2۔ توحید کا ذکر سنتے ہی مشرک کے چہرے کا رنگ بدلنا شروع ہوجاتا ہے۔ 3۔ توحید کے ذکر کے ردِّ عمل میں مشرک مواحد پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ 4۔ مشرک کو جہنم میں پھینکا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ مشرک کو ضرور جہنم میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ تفسیر بالقرآن توحید کے ردِّ عمل میں مشرک کی کیفیت : 1۔ جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو وہ تکبر کرتے ہیں۔ ( الصافات : 35) 2۔ جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جل جاتے ہیں۔ ( الزمر : 45) 3۔ جب تنہا ایک رب کی طرف بلایا جاتا ہے تو مشرکین اس دعوت کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ( المؤمن : 12) 4۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو تو وہ انکار کرتے ہوئے مزید نفرت کرتے ہیں۔ ( الفرقان : 60) 5۔ جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے آباء و اجداد کی پیروی کریں گے۔ ( البقرۃ : 170) 6۔ جب قرآن میں تیرے اکیلے رب کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ اپنی پیٹھوں کے بل بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 46)
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

” لوگو ایک مثال دی جاتی ہے اسے غور سے سنو ! اللہ کو چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا تو نہیں کرسکتے۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے کمزور ہیں۔ مددچاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد مانگی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ (73)

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ قوت اور عزت والا ہے۔ “ (74)

فہم القرآن ربط کلام : شرک کے ناپائیدار اور بلا دلیل ہونے کی ایک اور دلیل۔ شرک کا عقیدہ اس قدر ناپائیدار اور کمزور ترین ہے کہ اگر اس پر معمولی سا غور کرلیا جائے تو اسے چھوڑنا انسان کے لیے نہایت ہی آسان ہوجاتا ہے۔ کیونکہ مشرک شرک کے بارے میں انتہائی جذباتی ہوتا ہے جس وجہ سے مثال بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے لوگو ! تمہارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو۔ یعنی اس سے بدکنے کی بجائے اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرو۔ بیشک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بیشک وہ سب کے سب اس کام کے لیے اکٹھے ہوجائیں۔ مکھی پیدا کرنا تو درکنار، اگر مکھی کوئی چیز اڑا لے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ مرادیں مانگنے والا اور جن سے مرادیں مانگی جاتی ہیں سب کے سب کمزور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں جانی جس طرح اس کی قدر جاننے کا حق تھا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا قوت والا اور ہر چیز پر غالب ہے۔ ان الفاظ میں یہ اشارہ ہے کہ مشرک کو شرک سے بالفصل روکنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں وہ ہر قسم کی قدرت اور غلبہ رکھتا ہے لیکن اس نے اپنی حکمت کے تحت مشرک کو مہلت دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی بےثباتی ثابت کرنے اور اس سے نفرت دلانے کے لیے ایسے جانور کی مثال دی ہے جس سے ہر آدمی نفرت کرتا ہے۔ عام مکھی کی مثال اس لیے دی گئی ہے کہ مکھی اس بات کا امتیاز نہیں کرتی کہ جس چیز پر وہ بیٹھ رہی ہے وہ کس قدر غلیظ اور بدبو دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت وہ گندگی کے ڈھیر پر بھنبھنا رہی ہوتی ہے اور دوسرے لمحہ کھانے والی چیز پر جا بیٹھتی ہے۔ مکھی اور کتا کسی چیز سے سیر نہیں ہوتے۔ اس لیے مشرک کی مثال کتے کے ساتھ بھی دی گئی ہے۔ (الاعراف : 173 تا 176) کردار کے اعتبار سے یہی مشرک کی مثال ہے کہ وہ عقیدہ توحید کی عظمت اور برکت کو چھوڑ کر جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے یہاں تک کہ ایسے لوگوں کے چرنوں میں جا بیٹھتا ہے۔ جنہیں اپنی پاکی، پلیدی کا خیال تک نہیں ہوتا۔ وہ ایسے لوگوں سے مانگتا ہے جو دربدر کی ٹھوکریں کھاتے اور مزارات پر آنے والوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں۔ یہ تو کلمہ گو حضرات کا حال ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے وہ تو شرک کرنے کی وجہ سے اس حد تک انسانیت سے گر چکے ہیں کہ ان میں کچھ لوگ جانوروں اور مجذوبوں کے نفس کی پوجا کرتے ہیں۔ درحقیقت مشرک نے اپنے رب کی قدر کو نہیں پہچانی۔ جس وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی ذلیل کردیتا ہے۔ مشرک اپنے رب کی قدر پہچانے یا نہ پہچانے اللہ تعالیٰ ہر حال میں قوت والا اور غالب ہے۔ (فَاعْتَبِرُوْا یَااُولِی الْاَبْصَار) [ الحشر : 2] اے عقل والو ! عبرت حاصل کرو۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے قرآن مجید میں مثالیں بیان فرماتا ہے۔ 2۔ قرآن کی امثال اور و نصیحت کو غور سے سننا چاہیے۔ 3۔ اللہ کے سوا کوئی کچھ بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ 4۔ اللہ کے علاوہ سب لوگ اس قدر بےبس ہیں کہ وہ مکھی سے ایک ذرّہ بھی واپس نہیں لے سکتے۔ 5۔ مشرک ہر لحاظ سے کمزور ہوتا ہے۔ 6۔ مشرک اللہ کی قدر نہیں پہچانتا۔ 7۔ اللہ سب سے زیادہ قوت والا اور ہر چیز پر غالب ہے۔
Ayahs 22:75–76

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

” حقیقت یہ ہے کہ اللہ ملائکہ اور انسانوں میں سے پیغام رساں منتخب کرتا ہے یقیناً اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ (75)

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اسے بھی جانتا ہے اور سارے معاملات اللہ کی طرف پلٹتے ہیں۔ “ (76)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کو یہ اعتراض تھا کہ اللہ نے محمد ﷺ کو نبی کیوں منتخب کیا ہے ؟ حالانکہ دولت اور اثر رسوخ کے اعتبار سے اس سے فلاں فلاں آدمی زیادہ موزوں تھے۔ یہودیوں کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) پر اعتراض ہے کہ اس نے ہمارے آباو اجداد پر عذاب نازل کیا ہے۔ اس لیے اس کی بجائے وحی لانے پر کسی اور فرشتے کو مامور کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حسن انتخاب ہے کہ وہ ملائکہ میں جس کو چاہے اپنی وحی کے لیے منتخب فرمائے اور بندوں میں سے جس کو چاہیے نبی بنائے۔ وہ ہر بات سنتا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ کون کس نیت کے ساتھ اعتراض کرتا ہے اور کس کا کیا کردار ہے ؟ وہ ہر کسی کے ماضی، حال اور مستقبل کو جانتا ہے۔ ہر کام کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹایا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ کوئی اس کی توحید کا انکار کرے یا اس کے نبی کی رسالت یا جبریل امین کا بالآخر ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ اور سب کا انجام بھی اس کے ہاں لکھا ہوا ہے۔ ” جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ رسالت کسے دے۔ جنہوں نے جرم کیے عنقریب انہیں اللہ کے ہاں ذلّت اٹھانا پڑے گی اور انہیں سخت عذاب دیا جائے گا اس وجہ سے کہ وہ مکرو فریب کرتے تھے۔ “ (الانعام : 124) ” جو جبریل اور میکائل کا دشمن ہے وہ ” اللہ “ کا بھی دشمن ہے۔ “ ( البقرۃ : 97) مسائل 1۔ کسی کو اپنے پیغام کے لیے منتخب کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ 2۔ سلسلہ نبوت حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوچکا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے ماضی، حال اور مستقبل کو جانتا ہے۔ 4۔ سب کام اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

” اے ایمان والو ! رکوع، سجدہ اور اپنے رب کی بندگی کرو اور نیک کام کرتے رہو۔ تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ “ (77)

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور کافر انکار کرتے ہیں تو کریں مومنوں تمہیں تو ہر صورت اپنے رب کے سامنے جھکنا اور اس کی غلامی میں زندگی بسر کرنا ہے۔ جب ہر چیز کا انجام اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو ایمانداروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے وقف کردیں۔ اس آیت کریمہ میں انسان کی زندگی کا مقصد نہایت مختصر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور رکوع و سجود اور اس کی بندگی کرے اور جس کام کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے خیر قرار دیا ہے اسے بجالانے کی اخلاص کے ساتھ کوشش کرتا رہے۔ یہی دنیا و آخرت میں فلاح کا راستہ ہے۔ اسی بندگی کا جامع تصور یوں بھی بیان کیا ہے۔ (قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗج وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) [ الانعام : 162 تا 163] ” فرما دیجیے ! یقیناً میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہونے والا ہوں۔ “ اس تصور کے ساتھ قرآن مجید نے عبادت کا وسیع تر تخیل پیش کیا ہے کہ آدمی منڈی اور بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا نمونہ بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفاداری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ ایمان، کفر اور نفاق کی بڑی بڑی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بلا امتیاز تمام طبقات انسانی کو عبادت کا حکم دیتے ہوئے اپنی عبادت کے استحقاق کی یہ دلیل دی ہے کہ اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں، تمہارے آباؤ اجداد اور سب لوگوں کو پیدا فرمایا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو سائبان، پھر آسمان سے پانی نازل کیا جس سے تمہارے رزق کا بندوبست فرمایا یہ سب کچھ ایک رب نے پیدا کیا لہٰذا اپنے ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (البقرۃ : 21۔ 22) یہ ہیں وہ حقائق جن کو تم بھی جانتے ہو کہ تخلیقِ کائنات اور ان امور میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہے پھر ایسے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانے کی کس طرح جرأت کرتے ہو ؟ جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں لہٰذا تمہیں صرف ایک اللہ کی ہی عبادت کرنا چاہیے۔ توحید ربوبیت اور خالقیت کا شعور دلا کر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ تاکہ انسان سمجھے کہ کسی غیر کی نہیں بلکہ میں اپنے خالق، رازق اور مالک کی ہی عبادت کر رہا ہوں۔ رکوع و سجود کے آداب : ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا سنو مجھے رکوع اور سجود میں تلاوت قرآن مجید سے منع کیا گیا ہے لہٰذا تم رکوع میں رب کی عظمت اور سجدے میں کثرت سے تسبیحات پڑھا کرو۔ امید ہے تمہاری مناجات قبول کی جائیں گی۔ “ [ رواہمسلم : باب النَّہْیِ عَنْ قِرَاءَ ۃِ الْقُرْآنِ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ سجدہ میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ لہٰذا سجدہ میں کثرت کے ساتھ دعا کیا کرو۔ “ [ رواہ مسلم : باب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ] مسائل 1۔ رکوع سجود کرنے سے مراد نماز کی مکمل ادائیگی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے احکام پر عمل کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ تفسیر بالقرآن رکوع و سجود کی اہمیت : 1۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو، سجدہ اسے کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 37) 2۔ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : 98) 3۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : 45) 4۔ اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ (الحج : 77) 5۔ اللہ کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (النجم : 62) 6۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : 46) 7۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : 6) 8۔ جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206) 9۔ ” اللہ “ کو زمین و آسمانوں کی ہر چیز، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بیشمار لوگ سجدہ کرتے ہیں۔ ( الحج : 18)
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم ہوجاؤ۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ” مسلم “ رکھا تھا اور قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ رہو وہ تمہارا مولیٰ ہے وہ بہت ہی اچھا مولیٰ اور بہت ہی اچھا مددگار ہے۔ “ (78)

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت کے آخر میں حکم ہے کہ نیکی کے کام کرتے رہو۔ اب حکم ہوا ہے کہ نیکی پوری محنت سے کرو اور نیکی ملّت ابراہیم اور نبی آخر الزّمان کے طریقہ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کے لیے کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کا لفظ ” جُہَدْ “ سے نکلا ہے جس کے معنی ہے ” کوشش کرنا “ مسلم اور غیر مسلم کی کوشش میں بنیادی فرق یہ ہے کہ غیرمسلم کی کوشش صرف دنیا کے لیے ہوتی ہے ایسا شخص بظاہر نیکی کا کام بھی کرے تو اس کے پیچھے بھی دنیا کا مقصد کار فرما ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلم کی یہ خوبی ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے رب کے حکم کے مطابق اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر کرتا ہے۔ کیونکہ اس کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے لیے کوشش کرو جس طرح کوشش کرنے کا حق ہے۔ قرآن مجید میں جہاد کا لفظ قتال فی سبیل اللہ کے لیے بھی بولا گیا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ ہو یا عبادت اور کوئی نیکی کا کام۔ وہ صرف اور صرف اللہ کے لیے ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کام کے لیے پسند کرلیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دین میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں رکھا جو انسان کی طاقت سے باہر ہو۔ اگر کوئی کام انسان کے بس سے باہر ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس میں نرمی پیدا فرما دی ہے۔ دین کے پانچ بنیادی ارکان ہیں۔ توحید و رسالت اور آخرت کے عقیدہ میں کوئی رخصت نہیں۔ لیکن عملی کاموں میں رخصتوں سے نوازا گیا ہے۔ آدمی کھڑا ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر ادا کرے۔ بیٹھ کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو لیٹ کر پڑھ سکتا ہے اگر ایسی تکلیف یا مجبوری ہے کہ قبلہ کی طرف منہ نہیں کرسکتا تو اجازت ہے کہ جس طرف چہرہ مڑ سکتا ہے اس طرف موڑ لے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر طرف توجہ ہوتی ہے حج کرنے کی استعداد نہیں تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ زکوٰۃ دینے کے لائق نہیں تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ دائمی بیماری کے باعث رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتا تو وہ دوسرے کو روزہ رکھوا سکتا ہے۔ غرض کہ دین کے کسی کام میں تنگی نہیں ہے۔ اس دین کے بنیادی ارکان وہی ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کے ماننے والوں کا نام مسلمان رکھا ہے۔ یہی دین اور نام پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ امت کا فرض ہے کہ وہ اپنے فکر و عمل اور گفتار کے ذریعے لوگوں پر دین حق کی شہادت قائم کریں یہی سرور دو عالم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہے۔ قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ اپنی امت پر گواہ ہوں گے اور یہ امت دوسری امتوں کی شہادت دے گی۔ اس شہادت کا حق تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ امت محمدیہ کے لوگ نماز باجماعت اور زکوٰۃ کا اجتماعی نظام قائم کریں اور ہر حال میں اپنے رب پر توکل رکھتے ہوئے اس کے دین پر قائم رہیں۔ ” اللہ “ ہی سب کا کارساز، جو بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ، تبلیغ دین اور اسلام کو اپنانے اور اس کو نافذ کرنے میں کسی نقصان سے ڈرنے اور کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے معاملات کا ذمہ دار اور ہر کام میں تمہارا مددگار ہے۔ یقین رکھو کہ اس سے بہتر کوئی تمہارا خیر خواہ، ذمہ دار اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ اس سورة مبارکہ کی ابتدافکر آخرت کے عقیدہ سے ہوئی اس کا اختتام عقیدہ توحید پر کیا جا رہا ہے۔ اس لیے سب سے زیادہ زور توحید کے ابلاغ پر ہونا چاہیے۔ یہی دین کی اساس اور سب سے بڑی شہادت ہے۔ لا الہ الا اللہ کے عقیدہ اور شہادت پر کسی جماعت کی اجارہ داری نہیں۔ یہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے معاملہ اور حلف ہے اسے سمجھنے کے لئے ہمارا ذہن تعصّب سے پاک ‘ گروہ بندی سے بالاتر ہونا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ ہمارے رب نے ہمیں کس لیے پیدا فرمایا ہے ؟ اس کی ذات کو ہم نے کس طرح ماننا ‘ اس کی صفات کو کس طرح سمجھنا اور اس کی عبادت کس طرح کرنا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو اس کے حکم کے مطابق ماننے ‘ سمجھنے اور اسکی خالص عبادت کرنے کا نام توحید اور یہی کلمہ کا تقاضا اور شہادت ہے اسی کے لیے تمام انبیاء کرام مبعوث کیے گئے۔ (وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) [ الانبیاء : 25] ” ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری ہی بندگی کرو۔ “ اس عقیدہ کو یوں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا اور تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں جس طرح اس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں اس طرح اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر اس عقیدہ ‘ عمل میں نقص واقع ہوجائے تو رسول کریم ﷺ کی محبت ‘ بزرگوں کی عقیدت اور کوئی نیک سے نیک عمل بھی اس نقصان کی تلافی نہیں کرسکتا اور نہ ہی ایسے آدمی کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نجات ہو پائے گی۔ محمد رسول اللہ کا معنٰی اور مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ محبوبِ رب العٰلمین ‘ سید المرسلین ‘ خاتم النبیین اور ہمارے راہنما اور مقتدا ہیں۔ ہمارا ہر کام آپ کی سنت اور تابعداری میں ہونا چاہیے یہی سرور کائنات ﷺ کی محبت کا تقاضا اور آپکی رسالت کا مقصد ہے۔ کلمہ کا یہ مفہوم سمجھنا اور اس کا تقاضا پورا کرنا ہی ایمان ہے۔ یہی ایمان مسلمان میں ایک قوت اور حرکت عمل پیدا کرتا ہے ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا یا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا نوح (علیہ السلام) نے تمہیں میرا پیغام پہنچایا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔ نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ اور اس کی امّت۔ آپ نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “ [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ] مسائل 1۔ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر دین کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ 3۔ اسلام ہی ابراہیم (علیہ السلام) کا دین تھا۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) امت محمدیہ کے روحانی باپ ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام پر چلنے والوں کا نام مسلمان رکھا ہے۔ 6۔ سرور دو عالم ﷺ لوگوں پر دین حق کی شہادت قائم کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ 7۔ قیامت کے دن امت محمدیہ دوسری امتوں پر شہادت دے گی۔ 8۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ پورے دین پر عمل کی کوشش کرتا رہے۔ 9۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر مسلمانوں کا کوئی مولا اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ تفسیر بالقرآن دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں : 1۔ دین میں جبر نہیں۔ (البقرۃ : 256) 2۔ نبی کسی پر نگران نہیں ہوتا۔ (النساء : 80) 3۔ نبی ﷺ کو لوگوں پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔ (بنی اسرائیل : 54) 4۔ نبی کسی کو ہدایت کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ (القصص : 56) تفصیل کے لیے میری کتاب پڑھیں ( دین تو آسان ہے ! )