23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة المؤمنوں کا تعارف ربط سورة : سورة حج کا اختتام اس فرمان پر ہوا ہے کہ اے مسلمانوں ” اللہ “ ہی تمہارا مولیٰ ہے وہ بہترین مولیٰ ، خیرخواہ اور بہترین مددگار ہے۔ اگر تم نماز، زکوٰۃ اور اخلاقی حدود کی پابندی کرو گے تو کامیابی تمہارا مقدر بن جائیگی جس کی تمہیں گارنٹی دی جاتی ہے۔ یہ سورة 6 رکوع 118 آیات پر مشتمل ہے اس سورة کا نزول مکہ معظمہ میں اس وقت ہوا جب صحابہ کرام (رض) ہر قسم کے مظالم کا شکار تھے اور اہل مکہ پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ اب یہ دعوت چند دنوں کی مہمان ہے اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو یہ کہہ کر خوشخبری دی کہ تم کامیاب ہوچکے ہو۔ بشرطیکہ تم ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہو۔ ناصرف تم دنیا میں کامیاب ہو گے بلکہ موت کے بعد جنت الفردوس میں داخل کیے جاؤ گے۔ اس جنت الفردوس میں جس سے آدم (علیہ السلام) نکالے گئے تھے۔ اس لیے تخلیق انسان کے مختلف مراحل کا ذکر فرماکر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اس کے بعد قدر تفصیل کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) کی جدوجہد اور ان کی قوم کے ردِّ عمل کا تذکرہ فرمایا۔ پھر چند آیات میں موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور فرعون کے استکبار کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش کا نہایت مختصر ذکر کیا اور فرمایا کہ تمام رسل ایک ہی دعوت کے داعی اور ایک ہی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ ان کے بعد لوگوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر فرقہ اپنے کیے پر نازاں ہے۔ فرقہ واریت کے پیچھے سب سے زیادہ دخل ذاتی اور جماعتی نظریات اور مفادات کا ہوتا ہے۔ اس سوچ کی یہ کہہ کر نفی کی گئی ہے کہ اگر حق کو لوگوں کی خواہشات کے تابع کردیا جائے تو زمین و آسمان میں فساد برپا ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلّی دی گئی ہے کہ آپ غمزدہ کیوں ہوتے ہیں آپ ان سے کسی قسم کا تقاضا نہیں کرتے۔ آپ صراط مستقیم کے داعی کے طور پر کام کرتے جائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان اطہر سے مختلف انداز اور الفاظ میں چار دفعہ یہ بات کہلوائی ہے کہ ان سے پوچھو زمین اور جو کچھ اس میں ہے۔ ساتوں آسمان اور عرش عظیم اور ساری کائنات کس کے قبضہ میں ہے ؟ کون ہے جو ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ منکرین حق کا تمام سوالات کے جواب میں یہی کہنا تھا اور ہے کہ سب کچھ اللہ ہی پیدا کرنے والا اور وہی ان کا مالک ہے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد یہ سمجھایا گیا ہے کہ پھر اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے باز کیوں نہیں آتے۔ حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر سے بہتر انداز میں تبلیغ کا کام جاری رکھیں۔ اگر کسی وقت شیطان آپ کو غصہ دلائے تو آپ شیطان سے بچنے کے لیے اپنے رب کی پناہ مانگا کریں۔ سورة کے اختتام سے پہلے کفار کو ان کے انجام سے آگاہ کیا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تمہیں جہنم میں پھینکا جائے گا وہاں تم آہ زاریاں کرو گے مگر تمہاری کوئی فریاد نہیں سنی جائے گی۔ سورة کا اختتام اس بات پر کیا ہے کہ منکرین قیامت سمجھتے ہیں کہ ہم نے انہیں یوں ہی پیدا کردیا ہے حالانکہ انہیں ان کی موت کے بعد اٹھا کر ان سے سب کچھ پوچھا جائے گا۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےفائدہ پیدا نہیں کی اس کی ذات، بادشاہی اور فرمان حق ہے، وہ عرش کریم کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ جو اس کی ذات اور صفات میں کسی اور کو شریک کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنے رب سے استغفار کریں اور اس کی رحمت کے طلبگار رہیں کیونکہ وہی بڑا ارحم الرّاحمین ہے۔

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

” یقیناً مؤمن فلاح پا گئے۔ “ (1)

فہم القرآن ربط سورة : سورة حج کا اختتام اس بات پر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ” حَقَّ جِہَادِہٖ “ کے اصول پر جہاد کرنا، لوگوں پر شہادتِ حق قائم کرنا، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور ہر حال میں دین کے ساتھ وابستہ رہنے والے کا دنیا میں صلہ یہ ہے کہ ایسے مسلمانوں کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے اور وہی بہترین مدد کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے جن کی اللہ تعالیٰ مدد کرے وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ سورۃ المومنون مکہ معظمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار اور مشرکین مسلمانوں کے بارے میں یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ یہ لوگ حالات کی کسمپرسی کی وجہ سے بہت جلد ختم ہوجائیں گے۔ کیونکہ کفار اور مشرکین نے ہر طرف سے مسلمانوں کا گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ جو مسلمان ہجرت کرکے حبشہ گئے ان میں کافی لوگ اس خوشی فہمی کی بنیاد پر مکہ واپس آئے کہ قریش مسلمان ہوچکے ہیں۔ لیکن مکہ پہنچ کر صورت حال کا علم ہوا کہ حالات پہلے سے زیادہ بگڑ گئے ہیں۔ واپس آنے والے احباب کی خوش فہمی یا غلط فہمی کی بنیاد یہ واقعہ بنا کہ ایک دن سرور دو عالم ﷺ نے حرم میں مسلمانوں اور کفار کے سامنے سورة نجم کی تلاوت کی جب سجدہ کی آیت آئی تو آپ اور مسلمانوں نے سجدہ تلاوت کیا مجمع میں کچھ کافر موجود تھے وہ بھی سجدہ ریز ہوگئے۔ کچھ دنوں کے بعد یہ خبر حبشہ پہنچی کہ قریش مسلمان ہوگئے ہیں۔ مہاجرین حبشہ نے حالات بہتر سمجھ کر مکہ کی راہ لی مگر یہاں پہنچے تو حالات پہلے سے زیادہ دگرگوں تھے۔ ان حالات میں ایک طرف حبشہ سے واپس آنے والوں کی پریشانی میں دوگنا اضافہ ہوا۔ اور دوسری طرف کفار نے یہ پراپیگنڈہ کیا کہ مسلمان ہمارے رحم و کرم پر ہیں انہیں کوئی بھی پناہ دینے پر تیار نہیں ہے۔ غالب امکان ہے کہ ان حالات میں سورة المومنون نازل ہوئی۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو دو ٹوک انداز میں کامیابی کی نوید دی۔ بظاہر یہ خوشخبری مستقبل کے حوالے سے ہے لیکن خطاب میں ” قَدْ “ اور ” اَفْلَحَ “ کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں۔ ” قَدْ “ کا مطلب ہے ” یقیناً “ اور ” اَفْلَحَ “ ماضی کا صیغہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانوں یقین کرو کامیابی تمہارا مقدر ہوچکی ہے۔ کامیابی سے مراد آخرت کی سرخروئی اور دنیا میں اسلام دشمنوں کے خلاف کامیاب ہونا ہے چناچہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کامیابی کا یہ پیغام حرف بحرف پورا ہوا۔ مسلمان دنیا کے وسائل کے لحاظ سے خوشحال ہوئے اور صدیوں تک برسر اقتدار رہے۔ آخرت کے حوالے سے انہیں یہ اعزاز بخشا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوا۔ اور وہ اپنے رب پر راضی ہوگئے یہ ایسی فلاح اور کامیابی ہے جو قیامت تک کسی جماعت کو حاصل نہ ہو پائے گی۔ مسائل 1۔ صحابہ کرام ؓ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوئے۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

” وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ “ (2)

تفسیر بالقرآن ربط کلام : کامیاب ہونے والوں کی پہلی صفت۔ سورۃ الحج کے آخر میں نماز قائم کرنے کا حکم تھا اب نماز کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز کی ادائیگی میں اس کے ظاہری ارکان کا خیال رکھنا فرض ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ آدمی اپنے رب کے حضور کھڑا ہو تو اس کا سراپا گواہی دے رہا ہو کہ وہ اپنے رب کے دربار اور اس کی بارگاہ میں ایک فقیر، بےنوا اور سب سے بڑھ کر ایک درماندہ انسان کھڑا ہے۔ رکوع میں جائے تو اس سوچ اور انداز میں جھکے کہ اس نے ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اپنے رب کے حضور سرنگوں کرلیا ہے اب وہ جان بوجھ کر سرکشی نہیں کرے گا۔ سجدہ کرے تو اس نیت کے ساتھ کہ وہ ساری دنیا کے آستانوں کو چھوڑ کر اس آستانے پر گرا پڑا ہے جہاں سے کوئی سوالی نامراد نہیں لوٹتا۔ پیشانی زمین پر رکھ کر ایک طرف دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اپنی بےبسی اور درماندگی کا اظہار کرے اور دوسری طرف اپنے رب کی کبریائی کا اعتراف کرے۔ اسی کا نام خشوع ہے اس کے حصول کے لیے نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کی جائے جس طرح عبادت کرنے والا خود اپنے رب کو دیکھ رہا ہے یا پھر اس کا یہ تصور ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] ” اپنے ” اللہ “ کی عبادت اس یقین کے ساتھ کرو گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ تصور پیدا نہیں ہوسکتا تو کم از کم یہ خیال کرو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ َالَ أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَی سَبْعَۃِ أَعْظُمٍ وَلاَ نَکُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا) [ رواہ البخاری : باب لَا نَکُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے ہمیں سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہم کپڑے اور بالوں کو نماز میں نہ سنواکریں۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوا أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللَّہِ ، وَیُقِیمُوا الصَّلاَۃَ ، وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ ، وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللَّہِ ) [ رواہ البخاری : باب (فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوا سَبِیلَہُمْ )] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں کے ساتھ لڑائی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں جنہوں نے یہ کام کیے تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے سوائے اسلام کے حقوق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ “ (عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ عِظْنِی وَأَوْجِزْفَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِی صَلاَتِکَ فَصَلِّ صَلاَۃَ مُوَدِّعٍ وَلاَ تَکَلَّمْ بِکَلاَمٍ تَعْتَذِرُ مِنْہُ غَداً وَاجْمَعِ الإِیَاسَ مِمَّا فِی یَدَیِ النَّاسِ ) [ رواہ احمد : مسند ابو ایوب انصاری ] ” حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آکر عرض کی کہ مجھے نصیحت کیجیے آپ نے فرمایا جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس طرح نماز ادا کرو گویا کہ الوداعی نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی ایسی گفتگو نہ کرو۔ جس کے لیے کل کو کوئی عذر پیش کرنا پڑے اور جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس کی امید نہ کرو۔ “ مسائل 1۔ مومن اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ 2۔ خشوع و خضوع کے بغیر نماز ادا کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ تفسیر بالقرآن نماز کے دوران جن باتوں کا خیال رکھنا چاہے : 1۔ نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ ( الروم : 31) 2۔ نماز مقررہ اوقات پر ادا کی جائے۔ (النساء : 103) 3۔ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھی جائے۔ ( النساء : 43) 4۔ نماز میں غفلت اور ریا کاری نہیں ہونی چاہیے۔ ( الماعون : 5، 6) 5۔ پہلے وضو کیا جائے۔ (المائدۃ : 6) 6۔ نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے۔ ( البقرۃ : 43) 7۔ نماز میں عاجزی ہونی چاہیے۔ ( البقرۃ : 238) 8۔ نماز خشوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔ ( المؤمنون : 2) 9۔ اقامت صلوٰۃ کا اجر۔ (العنکبوت : 45)
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

” اور وہ لوگ فضولیات سے دور رہتے ہیں۔ “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : نماز بےحیائی سے بچاتی ہے اس لیے نماز کے بعد لغو سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ مومنوں کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ بےہودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ نماز انسان کو برائی اور بےحیائی سے روکتی ہے (العنکبوت : 45) لہٰذا مومن کی یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ ناصرف برائی اور بےحیائی سے اجتناب کرے بلکہ اسے لغو باتوں اور کاموں سے بھی بچنا چاہیے۔ دوسرے مقام پر عبادالرحمن کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ بےہودہ باتوں کے قریب نہیں جاتے جب ان کا لغو اور بےہودہ کام کے قریب سے گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔ (الفرقان : 72) عربی لغت میں ” لغو “ بےہودہ بات اور کام کو کہتے ہیں۔ کامیاب ہونے والے مومنوں کے اوصاف میں یہ وصف ضرور ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے لغو کام سے اجتناب کرتے ہیں۔ اہل علم نے شطرنج، تاش وغیرہ کے کھیلوں کو بھی لغو شمار کیا ہے۔ سرور دو عالم ﷺ نے لغو کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لاَ یَعْنِیہِ ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب کَفِّ اللِّسَانِ فِی الْفِتْنَۃِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کا بہترین اسلام یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔ “ مسائل 1۔ مومن بےہودہ باتوں اور بےمقصد کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن لغو اور اس سے بچنے کا حکم : 1۔ مومن لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ (المؤمنون : 3) 2۔ مومن جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور لغو باتوں میں ملّوث نہیں ہوتے۔ (الفرقان : 72) 3۔ جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔ (القصص : 55) 4۔ جنت میں لغو باتوں اور جھوٹ کا نام ونشان نہیں ہوگا۔ (النباء : 35)
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

” اور وہ لوگ جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ “ (4)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی تیسری صفت۔ مومن نا صرف ذاتی طور پر لغویات سے پاک ہوتا ہے بلکہ اس کا مال بھی ہر آلائش سے پاک ہوتا ہے۔ لفظ زکوٰۃ کا معنٰی نمود اور کسی چیز کو پاک کرنا ہے۔ انسان جب اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو ایک طرف اس کا مال پاک ہوجاتا ہے اور دوسری طرف اس کا دل بخل اور بےجا حرص سے نجات پاتا ہے۔ (1) سالانہ حساب و کتاب کا اہتمام : اسلام بیخبر ی ‘ بدنظمی اور دنیا سے عد مِ دلچسپی کا نام نہیں اسلام تو باخبر رہنے ‘ منظم اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے معاملات میں گہری دلچسپی لینے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ ذمہ داریاں دین کے حوالے سے ہوں یا دنیاوی امور کے متعلق ‘ شریعت کا حکم ہے کہ آنکھیں کھول کر اپنی ذمہ داریوں کو پہچانو اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کرو۔ خا ص طور پر کاروبار کا تقاضا ہے کہ اس پر پو ری محنت اور توجہ مبذول کی جائے۔ سستی اور عدم دلچسپی سے خسا رہ ہی نہیں اکثر اوقات اصل سرمایہ ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی میں یہ بھی حکمت ہے کہ مسلمان زکوٰۃ کے حوالے سے ہر سال حساب و کتاب کریں تاکہ انھیں انفرادی ‘ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پتہ چلے کہ ان کی معیشت کس سطح پر ہے انہیں معلوم ہو کہ اس سال کیا کھو یا اور کیا پایا ہے۔ (2) ارتکاز دولت کا خا تمہ : نظا مِ معیشت کو نا ہمو اری کے ناسور سے محفوظ رکھنے اور ار تکا زِ دو لت کے مستقل علا ج کے لیے اسلامی قانون معیشت سے زیادہ کوئی نظام کا میاب نہیں ہوسکتا۔ صد قہ و زکوٰ ۃ اور وراثت کی تقسیم سے تدریجاً جا گیرداری نظام کا خاتمہ ‘ دولت کی منصفانہ تقسیم کا جامع اور مستقل نظام جا ری کیا گیا ہے۔ تاکہ دولت چند لوگوں کے ہاتھوں جمع نہ ہو سکے۔ اور غریب کو غریب تر ہونے سے بچایا جائے۔ زکوٰۃ سے ار تکاز دولت کا علا ج بھی کیا گیا ہے۔ (3) تزکیہ اور برکات : نبوّت کے بنیادی عناصر اور اجزا میں اہم ترین جز یہ ہے کہ ہر اعتبار سے فرد ‘ معاشرے اور تمام شعبہ ہائے زندگی کا تزکیہ کیا جائے۔ مال کا تز کیہ یہ ہے کہ اسے حلال طریقے سے کمایا جائے۔ سال بھر کی جمع شدہ رقم میں با قاعدہ زکوٰ ۃ کی ادا ئیگی کا التزام کیا جائے۔ اس سے مال دارکا مال پاک اور معا شرے کو غر بت سے نجات اور ضمیر کا تزکیہ اور دل کو تسکین اور لذت محسوس ہوتی ہے اور آدمی بخل اور دو لت کے تکبر و غرور سے پاک ہوجا تا ہے۔ (وَسَےُجَنَّبُھَا الْاَتْقٰی۔ اَلَّذِیْ ےُؤْتِیْ مَالَہٗ ےَتَزَکّٰی۔ وَمَا لِاَحَدٍعِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰی۔ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی۔ وَلَسَوْفَ ےَرْضٰی۔ ) [ اللیل : 17 تا 21] ” وہ نہایت پرہیزگار ہے جو پاک ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے۔ اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اسے دینا ہو۔ وہ تو صرف اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے کام کرتا ہے وہ اس سے ضرور خوش ہوگا۔ “ تزکیہ کے ساتھ ہی مال میں برکت پیدا ہوتی ہے کیونکہ لفظ زکوٰۃ کا معنی پاکیزگی اور اضافہ کے ہیں۔ نبی محترم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَانَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ )[ رواہ مسلم : باب الصدقۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔ “ امّہ کا بیت المال : ( اَلزَّکوٰۃُ قَنْطَرَۃُ الْاِسْلَامِ ) [ مشکو ۃ : باب الز کو ۃ ] ” زکوٰۃ اسلام کا خزانہ ہے۔ “ اسلام نے فرد کو ذاتی اور انفرادی آزادی دیتے ہوئے اجتماعی زندگی کا حکم دیا ہے۔ انفرادی کوششیں کتنی ہی موثر اور ثمر آور ہوں لیکن اجتماعی جد و جہد اور ان کے نتائج کے بر ابر نہیں ہوسکتیں۔ انفرادی معاملات شخصی کاوش سے حل ہوسکتے ہیں لیکن اجتماعی مسائل کا حل فرد کے بس کا روگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مسائل 1۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے انسان کا دل اور مال پاک ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن زکوٰۃ کی فرضیت اور فوائد : 1۔ حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کو زکوٰۃ کا حکم۔ (الانبیاء : 73) 2۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا اپنے اہل خانہ کو زکوٰۃ کا حکم۔ (مریم : 55) 3۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زکوٰۃ کا حکم۔ (مریم : 31) 4۔ بنی اسرائیل کو زکوٰۃ کا حکم۔ ( البقرۃ : 83) 5۔ تمام امتوں کو زکوٰۃ کا حکم۔ (البینۃ : 5) 6۔ زکوٰۃ مال کا تزکیہ کرتی ہے۔ (التوبۃ : 103) 7۔ ایمان، نماز اور زکوٰۃ مومن کو بےخوف اور بےغم کرتی ہے۔ (البقرۃ : 277) (تفصیل کے لیے میری کتاب زکوٰۃ اور اس کے مسائل دیکھیں۔ )
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

” اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی چوتھی صفت :۔ مومن صرف اپنے دل اور مال کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی سوچ اور کردار کو بھی پاک رکھتا ہے۔ فُرُوْجَکی واحد فَرْجَجس معنٰی شرم گاہ ہے۔ مسلمان کو شرم گاہ کی حفاظت کے لیے بڑی لطیف اور بنیادی ہدایات دی گئی ہیں مرد اور عورت کے لیے پہلی ہدایت یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں۔ (النور : 31۔ 32) اس ہدایت پر عمل کرنے سے بدکاری اور بےحیائی بہت حد تک ناممکن ہوجاتی ہے کیونکہ قرآن مجید کا پہلا اصول یہ ہے کہ زنا کے قریب تک نہیں جانا۔ یعنی ہر وہ حرکت اور عادت جن سے بدکاری کا راستہ کھلتا ہو شریعت اس سے روکتی ہے عورت کی طرف سے نرمی نہ ہو تو مرد کے لیے بدکاری کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے قرآن حکیم نے عورت پر اس حد تک پابندی عائد فرمائی ہے کہ عورت کو غیر محرم کے ساتھ بات کرنا ناگزیر ہو تو اس کے لب و لہجہ میں نسوانہ ملائمت ہونے کی بجائے بیگانگی اور کسی حد تک آواز میں مردانگی کا تاثر ہونا چاہیے تاکہ جس کے دل میں اخلاقی گراوٹ ہو وہ اس کے بارے میں بری سوچ کا تصور نہ کرپائے۔ یہ فروج کی حفاظت کا بنیادی اور ابتدائی قانون ہے کہ جس کا خیال اور احترام رکھا جائے تو معاشرہ سے بےحیائی کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ ” حضرت سہل بن سعد رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب حفظ اللسان ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے قربانی کے دن فضل بن عباس پلان کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے اور فضل خوبصورت آدمی تھے نبی ﷺ لوگوں کو مسائل بتلانے کے لیے ٹھہرے تو خثعم قبیلے کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھنے لگی اور حضرت فضل نے اس عورت کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور اسے وہ بھلی لگی۔ نبی ﷺ نے پیچھے مڑکر فضل بن عباس کی طرف دیکھا کہ وہ اس عورت کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے فضل کی ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کے چہرے کو دوسری طرف کردیا۔ اس عورت نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے حج اپنے بندوں پر فرض کیا ہے میرا باپ بوڑھا ہے۔ سواری پر بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا کیا میری طرف سے حج کرنا اسے کفایت کر جائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! “ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُیُوتًا)] مسائل 1۔ مومن مرد اور عورت اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرتے ہیں۔
Ayahs 23:6–7

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

” سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی لونڈیاں ہیں ان کے بارے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ (6)

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں۔ وہ زیادتی کرنے والے ہیں۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنا لازم ہے مگر جائز طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مومن مرد اور عورت اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس حکم سے ایک غلط فہمی پیدا ہوسکتی تھی جس کے تدارک کے لیے یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ اپنی بیویوں سے فطری عمل کرنا جائز ہے اگر کسی کے پاس آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے وسائل نہ ہوں تو اسے اپنی لونڈی کے ساتھ فطری عمل کرنے کی اجازت ہے۔ بیوی اور لونڈی کے ساتھ فطری عمل کرنے پر کوئی ملامت نہیں۔ جس نے اس کے بغیر کوئی طریقہ یا راستہ اختیار کیا وہ حد سے گزرنے والوں سے ہوگا۔ اسلام دین فطرت ہے اس نے فطرت کا خیال رکھتے ہوئے ایک سے زائد نکاح کرنے کی اجازت دی ہے مگر اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص بلاشرعی عذر غیر ازواجی زندگی بسر کرے۔ سرور دو عالم ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا ہے کہ نکاح کرنا میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں (رواہ ابن ماجہ : باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ النِّکَاحِ ) جو مرد اور عورت اس فرمان کے باوجود راہب یا تارک الدنیا ہوجاتے ہیں ان کا اسلام کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ جہاں تک لونڈی اور غلامی کا تعلق ہے اس بارے میں غیر مسلم لوگ نہایت ہی الزامی گفتگو اور منفی پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔ جس کی کوئی حقیقت نہیں جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کے اخراجات کی طاقت نہیں رکھتا وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرسکتا ہے لونڈی سے نکاح کے لیے اس کا حق مہر ادا کرنا ہوگا۔ اس لونڈی کا بھی فرض ہے کہ وہ محض شہوت رانی کے بجائے مستقل نکاح کی نیت رکھتے ہوئے پاک دامنی کے ارادے سے ازدواجی بندھن میں آئے اور کسی دوسرے مرد سے پوشیدہ دوستی رکھنے سے مکمل اجتناب کرے۔ (عن أَبی بُرْدَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ یُؤْتَوْنَ أَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ الرَّجُلُ تَکُونُ لَہُ الْأَمَۃُ فَیُعَلِّمُہَا فَیُحْسِنُ تَعْلِیمَہَا وَیُؤَدِّبُہَا فَیُحْسِنُ أَدَبَہَا ثُمَّ یُعْتِقُہَا فَیَتَزَوَّجُہَا فَلَہُ أَجْرَانِ وَمُؤْمِنُ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِی کَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ اٰمَنَ بالنَّبِیِّ ﷺ فَلَہُ أَجْرَانِ وَالْعَبْدُ الَّذِی یُؤَدِّی حَقَّ اللّٰہِ وَیَنْصَحُ لِسَیِّدِہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، بَاب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ ] ” حضرت ابوبردہ ؓ نے اپنے والد گرامی سے نبی مکرم ﷺ کا فرمان سنا۔ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا تین طرح کے افراد کو دوہرا اجر عنایت کیا جائے گا۔ ان میں ایک وہ ہے جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے اچھی تعلیم دی اور اس کو ادب سکھایا پھر اس کو آزاد کرتے ہوئے اس سے نکاح کرلیا۔ دوسرا یہود و نصاریٰ کا وہ شخص جو اپنے دین میں پکا تھا اور بعد ازاں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔ تیسرا وہ شخص جو غلام ہے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے مالک کے کام اور خدمت میں اس کی خیرخواہی کرتا ہے۔ “ غلامی کو جزوی طور پر کیوں برقرار رکھا گیا۔ تفصیل جاننے کے لیے پانچویں پارے کی پہلی آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ اپنی بیوی سے جائز طریقے کے ساتھ مباشرت کرنا فطرت اور سنت ہے۔ 2۔ لونڈی کے ساتھ مباشرت کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ تفسیر بالقرآن لونڈیوں اور غلاموں کے حقوق : 1۔ صدقات مفلسوں، محتاجوں، عاملین، تالیف قلب، غلاموں کی آزادی، قرض داروں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ (التوبۃ : 60) 2۔ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم چار بیویوں کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی یا ایک لونڈی ہی کافی ہے۔ ( النساء : 4) 3۔ تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو مکاتبت کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مکاتبت کرو۔ (النور : 33) 4۔ اے ایمان والو ! تمہارے غلام بھی تم سے اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوں۔ ( النور : 58) 5۔ تم میں سے جو پاک دامن آزاد مؤمن عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرسکتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ لونڈی سے نکاح کرلے۔ (النساء : 25)
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

” اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہدوپیماں کا پاس رکھتے ہیں۔ “ (8)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی پانچویں اور چھٹی صفت :۔ مومن جس طرح اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح ان میں یہ بھی اوصاف پائے جاتے ہیں کہ وہ امانت کی حفاظت اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ امانت سے مراد صرف سونا چاندی اور کرنسی کی حفاظت نہیں بلکہ اس سے مراد ہر قسم کی امانت ہے۔ بیشک وہ کسی منصب کے حوالے سے اس پر عائد ہونے والی ذمہ داری ہو۔ سرور دو عالم ﷺ نے امانت کے تصور کو وسعت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ باضابطہ مجالس میں ہونے والی گفتگو بھی امانت ہوتی ہے۔ (رواہ ابو داؤد : باب فِی نَقْلِ الْحَدِیثِ ) جس طرح ہر قسم کی امانت کا خیال رکھنا فرض اور مومن کی صفت ہے اسی طرح جائز کاموں پر کیے گئے عہد کی ذمہ داری بھی پوری کرنی چاہیے۔ عہد سے پہلی مراد عقیدہ توحید کے حوالے سے کیا ہوا وہ عہد ہے جو ہر انسان نے عالم ارواح میں اپنے رب کے ساتھ کیا تھا (الاعراف : 172) اس میں وہ عہد وقیود بھی شامل ہیں جو ایک انسان دوسرے کے ساتھ اور ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنا۔ ناصرف آدمی کا ایمان اور اس کی صفت ہے اس کا آخرت میں اجر ملے گا بلکہ دنیا میں بھی اسے اچھی شہرت اور لوگوں کا اعتماد حاصل ہونے پر اسے سیاست، تجارت اور معاملات میں فائدہ پہنچتا ہے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ ) [ رواہ احمد : مسند انس بن مالک ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “ مسائل 1۔ مومن کی صفت اور اس کا فرض ہے کہ وہ امانت کی حفاظت کرے۔ 2۔ مومن عہد کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن امانت اور عہد کے بارے میں احکام : 1۔ وعدہ پورا کرنے کا حکم۔ (المائدۃ : 1) 2۔ قیامت کو عہد کی باز پرس ہوگی۔ (بنی اسرائیل : 34) 3۔ عہد پورا کرنے والے متقی ہیں۔ (البقرۃ : 177) 4۔ عہد پورا کرنے والے عقل مند ہیں۔ (الرعد : 19، 20) 5۔ عہد پورا کرنے والوں کو اجر عظیم ملے گا۔ (الفتح : 10) 6۔ عہد پورا کرنے والے جنتی ہیں۔ (المومنون : 10، 11)
Ayahs 23:9–11

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

” اور جو لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (9)

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ جنت کے وارث ہیں۔ (10)

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی ساتویں صفت اور ان اوصاف کے حامل حضرات کا آخرت میں صلہ :۔ یہاں مومنوں کی بیان ہونے والی صفات میں ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ نماز کی حفاظت سے مراد پنجگانہ نماز کو اول وقت پر ادا کرنا اور نماز کے متعلقہ مسائل کا خیال رکھنا ہے اس میں طہارت سے لے کر نماز سے سلام پھیرنے تک کے مسائل شامل ہیں جن کا خلاصہ یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے ان پر عمل کیا اور مذکورہ اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی کوشش کی ان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ جنت الفردوس کے مالک اور وارث ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یاد رہے کہ جنت کی سو منزلیں ہیں سب سے اعلیٰ اور آخری منزل جنت الفردوس ہے جس میں تمام جنّتوں سے بڑھ کر گل و گلزار اور انعام و اکرام ہوں گے۔ سروردو عالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگو ! جب اللہ سے جنت کا سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس مانگا کرو۔ (عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ؓ أَنَّ أُمَّ الرُّبَیِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَہْیَ أُمُّ حَارِثَۃَ بْنِ سُرَاقَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَتْ یَا نَبِیَّ اللَّہِ ، أَلاَ تُحَدِّثُنِی عَنْ حَارِثَۃَ وَکَانَ قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَہُ سَہْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ کَانَ فِی الْجَنَّۃِ ، صَبَرْتُ ، وَإِنْ کَانَ غَیْرَ ذَلِکَ اجْتَہَدْتُ عَلَیْہِ فِی الْبُکَاءِ قَالَ یَا أُمَّ حَارِثَۃَ ، إِنَّہَا جِنَانٌ فِی الْجَنَّۃِ ، وَإِنَّ ابْنَکِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الأَعْلَی) [ رواہ البخاری : باب مَنْ أَتَاہُ سَہْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَہُ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ام ربیع بنت براء ؓ جو حارثہ بن سراقہ کی والدہ ہیں وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اس نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ مجھے حارثہ کے بارے میں کیوں نہیں بتلاتے جو جنگ بدر میں شہید ہوگیا۔ اسے نامعلوم شخض کا تیر لگا۔ وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اگر جہنم میں ہے تو میں بہت زیادہ رونے کی کوشش کروں گی، آپ ﷺ نے فرمایا اے امِّ حارثہ ! جنت کے بہت سے مراتب ہیں تیرا بیٹا فردوس الاعلیٰ میں پہنچ چکا ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَأَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْجَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ قَالَ وَ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ و رسول پر ایمان لایا اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے۔ اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی پیدائش کے علاقہ میں بیٹھا رہا۔ صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے۔ جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ مقام ہے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “ مسائل 1۔ مومن ہر حوالے سے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ 2۔ مومنوں کو جنت کا مالک اور وارث ٹھہرایا جائے گا۔ 3۔ مومن جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت اور جنت الفردوس کی ایک جھلک : 1۔ نمازوں کی حفاظت کرنے والے جنت الفردوس میں ہوں گے۔ (المومنوں : 10۔ 11) 2۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس میں مہمانی کا اہتمام ہوگا۔ (الکھف : 107) 3۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلام کیا جائے گا۔ (الفرقان : 75) 4۔ جنت میں جنتی کو وہ کچھ حاصل ہوگا جس کا وہ خواہشمند ہوگا۔ ( الانبیاء : 102)
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

” اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر جنت میں داخل فرمایا اس لیے جنت الفردوس کے ذکر کے بعد انسان کو اس کی تخلیقی مراحل سے آگاہ فرما کر اس کے حقیقی خالق کی پہچان کروائی گئی ہے۔ انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا۔ مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر اس سے آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کیا اس لیے جب حضرت آدم یا انسان کی تخلیق کا ذکر ہوتا ہے تو کبھی ایک مرحلہ سے اس کا آغاز کیا جاتا ہے اور کبھی دوسرے مرحلہ سے ابتداء کی جاتی ہے ایک جگہ فرمایا کہ انسان کو ہم نے کھڑکھڑاتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ دوسرے موقعہ پر فرمایا ہم نے انسان کو بدبودار مٹی سے پیدا کیا۔ یہاں فرمایا کہ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ گویا کہ موقعہ کی مناسبت سے انسان کو اس کے تخلیقی مراحل سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف مراحل کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی تخلیق کو یاد کرکے اپنے مالک اور خالق کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ یہاں انسان کا معنٰی عام انسان لیاجائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر انسان کی خوراک مٹی سے متعلقہ ہے اس لیے انسان کو اصلیت یاد کروائی جاتی ہے نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر اس بات کی اس طرح تشریح فرمائی۔ (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا کیا۔ جو ساری زمین سے لی گئی لہٰذا آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہے۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور ان میں درمیانی رنگت کے لوگ ہیں۔ کچھ سخت اور کچھ نرم طبیعت کے لوگ ہیں اسی طرح کچھ نیک اور کچھ بد ہیں۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ قَدْ أَذْہَبَ اللَّہُ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَفَخْرَہَا بالآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ ) [ رواہ الترمذی : باب فی فضل الشام والیمن ] ” حضرت ابوھریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تم سے جاہلیت کے فخروغرور کو مٹا دیا ہے جو تم اپنے آباء کے نام سے کیا کرتے تھے۔ مومن پرہیزگار ہوتا ہے اور فاجر بدبخت ہوتا ہے۔ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے۔ “
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔ “ (13)

فہم القرآن ربط کلام : آدم کی تخلیق کا دوسرا مرحلہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آسمان اور ستارے کی قسم کھا کر انسان کو توجہ دلائی ہے کہ انسان کو اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہیے کہ اسے کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔ انسان اچھل کر نکلنے والے پانی کے قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے یہ اچھل کر نکلنے والا قطرہ کہاں سے نکلتا ہے اس کی وضاحت فرمائی کہ یہ مرد کی پشت اور عورت کی چھاتی کی ہڈیوں سے نکلتا ہے پھر عورت کے رحم میں مخصوص جگہ پہنچ کر ایک مدت تک ٹھہرجاتا ہے۔ علم الجنین (embryology) کی رو سے یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جنین (Foetus) کے اندر انثیین (Testes) یعنی وہ غدود جن سے مادّۂ منویہ پیدا ہوتا ہے، ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان گردوں کے قریب ہوتے ہیں۔ جہاں سے بعد میں یہ آہستہ آہستہ فوطوں میں اتر جاتے ہیں۔ یہ عمل ولادت سے پہلے اور بعض اوقات اس کے کچھ بعد ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان کے اعصاب اور رگوں کا منبع ہمیشہ وہی مقام ( بَیْنَ الصُّلْبِ وَالتَّرَاءِبِ ) ہی رہتا ہے۔ بلکہ ان کی شریان (Artery) پیٹھ کے قریب شہ رگ (Aorta) سے نکلتی ہے اور پورے پیٹ کا سفر طے کرتی ہوئی ان کو خون مہیا کرتی ہے۔ اس طرح حقیقت میں ” اُنثیین “ پیٹھ ہی کا جز ہیں جو جسم کا زیادہ درجۂ حرارت برداشت نہ کرنے کی وجہ سے فوطوں میں منتقل کردیے گئے ہیں۔ علاوہ بریں مادۂ منویہ اگرچہ ” انثیین “ پیدا کرتے ہیں اور وہ کیسۂ منویہ (Seminal vesicles) میں جمع ہوجاتا ہے مگر اس کے اخراج کا مرکز تحریک ( بَیْنَ الصُّلْبِ وَالتَّرَاءِبِ ) ہی ہوتا ہے اور دماغ سے اعصابی رو جب اس مرکز کو پہنچتی ہے تب اس مرکز کی تحریک (Triger action) سے کیسۂ منویہ سکڑتا ہے اور اس سے ماء دافق پچکاری کی طرح نکلتا ہے۔ اس لیے قرآن کا بیان ٹھیک ٹھیک علم طب کی جدید تحقیقات کے مطابق ہے۔ (ماخوذ از تفہیم القرآن : تفسیر سورة طارق)
Ayahs 23:14–16

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

” پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں بناکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ (14)

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد یقیناً تم نے مرنا ہے۔ (15)

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن یقیناً تم اٹھائے جاؤگے۔ “ (16)

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق انسانی کے مختلف مراحل کا ذکر جاری ہے۔ ” لوگو ! گر تمہیں زندگی کے بعد موت کے بارے میں شک ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے۔ پھر تمہاری شکل و صورت بنائی ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک خاص وقت تک رحم میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں کسی کو پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے اور کوئی ضعیف ترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر نہ جان سکے اور تم دیکھتے ہو۔ کہ زمین خشک ہوتی ہے ہم اس پر بارش برساتے ہیں۔ پھر یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی پھر اس سے ہر قسم کی خوش منظر نباتات نکلتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم جانو کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں اور جو قبروں میں ہیں اللہ ضرور ان لوگوں کو اٹھائے گا۔ (الحج : 5 تا 7) مذکورہ بالا آیت کے آخر میں ” اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا اکثر مفسرین نے معنٰی یہ کیا ہے کہ اللہ سب سے زیادہ خوبصورت بنانے والا ہے کیونکہ خالق کا معنٰی صرف پیدا کرنے والا نہیں بلکہ اس کا معنی بنانے والا بھی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو یقیناً تم اس زندگی کے بعد مرنے والے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ہر صورت قیامت کے دن اٹھائے گا۔ انسانی تخلیق کے مراحل پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت خود بخود عیاں ہوجاتی ہے کہ جس خالق نے باپ کی صلب اور ماں چھاتی کی ہڈیوں سے انسان کے تخم کو نکال کر پہلے جما ہوا خون بنایا پھر اسے گوشت کے لوتھڑے میں متشکل کیا اور اس کے بعد ہڈیاں بنائیں اور پھر انسان کا ڈھانچہ تیار کیا پھر چارمہینے کے بعد اس کے وجود میں روح پھونکی۔ روح پھونکنے سے پہلے انسان ہر مرحلہ میں بےجان تھا اگر بےجان ڈھانچے میں روح پھونک کر زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ تو اسے دوبارہ زندہ کرنا کیونکر مشکل ہوگا۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ خُلِقَتِ الْمَلاَ ءِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ ) [ رواہ مسلم : باب فِی أَحَادِیثَ مُتَفَرِّقَۃٍ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو بھڑکتی ہوئی آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ (حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیْعِ الأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَی قَدْرِ الأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمُ الأَحْمَرُ وَالأَبْیَضُ وَالأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذَلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابوداؤد : باب فِی الْقَدَرِ ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا فرمایا۔ اسی لیے آدم کی اولاد زمین کی رنگت کے مطابق ہے بعض ان میں سے سرخ ہیں اور بعض سفید، اور بعض سیاہ ان میں کچھ آرام اور سکون سے زندگی بسر کرنے والے ہیں اور کچھ غم زدہ ہیں۔ کچھ برے اور کچھ نیک ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف مراحل سے گزار کر انسان کی تخلیق مکمل فرمائی۔ 2۔ انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل، موت کے بعد زندہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بہتر سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسانی تخلیق کے مختلف مراحل : 1۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26) 2۔ انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 3۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 4۔ حوا کو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1) 5۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 6۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنائی۔ (الحج : 5) 7۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے پہلے تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67)
Ayahs 23:17–19

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

” اور یقیناً ہم نے تم پر سات آسمان بنائے ہم تخلیق کے کام سے بیخبر نہیں۔ “ (17)

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا یا۔ ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں۔ (18)

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر اس پانی کے ذریعہ ہم نے تمہارے لیے کھجوریں اور انگور کے باغ پیدا کردیے۔ تمہارے لیے ان باغوں میں سے بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم خوراک حاصل کرتے ہو۔ (19)

فہم القرآن ربط کلام : انسان کو دوبارہ زندہ ہونے پر اس لیے بھی یقین کرنا چاہیے کہ جس خالق نے اوپر، نیچے سات آسمان بنائے اور انہیں بغیر سہارے کے کھڑا کر رکھا ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرما کر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے اس سے غافل نہیں ہیں اس فرمان میں آسمانوں کی بجائے ” طرائق “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے بارے میں اہل علم نے تین آراء کا اظہار فرمایا ہے۔ 1 ” سبع طرائق “ کا معنٰی ہے اوپر نیچے سات آسمان 2” سبع طرائق “ سے مراد سات قرأتیں ہیں۔ 3” سبع طرائق “ سے مراد آسمان کے وہ دروازے ہیں جن کے ذریعے ملائکہ زمین پر آتے ہیں اور پھر آسمان پر چڑھتے ہیں۔ بہرحال ان سے مراد آسمان ہوں یا کوئی دوسری چیز اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ناصرف اپنی مخلوق سے پوری طرح باخبر ہے بلکہ وہ اپنی مخلوقات کی ہر قسم کی ضروریات کو جانتا ہے اور کماحقہ ان کی ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ بعض مفسرین نے غافلین کا معنٰی کیا ہے کہ اس نے آسمانوں اور کسی چیز کو بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر، نیچے سات آسمان پیدا فرمائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق اور اس کی ضروریات کو جانتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد اور اس کی مدّت : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117) 2۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں بنائیں۔ (البقرۃ : 29) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29) 4۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22) 5۔ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : 54)
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

ہم نے درخت پیدا کیا جو طورسیناء سے تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن کا کام دیتا ہے۔ “ (20)

فہم القرآن ربط کلام : آسمانوں کی تخلیق کے بعد بارش کا تذکرہ اور اس کے فوائد :۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے اپنے اندازے کے مطابق بارش نازل کرتا ہے اور پھر پانی کو زمین میں ذخیرہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اس بات پر قادر ہے کہ پانی کو خشک کردے۔ یا اسے زمین میں اتنا نیچے لے جائے کہ اسے حاصل کرنا انسان کے بس سے باہر ہو۔ پانی کے ساتھ باغات اور نباتات پیدا ہوتے ہیں جن کے پھل لوگ کھاتے ہیں۔ اسی نے طور سیناء کے علاقے میں زیتون کا درخت پیدا کیا جس سے تیل نکلتا ہے جسے لوگ سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں زمین میں پانی ذخیرہ کرنے کے بارے میں سائنسدانوں کی دو آراء ہیں 1 جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بنایا تو اس وقت ہی پانی زمین میں ذخیرہ کردیا گیا۔ سائنسدانوں کے اندازہ کے مطابق دنیا میں تین حصہ پانی ہے اور ایک حصہ خشکی ہے، جس میں پہاڑ بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے اسی پانی کے ذخیرہ سے ہی سمندر، دریا اور چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہی پانی سورج کی تپش سے بخارات بن کر آسمان کی طرف اٹھتا ہے اور ایک مقام پر پہنچ کر برف کی شکل میں پہاڑوں پر جمتا رہتا ہے۔ اسی پانی کو بخارات کی شکل میں ہوا اٹھا کر مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں برساتی ہے، اور پھر سورج کی گرمی سے پگھل کر آبشاروں کی شکل میں نیچے آتا ہے جس سے دریا بہتے ہیں 2 پانی نازل کرنے کا یہ بھی معنٰی لیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بادلوں سے یک دم پانی برسانے کی بجائے قطرات کی شکل میں نیچے برساتا ہے تاکہ اس پانی سے باغات کے پھل، زمین میں اگنے والی انگوری اور نازک نباتات نقصان سے محفوظ رہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو زمین میں پانی کو اس قدر گہرا کردے کہ اسے حاصل کرنا انسان کی طاقت سے باہر ہوجائے۔ جس کی مثالیں پوری دنیا کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں نیچے سے پانی حاصل کرنا ناممکنات میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں مختلف ذرائع کے ذریعے پانی پہنچایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں پانی بھی اس کی عظیم قدرت کا مظہر ہے۔ پانی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ لوگو ! کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اللہ تمہارے پانی کو نیچے سے نیچے لے جائے تو کون ہے تم میں سے جو اس پانی کو حاصل کرسکے (سورۃ الملک : 30) کھجور اور انگور کے ساتھ ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو طور سیناء کی وادی میں پایا جاتا ہے۔ نباتات کے ماہرین نے اس سے مراد زیتون کا درخت لیا ہے اور زیتون کا تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا اصلی وطن طورسیناء کا علاقہ ہے یہ درخت اس قدر طویل العمر ہوتا ہے۔ دو سے تین ہزار سال تک اپنی ہریالی قائم رکھتا ہے اس میں بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کا تیل مکھن کی طرح سفید، گاڑھا اور لذیذ ہوتا ہے جسے لوگ سالن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ زیتون، کھجور اور انگور کے بارے میں معلومات جاننے کے لیے (فہم القرآن، جلد نمبر 2 صفحہ 360) ملاحظہ فرمائیں ! مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنے اندازے کے مطابق پانی برسا تا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات، حیوانات اور انسانوں کی ضرورت کے لیے پانی ذخیرہ کر رکھا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ پانی کو زمین میں گہرا کرنے پر قادر ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہی کھجور، انگور اور زیتون پیدا کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں نباتات کا تذکرہ : 1۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11) 2۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19) 3۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : 34) 4۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99) 5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141)
Ayahs 23:21–22

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے فائدے ہیں۔ (21)

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

ان کو کھاتے ہو اور ان پر سواری کرتے ہو اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : پانی اور نباتات سے چوپائے زندہ رہتے ہیں اور چوپاؤں میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بڑے فائدے رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کو اپنی قدرت کی نشانی بتلا کر اس سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ چوپاؤں کی دس قسمیں ہیں۔ ان میں اونٹ، گائے، بھینس، بکری اور بھیڑ ایسے چوپائے ہیں جن سے انسان بہت سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ ان کا دودھ پینے کے علاوہ مکھن، گھی، دہی اور بہت سی دوسری چیزیں بنانے کے کام آتا ہے۔ ان چوپاؤں کا گوشت کھایا جاتا ہے بکری اور بھیڑ کے سوا حلال چوپاؤں اور گدھے اور گھوڑے پر سواری کی جاتی ہے۔ جہاں تک ان چوپاؤں اور گھوڑوں کا تعلق ہے ان سے کھیتی باڑی اور سواری کا کام لیا جاتا ہے۔ اسی طرح چوپاؤں کی اون، بال، چمڑی اور ہڈیوں تک استعمال ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ نامعلوم انسان ان سے اور کتنے فائدے اٹھائے گا جس کے لیے کثیر منافع کا لفظ استعمال فرما کر مزید منفعت حاصل کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ چوپاؤں میں انسان کے لیے یہ بھی عبرت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں انسان کے تابع نہ کرتا تو کس کی مجال ہے کہ وہ گھوڑے، اُونٹ اور ہاتھی جیسے طاقتور حیوان کو اپنے تابع کرلیتا۔ اس لیے ان پر سوار ہوتے وقت دعا سکھلائی گئی ہے [ الزخرف : 13۔ 14] مسائل 1۔ جانور چوپائے بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہیں۔ 3۔ چوپاؤں سے انسان بہت سے فوائد حاصل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں چوپاؤں کا ذکر : 1۔ اللہ نے چوپایوں کو انسانی ضروریات اور زیب زیبائش کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ (النحل : 5۔ 6) 2۔ قربانی کے ایام میں ان پر اللہ کا نام لیں چوپائے اللہ نے تمہیں عطا کیے ہیں پس تم ان میں سے کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔ (الحج : 28) 3۔ تمہارے لیے چوپایوں میں بہت زیادہ فائدہ ہے اور انہیں تم کھاتے ہو۔ (المومنون : 21)
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

” ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟۔ “ (23)

فہم القرآن ربط کلام : انسان کو اس کی تخلیق اور قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں بتلانے کے بعد ان سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دی گی ہے قدرت کی نشانیوں میں سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو سمجھے اور اس کی بندگی اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنا ہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے اس لیے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے انہوں نے اپنی قوم کو پہلا سبق یہی دیا کہ انسان کو صرف ایک رب کی بندگی کرنی چاہیے اس کے سوا کسی کی بندگی کرنے کی اجازت نہیں۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں سے یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کا اس لیے تذکرہ کیا ہے کہ یہ ایسے نبی اور رسول ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ طویل عرصے تک دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ پہلا اور بنیادی مسئلہ یہ سمجھایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے سے باز نہیں آؤ گے ؟ مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو صرف ایک رب کی عبارت کرنے کا حکم دیا۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو غیر اللہ کی عبادت کرنے سے منع کیا۔ 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کے نقصانات سے ڈرایا۔
Ayahs 23:24–25

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

” اس کی قوم کے سرداروں نے اسے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا بشر ہے دعوت کے ذریعے یہ تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتہ بھیجتا یہ بات تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں سنی ہی نہیں۔ (24)

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو جنون ہوگیا ہے کچھ مدت اور دیکھ لو شاید افاقہ ہوجائے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں ان کی قوم کے سرداروں نے پانچ الزام لگائے۔ 1۔ یہ تمہارے جیسا بشر ہے 2۔ یہ تم پر برتری یعنی اقتدار چاہتا ہے۔ 3۔ اگر اللہ تعالیٰ نے نبی بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو نازل کرتا۔ لہٰذا یہ جھوٹا ہے 4۔ ہم نے ایسی بات اور دعوت اپنے آباؤ اجد سے نہیں سنی۔ 5۔ نوح پاگل ہوگیا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت کیا دی تھی ؟ اور اس کے جواب میں قوم کے لیڈروں نے اپنی اپنی پارٹی اور ور کر کو قابو میں رکھنے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کن باتوں کا پراپیگنڈہ کیا۔ لیڈروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے اثرات سے خوفزدہ ہو کر قوم کو نوح (علیہ السلام) کے خلاف بھڑکا دیا۔ قوم کے لیڈروں کا اس لیے نام لیا گیا ہے کہ سب سے پہلے انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر قوم کا عقیدہ صحیح ہوگیا اور قوم اپنے رب کی بندگی میں لگ گئی تو ہماری لیڈری نہیں چل سکے گی۔ اس لیے سب سے پہلے لیڈروں نے مخالفت کی اور الزام لگایا کہ نوح (علیہ السلام) میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے جس بناء پر اس کے پیچھے لگاجائے جس طرح یہ انسان ہے اس طرح تم بھی ایک انسان ہو۔ حالانکہ نوح (علیہ السلام) کردار اور جمال کے اعتبار سے اپنی قوم میں ممتاز اور منفرد انسان تھے۔ لیکن قوم حضرت نوح (علیہ السلام) اور اپنے لیڈروں کے درمیان فرق نہ کرسکی جس طرح مکہ کی غالب اکثریت ابوجہل اور سرور دوعالم ﷺ کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہی۔ قوم کے سرداروں نے دوسرا الزام یہ لگایا کہ نوح (علیہ السلام) دعوت توحید اور رب کی بندگی کے بہانے تم پر عزت اور اقتدار چاہتا ہے یہی الزام اہل مکہ نے سرور دو عالم ﷺ پر لگایا تھا۔ تیسری بات قوم نے یہ کہی کہ نوح (علیہ السلام) خواہ مخواہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر ہماری اصلاح مقصود ہوتی تو کسی فرشتے کو نازل کرتا۔ اسی بہانے ہی اہل مکہ نے نبی اکرم ﷺ کی نبوت کا انکار کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے چوتھی بات یہ کہی کہ یہ تو من گھڑت اور انوکھی بات ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے آج تک اپنے بزرگوں سے ایسی بات نہیں سنی۔ یہی دلیل اہل مکہ نے سروردوعالم ﷺ کے سامنے پیش کی کہ جس بات کی آپ دعوت دیتے ہیں ہم نے ایسی بات اس سے پہلے آج تک نہیں سنی (ص : 7) حضرت نوح (علیہ السلام) پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ یہ پاگل ہوگیا ہے۔ ایسا الزام ہی سروردوعالم ﷺ پر لگایا گیا (القلم : 2) مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنے جیسا انسان قرار دیا۔ 2۔ نوح (علیہ السلام) پر قوم نے دعوت کے بدلے اقتدار حاصل کرنے کا الزام لگایا۔ 3۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آباؤ اجداد کی تقلید اور رسم و رواج کو ترجیح دی۔ 4۔ قوم نے حضرت نوح (علیہ السلام) پر پاگل ہونے کا الزام لگایا۔ تفسیر بالقرآن قوم کے حضرت نوح (علیہ السلام) پر الزامات : 1۔ قوم نے نوح کو گمراہ قرار دیا۔ (الاعراف : 60) 2۔ قوم نے الزام لگایا کہ نوح پاگل ہے۔ (المومنون : 25) 3۔ لیڈروں نے کہا کہ نوح تو ہم جیسا انسان ہے۔ (ہود : 27) 4۔ یہ ہم پر لیڈری چمکاتا ہے۔ (المومنون : 24) 5۔ ہم تو اس میں کوئی خوبی نہیں دیکھتے۔ (ہود : 27) 6۔ اس کے چاہنے والے گھٹیا لوگ ہیں۔ (ہود : 27) 7۔ اے نوح تجھے پتھر مار مار کر مار دیں گے۔ (الشعراء : 116) 8۔ قوم نے نوح سے اپنے چہرے چھپا لیے۔ (نوح : 7) 9۔ کفار نے حضرت نوح کے خلاف زبردست مکاریاں کیں۔ (نوح : 7) 10۔ ہمارا تمہار جھگڑا طویل تر ہوگیا ہے نوح تو سچا ہے تو بس عذاب لے آ۔ (ہود : 32)
Ayahs 23:26–28

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

” نوح نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری تکذیب کی ہے اس پر میری مدد فرما۔ (26)

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کرو۔ جب ہمار احکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہوجاؤ۔ اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے لو سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے فیصلہ ہوچکا ہے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرنا کیونکہ یہ غرق ہونے والے ہیں۔ (27)

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

جب اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہوجاؤ تو اس اللہ کا شکر کرو جس نے تمہیں ظالموں سے نجات دی۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب یقین ہوگیا کہ اس کی قوم نے اسے کلیتاً جھٹلا دیا ہے تب حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد طلب کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) پر مختلف قسم کے الزامات لگائے اور پتھر مار مار کر جان سے ختم کرنے کی دھمکی دی۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ اگر تو واقعی اللہ کا پیغمبر ہے تو ہمیں عذاب سے تباہ و برباد کر دے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے یہ کہہ کر مدد طلب کی کہ اے میرے رب میں مغلوب ہوچکا ہوں تو میری مدد فرما۔ اس صورت حال میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی اے نوح (علیہ السلام) آپ کی قوم میں سے جس نے ایمان لانا تھا وہ لا چکا اب تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ لہٰذا اب ہماری ہدایت کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی بناؤ جب ہمارا حکم آجائے اور تنور پھٹ پڑے تو ہر چیز کا جوڑا جوڑا کشتی پر سوار کرو۔ اس میں ان لوگوں کو سوار کرنا ہے جو اس سے پہلے ایمان لاچکے ہیں جن لوگوں نے عقیدہ توحید کا انکار اور آپ کی نافرمانی کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے ان کے بارے میں ہم سے درخواست نہ کرنا کیونکہ وہ غرق ہو کر رہیں گے۔ نوح (علیہ السلام) کو یہ بتلا دیا گیا کہ تیری بیوی بھی غرق ہونے والوں میں شامل ہوگی چناچہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کی وحی کے مطابق ٹھیک ٹھیک اسی طرح کشتی تیار کی جس طرح انہیں کشتی بنانے کا حکم ہوا تھا۔ جب کشتی تیار ہوگئی تو بارش کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بارے میں بتلا یا گیا ہے کہ جگہ جگہ زمین پھٹ پڑی اور آسمان کے دروازے کھول دیے گئے۔ اب نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے آپ اور آپ کے ساتھی کشتی پر سوار ہوجائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی ساخت : حضرت نوح (علیہ السلام) نے جو کشتی بنائی تھی اس کا طول (200) ہاتھ، عرض (50) ہاتھ، بلندی (30) ہاتھ تھی اور اس میں تین طبقے تھے یعنی یہ کشتی تین سٹوری تھی۔ (بحوالہ : رحمۃ للعالمین : مصنف قاضی سلیمان منصورپوری ) مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کشتی تیار کی۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی میں ہر جاندار کا جوڑا جوڑا سوار کیا۔ 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ظالموں کے حق میں سفارش کرنے سے روک دیا گیا۔ 4۔ طوفان کا آغاز تنور سے ہوا۔ 5۔ کشتی پر سواری کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی دعا کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن طوفان نوح (علیہ السلام) کی کیفیت : 1۔ ہم نے کہا جب ہمارا حکم آجائے اور تندور ابلنا شروع ہوجائے تو کشتی میں ہر جانور کا جوڑا جوڑا بٹھالینا اور انہیں بھی سوار کرلینا جو ایمان لائے ہیں۔ (ہود : 40) 2۔ کشتی انہیں پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان لیے پھرتی تھی۔ (ہود : 42) 3۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر زور دار بارش کے دہانے کھول دیے۔ ( القمر : 11) 4۔ جگہ، جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ ( القمر : 12)