Ayahs 23:105–108فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا جہنم میں واویلا اور فریادیں کرنا ان کی فریادیوں کے جواب میں ملائکہ اور رب ذوالجلال کا فرمان۔
جہنمی جہنم کے عذاب سے تنگ آکر واویلا اور آہ وزاریاں کریں گے ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کیا تمہارے پاس میرے فرامین نہیں پہنچے تھے ؟ جہنمی زاروقطار روتے ہوئے عرض کریں گے ہمارے پروردگار کیوں نہیں ہمیں تیرے احکام اور ارشادات پہنچے لیکن اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہوں میں شامل ہوگئے۔ اے ہمارے رب ہماری فریادیں قبول فرما اور ہمیں جہنم سے نجات عطا فرما۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے اگر ہم پھر نافرمانی کریں تو ہم حقیقتاً ظالم ہوں گے۔ جہنمی اپنی فریادوں، آہ و زاریوں کے بعد یہ امید کیے ہوں گے کہ شاید ہمیں جہنم سے نجات مل جائے لیکن اللہ تعالیٰ بڑے غضب ناک اور پورے جاہ و جلال کے ساتھ حکم صادر فرمائے گا پلٹ جاؤ اور جہنم میں ذلیل و خوار ہوتے رہو آئندہ تمہیں میرے ساتھ کلام کرنے کی اجازت نہ ہوگی اب میرے ساتھ ہرگز کلام نہ کرنا۔
(عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُلْقَی عَلَی أَہْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَیَعْدِلُ مَا ہُمْ فیہِ مِنَ الْعَذَابِ فَیَسْتَغِیثُونَ فَیُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِیعٍ لاَ یُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِی مِنْ جُوعٍ فَیَسْتَغِیثُون بالطَّعَامِ فَیُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِی غُصَّۃٍ فَیَذْکُرُونَ أَنَّہُمْ کَانُوا یُجِیزُونَ الْغُصَصَ فِی الدُّنْیَا بالشَّرَابِ فَیَسْتَغِیثُون بالشَّرَابِ فَیُرْفَعُ إِلَیْہِمُ الْحَمِیمُ بِکَلاَلِیبِ الْحَدِیدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوہِہِمْ شَوَتْ وُجُوہَہُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَہُمْ قَطَّعَتْ مَا فِی بُطُونِہِمْ فَیَقُولُونَ ادْعُوا خَزَنَۃَ جَہَنَّمَ فَیَقُولُونَ أَلَمْ تَکُ تَأْتِیکُمْ رُسُلُکُمْ بالْبَیِّنَاتِ قَالُوا بَلَی قَالُوا فادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلاَلٍ قَالَ فَیَقُولُونَ ادْعُوا مالِکًا فَیَقُولُونَ (یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ ) قَالَ فَیُجِیبُہُمْ (إِنَّکُمْ مَاکِثُونَ ) قَالَ الأَعْمَشُ نُبِّءْتُ أَنَّ بَیْنَ دُعَاءِہِمْ وَبَیْنَ إِجَابَۃِ مَالِکٍ إِیَّاہُمْ أَلْفَ عَامٍ قَالَ فَیَقُولُونَ ادْعُوا رَبَّکُمْ فَلاَ أَحَدَ خَیْرٌ مِنْ رَبِّکُمْ فَیَقُولُونَ (رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّینَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ) قَالَ فَیُجِیبُہُمْ (اخْسَءُوا فیہَا وَلاَ تُکَلِّمُونِ ) قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ یَءِسُوا مِنْ کُلِّ خَیْرٍ وَعِنْدَ ذَلِکَ یَأْخُذُونَ فِی الزَّفِیرِ وَالْحَسْرَۃِ وَالْوَیْلِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ طَعَامِ أَہْلِ النَّارِ ]
” حضرت ابی دردا ( علیہ السلام) بیان کرتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا کہ جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی اور وہ بھوک اس عذاب کے برابر ہوگی جس میں وہ مبتلا ہونگے۔ کھانا طلب کریں گے تو انہیں کھانے میں سوکھی گھاس پیش کی جائے گی جس سے نہ تو وہ موٹے ہو پائیں گے اور نہ ان کی بھوک دور ہوگی وہ کھانا طلب کریں گے تو انہیں ایسا کھانا دیا جائے گا جو ان کے حلق میں اٹک جائے گا تو وہ کہیں گے کہ دنیا میں کھانا حلق میں پھنس جاتا تھا تو ہم پانی کے ساتھ اسے نیچے اتارتے تھے وہ پانی طلب کریں گے تو انہیں گرم پانی لوہے کے پیالوں میں پیش کیا جائے گا۔ جب اسے اپنے چہروں کے قریب کریں گے تو ان کے چہرے جھلس جائیں گے جب اسے اپنے پیٹ میں داخل کریں گے تو ان کے پیٹ کٹ کے رہ جائیں گے وہ کہیں گے کہ جہنم کے داروغے کو بلاؤ تو انہیں جواب دیا جائے گا کیا تمہارے پاس رسول آیات لے کر نہیں آئے تھے جواب دیں گے ہاں ! تو فرشتے کہیں گے تم چیختے چلاتے رہو تمہاری فریاد رائیگاں جائے گی۔ وہ کہیں گے مالک کو پکاروتو جہنمی مالک کو پکاریں گے کہ وہ اللہ سے کہے کہ ہمارے مرنے کا فیصلہ فرمادے۔ انہیں جواب دیا جائے گا تم ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ اعمش نے کہا ان کو مالک کی طرف سے ایک ہزار سال کے بعد جواب دیا جائے گا۔ دوزخی کہیں اپنے پروردگار کو پکارو تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں تو وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے اے ہمارے پروردگار ہمیں اس جہنم سے نکال دے اگر ہم دوبارہ ایسے اعمال کریں تو ہم ظالم ہوں گے انہیں جواب دیا جائے گا اسی دوزخ میں رہو اور کسی قسم کی کلام نہ کرو اس پر جہنمی ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے اور وہ آہ وزاری کریں گے اور کھانے پینے پر حسرت کریں گے اور واویلا کریں گے۔ “ (جہنم کو کنٹرول کرنے والے فرشتے کا نام ” مالک “ ہے۔ )
مسائل
1۔ جہنمیوں کی آہ وبقاء اور فریاد نہیں سنی جائے گی۔
2۔ اللہ تعالیٰ پورے غضب کے ساتھ جہنمیوں کو دھتکار دیں گے جہنمی اپنی بدبختی اور گمراہی پر افسوس کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کا جہنم میں واویلا اور آہ و زاریاں :
1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
Ayahs 23:109–111فہم القرآن
ربط کلام : رب ذوالجلال کا جہنمیوں کو دوسرا جواب۔
جہنمیوں کو جہنم میں دھتکارتے وقت اللہ تعالیٰ یہ بھی ارشاد فرمائیں گے کہ کیا تم وہ لوگ نہیں ہو ؟ جنہوں نے میرے بندوں کو اس وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان رکھتے تھے، مجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے اور مجھ سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اے رب تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ انہیں مذاق کرنے کی وجہ سے تم نے میری نصیحت کو فراموش کردیا۔ اپنے بندوں کے ایمان، صبر اور دعاؤں کی وجہ سے انہیں بہترین اجر سے سرفراز کرتا ہوں۔ ان کے مقابلے میں آج تمہاری سزا یہ ہے کہ تم ہمیشہ ہمیش جہنم کی آگ میں جلتے اور چلاّتے رہوگے۔
جنیتوں کا اجر اور جہنمیوں کی سزا :
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَاأتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ‘ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں ‘ جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا تصور پیدا ہوا۔ اگر تمہیں پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “
(وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِیْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک کوڑے کے برابر (گز بھر) جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ‘ اس سے بہتر ہے۔ “
وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ )
[ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِہَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِینَ ]
حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا ‘ جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کو ٹخنوں تک ‘ بعض کے گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردن تک پہنچی ہوگی۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ مَنْکِبَیِ الْکَافِرِ فِیْ النَّارِ مَسِیْرَۃُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ للرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ ضِرْسُ الْکَافِرِ مِثْلُ اُحُدٍ وَغِلْظُ جِلْدِہٖ مَسِیْرَۃُ ثَلٰثٍ )
[ رواہ مسلم : باب النَّارُ یَدْخُلُہَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّۃُ یَدْخُلُہَا الضُّعَفَاءُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جہنم میں کافر کے کندھوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہوگا کہ تیز رفتارسوار کے لیے تین دن کی مسافت ہوگی ایک اور روایت میں ہے کہ دوزخ میں کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کے جسم کی موٹائی تین رات کی مسافت کے برابر ہوگی۔ “
مسائل
1۔ نیک لوگوں کو مذاق کرنے کی سزا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش اور اس کا رحم مانگنا چاہیے۔
3۔ صبر کرنے والوں کو قیامت کے دن پوری پوری جزا ملے گی۔
تفسیر بالقرآن
صبر کرنے کا صلہ :
ا۔ صبر اہم کاموں میں اہم ترین کام ہے۔ (الشوریٰ : 43) 2۔ نبی ﷺ کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5)
3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 4۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5)
5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ صبر کرنے والوں کا صلہ جنت ہے۔ (الدھر : 12)
Ayahs 23:112–115فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں سے ایک اور سوال :۔
انسان کی بغاوت اور نافرمانی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ سمجھتا ہے مرنے کے بعد میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش نہیں ہونا۔ جہنمیوں کی حسرتوں میں اضافہ کرنے اور دنیا میں دی جانے والی مہلت کا احساس دلانے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے استفسار فرمائیں گے۔ بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ ٹھہرے تھے ؟ جہنمی جہنم کی ہولناکیوں سے گھبرا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی فریاد کریں گے کہ الٰہی ہمیں کچھ یاد نہیں کہ ہم کتنی دیر ٹھہرے رہے۔ آپ ان لوگوں سے استفسار فرمائیں جو گنتی کو جاننے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ تم ایک دن یا اس کا کچھ حصہ نہیں ٹھہرے بلکہ ایک مدت تک ٹھہرے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مدّت کو قلیل مدت قرار دیا ہے اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں آخرت کے مقابلے میں قلیل ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جہنمیوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ تمہیں دنیا کی زندگی میں معمولی اختیارات اور تھوڑی سی مہلت دی گئی مگر تم نے پھر بھی اپنے رب کی نافرمانی کی۔ اگر تم دنیا کی زندگی کو قلیل اور عارضی جانتے اور آخرت کی حقیقت کو سمجھتے تو آج جہنم کے عذاب سے نجات پاتے۔
(وَعَنِ المُسْتَوْرِ دِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : وَاللّٰہِ مَا الدُّنْیَا فِی الْآخِرَۃِ إِ لَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ اَحَدُکُمْ إِصْبَعَہٗ فِی الْیَمِّ فَلْیَنْظُرْ بِمَ یَرْجِعُ ) [ رواہ مسلم : باب فَنَاء الدُّنْیَا وَبَیَانِ الْحَشْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ]
” حضرت مستورد بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول مکرم ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں اتنی سی ہے ‘ جتنا کہ تم میں سے کوئی دریا میں اپنی انگلی ڈالے۔ پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کتنا پانی آیا ہے ؟ “
(وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِبَعْضِ جَسَدِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَھْلِ القُبُوْرِ ) [ رواہ البخاری : باب قول النبی ﷺ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْل ]
حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑکر فرمایا۔ دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرو۔
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا ‘ جو دنیا میں سب سے زیادہ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا رہا۔ اسے دوزخ میں ایک غوطہ دیا جائے گا اس کے بعد اس سے پوچھا جائے گا۔ اے آدم کے بیٹے ! کیا تو نے کبھی آرام دیکھا ؟ اور تجھ پر نعمتوں کا کوئی دور گزرا ؟ وہ کہے گا۔ اللہ کی قسم ! کبھی نہیں ‘ اے میرے رب ! میں نے کبھی آرام نہیں پایا۔ پھر جنتیوں میں سے ایسے شخص لا یا جائے گا ‘ جس نے دنیا میں سب سے زیادہ تنگ زندگی گزاری ہوگی اسے جنت کی ایک جھلک دکھاکر پوچھا جائے گا ‘ کیا تو نے کبھی تنگی دیکھی ؟ کیا تجھ پر کبھی سختی کا وقت آیا ؟ وہ جواب دے گا۔ اللہ کی قسم ! مجھ پر کوئی تنگی نہیں آئی اور نہ ہی میں نے کبھی برا دن دیکھا۔ “ [ رواہ مسلم : باب صَبْغِ أَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا فِی النَّارِ وَصَبْغِ أَشَدِّہِمْ بُؤْسًا فِی الْجَنَّۃ ]
مسائل
1۔ جہنمی جہنم کے عذاب کی وجہ سے دنیا کی عیش و عشرت بھول جائیں گے۔
2۔ جہنمی دنیا میں طویل مدت تک رہنے کے باوجود اسے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ قرر دیں گے۔
تفسیر بالقرآن
آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت :
1۔ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17) 2۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : 32)
3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : 26) 4۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : 20)
5۔ دنیا عارضی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (المؤمن : 39)
Ayah 23:116فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کو دائمی سمجھنا اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والا شخص اپنی اور کائنات کی تخلیق کو بےمقصد سمجھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بلندو بالا اور بلا شرکت غیرے زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔ اس کی ذات اور فرمان برحق اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہے وہ عرش کریم کا مالک ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پانچ صفات کا تذکرہ کیا ہے۔ یہاں ہم اس فرمان کے سیاق کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی تین صفات کی مختصر تشریح کریں گے اللہ تعالیٰ نے اپنے اعلیٰ ہونے کی صفت بیان فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس کی یہ شان نہیں کہ وہ کوئی چیز عبث اور بےمقصد پیدا کرے۔ اس لیے منکرین قیامت کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بےمقصد پیدا کیا ہے گویا کہ قیامت کا انکار کرنے والا اپنی تخلیق اور پوری کائنات کے وجود کو بےمقصد قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی (آل عمران : 191) انسان کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ ہم لوگوں کو نیکی اور برائی کے ساتھ آزمائیں۔ ( الملک : 2) ۔ 1” اللہ “ اپنی ذات، صفات کے اعتبار سے بلندوبالا ہے 2” اللہ “ ہی زمین و آسمانوں اور ہر چیز کا بلا شریک غیرے بادشاہ ہے 3” اللہ “ اپنی ذات، صفات، کام اور حکم میں برحق ہے 4 ” اللہ “ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی حاجت روا، مشکل کشا ہے۔ 5” اللہ “ عرش کریم کا مالک ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَیْکَ وَقَالَ یَدُ اللَّہِ مَلأَی لاَ تَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ، سَحَّاء اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ وَقَالَ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَآءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّہٗ لَمْ یَغِضْ مَا فِیْ یَدِہِ ، وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ، وَبِیَدِہِ الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَیَرْفَعُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ تعالیٰ وکان عرشہ علی الماء ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں انسان خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ رات، دن خرچ کرنے سے اس خزانہ میں کمی نہیں آتی، آپ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ قدر اللہ نے کتنا خرچ کیا ہوگا ؟ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین بنائے ہیں یقیناً اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ترازو ہے وہ اسے اوپر، نیچے کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ منکرین قیامت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت برپا نہیں کرنی۔
2۔ منکرین قیامت کا عقیدہ اور دعویٰ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے نہیں جانا۔
3۔ منکرین قیامت کا اپنے عقیدہ اور دعویٰ میں جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ ہر صورت قیامت برپا کرے گا اور لوگوں کو اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ بےمقصد کام کرنے اور حکم دینے اور لوگوں کے باطل عقیدہ وعمل سے پاک اور بلندو بالا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی صفات کی ایک جھلک :
1۔ ” اللہ “ تعالیٰ ہی رب ہے۔ ( لانعام : 102) 2۔ ” اللہ “ ہر چیز کا خالق ہے۔ ( الرعد : 16)
3۔” اللہ “ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید : 3) 4۔ مشرق ومغرب ” اللہ “ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 142)
5۔ غنی ہے تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : 35) 6۔ زمین و آسمان پر ” اللہ “ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : 189)
7۔ قیامت کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان : 26)
8۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ ” اللہ “ کی ملکیت ہے اور ا ” اللہ “ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189)
9۔ ” اللہ “ ہر چیز پر گواہ۔ ( البروج : 9) 10۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت ” اللہ “ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 107)
11۔ ” اللہ “ سخت عذاب دینے والا۔ ( البقرۃ : 165) 12۔” اللہ “ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ( النساء : 16)
13۔ ” اللہ “ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والا۔ ( الحج : 54) 14۔ ” اللہ “ غیب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ ( الحشر : 22)
15۔ ” اللہ “ قوی اور غالب ہے۔ ( المجادلۃ : 21) 16۔ ” اللہ “ واحد ہے زبردست طاقت والا ہے۔ ( ص 65)
17۔ ” اللہ “ تعالیٰ ہی زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے۔ ( البقرۃ : 255)
18۔ ” اللہ “ تعالیٰ بندوں پر شفقت اور نرمی فرمانے والا ہے۔ ( آل عمران : 30)
Ayahs 23:117–118فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے بلندوبالا، پوری کائنات کا بادشاہ، عرش کریم کا رب ہونے کی بناء پر اکیلا ہی معبودِ برحق ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو الٰہ بناتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کی بجائے مشرک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارنے کی اس کے بعد کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، شان اور صفات کے حوالے سے اکیلا اور سب سے اعلیٰ ہے۔ اس کی ذات اور صفات میں کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ مشرک دلیل نہ ہونے کے باوجود نہ صرف شرک جیسے سنگین جرم میں ملّوث ہوتا ہے بلکہ شرک کی حمایت میں بحث و تقرار بھی کرتا ہے یہاں تک مرنے مارنے پر اتر آتا ہے ایسی صورت میں ایک داعی کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ مشرک سے الجھنے کی بجائے یہ کہہ کر اپنا کام کرتا جائے کہ تیرا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہّ ہے اس عقیدہ کا انکار کرنے والے یقیناً فلاح نہیں پائیں گے۔ اے پیغمبر ﷺ آپ اپنے رب سے اس کی بخشش اور رحم مانگتے رہیں یقیناً آپ کا رب بڑا رحم کرنے والا ہے۔ سورة المومنون کی ابتداء ان الفاظ سے ہوئی تھی کہ مومن فلاح پا چکے اس کا اختتام اس بات پر کیا جا رہا ہے کہ ان کے مقابلے میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا انکار کرتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ حقیقت بتلانے کے بعد نبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے رب سے اس کی بخشش اور رحمت مانگتے رہو وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دوزخیوں میں سے سب سے ہلکا عذاب دیے جانے والے سے پوچھیں گے اگر تیرے پاس زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز ہوتی تو کیا تو عذاب سے چھٹکارے کے بدلے میں وہ چیز دے دیتا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ سے دینا میں بہت ہی معمولی مطالبہ کیا تھا۔ جب تو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہر انا ‘ لیکن تو نے انکار کیا اور میرے ساتھ شریک ٹھہراتا رہا۔ “ [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ]
توبہ و استغفار کی فضیلت اور فوائد :
اللہ کی رضا کا حصول : گنا ہوں کی معافی کا ذریعہ، اس سے ضمیر کا بوجھ ہلکا اور پریشانیوں سے نجات ملتی ہے، دنیا میں کشادگی اور آخرت میں جنت کے باغات نصیب ہوں گے، سچی توبہ سے سیئات حسنات میں تبدیل ہوجاتی ہیں، توبہ و استغفار کرنے سے آدمی اللہ کے غضب سے محفوظ ہوجاتا ہے لہٰذا ہر دم اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ، استغفار کرتے رہیے۔
امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں ابر باراں ہوئے عرصہ گزر چکا تھا وہ ہاتھ اٹھا کر بارش مانگنے کی بجائے بار بار توبہ استغفار کرتے رہے کسی نے عرض کیا کہ آپ نے بارش کی دعا کی ہی نہیں، فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا سورة نوح میں اللہ تعالیٰ نے توبہ استغفار کے بدلے بارش برسانے کا وعدہ فرمایا ہے۔
(إِسْتَغفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ ےُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَےْکُمْ مِدْرَارًا۔ ) [ نوح : 10۔ 11]
” اپنے رب سے معافی مانگو بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش بر سائے گا۔ “
مسائل
1۔ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا انکار کرنے والا فلاح نہیں پائے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش اور اس کی رحمت طلب کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نہ ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو پکارا جائے اور نہ اس کے سوا کسی کو پکارا جائے :
1۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاروجو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ (یونس : 106)
2۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکاریں ورنہ آپ عذاب میں مبتلا ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ (الشعراء : 213)
3۔ مشرک سمجھتے ہیں کہ اللہ نے مدفون بزگوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے کسی کو کوئی اختیار نہیں دیا۔ (فاطر : 13)
4۔ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (النساء : 36)