23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsفہم القرآن

Ayah 23:66

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

جب میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگ جاتے تھے۔ (66)

فہم القرآن ربط کلام : جہنم میں داخل کیے جانے والے مجرموں کے جرائم۔ جہنم میں داخل کیے جانے والے لوگ چلائیں اور چیخ و پکار کریں گے لیکن ان کی کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں جب ان لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کے فرامین پڑھے جاتے تھے تو یہ تکبر کی وجہ سے الٹے منہ پھرجاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کو داستان گوئی اور بےہودگی کے انداز میں لیتے تھے ” سامراً “ کا معنٰی ہے کہ ” رات کے وقت سوتے ہوئے قصہ کہانیاں اور داستان گوئی کرنا “ گویا کہ منکرین حق اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور فرامین کو قصے کہانیوں سے بڑھ کر اہمیت نہیں دیتے۔ تکبر اور یاواگوئی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے ارشادات سے اعراض کرتے ہیں۔ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ] ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ مسائل 1۔ مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کی وجہ سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 2۔ مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو بےہودہ اور داستان گوئی کے انداز میں لیتے ہیں۔
Ayahs 23:67–70

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

تکبر کی وجہ سے انہیں خاطر میں نہیں لاتے تھے اور ان کے ساتھ مذاق کرتے اور بیہودہ گوئی کرتے تھے۔ (67) “

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

” تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا ؟ یا رسول ایسی بات لایا ہے جو ان کے پہلے لوگوں کے پاس نہیں آئی۔ (68)

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا اپنے رسول سے واقف نہیں کہ اس سے بدکتے ہیں ؟ (69)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا یہ کہتے ہیں کہ رسول مجنون ہے ؟ نہیں بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔ “ (70)

فہم القرآن ربط کلام : جہنم میں داخل کیے جانے والوں کے دیگر جرائم۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور تباہ ہونے والی اقوام کے انجام سے ڈریں۔ لیکن جہنم میں داخل کیے جانے والوں کا یہ جرم ہوگا کہ وہ قرآن مجید کی آیات پر غور اور اپنے سے پہلی اقوام کے انجام سے عبرت نہیں سیکھتے تھے یہاں سوالیہ انداز میں ان سے چند استفسار کیے گئے ہیں کیا یہ لوگ قرآن مجید کو غور کے قابل نہیں سمجھتے یا جس بات پر تعجب کر رہے ہیں یہ دعوت ان کے آباؤ اجداد کو نہیں پہنچی یا پھر اپنے رسول کو نہیں پہنچانتے ظاہر بات ہے کہ ان باتوں میں ان کی کوئی بات بھی سچ نہ تھی۔ اگر یہ قرآن مجید پر غور کرتے تو ہدایت پاتے کیونکہ اس طرح کی دعوت پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے ذریعے ان کے باپ دادا کو بھی پہنچی تھی۔ جس رسول سے انہوں نے بےاعتنائی کی وہ تو ایک جانی پہچانی مسلمہ شخصیت تھی اور ہیں عرب کے لوگ نبوت سے پہلے ہی آپ ﷺ کی دیانت وامانت، شرافت و نجابت، کردار اور اخلاق کے قائل تھے۔ اس کے باوجود کہتے ہیں کہ اسے جنون ہوگیا ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ میں جنون کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا بلکہ اعلان نبوت سے پہلے وہ آپ کی دانشمندی کا برملا اعتراف کرتے تھے۔ اب ان کے الزامات صرف اس لیے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے پاس حق بات لائے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت کو ٹھکرایا اور جہنم کا ایندھن بنے۔ جہاں تک سرور دو عالم ﷺ کی وفات کے بعد جو لوگ دنیا میں آئے اور آئیں گے ان کے سامنے بھی اہل حق نے سروردو عالم ﷺ کی شخصیت، کردار اور دعوت کو اس طرح کھول کر پیش کیا اور کرتے رہیں گے کہ جس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی اور نہ ہوگی لیکن پھر بھی مجرموں نے حق کو ٹھکرایا جس کے سبب وہ جہنم کا ایندھن بنتے ہیں۔ مسائل 1۔ قرآن مجید پر غور کرنا چاہیے۔ 2۔ پہلے لوگوں کے پاس بھی اسی طرح کی دعوت پہنچی تھی۔ 3۔ سروردو عالم ﷺ کی ذات اور دعوت کا انکار کرنے والے ہر دور میں آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن لوگوں کی اکثریت جاہل ہوتی ہے 1۔ اگر ہم منکرین کے سامنے ہر چیزکو اکٹھا کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ اکثر ان میں جاہل ہیں۔ (الانعام : 111) 2۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر : 57) 3۔ یہ دین صاف اور سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 40) 4۔ اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 5۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الروم : 6) 6۔ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں اور ان کی اکثریت بےعقل ہے۔ (المائدۃ : 103) 7۔ قیامت کا اللہ ہی کو علم ہے لیکن لوگوں کی اکثریت بےعلم ہے۔ (الاعراف : 187) 8۔ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے بیشتر لوگ ایسے ہیں جو حق کو نہیں مانتے۔ (النحل : 83)
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

” اور اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین، آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان سب کا سب تباہ ہوجاتا۔ بلکہ ہم ان کے لیے نصیحت لائے ہیں اور وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ “ (71)

فہم القرآن ربط کلام : حقائق جاننے کے باوجود لوگ اس لیے ایمان لاتے نہیں کہ یہ حق کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ حق کے منکر لوگوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ حق کو اپنے مفاد اور خواہشات کے پیچھے لگا یا جائے۔ اسی لیے مکہ والوں نے مختلف موقعوں پر آپ سے یہ مطالبات کیے کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں کچھ ہم بدل جاتے ہیں۔ (القلم : 9) پھر انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن لے آئیں ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ (یونس : 15) ان کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے حالانکہ دو یا دو سے زائد الٰہ ہوتے تو وہ ایک دوسرے کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے جس سے زمین و آسمان میں فساد ہونا ناگزیر ہوتا (المؤمنون : 91) انہوں نے یہاں تک مطالبہ کرڈالا کہ ایک سال آپ کے رب کی عبادت کی جائے اور دوسرے سال ہمارے خداؤں کی پرستش کرنا ہوگی اسے سورة الکافرون میں یہ کہہ کر صرف نظر کردیا گیا ” آپ فرما دیجیے : اے کافرو ! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ “ (الکافرون ) اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اگر حق ان کی خواہشات کا غلام بن جائے تو زمین میں فساد برپا ہوجائے حق سے مراد اللہ کا دین ہے اور دین کی بنیاد عقیدہ توحید ہے توحید کا پرچار اور ابلاغ دنیا میں امن وامان کی ضمانت ہے، یہی سب سے بڑی نصیحت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خیر خواہی کے لیے نازل کیا ہے لیکن لوگ انہیں کی بھلائی کے لیے آنے والی نصیحت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ (عَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی لَا یُقَالَ فِیْ الْاَرْضِ اَللّٰہُ اَللّٰہُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ عَلٰی اَحَدٍ یَقُوْلُ اَللّٰہُ اَللّٰہُ ۔ ) [ رواہ مسلم : باب ذَہَابِ الإِیمَانِ آخِرَ الزَّمَانِ ] حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ‘ رسول محترم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین پر اللہ اللہ کی آواز آنا ختم نہ ہوجائے گی ایک روایت میں ہے قیامت ایسے شخص پر قائم نہیں ہوگی، جو اللہ اللہ کہنے والا ہوگا۔ “ (وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یُؤْمِنْ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِءْتُ بِہٖ ) [ رواہ فی شرح السنۃ وقال النووی فی أربعینہ ہذا حدیث صحیح ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش اس چیز کے تابع نہیں ہوجاتی جسے میں لے کر آیا ہوں۔ “ مسائل 1۔ اگر حق لوگوں کی خواہشات کا غلام بن جائے تو زمین و آسمان میں فساد برپا ہوجائے۔ 2۔ لوگ اپنے ہی فائدہ کی خاطر نصیحت قبول نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن حق سے اعراض کرنے والے لوگ :۔ 1۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : 57) 2۔ قرآن سے منہ پھیرنے والے مجرموں سے انتقام لیا جائے گا۔ (السجدۃ : 22) 3۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ : 124، 125) 4۔ اعراض اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ : 100، 101) 5۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 99) 6۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 75) 7۔ اکثر لوگ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ (الانبیاء : 24) 8۔ جو رحمن کے ذکر سے اعراض کرتا ہے اس پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ ( الزخرف : 36)
Ayahs 23:72–74

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

” کیا آپ ان سے کچھ مانگ رہے ہیں ؟ آپ کے لیے آپ کے رب کا دیا بہت بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔ (72)

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

آپ ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں۔ (73)

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔ “ (74)

فہم القرآن ربط کلام : ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ اس سے پہلے کفار سے مخصوص انداز میں استفسار فرما کر ان پر حق واضح کیا گیا اب سرور دو عالم ﷺ سے ایک استفسار کے ذریعہ حق واضح کرنے کے ساتھ آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ اے پیغمبر کیا آپ دعوت کے کام پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں ؟ کہ جس بنا پر انہیں آپ کی ذات اور بات بوجھ محسوس ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ آپ ان سے ایک پائی کے طلبگار نہیں ہیں آپ تو محض اپنے رب کے حکم اور اس کی رضا کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے دکھ پر دکھ اٹھا رہے ہیں۔ اے محبوب ﷺ اطمینان خاطر رکھیے آپ کے لیے آپ کے رب کی طرف سے دیا ہوا رزق دنیا کے رزق اور فوائد سے ہزاروں گنا بہتر ہے اور آپ کا رب بہترین رزق دینے والا ہے۔ یہ بھی اطمینان رکھیں کہ آپ ان کو صراط مستقیم کی دعوت دینے والے ہیں اس کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ جو لوگ قیامت بپا ہونے کا یقین نہیں رکھتے وہی لوگ صراط مستقیم سے انحراف کرتے ہیں۔ مسائل 1۔ سروردوعالم ﷺ دعوت حق کے بدلہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگتے تھے آپ کی بےمثال جدوجہد کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے۔ 3۔ قیامت کا انکار کرنے والے صراط مستقیم پر چلنا قبول نہیں کرتے۔
Ayahs 23:75–76

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

” اگر ہم ان پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں مبتلا ہیں دور کردیں تو پھر بھی اپنی سرکشی میں ہی بھ کے رہیں گے۔ (75)

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

ان کا حال یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکتے ہیں اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ ( 76)

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کا کردار اور انجام۔ قیامت کا انکار کرنے والا شخص نہ صرف صراط مستقیم سے منحرف ہوجاتا ہے بلکہ اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس پر کرم فرما کر اسے کسی مصیبت سے نجات دے تو وہ اپنے رب کا مطیع اور شکرگزار ہونے کے بجائے سرکشی میں اندھا ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنے گناہوں اور سرکشی میں اندھا ہوجاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بڑی مصیبت میں گرفتار کرتا ہے لیکن اپنے گناہوں میں اندھا ہونے کی وجہ سے ایسا شخص اپنے رب کے حضور توبہ کرنے اور گڑگڑانے کے لیے تیار نہیں ہوتا بالآخر اللہ تعالیٰ اس پر شدید عذاب نازل کرتا ہے اس قسم کے لوگ اپنے رب سے بخشش اور رحمت طلب کرنے کی بجائے ناامید ہوجاتے ہیں حتٰی کہ اسی حالت میں انہیں موت آلیتی ہے یہ کسی انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی اور اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی انتہا ہوتی ہے۔ کہ اسے مصیبت اور عذاب کے وقت بھی توبہ کی توفیق حاصل نہ ہو۔
Ayahs 23:77–80

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

ہاں جب ہم ان پر شدید عذاب کا دروازہ کھول دیں تو اس وقت خیر سے مایوس ہونگے۔ “ (77)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

” اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی قوتیں عطا فرمائیں اور سوچنے کو دل عنایت کیے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔ (78)

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤگے۔ (79)

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ لیل ونہار کی گردش اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ؟۔ “ (80)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کان، آنکھیں اور دل اس لیے دیے ہیں کہ حقائق دیکھ اور سن کر ان کے مطابق عمل کریں تاکہ قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے انسان کو کان، آنکھیں اور دل عطا کیا تاکہ حقائق دیکھ اور جان کر اپنے رب کا شکر گزار بندہ بن جائے۔ اسی نے انسان کو زمین سے پیدا کرکے زمین پر پھیلا یا اور بسایا اور اسی کی طرف سب نے اکٹھا ہونا ہے وہی ذات موت وحیات پر اختیار رکھتی ہے اسی کے حکم کے مطابق دن اور رات ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں لیکن پھر بھی لوگ عقل وفکر نہیں کرتے۔ ان آیات میں انسان کی تخلیق، زمین میں انسان کا رہنا سہنا، زندگی گزارنا، اور مرنا رات اور دن کے اختلاف کا حوالہ دے کر انسان کو دو باتوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے پہلی بات یہ ہے کہ انسان اپنے آپ اور کائنات کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق سمجھے اور یہ حقیقت جاننے کی کوشش کرے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے فنا اور بقا بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہاں تک کہ میرے اعضاء اور جوارح بھی اس کی عطا کا نتیجہ ہیں اس لیے میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کروں۔ انسان اس وقت تک اپنے رب کی نعمتوں پر شکر گزار نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے رب کی عنایات پر توجہ اور غور نہیں کرتا۔ جسے غوروفکر کی توفیق مل جائے وہ بالیقین اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّآءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّآءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ] ” حضرت صہیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ عجب ہے بیشک اس کے تمام کاموں میں بہتری ہے جو مومن کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ مومن کو خوش کردینے والی چیز ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “ (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ کُلِّ صَلاَۃٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ سنن النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ ] ” حضرت معاذبن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے رہو۔ اسے کبھی نہ چھوڑنا اے میرے پروردگار ! ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو سننے، دیکھنے اور سوچنے کے لیے اعضاء عطا فرمائے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو زمین سے پیدا کرکے زمین پر پھیلایا اور بسایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی موت اور زندگی کا مالک ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لانے والا ہے۔ 5۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی دی ہوئی نعمتوں پر غور کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن شکر اور اس کے فضائل : 1۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ (الانفال : 26) 2۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تمہارے تابع کیا جس سے تازہ مچھلی، زیبائش کا سامان نکلتا ہے اس پر اللہ کا شکریہ ادا کرو۔ (النحل : 14) 3۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو باعث سکون اور دن کو کسب معاش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ (القصص : 73) 4۔ شکر کے بارے میں حضرت داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کی دعائیں۔ (صٓ: 35، النمل : 19) 5۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار لوگوں کو مزید دیتا ہے۔ (ابراہیم : 7)
Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

” بلکہ یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پہلے کہہ چکے ہیں۔ (81)

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھایا جائے گا ؟ (82)

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

ہم نے یہ وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں۔ یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ “ (83)

فہم القرآن ربط کلام : آیت 70 میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو پاگل پن ہوگیا ہے اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلّی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے جس کو یہ بوجھ سمجھتے ہوں لہٰذا آپ دعوت توحید کا کام جاری رکھیں یہ لوگ وہی کچھ کہہ رہیں جو ان سے پہلے لوگ کہا کرتے تھے۔ انسان موت وحیات اور لیل ونہار کی گردش پر غور کرے تو اسے خود ہی معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت انسان کو اس کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ کیونکہ جو رب رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لاتا ہے وہی انسان کو قیامت کے دن زندہ کرے گا جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں وہ وہی بات کرتے ہیں جو ان سے پہلے لوگ کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں ختم ہوجائیں گی کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟ یہ وہی وعدہ ہے جو ہمارے آباؤ و اجداد کے ساتھ بھی کیا جاتا رہا۔ لیکن اب تک ان میں سے کوئی ایک بھی دوبارہ زندہ نہیں ہوا۔ درحقیقت یہ پہلے زمانے کی قصہ کہانیاں ہیں جو ہمیں بار بار سنائی جاتی ہیں۔ اسی فکر کی بنیاد پر ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آکر ہاتھ میں لیے ہوئے ایک بوسیدہ ہڈی مسلتے ہوئے کہتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! تم کہتے ہو کہ مردے زندہ ہونگے بتاؤ اس ہڈی سے کس طرح انسان زندہ ہوسکتا ہے ؟ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْمٌ قُلْ یُحْیِیہَا الَّذِیْ اَنشَاَہَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِِذَا اَنْتُمْ مِنْہُ تُوقِدُوْنَ اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ بَلٰی وَہُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیْمُ ) [ یٰسٓ: 78۔ 81] ” اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا۔ کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس ( کی شاخوں کو رگڑ کر اُن) سے آگ نکالتے ہو۔ بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو پھر ویسے ہی پیدا کر دے کیوں نہیں اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے منکر ہمیشہ ایک جیسی باتیں کیا کرتے ہیں۔ 2۔ قیامت کے منکر قیامت برپا ہونے کے دلائل کو قصہ کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قیامت کی کیفیت اور اس کے برپا ہونے کے دلائل : 1۔ بیشک قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کسی کو جزا یا سزا ملے۔ (طہٰ : 15) 2۔ قیامت قریب ہے۔ (الحج : 1) 3۔ سب نے اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ (یونس : 56) 4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟۔ (المومن : 16) 5۔ اس دن سے ڈر جاؤ جس دن تم اللہ کے ہاں لوٹائے جاؤ گے۔ (البقرہ : 281) 6۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : 19) 7۔ قیامت کے دن اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی۔ (الفرقان : 26) 8۔ قیامت آنکھ جھپکنے کی طرح آجائے گی۔ (النحل : 77) 9۔ قیامت کے دن ہر کسی کو پورا پورا صلہ دیا جائے گا۔ (آل عمران : 185) 10۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف : 21) 11۔ کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اچانک آجائے۔ (الحج : 55) 12۔ ہم نے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب تیار کیا ہے۔ (الفرقان : 11)
Ayahs 23:84–87

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

” ان سے فرمائیں اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور اس کی تمام چیزیں کس کی ہیں ؟ (84)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

ضرور کہیں گے اللہ کی ہیں۔ کہو پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے ؟ (85)

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

ان سے پوچھیں ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ ( 86)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

یہ ضرور کہیں گے اللہ ہی مالک ہے فرمائیں پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ “ (87)

فہم القرآن ربط کلام : زمینی اور عقلی حقائق سے قیامت قائم ہونے کا ثبوت۔ اے پیغمبر ﷺ ! جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان سے استفسار فرمائیں کہ جس زمین پر تم رہ رہے ہو اور جو کچھ اس میں ہے وہ کس کی تخلیق اور ملکیت ہے اس کا یہی جواب دیں گے کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اب فرمائیں کیا پھر تم حقیقت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ؟ ان سے پھر استفسار فرمائیں کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ ان کا جواب یہی ہوگا کہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے۔ آپ فرمائیں پھر تم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے۔ یہاں اہل مکہ کا عقیدہ بتلایا جا رہا ہے کہ اہل مکہ اس بات کے قائل تھے کہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے وہ اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے اور وہی اس کا مالک ہے۔ اہل مکہ کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا عرش سات آسمانوں کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر اس طرح جلوہ افروز ہے جس طرح اس کی شان ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستویٰ ہونے کے بارے میں کسی قسم کی قیل وقال نہیں کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے عرش پر کوئی چیز متمکن نہیں اور نہ ہی اس کے عرش میں کوئی دخیل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قبل از اسلام عربوں کا یہی عقیدہ تھا جس بناء پر وہ کھلے الفاظ میں ان حقائق کا اعتراف کرتے تھے کہ عرش، فرش اور آسمانوں کا ایک ہی رب ہے جس کا نام ” اللہ “ ہے۔ ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں منع کیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے غیر متعلق چیزوں کے بارے میں سوال کریں۔ ہمیں یہ بات بڑی اچھی لگتی تھی کہ دیہات میں سے کوئی سمجھ دار آدمی آئے اور آپ ﷺ سے سوال کرے اور ہم سنیں ایک دن ایک بدوی آیا۔ اس نے کہا اے محمد ﷺ ! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا اور اس نے یہ بتلایا ہے کہ آپ اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے دیہاتی نے سوال کیا کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے۔ اس نے عرض کی زمین کو کس نے پیدا کیا اور اس پر پہاڑوں کو کس نے نصب کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے۔ اس نے کہا کیا آپ کو اللہ نے مبعوث کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! دیہاتی نے کہا آپ کے قاصد نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہم پر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس نے ٹھیک بتلایا۔ دیہاتی نے کہا کہ اس کا یہ بھی کہنا ہے ہم پر سال میں رمضان کے ایک مہینہ کے روزے فرض ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا۔ اس دیہاتی نے کہا جس ذات نے آپ کو نبی مبعوث فرمایا ہے کیا ان باتوں کا اس نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا آپ کے قاصد کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر بیت اللہ کا حج فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا۔ پھر وہ واپس پلٹا اور کہنے لگا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا نہ میں ان میں کمی کروں گا اور نہ زیادتی۔ نبی ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ “ [ رواہ مسلم : باب فِی بَیَانِ الإِیمَان باللَّہِ وَشَرَاءِعِ الدِّینِ ] مسائل 1۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عرش عظیم کا رب ہے۔ 3۔ مشرک اللہ تعالیٰ کو رب ماننے کے باوجود اس کے ساتھ شرک کرنے سے باز نہیں آتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کے چند دلائل : اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کے بیشمار دلائل ہیں۔ لیکن اختصار کی خاطر چند دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ 1۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ (النساء : 87) 2۔ معبود حقیقی صرف اللہ ہے۔ (النساء : 171) 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں۔ (فاطر : 3) 4۔ اللہ ہی رزّاق ہے۔ (الذاریات : 58) 5۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51، مریم : 36) 6۔ اللہ سب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام : 102) 7۔ تمہارا رب ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (المومن : 62)
Ayahs 23:88–90

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

’ ان سے کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ ہر چیز پر کس کا اقتدار ہے ؟ اور کون جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ دینے والا کوئی نہیں۔ ( 88)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

یہ ضرور کہیں گے کہ اقتدار اور اختیار اللہ ہی کے پاس ہے کہو پھر کہاں سے تمہیں دھوکہ لگتا ہے۔ ؟ (89)

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

جو بات حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ “ (90)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں سے استفسار کا سلسلہ جاری ہے۔ سروردوعالم ﷺ کو پھر حکم ہوا کہ آپ مشرکین سے استفسار فرمائیں کہ کسے ہر چیز پر اختیار اور اقتدار حاصل ہے ؟ جو سب کو پناہ دینے والا ہے اسے کسی کی پناہ کی ضرورت نہیں اگر اس حقیقت کو جانتے ہو تو اس کا جواب دو ؟ وہ ضرور جواب دیں گے کہ ہر چیز پر صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہے۔ انہیں فرمائیں کہ اس کے باوجود تم ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس عقیدہ توحید کے ٹھوس اور حقیقت پر مبنی دلائل پہنچ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مشرک جھوٹ بولتے ہیں۔ عقیدہ توحید کے اس قدر ٹھوس اور مبنی برحقیقت دلائل ہیں کہ حددرجے کا مشرک بھی ان کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن اس کے باوجود مشرک جھوٹے اور بےبنیاد دلائل دینے سے باز نہیں آتا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا دنیا میں سب سے بڑا جھوٹ ہے لیکن مشرک جھوٹے عقیدہ اور جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتا۔ اس لیے ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا تمہیں جادو ہوگیا ہے ؟ جس وجہ سے عقیدہ توحید تمہیں سمجھ نہیں آتا۔ عربی زبان میں سحر کا معنٰی ہے ایسا علم یا عمل جس سے دیکھنے والے کو کوئی چیز حقیقت کے خلاف نظر آئے۔ ” مَلَکُوْتُ “ سپر ڈگری کا لفظ ہے جس کا معنٰی ہے بادشاہی اور کسی چیز کا مالک ہونا گویا کہ ہر دور کا مشرک یہ ماننے پر مجبور ہے کہ سدا بہار بادشاہی اور حقیقی ملکیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ وہی ہر کسی کو پناہ دینے والا ہے اسے کسی کی پناہ کی حاجت نہیں۔ (عَنِ الْبَرَآءِ ابْنِ عَازِبٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا اٰوٰی اِلٰی فِرَاشِہٖ نَامَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَےْمَنِ ثُمَّ قَالَ (اَللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَےْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِی اِلَےْکَ وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَےْکَ وَاَلْجَأْتُ ظَہْرِیْ اِلَےْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَےْکَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَےْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَنَبِےِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ ) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَالَھُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَےْلَتِہٖ مَاتَ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَفِیْ رِوَاے ۃٍٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِرَجُلٍ یَّا فُلَانُ اِذَا اَوَےْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ فَتَوَضَّأْ وُضُوْءَٓکَ للصَّلٰوۃِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلٰی شِقِّکَ الْاَےْمَنِ ثُمَّ قُلِ (اللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَےْکَ اِلٰی قَوْلِہٖ اَرْسَلْتَ ) وَقَالَ فَاِنْ مُتَّ مِنْ لَّےْلَتِکَ مُتَّ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَاِنْ اَصْبَحْتَ اَصَبْتَ خَےْرًا۔ ) [ رواہ البخاری : باب اذا بات طاہرا ] حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنے بستر پر لیٹے تو دائیں کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھتے۔ ” ہمارے معبود حقیقی ! تیری طرف رغبت کے ساتھ اور تجھ سے ڈرتے ہوئے میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی ‘ اپنا چہرہ تیری ہی طرف کرلیا ‘ اپنے کام تیرے حوالے کیے، اور تجھ پر بھروسہ کیا “ تیری جائے پناہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ میں تیری نازل کردہ کتاب اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لایا “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کلمات کہے اگر اسی رات مرجائے تو اس کی موت اسلام پر ہوگی۔ دوسری روایت میں ہے رسول اکرم ﷺ نے ایک شخص کا نام لے کر فرمایا جب تو اپنے بستر پر جائے تو وضو کرلے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے پھر دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا کرو ” میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی نبی پر ایمان لایا۔ “ اگر تو اس رات مرجائے تو فطرت کی موت مرے گا اور اگر صبح کرے تو تجھے خیروبرکت حاصل ہوگی۔ “ مسائل 1۔ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ 2۔ جسے اللہ اپنی پناہ میں لے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 3۔ کفار بھی اللہ کی الوہیّت کے اقراری تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام برحق ہے۔
Ayahs 23:91–92

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا الٰہ اس کے ساتھ نہیں ہے اگر اور ہوتے تو ہر الٰہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ (91)

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں ” اللہ “ اس سے بلند وبالا ہے۔ “ (92)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اپنی بادشاہت اور اختیارات کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اب اپنی ذات کے حوالے سے بتلا یا اور سمجھایا ہے کہ ذات کے اعتبار سے بھی کوئی اس کا ہم سر اور شریک نہیں ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ سورة المائدہ آیت 75 میں عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں سمجھایا کہ ابن مریم ( علیہ السلام) صرف اللہ کا رسول ہے اس سے پہلے رسول گزر چکے اس کی والدہ مریم کردار اور گفتار کے لحاظ سے صدیقہ تھی وہ ماں، بیٹا کھانا کھاتے تھے۔ توجہ فرمائیں کہ ہم ان لوگوں کے لیے اپنے دلائل کس طرح واضح کرتے ہیں تاکہ اس پر غور کریں کہ اس کے باوجود لوگ بھٹک جاتے ہیں۔ یہاں ایک اور عقلی دلیل کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی زمین و آسمان میں اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ موجود ہے۔ اگر کوئی اور دو الٰہ ہوتے تو وہ اپنی مخلوق کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کرتے اور ایک دوسرے پر یلغار کرتے یہی صورت حال اللہ کی اولاد ہونے کی صورت میں پیدا ہوتی۔ اس کا ایک بیٹا زیادہ سے زیادہ اختیار لینے کی کوشش کرتا اور اس کے مقابلے میں دوسرا اپنے اختیارات اور اپنی عوام میں اضافے کے درپے ہوتا۔ اس طرح یہ کائنات کئی حصوں میں تقسیم ہوجاتی۔ کیونکہ جس کی اولاد ہوتی ہے اس کا ایک وقت پر کمزور اور ضعیف ہونا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد کی ضرورت اور ہر قسم کے تعاون سے مبرّا اور پاک ہے وہ ہر غائب اور ظاہر کو جاننے والا اور اپنی ذات، صفات اور بادشاہی کے حوالے سے بلندوبالا اور ہر قسم کی شراکت اور معاونت سے منزہ اور پاک ہے۔ مسائل 1۔ اگر ” اللہ “ کے علاوہ اور الٰہ ہوتے تو وہ اپنی اپنی مخلوق کو ایک دوسرے سے علیٰحدہ کرنے کی کوشش کرتے۔ 2۔ اگر ایک سے زیادہ الٰہ ہوتے تو وہ ایک دوسرے پر یلغار کرتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے لوگوں کے شرکیہ اور کفریہ عقیدہ اور کلمات سے پاک ہے۔ تفسیر بالقرآن الٰہ ایک ہی ہے : 1۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ (البقرۃ : 163) 2۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : 22) 3۔ آپ ﷺ فرما دیں میں تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف : 110) 4۔ الٰہ تمہارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ : 98) 5۔ آپ ﷺ فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء : 108) 6۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : 34) 7۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : 46) 8۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جسے میں تلاش کروں۔ (الاعراف : 140) 9۔ اللہ ہی الٰہ ہے وہی اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ ( الانعام : 101) 10۔ کوئی اور الٰہ نہ بناؤ الٰہ تو ایک ہی ہے (النحل : 51) 11۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73) 12۔ اعلان کردیں اللہ ہی ایک الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
Ayahs 23:93–96

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

” اے نبی دعا کرو کہ پروردگار جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے اگر وہ میری موجودگی میں لائے۔ (93)

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو میرے رب مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ (94)

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہارے سامنے عذاب لانے کی پوری قدرت رکھتے ہیں۔ (95)

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

جس کی ہم انہیں دھمکی دے رہے ہیں۔ اے نبی برائی کو بہترین طریقے سے ٹالنے کی کوشش کرو۔ آپ پر جو باتیں بناتے ہیں وہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہیں۔ “ (96)

فہم القرآن ربط کلام : شرک کرنے کی وجہ سے پہلی اقوام پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ نبی اکرم ﷺ کو عذاب سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ منکرین حق نبی کریم ﷺ سے باربار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے وہ اب تک کیوں نہیں آیا ؟ کفار کے اس مطالبہ کے مختلف موقعوں پر مختلف جواب دیے گئے ہیں۔ یہاں نئے انداز میں اس کے تین جواب دیے گئے ہیں۔ اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں جس عذاب کی تم جلدی کررہے ہو میں تو اپنے رب سے اس کی پناہ مانگتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ الٰہی اگر میری موجود گی میں تیرا عذاب نازل ہو تو مجھے ظالموں میں شریک نہ کرنا۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ ہم کفار کے ساتھ کیے گئے وعدہ کو پورا کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی آنکھوں کے سامنے ان کو تباہ و برباد کردیں۔ آپ ان کی برائی کے مقابلے میں اچھا رویّہ اختیار کریں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے جو کچھ آپ کے بارے میں ہر زہ سرائی کرتے ہیں۔ ” اے نبی نیکی اور بدی کبھی برابر نہیں ہوسکتے آپ برائی کا ایسے انداز میں جواب دیں جو اچھا ہو آپ دیکھیں گے کہ جس شخص کی آپ کے ساتھ عداوت ہے وہ آپ کا گہرا دوست بن گیا۔ یہ حوصلہ اور ہمت صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ کسی بڑے نصیب والے کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ (حٰم السجدہ : 34، 35) ” حضرت علی ؓ سے روایت ہے ایک یہودی عالم کا رسول اللہ ﷺ کے ذمے کچھ دینار قرض تھا۔ اس نے نبی ﷺ سے اس کا مطالبہ کیا آپ نے اس سے فرمایا میرے پاس کچھ نہیں ہے کہ جس سے تیرا قرض ادا کروں۔ اس نے کہا اے محمد ﷺ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ آپ مجھ کو میرا قرض ادا کردیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک تو میرے پاس بیٹھا رہے گا اس وقت تک میں بھی یہاں بیٹھا رہوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھائی آپ کے صحابہ نے اسے ڈرانا اور دھمکانا چاہا تو آپ ان کی اس حرکت پر ناراض نہیں ہوئے۔ صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول یہودی آپ کو روکے ہوئے ہے رسول اللہ نے فرمایا میرے رب نے مجھے نرمی کرنے والا بنایا ہے اور کسی پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔ اگلے دن اس یہودی نے کلمہ پڑھ لیا اور کہا کہ میرا آدھا مال اللہ کے راستے میں وقف ہے۔ اللہ کی قسم میں نے آپ کے ساتھ یہ رویہّ آپ کو جانچنے کے لیے اختیار کیا۔ تاکہ میں ان اوصاف کو دیکھ سکوں جو اوصاف تورات میں محمد بن عبداللہ کے متعلق پائے جاتے ہیں اس کی جائے پیدائش مکہ ہوگی اور اس کی ہجرت مدینہ میں اور اس کی بادشاہت شام تک ہوگی نہ وہ سخت گو، نہ تند خو، نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا، نہ بےحیائی کرنے والا اور نہ بد کلامی کرنے ولاہو گا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں میرے اس مال کے بارے میں اللہ کے حکم کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے یہودی مالدار آدمی تھا۔ “ [ رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ ] مسائل 1۔ ” اللہ “ کے عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرنے پر قادر ہے۔ 3۔ برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کا ” اللہ “ کے عتاب اور عذاب سے ڈرنا : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تم پر دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ( الاعراف : 59) 2۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب ڈرتا ہوں۔ (یونس : 15) 3۔ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تم پر ایسے عذاب سے ڈرتا ہوں جو تم سب کو گھیرلے گا۔ ( ہود : 84) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اللہ کے عذاب سے خوف کھایا کرتے تھے۔ ( مریم : 45)
Ayahs 23:97–98

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

” اپنے رب سے دعا کرو کہ میں شیاطینی خیالات سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (97)

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

میرے رب میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میرے پاس شیطان آئیں۔ “ (98)

فہم القرآن ربط کلام : برائی اور غصہ شیطان کی طرف سے ہے اس لیے نبی اکرم ﷺ کو دعا سکھلائی گئی کہ شیطان سے اپنے رب کی حفاظت طلب کیا کریں۔ شیطان داعی کو انگیخت دیتا ہے کہ وہ غصہ میں آکر برائی کا جواب برائی سے دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ داعی کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ وہ برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دے۔ جہاں تک ذاتی معاملات کا تعلق ہے اس میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ مظلوم ظالم کے جواب میں کوئی بری بات زبان پر لے آئے۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ( المائدہ : آیت 148) لیکن تبلیغ کے میدان میں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ برائی کا جواب برائی سے دیا جائے بلکہ حکم ہے کہ اگر ایسے موقع پر طیش آئے تو شیطان کی انگیخت سے اپنے رب کی پناہ مانگنی چاہیے۔ کیونکہ شیطان چاہتا ہے مبلغ برائی کے مقابلے میں بری زبان استعمال کرکے ناکام ہوجائے اس نقصان سے بچانے کے لیے سرور دو عالم ﷺ کو یہ دعا سکھلائی گئی۔ (رَبِّ أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہَمَزَات الشَّیَاطِینِ ) ” میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتاہوں “ (عَنْ سُلَےْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ وَنَحْنُ عِنْدَہُ جُلُوْسٌ وَّاَحَدُھُمَا ےَسُبُّ صَاحِبَہُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْھُہُ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ کَلِمَۃً لَّوْ قَالَھَا لَذَھَبَ عَنْہُ مَا ےَجِدُ اَعُوْذُ باللّٰہِ مِن الشَّےْطٰنِ الرَّجِےْمِ فَقَالُوْا للرَّجُلِ لَا تَسْمَعُ مَا ےَقُوْلُ النَّبِیُّ ﷺ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ بِمَجْنُوْنٍ ) [ رواہ البخاری : باب مَا یُنْہَی مِنَ السِّبَابِ وَاللَّعْنِ ] حضرت سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں دو شخص گالم گلوچ پر اتر آئے ہم بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ وہ اپنے ساتھی کو برابھلا کہہ رہا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص وہ کلمہ پڑھ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے وہ کلمہ یہ ہے۔ اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ اس پر صحابہ کرام ؓ نے اس کو متوجہ کیا۔ کیا نبی کریم ﷺ کا فرمان نہیں سن رہا ؟ اس نے جواب دیا میں پاگل نہیں ہوں۔ اس کی مراد یہ تھی کہ میں نے سن لیا اور اس پر عمل کرتا ہوں۔ (عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ مَعَ إِحْدَی نِسَاءِہِ فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ فَدَعَاہُ فَجَاءَ فَقَالَ یَا فُلاَنُ ہَذِہِ زَوْجَتِی فُلاَنَۃُ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ مَنْ کُنْتُ أَظُنُّ بِہِ فَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّ بِکَ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ )[ رواہ مسلم : باب بَیَانِ أَنَّہُ یُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُءِیَ خَالِیًا بامْرَأَۃٍ وَکَانَتْ زَوْجَۃً أَوْ مَحْرَمًا لَہُ أَنْ یَقُولَ ہَذِہِ فُلاَنَۃُ لِیَدْفَعَ ظَنَّ السَّوْءِ بِہِ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ کھڑے تھے وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا آپ نے فرمایا اے فلاں آدمی یہ میری فلاں بیوی ہے اس نے عرض کی آپ کے متعلق کون ایسا گمان کرسکتا ہے اور نہ ہی میں نے ایسا سوچا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا شیطان خون کی گردش کی طرح آدمی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ “ مسائل 1۔ شیطان انسان کا دشمن ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے رب کی پناہ مانگنا چاہیے۔ 2۔ شیطان انسان کو غصہ دلاتا ہے۔ 3۔ شیطان انسان کے دل میں برے خیالات ڈالتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان کی شیطنت اور اس سے بچنے کی دعائیں : 1۔ شیطان نے قیدی کو حضرت یوسف کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ (یوسف : 42) 2۔ شیطان نے آدم اور حوّا کو پھسلا دیا۔ (البقرۃ : 36) 3۔ شیطان نے حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان اختلاف ڈال دیا۔ (یوسف : 100) 4۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (یوسف : 5) 5۔ شیطان کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی شیطنت سے بچنا چاہیے۔ (فاطر : 6) (أَعُوذ باللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ ) (وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إلَّا بِا للّٰہ)
Ayahs 23:99–101

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے تو کہے گا کہ اے میرے رب مجھے دنیا میں واپس بھیج۔ (99)

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ امید ہے اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہرگز نہیں یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اب ان کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے قیامت کے دن تک (100)

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جونہی صور پھونک دیا گیا۔ ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے سے کچھ پوچھ سکیں گے۔ “ (101)

فہم القرآن ربط کلام : شیطان سے محفوظ رہنے کی دعا سکھلانے کے بعد اب پھر کلام کا رخ کفار کی طرف ہوتا ہے۔ منکرین حق سروردوعالم ﷺ سے باربار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے اس سے پہلے ان کے اس مطالبہ کا جواب دیا گیا بعد اب منکرین کو اس وقت کا احساس دلایا گیا ہے کہ جب ایسے لوگوں میں سے کسی کو موت آتی ہے تو وہ اپنے رب سے آرزو کرتا ہے کہ کاش مجھے دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے اور میں جو کچھ کرتا رہا اس کی بجائے نیک اعمال کروں گا۔ لیکن اس وقت اسے جواب دیا جاتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ وہ دل ہی دل میں روتا اور آہ وزاریاں کرتا ہے مگر اس کی آہ وزاریاں اور چیخ و پکار سوائے واویلا کی حیثیت نہیں ہوتی۔ مرنے والے کے لیے قیامت کے دن تک دنیا اور آخرت کے درمیان ایک پردہ حائل کردیا جاتا ہے۔ ان آیات میں حق کے منکر کی کیفیت ذکر کی گئی ہے قرآن مجید اور حدیث میں کافر، مشرک، منافق اور خدا کے نافرمان کی موت کے وقت جو اس کی کیفیت ہوتی ہے اس کی بہت سی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف ایک، دو احادیث پیش کی جاتی ہے۔ ” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم ﷺ کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے۔ قبرستان پہنچے تو ابھی قبر تیار نہیں ہوئی تھی۔ رسول کریم ﷺ بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے۔ آپ نے اپنا سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا جب دنیا کو چھوڑ کر کافر آخرت کی طرف جا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے آتے ہیں ان کے ہاتھ میں بدبودار بوری ہوتی ہے وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر اس کے پاس ملک الموت آتا ہے۔ وہ اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے۔ کہتا ہے اے خبیث نفس ! اللہ تعالیٰ کے غصہ اور غضب کے سامنے پیش ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا وہ اس کی روح کو اس طرح نکالتے ہیں جس طرح گرم سلائی کو روئی سے نکالا جاتا ہے۔ اس کی روح کو نکال کر جس بوری میں ڈالتے ہیں اس سے اتنی بدبو نکلتی ہے جس طرح مردہ لاش سے گندی بدبو زمین پر پھیلتی ہے۔ وہ اس کو لے کر آسمانوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ خبیث روح کون ہے ؟ موت کے فرشتے کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ہے برے ناموں سے اس کا ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچتے ہیں وہ اس کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا، پھر نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی :” ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل ہوجائے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے لیے زمین کی تہہ میں ٹھکانہ بناؤ۔ اس کی روح کو نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔ نبی معظم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی ” جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اسے پرندے اچک لیں یا اس کو ہوائیں کسی دور دراز مقام پر پھینک دیں۔ “ پھر اس روح کو اس کے بدن میں لوٹا دیا جاتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر فرشتے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے تو وہ کہتا ہے افسوس میں نہیں جانتا، پھر فرشتے کہتے ہیں کہ یہ شخص کون ہے جو تم لوگوں میں نبی مبعوث کیا گیا ؟ تو وہ کہتا ہے افسوس میں یہ بھی نہیں جانتا۔ آسمانوں سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ یہ کذّاب ہے۔ اس کا بچھونا آگ بنا دو اور آگ کا دروازہ اس کی طرف کھول دو ۔ اس کے پاس جہنم گرمی اور بدبو آتی ہے اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں اور اس کے پاس بدصورت گندے کپڑے اور بدبو دار جسم کے ساتھ آدمی آتا ہے وہ کہتا ہے آج خوش ہوجا تجھے ذلیل کیا جائے گا وہ کہتا ہے کہ تم اس طرح کی شکل والے کون ہو جو اتنی بری خبر کے ساتھ آئے ہو۔ وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں۔ کافر فریاد کرتا کہ اے میرے رب قیامت نہ قائم کرنا۔ “ [ رواہ احمد : مسند براء بن عازب ] (عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ قَالَتْ عَاءِشَۃُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِہٖ إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ قَالَ لَیْسَ ذَاکِ وَلٰکِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَان اللّٰہِ وَکَرَامَتِہِ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَأَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ وَأَحَبَّ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حُضِرَ بُشِّرَ بِعَذَاب اللّٰہِ وَعُقُوبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْءٌ أَکْرَہَ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ وَکَرِہَ اللّٰہُ لِقَاءَ ہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب، من أحب لقاء اللّٰہ أحَب اللّٰہ لقاء ہ ] ” حضرت عبادہ بن صامت ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ یا آپ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی نے کہا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا بات یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت ہوتا ہے تو اس کو اللہ کی رضامندی اور انعام و اکرام کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس بشارت کی وجہ سے موت اسے تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے اس وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔ یہ وعید اسے اپنے سامنے چیزوں سے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے اسی وجہ سے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کا نافرمان موت کے وقت دنیا میں پلٹ جانے کی آرزو کرتا ہے۔ 2۔ موت کے بعد کسی شخص کو دنیا میں پلٹ جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ 3۔ اللہ کے نافرمان کی آہ و بکا و واویلا کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کوئی ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتا : 1۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی کے کام نہیں آئے گا۔ ( البقرۃ : 254) 2۔ قیامت کے دن کوئی رشتہ دار کسی کو فائدہ نہیں دے گا۔ ( عبس : 34 تا 36) 3۔ قیامت کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا۔ (الدخان : 41، 42) 4۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : 19) 5۔ قیامت کے دن دوستی اور سفارش کام نہ آئے گی۔ (ابراہیم : 31) 6۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دیں گے۔ (یونس : 18) 7۔ معبودان باطل اپنے پیروکاروں کے کام نہیں آئیں گے۔ ( البقرۃ : 166) 8۔ اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (ہود : 20) 9۔ اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (العنکبوت : 22)
Ayahs 23:102–104

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

” جن کے اعمال والے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے۔ (102)

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے اعمال والے پلڑے ہلکے ہوں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (103)

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے چہروں کو جلادے گی اور ان کے چہرے بدشکل ہوجائیں گے۔ “ (104)

فہم القرآن ربط کلام : عالم برزخ کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ پہلے صور پھونکے جانے کے بعد نامعلوم لوگ کتنی مدت تک عالم برزخ میں رہیں گے جب اللہ تعالیٰ اسرافیل فرشتے کو دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دیں گے تو اس کے صور پھونکنے کے فوراً بعد لوگ برزخ سے عالم وجود میں آجائیں گے اور اس دن کوئی کسی کے ساتھ تعلق قائم نہیں کرسکے گا۔ حالت یہ ہوگی۔ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِیہِ ) [ عبس : 34] ” آدمی اس دن اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ “ اس حالت میں لوگوں کو معشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ پورے جمال اور جلال کے ساتھ جلوہ افروز ہوں گے اور اس کے بعد لوگوں کے اعمال نامے ان تک پہنچائیں جائیں گے ساتھ ہی ترازو رکھ دیا جائے گا۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا وہ کامیاب ٹھہرے گا اور جن کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا رہا وہ نقصان پائیں گے انہیں جہنم دھکیل دیا جائے گا جہنم کی آگ میں ان کے چہرے جھلسائے جائیں گے اور ان کی شکلیں بدل جائیں گی۔ (أَنَّ زِیَاداً مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ حَدَّثَہُمْ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُول اللَّہِ ﷺ جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّ لِی مَمْلُوکَیْنِ یُکَذِّبُونَنِی وَیَخُونُونَنِی وَیَعْصُونَنِی وَأَضْرِبُہُمْ وَأَسُبُّہُمْ فَکَیْفَ أَنَا مِنْہُمْ فَقَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ ﷺ بِحَسْبِ مَا خَانُوکَ وَعَصَوْکَ وَیُکَذِّبُونَکَ فإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ دُونَ ذُنُوبِہِمْ کَانَ فَضْلاً لَکَ عَلَیْہِمْ وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِہِمْ کَانَ کَفَافاً لاَ لَکَ وَلاَ عَلَیْکَ وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ فَوْقَ ذُنُوبِہِمُ اقْتُصَّ لَہُمْ مِنْکَ الْفَضْلُ الَّذِی بَقِیَ قِبَلَکَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَبْکِی بَیْنَ یَدَیْ رَسُول اللَّہِ ﷺ وَیَہْتِفُ فَقَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ مَا لَہُ مَا یَقْرَأُ کِتَاب اللَّہِ (وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئاً وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفَی بِنَا حَاسِبِینَ ) فَقَال الرَّجُلُ یَا رَسُول اللَّہِ مَا أَجِدُ شَیْئاً خَیْراً مِنْ فِرَاقِ ہَؤُلاَءِ یَعْنِی عَبِیدَہُ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّہُمْ أَحْرَارٌ کُلُّہُمْ ) [ رواہ احمد : مسند السیدۃ عائشۃ ] ” عبداللہ ؓ بن عیاش بن ابی ربیعہ کے غلام زیاد نے انہیں حدیث بیان کی اس آدمی سے جس نے اسے نبی ﷺ سے بیان کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی آپ کے سامنے عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے دو غلام ہیں جو میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں میں انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں یہ میرا معاملہ کیسا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس قدر تیری خیانت، تیری نافرمانی اور تیرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اگر تیری ڈانٹ ڈپٹ ان کے غلطیوں سے کم تر ہوئی تو تجھے اجر عطا کیا جائے گا اور اگر برابرہوئی تو معاملہ یکساں ہے اور اگر ڈانٹ ان کی خطاؤں سے بڑھ کر ہوئی تو تیری نیکیوں میں کمی کی جائے گی یہ سن کر وہ شخص آپ ﷺ کے سامنے رویا اور آہ وزاری کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھتا کہ قیامت کے دن ہم عدل و انصاف کا ترازو قائم کریں گے اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اگر نیکی اور برائی ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ہوئی ہم اسے بھی لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب لینے والے۔ وہ آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اس سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا کہ ان غلاموں کو آزاد کر دوں اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے انہیں آزاد کردیا۔ “ مسائل 1۔ جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوا اسے جنت میں داخل کیا جائے گا جس کا برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا اسے جہنم دھکیل دیا جائے گا۔ 2۔ جہنم میں مجرموں کے چہرے جھلس جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کی سزا کا ہلکا سا منظر : 1۔ جہنمیوں کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزادی جائے۔ (النساء : 56) 2۔ جہنمیوں کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (ہمزہ : 90) 3۔ جہنمی گرم ہوا کی لپیٹ میں اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ (الواقعۃ : 42) 4۔ جہنمیوں کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16)