Ayahs 23:29–30فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق سلسلہ کلام جاری ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر بیٹھنے اور اس سے اترنے کی دعا سکھلائی گئی چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ مسلسل دعا کرتے رہے ” اے میرے رب مجھے بابرکت انداز میں زمین پر اتارنا تو ہی بہتر انداز میں اتارنے والا ہے “
اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نصیحت کے اسباق ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ ہم لوگوں کو آزماتے ہیں۔ ایمانداروں کو اللہ تعالیٰ عام طور پر مشکلات اور مصائب کے ذریعے آزماتا ہے اور ظالموں کو وسائل اور مہلت دے کر آزماتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو زمین پر اترنے کے لیے جو دعا سکھلائی گئی اس میں ” مُنَزَّلاً مُّبَارَکاً “ کے الفاظ آئے ہیں جن سے مراد خیروعافیت کیساتھ اترنا اور کسی کی بہتر انداز میں مہمان نوازی کرنا ہے۔
مؤرخین اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سیلاب چالیس دن تک رہا جس کی کیفیت یہ تھی کہ پانی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی سے بھی بیس فٹ اونچا بہتا رہا۔ علاقہ میں کوئی چیز زندہ نہ بچی گویا کہ زمین کو اچھی طرح شرک و کفر کی غلاظت سے دھودیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم صادر فرمایا کہ : اے زمین پانی کو جذب کرلے اور آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جاؤ اس طرح ظالم قوم کا صفایا ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی۔ جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرۂ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب واقع ہے۔ بائبل میں اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ ارا ط بتائی گئی ہے جو آرمینیا کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو ایک سلسلہ کوہستان کا نام بھی ہے۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھہرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے۔ چناچہ حضرت مسیح سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بریاسس (Berasus) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی تاریخ لکھی ہے اس میں وہ کشتی نوح کے ٹھہرنے کا مقام جودی ہی بتاتا ہے۔ ارسطو کا شاگرد ابیڈینوس (Abydenus) بھی اپنی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے۔ نیز وہ اپنے زمانہ کا حال بیان کرتا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگوں کے پاس اس کشتی کے ٹکڑے محفوظ ہیں جنہیں وہ گھول گھول کر بیماروں کو پلاتے ہیں۔
یہ طوفان، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا (پیدائش 7: 18۔ 24) مگر قرآن میں یہ بات نہیں کہی گئی۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں۔ جو طوفان نوح سے بچا لیے گئے تھے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت تک بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود ہو جہاں طوفان آیا تھا، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ دجلہ و فرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے۔ دوسری یہ کہ روئے زمین کی اکثر و بیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں۔ حتی کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیو گنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباء و اجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ پھیل گئیں۔ (تفہیم القرآن، ج : 2) واللہ اعلم !
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر بیٹھنے اور اترنے کی دعا سکھلائی گئی۔
2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات میں نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت کے اسباق ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نیک اور برے لوگوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے آزمانے کے مختلف طریقے :
1۔ جنت میں داخلہ کے لیے آزمائش شرط ہے۔ (العنکبوت : 2) 2۔ پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا۔ (العنکبوت : 3)
3۔ ڈر سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 4۔ فاقوں سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155)
5۔ مال و جان کی کمی کے ساتھ آزمائش۔ (البقرۃ : 155)
6۔ اللہ نے موت وحیات کو انسان کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ (الملک : 2)
7۔ اللہ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ ( الانعام : 166)
8۔ مال واولاد انسان کے لیے آزمائش ہے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15)
Ayahs 23:31–32فہم القرآن
ربط کلام : قوم نوح کی بربادی کے بعد دوسری قوم کا تذکرہ اور کردار :۔
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کو غرقاب کرنے کے بعدبچنے والے لوگوں کو بڑی افزائش سے سرفراز فرمایا جس کے نتیجہ میں ایک دفعہ پھر طوفان نوح کے علاقہ میں آبادی کی کثرت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان میں ایک رسول بھیجا جس نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس پیغمبر نے لوگوں کو باربار یہ بات سمجھائی کہ اے لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ایسا کرنے کے لیے تیار ہو ؟ لیکن قوم نے اللہ تعالیٰ کو صرف ایک الٰہ ماننے سے انکار کیا۔ وقت کے پیغمبر نے انہیں بہت سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے باز آؤ اور صرف ایک اللہ کی کی عبادت کرو مگر قوم نے اپنے رسول کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ پہلی آیت میں ” قَرْنَ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے تین معنٰی لیے گئے ہیں 1 سو سال کا عرصہ 2 ایک نسل 3 کسی قوم کا ایک پورا دور۔ یہاں رسول کا نام نہیں بتلایا گیا لیکن مفسرین کا اندازہ ہے کہ اس سے مراد حضرت ھود (علیہ السلام) ہیں۔
عقیدۂ توحید اور عبادت کی اہمیّت :
(عَنْ مُعَاذٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ النَّبِیِّ ﷺ عَلَی حِمَارٍ یُقَالُ لَہُ عُفَیْرٌ، فَقَالَ یَا مُعَاذُ ، ہَلْ تَدْرِی حَقَّ اللّٰہِ عَلَی عِبَادِہِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ قُلْتُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوہُ وَلاَ یُشْرِکُوا بِہِ شَیْءًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ أَنْ لاَ یُعَذِّبَ مَنْ لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ، أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِہِ النَّاسَ قَالَ لاَ تُبَشِّرْہُمْ فَیَتَّکِلُوا) [ رواہ البخاری : باب اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ ]
” حضرت معاذ فرماتے ہیں میں رسول محترم ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان صرف پلان کی لکڑی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندے پر کیا حق ہے اور بندوں کے اللہ تعالیٰ پر کیا حقوق ہیں ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد ہوا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے جب تک وہ شرک نہیں کرتے وہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ خوشی کی بات میں لوگوں تک نہ پہنچاؤں ؟ فرمایا کہ نہیں اس طرح وہ محنت کرنا چھوڑ دیں گے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّہِ نِدًّا وَّہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ إِنَّ ذٰلِکَ لَعَظِیْمٌ، قُلْتُ ثُمَّ أَیُّ قَالَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ تَخَافُ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیُّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ حَلِیْلَۃَ جَارِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر باب قَوْلُہُ تَعَالَی (فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَّأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے آپ نے فرمایا تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑا ہے۔ اس کے بعد کونسا ہے آپ نے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے ہمسایہ کی بیوی سے بدکاری کرے۔ “
مسائل
1۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی خالص بندگی کرنے کی تلقین کی۔
2۔ قوم ھودنے اللہ تعالیٰ کی خالص بندگی کرنے سے انکار کردیا۔
تفسیر بالقرآن
تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) نے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا :
1۔ آپ ﷺ کو حکم کہ آپ فرما دیں کہ میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ (یونس : 104)
2۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (الرعد : 36) 3۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : 2)
4۔ اے لوگو اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ (البقرۃ : 21) 5۔ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : 40)
6۔ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شریک نہ بناؤ (النساء : 36)
7۔ حضرت نوح، ہود، صالح اور شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا۔ (ہود : 25۔ 50۔ 61۔ 84)
8۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (بنی اسرائیل : 23)
Ayahs 23:33–34فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کا ردّ عمل :
جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے نمائندوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا یا اور ان پر الزامات لگائے یہی وطیرہ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کے لیڈروں نے ان کے ساتھ اختیار کیا۔ کیونکہ لیڈر حضرات دنیوی نفع و نقصان کے حوالے سے زیادہ شعور رکھتے ہیں اور وہی مفادات اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں اس لیے دعوت توحید کی مخالفت میں دنیا پرست مذہبی پیشوا اور لیڈر مخالفت میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور صالح قیادت سے لوگوں کو متنفر کرتے ہیں ان کی مخالفانہ تحریک کے پیچھے دو باتیں کار فرما ہوتی ہیں۔ آخرت کا انکار اور دنیا کے وسائل پر اترانا۔ اسی وجہ سے وہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو ایک انسان سے بڑھ کر کوئی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اسی بناء پر حضرت ھود (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات کہی گئی کہ لوگو ! اس شخص کے پیچھے نہ لگنا کیونکہ یہ تمہارے جیسا انسان ہے۔ جو تم کھاتے، پیتے ہو اس طرح ہی یہ کھانے پینے کا محتاج ہے۔ اگر تم اپنے جیسے انسان کے پیچھے لگ گئے تو بھاری نقصان پاؤگے۔ نقصان سے ان کی مراد یہ تھی کہ یہ شخص جس دین میں تمہیں لانا چاہتا ہے اس پر عمل کرنے سے تمہاری ترقی رک جائے گی اور تم دنیا کے معاملات میں دوسرے لوگوں سے پیچھے رہ جاؤ گے۔ گویا کہ قوم کو دنیا کی ترقی کا جھانسہ دے کر دین سے دور رکھا گیا اور یہی شروع سے دنیادار لیڈروں کا ہتھ کنڈا رہا ہے جہاں تک پیغمبر کے کھانے پینے کا تعلق اور انسان ہونے کا معاملہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر انسان ہوتا ہے اور اسے بھی بحیثیت انسان وہی حاجات در پیش ہوتی ہیں جن کی ہر انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔
جہاں تک دنیا پر اترانے کا معاملہ ہے۔ قرآن مجید میں جن قوموں کی تباہی کا ذکر ہوا ہے ان میں اکثر اقوام دنیوی ترقی کے لحاظ سے بہت آگے تھیں یہ ترقی ہی ان کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
(وَ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَافَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ بَعْدِھِمْ اِلَّا قَلِیْلًا وَ کُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْن) [ القصص : 58]
” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اتر آیا کرتے تھے سو دیکھ لو وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے آخر کار ہم ہی وارث ہیں۔ “
(وَکَاَیِّنْ مِنْ قَرْیَۃٍ ہِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْ اَخْرَجَتْکَ اَہْلَکْنَاہُمْ فَلاَ نَاصِرَ لَہُمْ ) [ محمد : 13]
” اور کتنی ہی بستیاں تھیں جو آپ کی اس بستی سے بڑھ کر طاقتور تھیں، جن ( کے رہنے والوں) نے آپ کو نکال دیا ہے۔ ہم نے انہیں ہلاک کیا تو ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوا۔ “
مسائل
1۔ ہر پیغمبر کی مخالفت سب سے پہلے دنیادار لیڈر ہی کرتے ہیں۔ 2۔ سرمایہ دار طبقہ کی اکثریت دعوت حق کی مخالفت کیا کرتی ہے۔
3۔ دنیادار لیڈر دنیا کی ترقی کے حوالے سے قوم کو دین سے گمراہ کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
انبیائے کرام (علیہ السلام) انسان اور بشرہی ہوا کرتے تھے :
1۔ رسول انسان ہوتے ہیں۔ (ابراہیم : 11) 2۔ رسول اللہ ﷺ بشر اور عبد ہیں۔ (الکہف : 110)
3۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم میں انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : 4)
4۔ اللہ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : 109)
5۔ اللہ نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : 43)
6۔ انبیاء اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11)
Ayahs 23:35–38فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کو جھٹلانے والے لوگوں کی فرسودہ دلیل :
قیامت کا انکار کرنے والے ہمیشہ سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ جب انسان کا جسم گل سڑ جائے گا تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جاسکتا ہے ؟ یہی بےہودہ اور فرسودہ دلیل حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم اور اس کے سردار دیا کرتے تھے۔ لیڈر اپنی قوم کو پھسلانے اور ورغلانے کے لیے کہتے تھے کہ ھود (علیہ السلام) تمہیں مرنے کے بعد زندہ ہونے کا وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مرکھپ جاؤ گے اور تمہاری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی بن جائیں گی۔ اس کے باوجود ” اللہ “ تمہیں زندہ کرے گا۔ ھود کی یہ بات عقل کے خلاف اور بعید از قیاس ہے۔ دنیا میں مرنا جینا تو رہتا ہے لیکن ہم دوبارہ کبھی نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ شخص قیامت کا نام لے کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے۔ اس لیے ہم اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انسان پر جب دنیا کی محبت غالب آجاتی ہے تو اس کا موت کے تصور سے ہی دل کانپتا ہے۔ اگر دل ایمان کی دولت سے خالی ہو تو کھلے بندوں قیامت کا انکار کرتا ہے۔ اس کا یہ خیال عقیدہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جس بنا پر وہ کہتا ہے کہ ہزاروں سال گزر چکے آج تک قیامت نہیں آئی اور نہ کسی نے دوبارہ زندہ ہو کر آخرت کے بارے میں کچھ بتلایا ہے۔ اس باطل عقیدہ کی وجہ سے لوگ اس قدر دلیر ہوئے کہ انہوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو جھوٹا قرار دیا اور یہی عقیدہ اہل مکہ کا تھا۔ جن کے لیے سورة یسٓ میں یہ دلیل دی گئی ہے۔
” انسان ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائینگی تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟۔ فرمائیں کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر چیز کو پیدا کرنا جانتا ہے۔ وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کی۔ تم اس سے آگ نکالتے ہو۔ بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو پھر ویسے ہی پیدا کر دے۔ کیوں نہیں وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور ہر بات کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ چیز ہوجاتی ہے۔ وہ پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔ (یٰس : 78 تا 83)
(قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُ وْسَھُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھُوَ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا) [ بنی اسرائیل : 50۔ 51]
’ فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ وہ آپ کے سامنے اپنے سر ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا ؟ فرمادیں امید ہے عنقریب ہوگا۔ “
مسائل
1۔ دنیادار لیڈر اور مذہبی پیشوا ہمیشہ سے قیامت کا انکار کرتے آرہے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قیامت قائم ہونے کے ثبوت :
1۔ قیامت قریب ہے۔ (الحج : 1) 2۔ قیامت اچانک آجائے گی۔ ( یوسف : 107)
3۔ قیامت پل بھر میں واقع ہوجائے گی۔ ( النحل : 77)
4۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ( الکہف : 21)
5۔ جس نے قیامت کو جھٹلایا ہم نے اس کے لیے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ( الفرقان : 11)
6۔ تمہارے لیے قیامت کا دن مقرر ہے۔ اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ ( سبا : 30)
Ayahs 23:39–41فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مظالم پر حضرت ھود (علیہ السلام) کی اپنے رب سے مدد طلب کرنا :۔
حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم کے مظالم سے تنگ آکر اپنے رب کے حضور یہ کہہ کر مدد کی درخواست کی کہ میرے رب مجھے میری قوم نے جھٹلا دیا ہے اس لیے میری مدد فرما۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عنقریب تیری قوم کے لوگ پچھتائیں گے اور پھر یہی ہوا کہ ان کو ایک دھماکہ خیز چٹخارے نے آلیا۔ جس نے انہیں خس و خاشاک کی طرح ریزہ ریزہ کر ڈالا۔ اس طرح اس قوم پر اللہ کی پھٹکار ہوئی۔ یہ لوگجسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر مضبوط اور خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے۔ انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو بھی کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام، کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔
قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم :
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : 69)
2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 )
3۔ انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : 133)
4۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ زراعت اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133)
5۔ انھوں نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے اپنی حاجات و مشکلات پیش کرتے تھے۔ (الاعراف : 70)
6۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے والے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : 33)
7۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا کوئی اور جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : 37)
8۔ یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰآالسجدۃ : 15)
حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے بارے میں مزید معلومات جاننے کے لیے سورة الاعراف کی آیت 65 تا 71 کی آیات کی تفسیر دیکھیں۔
مسائل
1۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنے رب سے مدد طلب کی اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ھود پر پھٹکار کی۔
3۔ قوم ھود کو ایک دھماکہ خیز چیخ نے خس و خاشاک کردیا۔
تفسیر بالقرآن
قوم ھود پر عذاب کی کیفیت :
1۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (حضرت ہود) ۔ (المومنون : 39)
2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : 7)
3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24)
4۔ آندھی نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : 7)
5۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 42)
6۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ (حٰم السجدۃ : 16)
7۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72)
8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : 58)
Ayahs 23:42–44فہم القرآن
ربط کلام : قوم ھود کے بعد دوسری قوم کا معرض وجود میں آنا اور پنپنا :۔
اللہ تعالیٰ نے قوم ھود کے بعد ایک مدّت تک لوگوں کو پنپنے کا موقعہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف پے درپے کئی رسول بھیجے لیکن جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو انہوں نے اس کی تکذیب کی۔ اس طرح ایک قوم دوسری قوم کے پیچھے چلتی رہی پھر اس پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوئی اور اس پر عذاب نازل ہوا ان کی یاد قصہ کہانیوں کے سوا کچھ نہ رہی۔ کیونکہ یہ اپنے رب پر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ایک فیصلہ کر رکھا ہے جب فیصلے کا وقت آتا ہے تو وہ لوگ نہ اس وقت سے آگے نکل سکتے ہیں اور نہ پیچھے رہ سکتے ہیں ان کے لیے (وَجَعَلْنَاہُمْ اَحَادِیْثَ ) قصہ کہانیوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی یہ ہے کہ انہیں کوئی بھی اچھے الفاظ اور پائیدار کردار کے حوالے سے یاد رکھنے والا نہیں ہے۔
مسائل
1۔ بعض اقوام نے پے درپے انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلایا جس کی پاداش میں انہیں نسیاً منسیاً کردیا گیا۔
2۔ جس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا انہیں کوئی بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ایک وقت مقرر ہے اس کے آنے پر کوئی فرد اور قوم آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 23:45–48فہم القرآن
ربط کلام : پے درپے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو بیک وقت رسول مبعوث کیا گیا :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد مختلف اقوام کی طرف پے درپے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے تاآنکہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بیک وقت عظیم معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ بھیجا گیا۔ جب دونوں بھائی فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے پاس پہنچے تو انہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ مگر فرعون اور اس کے وزیروں اور مشیروں نے بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جن کی سرشت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ بڑے ہی سرکش اور متکبر لوگ تھے۔ جس طرح فرعون اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کہتا تھا اسی طرح ہی اس کے وزیر مشیر اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے اعلیٰ سمجھتے تھے۔ خاص طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے بارے میں ان کی سوچ اور کردار یہ تھا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو صدیوں سے غلام بنا رکھا تھا۔ اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ غلام قوم کے نمائندوں پر ہم کیونکر ایمان لائیں اس بناء پر انہوں نے پراپیگنڈہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ہمارے جیسے انسان ہیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوئے۔
(وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ )[ رواہ مسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ ]
” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا ‘ وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ بیشک ہر شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی خوب صورت ہے اور خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر حق بات کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور واضح دلائل دے کر بھیجا۔
2۔ فرعون اور اس کے وزیر مشیر اپنے آپ کو برا سمجھتے تھے۔
3۔ فرعون اور اس کے حواریوں کو حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
فرعون اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت کا ایک منظر :
1۔ فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی میں مبتلا کیا۔ (الاعراف : 130)
2۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لاؤلشکر کو غر ق کردیا۔ ( البقرۃ : 50)
3۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کی گناہوں کی پاداش میں پکڑ فرمائی۔ (آل عمران : 11)
4۔ ہم نے انہیں انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ( الانفال : 54)
5۔ قیامت کے دن آ لِ فرعون کو برے عذاب سے دو چار کیا جائے گا۔ (المومن : 45)
6۔ آل فرعون کو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (المومن : 46)
7۔ آسمان و زمین میں کوئی ان پر رونے والا نہیں تھا اور نہ وہ مہلت دئیے گئے۔ (الدخان : 29)
8۔ ہم نے (قارون) کو خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اس کا کوئی حامی اسے نہ بچاسکا۔ (القصص : 79)
Ayahs 23:49–50فہم القرآن
ربط کلام : یہاں مختصر طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی شخصیات کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ناصرف معجزات دے کر بھیجا بلکہ انہیں تورات بھی عنایت کی گئی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اس لیے عنایت فرمائی تاکہ اپنی قوم کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر تورات کی تعلیمات کے ذریعے یعنی نورہدایت کی طرف لائیں (ابراہیم : 5) جس کی مختصر تشریح یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چالیس راتیں طور پر اعتکاف کرنے کے لیے بلایا اور پھر انہیں لکھی ہوئی تختیوں کی شکل میں تورات عنایت فرمائی اور حکم دیا اے موسیٰ (علیہ السلام) پوری قوت کے ساتھ تورات کے ساتھ وابستہ ہوجاؤ اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ تورات کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھیں یعنی وہ اس پر دل وجان سے عمل کریں۔ (الاعراف : 142، 145) اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کو دیے جانے والے معجزات کو اپنی نشانیاں اور کھلی دلیل قرار دیا ہے۔ اسی طرح ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی والدہ کو اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا تفصیلی تذکرہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے یہاں صرف چند الفاظ میں عیسیٰ کی پیدائش کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب حضرت مریم [ پر زچگی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں القاء فرمایا کہ آپ مسجد اقصیٰ کے حجرہ سے نکل کر بلندجگہ پر پہنچ جائیں۔ وہاں آپ کو پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا چشمہ اور ہر قسم کا آرام میسر آئے گا یہاں اونچی جگہ اور جاری چشموں کا ذکر ہے سورة مریم میں کھجور کے درخت کا بھی ذکر کیا ہے۔ حضرت مریم [ کو یہ بھی حکم ہوا کہ ٹھنڈا پانی پینے کے ساتھ کھجور کے درخت کی تازہ کھجور بھی تناول کرو (مریم : 26) حضرت مریم [ عیسٰی (علیہ السلام) کی تولیدگی کے وقت اونچی جگہ پر خلوت نشین ہوگئی تھیں۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو کچھ دنوں کے بعد اپنی برادری میں واپس تشریف لائیں جس کی تفصیل سورة مریم آیت 19 تا 34 میں ملاحظہ فرمائیں۔
ربوہ کا لفظی معنٰی ہے اونچی اور زرخیز جگہ۔ مرزائیوں نے اسی بناء پر اپنے صدر مقام کا نام ربوہ رکھا ہے تاکہ مرزا کے بارے میں لوگوں کو مسیح موعود ہونے کا مغالطہ دیاجائے۔ جھوٹ ثابت کرنے کے لیے انہوں نے کشمیر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کا ثبوت بھی پیش کیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کشمیر میں تشریف آوری کسی مذہبی اور تاریخی کتاب سے ثابت نہیں۔
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی گئی تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کریں۔
2۔ حضرت مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں۔
3۔ زچگی کے وقت حضرت مریم [ کو بلند جگہ اور ٹھنڈے چشمے کے قریب جانے کا حکم ہوا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ملنے والے معجزات :
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاھد، عکرمہ، شعبی اور قتادہ کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی جانے والی نشانیاں یہ تھیں۔ 1۔ یدِبیضاء، 2۔ عصا، 3۔ قحط سالی، 4۔ پھلوں کی کمی، 5۔ طوفان، 6۔ ٹڈی دل، 7۔ جوئیں کھٹمل، 8۔ مینڈک اور 9۔ خون کے عذاب۔ “ [ ابن کثیر ]
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں حقائق :
1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا۔ (آل عمران : 47)
2۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن اور بڑھاپے میں کلام کرنا۔ (آل عمران : 46)
3۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مٹی سے پرندہ بنانا۔ (المائدۃ : 110)
4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ماد رزاداندھے اور کوڑھی کو درست کرنا۔ (آل عمران : 49)
5۔ لوگوں کی ذخیرہ شدہ اشیاء کی خبردینا۔ (آل عمران : 49)
6۔ باذن اللہ مردوں کو زندہ کرنا۔ (المائدۃ : 110)
7۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نہ قتل کیے گئے نہ سولی پر لٹکا دے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر اٹھا لیا۔ ( النساء : 157)
8۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا روح اور جسم سمیت آسمانوں پر اٹھایا جانا۔ (آل عمران : 55)
Ayahs 23:51–52فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا اور کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا نام لیے بغیر ان کی امتوں کے کردار اور انجام کی طرف اشارات کیے گئے۔ ان سب کے لیے جو بنیادی احکام تھے ان کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایک جماعت ہونے کی بناء پر ایک ہی تعلیم دی تھی جس کا خلاصہ تین احکام میں ذکر کیا ہے 1 حلال اور طیب کھاؤ۔ 2 نیک اعمال کرتے رہے۔ 3 سب کا ایک ہی رب ہے اسی سے ڈرتے رہو۔ وہ تمہارے اعمال کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔
یہاں اعمال کی قبولیت کے لیے تین شرائط ذکر کی گئی ہیں۔
پاک اور حلال رزق کا اہتمام کیا جائے جو شخص حلال اور طیب روزی کا خیال رکھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ صالح اعمال کرنے کی توفیق بخشتا ہے۔ صالح اعمال اس وقت قبول ہوتے ہیں جب ایک رب پر ایمان لایا جائے اور اس سے ڈرتے ہوئے شرک و بدعت اور برے اعمال سے بچا جائے۔
(عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَاِنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَبِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ ” یَا اَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صالِحًا “ [ پ 18۔ رکوع 3] وَقَالَ یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اِغْبَرَ یَمُدُّیَدَیْہِ اِلٰی السَّمَاءِ یَارَبِّ وَمَطَعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ) [ رواہ مسلم : باب کسب الحلال والطیب وتربیتہا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ بیشک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان باتوں کا حکم دیا ہے جن باتوں کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” میرے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور صالح عمل کرو۔ “ اے ایمان والو ! جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ “ پھر آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر طے کرتا ہے پراگندہ بال ہے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے دعا کرتا ہے۔ یارب ! یارب ! جب کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام ‘ اس کا لباس حرام اور حرام غذا سے اس کی نشوونما ہوئی اس صورت میں اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟۔ “
آپ کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ حرام خور انسان دعا کی قبولیت کا استحقاق کھو بیٹھتا ہے۔
مسائل
1۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو حلال اور طیب روزی کھانے کا حکم تھا۔
2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو صالح اعمال کرنے کا حکم دیا گیا۔
3۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) ایک ہی جماعت اور ایک ہی دین کے داعی تھے۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل سے اچھی واقف ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے :
1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ خاص مجھ ہی سے ڈر و۔ (البقرۃ : 41)
2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مندو۔ (الطلاق : 10)
3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مند و تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 100)
4۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صاف گوئی اختیار کرو۔ (الاحزاب : 70)
5۔ اے لوگو اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے۔ (النساء : 1)
6۔ اے مومن بندو ! اپنے پروردگار سے ڈرو۔ (الاحزاب : 70)
7۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ (المائدۃ : 57)
8۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ان میں صلح کروادو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الحجرات : 10)
9۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : 102)
10۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے سامنے تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (المائدۃ : 96)
Ayahs 23:53–54فہم القرآن
ربط کلام : تمام انبیاء (علیہ السلام) کی ایک ہی دعوت تھی کہ اپنے رب کی نافرمانی سے بچو۔
تمام انبیاء ( علیہ السلام) رشتہ نبوت کے حوالے سے ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور سب کے سب اپنے رب کی طرف بلانے والے تھے۔ ہر نبی اپنے زمانے میں لوگوں کو صرف اپنے رب کی طرف بلاتا تھا۔ لیکن انبیاء کرام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ان کے علمی اور روحانی ورثاء نے ذاتی اور گروہی مفادات کی وجہ سے نہ صرف ان کی امتوں کو پارہ پارہ کیا بلکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کے لائے ہوئے دین اور شریعت کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ انبیاء کے بعد ان کی امتوں کے علماء کے فتوے ٰ اور ان کی فقہ ہی اصل دین قرار پائی۔ علماء نے اپنی اپنی سوچ اور فقہ کو دین قرار دیا اور اس کے ماننے والے اپنے اپنے گروہ اور فقہ پر فخر کرنے لگے جن کے بارے میں سروردوعالم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیں تاآنکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آپہنچے۔ دوسرے مقام میں ارشاد فرمایا ہے کہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ اے نبی آپ کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش ہوگا وہ انہیں بتلائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ [ الانعام : 159]
یاد رہے کہ دین میں فرقہ واریت اور گروہ بندی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی مسئلہ میں غلوّ کیا جائے یا اس میں اپنی طرف سے رخصت نکالی جائے۔ جب کسی عالم کی یہ سوچ اور کردار ہوجائے تو پھر فرقہ واریت معرض وجود میں آتی ہے۔ فرقہ واریت میں جو بات سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے وہ کسی عالم یا امام کی سوچ پر حد سے زیادہ اعتماد اور اس پر فخر کرنا ہے۔ اسی بنیاد پر پہلی امتیں گروہ بندی کا شکار ہوئیں اور اسی وجہ سے امت محمدیہ میں انتشار اور گروہ بندی پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو قرآن وسنت کی دعوت دی جائے۔ اسے تسلیم کرنا تو درکنار ایسے لوگ اپنی فقہ پر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
( عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَیَأْتِیَنَّ عَلٰی أُمَّتِی مَا أَتَی عَلٰی بَنِی إِسْرَاءِیلَ حَذْوَ النَّعْلِ بالنَّعْلِ حَتّٰی إِنْ کَانَ مِنْہُمْ مَنْ أَتٰی أُمَّہُ عَلَانِیَۃً لَکَانَ فِی أُمَّتِی مَنْ یَصْنَعُ ذَلِکَ وَإِنَّ بَنِی إِسْرَاءِیلَ تَفَرَّقَتْ عَلَی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِی عَلٰی ثَلَاثٍ وَسَبْعِینَ مِلَّۃً کُلُّہُمْ فِی النَّارِ إِلَّا مِلَّۃً وَاحِدَۃً قَالُوا وَمَنْ ہِیَ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی افتراق ہذہ الامۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسا وقت ضرور آئے گا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ بالکل اس طرح مل جائے گی جس طرح جو تا ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا ضرور ہوگا۔ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی جبکہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کون سا گروہ ہے ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کرام ؓ کے طریقے پر عمل کرنے والا ہوگا۔
مسائل
1۔ لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
2۔ ہر کوئی اپنی فقہ اور گروہ پر فخر کرتا ہے۔
3۔ جو لوگ دین میں گروہ بندی کرتے ہیں انہیں چھوڑ دینا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اختلاف اور فرقہ پرستی کے نقصانات :
1۔ دین پر قائم رہو جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ (الشوریٰ : 13)
2۔ کئی راستوں کی اتباع نہ کرنا وہ تمہیں سیدھے راستہ سے گمراہ کردیں گے۔ (آل عمران : 153)
3۔ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو جدا جدا ہوگئے اور انہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ (آل عمران : 105)
4۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ (آل عمران : 103)
5۔ دین میں تفرقہ ڈالنے والوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ (الانعام : 159)
6۔ مشرکین سے نہ ہوجاؤ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور کئی فرقے بن گئے۔ (الروم : 32)
Ayahs 23:55–56فہم القرآن
ربط کلام : دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ایک سبب دنیوی مفاد ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کا ملت کو تقسیم کرنے کا ایک مقصد مال کی ہوس بھی ہے۔ یہ مال امت کو تقسیم کرنے یا دین کو نقصان پہنچانے سے حاصل ہوا ہو۔ یا اللہ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہو۔ بہرحال قوموں کے سنوار اور بگاڑ میں مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ راہ راست سے ہٹ جائیں تو دین کو اتحاد کی بجائے گروہ بندی، اخلاص کی بجائے آمدن کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مال اور اولاد میں بڑھائے دیتا ہے وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے جس کی وجہ سے ہمیں مال اور افرادی قوت سے نوازا جا رہا ہے ایسے لوگوں کو سوالیہ انداز میں متنبہ کیا گیا ہے کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جو انہیں مال اور اولاد سے نوازا گیا ہے یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ؟
ایسا ہرگز نہیں یہ مہلت اور اسباب خیر کے طور پر دیے جانے کی بجائے آزمائش کے طور پر دیے گئے ہیں جس کی حقیقت سے یہ بیخبر ہیں۔ قرآن مجید نے دوسرے مقام پر اس بات کو یوں بیان کیا ہے کفار یہ گمان نہ کریں انہیں جو ہم مہلت دیتے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے ہم انہیں اس لیے مہلت دیے ہوئے ہیں تاکہ وہ اور زیادہ سے زیادہ گناہ کرلیں ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے۔ (آل عمران : 178)
” جو لوگ ناکردہ نیکیوں کی تعریف چاہتے ہیں ان کے بارے میں یہ خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے بچ جائینگے ہرگز نہیں انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ “ (آل عمران : 188)
مسائل
1۔ کفار کے لیے مال اور اولاد گناہ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
2۔ بعض لوگوں کو مال و دولت خیر کی بجائے برے انجام کے لیے دیا جاتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے نافرمان حقیقی شعور سے تہی دامن ہوتے ہیں۔
Ayahs 23:57–61فہم القرآن
ربط کلام : آخرت سے غافل لوگوں کے مقابلے میں فکر آخرت رکھنے والے لوگوں کے اوصاف۔
اس جہان رنگ و بو میں کردار کے اعتبار سے دو قسم کے انسان ہوا کرتے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے رب سے بےخوف ہو کر زندگی گزارتے ہیں دوسرے وہ ہیں جو قدم قدم پر سوچتے ہیں اور ہر وقت اپنے رب سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کیونکہ ان کا اپنے رب کی ذات اور اس کے ارشادات پر پوری طرح ایمان ہوتا ہے اور وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ جب وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو ان کے دل فخرو غرور اور نمودونمائش سے بچتے اور ڈرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ہم نے ہر صورت اپنے رب کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا ہے یہی لوگ ہیں جو نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ یہاں خشیت الٰہی اور ایمان کا ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے کیونکہ شرک کے پیچھے غیر اللہ پر بھروسہ کرنے کا عقیدہ کارفرما ہوتا ہے اس وجہ سے مشرک کو جس طرح اپنے رب سے ڈرنا اور اس پر ایمان لانا چاہیے۔ نہ وہ اپنے رب پر پوری طرح ایمان رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں کما حقہ خوف خدا ہوتا ہے جب یہ باتیں مفقود ہوجائیں تو انسان رضائے الٰہی کی خاطر نیکی کے کاموں میں مستعد نہیں رہتا۔ کیونکہ اپنے رب سے بےخوفی کی وجہ سے اس کا دل نیکی میں رغبت نہیں پاتا۔ ایسا آدمی جب کچھ خرچ کرتا ہے تو عام طور پر اس کے دل میں فخر و غرور ہوتا ہے۔
خشیت الٰہی کا عظیم فائدہ :
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ مَالاً فَقَالَ لِبَنِیْہِ لَمَّا حُضِرَ أَیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّیْ لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ ، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُوْنِیْ ثُمَّ اسْحَقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّونِیْ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوْا، فَجَمَعَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہٖ )
[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ]
” حضرت ابو سعید ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مال کی فراوانی عطا کی تھی۔ جب اس کا آخری وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ہوں ؟ انہوں نے کہا بہترین ! اس نے کہا کہ میں نے کبھی نیک عمل نہیں کیا۔ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا کر میری راکھ ہواؤں میں اڑا دینا انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ زندہ کر کے دریافت فرمایا کہ تجھے ایسا کرنے پر کس بات نے ابھارا تھا ؟ وہ کہنے لگا آپ کے ڈر نے ! اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت میں لے لیا۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے نیک بندے ہمیشہ اپنے رب سے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔
2۔ نیک لوگ اپنے رب پر دل کی سچائی اور عمل کی گواہی کے ساتھ ایمان لاتے ہیں۔
3۔ نیک لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی حوالے سے شرک نہیں کرتے۔
4۔ صدقہ و خیرات کرتے وقت نیک لوگوں کے دل لرزاں رہتے ہیں۔
5۔ نیک لوگ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے والے ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
نیکی کے کاموں میں سبقت کرنا چاہیے :
1۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کی کوشش میں سبقت کرو۔ (الحدید : 21) 2۔ نیکی کے حصول میں سبقت کرو۔ (البقرۃ : 148)
3۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فاطر : 32)
4۔ سبقت کرنے والے اللہ کے مقرب ہوں گے۔ (الواقعہ : 10، 11)
Ayah 23:62فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے کی ترغیب اور حکم دیا ہے لیکن کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے کا حکم دیا ہے ایک دوسرے سے سبقت کرنے میں مشقت کا پہلو محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ مومنوں کو اس بات کی تسلی دی جائے کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنا ہے مگر اپنے آپ پر اتنا بوجھ نہیں ڈالنا جس میں آدمی حد سے زیادہ تکلیف محسوس کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کے کسی کام میں انسان کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف اور بوجھ نہیں رکھا۔ انسان معمول کے مطابق نیکی کرے یا دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرے وہ جس نیت اور انداز سے نیکی کرتا ہے اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھا جاتا ہے جسے شریعت کی زبان میں انسان کا اعمال نامہ کہا جاتا ہے۔ اعمال نامے کے بارے میں بتلایا ہے کہ وہ قیامت کے دن حق کے مطابق بولے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اعمال نامے کا بولنا ایک محاورہ بھی ہے جسے ہر زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے۔ مجرم کا ریکارڈ اس کے سامنے رکھ کر کہا جاتا ہے کہ اپنا اعمال نامہ پڑھ اس کا ایک ایک لفظ تیری کرتوتوں کی گواہی دے رہا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حقیقتاً دوسری شہادتوں کے ساتھ انسان کے اعمال نامہ کو گویائی کی قوت دی جائے اور اس کا ایک ایک لفظ بول کر انسان کے اچھے اور برے اعمال کے بارے میں گواہی دے۔ اگر آج ٹیپ ریکارڈر اور ڈیجیٹل قرآن کے ذریعے الفاظ بولتے ہیں تو قیامت کے دن اعمال نامہ کیوں نہیں بول سکتا ؟ انسانی اعضا بھی بول کر گواہی دیں گے۔
(حَتّٰی اِِذَا مَا جَاءُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ )
[ حٰم السجدۃ : 20]
” یہاں تک کہ وہ اس تک پہنچ ہی جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم ان کے خلاف پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا امْرَأَۃٌ قَالَ مَنْ ہَذِہِ قَالَتْ فُلاَنَۃُ تَذْکُرُ مِنْ صَلاَتِہَا قَالَ مَہْ ، عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیقُونَ ، فَوَاللَّہِ لاَ یَمَلُّ اللَّہُ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ أَحَبَّ الدِّینِ إِلَیْہِ مَا دَامَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ ) [ باب أَحَبُّ الدِّینِ إِلَی اللَّہِ أَدْوَمُہُ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے اس وقت میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی آپ نے پوچھا یہ کون ہے حضرت عائشہ ؓ کہنے لگی یہ وہی عورت ہے جس کے کثرت نماز کے تذکرہ ہوتا ہے آپ نے فرمایا بہت اچھا مگر تم پر اتنی عبادت لازم ہے جس قدر تم طاقت رکھتی ہو۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اجر دیتے ہوئے نہیں تھکتے تم اعمال کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔ اللہ کے ہاں وہی عمل محبوب ہے جس پر عمل کرنے والا اس پر ہمیشگی اختیار کرے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔
2۔ قیامت کے دن انسان کا اعمال نامہ بول بول کر گواہی دے گا۔
3۔ قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہونے پائے گی۔
تفسیر بالقرآن
دین میں تکلّف نہیں ہے :
1۔ دین میں جبر نہیں۔ (البقرۃ : 256)
2۔ اللہ تعالیٰ کسی کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ (البقرۃ : 286)
3۔ نبی ﷺ کو لوگوں پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔ (بنی اسرائیل : 54)
4۔ نبی کسی کو ہدایت کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ (القصص : 56)
5۔ نبی کسی پر نگران نہیں ہوتا۔ (النساء : 80)
6۔ کیا آپ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ( یونس : 99)
7۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ کے ذمے صرف پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ ( النحل : 82)
8۔ رسول کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ( العنکبوت : 18)
Ayahs 23:63–65فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے بندوں کے دل ہر وقت اپنے رب اور قیامت کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں ان کے مقابلے میں مشرک اور متکبر لوگوں کے دل غفلت کا شکار ہوتے ہیں۔
انسان کے دل سے اپنے رب کا خوف اور آخرت کی جواب دہی کا تصور ختم ہوجائے تو وہ غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ غفلت کا شکار شخص نیک کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا۔ غفلت کا بنیادی سبب دنیا کی عیش و عشرت اور مال کی ہوس ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے خوف سے عاری اور فکر آخرت سے لاپرواہ طبقہ معاشرے میں ترقی اور فیشن کے نام پر ہر قسم کی برائی پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔ اکثر اوقات یہ طبقہ اس وقت تک ہوش کے ناخن نہیں لیتا جب تک ان پر عذاب نہیں آتا یا کسی سخت مصیبت میں مبتلا نہیں ہوتا۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے یا یہ لوگ کسی سخت مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو پھر آہ وزاری اور چیخ و پکار کرتے ہیں۔ اس وقت زبان حال انہیں پکار پکار کر کہتی ہے۔ اب چیخو، چلاّؤ لیکن اللہ تعالیٰ تمہاری مدد نہیں کرئے گا اور یہی صورت حال ان کی موت کے وقت ہوتی ہے یہ دل ہی دل میں آہ وزاری کر رہے ہوتے ہیں تو موت کے فرشتے انہیں جھڑکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج جس طرح چاہو آہ وزاریاں کرو تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ یہاں لوگوں کی غفلت کو ان کے اعمال نہ کرنے کی وجہ قرار دیا گیا۔ غفلت کرنے والوں میں سب سے پیش پیش ہمیشہ مال دار طبقہ ہوا کرتا ہے کیونکہ عوام میں انہی کے ذریعے عیاشی اور فحاشی اور شریعت سے دوری پیدا ہوتی ہے۔ عذاب تو سب پر آتا ہے لیکن مال دار طبقہ کو احساس دلانے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ ہم ان کے سرمایہ داروں کو پکڑتے ہیں۔
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ تا اور توبہ و استغفار کرتا ہے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “
مسائل
1۔ غافل لوگ اکثر برے کام کرتے ہیں۔
2۔ مال دار طبقہ کی اکثریت غفلت کی زندگی گزارتا ہے۔
3۔ اللہ کا عذاب نازل ہوجائے تو پھر انسان کی آہ وزاری کام نہیں آتی۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت کے وقت کوئی مدد کارگر ثابت نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
عذاب کے وقت کوئی مددگار نہیں ہوتا :
1۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکفیر کی ان کے لیے شدید عذاب ہے۔ ( آل عمران : 4)
2۔ عذاب کے وقت کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکے گا۔ ( الملک : 28)
3۔ کفار کے چمڑے جب جل جائیں گے تو ہم انہیں عذاب کا مزہ چکھانے کے لیے انکے چمڑے تبدیل کردیں گے۔ (النساء : 56)
4۔ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وہ خیر خواہ اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب : 65)
5۔ منافق جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (النساء : 145)
6۔ اس دن کافر لوگ جان لیں گے جب ان کے چہروں اور پشتوں سے آگ ہٹانے والا کوئی نہیں ہوگا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔ (الانبیاء : 39)
7۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (المائدۃ : 72)
8۔ کافروں کے چہروں پر ذلت و رسوائی چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ (یونس : 27)