24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة النّور کا تعارف ربط سورة : سورة المومنوں ان الفاظ پر ختم ہوئی کہ اپنے رب سے بخشش اور رحم مانگتے رہو۔ اس کا رحم اور بخشش ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو اس کے ارشادات سے نصیحت حاصل کر کے اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہ سورة 9 رکوع اور 64 آیات پر مشتمل ہے۔ عرب غیور اور خوددار ہونے کے باوجود اخلاقی بےراہ روی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ بدکاری اور بےحیائی ان کے نزدیک عیب نہیں سمجھا جاتا تھا، خاندانی دشمنی کی بنا پر شاعر مجمع عام میں اپنی محبوبہ اور مخالف گروہ کی بہو، بیٹیوں پر تہمتیں لگاتے اور سننے والے ان سے لطف اندوز ہوتے، مکہ کی نسبت مدینہ کے لوگ پڑھے لکھے اور ترقی یافتہ تھے، مگر ان کی اخلاقی گرواٹ کا عالم یہ تھا کہ مدینہ میں باقاعدہ قحبہ خانے تھے۔ فاحشہ عورتوں نے ان کی مشہوری کے لیے چھتوں پر جھنڈے لہرا رکھے تھے، تاکہ برائی کے متلاشی لوگوں کو ان تک پہنچنے میں کوئی دقّت پیش نہ آئے، معاشرتی آداب اس قدر پامال ہوچکے تھے کہ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا اجازت آنا، جانا بالخصوص مذہبی پوپ اور بڑے لوگ اپنا حق سمجھتے تھے، اس کا سبب تھا کہ اگر بڑے خاندان کا آدمی زنا یا کوئی جرم کرتا تو اس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا تھا، غریب یا کمزور خاندان کا آدمی جرم کرتا تو اس پر حد نافذ کی جاتی تھی۔ اخلاقی بےراہ روی اور ہر قسم کی بےحیائی ختم کرنے کے لیے یہ سورة مبارک نازل کی گئی۔ جس میں سوچ کی پاکیزگی اور کردار کی پختگی کے اصول بتلانے کے ساتھ ساتھ چوری، بدکاری اور تہمت کی سزا مقرر کی گئی ہے اور اس کے نفاذ پر کسی قسم کی نرمی روا رکھنے کو ایمان کی کمزوری قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح چادر اور چار دیواری کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جونہی مسلمان مرد وزن نے اس سورة کی تعلیمات پر عمل کیا۔ معاشرہ امن وامان اور شرم وحیا کا گہوارہ ثابت ہوا۔ کیونکہ صدیوں سے جاری معاشرتی رسومات اور اطوار کا بدلنا انتہائی مشکل ہوا کرتا ہے اس لیے اس سورة اور اس کے احکام کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس سورة کو ہم نے نازل کیا ہم نے اس کے احکام کی تعمیل کو لازم قرار دیا اور ہم ہی نے اس کے ارشادات کو کھول کھول کر بیان کیا تاکہ تم انہیں یاد رکھو۔ لہٰذا غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے اسّی اسّی کوڑے ہیں۔ کوڑے مارتے ہوئے کسی قسم کی نرمی نہیں ہونا چاہیے اور اس وقت مومنوں میں کچھ لوگوں کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ اب کے بعد زانی عورت کا نکاح زانی مرد کے ساتھ ہوگا، مشرکہ، مشرک کے ساتھ، بدکار عورت کا بدکار مرد سے اور مشرک کا نکاح مشرکہ کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے۔ باکردار مسلمان مردوں پر یہ رشتے حرام ہیں۔ جو لوگ صالح کردار عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں انہیں اسّی درّے مارے جائیں اور آئندہ کے لیے ان کی شہادت قبول نہ ہوگی، ان حدود کے بیان کرنے کے بعد اس سورة کے شان نزول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے سچے کردار کی گواہی دی گئی ہے۔ اور مومنوں کو سمجھایا ہے کہ کسی صالح کردار مردو زن پر تہمت لگے تو اس کے پاکیزہ ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے اس تہمت کی فوراً تردید کر دینی چاہیے، کیونکہ صالح انسان کا ماضی بہت حد تک اس کے مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے، پھر ایک دوسرے کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا اور گھر والوں کو سلام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس تعلیم کے ساتھ ہی مومن مرد اور مومن خواتین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچے رکھا کریں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں، اس حکم کے ساتھ ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے پردہ کرنا عورت کے لیے ضروری نہیں۔ سورة کے پانچویں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو زمین و آسمانوں کا نور قرار دیا ہے پھر اپنے نور کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا، جس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ارشادات نور کی حیثیت رکھتے ہیں جس سے معاشرے کی ہر قسم کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کی روشنی میں نہیں آتے ان کی مثال ایسے شخص کی ہے جو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پھنسا ہوا ہے۔ وہ ان سے نکلنا چاہتا ہے لیکن نکل نہیں سکتا، جس کے لیے اللہ تعالیٰ روشنی نہ کرے وہ کہیں سے روشنی نہیں پاسکتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جنہیں لین، دین اور کاروبار ” اللہ “ کے ذکر سے غافل نہیں کرتا، وہ نماز کے وقت نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ کے وقت زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ان کے دل قیامت کی ہولناکیوں سے لرزاں رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نہ صرف پوری پوری جزا دے گا بلکہ اپنے فضل سے بہت کچھ عنایت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ جب دینے پر آتا ہے تو بغیر حساب و کتاب کے عطا فرماتا ہے۔ مؤمنوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہیں کہ جب بھی انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے وہ ہر قسم کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں آجاتے ہیں۔ سورة کے آخر میں ان اوقات کا ذکر کیا گیا ہے جن اوقات میں گھریلوں ملازم اور نابالغ بچے بھی اجازت لے کر خلوت خانوں میں جایا کریں۔ اس میں مومنوں کی یہ بھی صفت بتلائی گئی ہے کہ یہ لوگ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مشاورت کے لیے بلائے جاتے ہیں تو اجازت لیے بغیر آپ کی مجلس سے نہیں جاتے۔ آخر میں یہ ادب سکھلایا گیا ہے کہ مسلمان اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح نہ آواز دیا کریں جس طرح ایک دوسرے کو آواز دے کر بلاتے ہیں اگر لوگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی سے باز نہ آئے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بالآخر سب نے ” اللہ “ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے وہ تمہیں بتلائے گا کہ تم کیا کچھ کر رہے تھے۔ یعنی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی کرنے پر تمہیں ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

” اس سورة کو ہم نے نازل کیا ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے واضح دلائل نازل کیے شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ “ (1)

فہم القرآن ربط کلام : سورة المؤمنوں کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ جو لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو پکارتے ہیں ان کے پاس اس باطل عقیدہ کی کوئی دلیل نہ ہے۔ ان کا حساب ” اللہ “ کے ذمہ ہے ” اللہ “ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کرنے والے کامیاب نہیں ہونگے۔ اے رسول آپ اپنے رب سے مغفرت اور اس کا رحم مانگئے۔ سورة النور کا آغاز ان الفاظ سے ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا فرض ہے۔ گویا کہ جو شخص اپنے رب کی بخشش اور مہربانی چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے ” اللہ “ کی توحید کا اقرار اور اس کے احکام پر عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کا نام النّور رکھ کر یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اگر مسلمان ہر قسم کی تاریکی اور جہالت سے نکل کر روشن دور میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو انہیں ذاتی اور معاشرتی طور پر اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے فرامین پر عمل کرنا ہوگا۔ اس سورة مبارک میں توحید و رسالت اور آخرت کا بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی حدود وقیود کا ذکر کیا گیا ہے ان کی فرضیت کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے کہ اس سورة کو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا اس نے اس سورة میں بیان ہونے والی تعلیم اور قوانین کو فرض ٹھہرایا ہے اور اس میں ذکر ہونے والے احکام کو کھول کر بیان کیا ہے تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے اور اس پر عمل کرنا فرض ہے اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام بالکل واضح ہیں ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔ اس کے باوجود سورة کی پہلی آیت میں پورے جلال اور دبدبے کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہم نے اس سورة کو نازل کیا ہم نے اسے فرض ٹھہرایا اور ہم نے اس کے احکام کھول کھول کر بیان کیے ہیں۔ ایک آیت میں تین مرتبہ ہم کی ضمیر لا کر اپنی جلالت و جبروت کا اظہار فرمایا تاکہ مسلمانوں کو اس کی عظمت و فضیلت کا ادراک ہو اور وہ اس پر من وعن عمل کرکے برائی اور بےحیائی سے پاک معاشرہ قائم کرکے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور سے اپنے آپ کو منور کرسکیں یہی کتاب مبین کے نزول کا مقصد ہے۔ ” یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لیے اتاری ہے کہ آپ اپنے رب کے حکم سے لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں اللہ غالب اور بےنیاز کے راستے کی طرف۔ “ (ابراہیم : 1)
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

” زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کوسو، سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملے میں تمہیں ان پر ترس نہیں آنا چاہیے اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ تو ان کو سزادیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ “ (2)

فہم القرآن ربط کلام : غیر شادی شدہ زانی عورت اور مرد کے لیے سو، سو کوڑوں کی سزا، شادی شدہ زانی مرد اور عورت کے لیے رجم کی سزا یک دم نازل نہیں ہوئی اس سے پہلے سورة النساء میں بدکار لوگوں کی سزا کا اشارہ ہوچکا ہے۔ ” تمہاری عورتوں میں جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ۔ اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ ان کی موت واقع ہو یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی راہ نکال دے تم میں سے جو دو مرد ایسا کام کریں انہیں سزا دو اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی کی وجہ سے برائی کریں اور پھر جلد ہی اس سے توبہ کریں اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔ (النساء : 15، 16، 17) اگر کوئی عورت یا مرد بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں کوڑے مارتے ہوئے نہ کمی بیشی کی جائے اور نہ ہی کوڑے مارنے میں نرمی ہونا چاہیے۔ یہ اللہ کے دین کا ضابطہ ہے۔ اس پر من وعن عمل ہونا چاہیے اگر واقعی تم اللہ اور آخرت پر ایمان لانے والے ہو زانی اور زانیہ کو کوڑے مارتے وقت مومنوں کی ایک جماعت کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ سزا کا حکم جاری کرتے ہوئے پہلے بدکار عورت کا ذکر کیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عام طور پر مرد اس وقت تک عورت سے بدکاری نہیں کرسکتا جب تک عورت کسی نہ کسی طرح یہ فعل کرنے کے لیے آمادہ نہ ہو۔ بدکاری کا اعتراف کرنے یا چار شہادتیں قائم ہونے کے بعد انہیں سو سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ بدکار مرد کو یہ سزا بھی دی جائے گی کہ اسے ایک سال کے لیے اس کے علاقہ سے جلا وطن کردیا جائے۔ کوڑے مارتے وقت کسی قسم کی شفقت اور نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود میں سے ایک حد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حد کا دل و جان سے احترام اور اس پر پوری طرح عمل ہونا چاہیے۔ حد کے نفاذ کو یہ کہہ کر یقینی بنایا گیا ہے کہ اگر تمہارا اللہ اور آخرت پر یقین ہے تو تمہیں حد ضرور نافذ کرنا ہوگی۔ حد کے نفاذ میں اس شرط کو بھی لازم قرار دیا ہے کہ زانی اور زانیہ پر کوڑے برساتے وقت مومنوں کی ایک جماعت کا حاضر ہونا ضروری ہے تاکہ یہ سزا دیکھ کر لوگ عبرت حاصل کریں۔ کوڑوں کی سزا غیر شادی شدہ مرد اور عورت کے لیے ہوگی اگر زنا کرنے والے دونوں یا ان میں سے ایک شادی شدہ ہو تو اسے رجم کیا جائے گا۔ کیونکہ نبی معظم ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ نے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کیا تھا۔ صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ تورات، انجیل میں بھی شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لیے یہی سزا مقرر ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک یہودی مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ان کا مقدمہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ مقدمہ پیش کرنے والے یہودیوں کا مقصد یہ تھا کہ شریعت موسوی میں اس کی سزا رجم ہے۔ ہوسکتا ہے شریعت اسلامیہ میں اس کی سزا نرم ہو اس غرض سے زانی عورت اور مرد کو آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے یہودی عالم ابن صوریا کو بلاکر رجم کے بارے میں استفسار فرمایا تو اس نے کہا کہ تورایت میں اس جرم کی سزا رجم ہے اس پر نبی ﷺ نے دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ (بخاری : کتاب المحاربین، مسلم کتاب الحدود) تفتیش میں نرمی اور سزا میں سختی :۔ بعض علماء اور سکالر حضرات غیر مسلموں کے پراپیگنڈہ سے متأثر ہو کر یہ شور مچاتے ہیں کہ اسلام میں بعض سزائیں حد سے زیادہ سخت ہیں کچھ زبان دراز غیر مسلموں کی نمائندگی کرتے ہوئے اسلامی حدود کو وحشیانہ سزائیں قرار دیتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کس حد تک لوگوں کو حدود سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ سب سے پہلے اسلام کے تفتیشی نظام پر غور فرمائیں اس وقت تک کسی بدکار کو سنگسار کرنے اور کوڑے مانے کی اجازت نہیں۔ جب تک چار عاقل، بالغ اور عادل گواہ مکمل ثبوت کے ساتھ اپنی گواہی ثابت نہ کرسکیں۔ گواہی لیتے ہوئے جج پر لازم ہے کہ وہ پوری غیر جانبداری اور دیانتداری کے ساتھ کھلے الفاظ میں شہادت لے۔ تب جا کر مجرموں پر حدود اللہ کا نفاذ ہوگا۔ اس سلسلہ میں نبی معظم ﷺ کا انداز تفتیش ملاحظہ فرمائیں کہ اس میں کس قدر نرمی اور احتیاط برتی گئی ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ادْرَءُ وا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِینَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ کَانَ لَہُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِیلَہُ فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ یُخْطِءَ فِی الْعَفْوِ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یُخْطِءَ فِی الْعُقُوبَۃِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی دَرْءِ الْحُدُودِ ] ” سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس قدر تم کوشش کرسکتے ہو مسلمانوں کو حدود سے بچاؤ اگر ان کا بچ نکلنا ممکن ہو تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک حکمران کا معاف کرنے میں غلطی کرنا سزا دینے کی غلطی سے بہتر ہے۔ “ ضرب تازیانہ کی کیفیت کے متعلق پہلا اشارہ خود قرآن کے لفظ ” فَاجْلِدُوْا “ میں ملتا ہے۔ جلد کا لفظ جِلّد ( یعنی کھال) سے ماخوذ ہے۔ اس سے تمام اہل لغت اور علمائے تفسیر نے یہی معنی لیے ہیں کہ مار۔ ایسی ہونی چاہیے جس کا اثر جلد تک رہے گوشت تک نہ پہنچے۔ کوڑے اس طرح نہ مارے جائیں کہ جس سے جسم کی بوٹیاں اڑ جائیں یا کھال پھٹ کر اندر تک زخم پڑجائے۔ ایسی ضرب لگانا قرآن کے خلاف ہے۔ مار کے لیے خواہ کوڑا استعمال کیا جائے یا بید، دونوں صورتوں میں وہ اوسط درجے کا ہونا چاہیے۔ نہ بہت موٹا اور سخت اور نہ بہت پتلا اور نرم۔ مؤطا امام مالک (رح) کی روایت کے مطابق نبی ﷺ نے ضرب تازیانہ کے لیے کوڑا طلب کیا اور وہ کثرت استعمال سے بہت کمزور ہوچکا تھا۔ آپ نے فرمایا اس سے سخت لاؤ پھر ایک اور کوڑا لایا گیا جو ابھی استعمال سے نرم نہیں پڑا تھا۔ آپ نے فرمایا ایسا کوڑا لاؤ جو استعمال ہوچکا ہو۔ اس سے آپ نے ضرب لگوائی اسی مضمون سے ملتی جلتی روایت ابو عثمان النہدی نے حضرت عمر ؓ کے متعلق بھی بیان کی ہے کہ وہ اوسط درجے کا کوڑا استعمال کرتے تھے۔ ( احکام القرآن جصاص، ج 3) رجم شدہ عورت کے بارے میں آپ ﷺ کے خیالات اور اس کی نماز جنازہ کا حکم : (أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ الأَسْلَمِیَّ أَتَی رَسُول اللَّہِ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ إِنِّی قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی وَزَنَیْتُ وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ تُطَہِّرَنِی فَرَدَّہُ فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاہُ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ فَرَدَّہُ الثَّانِیَۃَ فَأَرْسَلَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِہِ بَأْسًا تُنْکِرُونَ مِنْہُ شَیْءًا فَقَالُوا مَا نَعْلَمُہُ إِلاَّ وَفِیَّ الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِینَا فیمَا نُرَی فَأَتَاہ الثَّالِثَۃَ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ أَیْضًا فَسَأَلَ عَنْہُ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّہُ لاَ بَأْسَ بِہِ وَلاَ بِعَقْلِہِ فَلَمَّا کَان الرَّابِعَۃَ حَفَرَ لَہُ حُفْرَۃً ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ قَالَ فَجَاءَ تِ الْغَامِدِیَّۃُ فَقَالَتْ یَا رَسُول اللَّہِ إِنِّی قَدْ زَنَیْتُ فَطَہِّرْنِی وَإِنَّہُ رَدَّہَا فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَتْ یَا رَسُول اللَّہِ لِمَ تَرُدُّنِی لَعَلَّکَ أَنْ تَرُدَّنِی کَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّہِ إِنِّی لَحُبْلَی قَالَ إِمَّا لاَ فَاذْہَبِی حَتَّی تَلِدِی فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْہُ بالصَّبِیِّ فِی خِرْقَۃٍ قَالَتْ ہَذَا قَدْ وَلَدْتُہُ قَالَ اذْہَبِی فَأَرْضِعِیہِ حَتَّی تَفْطِمِیہِ فَلَمَّا فَطَمَتْہُ أَتَتْہُ بالصَّبِیِّ فِی یَدِہِ کِسْرَۃُ خُبْزٍ فَقَالَتْ ہَذَا یَا نَبِیَّ اللَّہِ قَدْ فَطَمْتُہُ وَقَدْ أَکَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِیَّ إِلَی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَحُفِرَ لَہَا إِلَی صَدْرِہَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوہَا فَیُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بِحَجَرٍ فَرَمَی رَأْسَہَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَی وَجْہِ خَالِدٍ فَسَبَّہَا فَسَمِعَ نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ سَبَّہُ إِیَّاہَا فَقَالَ مَہْلاً یَا خَالِدُ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا وَدُفِنَت) [ رواہ مسلم : باب مَنِ اعْتَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ بالزِّنَا ] حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک اسلمی ؓ نبی گرامی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا۔ اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کیجیے۔ آپ نے فرمایا ‘ تجھ پر اللہ رحم کرے واپس جاؤ ! اللہ سے مغفرت طلب کرو ! بریدہ ؓ کہتے ہیں ‘ کہ وہ زیادہ دور نہیں گیا تھا واپس آیا اور نبی گرامی ﷺ سے وہی مطالبہ کیا جب چوتھی مرتبہ اس نے مطالبہ کیا تو آپ نے اس سے پوچھا ‘ میں تجھے کس گناہ سے پاک کروں ؟ اس نے کہا ‘ زنا سے ! نبی ﷺ نے پوچھا ‘ کیا یہ دیوانہ ہے ؟ بتایا گیا کہ دیوانہ نہیں ہے۔ آپ نے پوچھا کیا اس نے شراب پی رکھی ہے ؟ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا ‘ اس نے اس کا منہ سونگھا ‘ لیکن اس سے شراب کی بو نہیں آئی۔ آپ نے پوچھا کیا تو نے زنا کیا ہے ؟ اس نے کہا ‘ ہاں۔ آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کردیا گیا۔ صحابہ کرام دو یا تین دن خاموش رہے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا : ماعز بن مالک ؓ کے لیے مغفرت مانگو۔ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ایک جماعت پر تقسیم کیا جائے تو ان سب کو معاف کر دیاجائے۔ اس کے بعد آپ کے پاس غامدیہ قبیلہ کی عورت آئی۔ اس نے عرض کیا ‘ اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کردیں۔ آپ نے فرمایا : تجھ پر اللہ کی رحمت ہو ‘ چلی جا اور اللہ سے توبہ کر۔ اس نے عرض کی ‘ آپ مجھے اسی طرح لوٹانا چاہتے ہیں جیسے آپ نے ماعزبن مالک کو واپس کیا تھا۔ میں تو زنا سے حاملہ ہوچکی ہوں۔ آپ نے فرمایا کیا واقعی تو حاملہ ہے تو اس نے عرض کی ‘ جی ہاں ! آپ نے اسے فرمایا وضع حمل کے بعد آنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ ایک انصاری نے اس کی کفالت کی جب اس نے بچہ جنم دیا تو انصاری نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا ‘ یا رسول اللہ ﷺ ! اس غامدی عورت نے بچے کو جنم دیا ہے۔ فرمایا ! کیا ہم اسے اس حالت میں رجم کریں گے کہ بچے کو دودھ پلانے والی کوئی نہ ہو ؟ ایک انصاری کھڑا ہوا۔ اس نے کہا ‘ اس کی رضاعت کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ تب آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے کہا کہ چلی جا یہاں تک تو بچے کو جنم دے۔ جب بچہ پیدا ہوا تو آپ نے فرمایا جا ! اسے دودھ پلایہاں تک بچے کو دودھ پلانا چھوڑ دے۔ جب اس نے بچے کو دودھ پلانا چھوڑ دیا تو وہ بچے کو ساتھ لائی اس بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے دودھ پلانا ختم کردیا ہے اب یہ کھانا کھانے لگا ہے۔ آپ ﷺ کے حکم سے اس کے لیے اس کی چھاتی تک گڑھا کھودا گیا۔ اور لوگوں کو رجم کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے اسے رجم کیا۔ خالد بن ولید ؓ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا ‘ جس سے خون کے چھینٹے خالد ؓ کے چہرے پر گرے۔ خالد ؓ نے اسے برا بھلا کہا۔ نبی مکرم نے فرمایا ! اے خالد رک جاؤ ! اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے اگر ٹیکس لینے والا ایسی توبہ کرے تو اسے بھی معاف کردیا جائے۔ پھر آپ کے حکم پر اس کی نماز ہ جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کردیا گیا۔ حد نافذ کرنے میں کوئی رعایت نہیں : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ اَنَّ قُرَیْشًا أَھَمَّھُمْ شَانُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُوْمِیَّۃِ الَّتِیْ سَرَقَتْ فَقَالُوْ ا مَنْ یُّکَلِّمُ فِیْھَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالُوْ ا مَنْ یَّجْتَرِئُ عَلَیْہِ اِلَّااُسَامَۃُ ابْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَلَّمَہٗ اُسَامَۃُ ؓ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَتَشْفَعُ فِیْ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ اِنَّمَا اَھْلَکَ الَّذِیْنَ قَبْلَکُمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا اِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَ اِذَا سَرَقَ فِیْھِمُ الضَّعِیْفُ اَقَامُوْا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَاَیْمُ اللّٰہِ لَوْ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ﷺ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَھَا) [ رواہ مسلم : باب قَطْعِ السَّارِقِ الشَّرِیفِ وَغَیْرِہِ وَالنَّہْیِ عَنِ الشَّفَاعَۃِ فِی الْحُدُودِ ] حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ قریش مخزومی عورت کی حالت زار پر پریشان ہوئے جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ اس عورت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کس سے سفارش کروائی جائے انہوں نے سوچا کہ اسامہ بن زید ؓ نبی معظم ﷺ کے پیارے ہیں ‘ ان کے سوا یہ جرأت کوئی نہیں کرسکتا۔ چناچہ اسامہ نے آپ سے عرض کی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ سے فرمایا ‘ کیا تو حدود اللہ میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے ؟ آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا ‘ کہ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوگئے کہ ان میں کوئی بڑے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے۔ جب چھوٹے درجے کا آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ اسلام سزاؤں کا دین نہیں اسلام نے جرم کے اسباب اور وجوہات کو پیش نظر رکھ کر سزائیں مقرر کی ہیں۔ غیر شادی کے لیے کوڑوں کی سزا اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ اس سے اس غلطی کا امکان ہوسکتا ہے اسی لیے صرف سو کوڑے سزا مقرر کی گئی ہے۔ لیکن اگر شادی شدہ عورت یا مرد فعل بد کاری کا ارتکاب کرے تو اس کی یہ سزا ہے کہ اسے پتھر مار مار کر جان سے ما ردیا جائے کیونکہ فطری جذبات کے لیے اسے شادی کرنے کا حکم ہے۔ اگر ایک بیوی پر گزارا نہیں تو مرد کے لیے چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے۔ جہاں تک شادی شدہ عورت کا معاملہ ہے اسے کسی طرح بھی ایک سے زیادہ خاوند کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے سنگین قسم کی خرابیاں جنم لیتی ہیں جن کا حل ممکن نہیں ہے اور پھر چند عورتیں ہی ایسی ہوتی ہیں جن کے جذبات اپنے سے باہر ہوجائیں کیونکہ جوں جوں عورت بچے جنم دیتی ہے اور اس کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے تو وہ فطری عمل سے کافی حد تک بےنیاز ہوجاتی ہے اگر کوئی عورت غیر معمولی جذبات رکھتی ہو یا مرد اپنے جذبات پر قابو پانے میں مشکل محسوس کرے تو اسے روزے رکھنے کا حکم ہے اگر سنت کے مطابق بھوک رکھ کر روزہ رکھا اور افطار کیا جائے تو جذبات خود بخود ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود شادی شدہ مرد یا عورت بدکاری کا ارتکاب کرتے ہیں تو انہیں اس لیے رجم کرنے کا حکم ہے کہ یہ نہ صرف معاشرے کے لیے ناسور ہیں بلکہ اپنی اولاد اور خاندان کے لیے بھی کلنگ کا ٹیکہ ہے ایسے وجود کو عبرتناک سزا دے کر معاشرے کو پاک کرنا ضروری ہے تاکہ شرم وحیا کی حدود کا تحفظ ہو سکے۔ مسائل 1۔ غیرشادی شدہ زانی عورت اور مرد کو سو، سو کوڑا لگایاجائے۔ 2۔ کوڑے لگانے میں کمی بیشی اور نرمی نہیں ہونا چاہیے۔ 3۔ حد نافذ کرنا اللہ کا حکم ہے۔ 4۔ حد نافذ کرتے وقت مومنوں کی ایک جماعت کا موجود ہونا لازم ہے۔
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

” زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک اور یہ اہل ایمان پر حرام کردیا گیا ہے۔ “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : بدکار آدمی اور عورت کے لیے اخلاقی اور معاشرتی سزا۔ بدکاری میں شہرت رکھنے والے شخص کا نکاح کسی پاکدامن عورت سے کرنے کی بجائے زانیہ عورت یا کسی مشرکہ سے ہوسکتا ہے اسی طرح اگر کوئی عورت بدکاری کی شہرت رکھتی ہو تو اس کا نکاح کسی زانی یا مشرک آدمی سے ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو مومنوں پر حرام قرار دیا ہے۔ مفسرین نے اس آیت کا شان نزول اس طرح نقل کیا ہے۔ مرثد (رح) بن ابی مرثد غنوی مسلمان قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضرت مرثد ایک قیدی کو مکہ والوں کی قید سے نکالنے کے لیے مکہ پہنچے۔ رات کے وقت ایک دیوار کے سایہ میں چھپے بیٹھے تھے کہ عناق نامی عورت نے اسے پہچان لیا اس نے مرثد (رح) کو پہلے سے آشنا ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ خلوت کی دعوت دی لیکن حضرت مرثد نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اب میرے اور تیرے درمیان اسلام رکاوٹ بن گیا ہے یہ بات سنتے ہی عناق نے شور مچایا جس کے نتیجے میں مرثد ؓ وہاں سے بھاگ نکلے اور ایک پہاڑ کی غار میں چھپ گئے تلاش کرنے والوں نے انہیں تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکے۔ جب تلاش کرنے والے واپس چلے گئے تو مرثد ؓ نے مسلمان قیدی کو جیل سے نکال کر مدینہ کی راہ لی۔ مدینہ پہنچ کر نبی محترم ﷺ سے واقعہ عرض کیا اور آپ سے اجازت طلب کی کہ کیا میں عناق کے ساتھ نکاح کرسکتا ہوں ؟ جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ زانی شخص کسی زانیہ یا مشرکہ سے نکاح کرے اسی طرح زانیہ عورت کسی زانی یا مشرک آدمی سے نکاح کرے۔ اس آیت کے صحابہ کرام ؓ نے دو مختلف مفہوم لیے ہیں صحابہ کرام کی ایک جماعت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ کسی شخص نے زنا کیا ہو اس کے ساتھ نکاح کرنا کسی صورت جائز نہیں۔ صحابہ کرام ؓ کی دوسری جماعت کا خیال ہے اگر وہ تائب ہوجائیں تو ان کا آپس میں نکاح کرنا جائز ہوگا۔ جن صحابہ کا نقطہ نظر ہے کہ زانی اور زانیہ کا نکاح آپس میں نہیں ہوسکتا انہوں نے اس آیت کے آخری الفاظ سے دلیل لی ہے۔ جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے انہوں نے ان الفاظ کا معنٰی یہ لیا ہے کہ مومنوں کے لیے بدکاری کرنا حرام ہے۔ یہاں زانی کی مثال مشرک کے ساتھ اس لیے دی گئی ہے کہ جس طرح زانی شخص اخلاقی حدود سے تجاوز کرتا ہے اسی طرح ہی مشرک اعتقادی حدود سے تجاوز کا مرتکب ہوتا ہے جس طرح شادی شدہ زانی اپنی منکوحہ پر اکتفا نہیں کرتا اور زانیہ عورت اپنے خاوند پر مطمئن ہونے کی بجائے اس کی موجودگی میں غیروں کے ساتھ منہ کالا کرتی ہے۔ اسی طرح مشرک اور مشرکہ اپنے خالق، رازق اور مالک پر مطمئن ہونے اور اس کی خالص بندگی کرنے کی بجائے غیروں کے ساتھ ناطہ جوڑتے اور ان کے آستانے پر جاتے ہیں۔ لہٰذا زانی اور مشرک عملی طور پر ایک ہی جیسا کردار رکھتے ہیں۔ مشرک اعتقاد کے حوالے سے آوارہ مزاج ہوتا ہے اور زانی سوچ اور کردار کے اعتبار سے آوارہ کردار ہوتا ہے اس آیت میں یہ بھی بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کو بدکاری سے بھی نفرت ہے اسی طرح ہی اسے شرک سے بھی نفرت ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زنا کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔ 2۔ مشرک اور زانی فکری اور عملی آوارگی کے اعتبار سے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے زانی اور زانیہ کے آپس کے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومنوں کو مشرکوں کے ساتھ رشتہ ناطہ نہیں کرنا چاہیے : 1۔ زانی مرد زانیہ اور مشرکہ عورت کے ساتھ ہی نکاح کرے۔ اور مومنوں کے لیے انہیں حرام قرار دیا گیا ہے۔ (النور : 3) 2 مشرکہ عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو حتّٰی کہ وہ ایمان لے آئیں۔ (البقرۃ : 221) 3۔ اے ایمان والو ! کفر کو ایمان پر ترجیح دینے والوں کے ساتھ ناطہ نہ جوڑو۔ ( التوبہ : 23) 4۔ اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ ( المائدۃ : 51) 5۔ اے ایمان والو ! انہیں دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو کھیل تماشا بنارکھا ہے۔ (المائدۃ : 57)
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

” اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور پھر چارگواہ پیش نہ کریں ان کو اسّی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے کیونکہ وہ فاسق ہیں۔ (4)

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو اس گناہ کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : بدکاری سے منع کرنے کے بعد پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا اور اس کی سزا مقرر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پاکدامن عورت اور نیک سیرت مرد کی عزت کا اس قدر احترام ہے کہ اس پر تہمت لگانے والے شخص پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ اگر وہ تہمت لگانے میں سچا ہے تو اسے چار گواہ پیش کرنا ہونگے اگر اس کے پاس عاقل اور عادل چارگواہ موجود نہیں تو پھر اسے سرعام اسّی (80) کوڑے لگائے جائیں گے۔ اس سزا کے ساتھ اس پر یہ بھی پابندی عائد کردی گئی ہے کہ اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے کیونکہ بلاثبوت پاکدامن عورت اور مرد پر تہمت لگانے والے لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فاسق شمار ہوتے ہیں۔ البتہ جو لوگ سچے دل کے ساتھ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے اور مہربانی کرنے والا ہے۔ معاشرے کو اخلاقی بےراہ روی سے بچانے اور پاکدامن عورتوں اور مردوں کی عزت کا تحفظ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے چارگواہوں کی شرط لگا کر مسلمان معاشرے کو زبان درازی اور اخلاقی بےراہ روی سے بچانے کا قانون جاری فرمایا ہے۔ اس معاملے میں اس قدر سختی کی ہے کہ اگر چار عاقل اور راست باز گواہوں میں سے کسی ایک کی گواہی شریعت کے معیار پر پوری نہیں اترتی تو ان چاروں کی گواہی نہ صرف مسترد ہوگی بلکہ وہ سزا کے مستوجب قرار پائیں گے اور زندگی بھر ان کی گواہی مسترد کردی جائے گی۔ کہ اگر وہ سچی توبہ کریں اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلیں تو اس کی گواہی منظور کی جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے لیکن کچھ اہل علم نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ توبہ اور اصلاح کرنے کے باوجود اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ گواہی کا معیار : (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ جَاء ہلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ وَہُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَۃِ الَّذِینَ تَاب اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَجَاءَ مِنْ أَرْضِہِ عَشِیًّا فَوَجَدَ عِنْدَ أَہْلِہِ رَجُلاً فَرَأَی بِعَیْنَیْہِ وَسَمِعَ بِأُذُنَیْہِ فَلَمْ یَہِجْہُ حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ یَا رَسُول اللَّہِ إِنِّی جِءْتُ أَہْلِی عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَہُمْ رَجُلاً فَرَأَیْتُ بِعَیْنِی وَسَمِعْتُ بِأُذُنِی فَکَرِہَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا جَاءَ بِہِ وَاشْتَدَّ عَلَیْہِ فَنَزَلَتْ (وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُہُمْ فَشَہَادَۃُ أَحَدِہِمْ ) الآیَتَیْنِ کِلْتَیْہِمَا فَسُرِّیَ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ فَقَالَ أَبْشِرْ یَا ہلاَلُ قَدْ جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَکَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا۔۔ ) [ رواہ ابو داؤد : باب فی اللعان ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ان تین میں سے ایک ہیں جن کی اللہ نے توبہ قبول فرمائی۔ وہ اپنے کھیتوں سے عشاء کے وقت گھر آئے اس نے اپنی بیوی کے پاس کسی آدمی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کی آواز سنی مگر کسی کو بتایا نہیں یہاں تک کہ صبح رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آکر کہنے لگے۔ میں اپنی بیوی کے پاس عشاء کے وقت آیا میں نے اس کے ہاں ایک آدمی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور میرے کانوں نے دونوں کی آواز سنی رسول اللہ ﷺ نے اس خبر کو انتہائی ناپسندیدہ جانا اور آپ اس پر ناراض ہوئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (جو اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ موجود نہیں اس کی گواہی یہ ہے کہ وہ چار قسمیں اٹھائے) یہ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے خوش ہوتے ہوئے فرمایا اے ہلال ! مبارک ہو اللہ عزوجل نے تیری پریشانی کو دور فرمایا اور اس سے تجھے نجات عطا فرمائی۔۔ “ مومن کی عزت بیت اللہ سے زیادہ : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ صَعِدَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لْمِنْبَرَ فَنَادَی بِصَوْتٍ رَفِیعٍ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ مَنْ قَدْ أَسْلَمَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یُفْضِ الإِیمَانُ إِلَی قَلْبِہِ لاَ تُؤْذُوا الْمُسْلِمِینَ وَلاَ تُعَیِّرُوہُمْ وَلاَ تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِہِمْ فَإِنَّہُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَۃَ أَخِیہِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّہُ عَوْرَتَہُ وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ وَلَوْ فِی جَوْفِ رَحْلِہِ قَالَ وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ یَوْمًا إِلَی الْبَیْتِ أَوْ إِلَی الْکَعْبَۃِ فَقَالَ مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَۃً عِنْدَ اللَّہِ مِنْکِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی تَعْظِیمِ الْمُؤْمِنِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ ممبر پر کھڑے ہوئے آپ نے اونچی آواز سے بلاتے ہوئے فرمایا اے جماعت تم میں سے جو زبانی کلامی اسلام لا چکا ہے اور ایمان اس کے دل میں راسخ نہیں ہوا۔ وہ مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچائیں، نہ عار دلائیں اور نہ ان کے عیوب کے پیچھے پڑیں جو کسی مسلمان کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے۔ اللہ اس کے عیوب کو آشکارا کر کے اسے رسوا کردیتا ہے اگرچہ اس نے وہ گناہ چھپ چھپا کے کیا ہو راوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک دن بیت اللہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تیری عظمت بہت زیادہ ہے اور تیری حرمت عظیم تر ہے لیکن مومن کی عزت اور حرمت اللہ کے ہاں تجھ سے بڑھ کر ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلْکَبَاءِرُ الْاِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَےْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْےَمِےْنُ الْغَمُوْسُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَفِی رِوَاے َۃِ اَنَسٍ وَّشَھَادَۃُ الزُّوْرِ بَدَلَ الْےَمِےْنِ الْغَمُوْس) [ رواہ البخاری : باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ ذکر کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا بڑے گناہ یہ ہیں۔ (1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا (2) والدین کی نافرمانی کرنا ‘ (3) ناحق کسی کو قتل کرنا (4) جھوٹی قسم اٹھانا (بخاری) حضرت انس ؓ کی روایت میں جھوٹی قسم کی جگہ جھوٹی شہادت دینے کے الفاظ ہیں۔ مسائل 1۔ پاکدامن عورت اور مرد پر تہمت لگانے والے کو چار گواہ پیش کرنا ہوں گے۔ 2۔ جھوٹی تہمت لگانے والے کو اسّی (80) کوڑے لگائے جائیں گے۔ 3۔ جھوٹی تہمت لگانے والے کی گواہی قابل قبول نہیں۔ 4۔ جھوٹی تہمت لگانے والے سچی توبہ کریں اور آئندہ کے لیے اصلاح کریں تو ان کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے۔ تفسیر بالقرآن جھوٹی گواہی دینے کا گناہ اور اس کی سزا : 1۔ سچی گواہی دینے کا حکم۔ (المائدۃ : 8) 2۔ سچی گواہی چھپانے کا گناہ۔ (البقرۃ : 283) 3۔ گواہی چھپانے والے ظالم ہیں۔ (البقرۃ : 140) 4۔ جھوٹی گواہی سے بچنے والوں کی تعریف۔ (الفرقان : 72) 5۔ گواہی پر قائم رہنے والوں کی جنت میں تکریم ہوگی۔ (المعارج : 33)
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس ان کے سوادوسرے گواہ نہ ہوں۔ ان میں سے وہ شخص چاربار اللہ کی قسم کھاکر شہادت دے کہ وہ سچا ہے۔ (6)

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور وہ پانچویں بارک ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ “ (7)

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

” اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص اپنے الزام میں جھوٹا ہے۔ (8)

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ اپنے الزام میں سچاہو۔ (9)

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا توبہ قبول فرمانے والا اور حکیم ہے۔ “ (10)

فہم القرآن ربط کلام : پاکدامن عورتوں اور مردوں پر جھوٹی تہمت لگانے کی سزا کے ذکر کے بعد اپنی بیویوں پر جھوٹی تہمت لگانے والوں کی سزا اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا طریقہ۔ جس طرح عام مسلمان پاکدامن عورت اور مرد پر جھوٹی تہمت لگ سکتی ہے اسی طرح میاں بیوی کے درمیان تنازع پیدا ہوجانے کی شکل میں ان سے ایک دوسرے پر تہمت لگانے کا عمل سرزد ہوسکتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے اور انہیں غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے یہ قانون جاری کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی پر بدکاری کی تہمت لگاتا ہے اور اپنے سوا چارگواہ ثابت نہیں کرتا تو اسے چار مرتبہ ” اللہ “ کی قسم اٹھا کر شہادت دیناہو گی کہ میں سچے لوگوں میں شامل ہوں یعنی میں سچا ہوں۔ پانچویں دفعہ اسے اس طرح قسم اٹھانا ہوگی کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ اگر عورت اپنے آپ کو تہمت سے بری الذّمہ قرار دیتی ہے تو اسے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دینا ہوگی کہ اس کا خاوند جھوٹ بولتا ہے اور پانچویں مرتبہ عورت اس طرح قسم دے گی کہ اگر اس کا خاوند سچ بولتا ہے تو مجھ پر ” اللہ “ کا غضب نازل ہونا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مسلمان معاشرے کو بےراہ روی سے بچانے کے لیے یہ سزائیں مقرر کیں اور میاں بیوی کے تعلق کو غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے ٹھوس اور واضح طریقہ کار بتلایا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہقبول کرنے والا ہے اور اس کے ہر ارشاد اور حکم میں حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ہلاَلَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ ، فَجَاءَ فَشَہِدَ وَالنَّبِیُّ ﷺ یَقُولُ إِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ، فَہَلْ مِنْکُمَا تَاءِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ ) [ رواہ البخاری : باب یَبْدَأُ الرَّجُلُ بالتَّلاَعُنِ ] ” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں بیشک ہلال بن امیہ نے اپنی عورت پر الزام لگایا انہیں نبی ﷺ کے روبرو شہادت کے لیے لایا گیا آپ نے فرمایا یقیناً اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر دعورت کھڑی ہوئی اس نے قسمیں اٹھائیں کہ ہلال جھوٹا ہے۔ ” حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی ؓ انصاری کے پاس آئے اور اس سے کہا کیا خیال ہے آپ کا اگر ایک آدمی اپنی عورت کے ساتھ کسی اور آدمی کو دیکھتا ہے کیا وہ اسے قتل کر دے اور اس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے گا ؟ یا اس صورت حال سے کیسے نپٹا جائے ؟ اے عاصم اس سلسلہ میں میرے لیے سوال کیجئے تو عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو آپ نے اس پوچھے جانے کو ناپسند فرمایا اور اسے ڈانٹ پلائی حتیٰ کہ اس بات کو عاصم ؓ نے برا محسوس کیا جو اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی تو عاصم اپنے اہل و عیال میں پلٹ آیا تو ان کے پاس حضرت عویمر تشریف لائے اور دریافت کیا کہ اس مسئلہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ہے عاصم نے کہا میں آپ کے پاس اس کے متعلق کوئی اچھی خبر نہیں لایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کو ناپسند جانا ہے حضرت عویمر کہنے لگے اللہ کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا۔ عویمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اس وقت آپ لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ ! فرمائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے تو کیا اسے قتل کردے ؟ ایسی صورت میں ردعمل کے طور پر تو اس عورت کے وارث اس کو قتل کردیں گے۔ پھر اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول محترم ﷺ نے فرمایا تمہارے بارے میں یہ حکم نازل ہوا ہے ‘ تم جاؤ اور اپنی بیوی کو لے آؤ۔ سہل ؓ بیان کرتے ہیں کہ پھر میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا : اگر میں اس کو بیوی بنا کر رکھوں ‘ تو میں جھوٹا ہوں اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ابن شہاب کہتے ہیں اس وقت سے لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ جاری ہوا۔ [ رواہ البخاری : باب اللِّعَانِ وَمَنْ طَلَّقَ بَعْدَ اللِّعَانِ ] اس کے بعدرسول اللہ ﷺ نے فرمایا انتظار کرو ! اگر بچہ سیاہ رنگ کا ہو ‘ اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور گہری سیاہ ہوں اس کے سرین بڑے اور پنڈلیاں موٹی ہوئیں ‘ تو عویمر سچا ہے اور اگر بچہ سرخ رنگ کا ہوا گویا کہ وہ کچھیرا ہے تو میرا خیال ہے کہ پھر عویمر جھوٹا ہے۔ جب بچے کو اس کی ماں نے جنا تو بچہ انہیں اوصاف پر پیدا ہوا جن پر رسول اللہ ﷺ نے عویمر کو سچاقرار دیا تھا۔ اس وجہ سے بچہ باپ کی بجائے اپنی ماں کی نسبت سے بلایا جاتا تھا۔ “ لعان کے بعد فریقین میں مستقل جدائی ہوجائے گی۔ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگا بچہ اور ماں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ لعان کے ذریعے جدائی ہونے کے بعد خاوند مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ مسائل 1۔ خاوند کے پاس اگر چار گواہ نہ ہوں تو اسے چار قسمیں اٹھانی ہونگی کہ وہ سچا ہے۔ اور پانچویں قسم اس طرح ہوگی کہ جھوٹا ہونے کی صورت میں اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 2۔ عورت کی چار قسمیں اٹھانے کی وجہ سے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے عورت سزا سے بچ جائے گی۔ 3۔ عورت کو پانچویں قسم اٹھانی ہوگی کہ جھوٹی ہونے کی صورت میں اس پر اللہ کا غضب ہو۔ 4۔ لعان کے بعد میاں، بیوی ہمیشہ کے لیے جدا ہوجائیں گے۔ 5۔ اللہ اپنے بندوں پر فضل فرمانے والا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن میاں، بیوی کی علیحد گی کی صورتیں : 1۔ حدود کو قائم نہ رکھ سکیں۔ ( البقرۃ : 229) 2۔ جب خاوند بیوی کی نافرمانی سے خوف کھائے۔ ( النساء : 34) 3۔ طلاق رجعی کے بعد ان کی مدت پوری ہوجائے تو ان کے درمیان علٰیحدگی ہوگی۔ ( البقرۃ : 230)
Ayah 24:11

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

” تو جو لگ یہ بہتان گھڑلائے ہیں وہ تم میں سے ایک گروہ ہے اس واقعے کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہوا ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ کیا اور جس شخص نے اس میں زیادہ حصہ لیا اس کے لیے عظیم عذاب ہے۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : جس واقعہ کی بنا پر یہ سورت نازل ہوئی اس کی حقیقت : یہ سورة مبارکہ جس واقعہ پر نازل کی گئی اب اس معاملہ کی حقیقت اور اس کی سنگینی کا ذکر کیا جاتا ہے جسکا اختصار یہ ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں نبی اکرم ﷺ کسی غزوہ اور سفر کے لیے تشریف لے جاتے تو اس سے پہلے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے جس بیوی کا قرعہ نکلتا آپ اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ غزوہ بنی مصطلق میں قرعہ میرے نام نکلا۔ میں آپ کے ساتھ سفر میں تھی واپسی پر ہم نے مدینہ سے کچھ دور رات کے پہلے پہر قیام کیا مجھے حاجت کے لیے پڑاؤ سے دور جانا پڑا۔ جب فارغ ہو کر پڑاؤ کی جگہ آنے لگی تو میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر نیچے گرپڑا۔ میں اسے تلاش کرتی رہی جب پڑاؤ کے مقام پر پہنچی تو قافلہ جا چکا تھا۔ قافلہ والوں نے میرا ہودج اٹھا کر اونٹ پر رکھا اور چل دئیے۔ میرا وجود ہلکا تھا قافلہ والوں نے کوچ کی جلدی میں ہودج کے ہلکے پن کا خیال نہ کیا اور خالی ہودج کے ساتھ چل نکلے۔ میں نے ادھر ادھر تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن قافلہ دور نکل چکا تھا۔ میں یہ سوچ کر پڑاؤ کی جگہ آکر بیٹھ گئی کہ جب شتر بانوں کو معلوم ہوگا تو واپس اسی جگہ لوٹیں گے میں اسی جگہ بیٹھی انتظار کرتی رہی۔ اسی حالت میں مجھے نیند آگئی میں زمین پر لیٹ گئی۔ صفوان ؓ بن معطل کی ڈیوٹی تھی کہ وہ قافلہ کے آخر میں رہیں تاکہ گری پڑی چیز کا خیال رکھیں۔ وہ کچھ دیر کے بعد میرے قریب پہنچے تو اس نے مجھے پہچان لیا۔ کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے اس نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ اس نے میرے قریب آکر قدرے بلند آواز سے ” اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “ کہا اس کی آواز سن کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی اور میں نے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم نہ اس نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے اس سے کلام کی۔ اس نے اپنی سواری کو میرے قریب لا کر بٹھایا تاکہ میں سوار ہوجاؤں۔ میں اونٹ پر سوار ہوئی وہ مہار تھامے ہوئے پیدل چلنے لگے۔ ہم دوپہر کے وقت قافلے کے ساتھ شامل ہوگئے اس وقت قافلہ دوپہر کے آرام کے لیے ایک جگہ ٹھہرا ہوا تھا۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین نے اچھالا یہاں تک کہ مسطح بن اثاثہ، حسان ؓ بن ثابت خواتین میں حمنہ ؓ بنت جحش جو ام المومنین حضرت زینب ؓ بنت جحش کی بہن تھیں انہوں نے منافقوں کی مذموم مہم میں حصہ لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں سفر سے واپسی پر بیمار پڑگئی مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ میرے خلاف کیا طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے۔ البتہ رسول کریم ﷺ کارویّہ میرے ساتھ پہلے جیسا نہ تھا پہلے کبھی بیمار ہوتی تو رسول کریم ﷺ کی شفقت و مہربانی غیر معمولی ہوتی لیکن اس مرتبہ آپ میرے گھر تشریف لاتے تو فقط اتنا استفسار فرماتے کہ عائشہ آپ کیسی ہیں ایک دو جملوں کے سوا کوئی بات نہ کرتے۔ میں سمجھ گئی کہ معاملہ بدلہ ہوا ہے۔ ایک رات قضائے حاجت کے لیے گھر سے باہر گئی کیونکہ ان دنوں گھروں میں لیٹرین نہیں ہوتی تھیں۔ مسطح ؓ بن اثاثہ کی والدہ ام مسطح میرے ساتھ تھیں قضائے حاجت کے بعد ہم گھر آرہی تھیں کہ اچانک ام مسطح گرپڑیں اس کے منہ سے مسطح کے بارے میں بدعانکلی کہ مسطح ہلاک ہوجائے۔ میں نے کہا ماں آپ نے ایسے الفاظ کیوں کہے مسطح تو بدری صحابی ہے اس نے کہا بھولی بیٹی تجھے معلوم نہیں کہ وہ آپ کے بارے میں کیا کہتا پھرتا ہے اس نے مجھے پوری بات بتلائی۔ میں گھر پہنچی تو میری طبیعت بالکل نڈھال ہوچکی تھی رسول کریم ﷺ تشریف لائے آپ نے پہلے کی طرح چند الفاظ میں میری طبیعت کے بارے میں پوچھے۔ میں نے آپ سے عرض کی کہ آپ مجھے میکے جانے کی اجازت عنایت فرمائیں آپ نے بلاتاخیر اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے گھر آئی میرے گھروالوں کی پریشانی نمایاں تھی۔ میں نے دن رات روتے ہوئے گزارے اس حالت میں تقریباً ایک مہینہ گزر گیا ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے میرے پاس تشریف فرما ہو کر فرمانے لگے کہ عائشہ ؓ اگر تو پاکباز ہے تو اللہ تعالیٰ تیری برأت فرمائے گا اگر تجھ سے غلطی ہوگئی ہے تو تجھے اپنے اللہ سے معافی مانگنی چاہیے یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ آپ ﷺ کی باتیں سنتے سنتے میرے آنسو تھم گئے۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ نبی کریم ﷺ کو میری صفائی پیش کریں انہوں نے فرمایا کہ بیٹی میں کیا جواب دوں میں نے اپنے والد سے درخواست کی کہ ابو آپ میری صفائی دیں لیکن انہوں نے بھی فرمایا۔ واللہ میں کیا جواب دوں۔ آخر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ یہ بات آپ لوگوں کے دل میں بیٹھ گئی ہے اگر میں کہوں کہ اللہ جانتا ہے میں پاک صاف ہوں تو آپ لوگ پھر بھی یقین نہیں کریں گے اگر میں اپنے آپ پر لگنے والے الزام کو تسلیم کرلوں، تو آپ لوگ اس پر یقین کرلیں گے۔ اللہ کی قسم میرا معاملہ آپ کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسا ہے مجھے پریشانی کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نام بھول گیا۔ اس لیے میں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نام لینے کی بجائے کہا کہ میرا معاملہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسا ہے میرے لیے صبر کرنا ہی بہتر ہے اللہ تعالیٰ ہی میری مدد فرمانے والا ہے۔ یہ کہہ کر میں نے کروٹ بدل لی۔ مجھے یقین تھا کیونکہ میں اس الزام سے بری ہوں اللہ تعالیٰ ضرور میری برأت فرمائے گا لیکن یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میری برأت قرآن مجید میں نازل فرمائے گا۔ ابھی نبی کریم ﷺ اپنی جگہ سے اٹھے نہ تھے کہ آپ پر وحی کی کیفیت طاری ہوگئی سردی کے باوجود آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگا۔ وحی ختم ہوئی تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا تیرے لیے خوشخبری عائشہ تیری برأت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرما دی ہے۔ یہ سن کر میری والدہ نے فرمایا کہ بیٹی اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں صرف اپنے رب کا شکر ادا کروں گی جس نے میری پاک دامنی کے لیے آیات نازل فرمائی ہیں۔ ان آیات میں پہلی بات یہ فرمائی کہ جن لوگوں نے تم میں سے یہ تہمت لگائی اور اسے آگے پھیلایا۔ اے مسلمانوں اور نبی ﷺ کے گھر والو ! اسے اپنے لیے برا خیال نہ کرو کیونکہ اس میں تمہارے لیے تمہارے رب نے بہتری رکھ دی ہے البتہ اس مذموم مہم میں جس نے جتنا حصہ لیا وہ اتنا ہی گنہگار ہوا ہے جس شخص نے اس مہم کا آغاز کیا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اسے عظیم عذاب ہوگا۔ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں میں عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی تھے اس مذموم مہم میں چند مسلمان محض پراپیگنڈہ سے متأثر ہونے کی بناء پر ملّوث ہوئے۔ اس واقعہ میں خیر کے چند پہلو : 1 منافقوں نے سروردوعالم ﷺ کی عزت و حرمت کو داغ دار کرنے کی کوشش کی جس میں منافق پہلے سے زیادہ حقیر اور ذلیل ہوئے۔ 2 اللہ تعالیٰ نے منافقوں کو گلی کے تنکوں سے ہلکا کردیا۔ 3 رب کریم نے سروردوعالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ کی برأت قرآن مجید میں نازل فرمائی جس کی قیامت تک تلاوت ہوتی رہے گی اور حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ حسد وبغض رکھنے والے قیامت تک جلتے رہیں گے۔ 4 حضرت ابوبکر ؓ اور آپ کی لخت جگر حضرت عائشہ ؓ کی پاکدامنی کے شہرے قیامت تک بلند ہوتے رہیں گے۔ 5 مسلمانوں کو زبردست اخلاقی نظام سے سرفراز کیا گیا۔ 6 صحابہ ؓ کی اخلاقی قدروں کے حوالے سے آزمائش کی گئی تین افراد کے سوا پوری کی پوری جماعت بلند ترین اخلاقی معیار پر پوری اتری۔ 7 مذموم مہم میں تین افراد ملوث ہوئے جنہوں نے اسّی اسّی (80) کوڑے کھاکر سمع و اطاعت کی مثال پیش کی۔ اور آئندہ کے لیے سچی توبہ کی اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہر اچھے اور برے کام کی حکمت سے واقف ہے۔ 2۔ ہر کسی کو اس کے کیے کا صلہ ملے گا۔ 3۔ سیدہ عائشہ پر تہمت لگانے والے سرغنہ کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
Ayah 24:12

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

” جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا اس وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے دل میں نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ تو کھلا بہتان ہے ؟ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ اگر کسی پاکدامن عورت یا مرد پر بدکاری کی تہمت لگ جائے تو مومن مرد اور عورتوں کا فرض ہے کہ وہ پاکدامن مرد اور پاکدامن عورت کا ماضی سامنے رکھ کر کھلے الفاظ میں تردید کریں کہ یہ تہمت اور الزام ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان خطاکار ہے اور اس سے غلطی ہونے کا امکان ہے لیکن انسان کا ماضی بالخصوص بدکاری کے معاملے میں مستقبل کی ضمانت فراہم کرتا ہے کیونکہ زنا ایسا فعل ہے جو یکدم سرزد نہیں ہوتا چند ایک واقعات چھوڑ کر ہر معاشرے میں زنا سے پہلے آنکھ مچولی، قربت اور اس قسم کی حرکات کا سرزد ہونا لازمی امر ہے اس لیے قرآن مجید میں ولا تَقْرَبُو الزِّنَا (بنی اسرائیل : 32) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس بنیاد پر مومن مردوں اور عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھا کریں کیونکہ بدگمانی سے غیبت اور الزام تراشی کی ابتدا ہوتی ہے جس سے ایک طرف پاکدامن شخص کا کردار تارتار ہوتا ہے اور دوسری طرف معاشرے میں نفرت اور لڑائی اور بےحیائی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ یہ آیات صدیقہ کائنات حضرت عائشہ ؓ کی برأت کے لیے نازل ہوئیں اس لیے ارشاد ہوا کہ مومنوں کا فرض تھا جونہی سروردوعالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ؓ پر تہمت لگی تو مومن بیک زبان بول اٹھتے ” ھٰذَا اِفْکُ ٗ مُّبِیْنُ ٗ “ ہم اسے مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ تہمت اور بکواس کے سوا کچھ نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ نصر نے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت بیان کی آپ نے فرمایا اچھا گمان بہترین عبادت ہے۔ “ [ رواہ ابو داود : باب فی حسن الظن ] (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِم ﷺ یَقُولُ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوکَہُ وَہْوَ بَرِیءٌ مِمَّا قَالَ ، جُلِدَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ کَمَا قَالَ ) [ رواہ البخاری : باب قَذْفِ الْعَبِیدِ ] حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہیں سنا آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے غلام پر بہتان لگاتا ہے اور غلام اس کام سے بری ہو۔ قیامت کے دن الزام لگانے والے کو کوڑے لگائے جائیں گے یا وہ اپنا دعویٰ سچ ثابت کرے گا۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ ، وَلاَ تَحَسَّسُوا، وَلاَ تَجَسَّسُوا، وَلاَ تَحَاسَدُوا، وَلاَ تَدَابَرُوا، وَلاَ تَبَاغَضُوا، وَکُونُوا عِبَاد اللَّہِ إِخْوَانًا ) [ رواہ البخاری : باب مَا یُنْہَی عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ ] حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو ‘ نہ ہی دشمنی کرو۔ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہو۔ “ (وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اِسْتَأْذَنَ رَھْطٌ مِّنَ الْیَھُوْدِ عَلَی النَّبِیِّ فَقَالُوْا اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ فَقُلْتُ بَلْ عَلَیْکُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَۃُ فَقَالَ یَاعَاءِشَۃُ اِنَّ اللّٰہَ رَفِیْقٌ یُحِبُّ الِرّفْقَ فِی الْاَمْرِ کُلِّہٖ قُلْتُ اَوَلَمْ تَسْمَعْ مَاقَالُوْا قَالَ قَدْ قُلْتُ وَعَلَیْکُمْ ۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَلَیْکُمْ وَلَمْ یَذْکُرِالوَاوَ ۔ (متفق علیہ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ ۔ قَالَتْ اِنَّ الیَھُوْدَ اَتَوُا النَّبِیَّ ﷺ فَقَالُوْا اَلسَّامُ عَلَیْکَ قَالَ وَعَلَیْکُمْ فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ وَلَعَنَکُمُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَیْکُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَھْلًا یَا عَاءِشَۃُ عَلَیْکِ بالِرّفْقِ وَایَّا کِ وَالعُنْفَ وَالفَحْشَ قَالَتْ اَوَلَمْ تَسْمَعْ مَاقَالُوْا قَالَ اَوَلَمْ تَسْمَعِیْ مَا قُلْتُ رَدَدْتُّ عَلَیْھِمْ فَیُسْتَجَابُ لِیْ فِیِْھِمْ ۔ وَلَا یُسْتَجَابُ لَھُمْ فِیَّ ) [ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ ۔ قَالَ لَاتَکُوْنِیْ فَاحِشَۃً فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ ] حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے رسول معظم ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور آکر السام علیکم کہا (کہ تم ہلاک ہوجاؤ۔ ) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے ان کے جواب میں کہا تم پر ہلاکت ہو ! اور لعنت ہو ! یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا ‘ اے عائشہ ! بیشک اللہ تعالیٰ نرمی پسند کرنے والا ہے اور تمام کاموں میں نرمی پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا۔ آپ نے سنا نہیں، جو انہوں نے کہا ؟ ارشاد فرمایا اس لیے میں نے کہہ دیا : اور تم پر ہو۔ دوسری روایت میں ہے کہ تم پر ہو۔ یعنی لفظ واؤ (اور) نہیں ہے۔ (بخاری و مسلم) بخاری کی ایک روایت میں ہے ‘ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ یہودی نبی محترم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے کہا السام علیکم یعنی آپ تباہ ہوجائیں۔ آپ نے جواب دیا بلکہ تم پر ایسا ہو۔ عائشہ ؓ نے کہا ‘ تم پر اللہ کی لعنت اور اس کا غضب ہو۔ یہ سن کر رسول مکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ؓ ! نرمی اختیار کرو۔ تیز گفتگو اور بدزبانی سے اجتناب کرو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا : آپ نے ان کے کلمات نہیں سنے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تو نے میری بات نہیں سنی ! میں نے ان کی بد دعا کا جواب دے دیا ہے اور ان کے بارے میں میرے کلمات منظور ہوئے ہیں۔ ان کے کلمات میرے بارے میں قبول نہیں ہوئے۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ اے عائشہ ! تجھے بری گفتگو سے احتراز کرنا چاہیے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا۔ مسائل 1۔ مومن مرد اور مومن عورتوں کو ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان کرنا چاہیے۔ 2۔ صالح کردار آدمی پر الزام لگے تو اس کی تائید نہیں کرنا چاہیے۔
Ayahs 24:13–14

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

” وہ لوگ چارگواہ کیوں نہ لائے ؟ جب وہ گواہ نہیں لائے۔ تو اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں۔ (13)

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم وکرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا۔ “ (14)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مسلمانوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ تہمت لگانے والے سے ثبوت طلب کریں۔ کسی پاکدامن مرد یا عورت پر تہمت لگ جائے تو مومنوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اس تہمت پر یقین کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی بجائے تہمت لگانے والے سے چار گواہوں کا مطالبہ کریں اگر وہ شریعت کے مقرر کردہ معیار اور ضابطے کے مطابق چار گواہ پیش نہیں کرتا تو وہ شریعت کی نظر میں جھوٹا ہے۔ اس پر عدالت کی ذمہ داری ہوگی کہ ایسے شخص کو مجمع عام میں اسّی (80) کوڑے لگوائے تاکہ اس کی زبان درازی کی اسے ٹھیک ٹھیک سزا مل سکے اور مسلمانوں کی عزت و حرمت ایک دوسرے سے محفوظ رہے۔ کیونکہ یہ واقعہ صحابہ اکرام ؓ کے دور میں ہوا اور اس میں چند مسلمان ملوث ہوئے اور یہ پہلا واقعہ تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے اگر اللہ کا تم پر دنیا اور آخرت میں فضل نہ ہوتا تو اس تہمت درازی کی وجہ سے تم پر عظیم عذاب نازل ہوتا۔ یہ اس کے فضل کا نتیجہ ہے کہ اتنے عظیم جرم میں ملوث ہونے کے باوجود اس نے تمہیں توبہ و استغفار کا موقعہ دیتے ہوئے عظیم عذاب سے محفوظ فرمایا۔ صحابہ ؓ کی عظمت : (وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ فَیَغْزُوْ فِءَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَیَقُوْلُوْنَ ھَلْ فِیْکُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَھُمْ ثُمَّ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ فَیَغْزُوْ فِءَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَیُقَالُ ھَلْ فِیْکُمْ مَنْ صَاحَبَ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَھُمْْْْْْ ثُمَّ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ فَیَغْزُوْ فِءَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَیُقَالُ ھَلْ فِیْکُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَیُفْتَحُ لَھُمْ (متفق علیہ) ۔ وَفِیْ رِوَایَہٍ لِّمُسْلِمٍ قَالَ یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یُبْعَثُ مِنْھُمُ الْبَعْثُ فَیَقُوْلُوْنَ اُنْظُرُوْا ھَلْ تَجِدُوْنَ فِیْکُمْ اَحَدًا مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَیُوْجَدُ الرَّجُلُ فَیُفْتَحُ لَھُمْ ثُمَّ یُبْعَثُ البَعْثُ الثَّانِیْ فَیَقُوْلُوْنَ ھَلْ فِیْھِمْ مَنْ رَّاٰی اَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ فَیُفْتَحُ لَھُمْ ثُمَّ یُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَیُقَالُ انْظُرُوْا ھَلْ تَرَوْنَ فِیْھِمْ مَنْ رَاٰی مَنْ رَاٰی اَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ ثُمَّ یَکُوْنُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَیُقَالُ اُنْظُرُوْاھَلْ تَرَوْنَ فِیْھِمْ اَحَدًارَاٰی مَنْ رَاٰی اَحَدًا رَاٰی اَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ فَیُوْجَدُالرَّجُلُ فَیُفْتَحُ لَہٗ ۔ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ الصَّحَابَۃِ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ] حضرت ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : مسلمانوں پر ایسا وقت آئے گا ‘ کہ ان کا ایک گروہ۔ اللہ کے راستے میں لڑائی کرے گا۔ جہاد کرنے والے پوچھیں گے ‘ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی ہو ؟ وہ جواب دیں گے ‘ ہاں۔ چناچہ اس صحابی کی برکت سے ان کو فتح نصیب ہوگی۔ پھر مسلمانوں پر ایسا وقت آپڑے گا کہ ان کا ایک گروہ۔ اللہ کے راستے میں لڑائی کرے گا۔ پوچھا جائے گا ‘ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کو اصحاب رسول کی صحبت حا صل ہوئی (یعنی تابعی ہے) ؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ تو ان کو فتح نصیب ہوجائے گی۔ پھر مسلمانوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان کی ایک جماعت جہاد فی سبیل اللہ کرے گی۔ پو چھا جائے گا کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس کو کسی اصحاب رسول کے ساتھی یعنی تابعی کی صحبت میسر آئی ہو یعنی تبع تابعی ہے ؟ بتایا جائے گا ‘ ہاں۔ تو وہ بھی فتح یاب ہوں گے۔ مسلم کی دوسری روایت ہے۔ مسلمانوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا جائے گا۔ وہ کہیں گے دیکھو تم میں کوئی صحابی رسول ہے ؟ چناچہ وہ صحابی پائیں گے تو انہیں فتح حاصل ہوگی۔ پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ دریافت کریں گے کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے کسی صحابیِ کو پایا ہو ؟ چناچہ ان کو کامیابی حاصل ہوگی۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ پوچھیں گے کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص موجود ہے جس نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہو جو صحابی رسول کی صحبت سے فیض یاب ہوا ہو ؟ وہ ایسا شخص پائیں گے اور وہ فتح یاب ہوں گے۔ پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا۔ ان سے پوچھا جائے گا ‘ کیا تم میں صحابہ کرام کے شاگردوں کا کوئی شاگرد ہے ؟ تو وہ ایسا شخص پائیں گے۔ تو فتح سے ہمکنار ہوں گے۔ مسائل 1۔ تہمت لگانے والے پر لازم ہے کہ وہ چار عادل گواہ پیش کرے ورنہ اسے اسّی کوڑے لگائے جائیں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ پر خاص فضل اور خصوصی رحمت فرمائی۔ تفسیر بالقرآن صحابہ کرام ؓ کا مرتبہ و مقام : 1۔ اللہ نے صحابہ کے ایمان کو آزمالیا۔ (الحجرات : 3) 2۔ صحابہ کا ایمان امت کے لییمعیار ہے۔ (البقرۃ : 137) 3۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں۔ (المجادلۃ : 22) 4۔ صحابہ کو براکہنے والے بیوقوف ہیں۔ (البقرۃ : 13)