Ayahs 24:15–18فہم القران
ربط کلام : صحابہ پر خصوصی فضل ورحمت کا تذکرہ کرنے کے بعد انہیں مزید احساس دلایا گیا کہ جس بات کو تم نے معمولی سمجھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گناہ اور نتائج کے اعتبار سے بڑی بات ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت بڑا مقام رکھتی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس بات کو تم ہلکا سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے یعنی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس سے پاکدامن مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اخلاقی فرض تھا کہ جو نہی تم نے اس بات کو سنا تو فوراً کہہ دیتے کہ ہماری کیا مجال کہ ہم سروردوعالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ کے بارے میں منفی بات کریں تمہیں اس میں حصہ لینے کی بجائے صاف صاف کہنا چاہیے تھا یہ تو عظیم بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم حقیقتاً اپنے رب پر ایمان لانے والے ہو تو آئندہ اس قسم کی بات تمہاری زبان پر نہیں آنی چاہیے۔ اس نے اپنے احکام تمہارے لیے کھول کر بیان کردیے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر کام اور ہر بات کو جانے والا ہے اور اس کے ہر حکم اور ارشاد میں حکمت ہوتی ہے۔ مسائل
1۔ مسلمان مرد اور عورت کی عزت و حرمت کے بارے میں منفی بات کرنا بڑا گناہ ہے۔
2۔ صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے بارے میں منفی گفتگو کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔
3۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عصمت و حرمت کے بارے میں منفی گفتگو کرنے سے اجتناب کریں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے :
1۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ (المائدۃ : 1)
2۔ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ( المائدۃ : 98)
3۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو سب کچھ اللہ کو معلوم ہے۔ ( المائدۃ : 99)
4۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے۔ ( المؤمن : 19)
5۔ جو کچھ ہوچکا اور جو ہونے والا ہے سب اللہ کو معلوم ہے اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ ( طٰہٰ : 110)
6۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : 1)
7۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ : 11)
Ayahs 24:19–20فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کو نصیحت کرنے کے بعد منافقین اور بےحیائی پھیلانے والوں کی سزا کا ذکر۔
اللہ تعالیٰ کے احکام واضح ہیں کہ کسی پاکدامن عورت اور مرد پر تہمت نہ لگائی جائے۔ کیونکہ اس سے ایک طرف انفرادی طور پر مسلمان کی بےحرمتی ہوتی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں بےحیائی پھیلتی ہے۔ جس معاشرے میں پاکدامن مردوں اور عورتوں کی عزت محفوظ نہیں وہاں بےشرمی اور بےحیائی عام ہوجاتی ہے۔ جو لوگ بےحیائی کو پھیلاتے اور رواج دیتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اذّیت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پہلی ذلت یہ ہے کہ اسے سرعام اسّی کوڑے لگائے جاتے ہیں ظاہر ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ذلت ہوسکتی ہے۔ دوسری ذلّت یہ ہے کہ وہ اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے جس وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ آخرت میں اس کے لیے عظیم عذاب کی سزا ہے۔ جس معاشرے میں بےحیائی عام ہوجائے وہاں کسی کی عزت سلامت نہیں رہتی۔ چادر اور چار دیواری کا تحفظ پامال ہوجاتا ہے اور عزت والا شخص اپنی عزت کے بارے میں ہر وقت ایک خوف محسوس کرتا ہے۔ جہاں تک بےحیائی پھیلانے والوں کا تعلق ہے وہ بھی قلبی سکون سے محروم ہوجاتے ہیں بظاہر وہ کتنے ہی فیشن ابیل اور ہشاش بشاش دکھائی دیتے ہوں۔ لیکن اندر سے کھوکھلے ہوجاتے ہیں دل کا سکون پانے کے لیے ایسے مرد اور عورتیں شراب نوشی اور دیگر نشہ آورچیزیں استعمال کرتے ہیں بالآخر اپنی صحت بھی برباد کرلیتے ہیں اکثر اوقات ان کا دنیا میں بھی انجام عبرتناک ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ لوگ فیشن اور آزادی کے نام پر بےحیائی پھیلاتے ہیں جنہیں پہچاننا اور ان سے بچنا قدرے مشکل ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو تنبیہ کے طور پر بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جانتا ہے اور مسلمانوں تم انہیں نہیں جانتے کہ وہ کس کس طریقے سے تمہارے درمیان بےحیائی پھیلاتے ہیں۔ بےحیا لوگوں کی بےحیائی سے بچنا اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
یعنی تم لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کی ایک ایک حرکت کے اثرات معاشرے میں کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں، کتنے افراد کو متاثر کرتے ہیں اور مجموعی طور پر ان سے کتنا نقصان ہوتا ہے۔ اس چیز کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اللہ پر اعتماد کرو اور جن برائیوں کی نشان دہی کی جاتی ہے انہیں پوری قوت سے مٹانے اور دبانے کی کوشش کرو۔ یہ چھوٹی باتیں نہیں ہیں جن کے ساتھ روا داری برتی جائے۔ حقیقت میں یہ بڑی باتیں ہیں جن کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔
مسائل
1۔ بےحیائی پھیلانے والے لوگ دنیا میں بھی اذّیت ناک سزا میں مبتلا ہوں گے۔
2۔ بےحیائی پھیلانے والوں کو قیامت کے دن اذّیت ناک عذاب ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ معاف کرنے اور مہربانی فرمانے والا ہے :
1۔ اللہ رحم کرنے والا ہے۔ (الانعام : 133) 2۔ مہربانی فرمانا اللہ نے اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے۔ (الانعام : 54)
3۔ اللہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (یوسف : 64)
4۔ اے نبی ! میرے بندوں کو میری طرف سے خبر کردو کہ میں بخشنے والا، رحم کرنے والا ہوں۔ (الحجر : 49)
5۔ اللہ مومنوں کو اندھیروں سے نکالتا ہے کیونکہ وہ رحم کرنے والا ہے۔ (الاحزاب : 43)
6۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بیشک اللہ معاف اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ : 99)
7۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (الفرقان : 70)
8۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
Ayah 24:21فہم القرآن
ربط کلام : کسی پر تہمت لگانا شیطانی عمل ہے اس لیے مسلمانوں کو شیطان کی پیروی سے منع کیا گیا ہے۔
شیطان کی ہر لمحہ کوشش ہوتی ہے کہ انسان بالخصوص مسلمان کو برائی اور بےحیائی کے کاموں میں مبتلا کرے۔ جب انسان ایک مرتبہ برائی اور بےحیائی کا ارتکاب بیٹھتا ہے تو پھر اس کے لیے سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے اس لیے حکم ہے کہ شیطان کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ قرآن مجید کے پہلے مخاطب صحابہ کرام ؓ تھے لہٰذا تیسری مرتبہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم سے پاک نہیں رہ سکتا تھا یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اسے ہر اعتبار سے پاک صاف رہنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ منافقین نے دیرینہ حسدوبغض کی وجہ سے سروردوعالم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بدنام کرنے کے لیے اس قدر گہری اور منظم مہم چلائی کہ جس سے صحابہ کرام ؓ کا بچنا بہت مشکل تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ گنتی کے دو تین آدمیوں کے سوا کوئی صحابی اس مذوم فعل میں شامل نہیں ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے بطور احسان ذکر فرمایا ہے کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو تم میں سے کسی ایک کا بچنا بھی محال نہ تھا ” خُطْوَہٌ“ کی جمع ” خُطُوَاتٍ “ ہے جس کا معنٰی ہے کسی کے پیچھے قدم بقدم چلنا، ” خُطْوَات الشَّیْطَانُ “ کہہ کر مسلمانوں کو غیرت دلائی گئی ہے کہ کلمہ پڑھنے والوں کی یہ شان نہیں کہ وہ شیطان کی پیروی کرتے ہوئے ہر سنی سنائی بات آگے پھیلاتے جائیں۔
(عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ َ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَفَی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ )
[ رواہ مسلم : باب النَّہْیِ عَنِ الْحَدِیثِ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ]
” حضرت حفص بن عاصم ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا چلا جائے۔ “
انسان جب کسی پر تہمت لگاتا ہے تو اس کے دل میں لا محالہ یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ میں اس سے نیک ہوں اور جس پر تہمت لگا رہا ہے۔ وہ برا اور ناپاک شخص ہے۔ جھوٹی تہمت کے پیچھے خود پسندی کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے اس لیے مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے کہ وہ اپنی پاکبازی کا دعویٰ نہ کریں کیونکہ کوئی انسان اس وقت تک حقیقتاً پاکباز نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ اسے پاکبازی کی توفیق نہ دے جو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کے بغیر ممکن نہیں۔
نبی ﷺ کی دعا :
(أَعُوذ باللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ مِنْ ہَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ ) [ رواہ ابو داود : باب مَنْ رَأَی الاِسْتِفْتَاحَ بِسُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ]
” میں شیطان مردود کے وسوسہ، پھونک اور اس کی چھیڑ چھاڑ سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ مسلمانوں کو شیطان کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے۔ 2۔ شیطان انسان کو برائی اور بےحیائی میں مبتلا کرتا ہے۔
3۔ ہر دم اللہ کا فضل اور مہربانی مانگنی چاہیے کیونکہ اس کی مہربانی کے بغیر شیطان کی پیروی سے نہیں بچا جاسکتا۔
تفسیر بالقرآن
شیطان کی پیروی نہیں کرنی چاہیے :
1۔ شیطان آدمی کو ہر طرف سے گمراہ کرتا ہے۔ (الاعراف : 17) 2۔ شیطان جھوٹی قسموں سے ورغلاتا ہے۔ (الاعراف : 21)
3۔ شیطان اپنی فریب کاری سے پھسلاتا ہے۔ (الاعراف : 22) 4۔ شیطان بےحیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ : 169)
5۔ شیطان برے اعمال کو فیشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (النمل : 24)
6۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو گمراہ کرنے کے لیے قسمیں اٹھائیں۔ (الاعراف : 21)
7۔ شیطان کی پیروی کرنے سے بچنے کا حکم ہے۔ (البقرۃ : 208) 8۔ شیطان کی پیروی کرنا اس کی عبادت کرنا ہے۔ (یٰسٓ: 0 6)
Ayah 24:22فہم القرآن
ربط کلام : سورة النور کا مرکزی عنوان اخلاق ہے اور اخلاق کا یہ تقاضا ہے کہ اگر کسی کو غریب سمجھ کر اس کے ساتھ تعاون کیا جائے تو ذاتی رنجش کی بنیاد پر اس کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرنا چاہیے۔
سیدہ عائشہ ؓ پر تہمت لگانے والوں کے ہم زبان ہونے والے صحابہ میں حضرت مسطح ؓ بھی شامل تھے حضرت مسطح سیدنا صدیق ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ مفلس تھے جس کی وجہ سے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کے ساتھ مسلسل مالی تعاون کیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے صدیقہ کائنات ؓ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تو حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے قسم اٹھائی کہ آئندہ اس شخص کے ساتھ تعاون نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے وسائل کی کشادگی عطا فرمائی ہے ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور مہاجرین کی مدد کرنے سے انکار کریں انہیں معافی اور درگزر سے کام لینا چاہیے۔ اے مسلمانو ! کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے ؟ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ جونہی یہ فرمان نازل ہوا حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے اس بات کا اظہار کیا کہ کیوں نہیں میں تو اللہ تعالیٰ کی بخشش کا طلبگار ہوں اس کے ساتھ ہی حضرت مسطح کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عہد فرمایا۔
(عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ أَفْضَلُ الْفَضَاءِلِ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِیَ مَنْ مَنَعَکَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ ) [ رواہ احمد : مسند سہل بن معاذ بن انس ]
حضرت سہل بن معاذ بن انس اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا فضائل میں سے یہ سب سے بڑی فضیلت والی یہ بات ہے کہ تو اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے جو تجھ سے قطع تعلق کرتا ہے۔ تو اسے دے جو تجھے دینے سے انکاری ہے اور اس سے درگزر کرے جو تجھے گالی گلوچ دیتا ہے۔ “
(الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) [ آل عمران : 134]
” وہ لوگ جو خوشحالی اور تنگی دستی میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں ایسے نیکو کاروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ مخیر حضرات کو ذاتی رنجش کی بناء پر مستحق لوگوں کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرنا چاہیے۔
2۔ رشتہ دار، مساکین اور مہاجرین کے ساتھ تعاون کرتے رہنا چاہیے۔
3۔ مخلص مسلمان سے غلطی سرزد ہوجائے تو اسے معاف کردینا چاہیے۔
4۔ لوگوں کو معاف کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ معاف کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
زیادتی کرنے والوں کو معاف اور درگزر کرنا :
1۔ اے پیغمبر ﷺ زیادتی کرنے والوں کے ساتھ درگزر کیجئے۔ ( الاعراف : 199)
2۔ اگر تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تم کو معاف کرے تو تم بھی دوسروں کو معاف کردیا کرو۔ ( النور : 22)
3۔ اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ ( آل عمران : 134)
4۔ درگزر کرنے سے انسان کو تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ ( البقرۃ : 237)
5۔ آپ انہیں معاف کریں اور درگزر کا رویہّ اختیار کریں حتیٰ کہ اللہ کا حکم آجائے۔ ( البقرۃ : 109)
6۔ زیادتی کا بدلہ ہے جو کوئی معاف کر دے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ ( الشوریٰ : 40)
Ayahs 24:23–25فہم القرآن
ربط کلام : پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سزا۔
سابقہ آیات میں حضرت عائشہ ؓ کے حوالہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے تہمت طرازی سے بچا کریں۔ اب تمام پاکدامن مومن عورتوں کے بارے میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ جس نے پاکدامن، بیخبر بھولی بھالی مسلمان خواتین پر تہمت لگائی ان پر اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں لعنت کریں گے اور ان کے لیے عظیم تر عذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ دنیا میں یہ لوگ اپنی چرب لسانی یا کسی وجہ سے سزا سے بچ جائیں لیکن انہیں وہ دن یاد رکھنا چاہیے جس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کردار کے بارے میں گواہی دیں گے۔ جس کے بارے میں دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر ثبت کریں گے اور پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ ( یٰس : 65) ایک اور مقام پر یوں بیان فرمایا ہے کہ جب مجرموں کے کان، آنکھیں اور پورا جسم ان کے خلاف گواہی دے گا تو وہ اپنے وجود سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ آج تمہیں ہمارے خلاف بولنے کی کس نے طاقت دی ہے۔ مجرم کے تمام اعضا پکار اٹھیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر چیز کو بولنے کی استعداد بخشی ہے (حٰم السجدہ : آیت 20، 21)
اس ارشاد سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ انسان کو اپنی زبان، ہاتھ اور پاؤں کو شریعت کے تابع کردینا چاہیے۔ سروردوعالم ﷺ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلمان کی اس طرح تعریف فرمائی ہے
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ ، وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللَّہُ عَنْہُ ) [ رواہ البخاری : باب الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دیا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَکْلُ الرِّبٰو وَاَکْلُ مَالِ الْےَتِےْمِ وَالتَّوَلِّی ےَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا سات ہلاک کردینے والے گناہوں سے بچتے رہو۔ آپ سے پوچھا گیا اللہ کے رسول وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا (1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا ‘ (2) جادو کرنا (3) ایسے شخص کو قتل کرنا جسے اللہ نے قتل کرنا حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ سود۔ یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے فرار ہونا اور پاک دامن ایمان دار بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔ “
مسائل
1۔ پاک دامن عورتوں پر الزام لگانے والے دنیا و آخرت میں لعنت کے مستحق ہیں۔ قیامت کے دن انہیں بڑے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔
2۔ قیامت کے دن مجرموں کے ہاتھ پاؤں اور زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی۔
3۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا، پورا بدلہ دیا جائے گا۔
4۔ قیامت کے دن سبھی کو بالخصوص مجرموں کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ کی ذات اور اس کا فرمان حق ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسان کے اعضاء اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دیں گے
1۔ قیامت کے دن کان، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 36)
2۔ قیامت کے دن مجرموں کے خلاف ان کے کان، آنکھیں اور جسم گواہی دیں گے۔ (حٰم السجدۃ : 20)
3۔ مجرموں کے ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے۔ (یٰس : 65)
Ayah 24:26فہم القرآن
ربط کلام : تہمت کے بیان میں ایک اور حقیقت کی وضاحت۔ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہوتی ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہوتے ہیں۔
یہاں لوگوں کے طبعی رجحانات اور ان کی اچھی بری فطرت کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ فکرو عمل کے اعتبار سے بےحیا عورتیں بےحیا مردوں کو پسند کرتی ہیں اور بےحیا مرد بےحیا عورتوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ فکرو عمل کے اعتبار سے پاک باز عورتیں پاک پاز خاوندوں کے طور پر پسند کرتی ہیں اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کو بیوی بنانا پسند کرتے ہیں۔ پاکباز مرد اور خواتین کا ان باتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا برے لوگ جو ان کے بارے میں کہتے ہیں۔ ان کی پاکبازی کی وجہ سے ان کی دیگر بشری کمزوریوں کو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے ان کے لیے عمدہ اور باعزت رزق تیار کیا گیا ہے اس ارشاد میں ایک طرف سیدہ صدیقہ حضرت عائشہ ؓ کا صالح کردار اور ان کی پاکیزہ سوچ کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں اشارتاً بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے لیے فکروعمل کے اعتبار سے پاکباز بیویوں کا انتخاب کیا ہے اور یہی مسلمانوں کے لیے اصول ہے کہ وہ ازواجی تعلق قائم کرتے ہوئے اس اصول کو پیش نظر رکھا کریں۔
وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اُرِیْتُکِ فِیْ الْمَنَامِ ثَلٰثَ لَیَالٍ یَجِیْئُ بِکِ الْمَلَکُ فِیْ سَرَقَۃٍ مِّنْ حَرِیْرٍ فَقَالَ لِیْ ھٰذِہِِ أمْرَأَتُکَ فَکَشَفْتُ عَنْ وَجْھِکِ الثَّوْبَ فَاِذَا اَنْتِ ھِیَ فَقُلْتُ اِنْ یَّکُنْ ھٰذَا مِنْ عِنْدِاللّٰہِ یُمْضِہٖ ۔ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا ]
” حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بتایا کہ تین راتیں تو مجھے خواب میں دکھائی گئی۔ فرشتہ ریشم کے ٹکڑے میں لپیٹ کر تیری تصویر لاتا رہا اور اس نے مجھے بتایا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ جب میں نے تیرے چہرے سے نقاب اٹھایا تو واقعتا ہی تھی۔ پس میں نے سوچا یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ وہ ایسا کرے گا۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِھَا وَلِحَسَبِھَا وَلِجَمَالِھَا وَلِدِیْنِھَا فَاظْفُرْ بِذَات الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب النکاح، باب الأکفاء فی الدین ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : عورت سے چار وجوہات کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے۔ مال کی وجہ سے، حسب ونسب کی بناء پر، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی بنیاد پر۔ پس تم دین دار کو پسند کرو تاکہ تم کامیاب اور خوش وخرم رہو۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ “
پاکباز عورت کا خصوصی وصف :
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ اَنَّ بَعْضَ اَزْوَاج النَّبِیِّ ﷺ قُلْنَ للنَّبِیِّ ﷺ اَیُّنَا اَسْرَعُ بِکَ لُحُوقًا ؟ قَالَ اَطْوَلُکُنَّ یَداً فَاَخَذُوْا قَصْبَۃً یَذْرَعُوْنَھَا وَکَانَتْ سَوْدَۃُ اَطْوَلَھُنَّ یَدًا فَعَلِمْنَا بَعْدُ اِنَّمَا کَانَ طُوْلَ یَدِھَا الصَّدَقَۃُ وَ کَانَتْ اَسْرَعَنَا لُحُوْقًابِہٖ زَیْنَبُ وَ کَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَۃَ (رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ ) وَِ فی رِوَایَۃِ مُسْلِمٍ قَا لَتْ قَالَ رَ سُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَسْرَ عُکُنَّ لُحُوقًابِیْ اَطْوَلُکُنَّ یَدًا قَالَتْ وَ کَانَتْ یَتَطَاوَلْنَ اَیَّتُھُنَّ اَطْوَلُ یَدًا قَالَتْ فَکَانَتْ اَطْوَلُنَا یَدًا زَیْنَبُ لِاَنَّھَا کَانَتْ تَعْمَلُ بِیَدِھَا وَ تَتَصَدَّقُ ) [ رواہ مسلم : باب مِنْ فَضَاءِلِ زَیْنَبَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ r ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں بعض نے آپ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے کون سی بیوی آپ سے جنت میں پہلے ملے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ انہوں نے چھڑی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو ناپنا شروع کیا۔ حضرت سودہ ؓ کے ہاتھ سب سے لمبے تھے لیکن ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ہاتھ لمبے ہونے سے مراد زیادہ صدقہ دینا تھا۔ چناچہ ہم سے جو پہلے آپ سے ملیں وہ حضرت زینب تھی جو صدقہ و خیرات کرنے کو بہت پسند کرتی تھی۔ (بخاری) مسلم کی روایت میں ہے حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا رسول معظم ﷺ نے فرمایا جنت میں مجھے سب سے پہلے وہ بیوی ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ کی بیویاں اندازہ لگاتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں چناچہ ہم میں سے زینب کے ہاتھ لمبے ثابت ہوئے۔ اس لیے کہ وہ ہاتھ سے محنت کرتی اور اسے صدقہ و خیرات کردیا کرتی تھیں۔ “
مسائل
1۔ خبیث مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
2۔ پاکباز مرد اور عورتیں پاکبازوں کے ساتھ ہی رشتہ قائم کرتے ہیں۔
3۔ پاکباز مرد اور عورتوں کو بری باتوں اور بدکاری کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔
Ayahs 24:27–28فہم القرآن
ربط کلام : تہمت اور ہر قسم کی برائی سے بچانے کے لیے مسلمانوں کو معاشرتی اصول بتلائے گئے ہیں۔
اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں ایک دوسرے کے گھر بلا اجازت جانا عیب تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام نے معاشرے کو بےحیائی اور بدگمانیوں سے پاک رکھنے کے لیے ایسے اصول جاری فرمائے کہ اگر مسلمان ان اصول کی پاسداری کریں تو مسلمان معاشرہ بیشمار برائیوں اور ہر قسم کی بےحیائی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس سے پہلے زبان، ہاتھ اور پاؤں کے حوالہ سے بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ گواہی دیں گے کہ انسان ان سے کیا کیا کام لیتا رہا۔ اب یہ حکم ہوا ہے کہ اے مسلمانوں اپنے گھروں میں بلا اجازت نہ جایا کرو اجازت ملنے پر گھروالوں کو سلام کہو یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہو اگر تم کسی کے ہاں جاؤ اور اسے نہ پاؤ تو اس کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو۔ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے اگر تمہیں لوٹ جانے کے لیے کہا جائے تو تمہیں واپس ہوجانا چاہیے اس طرح واپس ہونا تمہارے لیے بہت ہی بہتر بات ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو پوری طرح جاننے والا ہے کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اس سے اجازت لینا ضروری ہے اور اجازت کے دو طریقے حدیث رسول ﷺ سے ثابت ہیں۔ 1 دروازہ کھٹکھٹا یا جائے اندر سے آواز آنے پر سلام کہا جائے۔ 2 دروازہ کھٹکھٹانے کی بجائے اونچی آواز سے سلام کہا جائے اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو خوش دلی کے ساتھ واپس پلٹ جانا چاہیے۔ یہاں گھروں کے لیے اپنے گھر کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جس سے یہ سمجھنا مقصود ہے کہ مسلمان کو دوسرے مسلمان کے گھر اور عزّت کو اپنا گھر اور عزت سمجھنا چاہیے۔ جس طرح ہر غیور مسلمان اپنے گھر اور اہل خانہ کے بارے میں سوچتا اور چاہتا ہے دوسرے کے گھر اور اہلخانہ کے بارے میں بھی ایسے ہی خیالات ہونے چاہیں۔
(عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ سَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أُمِّی فَقَالَ نَعَمْ قَال الرَّجُلُ إِنِّی مَعَہَا فِی الْبَیْتِ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ اسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا فَقَال الرَّجُلُ إِنِّی خَادِمُہَا فَقَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ ﷺ اسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاہَا عُرْیَانَۃً قَالَ لاَقَالَ فَاسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا)
[ موطا امام مالک : باب الاستئذان ]
” حضرت عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ کیا میں اپنی والدہ کے پاس جاتے ہوئے بھی اجازت طلب کروں، آپ نے فرمایا ہاں ! آدمی کہنے لگا میں اس کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجازت طلب کرو۔ اس نے کہا میں اس کا خدمت گزار ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر بھی اجازت طلب کرو کیا تو اسے عریاں حالت میں دیکھنا پسند کرتا ہے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اس لیے اجازت طلب کرو۔ “ (اس اجازت سے مراد ہے کہ ماں کی خلوت گاہ میں جانے سے پہلے بیٹے کو ایسا اشارہ ضرور دینا چاہیے جس سے اس کی ماں آگاہ ہو سکے۔
(وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ اَتَیْتُ النَِّبیَّ فِیْ دَیْنٍ کَانَ عَلٰی اَبِیْ فَدَقَقْتُ البَابَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ اَنَا فَقَالَ اَنَا اَنَا ! کَاَنَّہٗ کَرِھَھَا) [ رواہ البخاری : باب اِذَا قَالَ مَنْ ذَا فَقَالَ أَنَا ]
” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد مقروض تھے۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دروازے پر دستک دی۔ آپ نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا ‘ میں ہوں۔ آپ نے فرمایا ‘ میں ہوں ! میں ہوں ! گو یا کہ آپ نے اسے ناپسند کیا۔ “ (دوسری روایت میں ہے کہ میں کہنے کی بجائے اپنا نام بتلانا چاہیے۔ )
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے اور ان سے تین بار اجازت طلب کی پھر واپس پلٹ گئے حضرت عمر ؓ نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور کہا کیا بات ہے آپ اندر کیوں نہیں آئے ؟ ابو موسیٰ ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تین بار اجازت طلب کی جائے اجازت مل جائے تو گھر داخل ہو اگر اجازت نہ ملے تو واپس پلٹ جائے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس حدیث کو کون جانتا ہے اگر شہادت نہ لایا تو میں تجھے فلاں فلاں سزا دوں گا۔ حضرت ابو موسیٰ مسجد میں انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے میں نے عمر بن خطاب کو بتلایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ اجازت تین بار طلب کی جائے اگر مل جائے تو گھر میں داخل ہو اور اگر اجازت نہ ملے تو واپس پلٹ جائے عمر ؓ بن خطاب نے مجھے کہا اگر تصدیق کے طور پر میرے پاس کوئی صحابی نہ لایا میں تو تجھے فلاں فلاں سزا دوں گا۔ آپ میں سے کوئی اس حدیث کے بارے میں جانتا ہے تو میرے ساتھ چلے انہوں نے ابو سعید خدری ؓ کو کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ۔ ابو سعید خدری ؓ عمر میں چھوٹے تھے انہوں نے حضرت عمر ؓ بن خطاب کے سامنے اس حدیث کی تصدیق کی حضرت عمر نے ابو موسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں آپ کو کسی قسم کی تہمت نہیں دیتا لیکن میں خدشہ محسوس کرتا ہوں کہ لوگ نبی ﷺ کی حدیثیں بنانا نہ شروع کردیں۔ “ [ موطا امام مالک : باب الاستئذان ]
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ﷺ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَہُ بِعَصَاۃٍ ، فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ ، لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ جُنَاحٌ) [ رواہ البخاری : باب مَنْ أَخَذَ حَقَّہُ أَوِ اقْتَصَّ دُون السُّلْطَانِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی بندہ اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا لاٹھی کے ساتھ اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ “
5 دروازے کے دائیں بائیں کھڑا ہونا۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا أَتَی بَابَ قَوْمٍ لَمْ یَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْہِہِ وَلَکِنْ مِنْ رُکْنِہِ الأَیْمَنِ أَوِ الأَیْسَرِ وَیَقُول السَّلاَمُ عَلَیْکُمُ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَذَلِکَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہَا یَوْمَءِذٍ سُتُورٌ) [ رواہ ابوداؤد : باب الاستیذان ]
” حضرت عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کے دروازے پر جاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ دروازے کی دائیں جانب یا بائیں جانب کھڑا ہوتے اور سلام کہتے اس دور میں گھروں کے دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ “
مسائل
1۔ کسی کے گھر بلا اجازت داخل نہیں ہونا چاہیے۔
2۔ اجازت ملنے پر پہلے سلام کہنا چاہیے۔
3۔ گھر والا نہ ملنا چاہے تو واپس لوٹ آنا چاہیے۔
Ayah 24:29فہم القرآن
ربط کلام : آداب معاشرت کے اصولوں کا بیان جا رہی ہے۔
جن گھروں میں کسی کی سکونت نہ ہو اور ان میں کسی آدمی کا سامان پڑا ہو تو اس گھر میں داخل ہونے میں کوئی حرج نہیں اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جو انسان چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اس آیت کے آخری الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر آباد گھروں میں بھی داخل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک طرف یہ غیر سنجیدہ حرکت ہے تو دوسری طرف اردگرد پڑوسی اس طرح داخل ہونے والے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے تنبیہ کے الفاظ میں ارشاد ہوا کہ لوگو ! جو تم سر عام کرتے ہو یا چھپا کر اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح واقف ہے البتہ ہوٹل، سرکاری دفاتر اور وہ ڈیرے جہاں لوگ سیاسی، معاشرتی اور کاروباری تبادلہ خیال کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں ایسی جگہوں میں بلا اجازت داخل ہونا اس لیے گناہ نہیں کیونکہ یہ جگہیں سب کے لیے یکساں حیثیت رکھتی ہیں۔
مسائل
1۔ غیر رہائشی مکانوں میں بغیر اجازت کے آیا جاسکتا ہے۔
2۔ اللہ چھپی اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے۔
Ayahs 24:30–31فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی آداب سکھلانے کے بعد ذاتی اور انفرادی شرم و حیا کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام جرائم کے قلع قمع کے لیے خارجی اور داخلی محرکات کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ برائی اور بےحیائی اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک خارجی اسباب اور داخلی محرکات پر قابو نہ پایاجائے۔ داخلی محرکات میں انسان کے مثبت اور منفی جذبات کا اثر اس کے فکر وعمل پر ہوتا ہے۔ دل میں کسی کے بارے میں احترام ہو تو آنکھوں میں عقیدت واحترام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ دل میں کسی کے بارے میں غصہ یا بےحیائی ہو تو آنکھیں اس کی چغلی کھاتی ہیں گویا کہ اچھے برے جذبات کی ترجمانی کرنا انسان کے چہرے اور آنکھوں کا فطری عمل ہے۔ ظاہری طور پر بےحیائی کی ابتدا آنکھوں سے ہوتی ہے اس لیے مومن مرد اور مومن عورتوں کو ایک جیسے الفاظ میں حکم دیا ہے کہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ شخصی کردار اور معاشرے کے لیے انتہائی پاکیزہ انداز ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں۔ یہاں پہلے مومنوں کو حکم دیا گیا کیونکہ مرد کی نسبت عورت میں حیا زیادہ اور بےحیائی کے اظہار میں جرأت کم ہوتی ہے۔ مرد میں جرأت زیادہ ہونے اور عورتوں کے ساتھ فطری کشش کی بنا پر دیکھا گیا ہے کہ دیکھا دیکھی کی ابتدا مرد کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے مومنوں کو پہلے حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہی دونوں حکم عورتوں کو دیے گئے ہیں نگاہیں نیچی رکھنے سے مراد یہ نہیں کہ عورت بازار میں چلتے ہوئے ٹھوکریں کھاتی پھرے۔ نگاہیں نیچی رکھنے سے مراد کسی غیر محرم کو دانستہ طور پر دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ جہاں تک کسی پر اچانک نظر پڑنے کا معاملہ ہے اسے معاف کردیا گیا ہے بشرطیکہ اس طرف دوبارہ نظر نہ اٹھائی جائے۔ عورتوں کے لیے تیسرا حکم یہ ہے کہ وہ اپنا بناؤ سنگھار دانستہ طور پر غیر محرم کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ سوائے اس کے جو فطری اور مجبوری کی وجہ سے ظاہر ہوجائے عورت کو اپنی زینت چھپانے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی اوڑھنیوں سے اپنے چہرے اور گریبان ڈھانپا کریں انہیں محرم رشتوں کے سوا کسی کے سامنے اپنی زیب وزینت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں۔
(وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا اَدْرَکَ ذَالِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَاالْعَےْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَتَشْتَھِیْ وَالْفَرْجُ ےُصَدِّقُ ذٰلِکَ وَےُکَذِّبُہُ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ لِّمُسْلِمٍ قَالَ کُتِبَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ نَصِےْبُہُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِکٌ ذالِکَ لَا مَحَالَۃَ الْعَےْنَانِ زِنَاھُمَا النَّظَرُ وَالْاُذُنَانِ زِنَاھُمَا الْاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلاَمُ وَالْےَدُ زِنَاھَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاھَا الْخُطٰی وَالْقَلْبُ ےَھْوِیْ وَےَتَمَنّٰی وَےُصَدِّقُ ذَالِکَ الْفَرْجُ وَےُکَذِّبُہُ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب (وَحَرَامٌ عَلَی قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا أَنَّہُمْ لاَ یَرْجِعُونَ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر اس کے حصہ کے زنا لکھ دیا ہے وہ اس کو ضرور پالے گا۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے۔ انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے وہ شہوت پر آمادہ ہوتا ہے شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا آدم کے بیٹے پر اس کے زنا کا حصہ ثبت ہے وہ لازم طور پر اس کو پانے والا ہے۔ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا کلام کرنا ہے۔ ہاتھ کا زناپکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے، دل خواہشات کو ابھارتا اور آرزوئیں پیدا کرتا ہے۔ شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ اِنِّیْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً مِّنَ الْاَنْصَارِ قَالَ فَانْظُرْ اِلَیْھَا فَاِنَّ فِیْ اَعْیُنِ الْاَنْصَارِ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : باب نَدْبِ النَّظَرِ إِلَی وَجْہِ الْمَرْأَۃِ وَکَفَّیْہَا لِمَنْ یُرِیدُ تَزَوُّجَہَا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی نے حاضر ہوا کر عرض کی کہ میں قبیلۂ انصار کی ایک عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اسے دیکھ لینا کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ نقص ہوتا ہے۔ “
(عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ قَالَ لِی رَسُول اللَّہِ ﷺ اَ تُتْبِعِ النَّظَرَ النَّظَرَ فَإِنَّ الأُولَی لَکَ وَلَیْسَتْ لَکَ الأَخِیرَۃُ ) [ رواہ احمد : مسند علی ابن ابی طالب ]
” حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے فرمایا کہ ایک بار دیکھنے کے بعد دوسری بار مت دیکھو پہلی نظر تجھے معاف ہے اور دوسری دفعہ دیکھنا جائز نہیں۔ “
زمانۂ جاہلیت میں عورتیں سروں پر ایک طرح کے کساوے سے باندھے رکھتی تھیں جن کی گرہ جوڑے کی طرح پیچھے چوٹی پر لگائی جاتی تھی۔ سامنے گریبان کا ایک حصہ کھلا رہتا تھا جس سے گلا اور سینے کا بالائی حصہ صاف نمایاں ہوتا تھا۔ چھاتیوں پر قمیص کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوتی تھی اور پیچھے دو دو تین تین چوٹیاں لہراتی رہتی تھیں، تفسیر کشاف جلد 2، ابن کثیر جلد 3 اس آیت کے نزول کے بعد مسلمان عورتوں میں دوپٹہ رائج کیا گیا جس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آج کل کی صاحبزادیوں کی طرح بس اسے بل دے کر گلے کا ہار بنا لیا جائے۔ بلکہ یہ تھا کہ اسے اوڑھ کر سر، کمر، سینہ سب اچھی طرح ڈھانک لیے جائیں۔ اہل ایمان خواتین نے قرآن کا یہ حکم سنتے ہی فوراً جس طرح اس کی تعمیل کی اس کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب سورة نور نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے سن کر لوگ اپنے گھروں کی طرف پلٹے اور جا کر انہوں نے اپنی بیویوں، بیٹیوں، بہنوں کو اس کی آیات سنائیں۔ انصار کی عورتوں میں سے کوئی ایسی نہ تھی جو آیت (وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمْرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ ) کے الفاظ سن کر اپنی جگہ بیٹھی رہ گئی ہو۔ ہر ایک اٹھی اور کسی کی چادر بنائی اور دوسرے دن صبح کی نماز کے وقت جتنی عورتیں مسجد میں حاضر ہوئیں سب چادریں اوڑھے ہوئے تھیں۔ اسی سلسلے کی ایک روایت میں حضرت عائشہ ؓ مزید تفصیل بتاتی ہیں کہ عورتوں نے باریک کپڑے چھوڑ کر اپنے موٹے موٹے کپڑے چھانٹے اور ان کی چادریں بنائی۔ ( ابن کثیر ج 3، ابو داؤد کتاب اللباس)
مسائل
1۔ مومن مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہیں جھکا کر رکھنی چاہئیں۔
2۔ مومن مرد و عورت کو اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنی چاہے۔
3۔ مومنہ عورتوں کے لیے لائق نہیں کہ وہ اپنی زیب وزیبائش کا اظہار غیر محرموں کے سامنے کریں۔
4۔ سابقہ جرائم کی اللہ سے معافی مانگی چاہیے۔
5۔ جرائم سے توبہ تائب ہونا اور نیکی کو اختیار کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ سب کے اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 24:32فہم القرآن
ربط کلام : نظر اور شرمگاہ کو بچانے کے لیے نکاح کرنے کا حکم۔
اس سورة کی آیت 26 میں یہ ارشاد ہوا کہ پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لیے اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لیے ہیں یعنی انہیں ایک دوسرے سے نکاح کرنا چاہیے اب کھلے الفاظ میں حکم دیا ہے کہ جو لوگ غیر شادی شدہ ہیں انہیں اپنے میں سے یعنی مسلمانوں سے نکاح کرنا چاہیے اور جو تم میں نیک غلام اور لونڈیاں ہیں ان کے بھی ایک دوسرے کے ساتھ نکاح ہونے چاہئیں اگر وہ غریب ہوں تو انہیں نکاح کرنے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں غنی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بہت وسعت والا اور ہر کام اور بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اسلام سے پہلے مختلف مذاہب میں لوگ تارک الدنیا ہونے کو سب سے بڑی نیکی سمجھتے تھے۔ جس طرح آج بھی ہندوؤں کے گرو اور پروہت، عیسائیوں کے پوپ، پادری شادی کروانے کو دنیاداری تصور کرتے ہیں۔ اسلام نے جسمانی عذر کے بغیر شادی نہ کرنے کو گناہ قرار دیا ہے ہندو، عیسائی، بدھ مت اور دیگر مذاہب کا عقیدہ ہے کہ شادی نہ کرنے والا دوسروں سے نیک ہوتا ہے لیکن اسلام کا تصور یہ ہے کہ شادی کرنے سے انسان کی آنکھوں میں حیا اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا نکاح کرنا میری سنت ہے اور جو میری سنت سے انحراف کرے گا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ (ابن ماجۃ : باب ماجاء فی فضل النکاح) جہاں تک غربت کا معاملہ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ تسلّی دی ہے کہ تم غربت سے ڈرنے کی بجائے اپنے رب کا حکم سمجھ کر نکاح کرو۔ جب تم اس کا حکم سمجھ کر نکاح کروگے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا نتیجہ ہے کہ آج تک کوئی شخص ایسا نہیں ہوا۔ جو شادی کرنے کی وجہ سے پہلے سے زیادہ غریب ہوا ہو۔ بشرطیکہ وہ محنت مزدوری کو عارنہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی روزی میں پہلے کی نسبت وسعت کردیتا ہے آدمی کے جتنے بھی بچے ہوں اللہ تعالیٰ انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے کیونکہ وہ کشادگی کا مالک اور سب کو روزی فراہم کرنے والا ہے اسی بات کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ جو بھی ذی روح زمین پر چلنے پھرنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی اپنے ذمہ لے رکھی ہے وہ انسان کی مستقل قیام گاہ اور اس کے عارضی پڑاؤ سے پوری طرح واقف ہے اس نے ہر کسی کی روزی اور اس کے حالات کو لوح محفوظ پر لکھ رکھا ہے ( ھود : 6) ” ایامی ایم “ کی جمع ہے جو ہر اس مرد اور عورت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کنوارہ ہو یا کسی وجہ سے رنڈوا ہو۔ جہاں تک رنڈوے مرد اور عورت کے نکاح کا تعلق ہے اس کے لیے یہ حکم نہیں کہ وہ دوسرا نکاح کرے اگر وہ اپنی اولاد یا کسی دوسری وجہ سے دوسرا نکاح نہیں کرنا چاہتا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ اپنی طبیعت پر ضبط رکھنے والا ہو۔
(عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّیْنِ کَہَاتَیْنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَوْمَأَ یَزِید بالْوُسْطَی وَالسَّبَّابَۃِ امْرَأَۃٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِہَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَہَا عَلَی یَتَامَاہَا حَتَّی بَانُوا أَوْ مَاتُوا) [ رواہ ابوداود : باب فِی فَضْلِ مَنْ عَالَ یَتَامَی ]
” حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور سیاہ رخساروں والی عورت قیامت کے دن اس طرح ہوں گے۔ آپ نے سبابہ اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ ایسی عورت بھی جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو باوجود اس کے وہ حسب و نسب اور شکل و صورت والی ہو لیکن پھر بھی اپنے شوہر کے یتیم ہونے والے بچوں کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیتی ہے حتیٰ کہ بچے گھر بار والے ہوجائیں یا فوت ہوجائیں۔ “
(سیاہ رخساروں والی سے مراد وہ عورت ہے جو محنت، مزدوری اور باورچی خانے کا کام کرنے کی وجہ سے اپنا بناؤ سنگھار نہیں کرسکتی جس وجہ سے اس کے چہرے کی رنگت سیاہی میل ہوگئی ہے۔ )
مسائل
1۔ جو لوگ نکاح کرنے کے قابل ہوں انہیں نکاح کرنا چاہیے۔
2۔ نیک غلاموں اور لونڈیوں کے بھی نکاح کرنے چاہئیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ غریبوں کو غنی کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے۔
1۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : 58) 2۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (ا لسباء : 39)
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132)
4۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : 212) 5۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج : 58)
6۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : 60)
7۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں اور انھیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : 152)
Ayahs 24:33–34فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے غلاموں کے نکاح کے حوالے سے ذکر ہوا، لہٰذا ضروری سمجھا گیا کہ ان کی آزادی کا ذکر بھی کیا جائے۔
اس آیت میں آزاد کنوارے مرد اور عورت، غلام اور لونڈی کو نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ کسی شرعی عذر یا غربت کی وجہ سے ازواجی رشتہ میں منسلک نہیں ہوسکتے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے دامن کو بدکاری سے بچائے رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔ غلام کیونکہ دوسرے کا محتاج ہوتا ہے اگر وہ اپنے آقا سے مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہے تو ان کے ساتھ مکاتبت کرنا لازم ہے اگر ان میں نیکی اور خیر کا جذبہ معلوم ہو تو حکم ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے مال سے ان کی معاونت کرو اور کوئی شخص مال کے لالچ میں اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور نہ کرے جو کوئی لونڈی کو بدکاری پہ مجبور کرے گا۔ اللہ تعالیٰ لونڈی کی مجبوری کو بخشنے والا اور اس پر رحم فرمانے والا ہے اس آیت مبارکہ میں پانچ مسائل بیان کیے گئے ہیں 1 جو کسی شرعی وجہ سے نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مرد ہو یا عورت اسے ہر صورت اپنے دامن کو بدکاری سے بچانا ہوگا۔ 2 کوئی غلام مکاتبت کے ذریعے آزاد ہونا چاہے تو اسے آزاد کردینا چاہیے مکاتبت سے مراد وہ معاہدہ ہے جو غلام اپنی آزادی کے لیے اپنے آقا کے ساتھ کرتا ہے۔ باہم معاہدہ کے تحت اگر میں آپ کو رقم ادا کروں یا فلاں شرط پوری کردوں تو میں آزادہونگا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ بَرِیرَۃَ أَتَتْہَا وَہِیَ مُکَاتَبَۃٌ قَدْ کَاتَبَہَا أَہْلُہَا عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ لَہَا إِنْ شَاءَ أَہْلُکِ عَدَدْتُ لَہُمْ عَدَّۃً وَاحِدَۃً وَکَانَ الْوَلاَءُ لِی قَالَ فَأَتَتْ أَہْلَہَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُمْ فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ تَشْتَرِطَ الْوَلاَءَ لَہُمْ فَذَکَرَتْ عَاءِشَۃُ ذَلِکَ للنَّبِیِّ ﷺ فَقَالَ افْعَلِی قَالَتْ فَقَام النَّبِیّ ﷺ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَاب اللَّہِ کُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَاب اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَان ماءَۃَ شَرْطٍ کِتَاب اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ وَالْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ) [ رواہ البخاری : باب المکاتب ]
” نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں۔ بریرہ میرے پاس آئی اور اس نے مکاتب کی تھی اس کے مالک نے یہ شرط عائد کی کہ اگر نو اوقیہ چاندی ادا کر دے تو تو آزاد ہے سیدہ عائشہ ؓ نے اسے فرمایا اگر تیرے مالک چاہیں تو میں اس رقم کا ایک ہی بار انتظام کیے دیتی ہوں لیکن ولاء میری ہوگی راوی کہتا ہے بریرہ اپنے مالکوں کے پاس آئی اور سیدہ عائشہ کی پیشکش کا تذکرہ کیا تو انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ ولاء ہماری ہوگی سیدہ عائشہ نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا۔ آپ نے فرمایا : تو اس کی رقم ادا کر دے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اس کے بعد نبی ﷺ نے لوگوں میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں اور ہر ایسی شرط ناجائز ہے۔ جس کا کتاب اللہ میں وجود نہ ہو اگرچہ ایسی سو شرائط ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی کتاب برحق ہے اور اللہ کی شرائط
مستقل ہیں ولاء کا حق دار وہی ہے جو آزاد کرائے۔ “
3 جو غلام اپنے آقا کے ساتھ مکاتبت کرے اس کا آقا یا کوئی دوسرا شخص اس کے ساتھ مالی معاونت کرے تاکہ اسے غلامی سے نجات حاصل ہوجائے۔ 4 اسلام سے قبل بعض لوگ اس لیے اپنی لونڈیاں پاس رکھتے تھے کہ ان کی بدکاری سے آمد ن حاصل کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم اور بےغیرتی سے منع فرمایا یہاں اگر وہ بدکاری سے بچنا چاہیں کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں اگر وہ بدکاری سے نہیں بچنا چاہتیں تو پھر ان کی کمائی کھائی جاسکتی ہے۔ ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں کسی صورت بھی بدکاری پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ 5 اگر کوئی ظالم اور بےغیرت آقا اپنی لونڈی کو کسی کے ساتھ بدکاری کرنے پر مجبور کرتا ہے اور وہ بےچاری نہ چاہنے کے باوجود اس کام میں ملوث ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے اسے معاف فرمائے گا۔
غلام کو سزا دینے کی بجائے آزاد کردینا چاہیے :
( عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَہٗ حَدًّا لَمْ ےَاْتِہٖ اَوْ لَطَمَہٗ فَإِنَّ کَفَّارَتَہٗ اَنْ یُّعْتِقَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب صحبۃ الممالیک وکفارۃ من لطم عبدہ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ‘ آپ فرما رہے تھے جس شخص نے اپنے غلام کو حد لگائی حالانکہ کہ اس نے وہ غلطی نہیں کی یا اس کو طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ مالک اسے آزاد کر دے۔ “
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا۔۔ تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے زیردست کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے بھائی کو اس کے ماتحت کر رکھاہو ‘ تو وہ اسے وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسی طرح کا پہنائے جیسے خود پہنتا ہے اور اس سے اتنا کام نہ لے جو اس کے لیے مشکل ہو۔ اگر اس سے مشکل کام لے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔ “ [ رواہ البخاری : باب ما ینھیمن السب واللعن ]
” حضرت ابی ہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں تین آدمیوں کے بارے میں جھگڑا کروں گا۔ 1 ایسا آدمی جس نے میری بیعت کرنے کے بعد توڑ دی کی 2 جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت حاصل کی 3 جس نے کسی آدمی کو مزدور رکھا اس سے کام پورا لیا اور اجرت نہ دی۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب البیوع ]
1۔ آزاد آدمی کو غلام بنانا یا فروخت کرنا حرام ہے۔ اس بنا پر کسی باپ کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو فروخت کرے۔ مذکورہ بالا اختصار کے ساتھ پیش کئے گئے۔ (تفصیل کے لیے پانچویں پارے کی پہلی آیات کی تفسیر دیکھیں۔ )
مسائل
1۔ آدمی کو ہر صورت بےحیائی اور بدکاری سے بچنا چاہیے۔
2۔ غلام اپنے آقا سے مکاتبت کرنا چاہے تو اس کے ساتھ مکاتبت کرنا لازم ہے۔
3۔ مکاتبت کرنے والے غلام کے ساتھ مالی تعاون کرنا چاہیے۔ 4۔ لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنا گناہ ہے۔