24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsفہم القرآن

Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

” اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال یوں ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھاہو اہو۔ چراغ ایک فانوس میں ہو۔ فانوس موتی کی طرح چمکتا ہو اتارا ہو اور چراغ زیتون کے ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا گیا ہو۔ جو نہ شرقی ہو نہ غربی جس کا تیل اپنے آپ ہی بھڑک اٹھتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے اللہ جس کی چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہے رہنمائی فرماتا ہے وہ مثالوں سے لوگوں کو سمجھاتا ہے اور وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال اس طرح ہے جس طرح ایک طاق میں چراغ ہو۔ چراغ شیشے کے فانوس میں رکھا ہوا ہے فانوس اس چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے اس کے اندر رکھے ہوئے چراغ میں زیتون کا تیل ہے جو ایسے مبارک درخت سے لیا گیا ہے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ چراغ کے تیل کو آگ نہ بھی دکھلائی جائے مگر پھر بھی روشن ہوجائے۔ دیکھنے والے کو یوں لگے جیسے روشنی پر روشنی پھوٹ رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے نور سے راہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ انہیں بات سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں دی گئی مثال کو اہل علم نے تین انداز میں سمجھا ہے 1 اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے اور اسی کے نور سے ہر چیز چمک رہی ہے جسے سمجھانے کے لیے ایسے چراغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو چراغ اپنی جگہ رکھا ہوا ہے اور اس چراغ میں زیتون کے ایسے درخت سے تیل لیا گیا ہے جو باغ کی مشرقی اور مغربی جانب ہونے کی بجائے درمیان میں ہے جس کا تیل اور پھل دوسرے پودوں سے عمدہ ہوتا ہے۔ کچھ مفسرین نے ” لَا شَرْقِیَّۃٍ وَلَاغَرَبِیَّۃٍ “ کا یہ مفہوم لیا ہے کہ وہ ایسا درخت ہے جو کھلے میدان میں اپنے چاروں جانب سے روشنی اور ہوا لے رہا ہے اس کا تیل باقی زیتون کے پودوں سے زیادہ چمکدار ہوتا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ کا نور نہ شرقی ہے نہ غربی۔ بلکہ وہ اپنی ہر جانب روشن کیے ہوئے ہے اس سے مراد ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہے اور اس کے نور سے ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے نور کو سمجھانے کے لیے نور کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مراد اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے علامہ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں نور ہدایت ڈالتا ہے جس کے لیے یہ مثال دی گئی ہے۔ (عَنْ أُبِّی کَعْبِ فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ (اللَّہُ نُور السَّمٰوٰاتِ وَالأرْضِ ) قَالَ ہُوَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ جَعَلَ (اللّٰہُ ) الْاِیْمَانَ وَالْقُرْآنَ فِیْ صَدْرِہٖ ، فَضَرَ بَ اللّٰہِ مِثْلَہٗ فَقَالَ (اللَّہُ نُور السَّمٰوٰاتِ وَالأرْضِ ) فَبَدَأَ بِنُوْرِ نَفْسِہٖ ، ثُمَّ ذَکَرَ نُوْرُ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ مِثَلُ نُوْرٍ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ قَالَ فَکَانَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یَقْرَؤُ ہَا مَثَلُ نُوْرِ مَنْ اٰمَنَ بِہٖ ) فَہُوَ الْمُوْمِنُ جَعْلَ اَلْاِیْمَانَ وَالْقُرْاٰنَ فِیْ صَدْرِہٖ وَہٰکَذَا قَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَقَیْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہٗ قَرَأَہَا کَذٰلِکَ نُوْرٌ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ ) [ تفسْیر ابن کثیر : ج 6 ص 57] ” حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مومن کا سینہ ایک طاق کی طرح ہے اس میں دل کی حیثیت چراغ کی مانند ہے جس میں فطری ہدایت زیتون کے تیل کی طرح ہے جسے مومن کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ مومن کا دل خود بخود ہدایت کی طرف راغب رہتا ہے جو قرآن وسنت کے علم سے منور ہو کر ایک دنیا کو روشن کرتا ہے یہ فطری ہدایت پیدائش کے وقت ہر انسان میں موجود ہوتی ہے جسے لوگ باطل عقیدہ اور برے اعمال کی وجہ سے ضائع کر بیٹھتے ہیں جس کی فطرت میں ہدایت کا نور باقی رہے اللہ تعالیٰ اسے اپنے نور کی طرف آنے کی مزید توفیق دیتا ہے امام بغوی (رح) نے ایک روایت میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کعب بن احبار ؓ سے استفسار کیا کہ آپ اس آیت کا کیا مفہوم لیتے ہیں ؟ احبار مسلمان ہوچکے تھے اور تورات، انجیل پر عبور رکھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ زجاجۃ سے مراد رسول اکرم ﷺ کا دل ہے آپ کا سینہ طاق کی حیثیت رکھتا ہے اور مصباح سے مراد آپ کی نبوت ہے۔ (بحوالہ تفسیر طبری) یعنی دین اسلام ہے جو انسانیت نہیں بلکہ پوری مخلوق کے لیے چشمہ فیض ہے
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

” ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا اور جن میں اپنے نام کے ذکر کا اللہ نے حکم دیا ہے ان میں ایسے لوگ جو صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں کو ” اللہ “ اپنے نور کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو مساجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر و اذکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ہدایت سے نوازا ہے انہیں حکم دیا کہ وہ مساجد میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بلند کریں اور مساجد کو آباد رکھیں اور صبح شام ان میں اللہ کا ذکر کرتے رہیں۔ ” فی بیوت “ سے مراد کسی حد تک مومنوں کے اپنے گھر بھی لیے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگو اپنے گھروں کو قبرستان بنانے کی بجائے وہاں ذکر و اذکار، قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل ادا کیا کرو۔[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی فضل سورة البقرۃ واٰیۃ الکرسی ] مسجدیں سکون و اطمینان کا خزینہ اور اللہ کی رحمتوں کا مرکز ہیں : روئے زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ اور مقام مسجد ہے جس میں ذکر، تلاوت قرآن اور اللہ کے حضور قیام، رکوع و سجود کیا جاتا ہے۔ نبی محترم ﷺ نے مسجد کے قطعہ کو اللہ کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ لوگو ! اللہ کے باغوں میں داخل ہو کر خوب سیر ہو کر کھایا کرو۔ لوگوں نے پوچھا اللہ کے باغ کون سے ہیں اور ان میں کھانا پینا کیسا ؟ آپ فرماتے ہیں مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور ان میں ذکر و اذکار کرنا باغ سے تازہ پھل کھانے کے مترادف ہے۔ (مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ) جس طرح گلشن اور باغیچے کو صاف ستھر ارکھا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق مسجد روح و نفس اور جسم وجان کے لیے روحانی اور خدائی باغ ہیں۔ اس لیے انہیں ہر حال میں پاک صاف اور ستھرارکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی تعمیر کرنے والے دو پیغمبروں سے یہی وعدہ لیاتھا کہ میرے گھر کو ہر طرح سے پاک صاف رکھنا۔ تفسیر بالقرآن مسجد کا مرتبہ ومقام : 1۔ مسجدیں صرف اللہ کی عبادات کے لیے ہیں۔ (الجن : 18) 2۔ مسجدیں شرک سے پاک ہونا چاہییں۔ (الحج : 26) 3۔ مسجدوں کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ (الحج : 26) 4۔ مسجدیں نماز اور اعتکاف کے لیے ہوتی ہیں۔ (البقرۃ : 125) 5۔ مسجدیں آباد کرنا صرف ایمانداروں کا حق ہے۔ (التوبۃ : 18) 6۔ مشرک کو بیت اللہ میں داخل ہونے کا حق نہیں ہے۔ (التوبۃ : 28)
Ayahs 24:37–38

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

” جنہیں اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے تجارت اور خرید وفروحت غافل نہیں کرتی وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹ اور آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ ( 37)

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کو ان کے بہترین اعمال کی جزا دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ “ (38)

فہم القرآن ربط کلام : مساجد کو آباد کرنے اور اپنے رب کا صبح شام ذکر کرنے والوں کے اوصاف۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے انسان کی روزی کا ذمہ لیا ہے لیکن اسے حکم ہے کہ وہ جائز طریقہ کے ساتھ روزی کمانے کی کوشش کرے۔ روزی کمانے کے جائز ذرائع میں بہترین ذریعہ تجارت ہے جس میں دیانت، امانت کے ساتھ محنت اختیار کی جائے تو اللہ تعالیٰ تاجر کی روزی میں وسعت و کشادگی پیدا کرتا ہے۔ تجارت کرنے سے نہ صرف انسان کو کشادہ رزق حاصل ہوتا ہے بلکہ اس میں انسان کے وقار اور تعارف میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہر دور میں تجارت کے بیشمار طریقے رائج رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہوتا رہے گا منڈی اور بازار میں دکانداری کرنا بھی ایک تجارت ہے لیکن اس میں زیادہ محنت، وقت اور توجہ درکار ہوتی ہے گاہک کی بھیڑ یا منڈی کی مصروفیت ہو تو تاجر لالچ میں آکر نماز کی پروا نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی خصوصیت ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میرے بندے ایسے بھی ہیں جنہیں تجارت اور لین دین کے معاملات میرے ذکر سے غافل نہیں کرتے۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ ہر کام کرتے وقت ان کے دل میں قیامت کے احتساب کا خوف رہتا ہے۔ قیامت کا دن ایسا ہے جس دن دل گھبراہٹ کا شکار ہوں گے اور آنکھیں پھٹ جائیں گی لیکن ان اوصاف کے حامل بندوں کو نہ صرف گھبراہٹ سے مامون رکھا جائے گا بلکہ ان کو نیک اعمال کی بہترین جزا دینے کے ساتھ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مزید مالا مال فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحدوحساب عنایت کرتا ہے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِینُ مَعَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی التُّجَّارِ وَتَسْمِیَۃِ النَّبِیِّ ﷺ إِیَّاہُمْ ] ” حضرت ابی سعید ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا راست باز اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا “ نماز باجماعت کی اہمیّت : (وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّہٗ یَجِدُ عَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الاذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ ] ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں جب اکٹھی ہوجائیں۔ میں نماز کا حکم دوں نماز کے لیے اذان دی جائے پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پاس جاؤں۔ ان پر ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کردوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے نماز کے بدلے موٹی ہڈی یا دو بہترین پائے ملیں گے تو ضرور وہ عشاء کی نماز میں حاضر ہوتا۔ “ زکوٰۃ کی فرضیّت : ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس بات کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ روز قیامت یہ مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) ۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیر القرآن، باب ومن سورة آل عمران ] تفسیر بالقرآن قیامت کے دن لوگوں کے دلوں اور آنکھوں کی کیفیت : 1۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلّت چھا رہی ہوگی۔ (المعارج : 44) 2۔ اس دن آپ دیکھیں گے کہ مجرم اپنے سروں کو جھکائے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے۔ (السجدۃ : 12) 3۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ ( ابراہیم : 42) 4۔ اور ان کے دل اٹھے جا رہے ہوں گے۔ ( ابراہیم : 43) 5۔ قیامت کے دن لوگ سر اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی۔ ( ابراہیم : 43)
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

” جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال سراب جیسی ہے جیسے پیاسا اسے پانی سمجھ رہا تھا جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا جس نے اس کا پوراپورا حساب چکادیا۔ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ “ (39)

فہم القرآن ربط کلام : صالح کردار اور بہتر انجام پانے والے نیک لوگوں کے ذکر کے بعد کفار کا تذکرہ۔ جن لوگوں نے توحید و رسالت اور آخرت کا انکار کیا بیشک وہ جس قدر اچھے اخلاق اور بہتر کردار کے حامل ہوں۔ ان کے اعمال کی مثال چٹیل میدان میں سراب کی مانند ہے۔ جسے پیاسا آدمی دور سے ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی سمجھتا ہے جب پیاس بجھانے کے لیے اس کے پاس جاتا ہے تو تھکاوٹ اور مایوسی کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہی حال قیامت کے دن کافر اور مشرک کا ہوگا، جو دنیا میں یہ سمجھ کر فلاح و بہبود کے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیتا رہا کہ اسے موت کے بعد بھی فائدہ پہنچے گا۔ لیکن عقیدہ توحید صحیح نہ ہونے، نبی آخر الزماں ﷺ کی رسالت پر ایمان نہ لانے اور آخرت کے حساب و کتاب پر یقین نہ رکھنے کی وجہ سے موت کے بعد اس کی حالت اس پیاسے شخص جیسی ہوگی جو پیاس سے تلملا تا ہوا پانی سمجھ کر سراب کی طرف گیا لیکن وہاں پہنچ کر اسے تھکاوٹ اور پریشانی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ بےانتہا پیاس کی شدّت اور سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے ہے اسے اپنی موت کا یقین ہوچکا ہے اب اسے ذات کبریا کے سوا کوئی سہارا نظر نہیں آتا گویا کہ وہ ذات اس کے سامنے ہے جس کا انکار کرتا تھا، جائے تو کہاں جائے یہی حالت کفار کی ہوگی۔ جب قیامت کے دن اپنے اچھے اعمال اور صدقہ و خیرات کو رائیگاں پائیں گے جو انہوں نے خون پسینے کی کمائے سے خیراتی کاموں میں صرف کیے نہ صرف وہ رائیگاں ہوں گے بلکہ ان کے لیے عذاب میں اضافہ کا سبب ثابت ہوں گے۔ اس وقت ان کی پریشانی اور حسرت میں اضافہ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے کفر کی پوری پوری سزا دے گا۔ جو دنیا کی زندگی اور اس کے وسائل کو دائمی سمجھتے تھے انہیں ان کی موت کے بعد جلد حساب چکا دیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ جلد حساب لینے کا تصور دے کر انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی اور تھوڑی ہے۔ (قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰے شَاکِلَتِہٖ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلًا) [ بنی اسرائیل : 84] ” فرما دیں ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے تمہارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون سیدھے راستے پر ہے۔ “ مسائل 1۔ کفار کے اعمال کی مثال سراب کی طرح ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ 2۔ جس طرح سراب پر پہنچ کر پیاسے آدمی کی پریشانی اور تھکاوٹ میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کفار کا حال ہوگا۔ 3۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر کسی کو اس کے اعمال کا پورا پورا حساب چکا دے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کفار کے اعمال کی حیثیت : 1۔ کفار کے اعمال اس طرح غارت ہوجائیں گے جیسے تیز آندھی سب کچھ اڑا کرلے جاتی ہے (ابراہیم : 18) 2۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال تباہ کردیے گئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (التوبۃ : 17) 3۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں تباہ و برباد کردیے جائیں گے۔ (التوبۃ : 69) 4۔ جو لوگ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر ہیں ان کے اعمال ضائع ہوں گے۔ (الکھف : 105) 5۔ جو لوگ ہماری آیات کی اور آخرت میں ملاقات کی تکذیب کرتے ہیں ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ (الاعراف : 147) 6۔ کافر کے اعمال غارت ہوجائیں گے اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ (المائدۃ : 5)
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

” یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ہے اسکے اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے اس پر پھر ایک موج ہے اور اس کے اوپر بادل کی تاریکی مسلّط ہے۔ وہ اپنا ہاتھ نکالے تو اسے دیکھ نہ پائے جسے اللہ روشنی عطا نہ کرے اس کے لیے روشنی کہاں سے ہوگی۔ “ (40)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے اعمال کے بارے میں ایک اور مثال : کفار کے اعمال ان اندھیروں کی طرح ہیں جو گہرے سمندر کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ جس طرح سمندر کی بڑی، بڑی موجیں ایک دوسرے کے اوپر ٹھاٹھیں مار رہی ہوتی ہیں اور ان موجوں کو رات کے وقت کالے بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہو گو یا کہ اندھیروں پہ اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے سمندر کی تہہ سے کسی شخص کا نکلنا تو درکنار وہ اپناہاتھ اپنے سامنے کرکے دیکھنا چاہے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ یہی کفار کے اخلاق اور اعمال کی کیفیت ہے جن پر کفرو شرک کا پردہ، نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کا انکار اور قیامت کے عقیدہ سے انحراف کے پردے پڑے ہوئے ہیں ایسے شخص کا اپنے اعمال کی قبولیت کا تصور کرنا اس شخص کی مانند ہے جو بادلوں کے اندھیرے، رات کی تاریکیوں اور سمندر کی تہہ در تہہ ظلمتوں کے نیچے اپنے ہاتھ کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے جس طرح اس کا اپنا ہاتھ دیکھنا ناممکنات میں سے ہے اسی طرح ہی کفار کے اعمال کی قبولیت بھی ناممکن ہے۔ جس طرح تاریکیوں سے نکلنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہے اسی طرح ہی ہدایت پانے کے لیے کتاب وسنت کے نور کی ضرورت ہے یہ اسی کو نصیب ہوتا ہے جو اس کے لیے چاہت رکھتا اور کوشش کرتا ہے۔ جو اس کی چاہت اور کوشش نہیں کرتا اسے ہدایت کا نور نصیب نہیں ہوتا اور جسے ہدایت کا نور نصیب نہ ہو وہ اس کے نور کے علاوہ کہاں سے ہدایت کا نور پائے گا ؟ (اللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا وَفِی بَصَرِی نُورًا وَفِی سَمْعِی نُورًا وَعَنْ یَمِینِی نُورًا وَعَنْ یَسَارِی نُورًا وَفَوْقِی نُورًا وَتَحْتِی نُورًا وَأَمَامِی نُورًا وَخَلْفِی نُورًا وَاجْعَلْ لِیّ نُورًا) [ رواہ البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعا اذا انتبدہ بالیل ] ” اے اللہ میرے دل میں نور پیدا فرمادے میری نگاہ میں بھی نور، میرے کا نوں میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور، میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور، میرے پیچھے بھی نور، اور میرے لیے ہر جانب نور پیدا فرمادے۔ “ اس لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْایُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِوَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓءُھُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) [ البقرۃ : 257 ] ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اور کفار کے ساتھی شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ جہنمی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ مسائل 1۔ کافر اور مشرک کفرو شرک کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 2۔ ہدایت نور ہے اور گمراہی اندھیرا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت کے سوا کہیں سے نور حاصل نہیں ہوسکتا۔ تفسیر بالقرآن ہدایت نور ہے اور کفرو شرک اندھیرے ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تاکہ ان کے ذریعے اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 5) 2۔ یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔ (المائدۃ : 15) 3۔ اللہ نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس کی چاہتا ہے۔ (النور : 35) 4۔ ہم نے تو رات اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے۔ (المائدۃ : 44) 5۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 1)
Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے جو پر پھیلائے اڑتے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے اور یہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے۔ (41)

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ “ (42)

فہم القرآن ربط کلام : ہدایت کو اللہ تعالیٰ نے نور قرار دیا ہے اور اس نور سے کافر محروم ہیں جبکہ اس نور ہدایت کے سبب ہر چیز اپنی عبادت اور ذمہ داری کو پہچانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان بالخصوص کافر کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کیا ” اللہ “ کے باغی اور منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جو زمین و آسمان میں جو کچھ ہے یہاں تک کہ پرندے جو فضا میں پر پھیلائے اڑتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی نماز اور ذکر کو جانتا ہے اور اے لوگو ! جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے بھی اچھی طرح جانتا ہے کیونکہ زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کے لیے ہے اور ہر کسی نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اور پرندوں کی نماز اور تسبیح پڑھنے کے بارے میں کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ نماز سے مراد ہر چیز کے ذمہ جو کام لگا ہے وہ اسے ادا کرتا ہے حالانکہ یہاں نماز سے مراد ہر چیز کے عبادت کرنے کا طریقہ ہے اس میں سجدہ بھی شامل ہے اس عبادت کے ساتھ وہ ذمہ داری بھی شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے ہر فرد کے ذمہ لگائی ہے وہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اور بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کی عبادت بھی کرتا ہے فرق یہ ہے کہ انسان کی نماز قیام، رکوع، سجود اور تشہد پر مشتمل ہے انسان کے سوا للہ تعالیٰ نے ہر چیز کی عبادت کا طریقہ اس کے حسب حال مقرر کیا ہے جس کی ادائیگی انسان کے لیے سمجھنا مشکل ہے اس لیے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ ہر چیز نماز پڑھتی ہے اور اپنے رب کی تسبیح کرنے میں مشغول ہے لیکن انسان اسے نہیں سمجھتے (بنی اسرائیل : 44 ) جہاں تک انسان کے علاوہ دوسری مخلوق کی نماز کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ نہ صرف ہر چیز اپنے رب کے حضور سجدہ کرتی ہے بلکہ ان کے سائے بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سجدہ کرنے کے اوقات بھی بتلا دیئے ہیں کہ وہ صبح شام اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (الرعد : 15) کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں اور ان پر اسی کی بادشاہی ہے پہلی آیت کی ابتدا اور آخر میں ہر انسان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے اور دوسری آیت کے آخر میں یہ احساس دلایا گیا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال سے واقف ہے بلکہ ہر کسی نے اپنے اعمال کے ساتھ اس کے حضور پیش ہونا ہے۔ مسائل 1۔ انسان کو زمین و آسمان اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر غور کرنا چاہیے۔ 2۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کے حضور نماز اور تسبیح پڑھتی ہے۔ 3۔ زمین و آسمان اور ہر چیز پر حقیقی بادشاہی صرف ایک اللہ کی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے فکروعمل کو جانتا ہے اور سب نے اسی کے حضور پلٹ کر جانا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہرچیز اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے طریقہ کے مطابق نماز پڑھتی اور عبادت کرتی ہے۔ 1 زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : 1) 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الر عد : 15) 3۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الحج : 18) 4۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن انسان اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ (بنی اسرائیل : 44) 5۔ چوپائے، فرشتے اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (النحل : 49) 6۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمن : 6) 7۔ بیشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206)
Ayahs 24:43–44

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے پھر اسے سمیٹ کر گھنے بادل بنا دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے ہیں جو آسمان سے پہاڑوں کی مانند ہیں ان سے اولے بھی برساتا ہے۔ پھر جسے چاہتا ہے ان سے نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچالیتا ہے اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے۔ (43)

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا ہے۔ غور سے دیکھنے والوں کے لیے اس میں نصیحت ہے۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اس کی بادشاہی پر غور کرنے کے لیے بادلوں کی طرف توجہ کرو۔ کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بادل بناتا اور اٹھاتا ہے پھر ان کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس کے بعد بادلوں کو ایک دوسرے پر تہہ در تہہ کردیتا ہے اور پھر ان سے موسلادار بارش برساتا ہے۔ جو پہاڑوں کی مانند نظر آتی ہے اس میں بسا اوقات اولے بھی برستے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے وہاں اولے برساتا ہے اور جسے چاہتا ہے اولوں سے محفوظ فرماتا ہے۔ یہی صورت حال بارش کی ہے جو کہیں برستی ہے اور کہیں سے یوں ہی بادل گزر جاتے ہیں۔ بادلوں میں اس طرح بجلی چمکتی ہے جو آنکھوں کی بینائی کو حیرہ کردیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ رات اور دن کو بدلتا ہے بصیرت رکھنے والوں کے لیے اس میں اللہ کی ذات اور اس کی کبریائی کو پہچاننے کے لیے اَن گنت دلائل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں قدیم اور جدید فلکیات کا علم رکھنے والے سائنسدانوں نے ٹھیک اندازہ لگایا کہ سورج کی گرمی سے پانی بخارات کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے اور ہوائیں بخارات کو اٹھا کر اوپر لے جاتی ہیں پھر بخارات فضا کے ایسے خطہ میں پہنچتے ہیں کہ جہاں پہنچ کر وہ بادل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ہوا بادلوں کو دھکیل کر کہیں سے کہیں لے جاتی ہے جب بخارات ایک خاص نقطہ انجماد پر پہنچتے ہیں تو بارش بن کر زمین پر برستے ہیں سائنسدانوں میں بےدین طبقہ نے اس سے آگے سوچنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی جس بناء پر وہ بارش کے سارے عمل کو فطری نظام سمجھ کر صرف نظر کردیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس پورے عمل میں گہرائی کے ساتھ غور کرنے کی دعوت دی ہے کیا بارش کو فطری عمل قرار دینے والے بےدین سائنسدان اس پر غور نہیں کرتے کہ آخر ہوا میں اتنی قوت اور کشش کس نے پیدا کی ہے جو بخارات کی صورت میں لاکھوں ٹن پانی اٹھا کر اوپر لے جاتی ہے اور سورج نسبتاً قریب ہونے کے باوجود اس پانی کو اپنی حرارت کے ذریعے کیوں ختم نہیں کردیتا ؟ فضا میں وہ خطے کس نے پیدا کیے ہیں جہاں پہنچ کر بخارات بادلوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں پھر ہواؤں کا رخ موڑنے والی کونسی قوت ہے جو ہوا کو ادھر سے ادھر جانے کا حکم دیتی ہے پھر سوچیے کہ وہ کونسی طاقت ہے جو کھربوں من پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو ایک دوسرے کے اوپر ایک مناسب فاصلہ پر رکھتے ہوئے سنبھالے ہوئے ہے پھر یہی بادل کہیں موسلادھار بارش کی صورت میں برستے ہیں اور کہیں بونداباندی کی صورت ٹپکتے ہیں۔ آخر بارش کا یہ نظام کس نے قائم کیا ہے دنیا میں کہیں بھی بادل یکدم نیچے نہیں گرتا۔ وہ قطرات کی شکل میں برستا اور اپنے وجود کو ختم کردیتا ہے۔ اب ان برسنے والے اولوں پر غور کیجیے کہ ایک ہی بادل سے بیک وقت اس قدر اولے برستے ہیں کہ زمین کئی کئی فٹ برف سے ڈھک جاتی ہے اور اسی زمین سے چند فٹ دور وہاں بارش میں ایک اولہ بھی نہیں پڑتا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ایک فصل کو اولوں سے تباہ کردیتا ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہوئی دوسری فصل کو بارش سے نہلا تا اور اسے اولوں سے محفوظ رکھتا ہے اب اس کے درمیان چمکنے اور گرجنے والی بجلی پر غور کریں جب وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ گرجتی اور چمکتی ہے۔ تو نہ صرف ڈر کے مارے لوگ سہم جاتے ہیں بلکہ بجلی کی چکاچوند روشنی میں ان کی بصارت بھی کام نہیں دیتی اگر اس موقع پر انسان کی نظر آسمانی بجلی کی شعاعوں سے ٹکرا جائے تو آنکھوں کی بینائی ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔ جس بجلی کی کڑک سے لوگ خوف کھاتے ہیں اس کے بارے میں ارشاد ہے کہ یہ اپنی زبان میں اپنے رب کی حمد بیان کرتی ہے۔ (الرعد : 14) یہی رب ذوالجلال رات اور دن کو بدلتا ہے آج تک کبھی نہیں ہوا اور قیامت تک نہ ہو سکے گا کہ کسی علاقہ میں رات دن کو بالکل ختم کردے اور دوسرے علاقہ میں دن رات کو ہڑپ کر جائے۔ پورے نظام میں سوچ وبچار کرنے والوں کے لیے نصیحت حاصل کرنے اور ہدایت پانے کے لیے بہت سے شواہد و قرائن ہیں۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ أَقْبَلَتْ یَہُودُ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوْا یَآأَبَا الْقَاسِمِ أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا ہُوَ قَالَ مَلَکٌ مِّنَ الْمَلاآءِکَۃِ مُوَکَّلٌ بالسَّحَابِ مَعَہٗ مَخَارِیْقُ مِّنْ نَارٍ یَّسُوقُ بِہَا السَّحَابَ حَیْثُ شَآء اللّٰہُ فَقَالُوْا فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِیْ نَسْمَعُ قَالَ زَجْرُہٗ بالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَہٗ حَتّٰی یَنْتَہِیَ إِلٰی حَیْثُ أُمِرَ قَالُوْا صَدَقْتَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة الرعد وہو حدیث صحیح ] ” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم ! ہمیں بجلی کی کڑک کے بارے میں بتائیں کہ یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بادلوں پر مقرر ہے۔ اس کے پاس آگ کے کوڑے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بادلوں کو ہانکتا ہے جہاں لے جانے کا اسے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا ان میں آواز کیا ہے جو ہم سنتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ فرشتہ بادلوں کو ہانکتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی بادلوں کو اٹھانے والا اور انہیں تہہ درتہہ فضا میں قائم رکھنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے اولے برساتا ہے اور جسے چاہتا ہے اولوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ 3۔ اللہ ہی بارش برساتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمانی بجلی پر کنٹرول کرنے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہی رات اور دن کو مناسب اوقات میں تبدیل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن بارش کے بارے میں قرآن مجید کے دلائل : 1۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا اللہ ہے کیا اس کے ساتھ کوئی اور برسانے والا ہے ؟ (النمل : 60) 2۔ وہ ذات جو ہواؤں کو خوشخبری دینے کے لیے بھیجتا ہے وہ ہوابھاری بادل اٹھاتی ہیں۔ (الاعراف : 57) 2۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) 3۔ قیامت برپا ہونے، بارش کے نازل ہونے، جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ (لقمان : 34) 4۔ تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرمائے۔ (ہود : 52)
Ayahs 24:45–46

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

” اور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چارٹانگوں پر چلتا ہے اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (45)

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ “ (46)

فہم القرآن ربط کلام : فلکیات کے ذکر کے بعد حیوانات کے بارے میں غور کرنے کی ترغیب۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا ہے ان میں کچھ پیٹ کے بل رینگتے ہیں کچھ دو پاؤں پہ چلتے ہیں اور کچھ ان میں چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ہر چیز پر کامل اور اکمل قدرت رکھنے والا ہے۔ اسی نے یہ روشن آیات نازل فرمائیں اور وہی صراط مستقیم کی ہدایت دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فلکیات اور لیل ونہار کے بارے میں انسان کو غور کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی اس کا فرمان ہے کہ انسان کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے پیٹ کے بل رینگنے والے دو اور چار ٹانگوں پر چلنے والے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا ان جانداروں کا رنگ، جسم، بناوٹ، قوت، رہن سہن اور کھانے پینے پر غور کریں کہ کوئی چیز بھی ان کی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ملتی۔ شیر اور چیتے کچھاروں اور غاروں میں سکون پاتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے، سانپ اور بچھو بلوں میں رہتے ہیں۔ ہاتھی اور اس کے قریب کی جنس کے چوپائے گھنے جنگلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ پرندے فضا میں اڑتے اور درختوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔ انسان بھی دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جاندار ہے جو سب پر حکومت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا ہے۔ پانی بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں ایک مخلوق ہے جسے زمینی مخلوق میں سب سے پہلے پیدا کیا ہے جس کی قرآن مجید میں ان الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے کہ وہی ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ہود : آیت 7) سترھویں پارے میں ارشاد ہے کہ ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے اسی لیے جاندار چیزوں کی بقا کے لیے پانی بےحد ضروری ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقائق مدلّل طریقہ سے اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ لوگ اس پر غور کریں اور اپنے رب پر ایمان لائیں۔ اور اس کے احکام پر عمل کریں اگر لوگ نیک نیتی کے ساتھ اپنے رب کی قدرتوں پر غور کریں گے تو ہدایت پاجائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب کرتا ہے۔ جو اس کی قدرتوں پر غور کرتے ہیں پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ ہدایت سب سے گراں قدر نعمت ہے۔ یہ اسے نصیب ہوتی ہے جو اس کی چاہت اور کوشش کرتا ہے قرآن مجید میں اسی لیے بار بار ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ رہنے دیتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تفسیر بالقرآن پانی کی اہمیّت : 1۔ اللہ نے پانی کے ذریعے پھلوں جیسا رزق عطا فرمایا : (البقرۃ : 22) 2۔ پانی کے ذریعے ہی بنجر زمین زرخیز ہوتی ہے۔ ( النحل : 65) 3۔ پانی طہارت کا ذریعہ ہے۔ ( النساء : 63) 4۔ اللہ تعالیٰ نے تمام نباتات کو پانی کے ذریعے پیدا کیا۔ ( طٰہٰ : 53) 5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پانی اور مٹی سے پیدا کیا۔ ( الطارق : 6) 6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے برکت والا پانی نازل فرما کر اس کے ذریعے بہت سے باغات سرسبز و شاداب کر دئیے۔ ( ق : 9)
Ayahs 24:47–48

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ منہ موڑلیتا ہے یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے۔ (47)

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے باہمی تنازع کا فیصلہ کرے تو ان میں ایک فریق منہ پھیر لیتا ہے۔ “ (48)

فہم القرآن ربط کلام : صراط مستقیم پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرئے مومن یہی کچھ کرتے اور مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر انسان کو حکم ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ صراط مستقیم کو جاننے کی کوشش کرے جو اخلاص کے ساتھ صراط مستقیم جاننے کی کوشش کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی ہدایت اور اس پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے گا۔ لیکن منافق کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ زبانی کلامی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن جب دین کے معاملہ میں آزمائش آجائے یا اسے شریعت کے خلاف چلنے پر مفاد حاصل ہورہا ہو تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرجاتا ہے بالخصوص ایسے لوگوں کو کسی قضیہ کے وقت اس بات کی دعوت دی جائے کہ آؤ اس کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرلیتے ہیں تو یہ لوگ اس بات سے منہ پھیر لیتے ہیں یہی حالت نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی تھی۔ تنازعہ کے وقت بلایا جاتا کہ مسائل 1۔ منافق محض زبان سے اپنے ایمان کا اقرار کرتا ہے۔ حقیقتاً ایماندار نہیں ہوتا۔ 3۔ منافق کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے تنازع کا حل شریعت کے مطابق کروانا پسند نہیں کرتا۔
Ayahs 24:49–50

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

” اور اگر حق ان کی موافق ہوتورسول کے پاس بڑے اطاعت گزار بن کر آتے ہیں۔ (49)

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں کو منافقت کا مرض لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر زیادتی کرے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ظالم ہیں۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : منافق کی عادات کا ذکر جاری ہے۔ منافق کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے فائدے کی خاطر کبھی اسلام اور کبھی کفر کو ترجیح دیتا ہے اگر کسی قضیہ میں فیصلہ اس کے حق میں ہوجائے تو وہ اسلام، اسلام پکارتا ہے اور مسلمانوں کی تعریفیں کرتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے حق میں نہ ہو تو وہ اسلامی نظام کے نقائص بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں منافقت کی بیماری ہوتی ہے اس لیے وہ اسلامی نظام عدل سے خوف کھاتا اور سمجھتا ہے کہ اسے تسلیم کرنے سے میرا نقصان ہوگا۔ یہی حالت نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقوں کی تھی۔ جب انہیں کسی معاملہ میں یہ دعوت دی جاتی کہ آؤ۔ اللہ اور اس کے رسول سے اس کا فیصلہ کرواتے ہیں تو وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول ہمارے حق میں فیصلہ نہیں کریں گے۔ اس لیے یہاں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول کسی پر ظلم نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں (سورۃ البقرہ کی آیت 10 کی تشریح میں لکھا ہے کہ بنیادی طور پر بیماریاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک جسمانی اور دوسری روحانی۔ منافقت روحانی بیماریوں میں سب سے بڑی بیماری ہے جس سے روحانی بیماریاں اور اخلاقی جرائم جنم لیتے ہیں۔ (یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْن) [ البقرۃ : 9۔ 10] ” وہ اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور وہ شعور نہیں رکھتے۔ ان کے دلوں میں بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں زیادہ کردیا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ “ (عَنْ أُمِّ مَعْبَدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ طَھِّرْ قَلْبِيْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِيْ مِنَ الرِِّیَاءِ وَلِسَانِيْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِيْ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَإِنَّکَ تَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ) [ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر) ” حضرت ام معبد ؓ بیان کرتیں ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ دعا فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو ریا سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور آنکھ کو خیانت سے پاک فرما۔ تو خیانت کرنے والی آنکھ کو جانتا ہے اور دلوں کے راز سے واقف ہے۔ “ مسائل 1۔ منافق وہی فیصلہ تسلیم کرتا ہے جس میں اس کا مفاد پایاجائے۔ 2۔ منافق عدل اسلامی سے ڈرتے ہیں۔ 3۔ منافق اپنے آپ اور دوسروں پر ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن منافق کی عادات : 1۔ منافق کو مسلمان کی بھلائی اچھی نہیں لگتی۔ (آل عمران : 120) 2۔ منافق صرف زبان سے حق کی شہادت دیتا ہے۔ (المنافقون : 1) 3۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ : 14) 4۔ منافق دنیا کے فائدے کے لیے اسلام قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ : 20) 5۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ (البقرہ : 14) 6۔ منافق مسلمانوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ (المنافقون : 8) 7۔ منافق دین کی بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ (آل عمران : 167) 8۔ منافق ریا کار ہوتا ہے۔ (النساء : 142) 9۔ منافق جھوٹا ہوتا ہے۔ (البقرہ : 10) 10۔ منافق نماز میں جان بوجھ کر سستی کرتا ہے۔ ( النساء : 142) 11۔ منافق اسلام اور کفر کے درمیان رہتا ہے۔ ( النساء : 143) 12۔ منافق صحابہ کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ ( البقرۃ : 13) 13۔ منافق جہنم کے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ ( النساء : 145)
Ayahs 24:51–52

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

” ایمان لانے والوں کا فرض ہے کہ جب اللہ اور رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اسے تسلیم کیا یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (51)

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

جو اللہ اور اس کے رسول کی تابع داری کریں۔ اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں وہ فلاح پانے والے ہیں۔ “ (52)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کے مقابلہ میں مومنوں کا اخلاص اور کردار۔ منافق کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی طرف بلایا جائے تو وہ اس سے انحراف کے راستے تلاش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں مومنوں کو یہ دعوت دی جائے کہ آؤ اپنے قضیہ میں اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کرواتے ہیں تو مومنوں کی اس کے سوا کوئی بات اور خواہش نہیں ہوتی کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول سے فیصلہ کروانے اور اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور تہہ دل سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے اخلاص کے ساتھ بچنے کی کوشش کرے وہ اپنی مراد کو پانے ولا ہے۔ صحابہ کرام ؓ کی یہی خوبی تھی کہ وہ غم اور خوشی، عسر اور یسر، جنگ اور امن گویا کہ ہر حال میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے والے تھے۔ صحابہ کرام ؓ نے ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جس کے نتیجہ میں وہ دنیا اور آخرت میں بامراد ہوئے۔ ایمان کی تازگی کے لیے دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ ” حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ اپنے ننہال یا اپنے انصاری ماموں کے پاس سکونت پذیر ہوئے آپ سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے آپ چاہتے تھے کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو اور آپ نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے جو پہلی نماز ادا کی وہ عصر کی نماز تھی آپ کے ساتھ صحابہ نے بھی نماز ادا کی۔ ان نمازیوں میں سے ایک آدمی جس نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اس کا گذر دوسری مسجد والوں کے پاس سے ہوا۔ وہ رکوع کی حالت میں تھے اس نے کہا میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ کر آیا ہوں۔ وہ نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔۔ “ [ رواہ البخاری : باب الصلاۃ من الایمان ] (عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أُخْتَ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا، فَتَرَکَہَا حَتَّی انْقَضَتْ عِدَّتُہَا، فَخَطَبَہَا فَأَبَی مَعْقِلٌ، فَنَزَلَتْ (فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ ) [ رواہ البخاری : بابوَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ ] ” حسن سے مروی ہے معقل بن یسار ؓ کی بہن کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور طلاق کی عدّت بھی گزر گئی۔ اس کے شوہر نے دوبارہ نکاح کا پیغام بھیجا تو معقل نے انکار کردیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :” اگر میاں بیوی آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو انہیں مت روکیں “ (حضرت معقل ؓ نے کہا کیوں نہیں میں اللہ کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ ) مسائل 1۔ مومن ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ 2۔ مومن دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ 3۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اللہ کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن کامیاب ہونے والے لوگ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جنت کے بدلے ان کے مال و جان خرید لیے ہیں، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 111) 2۔ جو برائی سے بچ گیا اس پر اللہ کا رحم ہوا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ (المومن : 9) 3۔ مومنوں کا جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کے فضل سے ہوگا اور یہی کامیابی ہے۔ (الدخان : 57) 4۔ اللہ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہ کھلی کامیابی ہے۔ (الجاثیۃ : 30) 5۔ مومنوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے جس میں پاک صاف مکان ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ (الصف : 12) 6۔ جس کو آگ کے عذاب سے بچا دیا گیا اور جنت کا داخلہ مل گیا وہ کامیاب ہوا۔ (آل عمران : 185) 7۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں، مومنات سے ہمیشہ کی جنت اور اپنی رضا مندی کا وعدہ فرمایا ہے یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 72، 89، 100)
Ayahs 24:53–54

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

” اللہ کے نام سے پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔ ان سے کہو قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت معلوم ہے۔ تمہارے کرتوتوں سے اللہ بیخبر نہیں ہے۔ (53)

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

انہیں فرمائیں کہ اللہ کے مطیع بنو اور اس کے رسول کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو سمجھ لو رسول پر جس فرض کا بوجھ ڈالا گیا ہے وہ اس کا ذمہ دا رہے اور تم پر جس فرض کا بارڈالا گیا ہے اس کے ذمہ دارتم ہو۔ اس کی اطاعت کروگے ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری حق بات صاف صاف پہچانا ہے۔ “ (54)

فہم القرآن ربط کلام : مخلص مسلمانوں کے بعد ایک دفعہ پھر منافقین کا تذکرہ۔ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقوں کی یہ بھی عادت تھی کہ جب مسلمانوں پر مشکل وقت گزر جاتا تو منافق اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر باتکرار قسمیں اٹھا کر آپ ﷺ اور مسلمانوں کو یقین دلاتے کہ آئندہ کوئی مشکل وقت آیا تو ہم ہر صورت آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اس پر رسول اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ منافقین سے فرمائیں کہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت نہیں تم نیکی کے کاموں میں سمع و اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ جس نیت کے ساتھ کروگے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ ان سے یہ بھی فرمائیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو اگر تم اس سے پھر جاؤ تو رسول کے ذمہ حق بات پہنچانا اور تمہارے ذمہ اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنا ہے اگر تم اس طرح کروگے تو ہدایت پاؤگے۔ یادرکھو رسول کے ذمہ لوگوں تک واضح طور پر حق پہنچانا ہے قرآن مجید میں یہ بات مختلف موقعوں اور الفاظ میں واضح کی گئی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا کام لوگوں تک اخلاص اور محنت کے ساتھ حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ سننے والوں کا فرض ہے کہ وہ اخلاص نیت کے ساتھ سنیں اور اپنی ہمت کے مطابق اس پر عمل کریں۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا اَضَآءَ تْ مَاحَوْلَھَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِیْ تَقَعُ فِی النَّارِ ےَقَعْنَ فِےْھَا وَجَعَلَ ےَحْجُزُھُنَّ وَےَغْلِبْنَہُ فَےَتَقَحَّمْنَ فِےْھَا فَاَنَا اَخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تَقَحَّمُوْنَ فِےْھَا ھٰذِہٖ رِوَاے َۃُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُھَا وَقَالَ فِیْ اٰخِرِھَا قَالَ فَذَالِکَ مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ اَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ ھَلُمََّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُوْنِیْ تَقَحَّمُوْنَ فِےْھَا۔ ) [ رواہ البخاری : باب الاِنْتِہَاءِ عَنِ الْمَعَاصِی ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا میری مثال آگ روشن کرنے والے شخص کی طرح ہے جب اس کا اردگرد روشن ہوگیا۔ تو آگ پر فریفتہ ہونے والے کیڑے پتنگے آکر اس میں گرنے لگے۔ آگ جلانے والے نے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن وہ اس سے بےقابو ہو کر گرتے رہے۔ بس میں بھی تم کو آگ سے بچانے کے لئے تمہیں پیچھے سے پکڑتا ہوں لیکن تم ہو کہ اس میں گر رہے ہو۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے اس کے آخر میں ہے کہ میری اور تمہاری مثال ایسے ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں ! میری طرف آؤ اور آگ سے بچو ‘ لوگو ! آگ کی بجائے میری طرف آؤ۔ لیکن تم مجھ سے بےقابو ہو کر آگ میں گرے جارہے ہو۔ “ مسائل 1۔ منافق قسمیں اٹھا اٹھا کر نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو اپنی سمع و اطاعت کا یقین دلاتے تھے۔ 2۔ مسلمان کو اخلاص اور پوری ہمت کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا چاہیے۔ 3۔ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کا فرمان مان لیں تو ہدایت یافتہ ہوجائیں۔ تفسیر بالقرآن سروردوعالم ﷺ کی منصبی ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمّہ داری : 1۔ نبوت کے منصبی فرائض۔ (البقرۃ : 151) 2۔ آپ ﷺ کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعۃ : 2) 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں میں ان فرائض کا تذکرہ۔ (البقرۃ : 129) 4۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164) 5۔ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے بوجھ اتارنے اور غلامی سے چھڑانے کیلئے تشریف لائے۔ (الاعراف : 157) 6۔ آپ لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے (الاحزاب : 45)