24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsفہم القرآن

Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

” اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ اللہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند فرمایا ہے اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ فاسق ہیں۔ (55)

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

” نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو ، اور رسول کی اطاعت کرو۔ امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔ (56)

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

جو لگ کفر کررہے ہیں ان کے بارے میں غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کردیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ “ (57)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے سیاسی اقتدار کی ضمانت۔ اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بندوں کو خوش خبری دی گئی کہ تم ہی کامیاب ہونے والے ہو۔ کامیابی سے مراد صرف آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خلافت یعنی سیاسی اقتدار بھی اس میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پہلے بندوں کے ساتھ بھی تھا اور آئندہ آنے والے نیک لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔ نہ صرف تابع فرمان لوگوں کو اقتدار عطا کیا جائے گا بلکہ جس دین کی وجہ سے ان کی مخالفت کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کو عملی طور پر بھی نافذ کرے گا اور مسلمانوں کا خوف دور کرکے انہیں ہر اعتبار سے استحکام اور امن وامان عطا فرمائے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مسلمان بلا شرکت غیرے صرف اپنے رب کی غلامی اور بندگی کرنے والے ہوجائیں۔ جس نے اس فرمان اور وعدے کے باوجود کفرو شرک کا طریقہ اختیار کیا وہ نافرمان ہوں گے سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے لازم ہے کہ مسلمان ہر قسم کے شرک سے بچتے رہیں اور نماز قائم کرنے کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کا نظام اپنائیں اور ہر حال میں رسول اکرم ﷺ کی اطاعت اختیار کریں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا جن پر ” اللہ “ کا کرم ہو انہیں بےبس اور عاجز کرنا کفار کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کی بدترین جگہ ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو سیاسی اقتدار اور اپنے پسندیدہ دین کے عملی نفاذ کی یقین دھانی کرائی ہے کیونکہ دین کے بارے میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ کافر اور مشرک جس قدر چاہیں اس کی مخالفت کریں۔ اللہ اس دین کو غالب کر کے رہے گا کیونکہ وہ غالب رہنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ دین کے غلبہ سے پہلی مراد یہ ہے کہ یہ اپنی سچائی اور دلائل کے اعتبار سے تمام باطل ادیان پر غالب ہے اور غالب رہے گا۔ کہ دین اسلام کے کسی مسئلہ کو دلائل کی بنیاد پر غلط ثابت کرنا ناممکن ہے اس اعتبار سے دین ہمیشہ غالب رہے گا۔ جہاں تک مسلمانوں کے غلبہ کا معاملہ ہے وہ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دین نافذ کریں اور دشمن کے مقابلے میں پوری تیاری کے ساتھ متحد ہوجائیں تو انہیں دنیا میں خلافت و امامت کا منصب مل جائے گا۔ جس کی اس امت میں پہلی مثال صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد مسلمانوں کا طویل ترین سیاسی اقتدار ہے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ یَقُولُ کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَجَاءَ ہُ رَجُلاَنِ أَحَدُہُمَا یَشْکُو الْعَیْلَۃَ وَالآخَرُ یَشْکُو قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَمَّا قَطْعُ السَّبِیلِ فَإِنَّہُ لاَ یَأْتِی عَلَیْکَ إِلاَّ قَلِیلٌ حَتَّی تَخْرُجَ الْعِیرُ إِلٰی مَکَّۃَ بِغَیْرِخَفِیرٍ وَأَمَّا الْعَیْلَۃُ فَإِنَّ السَّاعَۃَ لاَ تَقُومُ حَتَّی یَطُوفَ أَحَدُکُمْ بِصَدَقَتِہِ لاَ یَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہَا مِنْہُ ، ثُمَّ لَیَقِفَنَّ أَحَدُکُمْ بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ حِجَابٌ وَلاَ تُرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ ، ثُمَّ لَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أُوتِکَ مَالاً فَلَیَقُولَنَّ بَلَی ثُمَّ لَیَقُولَنَّ أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَیْکَ رَسُولاً فَلَیَقُولَنَّ بَلَی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ ، ثُمَّ یَنْظُرُ عَنْ شِمَالِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ ، فَلْیَتَّقِیَنَّ أَحَدُکُمُ النَّا رَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) [ رواہ البخاری : باب صدقۃ قبل الرد ] ” حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا۔ آپ کی خدمت میں دو آدمی آئے ایک نے فقر و فاقہ کی شکایت کی اور دوسرے نے راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے۔ بہت جلد ایسا دور آئے گا کہ ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ رہافقر تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ایک شخص اپنا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کوئی لینے والا نہیں ہوگا۔ پھر اللہ کے سامنے ایک آدمی اس طرح کھڑا ہوگا اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ اور کوئی ترجمان نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا وہ کہے گا کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا۔ وہ کہے گا کیوں نہیں، پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ جہنم سے بچ جاؤ خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے سے ہی بچا جائے اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کہو۔ “ (عَنْ أَبِی سُکَیْنَۃَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِینَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ ﷺ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُول اللَّہِ ﷺ وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاءَ ہُ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ قَاءِمٌ یَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَۃِ رَسُول اللَّہِ ﷺ بَرْقَۃٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) فَنَدَرَ الثُّلُثُ الآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ فَرَآہَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِی وَخَرَجَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فَأَخَذَ رِدَاءَ ہُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ یَا رَسُول اللَّہِ رَأَیْتُکَ حینَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَۃً إِلاَّ کَانَتْ مَعَہَا بَرْقَۃٌ قَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَا سَلْمَانُ رَأَیْتَ ذَلِکَ فَقَالَ إِی وَالَّذِی بَعَثَکَ بالْحَقِّ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ فَإِنِّی حینَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الأُولَی رُفِعَتْ لِی مَدَاءِنُ کِسْرَی وَمَا حَوْلَہَا وَمَدَاءِنُ کَثِیرَۃٌ حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ لَہُ مَنْ حَضَرَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ یَا رَسُول اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بلاَدَہُمْ فَدَعَا رَسُول اللَّہِ ﷺ بِذَلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الثَّانِیَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَاءِنُ قَیْصَرَ وَمَا حَوْلَہَا حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بلاَدَہُمْ فَدَعَا رَسُول اللَّہِ ﷺ بِذَلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَاءِنُ الْحَبَشَۃِ وَمَا حَوْلَہَا مِنَ الْقُرَی حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ عِنْدَ ذَلِکَ دَعُوا الْحَبَشَۃَ مَا وَدَعُوکُمْ وَاتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ ) [ رواہ الترمذی : باب غَزْوَۃِ التُّرْکِ وَالْحَبَشَۃ ]ِ “ حضرت ابی سکینہ جو محرر قبیلہ کے ایک فرد تھے نبی ﷺ کے ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے خندق کھودنے کا حکم دیا کھودائی کے دوران ایک چٹان حائل ہوگئی رسول اللہ ﷺ ہاتھ میں کدال لیے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی چادر مبارک خندق کے کنارے رکھی اور یہ کلمات پڑھتے ہوئے ضرب لگائی ” تیرے رب کے سچے اور اس کے ارشاد عدل پر مبنی کلمات پورے ہوئے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے “ چٹان کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا نبی ﷺ کی ضرب لگاتے وقت سلمان فارسی اس سے چمک کو دیکھ رہے تھے آپ نے دوسری ضرب لگائی اور کہا ” تیرے رب کے سچائی اور عدل کے کلمات مکمل ہوئے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے “ چٹان کا دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ گیا حضرت سلمان فارسی اس وقت بھی چمک کا منظر دیکھ رہے تھے۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور کہا ” تیرے رب کے سچائی اور عدل والے کلمات مکمل ہوگئے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے “ تو اسکا بقیہ تہائی حصہ ٹوٹ بھی گیا۔ سلمان ؓ فارسی اس وقت بھی پتھر سے نکلنے والی چمک کا منظر دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی چادر مبارک پکڑ کر خندق سے باہر تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے سلمان ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول میں نے مشاہدہ کیا کہ آپ نے جب بھی چٹان پر ضرب لگائی تو اس سے چمک نمودار ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اے سلمان کیا تو نے اس منظر کو دیکھ لیا ہے اس نے کہا ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے آپ نے فرمایا جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو کسریٰ کے محلات، شہر اور اس کے ارد گرد کی بستیاں مجھے دکھلادی گئیں آپ کے پاس بیٹھے ہوئے صحابہ نے عرض کی۔ اللہ کے رسول دعا کیجئے کہ اللہ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے اور ہمیں ان کے گھروں کا مالک بنادے اور ان کے شہروں کو ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھلائے گئے صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول دعا کریں کہ اللہ ان کا بھی ہمیں فاتح بنادے اور ان کے گھر ہمیں مال غنیمت کے طور پر عطا فرمادے اور ان کے شہروں کو ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد کر دے۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی آپ نے فرمایا جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے گرد ونواح کے شہردکھلائے گئے رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمایا حبشہ اور ترک والوں کو چھوڑ دو جنہوں نے تمہیں چھوڑ دیا۔ “ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تم آرام سے بےخوف ہو کر مجمع عام میں بیٹھو گے اور تمہارے جسم پر کوئی ہتھیار نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر کے اس ارشاد کی تائید فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی۔ ” اللہ نے لکھ دیا ہے ضرور بالضرور میں اور میرا رسول غالب رہیں گے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔ (المجادلۃ : 21) تاریخ کی ناقابل تردید شھادت ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو وعدہ فرمایا تھا وہ من وعن پورا ہوا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں کے ساتھ وعدہ ہے کہ انہیں خلافت فی الارض کا منصب دے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو خلافت عنایت فرمائی اور ان کے بعد مسلمانوں کو مدت مدید تک سیاسی اقتدار عنایت فرمایا۔ 3۔ دین کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور کسی اعتبار سے اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا نظام اپنایا جائے۔ 5۔ جو لوگ ہر حال میں رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر شفقت اور مہربانی فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اطاعت رسول ﷺ کے فائدے : 1۔ رسول کی اطاعت کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن جاتا ہے۔ ( النساء : 80) 2۔ اطاعت رسول سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ( آل عمران : 31) 3۔ رسول کی اطاعت سے انسان اللہ کے اجر کا مستحق بن جاتا ہے۔ ( الفتح : 16) 4۔ رسول کی اطاعت سے انسان کے عمل ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ ( الحجرات : 14) 5۔ آپ ﷺ کی اطاعت ہدایت کا منبع ہے۔ (النور : 54) 6۔ رسول کی اطاعت کا میابی کا ذریعہ ہے۔ ( النور : 52) 7۔ آپ ﷺ کی اطاعت کرنے والے انعام یافتہ لوگ ہیں۔ ( النساء : 69) 8۔ جنت میں داخلے کا معیار آپ ﷺ کی اطاعت ہے۔ ( الفتح : 17) 9۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی رسول اللہ کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : 132) 10۔ اطاعت میں کامیابی ہے۔ (الاحزاب : 71) 11۔ جو اللہ کا رسول تمہیں دے اسے پکڑ لو اور جس سے منع کر دے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ ( الحشر : 7)
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو لازم ہے کہ تمہارے غلام اور تمہارے بچے جو ابھی بلوغت کی حد کو نہیں پہنچے ہیں۔ تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیاکریں صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔ تین وقت تمہارے لیے پردے کے اوقات ہیں ان کے بعد بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کیونکہ تمہیں ایک دوسرے کے پاس باربار آنا ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی وضاحت کرتا ہے۔ اور سب کچھ جاننے اور حکمت والا ہے۔ (58)

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے بچے بلوغت کی حد کو پہنچ جائیں۔ تو چاہیے کہ اسی طرح اجازت لے کر آیاکریں جس طرح ان کے بڑے اجازت لیتے ہیں۔ اس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ “ (59)

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز مومنوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے غلام اور ان کے نابالغ بیٹے تین اوقات میں ان سے اجازت لے کر ان کی خلوت گاہوں میں داخل ہوا کریں کیونکہ یہ تین اوقات پردہ کے اوقات ہیں۔ تینوں اوقات کے علاوہ ان کے غلاموں اور نابالغ بچوں کا خلوت گاہ میں آنے پر کوئی گناہ نہیں۔ اس اجازت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے گھر یلو کام کے لیے باربار خلوت گاہ میں آنا جانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اصول بیان کرتا ہے تاکہ تمہاری معاشرت برائی اور بےحیائی سے محفوظ رہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر کام اور بات کو پوری طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت اور دانائی ہوتی ہے۔ ہاں جب نابالغ بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لینے کے پابند ہیں جس طرح تمہارے بڑے لوگوں کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات بیان کرتا ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کیا حکم دینا ہے اور کیا نہیں دینا ؟ کیونکہ وہ ہر کام اور بات کی حکمت جانتا ہے۔ مسائل 1۔ صبح، دوپہر اور عشاء کے بعد غلاموں اور چھوٹے بچوں کو بھی اجازت لے کر دوسروں کے خلوت خانہ میں جانا چاہیے۔ 2۔ جب نابالغ بچے بالغ ہوجائیں تو انہیں بھی اپنے بڑوں کی طرح اجازت لے کر دوسروں کے گھر جانا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن گھر میں داخل ہونے کے آداب۔ 1۔ اے ایمان والو ایک دوسرے کے گھروں میں اجازت طلب کیے اور سلام کہے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ (النور : 27) 2۔ اہل خانہ کی عدم موجودگی میں کسی کے گھر میں داخل نہ ہوا جائے۔ (النور : 28) 3۔ اہل خانہ اگر اجازت نہ دیں تو واپس آجانا چاہیے۔ (النور : 28) 4۔ بےآباد گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہوا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہاں جانا ناگزیر ہو۔ (النور : 29)
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

” اور جو عورتیں جوانی سے گزرجائیں اور بڑھاپے کی وجہ سے نکاح کے قابل نہ ہوں وہ اپنے ڈوبٹے اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی حیاداری ہی اختیار کریں تو ان کے حق میں اچھا ہے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : پردہ کے مسائل کا بیان جاری ہے۔ جو عورتیں عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکی ہیں کہ جہاں پہنچ کر ان کے نسوائی جذبات ختم ہوچکے ہیں اور اب انہیں نکاح کی حاجت نہیں رہی۔ اگر وہ اپناسر ننگا کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ ان کا مقصد اپنی زیب وزینت ظاہر کرنا نہ ہو ہاں بہتر یہ ہے کہ وہ بھی اپنے سروں پر کپڑا رکھاکریں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور جاننے والا ہے۔ زینت سے مراد گلے میں پہننے والا زیور، عورت کی چھاتی سر کے بال اور چہرہ ہے معمر عورت کا ان چیزوں کو ڈھانپنا اس لیے بھی بہتر ہے تاکہ اس کی بہو، بیٹیوں اور دوسری بچیوں پر اس کی سیرت و کردار کے اچھے نقوش مرتب ہو سکیں۔ اگر ایک بوڑھی عورت اپنی عمر کے برخلاف زیب وزینت اور جوانی جیسا لباس اختیار کرتی ہے تو ظاہر بات ہے کہ ناصرف اس کے احترام میں فرق واقع ہوگا بلکہ بہو، بیٹیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ بہت بہتر ہے کہ بوڑھی عورتیں بھی اپنی زینت غیر محرموں کے سامنے نمایاں کرنے سے گریز کریں۔ مسائل 1۔ بوڑھی عورت کسی وجہ سے غیر محرم کے سامنے سر سے دوپٹہ اتار دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ 2۔ بوڑھی عورت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی زیب وزینت کو ظاہر نہ کرے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

” کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا یا لنگڑا یامریض اور نہ تم پر کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے پاس میں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ، البتہ جب گھروں میں داخل ہواکرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، جو دعائے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ہے، بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “ (61)

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب اور مسائل کا ذکر جاری ہے۔ اسلامی آداب نازل ہونے سے پہلے عرب معاشرے میں یہ رواج تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھر بغیر اجازت کے آتے جاتے اور بلا تکلف کھاتے پیتے تھے۔ قرآن مجید میں جب معاشرتی آداب کے احکام نازل ہوئے تو لوگوں نے محسوس کیا کہ جس طرح ہمارا ایک دوسرے کے گھر بلا اجازت جانا جائز نہیں۔ اسی طرح ہم اپنے عزیزو اقرباء کے گھر سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ اس خدشہ کو دور کرنے اور حقیقت حال کی وضاحت کے لیے یہ فرمان نازل ہوا کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اندھے، لنگڑے، مریض اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ پیؤ۔ خاص کر اپنے والدین، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں، اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموؤں، اپنی خالاؤں، اپنے دوستوں اور بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموؤں، اپنی خالاؤں، اپنے دوستوں اور جن گھروں کی چابیاں تمہارے پاس ہیں ان میں بیٹھ کر کھانے پینے سے تم پر کوئی پابندی نہیں۔ تمہیں اس بات کی بھی اجازت ہے کہ تم اکٹھے ہو کر کھاؤ یا الگ الگ بیٹھ کر کھاؤ۔ جب اپنے گھروں میں جاؤ تو سلام کیا کرو۔ یہ تمہارے رب کے ہاں بابرکت اور اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ ان رشتہ داروں کے گھروں میں کھانے پینے کا یہ مطلب نہیں کہ جو عورتیں تمہارے لیے غیر محرم ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا شروع کر دو ۔ اس فرمان کا فقط یہ معنٰی ہے کہ جو محرم خواتین اور مرد اکٹھے ہو کر کھانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں یہ وضاحت اس لیے کردی گئی کہ اس زمانے میں یہودی مل بیٹھ کر کھانے کو ناجائز سمجھتے تھے۔ مسائل 1۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے۔ 2۔ گھروں میں داخل ہوتے ہوئے اہل خانہ کو سلام کہنا چاہیے۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

” حقیقی مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے لیے رسول کے پاس ہوں تو آپ سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ اے نبی جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو جیسے چاہیں آپ جازت دیں اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کریں، اللہ یقیناً غفورورحیم ہے۔ “ (62)

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب کے ساتھ نبی ﷺ کے ادب کا تذکرہ۔ مومنوں کی صفت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مومنوں میں سرفہرست صحابہ کرام ؓ ہیں اور صحابہ کرام رسول محترم ﷺ کے اس قدر مؤدب اور تابعدار تھے کہ جب آپ انہیں کسی مشورہ اور کام کے لیے طلب فرماتے تو صحابہ فی الفور آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجاتے اور اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر رہتے جب تک آپ انہیں جانے کی اجازت عنایت نہ کرتے۔ اگر کسی کو جلدی جانا ہوتا تو وہ کام کی نوعیت اور آپ کے ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے عاجزی کے ساتھ آپ سے اجازت طلب کرتا۔ آپ کو یہ اختیار دیا گیا آپ جسے چاہیں اجازت عنایت فرمائیں جیسے چاہیں اپنے ہاں روکے رکھیں۔ ایسے باادب اور تابع فرمان ساتھیوں کے بارے میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کیا کریں یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی فرمانے والا ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام ؓ کی اطاعت شعاری اور وفاداری کا تذکرہ کرنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کو ان کے لیے بخشش کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة توبہ میں یہ بتلایا ہے کہ نبی ﷺ کی دعا صحابہ کے لیے نہایت ہی اطمینان کا باعث ہوا کرتی تھی کتنے خوش نصیب تھے۔ وہ لوگ جن کے لیے رب کریم اپنے رسول کو بخشش کی دعا کا حکم دیتا ہے اور پھر آپ کی دعا کی قبولیت کو ان الفاظ کے ساتھ یقینی بنادیا کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَّجْلِسِہٖ ثُمَّ یَجْلِسْ فِیْہِ وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَ تَوَسَّعُوْا) [ رواہ البخاری : باب (إِذَا قیلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوا فِی الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا یَفْسَحِ اللَّہُ لَکُمْ وَإِذَا قیلَ انْشِزُوا فانْشِزُوا) الآیَۃَ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص بیٹھنے کے لیے کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے۔ اس کی بجائے مجلس میں وسعت اختیار کرلیا کرو۔ “ مسائل 1۔ صحابہ کرام ؓ نبی اکرم ﷺ کی مجلس سے اجازت کے بغیر نہیں اٹھا کرتے تھے۔ 2۔ مجلس کا ادب ہے کہ صاحب مجلس سے اجازت لے کرجایا جائے۔ 3۔ صاحب امرمشورہ یا کسی کام کے لیے لوگوں کو طلب کرے تو ان کا حاضر ہونا ضروری ہے۔ تفسیر بالقرآن معاشرتی آداب : 1۔ اے ایمان والو ! تم کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لے لیا کرو۔ (النور : 27) 2۔ جب تم گھروں میں داخل ہو تم گھر والوں کو سلام کہو۔ (النور : 61) 3۔ اے ایمان والو ! جب تمہیں مجلس میں کھل کر بیٹھنے کے لیے کہا جائے تو کھل کر بیٹھ جایا کرو، اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو۔ (المجادلۃ : 11)
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

” مسلمانوں رسول کو اس طرح نہ بلایا کرو جس طرح ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایک دوسرے کا بہانہ بنا کر چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے۔ (63)

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی آداب کے سلسلہ میں بالخصوص سرورگرامی ﷺ کے آداب کا خیال رکھنا فرض ہے۔ صحابہ کرام ؓ کو یہ بھی ادب سکھلایا گیا کہ رسول اکرم ﷺ سے عرض کرتے ہوئے آپ کو اس طرح نہ بلایا کریں جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دکھلاوے کے لیے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں پھر کسی نہ کسی بہانہ سے چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو اللہ کے رسول کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ان لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ رسول ﷺ کی نافرمانی کے نتیجہ میں انہیں کوئی بڑی مصیبت آپہنچے یا وہ عذاب الیم میں مبتلا کیے جائیں۔ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو یہ بات پوری طرح معلوم ہونا چاہیے کہ آسمانوں کا چپہ چپہ اور زمین کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ تمہاری جلوت، خلوت، نیت اور ہر حرکت کو جانتا ہے (لَاتَجْعَلُوْا دُعَاء الرَّسُوْلٍ ) کے مفسرین نے تین معنٰی لیے ہیں۔ 1 صحابہ کرام ﷺ کو سمجھایا گیا کہ جس طرح تم ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو رسول معظم ﷺ کو اس طرح آواز نہ دیا کرو (الحجرات : 3) اس آیت میں ان لوگوں کو ان الفاظ میں سرزنش کی گئی جنہوں نے رسول کریم ﷺ کے حجرے سے باہر اونچی آواز سے یہ الفاظ کہے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

اچھی طرح جان لو ! آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ تم جس روش پر بھی ہو اللہ اس کو جانتا ہے جس دن لوگ اس کی طرف پلٹائے جائیں گے وہ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ (64)

” اُخْرِجْ اَلِیْنَا یَامحَمَّدُ “ اے محمد باہر آئیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا اس طرح آواز دینا بہت ہی ناگوار گزرا۔ جس پر فرمایا کہ جو لوگ آپ ﷺ کے حجرے سے باہر آواز دے رہے تھے ان کی اکثریت بےعقل ہے دوسری آیت میں فرمایا کہ پیغمبر کو اس طرح آواز نہ دیا کرو جس طرح تم ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو اگر تم باز نہ آئے تو تمہارے تمام کے تمام اعمال تباہ کردیے جائیں گے (الحجرات : 2) جو لوگ فرقہ واریت میں آکر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یا محمد کہنا ہے اور فلاں نے جلتے رہنا ہے یا اس طرح کے الفاظ کہتے ہیں کہ ” یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اُنْظُرْ حَالَنَا یَا حَبِیْبَ اللّٰہ اِسْمَعْ قَالَنَا “ ے رسول ہماری طرف دیکھیں اور ہماری بات سنیں انہیں اس بات کی فکر کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس گستاخی کی وجہ سے ان کے اعمال غارت ہوجائیں۔ 2 لَاتَجْعَلُوْ دُعَاء الرَّسُوْلِکادوسرا مفہوم یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا کسی کو بلانا ہمارے ایک دوسرے کو بلانے کے برابر نہیں ہوسکتا بلکہ جب بھی آپ کسی کو آواز دیں گویا کہ جسے بلائیں تو اس فوری طور پر حاضر ہونا لازم ہے۔ 3 لَاتَجْعَلُوْ دُعَاء الرَّسُوْلِکا تیسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعا کو اپنے لیے معمولی دعا نہ سمجھو بلکہ آپ کا کسی کے لیے دعا کرنا اس کے لیے نعمت گراں مایہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں انہیں سخت ترین آزمائش نہ آجائے یا اذیت ناک عذاب میں مبتلا نہ کر دئیے جائیں۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ عَلٰٓی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَا أُبَیُّ وَہُوَ یُصَلِّی فَالْتَفَتَ أُبَیٌّ وَلَمْ یُجِبْہُ وَصَلَّی أُبَیٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَکَ یَا أُبَیُّ أَنْ تُجِیْبَنِیْٓ إِذْ دَعَوْتُکَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ کُنْتُ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ أَفَلَمْ تَجِدْ فِیْمَآ أَوْحَی اللّٰہُإِلَیَّ أَنِ (اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ) قَالَ بَلٰی وَلاآأَعُودُ إِنْ شَآء اللّٰہُ قَالَ تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَکَ سُورَۃً لَمْ یَنْزِلْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِیْ الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا قَالَ نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا أُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا وَإِنَّہَا سَبْعٌ مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمُ الَّذِیْٓ أُعْطِیَتُہٗ ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب مَآ جَاءَ فِی فَضْلِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بیشک رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپ نے اسے آواز دی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ ابی ؓ نے التفات فرمایا اور جواب نہ دیا لیکن اپنی نماز کو ہلکا کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ کو سلام کہا ! رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : ابی ! کس چیز نے تجھے جواب دینے سے روکے رکھا تھا۔ ابی ؓ نے کہا اللہ کے رسول میں نماز ادا کر رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو قرآن مجید میں یہ بات نہیں پاتا کہ اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو ۔ جب وہ تمہیں بلائیں ایسی چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ اس نے کہا کیوں نہیں انشاء اللہ دوبارہ ایسے نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے ایسی سورة سکھلاؤں جو توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نہیں ہے اس نے کہا ضرور ! آپ ﷺ نے دریافت کیا تو نماز میں کیا پڑھتا ہے ابی ؓ نے عرض کیا کہ سورة فاتحہ پڑھتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس جیسی سورة توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نازل نہیں ہوئی اور یقیناً یہ سات آیات اور عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے رسول ﷺ کو دور سے آواز دینا پرلے درجے کی گستاخی ہے۔ 2۔ رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ 3۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ انسان کے فکر وعمل کو پوری طرح جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی معظم ﷺ کے ادب واحترام کا حکم : 1۔ نبی اکرم ﷺ کو دور سے آواز نہ دی جائے۔ (الحجرات : 4) 2۔ آپ ﷺ کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ (الحجرات : 2 ) 3۔ آپ ﷺ سے آگے قدم نہ اٹھایا جائے۔ (الحجرات : 1) 4۔ آپ ﷺ کی مکمل اتباع کی جائے۔ (محمد : 33) 5۔ جو آپ ﷺ دیں اسے لیا جائے جس سے آپ نے منع کیا ہے اسے چھوڑ دیاجائے۔ ( الحشر : 7)