Ayah 25:1فہم القرآن
اس سورة مبارکہ کی ابتدا ” تَبَارَکَ الَّذِیْ “ “ کے الفاظ سے ہوتی ہے جس میں جلال کے ساتھ کمال بھی پایا جاتا ہے۔ تَبَارَکَ سُپرڈگری کا صیغہ ہے۔ جس کا معنٰی ہے ہر اعتبار سے بلندوبالا ذات جو لوگوں کی دعاؤں اور امیدوں سے بڑھ کر فائدہ پہنچانے والی ہے۔ سورة کی ابتدا میں قرآن مجید کے لیے دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور دلائل اور برھان کے حوالے سے حق اور باطل، کھرے اور کھوٹے میں تمیز کردینے والی کتاب ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ کی ذات اطہر پر نازل فرمایا تاکہ آپ مجرموں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ قرآن مجید میں نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کا تعارف کرواتے ہوئے کئی بار یہ حقیقت واضح کی ہے کہ آپ کی نبوت کا دو لفظی پیغام یہ ہے کہ آپ حقیقی ایمان اور صالح کردار رکھنے والوں کو خوشخبری دینے والے ہیں کفار، مشرکین اور جرائم پیشہ لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی بارہا دفعہ بتلائی ہے کہ آپ کی نبوت کسی خاص دور، مخصوص قوم اور قبیلہ کے لیے نہیں بلکہ آپ قیامت تک کے لیے رسول بنائے گئے ہیں جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا پیغام پوری دنیا میں پہنچے گا۔
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِیْ سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِیْ شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَّمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ ) [ رواہ احمد : مسند ابی ذر ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں۔
1۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔
2۔ میرے لیے ساری زمین سجدہ گاہ بنادی گئی ہے۔
3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔
4۔ میری رعب کے ذریعے مدد فرمائی گئی ہے اس وجہ سے دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔
5۔ مجھے قیامت کے دن کہا جائے گا مانگ عطا کیا جائے گا اور تیری امت کے حق میں تیری شفاعت قبول کی جائے گی۔ جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا اس کو میری شفاعت فائدہ دے گی۔ “
(لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُوَلَایَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَّلَا وَبَرٍإِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ )
[ مسند أحمد : کتاب مسند الشامیین، باب حدیث تمیم الداري ]
” یہ دین ہر صورت وہاں تک پہنچے گا جہاں رات کی تاریکی اور دن کی روشنی پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شہر اور بستی کے ہر گھر میں اس دین کو داخل فرما دے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر اعتبار سے بابرکت ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔
3۔ نبی ﷺ کفار، مشرکین اور مجرمین کو ان کے برے انجام سے ڈرانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
آپ ﷺ کی عالمگیر نبوت کے چند دلائل :
1۔ اے رسول اعلان فرمائیں کہ ” اللہ “ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رسول منتخب فرمایا ہے۔ (الاعراف : 158)
2۔ رسول اللہ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (سباء : 28)
3۔ رسول اللہ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : 45)
4۔ رسول اللہ پوری دنیا کے لیے رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : 107)
5۔ رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40)
Ayah 25:2فہم القرآن
ربط کلام : آپ ﷺ نے سب سے پہلے لوگوں کو شرک کے انجام، مضمرات سے ڈرایا اور بتلایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے وحدہ لا شریک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس لیے بھی شرک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ اکیلا ہی زمینوں آسمانوں کا مالک ہے اس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی کسی اعتبار سے سھیم اور شریک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر ٹھیک ٹھیک اس کا اندازہ مقرر فرمایا۔ اس مختصر آیت میں چار طویل ترین مضامین کا احاطہ کیا گیا ہے۔ 1 زمین و آسمان کی بادشاہی صرف ایک اللہ کے لیے ہے۔ زمین و آسمانوں کی بادشاہی سے مراد جو کچھ بھی ان کے درمیان ہے وہسب کا سب اللہ تعالیٰ کی ملک ہے اور اس پر اسی کی حکومت ہے۔ 2 اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں اور نہ ہی اسے اولاد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اولاد سے بےنیاز ہونے کے قرآن مجید میں درجنوں دلائل دیے گئے ہیں۔ اس نے جن، انس، ملائکہ اور اپنی مخلوق میں کسی کو نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی بیٹی ہے۔ سورة اخلاص میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہ کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز پیدا ہوئی ہے۔ 3 زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے ان پر صرف ایک اللہ کی بادشاہی ہے نہ کائنات کی تخلیق کے وقت کوئی اس کا شریک تھا اور نہ ہی اس نے کسی کو ان میں شریک بنایا ہے 4 اس نے ناصرف ہر چیز کو پیدا کیا ہے بلکہ ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس کی شکل و صورت، قدوقامت، خوراک اور ماحول یہاں تک کہ اس کے ذمہ وہی کام لگایا گیا ہے جو اس کے لائق تھا آپ مخلوق میں سے کسی چیز کو اس کی شکل و صورت اور قدوقامت کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں کہ تربوز کی بیل اتنا بڑا پھل اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی تھی اس لیے اسے زمین پر بچھا دیا گیا۔ آم کا درخت تربوز سے وزنی آم اٹھا سکتا تھا لیکن اتنا بڑا آم اگر درخت کے نیچے بیٹھے شخص کے سر پر گرجائے تو اس کا کیا حشر ہوتا۔ گھوڑے نے شاہسوار کو لیکر دوڑنا تھا اس کے مطابق ہی اس کے وجود میں سرعت اور طاقت رکھ دی گئی۔ اونٹ نے صحراؤں کے اندر چلنا اور باربرداری کا کام کرنا تھا اس کے وجود کو اسی انداز کا بنایا۔ تاکہ وہ کئی کئی دن بھوکا پیاسا رہ کر سفر کرتا رہے علی ھذ القیاس، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اپنی ہیئت اور ذمہ داری کے حوالے سے ٹھیک ٹھیک پیدا کیا ہے۔ پھول کو دیکھیے کہ وہ اپنے وجود میں گلدستہ کی ترتیب لیے ہوئے ہے کیا مجال ہے کہ پھول میں کوئی پتی ایک حد سے بڑھی ہوئی دکھائی دیتی ہو۔ انسان اپنے آپ پر غور کرے کہ ذات کبریا نے اسے پیدا فرما کر کس طرح اسے متوازن اعضاء عطا فرمائے اگر کسی انسان کے کان ہی اس کی عمر کے مطابق بڑھتے جائیں تو وہ انسان کس قدر خوفناک شکل اختیار کر جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے کہ اس نے انسان ہی نہیں بلکہ اس نے ہر چیز کے اعضاء خوبصورت اور متوازن پیدا فرمائے ہیں۔ اسی لیے فرمایا ہے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس نے ہر چیز کا ٹھیک ٹھیک انداز مقرر فرمایا۔
1 کان تو ایک طرف اگر ہاتھ کی ایک انگلی ہی انسان کی عمر کے ساتھ ساتھ لمبی ہوجائے تو ناصرف پورے کا پورا ہاتھ بیکار ہوگا بلکہ انسان کے لیے اپنا ہاتھ بند کرنا ہی ناممکن ہوجائے گا۔ اسی طرح ناک کو سامنے رکھیں اگر انسان کی ناک لمبی بنا دی جاتی تو اس کی ناصرف شکل ہی خوفناک ہوتی بلکہ اس کے لیے کھانا پینا ہی مشکل ہوجاتا۔
مسائل
1۔ صرف اللہ ہی زمین و آسمانوں کا بادشاہ ہے۔ 2۔ زمین و آسمانوں کی بادشاہی میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کسی چیز کو اپنی اولاد نہیں بنایا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو متوازن پیدا فرمایا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 21۔ 22)
2۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20)
3۔ اللہ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4)
4۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات پیدا فرمائی۔ ( الانعام : 100)
5۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے پانی کے درمیان پردہ حائل کیا۔ ( الفرقان : 53)
8۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : 102)
Ayah 25:3فہم القرآن
ربط کلام : جب اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی بادشاہی میں شریک نہیں کیا اور نہ ہی اس نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے پھر دوسروں کو اس کا شریک سمجھنا اور بنانے کا کیا مقصد ؟
شرک کرنے والے کے ذہن میں کسی نہ کسی حد تک یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ فلاں زندہ یا فوت شدہ شخصیت۔ اللہ کے ہاں اتنی معتبر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے احترام اور مقام کی وجہ سے اس کی بات مسترد نہیں کرسکتا۔ اسی تصور کے پیش نظر ہر دور میں لوگوں نے ملائکہ، جنات، انبیاء میں سے کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح باپ اپنی اولاد کی محبت اور تعلق کی بنیاد پر اولاد کی بات مسترد نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنی اولاد کی سفارش رد نہیں کرتا۔ جس طرح اولاد اپنے باپ کی جائیداد میں حصہ دار ہوتی ہے اسی طرح یہ شخصیات اللہ کے اختیارات میں شریک ہیں۔ اس عقیدہ کی ٹھوس دلائل کی بنیاد پر نفی کی گئی ہے۔ جن کو حاجت روا، مشکل کشا، داتا ودستگیر سمجھ کر بلایا اور پکارا جاتا ہے انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی اور نہ ہی کچھ پیدا کرسکتے ہیں وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ مخلوق ہونے کے حوالے سے وہ اپنے رب کے سامنے بےبس اور مجبور ہیں اس حد تک بےبس اور مجبور ہیں۔ کہ وہ اپنے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی اپنی موت وحیات اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی کو اس کی موت کے بعد اٹھا سکتے ہیں۔ مر کر جی اٹھنے کا علم تو بڑی دور کی بات ہے انسان کتنا ہی صالح اور نیک کیوں نہ ہو اسے گہری نیند میں اتنی بھی خبر نہیں ہوتی کہ نیند کے دوران اس کے آس پاس کیا ہوتا رہا ہے۔ جو لوگ من دون اللہ یا اللہ تعالیٰ کے سوا کے الفاظ سے مغالطہ دیتے ہیں کہ اس سے مراد بت ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بتوں کے بارے میں کوئی آیت اور دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن پیدا کرے گا ؟
نبی ﷺ کی دعا اور عقیدہ :
(عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَی الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ ؓ إِلَی الْمُغِیرَۃِ اُکْتُبْ إِلَیَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ فَأَمْلٰی عَلَیَّ الْمُغِیرَۃُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاۃِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللَّہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ ) [ رواہ البخاری : کتاب القدر، باب لامانع لما اعطی اللہ ]
” مغیرہ بن شعبہ کے غلام وراد کہتے ہیں معاویہ نے مغیرہ ؓ کی جانب لکھا کہ مجھے لکھ کر بھیجئے۔ جو نبی اکرم ﷺ سے نماز کے بعد آپ سنا کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ ؓ نے مجھ سے لکھوایا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز کے بعد یہ الفاظ کہتے ہوئے سنا۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ ایک ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں اے اللہ جسے تو دینا چاہتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ تیرے ہاں کسی بڑے کی بڑائی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ “
مسائل
1۔ مشرک انہیں معبود مانتے ہیں جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا۔ 2۔ تمام مخلوقات کو پیدا کرنے والا ” اللہ “ ہے۔
3۔ اللہ کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ 4۔ اللہ کے سوا کوئی کسی کو موت دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔
5۔ اللہ کے سوا کوئی کسی کو زندگی نہیں دے سکتا۔ 6۔ اللہ کے سوا کوئی کسی کو زندہ نہیں کرسکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے کچھ پیدا نہیں کیا، اور نہ ہی کسی کو کوئی اختیار حاصل ہے :
1۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : 20)
2۔ کیا تم ان کو شریک بناتے ہو ؟ جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف : 191)
3۔ انہوں نے ان کو معبود بنا لیا جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی تو وہ خود مخلوق ہیں۔ (الفرقان : 3)
4۔ بیشک جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ سب کے سب جمع ہوجائیں۔ (الحج : 73)
5۔ کیا یہ لوگ بغیر کسی چیز کے پیدا ہوگئے ہیں یا اپنے آپ کو خود پیدا کرنے والے ہیں ؟ (الطور : 35)
6۔ تمام مخلوق اللہ کی ہے۔ اللہ کے سوا کسی نے کچھ پیدا کیا ہے تو مجھے دکھاؤ۔ ( لقمان : 11)
Ayahs 25:4–6فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید کے مختصر دلائل کے بعد قرآن مجید پر اٹھنے والے اعتراضات کا مختصر جواب۔
اہل مکہ کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ تھا کہ وہ ایک ہی مجلس اور موقعہ پر کئی قسم کے قرآن مجید پر اعتراض اور سوالات اٹھاتے تھے ایک لمحہ ان کا الزام تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے عبارات بنا کر قرآن کی آیات کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ دوسرے لمحہ میں کہتے کہ قرآن بنانے میں اس کے اور لوگ بھی معاون و مددگار ہیں۔ تیسرے لمحہ ان کی زبان پر یہ الزام ہوتا کہ یہ قرآن تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اسے لکھوائی جاتی ہیں اور یہ صبح وشام ہمارے سامنے پڑھ دیتا ہے۔ اہل مکہ کی دریدہ دھنی حد سے گزر چکی تھی جس وجہ سے وہ کسی ایک بات اور الزام پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ ان کے پراپیگنڈہ کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ کسی نہ کسی طریقہ سے قرآن مجید کے بارے میں لوگوں کا ذہن اس قدر الجھا دیا جائے کہ وہ اس کی طرف توجہ نہ کرسکیں اس لیے کبھی اسے جھوٹ کا پلندہ اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں قرار دیتے تھے۔ جہاں تک ان کے اس الزام کا تعلق ہے کہ چند لوگ ہیں جو آپ کی معاونت کرتے ہیں آپ لکھ کر اسے قرآن مجید کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ ایسا الزام ہے جس میں ایک حرف کی بھی سچائی نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں کا وہ نام لیتے تھے وہ تو انہی کے زرخرید غلام اور پرلے درجے کے ان پڑھ تھے۔ سب کو معلوم تھا کہ یہ الزام برائے الزام کے سوا کچھ نہیں جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ آپ ان لوگوں سے سیکھنے کے بعد اپنے ہاتھ سے لکھ کر لوگوں سامنے قرآن بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ الزام پہلے الزام سے بھی بڑھ کر دیوالیہ پن کا مظہر تھا کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے زندگی بھر اپنے ہاتھ سے ایک لفظ بھی تحریر نہیں کیا۔ (العنکبوت : 48)
اہل مکہ کی ہرزہ سرائی اور دریدہ دھنی کو درخور اعتنا نہ سمجھنے کی وجہ سے صرف اتنا جواب دیا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں کہ اس قرآن کو اس ذات کبریا نے نازل فرمایا ہے جو زمین و آسمان کے راز جانتا ہے وہ تمہاری ہرزہ سرائی اور نیّت سے خوب واقف ہے۔ اس کے باوجود تمہیں مہلت دئیے جا رہا ہے کہ تم غور کرو اور تائب ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کرنے اور مہربانی فرمانے والا ہے۔
مسائل
1۔ اہل مکہ قرآن مجید کو جھوٹ اور پہلے لوگوں کے قصہ کہانیاں قرار دیتے تھے۔
2۔ اہل مکہ قرآن مجید کو آپ کی خود نوشت کتاب کہتے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ باربار انسان کو توبہ کا موقعہ دیتا ہے کیونکہ وہ معاف کرنے دینے والا مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید پر کفار کے الزامات اور ان کا جواب :
1۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کہتے ہیں آپ کو تو ایک آدمی سکھا جاتا ہے۔ (النحل : 103)
2۔ انہوں نے کہا قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (الفرقان : 5)
3۔ انہوں کہا یہ تو اثر کرنے والا جادو ہے۔ (المدثر : 24)
4۔ فرما دیجیے جن و انس اکٹھے ہو کر اس قرآن جیسا قرآن لے آئیں۔ (بنی اسرائیل : 88)
5۔ فرما دیجیے دس سورتیں اس جیسی لے آؤ اور اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو۔ (ہود : 13)
6۔ فرما دیجیے ایک سورة اس جیسی لے آؤ اور جن کو بلانا چاہتے ہو بلالو۔ (یونس : 38)
Ayah 25:7فہم القرآن
ربط کلام : کفار کا قرآن مجید پر اعتراضات کرنے کے بعد سروردو عالم ﷺ کی ذات پر اعتراضات۔
رسول اکرم ﷺ کی ذات اطہر پر اہل مکہ کو یہ بھی اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ جو اس کی بات نہ ماننے والوں کو ڈرا دھما کر اس کی رسالت منواتا۔ یہاں تک ان لوگوں کا رسول اکرم ﷺ پر یہ اعتراض کہ آپ انسان ہونے کے ناطے سے کھانے پینے کے محتاج تھے اور سودا سلف کے لیے بازار جاتے یہ ایسا بوسیدہ اور قدیم ترین اعتراض ہے جو ہزاروں سال پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) پر بھی کیا گیا۔ قرآن مجید نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ کیوں نہیں آپ سے پہلے جتنے پیغمبر مبعوث کئے گئے وہ سب کے سب کھانے پینے والے انسان تھے انبیاء واضح الفاظ میں اس بات کا اعتراف کرتے کہ لوگو ! انسانی حاجات کے حوالے سے ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں لیکن ہمارا امتیاز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ہمارا انتخاب کیا ہے (ابراہیم : 11)
جہاں تک دوسرے اعتراض کا تعلق ہے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہیے تھا جو شخص آپ کی رسالت کا انکار کرتا فرشتہ اسے ڈرا دھما کر آپ کی رسالت ماننے پر مجبور کردیتا۔ یہ بات دو اعتبار سے غلط ہے ایک تو اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی رسالت کو جبراً منوانا پسند نہیں فرمایا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ اگر رسول کی تائید کے لیے فرشتہ بھیجا جاتا تو پھر اس قوم کو مہلت نہ دی جاتی۔ انکار کرنے پر قوم کا صفایا کردیا جاتا ہے۔
مسائل
1۔ رسالت مآب ﷺ پر کفار بیہودہ قسم کے اعتراضات اٹھایا کرتے تھے۔
2۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) انسان تھے اور انسان ہونے کی وجہ سے وہ کھاتے، پیتے، بازار سے سودا سلف لاتے اور کام، کاج کرتے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر کی رسالت کو جبری طور پر نہیں منوایا۔ ( تمام انبیاء کرام بشر تھے اسی سورت کی آیت 25 کی تفسیر بالقرآن ملاحظہ فرمائیں۔ )
Ayahs 25:8–9فہم القرآن
ربط کلام : رسالت مآب ﷺ پر کفار کے مزید اعتراضات
رسالت مآب ﷺ کے بارے میں کفار یہ بھی ہرزاسرائی کرتے کہ یہ تو مالی اعتبار سے غریب آدمی ہے اگر واقعی یہ اللہ کا منتخب اور پسندیدہ نبی ہوتا تو اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہونا چاہیے تھی۔ نقدی ناسہی کم از کم اس کے پاس کوئی ایسا باغ ہوتا جس سے خود کھاتا اور اپنے بال بچوں کو کھلاتا۔ رسول معظم ﷺ کی غربت کا بہانہ بنا کر وہ لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس سوال کا جواب دینا اس لیے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ دولت انسان کے شرف کا معیار نہیں ہے پھر کفار مسلمانوں کو یہ کہہ کر پھسلانے کی کوشش کرتے کہ یہ ایسا شخص ہے جس کو جادو ہوچکا ہے۔ جس بناء پر ایسی باتیں کرتا ہے جس کو عقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ کفار کی ان باتوں کا قرآن مجید نے متعدد مقامات پر جواب دیا ہے اس لیے یہاں ان کا یہی جواب مناسب سمجھا گیا ہے کہ آپ ﷺ غور فرمائیں کہ یہ لوگ آپ سے کس قسم کی توقعات اور آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ ایمان لانے کے لیے مخلص ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد ہے کہ لوگوں کو آپ سے دور کردیں۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ خود گمراہ ہوچکے ہیں۔ اب ہدایت کی طرف آنے کی ان میں استعداد ختم ہوچکی ہے۔
Ayah 25:10فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا جواب۔
کفار نے محض حجت بازی کے لیے آپ ﷺ پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اگر آپ واقعی ہی اللہ کے رسول ہیں تو پھر آپ کے لیے ایسا باغ ہونا چاہیے جو اپنے پھل سے بھرا ہوا ہو۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ بڑی بابرکت ذات ہے اگر وہ چاہے تو آپ کے لیے کفار کے مطالبہ سے کئی گنا بہتر آپ کو باغ عنایت فرما دے جس کے نیچے نہریں چل رہی ہوں یا اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کو اتنا مال عنایت کرے کہ جس سے آپ بڑے بڑے محلات تیار کرسکیں۔ لیکن اللہ نے آپ کے لیے یہی پسند فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں نہ کہ لینڈ لارڈ ور سرمایہ دار کے طور پر۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو یہ اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو بادشاہ نبی بن جائیں اگر چاہیں عبد اور اس کے رسول نبی کریم ﷺ نے حکمران نبی بننے کی بجائے اللہ کا بندہ اور رسول بننا پسند فرمایا تھا۔
” حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! اگر میں چاہتا تو سونے کے پہاڑ میرے ساتھ ہوتے میرے پاس ایک فرشتہ آیا جس کی کمر کی لمبائی کعبہ کے برابر تھی۔ اس نے کہا کہ آپ کا رب آپ ﷺ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ عاجز انسان کی حیثیت سے نبی بننا چاہتے ہیں یا بادشاہ کی طرح۔ میں نے جبرائیل کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اپنے آپ کو اختیار کیجئے ! تو میں نے کہا کہ عاجز انسان کی حیثیت سے نبی بننا چاہتا ہوں۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا آپ فرمایا کرتے تھے میں عاجز آدمی کی طرح کھانا کھانا اور بیٹھنا پسند کرتا ہوں۔ “ [ رواہ فی شرح السنۃ : باب تواضعہ ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی بابرکت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنے نبی کو باغات اور محلات عنایت فرماتا۔
Ayahs 25:11–14فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا دوسرا جواب۔
نبی اکرم ﷺ کے سامنے کفار اس لیے مطالبات پیش کرتے تھے کہ آپ کو الجھایا اور لوگوں کے سامنے لاجواب کیا جائے۔ ان کے مطالبے کی حقیقت یوں بیان کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ان کے مطالبات اور اعتراضات کا یہ مقصد نہیں کہ وہ آپ پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کو الجھائیں اور آپ کو لوگوں کے سامنے لا جواب کریں انہوں نے یہ وطیرہ اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ یہ قیامت کو جھٹلا تے ہیں اگر ان کا قیامت پر ایمان ہوتا تو آپ نے جس قدر ان کو سمجھایا ہے یہ آپ پر ایمان لے آتے۔ اب تو ان کے مطالبے کا یہی جواب ہے کہ جس شخص نے قیامت کو جھٹلایا اس کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ایسے لوگوں کو آگ دور سے دیکھے گی تو ان کو دیکھ کر آگ کے طیش اور جوش میں اضافہ ہوجائے گا جس وجہ سے آگ سے آوازیں نکلیں گی جو گدھے کی آواز کی مانند ہوں گی جہنم کی آگ کے لیے زَفِیْرًا کا لفظ استعمال کیا ہے زفیراً گدھے کی وہ آواز ہے کہ جب گدھا ہنہنانا ختم کرتا ہے تو اس کے سینے کی آواز بھی اس کے گلے کی آواز کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بڑی مکروہ اور خوفناک ہوتی ہے۔ جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے تو انہیں آگ کی زنجیروں کے ساتھ جکڑ کر جہنم کی تنگ وادیوں سے گزارا جائے گا۔ جس سے گزرتے ہوئے ان کی ہڈیاں چکنا چور ہوجائیں گی جس کی وجہ سے وہ موت کو آواز پر آواز دینگے۔ ان کی حالت دیکھ کر جہنم کے فرشتے جھڑکیاں دیتے ہوئے انہیں کہیں گے کہ آج ایک موت نہیں بہت سی موتوں اور ہلاکتوں کو پکارو تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اب تم نے ہمیشہ اسی حالت میں رہنا اور چلاّنا ہے۔
مسائل
1۔ جہنمیوں کو دیکھ کر جہنم کی آگ میں جوش پیدا ہوجائے گا۔
2۔ جہنم کی آگ سے خوفناک قسم کی آوازیں نکلیں گی۔
3۔ جہنمیوں کو آگ کی زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی تنگ وادیوں میں گھسیٹا جائے گا۔
4۔ جہنمی موت کو آواز دیں گے لیکن انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کی آہ زاریاں :
1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
Ayahs 25:15–16فہم القرآن
ربط کلام : کفار کو ان کے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد ان سے ایک سوال کیا گیا ہے۔
کفار کو ان کا خوفناک انجام بتلانے کے بعد استفسار کے انداز میں بتلایا گیا ہے کہ اے کفر کرنے والو ! بتلاؤ کہ جہنم کی سزائیں اور ہولناکیاں بہتر ہیں یا ہمیشہ رہنے والی جنت بہتر ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے ساتھ کر رکھا ہے جو اجر اور رہنے کے اعتبار سے بہترین مقام ہے متقین اس جنت میں جو چاہیں گے سو پائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا ظاہر بات ہے کہ جنت ہی بہترین مقام اور رہنے کی جگہ ہے۔
جنت اور جہنم :
(وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اَوَّلَ زُمْرَۃٍ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ کَاَشَدِّ کَوْکَبٍ دُرِّیٍٍٍٍّ فِیْ السَّمَاءِ اِضَاءَ ۃً قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ لَا اخْتِلَافَ بَیْنَھُمْ وَلَا تَبَاغُضَ لِکُلِّ امْرِیئ مِّنْھُمْ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ یُرٰی مُخُّ سُوْ قِھِنَّ مِنْ وَّرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا لَایَسْقَمُوْنَ وَلَا یَبُوْلُوْنَ وَلَا یَتَغَوَّطُوْنَ وَلَایَتْفُلُوْنَ وَلَا یَمْتَخِطُوْنَ اٰنِیَتُھُمُ الذَّھَبُ وَالْفِضَّۃُ وَاَمْشَاطُھُمُ الذَّھَبُ وَوُقُوْدُ مَجَامِرِھِمُ الْاُلُوَّۃُ وَرَشْحُھُمُ الْمِسْکُ عَلٰی خَلْقِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ عَلٰی صُوْرَۃِ اَبِیْھِمْ اٰدَمَ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا فِیْ السَّمَاءِ )
[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَءِکَۃِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الأَرْضِ خَلِیفَۃً )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ پھر جو ان کے بعد داخل ہونے والے، یہ آسمان پر بہت تیز چمکنے والے ستارے کی طرح ہوں گے۔ تمام جنتیوں کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان کے درمیان اختلاف ہوگا اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی۔ جن کے حسن کی وجہ سے جن کی پنڈ لیوں کا گودا ‘ ہڈی اور گوشت کے پیچھے دکھائی دے گا۔ اہل جنت صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے نہ وہ بیمار ہوں گے اور نہ ہی پیشاب کریں گے ‘ نہ رفع حا جت کریں گے اور نہ ہی تھوکیں گے اور نہ ہی ناک سے رطوبت بہائیں گے ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن عود ہندی ہوگا اور ان کا پسینہ کستوری کی طرح ہوگا۔ سب کا اخلاق ایک جیسا ہوگا نیز وہ سب شکل و صورت میں اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے آدم کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ “
جہنم کی کیفیّت :
(وَعَنِ ابْنْ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُوؤتٰی بِجَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَّجُرُّوْنَھَا) [ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِہَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِینَ ]
” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے ‘ جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔ “
مسائل
1۔ متقین کے رہنے کے لیے جنت بہترین مقام ہے۔ 2۔ متقین جنت میں جو چاہیں گے پائیں گے۔
3۔ متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ 4۔ جہنم ہر اعتبار سے اذیّت ناک اور بدترین جگہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
جنت اور جہنم میں فرق کی ایک جھلک :
1۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہ ہوگی۔ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26)
2۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : 27)
3۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامۃ : 22) 4۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : 72)
5۔ مومنوں کے چہرے خوش و خرم ہوں گے (عبس : 38) 6۔ کفار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40)
Ayahs 25:17–18فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا ایک سبب شرک ہے اس لیے مشرک کا انجام ذکر کیا جاتا ہے۔
شرک کرنے والا شخص حقیقی عقل کھو بیٹھتا ہے جس وجہ سے اسے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جس کو میں اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کے اختیارات میں شریک کررہا ہوں اس کی اپنی حیثیت کیا ہے اس بےعقلی کی وجہ سے مشرک اللہ کے ان بندوں کو بھی رب کے اختیارات میں شریک سمجھتے ہیں جو زندگی بھرشرک کی مخالفت کرتے رہے۔ ان میں سرفہرست انبیاء کرام (علیہ السلام) نیک علماء اور صلحاء لوگ شامل ہیں۔ لیکن جب یہ لوگ دنیا سے کوچ کر گئے تو مشرکوں نے اپنے مفاد کی خاطر انہیں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرالیا۔ ان کی قبروں پر عرس اور میلے لگائے، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان کے سامنے سجدے کیے اور ان کے سامنے اپنی حاجات پیش کرتے رہے یہی کام اور باتیں عبادت کا خلاصہ ہیں۔ عبادت کرنے والوں اور جن کی عبادت کی جاتی تھی انہیں قیامت کے دن اکٹھا کرکے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ ہدایت سے بھٹک گئے تھے ؟ انبیاء کرام (علیہ السلام) ، نیک علماء اور صلحاء حضرات اپنے رب کے حضور میں عرض کریں گے کہ بار الہا آپ تو ہر قسم کے شرک سے مبرّا ہیں۔ جہاں تک ہماری ذات کا معاملہ ہے ہمارے لیے یہ کیسے جائز تھا کہ ہم تیری عبادت کی طرف بلانے کے بجائے لوگوں کو اپنی یا دوسروں کی عبادت کرنے کا حکم دیتے۔ آپ نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں عطا فرمائیں یہ لوگ شکر گزار بننے کی بجائے۔ تیری ذات اور احکام کو بھول گئے اور یہی لوگ ہلاک ہونے والے تھے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال :
” جب اللہ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم ! اپنے آپ اور اپنی والدہ پر میری نعمت یاد کرو۔ جب میں نے روح پاک سے تیری مدد کی، تو گود میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا۔ میں نے تجھے کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائی۔ تو میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی صورت بناتا تھا۔ پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے ایک اڑنے والا پرندہ بن جاتا تھا۔ تو مادر زاد اندھے اور برص والے کو میرے حکم سے تندرست کرتا تھا اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتا تھا۔ “ [ المائدہ : 111 تا 112]
” اور جب اللہ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنالو ؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے جائز نہیں کہ وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے کہا ہے یقیناً تو اسے جانتا ہے، تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے۔ یقیناً تو ہی چھپی باتوں کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ “ [ المائدہ : 116]
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الجنائز ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں (محمد ﷺ یہ بھی کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ اسی حال میں فوت ہوا۔ وہ جنت میں جائے گا۔ “
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ سُءِلَ النَّبِیَّ ﷺ عَنِ الْکَبَاءِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شہادۃ الزور ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ سے استفسار کیا گیا کہ کبیرہ گناہ کون سے ہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، بےگناہ کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ “
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْمُوجِبَتَانِ مَنْ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لاَ یُشْرِکُ بِہٖ شَیْئاً دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ مُشْرِکٌ دَخَلَ النَّارَ ) [ رواہ أحمد : مسند جابر بن عبداللہ ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ اس نے اس کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور جس نے شرک کیا ہوگا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ “
مسائل
1۔ جن بزرگوں کی لوگ پوجا کرتے ہیں ان سے بھی اللہ تعالیٰ سوال کرے گا۔
2۔ جو بزرگ اپنی زندگی میں شرک کی مذمت کرتے رہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نجات پائیں گے۔
3۔ شرک کرنے والا ہدایت کے راستے سے گمراہ ہوجاتا ہے۔
4۔ شرک کرنے والے قیامت کے دن ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
شرک کے نقصانات :
1۔ شرک بدترین گناہ ہے۔ (النساء : 48 )
2۔ شرک ظلم عظیم ہے۔ (لقمان : 13)
3۔ شرک سے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : 65)
4۔ شرک کرنے سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : 31)
5۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72)
6۔ شرک کے بارے میں انبیاء کو انتباہ۔ (الانعام : 88)
7۔ شرک سے انسان گمراہی میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے۔ (النساء : 116)
Ayah 25:19فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صلحاء کی عاجزانہ وضاحت کے بعد اللہ تعالیٰ کا اعلان۔
انبیاء کرام، نیک علماء اور صلحاء حضرات کی عاجزانہ اور معذرت خواہانہ وضاحت سننے کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ تمہاری معذرت قبول کی جاتی ہے کیونکہ تم لوگوں کو عقیدہ توحید بتلاتے اور سمجھاتے رہے لیکن انہوں نے تمہیں جھٹلادیا لہٰذا تم میں اس بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتا کہ تم ان کی کسی قسم کی مدد کرسکو یا ان سے عذاب ٹال سکو۔ اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں، کیونکہ میرا فیصلہ تھا اور ہے کہ تم میں جو بھی ظلم کرے گا میں اس کو زبردست عذاب میں مبتلا کروں گا لہٰذا آج شرک کرنے والوں کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔ ظلم سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ (الَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلّ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب ظلم دون ظلم ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (الَّذِینَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ رسول معظم ﷺ کے صحابہ ؓ نے پوچھا ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بلا شبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “
(اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰیہ النَّارُوَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍٍ )
[ المائدہ : 72]
” بیشک جو شخص اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھہراتا ہے اس پر جنت حرام ہے۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور ظالم کوئی مددگار نہیں پائیں گے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) [ رواہ مسلم : باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ]
” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب والے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اگر تیرے لیے ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پردے گا وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا راوی کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا لیکن تو شرک کرنے سے باز نہ آیا۔ “
مسائل
1۔ شرک کرنے والا ظالم ہوتا ہے۔
2۔ ظالم کی قیامت کے دن کوئی بھی مدد نہیں کرسکے گا۔
3۔ ظالم کو زبردست عذاب دیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
شرک پرلے درجے کا ظلم ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہوں نبی اکرم ﷺ کا اعلان۔ (الانعام : 164)
2۔ جو اللہ کی ملاقات چاہتا ہے وہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (الکہف : 110)
3۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جو چاہے گا معاف فرما دے گا۔ (النساء : 48 تا 116)
4۔ جو بھی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔ (المائدۃ : 72)
5۔ حضرت لقمان کی نصیحت کہ اے بیٹے شرک نہ کر شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : 13)
6۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (النساء : 36)
Ayah 25:20فہم القرآن
ربط کلام : سورة الفرقان کا آغاز رسول اکرم ﷺ کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل سے ہوا اب اس کا اختتام بھی توحیدو رسالت پر کیا گیا ہے۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنے والے لوگ اس بات کو بنیاد بنایا کرتے تھے کہ ہم رسول کی رسالت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ یہ ہمارے جیسا کھانے، پینے اور کوچہ وبازار میں چلنے پھرنے والا انسان ہے۔ نبوت عظیم ترین منصب ہے اس منصب پر کوئی مافوق الفطرت ہستی فائز ہونا چاہیے تھی۔ اس اعتراض کی تائید میں کفار کبھی ملائکہ کا نام پیش کرتے اور کبھی اپنے میں سے کسی و ڈیرے اور جاگیر دار کا نام لیتے تھے۔ دونوں باتوں کا قرآن مجید نے کئی مقامات پر مدلّل جواب دیا ہے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں سمجھی جس بناء پر صرف یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا سبب بنایا ہے تاکہ تم حوصلہ سے کام لو اور آپ کا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ انبیاء اور نیک لوگوں کی آزمائش کے لیے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم نے جنوں اور انسانوں سے شیطانوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا جو ایک دوسرے کو بری باتیں سکھلاتے ہیں (سورۃ الانعام : آیت 112)
مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں کے مقابلہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے متبعین صبروشکر کا مظاہرہ کریں تاکہ لوگوں پر حق و باطل کا معاملہ واضح ہوجائے۔ آیت کے آخر میں یہ فرما کر رسول کریم ﷺ اور آپ کے متبعین کو تسلی دی ہے کہ یہ خیال ہرگز نہ کرنا کہ حق کے مخالف جو کچھ آپ کے ساتھ کرتے ہیں وہ آپ کے رب کی نگاہ سے اوجھل ہے۔ ایسا ہرگز نہیں بلکہ آپ کا رب ہر کام پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ (ابراہیم : 42)
مشرکین کا عجب معاملہ ہے کہ پہلے دور کے مشرک انبیاء کرام پر اس لیے ایمان نہیں لاتے تھے کہ یہ انسان ہیں۔ موجودہ دور کے مشرک کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا، نبی کو بشر کہنا اس کی شان میں گستاخی ہے۔
مسائل
1۔ تمام انبیاء و روسل بشر تھے۔
2۔ اللہ نے بعض انسانوں کو بعض کی آزمائش کا سبب بنایا ہے۔
3۔ دین کی دعوت دینے والوں کو مصائب پر صبر کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
تمام انبیاء کرام بشر تھے :
1۔ انبیاء نے فرمایا کہ ہم تمہاری طرح کے بشر ہیں لیکن اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : 11)
2۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : 24)
3۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : 154)
4۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : 33)
5۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشر تھے۔ (النحل : 43)
6۔ آپ ﷺ اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : 110)
7۔ نبی آخر الزماں ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔ (الکہف : 110، حم السجدۃ : 6)
8۔ ہم نے آدمیوں کی طرف وحی کی۔ (یوسف : 109)
9۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : 186)
Ayahs 25:21–22فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی ایک اور ہرزہ سرائی۔
سرورِ دو عالم ﷺ کی پر خلوص اور بےمثال جدو جہد کے مقابلہ میں کفار اس حد تک لاجواب اور بوکھلا ہٹ کا شکار ہوئے کہ وہ ہر روزنئے سے نیا مطالبہ کرتے۔ اس حواس باختگی میں انھیں یہ بھی خبر نہ رہی کہ ہم کس قدر متضاد اور بےمقصد اعتراضات اور سوال کرتے ہیں۔ حواس باختگی کے عالم میں انھوں نے یہ بھی سوال کر ڈالا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس کے پاس فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔ ہم اس پر ایمان تب لائیں گے کہ جب ہم پر براہ راست فرشتے نازل ہوں یا پھر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اس کے سوا ہم اس نبی پر ایمان لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کفار کی حواس باختگی کا یہاں صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ اس قسم کے مطالبات کرنا صرف اس لیے ہے کہ ان کے دلوں میں فخر و غرور بھر چکا ہے جس وجہ سے یہ کسی دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس بنا پر بغاوت اور سرکشی میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جس دن فرشتے ان کے سامنے آکھڑے ہوں گے تو وہ دن خوشی کی بجائے ان کے لیے پریشانی اور تباہی کا دن ہوگا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس قوم پر فرشتے نازل کیے گئے اسے نیست ونابود کردیا گیا، جس طرح قوم لوط اور دیگر اقوام کا حال ان کے سامنے ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس موت کے وقت فرشتے آتے ہیں تو وہ انہیں جنت کی بجائے جہنم کی خبر دیتے ہیں۔ جہنم کی خبر سنتے ہی مجرم کہتے ہیں کہ کاش ہم اس سے بچ جائیں۔ اس کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے کہ فرشتوں کو دیکھ کر کفار کہیں گے کاش ! ہمیں تم سے پناہ مل جائے۔ یاد رہے کہ ہر مجرم ملائکہ کو تین بار ضرور دیکھے گا (موت کے وقت، قبر میں، محشر کے میدان میں) اور ہر بار ظالموں کے لیے ان کا دیکھنا پہلے سے زیادہ اذّیت ناک ہوگا۔
(عَاءِشَۃَ ؓ أَنَّ یَہُودِیَّۃً دَخَلَتْ عَلَیْہَا، فَذَکَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ ، فَقَالَتْ لَہَا أَعَاذَکِ اللَّہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِفَسَأَلَتْ عَاءِشَۃُ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَمَا رَأَیْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ بَعْدُ صَلَّی صَلاَۃً إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ)
[ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی عَذَابِ الْقَبْرِ ]
” سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ایک یہودی عورت آئی وہ قبر کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگی تجھے اللہ عذاب کے قبر سے محفوظ فرمائے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عذاب قبر کے متعلق پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو کوئی ایسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ (غندر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔ “
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ]
” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے باپ ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا۔ ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “
مسائل
1۔ حق کے منکر فخر و غرور کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ متکبر شخص پر لے درجے کا نافرمان ہوتا ہے۔
3۔ مجرم لوگ ملائکہ کو دیکھ کر آہ وزاری کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
ملائکہ کے نزول کا مطالبہ :
1۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ہیں۔ ( الحجر : 7)
2۔ کفار اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے۔ ( الانعام : 158)
Ayahs 25:23–24فہم القرآن
ربط کلام : حق کا انکار کرنے والوں کے مقابلہ میں حق قبول کرنے والوں کا مرتبہ و مقام۔
جن لوگوں نے رب کی ذات اس کے رسول کی رسالت کا انکار کیا۔ بیشک دنیا میں وہ کتنے ہی اچھے عمل کرتے رہے۔ موت کے بعد ان کے اعمال ریت کے اڑتے ہوئے ذرّات کی طرح ہوجائیں گے۔ یعنی وزن اور قدر کے اعتبار سے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ ان کے اعمال کے پیچھے عقیدہ توحید کا اقرار نبی آخر الزّمان کی رسالت پر ایمان اور قیامت کے حساب و کتاب پر یقین نہیں ہوگا۔ اس لیے ان کے اعمال اڑتے ہوئے ریت کے ذرّات کی مانند ہوں گے۔ نیک عمل کی قبولیت کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں۔ ان میں کوئی ایک شرط مفقود ہو۔ تو انسان کے بڑے سے بڑے عمل کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ اس کے مقابلہ میں جن لوگوں نے اپنے اعمال کو ان شرائط کے مطابق کیا ان کے اعمال کی نہ صرف قدر و قیمت ہوگی بلکہ رب کریم اپنے کرم سے ان کے اعمال میں برکات فرما کر انھیں بہترین مقام بالخصوص حشر کی کڑکڑاتی دھوپ میں سکون سے ہمکنار فرمائے گا۔ مَقِیْلًا یاقَیْلُوْلَۃً دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ۔ قیامت کا دن طوالت کے اعتبار سے پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے عرش کے نیچے جگہ عنایت فرمائے گا اور پینے کے لیے حوض کوثر کا پانی دے گا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللَّہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیْءَٓتِی یَوْمَ الدِّیْنِ )
[ رواہ مسلم : باب لدلیل علی ان من مات علی الکفر لاینفعہ عمل ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ عبداللہ بن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا اس کے اعمال اسے نفع دیں گے آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ اس نے کبھی یہ بات نہیں کہی تھی کہ اے اللہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف کردینا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَبْعَۃٌ ےُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ ےَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ اِمَامٌ عَادِلٌ وَّشَآبٌّ نَشَأَ فِیْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ بالْمَسْجِدِ اِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتّٰی ےَعُوْدَ اِلَےْہِ وَرَجُلَانِ تَحَآبَّا فِی اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلَےْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَےْہِ وَرَجُلٌ ذَکَرَاللّٰہَ خَالِےًا فَفَاضَتْ عَےْنَاہُ وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَاَۃٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَّجَمَالٍ فَقَالَ اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَاَخْفَاھَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ ےَمِےْنُہٗ ) [ رواہ البخاری : باب من جلس فی المسجد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے جس دن کوئی چیز سایہ فگن نہ ہوگی۔ (1) عدل کرنے والا حکمران (2) اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ذوق وشوق رکھنے والا جوان (3) وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ منسلک رہے جب وہ مسجد سے باہر جاتا ہے تو واپس مسجد میں آنے کے لیے فکر مند رہتا ہے (4) دو آدمی جو باہم اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہی ایک دوسرے سے میل جول رکھتے اور الگ ہوتے ہیں (5) جس آدمی نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے (6) ایسا شخص جس کو ایک خاندانی حسین و جمیل عورت نے گناہ کی دعوت دی مگر اس نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو بچائے رکھا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور (7) جس نے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوپائی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔
مسائل
1۔ کفار اور مشرکین کے اعمال ریت کے اڑتے ہوئے ذرّات کی طرح ہوں گے۔
2۔ کفار اور مشرکین کے مقابلہ میں عباد الرحمن کو جنت میں داخلہ اور دوپہر کا آرام نصیب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
وزن کے اعتبار سے کفار، مشرکین اور مومنین کے اعمال میں فرق :
1۔ متّقین کے نیک اعمال والا پلڑا بھاری ہوگا۔ ( المومنوں : 102)
2۔ خسارہ پانے والے لوگوں کا برائیوں والا پلڑا بھاری ہوگا۔ ( المومنوں : 103)
3۔ کفار کے اعمال مٹی کے اڑتے ہوئے ذرّات کی طرح ہونگے۔ ( الفرقان : 23)
4۔ آخرت کے منکرین کے اعمال کا وزن تک نہیں کیا جائے گا۔ ( الکہف : 105)