25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsفہم القرآن

Ayahs 25:68–69

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

” وہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں جو یہ کام کرے گا وہ اپنے گناہ کی سزا پائے گا۔ (68)

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اسے دو گنا عذاب دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ذلّت کے ساتھ اس میں رہے گا۔ “ (69)

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن کے بندوں کے مزید اوصاف۔ الرّحمن کے بندے کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ نہیں سمجھتے۔ الٰہ کا معنی ہے۔ جس کی عبادت کی جائے۔ انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے۔ عبادت کی تین اقسام ہیں جن کا ہر نمازی تشہد میں بیٹھ کر اقرار کرتا ہے : (اَلتَّحْیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیْبَاتُ ) [ رواہ البخاری : باب التشھد فی الاخرۃ ] قولی، مالی اور بدنی عبادات اللہ کے لیے ہے۔ انسان کو حکم ہے کہ وہ نہ ” اللہ “ کے سوا کسی کی عبادت کرے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک بنائے وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ جس سے انسان کے تمام نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ شرک سے نہ صرف نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں بلکہ انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑا مجرم قرار پاتا ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا سب سے پہلا اور بڑا مقصد یہ تھا اور ہے کہ وہ لوگوں کو شرک سے روکیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلائیں۔ (عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ قَالَ أَوْصَانِی خَلِیلِی ﷺ أَنْ لاَ تُشْرِکْ باللَّہِ شَیْءًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلاَ تَتْرُکْ صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَہَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِءَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ وَلاَ تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّہَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب الصَّبْرِ عَلَی الْبَلاَءِ ] ” حضرت ابی درداء ؓ بیان کرتے ہیں مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کر شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تیرے ٹکڑے کر دئیے جائیں یا تجھے جلادیا جائے۔ فرض نماز کو جان بوجھ کر نہیں چھوڑنا۔ جس نے جان بوجھ کر نماز کو ترک کیا۔ وہ اللہ کے ذمہ سے بری ہوگیا اور شراب نہ پینا کیونکہ یہ برائی کی چابی ہے۔ “ عباد الرحمن کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے : اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی جان اس قدر عزیز اور محترم ہے کہ اس کا ارشاد ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک جان کی حفاظت کی اس نے تمام لوگوں کی حفاظت کی۔ (المائدۃ : 32) یہاں قتل ناحق سے روکا گیا ہے کیونکہ چار وجوہات کی بنا پر کسی انسان کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ 1۔ قتل کے بدلے قتل کرنا۔ 2۔ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا۔ 3۔ مرتد کو قتل کرنا۔ 4۔ اسلامی حکومت کی بغاوت کرنے والا بھی واجب القتل ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ أَوَّلُ مَایُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الدیات ] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ “ عباد الرحمن زنا کا ارتکاب نہیں کرتے : اس آیت میں عباد الرّحمن کے شخصی کردار کے حوالہ سے ان کی یہ خوبی بیان کی گئی ہے کہ وہ زنا کار نہیں ہوتے۔ جس نے زنا کا ارتکاب کیا وہ بھاری گناہ میں ملّوث ہوا۔ زنا کا عمل بظاہر دو افراد پر مشتمل ہوتا ہے لیکن اس کے منفی اور برے اثرات سے دو خاندان بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ فعل صرف اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہی نہیں بلکہ اس میں عام طور پر مال بھی ضائع ہوتا ہے جو شخص ایک مرتبہ زنا کرتا ہے۔ حیا کا پردہ چاک ہونے کی بنا پر دوبارہ بدکاری کرنے سے نہیں چوکتا۔ اس لیے قرآن مجید نے زنا کرنا تو درکنار اس کے لوازمات کے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے۔ (بنی اسرائیل : 32) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور زنا میں ملوث ہونا بالخصوص یہ تین گناہ ایسے ہیں جن کے اثرات دوسرے لوگوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ان گناہوں کے مرتکب شخص کو دو گنا سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس شخص کو اپنے گناہ کی سزا بھی ملے گی اور اس کی وجہ سے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہونگے ان کے گناہوں کی سزا بھی اس شخص کو ملے گی۔ یہ لوگ جہنم میں ذلیل ہوتے رہیں گے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ سَأَلْتُ أَوْ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللّٰہِ أَکْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ الذین لایدعون مع اللہ ....] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ کے نزدیک کونسا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ میں نے پھر عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ “ مسائل 1۔ عباد الرّحمن اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو معبود نہیں بناتے۔ 2۔ عباد الرّحمن کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے۔ 3۔ عباد الرّحمن زنا کا ارتکاب نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنے کا گناہ : 1۔ اللہ کے ساتھ کسی اور الہ کو پکارنے والاذلیل ورسوا ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 22) 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارنے والا عذاب میں مبتلا ہوگا۔ (الشعراء : 213) 3۔ اللہ کے ساتھ کسی اور الہ کو پکارنے والاجہنم میں پھینک دیا جائیگا۔ (بنی اسرائیل : 39) 4۔ غیر اللہ کو پکارنے والافلاح نہیں پائیگا۔ (المومنون : 117) 5۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے پر جنت حرام، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (المائدۃ : 72) 6۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : 31) 7۔ اللہ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 48)
Ayahs 25:70–71

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

” ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لاکرصالح عمل کرے ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا کیونکہ اللہ غفورّرحیم ہے۔ (70)

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

جو شخص توبہ اور نیک عمل اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ کر آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔ “ (71)

فہم القرآن ربط کلام : اس میں کوئی شک نہیں کہ جن گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنی نوعیت اور سزا کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، کسی کو ناحق جان سے مارڈالنا اور بدکاری کی شکل میں حیا کا پردہ چاک کرنا بڑے گناہ اور بھاری جرائم ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نہ صرف توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے بلکہ اپنے محبوب پیغمبر کے ذریعے یہ کہہ کر اعلان کروایا ہے کہ اے پیغمبر ! انھیں بتلاؤ اور اطمینان دلاؤ کہ میرے بندو ! جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے میری رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً میں معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہوں۔ (الزمر : 53) توبہ کی شرائط : 1۔ اپنے کیے پر نادم ہونا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنا۔ 3۔ آئندہ گناہ سے بچنے کا عزم بالجزم کرنا۔ 4۔ اپنی ذات اور معاشرے پر مرتب ہونے والے برے اثرات کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنا۔ جو شخص سچے دل کے ساتھ مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ توبہ کرے اور نیک اعمال کرے گا۔ وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا پائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل فرمادئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (عَنْ اأَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ جَاءَ تْنِیْ اِمْرَاأَۃٌ فَقَالَت ہَلْ لِیْ مِنْ تَوْبَۃٍ ؟ إِنِّیْ زَنَیْتُ وَوَلَدَتُ وَقَتَلْتُہٗ فَقُلْتُ لَا وَلَا نَعِمَتِ الْعَیْنُ وَلَا کَرَامَۃُفَقَامَتْ وَہِیَ تَدْعُوْ بالْحَسْرَۃِثُمَّ صَلَّیْتُ مَعَ الْنَّبِیِ ﷺ الْصُبْحَ ، فَقَصَصَتُ عَلَیْہِ مَا قَالَتِ الْمَرْاأَۃُ وَمَا قُلْتُ لَہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِءْسَمَا قُلْتَ اأَمَا کُنْتَ تَقْرَاأ ہٰذِہِ الْاٰیَۃ (وَالَّذِینَ لا یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ )إِلٰی قَوْلِہ (إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صالِحًا فَأُولَءِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّءَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَان اللَّہُ غَفُورًا رَحِیمًا) فَقَرَاْتُہَا عَلَیْہَافَخَرَّتْ سَاجِدَۃً وَقَالَتْ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ لِیْ مَخْرَجًا) [ تفسیر طبری : جلد 19] ’ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میرے پاس آکر ایک عورت کہنے لگی کیا میرے لیے توبہ ہے میں نے زنا کیا ہے ناجائز حمل سے بچہ پیدا ہوا اور میں نے اسے قتل کر ڈالا ہے میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میرا گناہ معاف ہونے کی کوئی صورت ہے ؟ میں نے کہا ہرگز نہیں وہ بڑی حسرت کے ساتھ آہیں بھرتی ہوئی واپس چلی گئی۔ اگلے دن میں نبی ﷺ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو میں نے نبی ﷺ سے رات کا قصہ عرض کیا آپ نے فرمایا تو نے غلط جواب دیا ابوہریرہ ؓ قرآن میں یہ آیت تم نے نہیں پڑھی (وَالَّذِینَ لا یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ )إِلٰی قَوْلِہ (إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صالِحًا فَأُولَءِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّءَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَان اللَّہُ غَفُورًا رَحِیمًا) ” (اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے) اس فرمان تک (مگر جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ جن کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ) نبی ﷺ کا جواب سن کر میں نکلا اور اس عورت کو تلاش کرنا شروع کیا، وہ مجھے عشاء ہی کے وقت ملی میں نے اسے بشارت دی اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے تیرے سوال کا جواب یہ دیا ہے عورت سنتے ہی سجدے میں گرگئی اور کہنے لگی شکر ہے اس خدائے پاک کا جس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا اور میرے لیے نجات کی راہ بنائی۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ التَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکرا لتوبۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی پاک ہوجاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یَا أَیُّہَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللَّہِ فَإِنِّی أَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ إِلَیْہِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب اسْتِحْبَاب الاِسْتِغْفَارِ وَالاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ ] ” حضرت ابن عمر ؓ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو۔ بلاشبہ میں ہر روز سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ “ (عَنْ عَآءِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَاب اللّٰہُ عَلَےْہِ ) [ رواہ البخاری : باب تعدیل النساء بعضھن بعضا ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ جو شخص گناہ کے بعد توبہ اور نیک عمل کرے اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرمائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ صرف گناہ معاف ہی نہیں کرتا بلکہ گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ 3۔ توبہ کرنے والے کو آئندہ کے لیے نیک اعمال کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن توبہ استغفار کے فضائل : 1۔ حضرت یونس کی قوم کے سوا کسی قوم کو عذاب کے وقت ایمان لانے کا فائدہ نہ ہوا۔ (یونس : 98) 2۔ اللہ سے بخشش طلب کیجیے یقیناً وہ معاف کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : 106) 3۔ اگر استغفار کرو تو اللہ تمہیں اس کا بہتر صلہ دے گا۔ (ہود : 3) 4۔ تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو اللہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرما دے گا۔ (ہود : 52) 5۔ اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو میرا رب رحم کرنے اور شفقت فرمانے والا ہے۔ (ہود : 90) 6۔ اللہ سے بخشش طلب کرو۔ وہ معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : 10۔ 12) 7۔ اللہ سے استغفار کرو یقیناً وہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (المزمل : 20) 8۔ جب تک لوگ اللہ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا۔ (الانفال : 33) 9۔ اپنے رب کی تعریف و تسبیح بیان کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ (النصر : 3) 10۔ اپنے آپ پر ظلم کرنے والو ! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقینا ” اللہ “ تمام گناہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ ( الزمر : 53)
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

” اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور کسی بےہودہ کام سے گزرہوتو شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ “ (72)

فہم القرآن ربط کلام : ” عباد الرّحمن “ کے اوصاف کا مزید تذکرہ۔ ” عباد الرّحمن “ اس قدر حق گو اور کردار کے سچے ہوتے ہیں کہ جب انھیں کسی معاملہ میں گواہی دینا ہو تو وہ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ ان کا واسطہ کسی بےمقصد یا بےہودہ بات یا کام سے پڑے تو یہ بڑے وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ زُوْرکا معنٰی : زُوْرکا معنی ہے جھوٹ، باطل، اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، گانے بجانے کی مجالس۔ لغو کا معنٰی بےہودہ۔ بےمقصد کام یا گفتگو لغو میں جھوٹ بھی شامل ہے جس کی تشریح اوپر کی جا چکی ہے اور اس کے ساتھ تمام فضول، لا یعنی اور بےفائدہ باتیں اور کام بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اللہ کے بندوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر اس طرح کی چیزیں دیکھنے، سننے یا ان میں حصہ نہیں لیتے۔ اگر ان کے راستے میں ایسی چیز آجائے تو نگاہ ڈالے بغیر اس سے اس طرح گزر جاتے ہیں جس طرح ایک نفیس آدمی گندگی کے ڈھیر سے گزر جاتا ہے۔ کیونکہ گندگی سے انسان کو طبعاً نفرت ہوتی ہے۔ اس لیے اس کے قریب کھڑا ہونا تو درکنار آدمی ارادتاً اسے دیکھنا بھی گورا نہیں کرتا۔ یہی کیفیّت مومن کی ہوتی ہے۔ وہ برے کام اور بری بات سے کراہت محسوس کرتا ہے اگر اس سے واسطہ پڑجائے تو وہ مکمل کراہت کے ساتھ اس سے گزر جاتا ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ سُءِلَ النَّبِیُّ ﷺ عَنْ الْکَبَاءِرِ قَالَ الإِْشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَہَادَۃُ الزُّورِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلاَ شَتَمَ أَبَا بَکْرٍ وَالنَّبِیُّ ﷺ جَالِسٌ فَجَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یَعْجَبُ وَیَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَکْثَرَ رَدَّ عَلَیْہِ بَعْضَ قَوْلِہِ فَغَضِبَ النَّبِی ﷺ وَقَامَ فَلَحِقَہُ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ کَانَ یَشْتُمُنِی وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَیْہِ بَعْضَ قَوْلِہِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ إِنَّہُ کَانَ مَعَکَ مَلَکٌ یَرُدُّ عَنْکَ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَیْہِ بَعْضَ قَوْلِہِ وَقَعَ الشَّیْطَانُ فَلَمْ أَکُنْ لأَقْعُدَ مَعَ الشَّیْطَانِ ) [ رواہ احمد : مسند ابی ہریرہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بیشک ایک آدمی نے حضرت ابوبکر کو گالیاں دیں۔ ان کے قریب نبی ﷺ تشریف فرما تھے نبی ﷺ اس کی دیدہ دلیری پر تعجب کرتے ہوئے تبسم فرما رہے تھے جب اس کی گالیوں کا سلسلہ بڑھ گیا تو حضرت ابوبکر نے بھی جواب دینا شروع کیا نبی ﷺ اس بات پر ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابوبکر ؓ نے آپ کے پیچھے جا کر عرض کی اے اللہ کے رسول جب مجھے گالیاں دے رہا تھا آپ تشریف فرما رہے میں نے جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ آئے۔ آپ نے فرمایا آپ کی طرف سے فرشتہ اس کی گالیوں کا جواب دے رہا تھا۔ جب آپ نے جواب دیا تو شیطان آگیا میں شیطان کے لیے بیٹھنے والا نہیں۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہٖ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول یعنی لا حاصل باتوں کو چھوڑ دے۔ “ مسائل 1۔ ” عباد الرّحمن “ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ 2۔ عباد الرّحمن لغویات کو پسند نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن لغویات اور ان سے بچنے کا حکم : 1۔ اللہ کے بندے لغو باتیں سنتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہیں۔ (القصص : 55) 2۔ مومن لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ (المومنون : 3) 3۔ اللہ کے بندے جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور لغو باتوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے گذر جاتے ہیں۔ (الفرقان : 72) 4۔ جنت میں لغو باتوں اور بےہودہ گفتگو کا شائبہ تک نہیں ہوگا۔ (الواقعہ : 25)
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

” انہیں ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں گرپڑتے۔ “ (73 )

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن صرف عقیدہ، اخلاق، معاملات اور کردار کے اعتبار سے نیک نہیں ہوتے بلکہ وہ فہم و فراست میں بھی لوگوں سے آگے ہوتے ہیں۔ مفسرین نے اس آیت کا شان نزول یوں بیان فرمایا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَرَأَ النَّبِیُّ ﷺ النَّجْمَ بِمَکَّۃَ فَسَجَدَ فیہَا، وَسَجَدَ مَنْ مَعَہُ ، غَیْرَ شَیْخٍ أَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصًی أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ إِلَی جَبْہَتِہِ وَقَالَ یَکْفِینِی ہَذَا فَرَأَیْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ قُتِلَ کَافِرًا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی سُجُودِ الْقُرْآنِ وَسُنَّتِہَا ] حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سورة نجم کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ کیا۔ جو لوگ اس وقت موجود تھے وہ بھی سجدہ ریز ہوگئے قریش کے ایک بوڑھے آدمی کے اس نے زمین سے کنکریاں یا مٹی اٹھا کر اپنے ماتھے پر لگاتے ہوئے کہا کہ بس میرا یہی سجدہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔ امام بخاری نے اس کا نام امیہ بن خلف لکھا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور بات منوانے کے لیے جبر کا وطیرہ اختیار نہیں کیا۔ جبر اختیار کرنے کی بجائے دلائل کے ساتھ انسان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انسان کے سامنے نہ صرف اپنی ذات اور احکام کے بارے میں دلائل دیے ہیں بلکہ بار بار دلائل پر فکر و تدبر کرنے کی دعوت دی ہے اور ان بندوں کی تعریف کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور قدرتوں پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اسی بناء پر عباد الرّحمن کی یہ خوبی بیان کی جارہی ہے کہ جب ان کے سامنے ان کے رب کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ بہرے اور گونگے بن کر نہیں گرتے۔ بلکہ اپنے رب کے احکام پوری توجہ سے سنتے ہیں اور ” عَلٰی وَجْہِ الْبَصِیْرۃ “ ان پر عمل کرتے ہیں۔ یاد رہے تدبر کے بغیر انسان میں دین کی فہم اور اس پر عمل کرنے کی تحریک پیدا نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے احکام اور قدرتوں پر غور کرنے سے انسان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

” اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنادے۔ “ (74)

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن کے بندے اس حد تک صاحب بصیرت اور ذمہ دار ہوتے ہیں کہ اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور پورے معاشرے کی اصلاح کے لیے دعا گو اور کوشاں رہتے ہیں۔ الرّحمن کے بندے نہ صرف صاحب بصیرت اور ذمہ دار ہوتے ہیں بلکہ اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لیے بھی فکر مند رہتے ہیں۔ اصلاح کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی اصلاح کی جدوجہد کرتا رہے کیونکہ یہی اصلاح کا مؤثر ذریعہ اور امت کا اجتماعی فرض ہے۔ الرّحمن کے بندے نہ صرف اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنے رب کی بارگاہ میں رو رو کر دعائیں کرتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں دنیا اور آخرت کے حوالے سے ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما اور ہمیں اخلاق اور کردار کے اعتبار سے اس قابل بنا کہ ہم متقی لوگوں کی قیادت کرسکیں۔ بیوی یا اولاد نیک نہ ہو تو آدمی کا گھر جہنم کا گڑھا بن جاتا ہے۔ اہل خانہ نیک اور تابع دار ہوں تو بڑی سے بڑی مصیبت اور غربت محسوس نہیں ہوتی۔ اس لیے نیک لوگ دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں ایسی بیویاں اور ایسی اولاد عطا فرما جنہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دل مسرور ہوں اور ہمیں متقی حضرات کی امامت کے منصب پر فائز فرما۔ یعنی ہم تقویٰ اور اطاعت میں سب سے بڑھ جائیں بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں۔ محض نیک ہی نہ ہوں بلکہ نیکوں کے پیشوا ہوں اور ہماری بدولت دنیا بھر میں نیکی پھیلے۔ اس بات کا ذکر یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں نہیں بلکہ نیکی و پرہیز گاری میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ہمارے زمانے میں کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اس آیت کو بھی امامت کی امیدواری اور ریاست کی طلب کے لیے دلیل جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” یا اللہ متقی لوگوں کو ہماری رعیت اور ہم کو ان کا حکمراں بنا دے۔ “ اس سخن فہمی کی داد ” امیدواروں “ کے سوا اور کون دے سکتا ہے۔ (ماخوذ از تفہیم القرآن) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کے بارے میں دعا : ( رَبَّنَا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَھْوِیْٓ اِلَیْھِمْ وَ ارْزُقْھُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَشْکُرُوْنَ ) [ ابراہیم : 37] ” اے ہمارے رب ! بیشک میں نے اپنی اولاد کو اس وادی کو بسایا ہے، جو کسی کھیتی باڑی کے لائق نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب ! تاکہ نماز قائم کریں۔ بس لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر کریں۔ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اپنی اولاد کے بارے میں فکر مندی : ” ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا لیا ہے تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے۔ ’ کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے۔ جب اس نے اپنی اولاد کو فرمایا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ سب نے جواب دیا کہ تیرے معبود کی اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل، اور اسحاق کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ “ [ البقرۃ : 132، 133] حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں : ” یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے کہا بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا سچی بات یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔# بیٹا زمین و آسمانوں اور صحراء وبیابان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہو۔$بیٹا نماز قائم کرو۔ نیکی کی تبلیغ کرو اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے رہو۔%اس کام جو پریشانی آئے اسے برداشت کرو یہ عظیم کام ہیں۔ بیٹا لوگوں سے نفرت اور تکبر نہ کرو اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ بیٹا چال اور گفتار میں میانہ روی اختیار کرو۔ آوازوں میں مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔ “ [ لقمٰن : 13 تا 18] سرور دو عالم ﷺ کی اپنی بیٹی اور خاندان کو نصیحت : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِيْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِيْ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں مگر تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا : (وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِی أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِی أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ وَأَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِی عِبَادِکَ الصَّالِحِین) [ النمل : 19] ” اے میرے رب مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے نیک بندوں میں داخل کر۔ “ نیک بیوی کی حیثیت : (وَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ اَلدُّنْیَا کُلُّھَا مَتَاعٌ وَ خَیْرُ مَتَاع الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ ) [ رواہمسلم : باب خَیْرُ مَتَاع الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ ] حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا دنیاساری کی ساری زیست کا سامان ہے۔ لیکن دنیا کی بہترین نعمت نیک بیوی ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع کردیے جاتے ہیں مگر صرف تین ذرائع سے اسے اجر ملتا رہتا ہے۔ (1) صدقہ جاریہ۔ (2) ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرے۔ “ [ رواہ مسلم : بَاب مَا یَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنْ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہِ ] مسائل 1۔ الرّحمن کے بندے اپنے رب سے اپنی بیویوں اور اولاد کی اصلاح کی دعا کرتے ہیں۔ 2۔ الرّحمن کے بندے اپنے رب سے اپنی بیویوں اور اولاد کا سکون مانگتے ہیں۔ 3۔ الرّحمن کے بندے متقین کے امام بنتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اولاد کے بارے میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعائیں : 1۔ اے میرے پروردگار ! مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنا۔ (ابراہیم : 40) 2۔ حضرت زکریانے اپنے پروردگار سے عرض کی کہ الٰہی مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ (آل عمران : 38) 3۔ میں تجھے لوگوں کا امام بنا رہا ہوں ابراہیم نے کہا میری اولاد کو بھی بنائیں۔ (البقرۃ : 124) 4۔ اے ہمارے پروردگار ! ہماری اولاد میں ایک جماعت اپنی تابعدار بنا۔ (البقرۃ : 128)
Ayahs 25:75–76

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

” ان لوگوں کو بالا خانوں میں ٹھہرایا جائے گا اس لیے کہ یہ مصائب پر صبر کرنے والے تھے ہر مقام پر ان کا آداب وتسلیمات سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔ (75)

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

یہ ہمیشہ ہمیش بالا خانوں میں رہیں گے کیا ہی اچھی ہے رہنے اور ٹھہرنے کی جگہ۔ “ (76)

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن کے بندوں کا آخرت میں مرتبہ و مقام۔ الرّحمن کے بندے نہ صرف دنیا میں صالح کردار ہوتے ہیں بلکہ وہ نیکی کے کاموں میں قوموں کے پیشوا بنتے ہیں۔ ایسے نیکو کاروں کو آخرت میں بھی بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ دکھ اور سکھ، کامیابی اور ناکامی، عسر اور یسر میں اپنے رب کی رضا پر راضی اور اس کے دین کے پابند رہے۔ موت سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا اور ملائکہ ہر مقام پر انھیں دعا دیں گے، اور سلام پیش کریں گے۔ یہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ جو رہنے کے اعتبار سے نہایت ہی پرسکون اور بہترین قیام گاہ ہے۔ مسائل 1۔ عباد الرّحمن جنت کے بالا خانوں میں قیام کریں گے۔ 2۔ عباد الرّحمن کو ملائکہ ہر مقام پر سلام پیش کریں گے۔ 3۔ عباد الرّحمن ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ 4۔ جنت پر سکون قیام گاہ اور بہترین قرار گاہ ہے۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں اور اس کے اعلیٰ مقامات کا ذکر : 1۔ ہم جنتیوں کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 5۔ جنت میں سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کریں گے۔ ( حٰم السجدہ : 31)
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

” اے نبی لوگوں سے فرما دیں کہ اگر تم رب کو نہ پکارو تو میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے جب تم نے جھٹلادیا ہے عن قریب سزا پاؤ گے کہ جس سے جان چھڑانی محال ہوگی۔ “ (77)

فہم القرآن ربط کلام : عباد الرّحمن کے اوصاف اور ان کے اجر وثواب کا ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں سے بیزاری کا اعلان۔ سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےمثال اور لازوال قدرت کے بار بار ناقابل تردید دلائل دئیے ہیں۔ اس کے بعد اپنے بندوں کے اوصاف کا تذکرہ کیا، پھر ان کی دعاؤں اور بہترین انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ جس میں کفار، مشرکین اور نافرمانوں کے لیے نصیحت ہے اے لوگو ! اگر تم اپنے رب کی توحید کا اقرار، نبی آخر الزماں پر ایمان اور صالح کردار اختیار کرو۔ تو تم بھی الرّحمنکے بندے بن جاؤ گے اور اس کے انعامات کے حق دار ٹھہرو گے۔ جس سے تمہاری دنیا بھی بہتر ہوگی اور آخرت بھی سنور جائے گی۔ اگر تم اپنی اصلاح کرنے اور الرّحمنکی مہربانیوں سے سرفراز نہیں ہونا چاہتے تو تمہاری مرضی۔ لیکن یاد رکھنا تمہارے کفر و شرک اور نافرمانیوں کی ” اللہ “ کو کوئی پروا نہیں۔ اے نبی اس بےنیاز ” اللہ “ کی طرف سے یہ اعلان فرماؤ کہ اگر تم اس کی ذات اور بات کی تکذیب کرتے ہو تو پھر عنقریب تمہیں ہر صورت سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلاَّ مَنْ ہَدَیْتُہُ فَاسْتَہْدُونِی أَہْدِکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ جَاءِعٌ إِلاَّ مَنْ أَطْعَمْتُہُ فَاسْتَطْعِمُونِی أُطْعِمْکُمْ یَا عِبَادِی کُلُّکُمْ عَارٍ إِلاَّ مَنْ کَسَوْتُہُ فَاسْتَکْسُونِی أَکْسُکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ تُخْطِءُون باللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا فَاسْتَغْفِرُونِی أَغْفِرْ لَکُمْ یَا عِبَادِی إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّی فَتَضُرُّونِی وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِی فَتَنْفَعُونِی یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِی مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِی فَأَعْطَیْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَہُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِی إِلاَّ کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ یَا عِبَادِی إِنَّمَا ہِیَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِیہَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّیکُمْ إِیَّاہَا فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللَّہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْرَ ذَلِکَ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ قَالَ سَعِیدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَیْہِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں۔ بس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا ‘ تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں۔ پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں۔ پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو۔ میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس بدترین فاسق وفاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کوئی نقص واقع نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس اگر سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کی منہ مانگی مرادیں پوری کر دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی سمندر میں ڈبونے سے ہوتی ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کو کفر و شرک اور کسی کی نافرمانی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات جھٹلانے والوں کو ہر صورت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مجرموں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔ 1۔ ” اللہ “ کا عذاب برحق ہے اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (یونس : 53) 2۔ کفار کے چہروں پر ذلّت چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (یونس : 27) 3۔ اس دن وہ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے اللہ کی پکڑ سے انہیں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (المومن : 33) 4۔ اگر اللہ کسی کو تکلیف دے تو کون ہے جو اسے اس سے بچا سکے۔ (الاحزاب : 17) 5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43) 6۔ جسے اللہ رسوا کرے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔ (الحج : 18)