Ayahs 26:1–3فہم القرآن
ربط سورة : سورة الفرقان کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ انہیں واضح کردیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرے گا، بہت جلد اپنا انجام پالے گا۔ اگر انہیں یقین نہیں آتا تو انہیں تکذیب کرنے والی اقوام کے واقعات سنائیں کہ ان کا کیا انجام ہوا، جس میں سر فہرست فرعون کی قوم ہے۔
طٓسٓمٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سورة کا آغاز کتاب مبین کے تعارف سے شرو ع وہا ہے۔ ” اَلْمُبِیْنِ “ کا معنٰی ہے ایسی کتاب جس کے ارشادات، احکام، ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہیں۔ جن میں کسی قسم کا تضاد اور الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ یہ کتاب اپنا مدّعا اس انداز اور دلنشیں پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ کہ جس سے حق و باطل، کھرے اور کھوٹے، جائز اور ناجائز میں کھلا فرق دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب کی نہ پہلے کوئی نظیر موجود ہے اور نہ ہی قیامت تک اس کی کوئی مثال پیش کرسکتا ہے۔ جس طرح یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح ہی جس ذات گرامی پر یہ نازل کی گئی وہ بھی کائنات میں اپنی نظیر اور مثال نہیں رکھتے۔ نبی آخر الزمان ﷺ نے اس کتاب مبین کو جس پر خلوص انداز اور جانفشانی کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا وہ آپ ہی کا کام تھا۔ آپ کے خلوص اور انتھک جدوجہد کے باوجود کفار نے ناصرف اس کا انکار کیا بلکہ وہ آپ پر مختلف الزام لگاتے اور ظلم ڈھاتے رہے۔ اس کے باوجود آپ کی خواہش تھی کہ یہ لوگ مسلمان ہوجائیں۔ بسا اوقات یہ آرزو آپ کے لیے اس قدر گراں صورت اختیار کر جاتی کہ قریب تھا کہ آپ کو جسمانی تکلیف لاحق ہوجائے۔ اس کیفیت کو دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا اور آپ کا بوجھ ہلکا نہیں فرمایا ؟ قریب تھا کہ اس بوجھ سے آپ کی کمر ٹوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذکر کو بلند فرمایا یقین کرو کہ تنگی کے بعد آسانی آیا کرتی ہے۔ (الانشرح : 1 تا 6)
سورۃ طٰہٰ میں آپ ﷺ کو یوں تسلّی دی گئی :
” طٰہٰ ۔ ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ آپ مصیبت میں پڑجائیں۔ یہ تو نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرنے والا ہے۔ یہ کتاب اس ذات کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ “
اس بوجھ کو اتارنے اور غم کو ہلکا کرنے کے لیے اس سورة کی ابتداء میں نبی کریم ﷺ کو یہ بات سمجھائی گئی کہ کیا یہ لوگ مسلمان نہیں ہوتے تو آپ اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے ؟ آپ کا کام بار بار سمجھانا ہے۔ جو اعلیٰ اخلاق اور کمال جانفشانی کے ساتھ آپ سر انجام دے رہے ہیں۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِءَ بِہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی النَّوْمِ ۔۔ فَقَالَ لِخَدِیجَۃَ وَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ لَقَدْ خَشِیتُ عَلَی نَفْسِی فَقَالَتْ خَدِیجَۃُ کَلاَّ وَاللَّہِ مَا یُخْزِیک اللَّہُ أَبَدًا، إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ ، وَتُعِینُ عَلَی نَوَاءِبِ الْحَقِّ ) [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم ﷺ کو وحی کی ابتدا نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی۔۔۔۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ ؓ کو سارا ماجرا کہہ سنایا اور فرمایا، مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے تسلی دی کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاج کی خبر گیری کرتے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں مصیبت زدہ کی مدد کرتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید روشن اور ایک واضح کتاب ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی اور اطمینان سے نوازا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کی محنت کو بےانتہا خراج تحسین سے سرفراز فرمایا۔
تفسیر بالقرآن
نبی اکرم ﷺ لوگوں پر چوکیدار نہیں بنائے گئے :
1۔ (پیغمبروں نے کہا) ہمارے ذمہ دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : 17)
2۔ آپ ﷺ تو ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : 12)
3۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : 40)
4۔ رسولوں کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ (النحل : 35)
5۔ آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا گیا آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ (الشوریٰ : 48)
6۔ آپ نصیحت کریں آپ کا کام بس نصیحت کرنا ہے، آپ کو کو توال نہیں بنایا گیا۔ (الغاشیۃ : 21۔ 22)
Ayah 26:4فہم القرآن
ربط کلام : کتاب مبین کی واضح آیات اور ٹھوس دلائل کے باوجود لوگ ایمان نہیں لاتے۔
رسول محترم ﷺ کی بےمثال جدوجہد اور قرآن مجید کے ٹھوس اور بیّندلائل کے باوجود۔ کفار آپ ﷺ سے ایک سے ایک بڑھ کر معجزہ لانے کا مطالبہ کرتے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ایسا معجزہ نازل کریں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں۔ اور یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کو جبراً ایمان لانے پر مجبور کرے۔ اس نے لوگوں کے سامنے کتاب مبین رکھ دی ہے۔ جس کی تلاوت کرنے سے حق اور باطل واضح ہوجاتا ہے۔ اب یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رغبت سے حق قبول کرتے ہیں یا نخوت سے اسے مسترد کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی منکرین حق کے سامنے کوئی نئی دلیل پیش کی جاتی ہے تو وہ اسے استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں۔ اگر ان کا یہی وطیرہ رہا تو وقت دور نہیں جب ان پر ایسے حالات وارد ہوں گے۔ جن سے حق کی تکذیب اور اسے استہزاء کا نشانہ بنانے والوں کو نیست ونابود کردیا جاتا ہے۔
مسائل
1۔ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ حق بات سے اعراض کرتی رہی ہے۔
2۔ انبیاء (علیہ السلام) کو مذاق کرنے والوں کا ہمیشہ سے برا انجام ہوا ہے۔
Ayahs 26:5–6فہم القرآن
ربط کلام : نئی نشانیاں اور معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب۔
رسول کریم ﷺ سے نئی نئی نشانیاں اور معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کو سمجھایا گیا کہ اگر تم حقیقتاً ہدایت کے طالب ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات اور قدرت کو پہچاننے کے لیے کیا کافی نہیں کہ جس دھرتی پر تم رہتے ہو اس پر غور کرو ؟ اگر تم اخلاص کی نظر سے دیکھو اور غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لیے زمین میں کس قدر عمدہ چیزیں پیدا فرمائی ہیں غور کرنے والے کے لیے یقیناً اس میں عظیم نشانی ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر غالب ہے کہ وہ حقائق ٹھکرانے والوں کو تہس نہس کر دے لیکن وہ اپنی شفقت و مہربانی کی وجہ سے انہیں مہلت پر مہلت دیے جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقائق جاننے اور ہدایت پانے کے لیے نباتات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے کہ کیا انسان اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ایک ہی قسم کی زمین ہوتی ہے ایک جیسی آب و ہوا اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہے ؟ زمین کے ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف طبقات اور قطعات ہیں جنہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی فصلوں اور پھلوں کو ایک دوسرے پر لذت، رنگت اور فوائد کے اعتبار سے فوقیت حاصل ہے۔ جس طرح جاندار چیزوں کے جوڑے ہیں ویسے ہی پودوں، درختوں اور پوری نباتات کے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پھلوں کے بھی جوڑے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک ہی قسم کا پھل ہونے کے باوجود کوئی میٹھا ہے، کوئی کڑوا، کوئی ترش اور کوئی پھیکا ہے ایک ناقص ہے دوسرا اعلیٰ قسم کا نہایت قیمتی اور مفید ہے۔
پرانے زمانے کے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پودوں میں بھی جانوروں کی طرح نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ آج نباتات کا جدید علم بتاتا ہے کہ ہر پودے کی نر اور مادہ صنف ہوتی ہے۔ حتی کہ وہ پودے جو یک صنفی (Unise xual) ہوتے ہیں ان میں بھی نر اور مادہ کے امتیازی اجزا یکجا ہوتے ہیں۔
مسائل
1۔ انسان کو نباتات پر غور کرنا چاہیے۔
2۔ دلائل جاننے کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لایا کرتی۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہونے کے باوجود شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقران
اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نباتات کی ایک جھلک :
1۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99)
2۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11)
3۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19)
4۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : 34)
5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141)
6۔ تمہارے لیے نباتات کو زمین پر پھیلا کر مسخر کیا، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : 13)
7۔ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے مختلف انواع کے پھل پیدا فرمائے۔ (فاطر : 27)
8۔ اللہ زمین سے کھیتی نکالتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ (الزمر : 21)
Ayahs 26:7–10فہم القرآن
ربط کلام : چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ عنقریب ان کے پاس وہ خبریں یعنی واقعات بیان کیے جائیں گے، کہ جن قوموں نے توحید کے دلائل اور اپنے رسول کو جھٹلایا ان کا انجام کیا ہوا۔ لہٰذا سنیں ان میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی تھے جنہیں موسیٰ نے ان الفاظ میں سمجھایا اور ڈرایا تھا۔
اے پیغمبر ﷺ ! وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ کے رب نے یہ حکم دیا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ جو فرعون کی قوم ہے انھیں سمجھاؤ کہ وہ اپنے رب سے ڈر جائیں۔ اس موقعہ پر موسیٰ نے یہ عذر پیش کیا الٰہی مجھ سے ان کا بندہ قتل ہوگیا اس لیے مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے واقعہ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص غیر ارادی طور پر قتل ہوا۔ گرفتاری کے ڈر سے حضرت موسیٰمصر سے بھاگ نکلے دس (10) سال حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس مدین میں رہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں اپنی دامادی کا شرف بخشا۔ مدین میں دس (10) سال رہنے کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر آرہے تھے تو راستہ میں ایک جگہ انھوں نے روشنی دیکھی اپنی اہلیہ کو یہ بات کہہ کر اس روشنی کی طرف بڑھے کہ آپ یہاں ٹھہریں میں وہاں سے راستہ پوچھتا ہوں یا آپ کے تاپنے کے لیے آگ لاتا ہوں۔ موسیٰ اس روشنی کے قریب ہوئے تو آواز آئی کہ اپنا جوتا اتار دیں۔ آپ پاک سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں اور میں آپ کا رب ہوں۔ اس کی تفسیر سورة القصص، آیت : 29 تا 35 میں بیان کی جائے گی۔ (ان شاء اللہ)
یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزے دیے گئے اور حکم ہوا کہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ انھیں ان کے انجام سے ڈراؤ وہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقع پر تین عذرپیش کیے تھے۔
1۔ میری زبان پوری طرح رواں نہیں ہے اور میرا سینہ تنگی محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی ان کا سینہ کھول دیا گیا اور ان کی قوت گویائی ٹھیک کردی۔ (طٰہٰ : 25 تا 28)
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فریاد کی کہ میرے بھائی ہارون کے ساتھ مجھے مضبوط کیجیے وہ میرے کام میں شریک رہے اور اسے میرا وزیر بنا دیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی قبول کی گئی۔ (طٰہٰ : 29 تا 36)
3۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسرا عذر یہ پیش کیا کہ میرے رب میرے ذمہ ان کا ایک جرم ہے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔ جرم سے مراد وہی جرم ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی ہجرت کرنے کا سبب بنا تھا جس کا ابھی ذکر ہوا ہے جس وجہ سے وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ انھیں قتل کردیا جائے گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ہمارے دیے ہوئے معجزات کے ساتھ دونوں جاؤ یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری فرعون کے ساتھ ہونے والی گفتگو سن رہے ہوں گے۔ سورة طٰہٰ آیت 45۔ 46 میں یہ بھی ذکر ہے کہ موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے عرض کی ہمارے رب ! ہم خوف محسوس کرتے ہیں کہ فرعون ہم پر زیادتی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں میں سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں گا۔ ان تسلیوں اور معجزات کے ساتھ حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) فرعون کی طرف بھیجے گئے۔ اس میں ”إِذْ “ کا لفظ بول کر نبی ﷺ کو یہ بات باور کر وائی ہے کہ اے پیغمبر ! موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ پر غور فرمائیں کہ وہ کتنے کٹھن حالات میں فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے۔ فرعون پرلے درجے کا سرکش اور اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی “ کہلوانے والا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے خوف سے بنی اسرائیل پر مسلسل ظلم کر رہا تھا۔ اس کی قوم، اس کے مظالم میں برابر کی شریک ہوچکی تھی۔ غور فرمائیں کہ آپ کے مقابلے میں فرعون جیسی قوت رکھنے والا کوئی شخص نہیں ہے۔ بیشک آپ کی قوم آپ اور آپ کے ساتھیوں پر زیادتی کرنے والی ہے۔ لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو آپ پر سب کچھ نچھاور کرر ہے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں بہتر حالات میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے لہٰذا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو اپنی معیت کا یقین دلایا تھا۔ آپ بھی یقین رکھیں کہ آپ کے رب کی مدد ہر وقت آپ کے ساتھ رہے گی۔
مسائل
1۔ فرعون اور اس کی قوم ظلم کرنے والے تھے۔ 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تینوں درخواستوں کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کی بناء پر آدمی کے ساتھ ہوتا ہے :
1۔ نبی ﷺ نے غار ثور میں ابوبکر کو فرمایا کہ ” اللہ “ ہمارے ساتھ ہے۔ ( التوبہ : 40)
2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16، الواقعہ : 85)
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار اور اختیار کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ( المجادلۃ : 7)
Ayahs 26:11–15فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی تسلّی دینے کے بعد فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے اور اسے یہ کہہ کر اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ فرعون اپنے آپ کو ” رَبُّکُمُ الْأَعْلٰی “ کہتا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے توحید کا یہ پہلو پیش فرمایا کہ رب العالمین ایک ہے اس کے سوا کوئی اور رب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ آزاد قوم ہی اپنے نفع و نقصان کا ٹھیک طور پر فیصلہ کرسکتی ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور مطالبہ پر بات کرنے کی بجائے کم ظرفی اور عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر دو اعتراضات کیے تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خوفزدہ کیا جاسکے۔
فرعون نے بڑے طمطراق سے کہا ” کیا ہم نے بچپن میں تجھے نہیں پالا اور تو ہمارے پاس کئی سال تک نہیں ٹھہرا رہا ؟ پھر تو نے وہ کام کیا جو تو جانتا ہے۔ اے موسیٰ تو ناشکرا اور ناقدر شناس انسان ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی قسم کی تاویل کرنے کی بجائے پیغمبرانہ انداز کے ساتھ کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ واقعی ہی مجھ سے وہ کام ہوا جس کی طرف تو اشارہ کر رہا ہے۔ لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ شخص معمولی مکہ سے مرجائے گا، اس کے مرنے کے سبب اور تمہارے خوف کی وجہ سے میں یہاں سے بھاگ نکلا اس دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وضاحت کے ساتھ ہی انھوں نے فرعون کے سامنے یہ سوال رکھا۔ کیا مجھ پر احسان کرنے کا یہ بدلہ ہونا چاہیے کہ میری پوری قوم کو غلام بناکررکھا جائے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اب کی صورت میں ایسا سوال اٹھایا جس کا فرعون کوئی جواب نہ دے سکا۔ یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے سرزد ہونے والے قتل کا معاملہ اٹھانے کی بھی جرأت نہ کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کے خلاف فرعون کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا۔ جہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے بارے میں ” ضَالٌّ“ کا لفظ استعمال کرنے کا تعلق ہے۔” ضآلین “ کا واحد ” ضَالٌّ“ ہے جس کے کئی معانی ہیں اِ ن معنوں میں ایک یہ معنٰی ہے ” کسی معاملے میں بےعلم اور بیخبر ہونا۔ “ جس بنیاد پر موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ وضاحت فرمائی کہ بیشک وہ آدمی میرے ہاتھ سے مرا ہے لیکن میرا اسے قتل کرنے کا ارادہ نہ تھا۔ یہ جو کچھ ہوا ہے غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔
(عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إلَیْھِمْ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ قَالَ فَقَرَأَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ خَابُوْا وَخَسِرُوْامَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنْفِقُ سِلْعَتَہٗ بالْحَلْفِ الْکَاذِبِ )
[ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم إسبال الإزار والمن بالعطیۃ ]
” حضرت ابوذر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا۔ ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ ابوذر ؓ نے عرض کی یارسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ وہ تو ناکام ونامراد ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : 1 اپنا ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا 2 احسان جتلانے والا 3 جھوٹی قسمیں اٹھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔ “ مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے توحید کی دعوت دی اور اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
2۔ فرعون نے کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات پر اعتراضات اٹھائے۔
3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھلے الفاظ میں اپنے ہاتھوں ہونے والے قتل کا اقرار کیا۔
4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ذات پر احسان کا جواب دیتے ہوئے ایسا سوال کیا کہ جس سے فرعون لاجواب ہوگیا۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت کے سرفراز فرمایا۔ 6۔ احسان کر کے احسان جتلانا نہیں چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور معجزات عطا فرمائے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر ان کے بھائی ہارون کو نبی بنایا۔ ( طٰہٰ : 29۔ 30)
2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول کرتے ہوئے ان کی زبان اور سینہ کھول دیا۔ ( طٰہٰ : 25 تا 28)
3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس معجزات لے کر آئے مگر انہوں نے تکبر کیا۔ (العنکبوت : 39)
4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والے معجزے عطا کیے۔ (البقرۃ : 53)
5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب عنایت فرمائی۔ (الانبیاء : 48)
6۔ اللہ نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا مگر انہوں نے تکبر کیا۔ (یونس : 75)
Ayahs 26:16–23فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ جمانے اور اپنے وزیروں، مشیروں پر اثر ڈالنے کے لیے کہا جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) کہہ رہا ہے اسے سن رہے ہو ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ فرعون اپنے وزیروں اور مشیروں سے اپنی ہاں میں ہاں ملوانا چاہتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وزیروں، مشیروں کو بولنے کا موقعہ دیے بغیر فرمایا کہ ہاں میں اس رب کی بات کرتا ہوں جس نے تمہیں اور تمہارے آباؤ اجداد کو پیدا کیا۔ ہوسکتا ہے فرعون یہ مغالطہ دینے میں کامیاب ہوجاتا کہ میں بھی اپنے ملک میں رہنے والوں کی ضروریات پوری کررہا ہوں اس لیے مجھے رب کہلوانے کا حق پہنچتا ہے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دلیل دے کر ثابت کیا میری مراد وہ رب ہے کہ جس نے تمہیں اور تمہارے آباؤ اجداد کو پیدا کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کچھ پیدا نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرعون سے اس سوال کا جواب بھی نہ بن سکا۔ جس سے اس کی خفت میں مزید اضافہ ہوا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا رب ہے۔ 2۔ سرکش قسم کے لوگ دلائل کو نہیں مانتے۔
Ayahs 26:24–27فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری دلیل یہ دی کہ میں اس رب کی طرف سے رسول بنایا گیا ہوں۔ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس دلیل کا صاف مطلب تھا کہ ” اے فرعون ! میں تجھے رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ “ جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ تو مصر کے لوگوں کا رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے کہ تجھے اور تیرے آباء و اجداد کو کس نے پیدا کیا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو نے اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ ہی پہلے لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ فرعون اس دلیل کی وجہ سے جھنجھلاہٹ میں آکر اپنے درباریوں سے کہنے لگا کہ تمہاری طرف جو رسول بھیجا گیا وہ تو پاگل ہے۔ فرعون یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی شخص اتنی بےباکی کے ساتھ میرے سامنے بات کرسکتا اور مجھے ترکی بہ ترکی جواب دے سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسری دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ میں اس رب کی بات کر رہا ہوں جو مشرق سے مغرب تک اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے۔ اس میں یہ بتانا مقصود ہے تو تو ایک ملک کا حکمران ہے یہ بتا مشرق سے لے کر مغرب تک کس کی بادشاہی ہے اگر تم عقل سے کام لینے والے ہو۔ گویا کہ اس میں یہ جواب مضمر تھا مجھے پاگل کہنے والے ! حقیقتاً تو خود پاگل ہیں۔ کفار اور مشرکین کا شروع سے طریقہ چلا آرہا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے خلاف جرأت سے بات کرنے والے کو پاگل کہتے ہیں۔ یہی وہ پہلا الزام ہے جو ہر پیغمبر کی ذات اقدس پر لگایا گیا۔ انبیاء کو پاگل کہنے کی چند وجوہات
1 ۔ اس شخص کی معاشرے میں بڑی تکریم تھی لیکن اس نے صرف اس دعوت کے بدلے اپنا احترام و مقام کھو دیا ہے۔
2 ۔ یہ پاگل ہے کہ صرف توحید، توحید کی رٹ لگائے جا رہا ہے۔
3 دعوت توحید کے مقابلے میں انبیاء کرام کو بڑی بڑی مراعات پیش کی گئیں مگر انہوں نے سب کو ٹھکرا دیا جس بنا پر لوگ انہیں پاگل کہتے تھے۔
4 انبیاء کرام نے دنیا کی عزت کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی جس وجہ سے دنیا دار انہیں پاگل کہتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ پہلے، موجود اور آنے والے لوگوں کا رب ہے۔
2۔ لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو پاگل ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔
3۔ عقل کی بات یہ ہے کہ عقیدہ توحید سمجھا جائے اور اس پر ایمان لایا جائے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ ہی سب کا رب ہے :
1۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ : 1)
2۔ اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام : 102)
3۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51، مریم : 36)
4۔ اللہ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں زمین و آسمان میں رزق دیتا ہے ؟ (الفاطر : 2)
5۔ اللہ ہی تمہارا رب ہے کیا اس کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے ؟ (غافر : 62)
6۔ ہر چیز اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ (یٰسٓ : 83)
7۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے وہ تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد کا رب ہے۔ (الدخان : 8)
8۔ حضرت ہود نے فرمایا میں نے اپنے اللہ پر توکل کیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ (ہود : 56)
9۔ اللہ ہی مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازسمجھو۔ (المزمل : 9)
Ayahs 26:28–29فہم القرآن
ربط کلام : فرعون نے اپنے اقتدار کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو چیلنج سمجھا اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قید و بند کی دھمکی دی۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے حوصلہ اور دانش مندی کے ساتھ فرعون کو لاجواب کردیا۔ فرعون نے ذلّت محسوس کرتے ہوئے دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھرے دربار میں پاگل بلکہ جیل کی سلاخوں میں بند کرنے کی دھمکی دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کمال ذہانت اور بردباری سے فرعون کو پھر دلائل کے میدان میں کھینچ لائے۔ ارشاد فرمایا کیا میں اپنے دعویٰ کے جواب میں کھلے دلائل پیش کروں تو پھر بھی آپ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ؟ فرعون نے مجبور ہو کر کہا کیوں نہیں اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو دلیل پیش کر۔ یہی موسیٰ (علیہ السلام) چاہتے تھے جو نہی فرعون نے نشانی کا مطالبہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پردے مارا۔ عصا زمین پر گرتے ہی بڑے اژدھا کی طرح پھنکارنے لگا ظاہر بات ہے کہ فرعون اور اس کے حواریوں کے حواس باختہ ہوگئے اور انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ برائے کرم اس اژدھا کو قابوکیجیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھے اژدھا کو ہاتھ ڈالا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں کر نکالا تو وہ اس طرح روشن ہوا کہ فرعون اور اس کے درباریوں کی آنکھوں چندھیا گئیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتے۔ لیکن فرعون نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے پوری مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا یہ تو بہت بڑا جادو گر ہے۔
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑی دانش مندی کے ساتھ فرعون کو دلائل کے میدان میں لے آئے۔
2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ید بیضا اور عصا کے عظیم معجزے دکھائے۔
3۔ فرعون نے ایمان لانے کی بجائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام :
1۔ آل فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گرہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36)
2۔ کفار نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
3۔ کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے اسے جادو قرار دیا۔ (سباء : 43)
4۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعرآء : 153۔ 185)
5۔ جب لوگوں کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔ (الزخرف : 30)
6۔ نبی اکرم ﷺ کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ ( الصّٰفٰت : 6)
7۔ نبی ﷺ کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الفرقان : 8۔ بنی اسرائیل : 47)
8۔ کیا قرآن جادو ہے یا تم غور نہیں کرتے۔ (الطور : 15)
Ayahs 26:30–35فہم القرآن
ربط کلام : فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگروں کے ساتھ مقابلہ کا چیلنج دیا۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت اور جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے انھیں پاگل اور جادو گر کہا گیا تھا۔ یہی الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگے کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے۔ حالانکہ فرعون جانتا تھا کہ جادوگر اس سیرت کے حامل لوگ نہیں ہوتے۔ جس سیرت سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سرفراز فرمایا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر فرعون نے سیاسی حربہ استعمال کرتے ہوئے اپنے وزیروں، مشیروں کو کہا کہ یہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے۔ بتاؤ تمہارا کیا فیصلہ ہے ؟ وزیرں، مشیروں نے بیک زباں ہو کر کہا کہ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیجیے اور آپ اہل کاروں کو بھیجیں کہ وہ ملک بھر سے آپ کے پاس بڑے بڑے جادوگروں کو حاضر کریں ہاں مقابلے کے لیے ایک خاص دن متعین ہونا چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کی مراد پوری ہوئی۔ اس لیے فوراً مان گئے اور فرمایا کہ یہ دن عام نہیں بلکہ قومی تہوار کا دن ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی فرعون نے کہا کہ ہم میں سے کسی کو وعدہ خلافی نہیں کرنا چاہیے۔ (طٰہٰ : 58، 59)
موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی دعوت پیش کرنے کرلیے عظیم موقعہ ہاتھ آرہا تھا، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) تو اتنا بڑا اجتماع منعقد نہیں کرسکتے تھے۔ جب لوگ متعین دن میں صبح کے وقت ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے تو فرعون نے اس بات کی تسلّی کی۔ کیا مطلوبہ تعداد میں لوگ جمع ہوگئے ہیں ؟ اعلیٰ حکام نے رپورٹ پیش کی کہ ہاں، لوگ کثیر تعداد میں جمع ہوچکے ہیں۔ اس اطمینان کے بعد فرعون اپنے وزیروں، مشیروں کے ساتھ یہ کہہ کر اجتماع کی طرف نکلا کہ آؤ اگر جادوگر غالب آتے ہیں تو ہم ان کی اتباع کریں۔ جب جادوگر اکٹھے ہوئے تو انھوں نے فرعون سے مطالبہ کیا اگر ہم غالب آجائیں تو ہمارا کیا معاوضہ ہوگا ؟
فرعون نے انھیں اطمینان دلایا کہ نقد انعام کے ساتھ میں تمہیں اپنا مقرب بناؤں گا۔ یہاں سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ حکمرانوں کے قریب عام طور پر مفاد پرست اور محض سرکاری درباری لوگ ہوتے ہیں۔ جن کا مقصد مالی مفاد اور اعلیٰ سے اعلیٰ منصب حاصل کرنا ہوتا ہے اس لیے یہ لوگ اس وقت تک ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے جب تک انھیں منصب اور مراعات ملنے کا یقین نہ ہوجائے۔ یہی جادوگروں کا مطلوب اور مقصود تھا۔ جہاں تک فرعون کے اس جملے کا تعلق ہے کہ اگر جادوگر غالب آئے تو ہم ان کی اتباع کریں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ اس نے بھری مجلس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم غالب آگئے تو ہم آپ کی اتّباع کریں گے لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آئے تو فرعون اور اس کے ساتھی اپنے وعدے پر قائم نہ رہ سکے۔