26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفہم القرآن

Ayahs 26:70–77

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا ہیں ؟ جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟ (70)

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا یہ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور ہمیشہ انہی کے سامنے اعتکاف کرتے ہیں۔ (71)

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نے پوچھا جب تم انہیں پکارتے ہو تو یہ تمہاری سنتے ہیں ؟ (72)

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟ (73)

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا نہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔ “ (74)

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

” اس پر ابراہیم نے کہا کبھی تم نے ان چیزوں پر غور کیا ہے کہ جن کی بندگی۔ (75)

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم اور تمہارے پہلے باپ دادا کرتے رہے ؟ (76)

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

رب العالمین کے سوا میرے تو یہ سب دشمن ہیں۔ “ (77)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بتوں کی نفی کرنے کے بعد رب العالمین کا تعارف کرواتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العالمین کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور میری رہنمائی فرمائی وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ میں جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ وہی مجھے مارے گا اور وہی مجھے دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس سے امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس موقع پر رب العالمین کی نو صفات کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذات باری تعالیٰ کے احترام کے پیش نظر بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ موحّد کے لیے مؤدب ہونا از بس ضروری ہے۔ مسائل 1۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ ہی راہنمائی کرنے والا ہے۔ 3۔ اللہ ہی کھلاتا ہے۔ 4۔ اللہ ہی پلانے والا ہے۔ 5۔ اللہ ہی بیمار کرتا ہے 6۔ اللہ ہی شفا دینے والا ہے۔ 7۔ اللہ ہی موت دینے والا ہے۔ 8۔ اللہ ہی دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔
Ayahs 26:78–83

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔ (78)

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ (79)

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ (80)

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

وہی موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا۔ (81)

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزجزا میری خطائیں معاف فرمائے گا۔ “ (82)

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

” اے میرے رب مجھے حکم عطاکر اور مجھے صالح لوگوں کا ساتھ نصیب فرما۔ (83)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور فریادیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں کی ہیں۔ جن میں انسان کی بڑی بڑی حاجات کا ذکر ہے انہیں درج ذیل آیات میں ملاحظہ فرمائیں (البقرۃ : 126، 127، 128، 129) (سورۃ ابراہیم : 37 تا 41) (الصافات : 101) ۔ یہاں ان کی چھ دعاؤں کا تذکرہ ہے جن میں ایک دعا کے سوا باقی تمام دعائیں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔ 1۔ میرے رب مجھے حکمت اور قوت فیصلہ عنایت فرما۔ 2۔ میرے رب مجھے آخرت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب فرما۔ 3۔ میرے رب میرے بعد میرا ذکر خیر جاری رکھنا۔ 4۔ میرے رب مجھے نعمتوں والی جنت کا وارث بنانا۔ 5۔ میرے رب میرا باپ گمراہ ہوچکا ہے اسے معاف فرما۔ 6۔ میرے رب مجھے قیامت کے دن رسوائی سے بچانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا انجام : اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کو نہ صرف معاف نہیں کیا بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آئندہ دعا کرنے سے روک دیا اور ان کے بعد ہمیشہ کے لیے اصول جاری فرمایا۔ (مَا کَان للنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَ لَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ۔ وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ) [ التوبہ : 113۔ 114] ” نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں جائز نہیں اس کے بعد کہ ان پر واضح ہوگیا کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ رشتہ دار ہوں، بلاشبہ وہ جہنمی ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش طلب کرنا صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کرچکے تھے پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بیشک ابراہیم بہت آہ زاری کرنے والے اور حوصلہ مند تھے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآأَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور گردو غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اسے کہیں گے میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو ان کا باپ کہے گا آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فریاد کریں گے اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ فرمایا۔ میرے باپ کے معاملہ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ دیکھیں گے تو ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجھو بن چکا ہوگا۔ جسے ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منفرد اعزاز : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری دعا یہ تھی کہ میرے رب میرے بعد بھی میرا ذکر خیر ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور انہیں پوری دنیا کا امام بنایا۔ ( البقرۃ : 124) اور لوگوں کے دلوں میں ان کا احترام پیدا کیا جس وجہ سے دنیا میں ہر مذہب کے لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور انہیں اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کی جو دعائیں قبول نہ ہوئیں : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کے بارے میں دعاقبول نہیں ہوئی۔ ( ہود : 46) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ کے بارے میں دعامستجاب نہ ہوئی۔ ( التوبہ : 114) 3۔ نبی اکرم ﷺ کی اپنے چچا ابو طالب کے بارے میں دعاشرف قبولیت نہ پاس کی۔ ( القصص : 26) 4۔ عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں آپ ﷺ کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ ( التوبہ : 80)
Ayahs 26:84–88

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور میرے بعد آنے والوں میں مجھے سچی شہرت عطا فرما۔ (84)

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ (85)

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو معاف کردے کہ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ (86)

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے اس دن رسوانہ کرنا جب سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ “ (87)

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

” جب نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔ (88)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے آخر میں اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ قیامت کے دن مجھے رسوائی سے محفوظ فرمانا۔ اب قیامت کے بارے میں ذکر شروع ہوتا ہے۔ مفسرین کی ان الفاظ کے بارے میں دو قسم کی سوچ ہے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے کہ قیامت کے دن مالدار کو اس کے مال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اولاد اپنے باپ کی مدد کرسکے گی۔ وہی انسان ذلّت سے محفوظ رہے گا جو قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو کفر و شرک اور ” اللہ “ کی بغاوت سے پاک ہوگا۔ یہاں قلب سلیم کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے نیکی اور بدی کا داعیہ دل میں پیدا ہوتا ہے۔ دل کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے پاک ہوگا تو انسان اپنے رب کی فرمانبرداری میں رہے گا۔ جو آدمی قلب سلیم سے محروم ہوا تو وہ صحیح عقیدہ اور نیک عمل سے محروم رہے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس دل میں شرک، نمودونمائش کی کھوٹ ہوگی۔ بیشک وہ کتنا بڑا نیکی کا کام کرے دل کی کھوٹ کی وجہ سے اس کا عمل قبول نہیں ہوگا۔ ایسے شخص نے کروڑوں روپے لوگوں کی فلاح و بہبود پر لگائے ہوں اور بیشک اس کی اولاد کتنی صالح کیوں نہ ہو اسے قیامت کے دن کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ جس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں دی جا چکی ہے۔ قلب سلیم رکھنے والا شخص ہی متقی ہوتا ہے اور متقی لوگوں کے سامنے جنت اس وقت پیش کی جائے گی جب وہ حساب و کتاب کے مرحلہ سے گزر رہے ہوں گے۔ انھیں اس وقت ہی معلوم ہوجائے گا کہ جس جنت کو ہمارے قریب لایا گیا ہے یہی ہماری قیام گاہ ہوگی۔ جو قلب سلیم سے محروم ہوا وہ گمراہوں میں شامل ہوگا۔ حساب و کتاب کے وقت ہی گمراہ لوگوں کے سامنے جہنم کھڑی کی جائے گی۔ جس کی آواز گدھے کی آواز کی طرح ہوگی۔ گمراہوں کو یقین ہوجائے گا کہ ہمارا ٹھکانہ جہنم ہے اور ہمیں ہمیشہ یہاں رہنا ہوگا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ صِنْفَانِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ لَمْ أَرَہُمَا قَوْمٌ مَعَہُمْ سِیَاطٌ کَأَذْنَابِ الْبَقَرِ یَضْرِبُونَ بِہَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ مُمِیلاَتٌ مَاءِلاَتٌ رُءُ وسُہُنَّ کَأَسْنِمَۃِ الْبُخْتِ الْمَاءِلَۃِ لاَ یَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یَجِدْنَ ریحَہَا وَإِنَّ ریحَہَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِیرَۃِ کَذَا وَکَذَا) [ رواہ مسلم : باب النَّارُ یَدْخُلُہَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّۃُ یَدْخُلُہَا الضُّعَفَاءُ ] حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ہے (1) ایک گروہ جن کے ہاتھوں میں بیل کی دموں کی مانند کوڑے ہوں گے وہ ان کوڑوں کے ساتھ بلاجواز لوگوں کو ماریں گے۔ (2) دوسراگروہ عورتوں کا ہے جنہوں نے بظاہر لباس پہنا ہوا ہوگا۔ لیکن درحقیقت ان کے بدن ننگے ہوں گے وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے مٹک مٹک کر چلیں گی۔ ان کے سر لمبی گردنوں والے اونٹوں کے کوہانوں کی طرح اٹھے ہوئے ہوں گے وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی۔ بلکہ جنت کی خوشبو کو بھی نہ پاسکیں گی۔ جبکہ جنت کی خوشبو اتنے اور اتنے فاصلے سے محسوس کی جائے گی۔ (وَعَنِ ابْنْ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُوؤتٰی بِجَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَّجُرُّوْنَھَا۔ ) [ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ وَبُعْدِ قَعْرِہَا وَمَا تَأْخُذُ مِنَ الْمُعَذَّبِینَ ] ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی۔ ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے ‘ جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن مجرم کو اس کا مال اور اولاد کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ 2۔ قیامت کے دن قلب سلیم رکھنے والا شخص ہی کامیاب ہوگا۔ 3۔ جنت جنتیوں کے قریب اور جہنم جہنمیوں کے سامنے لائی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن جہنمی کو اس کا مال اور اولاد کچھ فائدہ نہیں دے سکیں گے : 1۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکتے۔ (آل عمران : 91) 2۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : 51) 3۔ کافر بغیر حساب کے جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ (الکہف : 105) 4۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہ آسکے گا۔ (الاعراف : 48) 5۔ کفار کے مال واولاد ہرگز ان کے کام نہ آسکیں گے۔ (آل عمران : 10)
Ayahs 26:89–92

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ جو شخص قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے حضور حاضرہوا۔ (89)

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اس دن جنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی۔ (90)

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ گمراہ لوگوں کے سامنے کھڑی کی جائے گی۔ “ (91)

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

” اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے ؟ (92)

فہم القرآن ربط کلام : گمراہ لوگوں سے قیامت کے دن سوال۔ حساب و کتاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد گمراہ لوگوں سے سوال کیا جائے گا کہ جن کی تم عبادت کیا کرتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا کسی قسم کا بدلہ لے سکتے ہیں ؟ قیامت کے دن گمراہ پیر اور ان کے مرید، عابد اور معبود لیڈر اور ان کے ور کروں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر کے کہا جائے گا کہ ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا پھر عابد اور معبود تمام کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے جن کے قول وعمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں پیش کی جاتی تھیں۔ جب قیامت کے دن حقیقت سامنے آئے گی، ہر پیروی کرنے والوں کو معلوم ہوجائے گا۔ کہ ہمارے رہبر ہمیں کہاں لے آئے ہیں۔ ور کر اور مرید بدکردار پیروں اور لیڈروں کو مجرم ٹھہرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ عالم آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ ٹھیک بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ (وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِِنْسِ نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ ) [ حٰم السجدہ : 29] ” کافر اس وقت کہیں گے کہ اے پروردگار ان جنوں اور انسانوں کو ہمارے سامنے لا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں وہ ذلیل ہو کر رہیں۔ “ (وَ قَالُوْا رَنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا۔ رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا) [ الاحزاب : 67۔ 68] ” وہ کہیں گے اے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے رب ان کو دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت برسا۔ “ (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَاحَتّآی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًاقَالَتْ اُخْرٰیھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھآؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْن) [ الاعراف : 38] ” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے سے پہلے لوگوں پر لعنت کرے گا یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو بعد میں آنے والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ انہیں آگ کا دوہرا عذاب دیا جائے۔ رب تعالیٰ فرمائے گا سب کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن غیروں کی عبادت کرنے والوں کو سوال کریں گے۔ 2۔ کیا اللہ کے سوا کوئی تمہاری مدد کرسکتا ہے یا بدلہ لے سکتا ہے۔ 3۔ گمراہ لوگوں کو شیطان اور ان کے معبودوں سمیت جہنم میں اوندھے منہ پھینکا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن گمراہ پیروں اور مریدوں، لیڈروں اور ور کروں، مقتدی اور برے علماء کا آپس میں تکرار کرنا : 1۔ جہنم میں مرید، پیروں، ور کر، لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ دور کرسکتے ہو۔ (ابراہیم : 21) 2۔ جب جہنمی اپنے سے پہلے لوگوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : 38) 3۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : 25) 4۔ کاش آپ ظالموں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو نگے تو ایک دوسرے کے سامنے تکرار کرتے ہوئے کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے جب کہ ان کے بڑے اس سے انکاری ہونگے (سبا : 32۔ 31) 5۔ قیامت کے دن پیروکار کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے براءت کا اظھار کریں گے (البقرۃ : 165) 6۔ قیامت کے دن پیشوا اپنے پیرو کاروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166) 7۔ جہنم میں چھوٹے، بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم ہمارے عذاب سے کچھ کم کرسکتے ہو۔ بڑے کہیں گے کہ ہم سب جہنم میں رہیں گے۔ (المومن : 47۔ 48)
Ayahs 26:93–96

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

کیا وہ تمہاری کچھ مدد کررہے ہیں یا اپنا بچاؤ کرسکتے ہیں ؟ (93)

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر گمراہ لوگ اندھے منہ میں پھینکیں جائیں گے۔ (94)

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے تمام لشکر جہنم میں اوپر تلے جمع کیے جائیں گے۔ “ (95)

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

” جہنمی آپس میں جھگڑیں گے۔ (96)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا آپس میں جھگڑا کرنا۔ جہنمی جب جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو ان کی ذلت و رسوائی میں اضافہ کرنے اور ایک حقیقت کا اعتراف کروانے اور ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے کے لیے انہیں آمنے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ مرید اپنے پیروں سے، ور کر اپنے لیڈروں سے، مقتدی اپنے اماموں سے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم تمہاری وجہ سے گمراہ ہوئے کیونکہ ہم تمہیں رب العالمین کے برابر سمجھ بیٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنے کی کئی صورتیں ہیں بڑوں کے سامنے جھکنا، سجدہ کرنا دینوی مفاد کی خاطر ان کے غیر شرعی حکم ماننا اور عقیدت میں ان کی ایسی تعظیم کرنا جس سے شریعت نے منع کر رکھا ہے۔ جہنمی کھلے الفاظ میں ان باتوں کا اقرار کرینگے اس کے ساتھ ہی وہ اپنے رب سے فریاد کریں گے کہ اے رب ! ہمارے بڑوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ جہنمیوں کا سب سے بڑا اقرار شرک کے بارے میں ہوگا جو دنیا میں اپنے بڑوں کے بارے میں عقیدہ رکھتے تھے اور ان کے بڑے بھی انھیں کہا کرتے تھے کہ ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچالیں گے۔ جہنمی صاف طور پر اعتراف کریں گے کہ ہم اپنے معبودوں کو رب العالمین کے برابر سمجھا کرتے تھے۔ جس بنا پر وہ کسی کو داتا کہتے اور سمجھتے تھے، کسی کو دستگیر کہتے، کسی کو حاجت روا مشکل کشا جان کر اس کے حضور نذرانے پیش کرتے یہاں تک کہ فوت شدگان کے ساتھ بھی وہ اس قسم کا عقیدہ اور عقیدت رکھتے تھے۔ مسائل 1۔ جہنم میں جہنمی ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے۔ 2۔ جہنمی قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہمارے بڑوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ 3۔ مشرک اس بات کا اقرار کریں گے کہ ہم زندہ اور مردہ بزرگوں کو رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے۔
Ayahs 26:97–102

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اور مشرک اپنے معبودوں سے کہیں گے کہ اللہ کی قسم ہم تو کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ (97)

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب تمہیں رب العالمین کی برابر سمجھتے تھے۔ “ (98)

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

” مجرموں نے ہمیں گمراہ کیا۔ (99)

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے۔ (100)

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی مخلص دوست۔ (101)

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو ہم مومن بن جائیں گے۔ (102)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا انتہائی مایوسی کے عالم میں دنیا میں پلٹ جانے کا مطالبہ کرنا : جہنمی جب جہنم میں اپنے بڑوں اور معبودوں کے ساتھ جھگڑا کریں گے تو وہ یہ کہہ کر جان چھڑائیں گے کہ خواہ مخواہ ہم پر الزام لگاتے ہو تم تو خود گمراہ تھے۔ (الصّٰفٰت : 32) برے مرید، ور کرر اور مقتدی حسرت کے ساتھ اس بات کا اظہار کریں گے کہ ہائے افسوس ! جن کو ہم سفارشی سمجھتے رہے آج ہمارے لیے سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جن کو ہم اپنا بہی خواہ اور مخلص سمجھتے تھے آج کوئی خیر خواہی اور بھائی چارہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کاش ! ہمیں ایک بار دنیا میں واپس جانے کا موقع مل جائے تو ہم سب کو چھوڑ کر ایک رب پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے تابعدار بندے بن جائیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے، باپ قوم اور مجرموں ہونے والی گفتگو میں بہت ہی عبرت موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔ اے پیغمبر ﷺ ! یقیناً آپ کا رب ہر بات پر غالب اور بڑا رحم و کرم فرمانے والا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے لیے عبرت ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ اور ان کی قوم کے پاس سوائے پہلے لوگوں کی تقلید کرنے کے شرک کی کوئی دلیل نہ تھی اسی طرح ہر دور کے مشرک کے پاس شرک کی دلیل نہیں ہوتی۔ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مشرک باپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے اسی طرح مشرک اور مجرم ایک دوسرے کو فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے، نہ ہی ان کا کوئی سفارشی اور کوئی خیر خواہ ہوگا۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن مجرم اپنے جرائم کا اعتراف کریں گے۔ 2۔ قیامت کے دن مجرموں کا کوئی سفارشی نہ ہوگا۔ 3۔ قیامت کے دن کسی کی دوستی کام نہیں آئے گی۔ 4۔ قیامت کے دن مجرم دنیا میں واپس آنے کی التجا کریں گے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہونے کے باوجود رحم فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کافر، مشرک اور مجرم کی کوئی سفارش نہیں کرسکے گا : 1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ : 255) 2۔ سفارش اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : 38) 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : 109) 4۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکتے۔ (آل عمران : 91) 5۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : 51) 6۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہ آسکے گا۔ (الاعراف : 48) 7۔ کفار کے مال واولاد ان کے کام نہ آسکیں گے۔ (آل عمران : 10) 8۔ کافر قیامت کے دن سفارشی تلاش کریں گے۔ (الاعراف : 53) 9۔ قیامت کے دن سفارشی کسی کو فائدہ یا نقصان نہیں دے سکیں گے۔ (یونس : 18) 10۔ قیامت کے دن رشتہ داربھاگ جائیں گے۔ ( عبس : 34 تا 36)
Ayahs 26:103–107

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ (103)

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور مہربان بھی۔ “ (104)

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (105)

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

یاد کرو جب ان کے بھائی نوح نے ان سے فرمایا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ (106)

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت داررسول ہوں۔ (107)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا رد عمل بیان کرنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت اور ان کی قوم کا ردّ عمل بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا جب ان کے بھائی حضرت نوح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ اپنے عقیدہ اور عمل کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یقین جانو کے میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں بس تمہیں اللہ سے ڈر کر میری اطاعت کرنا چاہیے۔ میں منصب نبوت کے حوالے سے تم سے کسی معاوضہ کا طلب گار نہیں۔ میرا اجر میرے رب نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ انھوں نے مرسلین کی تکذیب کی حالانکہ ان قوموں کا واسطہ اپنے اپنے رسول سے پڑا تھا اور انھوں نے اپنے اپنے رسول کی ہی تکذیب کی تھی۔ اس کے باوجود حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں فرمایا ہے کہ انھوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دین کی تعلیم یہ ہے کہ وقت کے رسول پر ایمان لانے کے ساتھ پہلے رسولوں پر بھی ایمان لایا جائے کہ وہ واقعی اپنے اپنے دور میں ” اللہ “ کے مبعوث کیے ہوئے رسول تھے۔ جو شخص اس اصول کی پاسداری نہیں کرتا گویا کہ وہ تمام انبیاء (علیہ السلام) کی تکذیب کرتا ہے۔ دوسری وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا مرکزی نقطہ ” اللہ “ کی توحید تھا۔ ان قوموں نے اپنے اپنے دور میں نہ صرف توحید خالص کا انکار کیا بلکہ اپنے اپنے نبی کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اس طرح فکر و عمل کے اعتبار سے یہ قومیں ایک جیسارویہ رکھتی تھیں۔ جس بنا پر ان اقوام کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اوّل آخر سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنے باطل عقیدہ اور برے کردار سے تائب ہو کر میری اتباع کرو۔ رسول کی آمد کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کی اطاعت کریں چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) بار بار قوم کو اپنی اطاعت کے بارے میں ارشاد فرماتے رہے۔ انھوں نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ میں نبوت کے کام پر تم سے کسی معاوضے کا طلب گار نہیں ہوں۔ جس کا دوسرا معنٰی یہ ہے کہ سوچو اور غور کرو۔ جس کی خاطر اس قدر مصائب اور دکھ اٹھا رہا ہوں اس کے پیچھے میری کوئی غرض مضمر نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذمّے نبوت کی ذمہ داری لگائی ہے تاکہ اسے امانت و دیانت کے ساتھ سر انجام دیتا رہوں۔ یہی میرے منصب کا تقاضا ہے جسے شب و روز پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لیے رسول امین کا لفظ بول کر یہ بھی واضح کیا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اس کا پیغام پہنچانے میں پوری ذمہ دار اور امانت دار ہوں اور تم بھی مجھے کردار اور امانت کے حوالے سے امین تسلیم کرتے ہو۔ یہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کا کردار ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی اپنی قوم میں صادق اور امین سمجھے جاتے تھے سرور دو عالم ﷺ نے صفا پہاڑی پر اپنی دعوت پیش کرنے سے پہلے لوگوں سے استفسار فرمایا کہ اگر میں کہوں اس کے پہاڑ کے عقب سے کوئی لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم یقین کرو گے ؟ لوگوں نے بیک زبان کہا تھا۔” مَا جَرَ بَّنَا عَلَیْکَاِلَّا صِدْقًا “ ہم نے ہمیشہ آپ ﷺ کو سچاپایا۔ (سیرت ابن ہشام ) تقویٰ کا مفہوم : (وَقَدْ قِیْلَ اَنَّ عُمَرَبْنِ الْخَطَّاب ؓ سَأَلَ اُبَیِّ بَنْ کَعْبٍ عَنِ التَّقْوَیْ ، فَقَالَ لَہٗ أَمَا سَلَکْتُ طَرِیْقًا ذَاشَوْکٍ ؟ قَالَ بَلٰی قَالَ فَمَا عَمِلْتَ ؟ قَالَ شَمَرْتُ وَاجْتَہَدَتْ ، قَالَ فَذٰلِکَ التَّقْوَیٰ ) [ تفسیر ابن کثیر : جلد 1] ” روایت ہے کہ عمر ؓ بن خطاب نے حضرت ابی ؓ بن کعب سے تقویٰ کے متعلق سوال کیا تو کعب ؓ نے کہا کہ کیا آپ کبھی خار دار راستے پر نہیں گزرے حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں حضرت ابی کہنے لگے تو اس وقت آپ کیا کرتے ہیں حضرت عمر کہنے لگے میں کپڑے سمیٹ کر اور کانٹوں سے بچتے ہوئے اس راستہ سے گزرتا ہوں۔ حضرت ابی نے کہا یہی تقویٰ ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ ہُ فَقَالَ أَوْصِنِيْ فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مِنْ قَبْلِکَ أُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَإِنَّہٗ رَأْسُ کُلِّ شَيْءٍ ۔۔ ) [ مسند احمد : کتاب باقي مسند المکثرین، باب مسند أبی سعید الخدری ] ” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا : مجھے نصیحت کیجئے ابو سعید خدری ؓ نے کہا : تو نے مجھ سے اس چیز کا سوال کیا ہے جس کے متعلق میں نے تجھ سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ تقویٰ ہر خیر کا سرچشمہ ہے۔ “ مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی تکذیب کی۔ 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم امین سمجھتی تھی۔ 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بلامعاوضہ دین اور قوم کی خدمت کیا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ اور اس کے تقاضے : 1۔ مصیبتوں میں صبر اختیار کرنا اور سچ بولنا تقویٰ ہے۔ (البقرۃ : 177) 2۔ حلال روزی کھانا، اللہ پر ایمان لانا اور اس سے ڈرنا تقوٰی ہے۔ (المائدۃ : 88) 3۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دینا اور اس پر قائم رہنا تقوٰی ہے۔ (طٰہٰ : 132) 4۔ شعائر اللہ کا احترام کرنا تقویٰ ہے۔ (الحج : 32) 5۔ حج کے سفر میں زاد راہ لینا تقوٰی ہے۔ (البقرۃ : 197) 6۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (النساء : 31 تا 33) 7۔ متقی کی خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5) 8۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34) 9۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو قیامت کے دن بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 61 تا 64)