26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفہم القرآن

Ayahs 26:217–221

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اللہ غالب اور مہربان پر توکل کرو۔ (217)

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے جب آپ اٹھتے ہیں۔ (218)

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور سجدہ گزارلوگوں کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔ (219)

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ (220)

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

” لوگو ! کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں ؟ (221)

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کا رسالت مآب ﷺ پر یہ الزام تھا کہ آپ پر شیطان نازل ہوتا ہے جو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں آپ پر پڑھتا ہے۔ اسی سورة 210 تا 212 میں کفار کے الزام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ پر شیطان نہیں اترتے نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو دعوت اور اس کا طریقہ کار بتلایا گیا ہے۔ اب کفار کے الزام کا دوسرے انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ میرے نبی ﷺ پر نزول شیطان کا الزام لگانے والو ! سنو میں تمہیں بتلاؤں کہ شیطان کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں ہر جھوٹے اور گناہ گار پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ وہی شیطان کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور ان کی اکثریت جھوٹے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ” ہَلْ اُنَبِّءُکُمْ “ ” کیا میں تمہیں بتاؤں ؟ “ کے الفاظ استعمال فرماکر ایک طرف کفار کے الزام کا جواب دیا اور دوسری طرف سرور دو عالم ﷺ کی سیرت طیبہ کی طرف کھلا اشارہ ہے کہ جس ذات پر تم شیاطین کے نزول کا الزام لگاتے ہو وہ تو اس قدر گفتار اور کردار کے لحاظ سے پاکیزہ ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے بھی تم اسے الصادق اور الامین کہتے تھے سوچو اور غور کرو ! کیا ایسی ذات جھوٹ بولنا یا سننا اور اور اسے آگے پھیلانا پسند کرسکتی ہے۔ جبکہ شیاطین تو انسان کو جھوٹ فریب کے سوا کوئی چیز القاء نہیں کرتے شیاطین تو فاسق وفاجر شخص پر ڈیرے ڈالتے ہیں۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ” ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور شیطانوں کو دشمن بنادیا یہ ایک دوسرے کی طرف دھوکا دینے کے لیے بناوٹی باتیں دل میں ڈالتے ہیں اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے، پس انہیں ان کے جھوٹ کے حوالے کیجئے۔ “ (الانعام : 112) (وَمَنْ یَعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمَنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ) [ الزخرف : 36] ” جو اللہ کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے اس پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ “ (عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَتٰی عَرَّافًا فَسَأَلَہٗ عَنْ شَیْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَہٗ صَلٰوۃُ اَرْبَعِےْنَ لَےْلَۃً ) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکِہَانَۃِ وَإِتْیَانِ الْکُہَّانِ ] ” حضرت حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ جو شخص گم شدہ یا چوری کا پتا بتانے والے کے پاس جائے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرئے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ پر کفار بےہودہ الزام لگایا کرتے تھے۔ 2۔ جھوٹے اور فاسق شخص پر شیطان اترتا ہوتا ہے۔ 3۔ شیطان لوگوں کے دل میں جھوٹی اور مکر و فریب کی باتیں القاء کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان کن لوگوں پر مسلّط ہوتا ہے : 1۔ سود کھانے والے کو شیطان بدحواس کردیتا ہے۔ ( البقرۃ : 275) 2۔ منافقین کو ان کے برے اعمال کے سبب شیطان نے پھسلا دیا۔ ( آل عمران : 155) 3۔ جو لوگ اپنے فیصلے اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی دوسرے کے سامنے لے جاتے ہیں شیطان ان کو گمراہ کردیتا ہے۔ ( النساء : 60) 4۔ جو شخص اللہ کے ذکر سے غافل ہوجائے تو اس پر شیطان مسلّط ہوجاتا ہے۔ ( الزخرف : 36) 5۔ شیطان مشرکین پر مسلّط ہو کر ان کو سیدھے راستے کی طرف آنے سے روکتا ہے۔ ( النمل : 24) 6۔ شیطان کی دوستی اختیار کرنے والوں پر گمراہی مسلط کردی جاتی ہے۔ (الاعراف : 30) 7۔ شیطان ہر انسان پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ( بنی اسرائیل : 53)
Ayahs 26:222–224

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر جھوٹے اور گنہگار پر اترتے ہیں۔ (222)

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی سنائی باتیں لوگوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ “ (223)

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

” شعراء کے پیچھے تو گمراہ لوگ چلا کرتے ہیں۔ (224)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ پر کفار کا تیسرا الزام، اور اس کا جواب : سورۃ الشعراء کا اختتام کفار کے الزامات اور ان کے جوابات پر ہوتا ہے۔ اہل مکہ بڑے تکرار اور صرار کے ساتھ یہ الزام لگاتے کہ آپ شاعر ہیں یہ الزام لگانے کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو قرآن مجید کے الفاظ، آیات کا اختتامی انداز جس میں بعض آیات کا ردیف قافیہ اس طرح بنتا ہے جس میں خود بخود ایک دھن پیدا ہوجاتی ہے اور پھر پورے قرآن میں غضب کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ جس سے کوئی بھی آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے کبھی وہ آپ کو شاعر قرار دیتے اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ آپ کو شاعر قرار دینے کی دوسری وجہ یہ تھی کیونکہ قرآن مجید میں انتہا درجہ بلاغت اور تخیل کی بلندی پائی جاتی ہے۔ جس وجہ سے اس پر شاعرانہ کلام کا الزام لگانا آسان تھا۔ اس لیے مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو شاعر کہتے تھے۔ کیونکہ شعراء کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہ باتونی ہوتے ہیں ان کے کام اور کلام میں حقیقت بہت کم ہوا کرتی ہے، ان کی اکثر یت گمراہ ہوتی ہے اور وہ ہر اچھا برا کلام پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ ہوتی ہے کہ بھلی بات کی بہترین اور مؤثر ترجمانی کرنے کے باوجود خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ شعراء اور ان کے پیچھے لگنے والے اکثر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ اور اکثر شعراء ہر وادی میں سرگراں پھرتے ہیں جبکہ رسول کریم ﷺ قرآن مجید کے ہر حکم پر عمل کرنے والے اور لوگوں کے سامنے اکمل اور بہترین نمونہ تھے۔ (وَعَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الخُدْرِیِّ قَالَ بَیْنَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ بِالعَرْجِ اِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ یُنْشِدُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خُذُو الشَّیْطَانَ اَوْاَمْسِکُوا الشَّیْطَانَ ، لَأَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَیْحًا خَیْرٌ لَہٗ مِنْ اَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا) [ رواہ مسلم : باب، الشعر ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول معظم ﷺ کے ساتھ عرج کے علا قے میں سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر نے آکر شعر کہنے شروع کردیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ اس شیطان کو پکڑو یا فرمایا کہ شیطان کو دور کرو۔ کہ اگر کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھراہو تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ اشعار سے بھرا ہوا ہو۔ “ اشعار کے نفع و نقصان کے بارے میں سورة یٰسین کی آیت کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ متحدہ ہندوستان کے دور میں مولانا الطاف حسین حالی ان چند شعراء میں شامل ہیں جن کا اس زمانہ میں طوطی بولتا تھا وہ اپنی کتاب مقدمہ شعر و شاعری میں لکھتے ہیں۔ شاعری کا ماحول عام طور پر جہالت کے دور میں زیادہ پنپتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یونان کے مشہور فلسفی اور مفکر ارسطو کا حوالہ دیا کہ جب اس نے پہلی مرتبہ یونان کا دستور مرتب کیا تو ہر طبقہ کی اس نے ضرورت محسوس کی لیکن شاعروں کے طبقہ کو اس لیے در غور اعتنانہ سمجھا کیونکہ بقول ان کے شاعر لوگ عام طور پر باتیں جوڑنے اور بنانے کے سوا کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ارسطو کے قول کے بارے میں نہ معلوم ہر دور کے دانشوروں کی کیا رائے ہوگی تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ شعر و شاعری کے ماحول میں علم اور عقل کی بات کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ میں نے زندگی میں ان گنت عوامی اجتماعات میں شرکت کی اور سنے ہیں۔ جس اجتماع میں کوئی خطیب شعر یا ترنم کے ساتھ بات نہیں کرتا بیشک وہ کتنا ہی اچھا خطیب اور عالم کیوں نہ ہو لوگ اس کی بات سننے کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ جس معاشرے اور جماعت میں ایسا ماحول پیدا ہوجائے وہاں علم اور علماء کی قدر اٹھ جاتی ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شعر و شاعری کے فوائد کم اور وقتی اس کے نقصانات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ مسائل 1۔ شعراء کے کلام میں اچھی بری ہر قسم کی بات پائی جاتی ہے۔ 2۔ اکثر شعراء اچھی باتیں کہنے کے باوجود خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ 3۔ شعراء کے پیچھے لگنے والے اکثر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ پر شاعری کا الزام اور اس کی تردید : 1۔ کفار آپ کو شاعر کہتے تھے۔ (الطور : 30) 2۔ کفار نے کہا کیا ہم اپنے معبودوں کو شاعر ومجنوں کی خاطر چھوڑ دیں ؟ (الصٰفٰت : 36) 3۔ شعراء کے پیچھے تو بھٹکے ہوئے لوگ چلتے ہیں۔ ( الشعراء : 224) 4۔ ہم نے آپ کو شعر شاعری نہیں سیکھلائی اور نہ ہی یہ آپ کے لیے زیبا تھا۔ (یٰسٓ: 69)
Ayahs 26:225–227

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ (225)

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

ایسی باتیں کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے۔ “ (226)

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

” سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا۔ جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو صرف اس کا بدلہ لیتے ہیں۔ ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچارہوتے ہیں۔ “ (227)

فہم القرآن ربط کلام : اکثر شعراء اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں اگر ان کے کلام میں کوئی اچھی بات پائی جائے تو اس پر خود عمل پیرا نہیں ہوتے سوائے ان شاعروں کے جو صحیح العقیدہ اور صالح کردار ہوتے ہیں۔ شعراء اور ان کے متبعین کی گمراہی کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کو اس گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جو صحیح العقیدہ اور نیک اعمال کرنے کے ساتھ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے والے ہیں۔ آیات کے سیاق وسباق کے حوالے سے ایمان والوں سے مراد یہاں سب سے پہلے صحیح العقیدہ اور صالح کردار شاعر ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے بےعمل اور بیہودہ شاعروں کا تذکرہ ہے اس لیے یہاں پہلے مخاطب نیک شعراء ہیں۔ نیک شاعر اور عقیدہ توحید پر پختہ اور صالح اعمال کرنے والے مسلمان۔ اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ اگر ان پر ظلم کیا جائے تو وہ اتنا ہی بدلہ لیتے ہیں جتنا ان پر ظلم کیا گیا ہو۔ جہاں تک ظالموں کا تعلق ہے انھیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ وہ کن بھول بھلیوں میں پڑے ہوئے تھے۔ یہاں برے شعراء سے ان شعراء کرام کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار خصوصیات کے حامل ہوں : 1۔ مومن ہوں، یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتابوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔ 2۔ عملی زندگی میں صالح ہوں، بدکار اور فاسق وفاجر نہ ہوں، اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر ہر جگہ جھک مارنے والے نہ ہوں۔ یعنی ان کا کلام بےدینی اور بےحیائی سے پاک ہو۔ 3۔ 1 اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہوں۔ 4۔ ذاتی اغراض کے لیے کسی کی ہجو نہ کریں نہ ذاتی، نسلی اور قومی عصبیتوں کی خاطر انتقام کی آگ بھڑکائیں، مگر جب ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے ضرورت پیش آئے تو پھر زبان سے وہی کام لیں جو مجاہد تلوار، تیر سے لیتا ہے۔ اسی بنا پر کعب بن مالک ؓ سے آپ نے فرمایا : (قَالَ اہْجُوا قُرَیْشًا فَإِنَّہُ أَشَدُّ عَلَیْہَا مِنْ رَشْقٍ بالنَّبْلِ ) ” ان کی ہجو کہو کیونکہ اس رب کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تمہارا شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیز ہے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا : (إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لاَ یَزَالُ یُؤَیِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّہِ وَرَسُولِہِ ) ” ان کی خبر لو۔ “ شعر کہو روح القدس تیرے ساتھ ہے۔ “ (رواہ مسلم : باب فضائل حسان بن ثابت) ” ذکر ایسی عبادت ہے کہ جسے کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ نماز بذات خود بہت بڑا ذکر ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کثرت کے ساتھ یاد الٰہی میں مصروف رہنے کا حکم فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الأذان ] (عَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ حینَ أَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ اِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَدْ أَنْزَلَ فِی الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَکَیْفَ تَرَی فیہِ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاہِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ ) [ رواہ احمد : مسند کعب بن مالک ] ” حضرت کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے شعراء کے متعلق یہ آیت نازل کی تو کعب بن مالک نبی ﷺ کے پاس آکر عرض کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے شعروں کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی ہے جس کا آپ کو علم ہے آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ صحیح العقیدہ لوگ نیک اعمال کرنے کے ساتھ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ 2۔ مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت ہے۔ تفسیر بالقرآن ذکرِ الٰہی کا حکم اور فضیلت : 1۔ اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے۔ (العنکبوت : 45) 2۔ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم۔ (البقرۃ : 152) 3۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الانفال : 45) 4۔ اللہ کو گڑگڑا کر صبح وشام آہستہ یاد کرو۔ (الأعراف : 205) 5۔ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد : 28) 6۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگوں پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ (الزخرف : 36) 7۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگ گھاٹے میں ہیں۔ (المنافقون : 9)