26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفہم القرآن

Ayahs 26:108–111

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (108)

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (109)

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ (110)

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

” انہوں نے جواب دیا کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ تیری پیروی کرنے والے رذیل لوگ ہیں (111)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے اور ان کی امانت کا اعتراف کرنے کے باوجود قوم کا جواب۔ قوم کا جواب یہ تھا کہ اے نوح کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں ؟ جبکہ تجھ پر ایمان لانے والے معاشی اعتبار سے غریب سماجی حوالے سے گھٹیا لوگ ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواباً ارشاد فرمایا مجھے کیا معلوم کہ کون کیا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا حساب میرے رب کے ذمہ ہے کاش تم شعور سے کام لو۔ میں ان کے پیشہ کی وجہ سے انھیں اپنے آپ سے دور نہیں کرسکتا کیونکہ میرے ذمہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ دین کی تاریخ یہ ہے کہ اس کے ماننے والے۔ ابتداً غریب لوگ ہوا کرتے ہیں جنہیں معاشرے کے کھاتے پیتے لوگ حقیر سمجھتے ہیں اور بڑے لوگ ان کے ساتھ بیٹھنا، اٹھنا اپنی توہین جانتے ہیں۔ اس وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے لوگوں نے یہ کہہ کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ بیٹھا کریں جو ہم میں نیچ ہمارے نوکر چاکر ہیں۔ حقیقتاً وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے اطاعت گزار بننے میں اپنی توہین سمجھتے تھے لیکن حضرت نوح (علیہ السلام) ظاہری جمال و کمال کے اعتبار سے ان سے اعلیٰ تھے اس لیے انھوں نے یہ بہانہ بنایا کہ ہم آپ پر اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ آپ کے ساتھی کمتر لوگ ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے کیا علم کہ پیشے کے اعتبار سے کون کیا کرتا ہے۔ مالی لحاظ سے کوئی کیا حیثیت رکھتا ہے میرا کام لوگوں کا پیشہ بدلنا نہیں میرا فرض تو یہ ہے کہ میں لوگوں کو برے کاموں سے بچنے کا حکم دوں اور برے انجام سے لوگوں کو ڈراؤں۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا حساب ان کے رب کے ذمہ ہے۔ کاش تم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان پیشے اور مال کے حوالے سے معزز نہیں ہوتا معزز وہ ہے جو عقیدہ و عمل کے اعتبار سے بہتر ہے۔ (یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَأُنْثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَقَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ ) ” اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ایک دوسرے کی پہچان کے لیے تمہارے قبلے اور برادریاں بنائیں۔ تم میں سے سب سے زیادہ اللہ کے ہاں عزت والا وہ ہے جو متقی ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا خبر رکھنے والا ہے۔ “ (یَآ أَیُّھَا النَّاسُ ! أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلآی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بالتَّقْوٰی) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث رجل من أصحاب النبی ﷺ ] ” اے لوگو ! آگاہ ہوجاؤ ! یقیناً تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے خبردار ! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی سرخ کو کالے پر اور کسی کالے کو سرخ پر تقویٰ کے سوا کوئی برتری حاصل نہیں۔ “ مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہہ کر ان کی نبوت کا انکار کیا کہ تجھ پر ایمان لانے والے لوگ سماجی اعتبار سے گھٹیا لوگ ہیں۔ 2۔ ا لداعی کو غربت کی بنا پر نیک لوگوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کرنا چاہیے اس کا کام لوگوں کو برے اعمال اور اس کے انجام سے ڈرانا ہے۔ تفسیر بالقرآن صحیح عقیدہ اور صالح اعمال کرنے والوں کا مرتبہ و مقام : 1۔ ایماندار صالح اعمال کرنے والوں کو اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ (الجاثیۃ : 30) 2۔ ایمان کے ساتھ صالح اعمال کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ (الحج : 50) 3۔ موت کے بعد نیک لوگوں کی رفاقت نصیب ہوگی۔ (آل عمران : 193) 4۔ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا ہے۔ (الانبیاء : 86) 5۔ اللہ نیک لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ دے گا۔ (التوبۃ : 121) 6۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہ ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26)
Ayahs 26:112–116

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح نے کہا مجھے کیا معلوم کہ ان کے عمل کیسے ہیں ان کا حساب میرے رب کے ذمہ ہے۔ (112)

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

کاش تم سمجھ سے کام لو۔ (113)

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

میرایہ کام نہیں کہ جو ایمان لائیں انہیں اپنے آپ سے دور کر دوں۔ (114)

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں واضح طور پر متنبہ کردینے والا ہوں۔ “ (115)

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اے نوح اگر تو باز نہ آیا تو رجم ہونے والوں میں شامل ہوکر رہے گا۔ (116)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال سمجھایا۔ (العنکبوت : 14) لیکن قوم نے انھیں بدتر سے بدترین جواب دیا یہاں تک کہ انھوں نے کہا اے نوح ! اگر تو عقیدہ توحید کی دعوت سے باز نہ آیا تو ہم پتھر مار مار کر تجھے جان سے مار دیں گے۔ ” نوح نے عرض کی اے میرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو دن رات دعوت دی لیکن میری دعوت دینے سے وہ اور زیادہ دوری اختیار کرتے گئے۔ جب بھی میں نے انہیں بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے آپ پر کپڑے ڈال لیے۔ ہٹ دھرمی اور تکبر اختیار کیا پھر میں نے انہیں سرعام دعوت دی اور اعلانیہ اور پوشیدہ طریقے سے بھی سمجھایا۔ “ (نوح : 5 تا 9) ” اس کے بعد نوح نے عرض کی کہ میرے پروردگار ! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے۔ یہ ان کے تابع ہوئے ہیں جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا۔ اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے۔ اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا وَدّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔ میرے رب انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے تو تو ان کو اور گمراہ کر دے۔ “ ( نوح : 21 تا 24 ) حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی دعا کی اے رب کریم ! قوم نے مجھے کلیتاً ٹھکرا دیا ہے۔ میری درخواست ہے کہ آپ میرے اور میری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دیں۔ فیصلہ سے مراد اللہ کا عذاب ہے مجھے اور میرے ایماندار ساتھیوں کو اس سے بچائے رکھنا۔ ( وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا اِِنَّکَ اِِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلاَ یَلِدُوْا اِِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلاَ تَزِدِ الظٰلِمِیْنَ اِِلَّا تَبَارًا) [ نوح : 26 تا 28 ] ” اور پھر نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ میرے پروردگار کسی کافر کو روئے زمین پر نہ رہنے دے۔ اگر تو ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کرینگے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکری ہوگی۔ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان دار مردوں اور ایمان دار خواتین کو معاف فرما ! ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔ مسائل 1۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے دعوت حق قبول کرنے کی بجائے نوح (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔ 2۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے عذاب کا مطالبہ کیا۔ 2۔ نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فیصلہ کن عذاب کی درخواست کی۔ تفسیر بالقرآن انبیاء (علیہ السلام) اور صلحاء کی نافرمان قوم کے لیے بددعائیں : 1۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اموال کو نیست و نابود کردے اور ان کے دلوں کو سخت فرما۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا) ۔ (یونس : 88) 2۔ نوح نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک کافر بھی نہ چھوڑنا۔ (نوح : 26) 3۔ اے اللہ ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ لوط (علیہ السلام) کی بددعا (العنکبوت : 30) 4۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بد دعا) ۔ (الاعراف : 89)
Ayahs 26:117–119

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے دعا کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے۔ (117)

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

اب میرے اور ان کے درمیان دوٹوک فیصلہ فرما دے۔ مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات عطا فرما۔ “ (118)

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

” آخرکار ہم نے نوح اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچالیا۔ (119)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) نے فیصلہ کن عذاب کی بدعا کی اللہ تعالیٰ نے انھیں اور ان کے مومن ساتھیوں کو عذاب سے محفوظ رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو واضح طور پر بتلادیا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تیری قوم سے جن لوگوں نے ایمان لانا تھا لاچکا۔ اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا لہٰذا ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی تیار کیجیے اور اب میرے حضور ظالموں کے حق میں فریاد نہ کرنا کیونکہ یہ غرق ہو کر رہیں گے۔ (ہود : 36۔ 37) ” نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے قریب سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے نوح جواب دیتے کہ جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اسی طرح ایک وقت ہم بھی تم سے تمسخر کرینگے۔ اور تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا یعنی دو دو جانور ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے کہ ہلاک ہوجائے گا اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو اور جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔ ( نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر سوارہو جاؤ۔ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔ کشتی ان کو لے کر طوفان کی لہروں میں چلنے لگی لہریں کیا تھیں گویا پہاڑ تھے اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہا جو کشتی سے الگ تھا۔ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔ اس نے کہا کہ میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر اللہ رحم کرے اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آ حائل ہوئی اور وہ ڈوب گیا۔ (ھود : 38 تا 43 ) ”(نوح نے) اپنے پروردگار سے دعا کی کہ بار الٰہا میں ان کے مقابلے میں کمزور ہوں تو میری مدد فرما۔ تو ہم نے ان پر موسلاد ھاربارش کے آسمان سے دروازے کھول دئیے۔ اور زمین سے چشمے جاری کر دئیے۔ سارا پانی مل گیا ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا، اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کرلیا۔ وہ ہماری نگرانی میں چلتی تھی یہ سب کچھ اس شخص کے انتقام کے لیے کیا گیا جس کو کافر مانتے نہ تھے۔ اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے۔ سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟۔ (القمر : 10 تا 16 ) اس سارے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” آنے والے لوگوں کے لیے اس میں ایک سبق ہے لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لایا کرتی اے پیغمبر ﷺ ! آپ کا رب پوری طرح غالب اور نہایت ہی مہربان ہے۔ “ اس میں یہ بات بتلا دی گئی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال انفرادی اور اجتماعی طور پر دن رات لوگوں کو سمجھاتے رہے لیکن قوم میں چند آدمیوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ اے میرے پیغمبر ﷺ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو دعوت دیتے ہوئے ابھی چند سال گزرے ہیں آپ کو دل چھوٹا کرنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کو سامنے رکھنا چاہیے۔ جہاں تک آپ کے دشمنوں کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ اس بات پر پوری طرح غالب اور قادر ہے کہ جب چاہے وہ ان کو کسی اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کر دے۔ لیکن وہ اپنے بندوں کو بار بار موقعہ دیتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائیں کیونکہ وہ نہایت ہی مہربانی کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام : 1۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الفرقان : 37) 2۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے سے فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43) 3۔ نوح نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک بھی کافر نہ چھوڑیے۔ (نوح : 26) 4۔ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوا۔ (ہود : 43)
Ayahs 26:120–123

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا۔ (120)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک عبرت ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ (121)

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب غالب بھی ہے اور مہربان بھی۔ “ (122)

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

” قوم عاد نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (123)

فہم القرآن ربط کلام : قوم نوح کی غرقابی کے بعد قوم عاد کا کردار اور انجام۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ھود کی قوم کا تذکرہ شروع ہوتا ہے نہ معلوم حضرت ھود نے اپنی قوم کو کتنا عرصہ کس کس انداز سے سمجھایا۔ ان کے سمجھانے کا انداز بھی وہی تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اختیار فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی قرار دیا کیونکہ وہ حسب ونسب کے اعتبار سے اپنی قوم کے فرد تھے۔ لیکن قوم عاد نے انھیں اسی طرح ٹھکرایا جس طرح قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ٹھکرایا تھا۔ حالانکہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے انھیں بار بار نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کفر و شرک اور برے کاموں کو چھوڑ دو اور میرے پیچھے چلو۔ میں پوری دیانت و امانت کے ساتھ تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ اس خدمت پر میں آپ سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ تم ہر اونچی جگہ پر یاد گاریں بناتے ہو اور تم بےجا بڑے بڑے محلات تعمیر کرتے ہو جیسے تم نے دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ تم میں یہ برائی بھی موجود ہے کہ جب کسی پر گرفت کرتے ہو تو تمھاراروّیہ ظالموں اور خدا کے باغیوں جیسا ہوتا ہے۔ میں تمہیں پھر سمجھتا تا ہوں کہ اللہ سے ڈرو میں اس کا رسول ہوں اور میری تابعداری کرو۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا۔ یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ قوم عادجسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ بھی کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ مسائل 1۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ 2۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں تم سے اس خدمت کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کروں گا۔ 3۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو شان و شوکت کے اظہار اور تفریح طبع کے لیے بڑی بڑی یاد گاریں بنانے سے منع کیا۔ 4۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ انسان نے دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ 5۔ قوم عاد کے لوگ بڑے ظالم اور سفاک تھے وہ اپنے مخالف پر مظالم ڈھایا کرتے تھے۔
Ayahs 26:124–132

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

یاد کرو جب ان کے بھائی ہود نے ان سے فرمایا تھا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ (124)

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔ (125)

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

لہٰذاتم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (126)

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں۔ میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے۔ “ (127)

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم بناتے ہو ہر اونچی جگہ نشانی کھیلتے ہوئے ؟

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو گویا کہ تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ (129)

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو ظالم بن کر ڈالتے ہو۔ (130)

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ (131)

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

” ڈرو اس سے جس نے تمہیں وہ کچھ دیا ہے جس کا تم اعتراف کرتے ہو۔ (132)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا بار بار قوم کو خطاب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروانا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احساس دلایا اور انھیں اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی۔ اے میری قوم ! اپنے ماضی پر غور کرو۔ تم افرادی قوت کے اعتبار سے تھوڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثیر افزائش سے نوازا۔ جس کے نتیجے میں تم افرادی قوت کے اعتبار سے اپنے مخالفوں پر برتر ہوئے۔ اس نے تمہیں مال، مویشی کے اعتبار سے بھی برکت عنایت فرمائی تم بڑے بڑے باغات اور چشموں کے مالک بنے۔ لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اس کے نافرمان اور لوگوں پر ظالم بن چکے ہو۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر تم اپنے رب کی ناشکری کرتے اور لوگوں پر مظالم ڈھاتے رہے تو کسی دن تمہیں عظیم عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قوم حضرت ھود (علیہ السلام) کے ارشادات اور ان کی ہمدردانہ دعوت پر غور کرتی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرجاتی۔ لیکن انھوں نے اپنی افرادی قوت اور دنیا کی ترقی پر اتراتے ہوئے حضرت ھود (علیہ السلام) کو کھلے انداز میں کہا کہ آپ ہمیں نصیحت کریں یا نہ کریں آپ کی باتوں کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ پہلے لوگ بھی اس طرح کی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ ہم کسی قسم کے عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ اس طرح انھوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو یکسر طور پر جھٹلادیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کیا۔ بیشک اس میں بڑی عبرت ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لایا کرتے۔ یقین جانو کہ آپ کا رب بڑے سے بڑے ظالموں پر غالب ہے لیکن وہ انھیں بھی بار بار تائب ہونے کا موقع دیتا ہے کیونکہ وہ بڑا ہی مشفق اور مہربان ہے۔ حضرت ہود کے خطبات کا خلاصہ : حضرت ھود (علیہ السلام) نے دنیا کے عذاب کے ساتھ آخرت کے عذاب سے یہ کہہ کر اپنی قوم کو ڈرایا کہ قیامت کا دن رعب، دبدبہ اپنی طوالت اور عدالت کے اعتبار سے بڑا دن ہوگا جس میں ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزائیں سنائی جائیں گی۔ 1۔ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچتے رہو۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کے احکام پوری امانت داری سے پہنچارہا ہوں۔ سورة ھود میں ان کے خطاب کے اقتباسات یوں ذکر کیے گئے ہیں۔ 2۔ اے میری قوم اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پوری خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ پہنچا دیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو وہ تمہیں مزید طاقت ور اور مال دار بنائے گا۔ ہاں یاد رکھو تمہاری اصلاح اور فلاح پر میں تم سے کسی صلہ اور اجر کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ (ھود 50 تا 52) قوم کا ردِّ عمل : 1۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بیوقوف قرار دیا۔ (الاعراف : 66) 2۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : 33) 3۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ (المؤمنون : 38) 4۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : 137) 5۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : 136) 6۔ ہمارے معبودوں کی تجھے بد دعا لگ گئی ہے۔ (ھود : 54) 7۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : 138 تا 139) 8۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف : 22) مسائل 1۔ قوم عاد جسمانی طاقت اور افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا میں منفرد قوم تھی۔ 2۔ قوم عاد مال، مویشی اور افرادی قوت رکھنے والی قوم تھی۔ 3۔ قوم عاد نے زراعت اور باغبانی میں بڑی ترقی کی تھی۔ تفسیر بالقرآن قوم عاد کی دنیاوی ترقی کی ایک جھلک : 1۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہوگا۔ (حٰم السجدۃ : 15) 2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 ) 3۔ قوم عاد بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغبانی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133) 4۔ قوم عاد بڑے سفاک اور ظالم لوگ تھے۔ ( النجم : 52) 5۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : 6)
Ayahs 26:133–141

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

تمہیں جانوردیے، بیٹے عطا فرمائے۔ (133)

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

باغ دیے اور چشمے دیے۔ (134)

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

میں تمہارے بارے میں عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ “ (135)

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

” انہوں نے جواب دیا تیر اہمیں سمجھانا یا نہ سمجھانا برابر ہے۔ (136)

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ باتیں تو پہلے سے چلی آرہی ہیں۔ (137)

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔ (138)

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

آخرکار انہوں نے اسے جھٹلادیا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا یقیناً اس میں عبرت ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ (139)

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست اور مہربانی کرنے والا ہے۔ “ (140)

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

” قوم ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔ (141)

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کی تباہی کے بعد قوم ثمود کا دور اور اس کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ انھوں نے بھی وہی انداز اختیار فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام نے اختیار کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو۔ میں اپنی تابعداری اور نبوت کے کام پر تم سے کسی اجر کا طلب گار نہیں ہوں۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے۔ میں تمہیں اس بات سے متنبہ کرتا ہوں کہ جس کردار کو تم اختیار کیے ہوئے ہو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا یہ امن اور سلامتی کا راستہ نہیں اگر تم تائب نہ ہوئے تو یاد رکھو۔ لہلہاتے ہوئے باغ، جاری چشمے، سبز و شاداب کھیتیاں، کھجوروں سے لدے ہوئے باغ، پہاڑوں کو تراش تراش کر بنائے ہوئے محلات تمہیں رب ذوالجلال کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈر کر میری اطاعت کرو۔ اس قوم کو اصحاب الحجر بھی کہا گیا ہے۔ اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ قوم ثمود اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ مسائل 1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بار بار اللہ کا خوف دلایا۔ 2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے تمام انبیاء (علیہ السلام) کی طرح بلامعاوضہ اپنے رب کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کی خدمت کی۔ 3۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ صالح کردار کے سوا۔ دنیا کے اسباب و وسائل مجرموں کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے۔ 4۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم زراعت، باغات اور صنعت و حرفت کے اعتبار سے اپنے زمانے کی ترقی یافتہ قوم تھی۔ تفسیر بالقرآن قوم ثمود کی ترقی کی ایک جھلک : 1۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133) 2۔ بڑے بڑے محلات تعمیر کیا کرتے تھے۔ (الاعراف : 74)