26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفہم القرآن

Ayahs 26:36–43

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہر کارے بھجیں۔ (36)

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

جو ہر ماہر جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں۔ (37)

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

چناچہ ایک دن مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کرلیے گئے۔ (38)

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا کہ تم اجتماع میں شرکت کرو ؟ (39)

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ ہم ان جادوگروں کی پیروی کریں۔ اگر جادوگر غالب رہے۔ (40)

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم غالب آگئیتو ہمیں کیا انعام ملے گا۔ ؟ (41)

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

اس نے کہا ہاں تممقربین میں شامل ہوجاؤ گے۔ “ (42)

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

” موسیٰ نے کہا پھینکو جو تم پھینکنا چاہتے ہو۔ (43)

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا آپس میں آمنا سامنا۔ سورۃ طٰہٰ آیت 61 تا 65 میں قدرے تفصیل موجود ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ جادوگروں کے سامنے تشریف لائے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ افسوس تم پر کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اگر تم اپنے مفاد کی خاطر اس بات پر ڈٹے رہے تو تمہیں اللہ کا عذاب رسوا کر دے گا۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قدر دل سوز اور مؤثر انداز میں انھیں خطاب فرمایا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور قریب تھا کہ ان کے درمیان موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے میں اختلاف واقعہ ہو۔ وہ آہستہ آہستہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے بالآخر وہ اس بات پر متفق ہوئے کہ موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) جادوگر ہیں۔ وہ تمہیں جادو کے ذریعے تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور تمہارے مذہب کو بدلنا چاہتے ہیں۔ بس اپنی منصوبہ بندی کریں اور قطار اندر قطار کھڑے ہو کر ان کا مقابلہ کرو جو آج کامیاب ہوا وہی سربلند ہوگا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا اے موسیٰ ! آپ اپنا عصا میدان میں پھینکیں گے یا ہم اپنی لاٹھیاں پھینکیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں فرمایا کہ جو کچھ پھینکنا چاہتے ہو وہ پھینکو۔ جوں ہی انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں اور اس کے ساتھ ہی نفسیاتی دباؤ بڑھاتے ہوئے فرعون زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ سورة الاعراف، آیت : 116 میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر زبردست جادو کردیا۔ جادو کا مظاہرہ اس قدر بڑا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دل ہی دل میں گھبرا گئے۔ اس حال میں اللہ تعالیٰ نے فورا وحی فرمائی کہ اے موسیٰ ! گھبرایے نہیں، آپ ہی سربلند رہیں گے۔ (طٰہٰ : 67۔ 68)
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

انہوں نے فوراً اپنی رسیّاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور نعرہ لگایا کہ فرعون کی عزت کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا میدان میں پھینکنا۔ جو نہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگلنا شروع کیا چند لمحوں میں عصا نے میدان اس طرح صاف کردیا کہ کوئی رسی اور لاٹھی باقی نہ تھی۔ اژدھا اس قدر، پھرتیلا اور بڑا تھا کہ جدھر منہ کرتا یوں دکھائی دیتا تھا جیسے رسیاں اور لاٹھیاں خود بخود اس کے منہ میں پڑرہی ہیں۔ جادوگروں نے یہ حیرت ناک منظر دیکھا تو یہ کہتے ہوئے سجدے میں گرپڑے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں۔ قرآن مجید نے جادوگروں کے سجدہ میں گرنے کے بارے میں فرمایا کہ انہیں گرادیا گیا یعنی سجدہ ریز ہونے اور ایمان لانے کے سوا ان کے لیے کوئی چارہ کار نہ تھا۔ انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ہم موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے رب پر ایمان لا رہے ہیں۔ گویا کہ جادوگروں نے اپنی شکست کا اعتراف اور اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بیک وقت تین کام کیے۔ 1۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کیا۔ 2۔ انھوں نے فرعون کی بجائے رب العالمین کہہ کر اپنے ایمان کا اظہار کیا۔ 3۔ مزید وضاحت کے لیے انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب کا نام لیا۔ تاکہ ان کے ایمان پر کسی قسم کا شک نہ رہے اور فرعون عوام کو کسی قسم کا مغالطہ نہ دے سکے۔
Ayahs 26:45–49

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

” پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا وہ یکایک ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کرگیا۔ (45)

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

اس پر تمام جادوگر بےاختیار سجدے میں گرپڑے۔ (46)

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

اور بول اٹھے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔ (47)

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

ہاں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ “ (48)

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

” فرعون نے کہا تم میری اجازت سے پہلے ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو ؟ ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادوسکھایا ہے۔ اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جب تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور سب کو سولی چڑھادوں گا۔ “ (49)

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں کے ایمان لانے کا اعلان سن کر فرعون کا الزام اور اس کی دھمکیاں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے۔ لیکن فرعون نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے شاطرانہ انداز میں اعلان کیا کہ دراصل موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے۔ اسی نے تمہیں جادو سکھایا اور تمہارے ساتھ مل کر سازش کی ہے۔ جس بنا پر تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو۔ لہٰذا تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں، یاد رکھو کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت پر کاٹ ڈالوں گا اور ہر صورت تمہیں سولی پر لٹکاؤں گا۔ فرعون نے یہ بھی اعلان کیا کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا۔ اس وقت تمہیں معلوم ہوگا کہ کس کی سزا سخت اور دیرپا ہے۔ (طٰہٰ : 71) تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) اور مومنوں کو کفار کی دھمکیاں : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر دوں گا اور گھر سے نکال دوں گا۔ ( ابراہیم : 46) 2۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تو اس دعوت سے باز نہ آیا تو تجھے قید کروا دوں گا۔ ( الشعرآء : (29) 3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو تجھے رجم کردیا جائے گا۔ ( الشعرآء : 116)
Ayahs 26:50–51

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

” انہوں نے جواب دیا کچھ پرواہ نہیں ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے۔ (50)

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کردے گا ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ “ (51)

فہم القرآن ربط کلام : جادوگردوں کی طرف سے فرعون کی دھمکیوں کا جواب۔ ایمان لانے والے جادوگروں نے فرعون کی دھمکیوں کے جواب میں اعلان کیا کہ تمہاری دھمکیوں اور سزا کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مرنے کے بعد ہم اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں گے۔ ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے گا۔ کیونکہ ہم اس پر پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایمان لانے والے جادوگروں نے فرعون کو یہ بھی کہا کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے رب اور اس کے دلائل پر تجھے ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے۔ لہٰذا ہمارے ساتھ جو سلوک کرنا چاہتا ہے کرلے۔ تیری سزا اس دنیا کی زندگی تک ہے ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف فرما دے اور جو ہم سے جبراً جادو کروایا گیا ہے ہم اس کی بھی معافی مانگتے ہیں۔ ہمارے لیے ہر حال میں اللہ ہی بہتر ہے جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ (طٰہٰ : 72۔ 73) سچے ایمان کی یہی نشانی ہے کہ یہ انسان کو چند لمحوں میں اس کے رب کے اتنا قریب کردیتا ہے کہ انسان نہ سزا کی پرواہ کرتا ہے اور نہ کسی مفاد کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے خوف سے مرعوب ہوتا ہے۔ (وَعَنْ سُفْےَانَ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قُلْ لِّیْ فِی الْاِسْلَامِ قَوْلًا لَّا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ غَےْرَکَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) [ رواہ مسلم : باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ] ” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے ’ آپ کے علاوہ ‘ کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس پر ڈٹ جاؤ۔ “ ” جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کھاؤ اور اس جنت کی خوشی سنوجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ “ (حٰم السجدۃ : 30) ارادی اور غیر ارادی گناہوں کی معافی مانگنا : (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ سَأَلْتُ عَاءِشَۃَ ؓ عَمَّا کَانَ رَسُول اللَّہ ﷺ یَدْعُو بِہِ اللَّہَ قَالَتْ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَل) [ رواہ مسلم : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَلْ ] ” حضرت فروہ بن نوفل اشجعی بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے اس دعا کے متعلق سوال کیا جو آپ ﷺ مانگا کرتے تھے آپ دعا کرتے اے اللہ میں تجھ سے ان لغزشوں کی معافی مانگتا ہوں جو میں نے کی ہیں اور ان سے بھی جو میں نے نہیں کیں۔ “ ” اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہماری گرفت نہ فرما۔ “ [ البقرۃ : 286] مسائل 1۔ سچے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی دھمکیوں اور ہر قسم کی سزا کی پرواہ نہ کرے۔ 2۔ انسان نے بالآخر اپنے رب کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ 3۔ آدمی کو اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ 4۔ کسی کے مجبور کرنے پر بھی اگر گناہ کیا ہو تو اس کی معافی مانگنا بھی لازم ہے۔ 5۔ حقیقت آشکارہ ہونے پر آدمی کو اسے تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن مومن ہر حال میں اپنے رب سے معافی طلب کرتے ہیں : 1۔ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، اسی کی طرف متوجہ رہو۔ وہ تم پر بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا۔ (ھود : 52) 2۔ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والوں کو عذاب نہیں دیتا۔ (الانفال : 33) 3۔ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ بیشک اللہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (المزمل : 20) 4۔ اللہ سے معافی طلب کرو اور اسی کی طرف متوجہ رہو۔ بیشک میرا رب نرمی کرنے اور شفقت فرمانے والا ہے۔ (ھود : 90) 5۔ اللہ سے مغفرت طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ (نوح : 10)
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

” ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ (52)

فہم القرآن ربط کلام : جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور انھوں نے فرعون کی دھمکیوں کے مقابلہ میں پوری استقامت کا مظاہرہ کیا جس پر فرعون کے مظالم میں انتہا درجہ کی تیزی آئی جس وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہجرت کا حکم ہوا۔ جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد نہ معلوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کتنی مدت تک شب و روز دعوت کے کام میں مصروف رہے لیکن حالات دن بدن دگرگوں ہوتے گئے۔ جن کا ہولناک منظر قرآن مجید کی آیات کے حوالہ سے ملاحظہ فرمائیں۔ ” جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بد ترین عذاب دیتے تھے۔ وہ تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔ “ (البقرۃ : 49) انہوں نے کہا اے موسیٰ تیرے آنے سے پہلے ہمیں تکلیف پہنچائی گئی اور تیرے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنائے گا، پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ “ (الاعراف : 129) ” ہم نے موسیٰ اور اسکے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو منتخب کرلو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنا لو۔ نماز قائم کرو اور ایمان والوں کو خوشخبری دو ۔ “ (یونس : 87) ” فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف اور ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی وجہ سے موسیٰ پر اس کی قوم کے کچھ نو جوانوں کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا۔ بلا شبہ فرعون زمین میں سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا۔ “ (یونس : 83) ” فرعون بولا مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔ وہ اپنے رب کو بلا لے مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں وہ تمہارے دین کو بدل نہ دے یا ملک میں فساد برپا نہ کرے۔ “ (المومن : 26) ” موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ “ (الدخان : 20) ” فرعون نے کہا ہامان میرے لیے ایک محل بنوا تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمان تک پہنچ جاؤں۔ “ (المومن : 36۔ 37) ان حالات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ رات کے وقت میرے بندوں کو لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ لیکن یاد رکھنا کہ فرعون تمہارا پیچھا کرے گا۔ جونہی فرعون کو معلوم ہوا تو اس نے انتظامیہ اور اپنے بڑے بڑے لوگوں کو اکٹھا کیا اور انھیں کہا کہ بنی اسرائیل تھوڑے سے لوگ ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا ہے اور ہم ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر انے کا حکم دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آگاہ فرمایا کہ فرعون اور اس کے لشکر تمہارا پیچھا کریں گے۔ 3۔ فرعون اور اس کے لشکروں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) کی ہجرت : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ (العنکبوت : 26) 2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حکم سے بنی اسرائیل کے ساتھ ہجرت کی۔ ( الدخان : 23) 3۔ کفار نے آپ ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا (التوبۃ : 40) 4۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے اس کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ (البقرۃ : 218) 5۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو بہترین ٹھکانہ میسر آئے گا۔ (النحل : 41) 6۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو بہترین رزق عطا کیا جائے گا۔ (الحج : 58)
Ayahs 26:53–57

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیجے۔ (53)

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

اور کہلابھیجا کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔ (54) َ

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

جنہوں نے ہمیں بہت غصہ چڑھا دیا ہے۔ (55)

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکس رہنا ہے۔ “ (56)

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

” اس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں۔ (57)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ذمہ دار لوگ بنی اسرائیل کے تعاقب میں فرعون کے حکم کے مطابق انتظامیہ کے لوگ اور بڑے بڑے لیڈر اپنے گھروں سے نکل کر اجتماعی شکل میں بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہیں۔ ان کے نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں ان کے باغات، چشموں، خزانوں اور عمدہ مکانوں سے نکالا اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنایا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے وقت سرکاری طور پر جو اعلان کیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے کہ لوگو ! اپنے اپنے شہروں سے باہر نکلو بیشک بنی اسرائیل تھوڑے ہیں لیکن ان کا پوری طرح تعاقب کرو یہ لوگ جانے نہ پائیں۔ انتظامی نقطہ نظر سے چاہیے تو یہ تھا کہ فوج کے چند دستے اور سول انتظامیہ کی بھاری نفری بھیج کر قلیل اور نہتے اسرائیلیوں کو گرفتار کرلیا جاتا یا پھر مار مار کر ملک کی سرحد سے باہر نکال دیا جاتا۔ لیکن فرعون نے طیش میں آکر سول انتظامیہ اور فوج کے ساتھ وزیروں، مشیروں اور ملک بھر سے بڑے بڑے پارٹی لیڈروں کو اکٹھا کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا۔ ان کے اس طرح نکلنے کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرماکر ثابت کیا ہے کہ یہ ہماری منشاء کے مطابق ہوا تاکہ ہم انھیں ان کے باغات، چشموں، خزانوں اور ان کے محلاّت سے بےدخل کریں اور بنی اسرائیل کو ان کی تمام چیزوں کا وارث بنائیں۔ (کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ وَزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیمٍ وَنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْہَا فَاکِہِیْنَ کَذٰلِکَ وَاَوْرَثْنَاہَا قَوْمًا آخَرِیْنَ فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمْ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنظَرِیْنَ وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْ اِِسْرَآءِیلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ ۔ مِنْ فِرْعَوْنَ اِِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِنَ الْمُسْرِفِینَ ) [ الدّخان : 25 تا 31] وہ لوگ بہت سے باغ، چشمے، کھیتیاں اور عمدہ مکانات چھوڑ گئے اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہوا، ہم نے دوسرے لوگوں کو ان کا مالک بنا دیا۔ پھر ان پر نہ تو آسمان اور زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت ہی دی گئی۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔ بیشک فرعون سرکش اور حد سے نکلا ہوا تھا۔ “ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ اس کا یہ معنی نہیں کہ فرعون اور اس کے لشکر غرق کیے جانے کے بعد بنی اسرائیل ان کے محلاّت اور باغات کے مالک ہوئے۔ کیونکہ تاریخ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ ان کا فرمان ہے کہ جب بنی اسرائیل نے سمندر عبور کرنے کے بعد چالیس سال وادئ سینا میں گزارے تو پھر انھیں فلسطین کے علاقے کا اقتدار ملا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی برکات سے نوازا ہوا تھا۔ وہاں بنی اسرائیل کو ساری نعمتیں میسر آئیں جو مصر میں آل فرعون کو حاصل تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنی اسرائیل فلسطین اور اس کے ملحقہ علاقوں پر قابض ہوئے۔ حقیقت کیا ہے : بے شک تاریخ سے بنی اسرائیل کا آل فرعون کے محلاّت اور باغات کا مالک ہونا ثابت نہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید یہاں کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ ہم نے آل فرعون کو غرق کیا اور بنی اسرائیل کو ان کے باغوں، چشموں اور محلّات کا مالک بنا یا۔ اس وضاحت کے بعد تاریخ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ جب کہ تاریخی ریکارڈ تسلسل کے ساتھ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل فلسطین کے ساتھ مصر کے بھی مالک ہوئے اور انہیں وہ سب کچھ ملا جو آل فرعون کے پاس ہوا کرتا تھا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی قوم کو ان کے باغوں اور مکانوں سے بےدخل کر دے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان تمام چیزیں کا مالک بنایا جو آل فرعون کے قبضہ میں تھیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو وارث بنانے والا ہے : 1۔ اللہ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو وارث بنایا۔ (الانعام : 6) 2۔ اے ایمان والو ! اگر تم دین سے مرتد ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہارے جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ (المائدۃ : 54) 3۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے۔ یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (ابراہیم : 19۔ 20) 4۔ اگر اللہ چاہے تو تم کو فنا کر کے دوسری مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے مشکل نہیں۔ (فاطر : 16۔ 17) 5۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ (انساء : 123) 6۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے لے آئے۔ (الانعام : 133)
Ayahs 26:58–60

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے۔ (58)

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

دوسری طرف بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث بنادیا۔ “ (59)

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

” صبح ہوتے ہی یہ لوگ ان کے تعاقب میں چل پڑے۔ (60)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے لشکروں کا بنی اسرائیل کا تعاقب کرنا۔ فرعون نے اپنے لوگوں کی قیادت کرتے ہوئے صبح کے وقت بنی اسرائیل کا تعاقب شروع کیا اور تیز رفتاری کے ساتھ چلتے ہوئے بنی اسرائیل کو پالیا۔ بنی اسرائیل نے فرعون اور اس کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم تو گھیرے گئے۔ سامنے سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور پیچھے سے فرعون نے آلیا ہے۔ جائیں تو کدھر جائیں ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پورے اعتماد کے ساتھ فرمایا گھبراؤ نہیں فرعون ہمارے قریب نہیں پھڑک سکتا۔ یقیناً میرا رب میرے ساتھ ہے وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنا خطاب ختم کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں وحی فرمائی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اپنا عصا سمندر پر ماریے۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا پانی پر مارا تو سمندر کا پانی دونوں طرف پہاڑ کی طرح تھم گیا۔ اس طرح سمندر میں بارہ راستے بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی۔ فرعون نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے لشکر کو سمندر میں آگے بڑھنے کا حکم دیا لیکن جونہی اس کے لشکر کا آخری آدمی سمندر میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دوسرے مقام پر یہ وضاحت موجود ہے کہ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھی سمندر عبور کرچکے اور فرعون پورے لشکر کے ساتھ سمندر میں داخل ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پانی پر مارا۔ تھمی ہوئی موجیں آپس میں مل گئیں اور آل فرعون ڈبکیاں لیتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے۔ (القصص : 63) فرعون کے بارے میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اس نے ڈبکیاں لیتے ہوئے بار بار اس بات کی دہائی دی کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لاتا ہوں لیکن اس کے ایمان کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا۔ ” ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اسکے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب غرق ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں ایمان لایا۔ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں سچ یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں فرمانبرداروں میں شامل ہوتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اسے جواب ملا کہ کیا اب ؟ حالانکہ تو نافرمان تھا اور تو فساد کرنیوالوں میں سے تھا۔ “ (یونس : 90۔ 91) فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو غرق کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں قدرت کی عظیم نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر اور نہایت ہی مہربان ہے۔ نشانی اور العزیز کا لفظ استعمال فرما کر اہل مکہ اور ظالموں کو متنبہ فرمایا ہے کہ تم فرعون اور اس کے لشکروں سے طاقتور نہیں یہ تو ” اللہ “ کی حکمت ہے کہ وقت معین تک ظالموں کو مہلت دیے جاتا ہے۔ جب گرفت کرنے پر آئے تو دنیا کے اسباب وو سائل اور لاؤ لشکر کسی ظالم کو پناہ نہیں دے سکتے۔” الرحیم “ کی صفت کے حوالے سے بےبسوں اور مظلوم مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ نہایت ہی مشفق اور مہربان ہے۔ وہ دنیا میں تمہارا بدلہ لے گا اور آخرت میں تمہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ چناچہ ہجرت مکہ کا واقعہ یاد کریں کہ جب مکہ والے غار ثور کے دہانے پر پہنچ گئے اور ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں دیکھا تو گھبرا کر عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول کفار تو غار کے منہ پر پہنچ چکے ہیں اس موقعہ پر آپ نے جو فرمایا اس کا تذکرہ قرآن اس طرح کرتا ہے۔ (اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَافَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْھَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) [ التوبہ : 40] ” اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی جب اسے کفار نے نکال دیا، جب وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے اور اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ نے اس پر اپنی سکینت اتاردی اور انہیں ایسے لشکروں کے ساتھ مدد فراہم کی جو تم نے نہیں دیکھے۔ کفار کا منصوبہ ناکام ہوا اور اللہ کا فیصلہ غالب رہا۔ اللہ سب پر غالب اور خوب حکمت والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے پیغمبر ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے۔ 2۔ اللہ ہی انسان کی رہنمائی کرنے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش میں عبرت کے اسباق ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر کام پر غالب اور اپنے بندوں کی مدد کرنے والا، نہایت ہی مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن فرعون اور ان کے ساتھیوں کے مظالم : 1۔ فرعون نے اپنی قوم میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ (القصص : 4) 2۔ بنی اسرائیل قتل و غارت کے عذاب میں دو مرتبہ مبتلا کئے گئے۔ (الاعراف : 129) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقتدار بخشا تاکہ فرعون کو اپنی قدرت دکھلائے۔ (القصص : 6) 4۔ فرعون نے ظلم کرنے کے لیے میخیں تیار کی ہوئی تھیں۔ (الفجر : 10) 5۔ فرعون نے اپنی بیوی پر اس لیے ظلم کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔ (التحریم : 11) 6۔ فرعون قوم موسیٰ کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ (البقرۃ : 49) 7۔ فرعون مومنوں کو کئی طرح کے اذیّتوں میں مبتلا کرتا تھا۔ (الاعراف : 141) 8۔ فرعون نے موحدین کو پاؤں اور ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دی۔ (الاعراف : 124) 9۔ فرعون نے اللہ پر ایمان لانے والوں کو ہاتھ پاؤں کاٹنے اور کھجور کے تنوں پر پھانسی دینے کی دھمکی دی۔ (طہٰ : 71)
Ayahs 26:61–69

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔ (61)

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ (62)

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعہ حکم دیا کہ سمندر پر اپنا عصا مار تو یکایک سمندر پھٹ گیا۔ اور اس کی ہر لہر بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگئی۔ (63)

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی لے آئے۔ (64)

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ اور اس کے تمام ساتھیوں کو بچالیا۔ (65)

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

اور دوسروں کو غرق کردیا۔ (66)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

اس واقعہ میں ایک نشانی ہے مگر لوگوں کی اکثریت ماننے والی نہیں۔ (67)

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

حقیقت ہے کہ تیرا رب زبردست ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ “ (68)

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

” اور انہیں ابراہیم کے حالات سناؤ۔ (69)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔ اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین سوال کیے۔ جب تم ان کے سامنے فریاد کرتے ہو کیا یہ تمہاری فریادیں سنتے ہیں ؟ کیا تمہیں فائدہ پہنچاتے ہیں ؟ کیا کسی کو نقصان پہنچاسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے بت پتھر کے ہوں یا کسی اور چیز کے۔ وہ سن نہیں سکتے اور نہ ہی آج تک کسی بت نے اپنی پوجا پاٹ کرنے والے کو کبھی جواب دیا ہے۔ وہ تو ایک جگہ سے دوسریجگہ جا نہیں سکتے اور نہ ان میں جان اور حرکت پائی جاتی ہے وہ دوسرے کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ جہاں تک ان کا کسی کو نقصان پہنچانے کا معاملہ ہے جن کو تراش اور توڑ، جوڑ کر بنایا جائے جو اپنادفاع نہیں کرسکتے وہ کسی کو کیا نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ حقیقت ان کے سامنے تھی جس بناء پر ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ اس لیے انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو اس طرح ہی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کی وجہ سے ہم بھی اس طرح ہی ان کی عبادت اور اعتکاف کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ یاد رہے کوئی قوم بنیادی طور پر یہ عقیدہ نہیں رکھتی کہ بت سنتے ہیں اور نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بتوں کی عبادت کے پیچھے یہ عقیدہ ہوتا ہے یہ کہ ہمارے بزرگوں کی شبیہات ہیں اور بزرگوں کی ارواح ان میں حلول کرچکی ہیں۔ لہٰذا ہم بتوں کی عبادت نہیں کرتے بلکہ ان کے توسط سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اس بنا پر اکثر لوگ بتوں کی عبادت سے انکار کرتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ اور ان کی قوم اس حد تک شرک میں آگے بڑھ چکی تھی کہ انھوں نے کھلے الفاظ میں اس بات کا اقرار کیا کہ ہم ان کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ کوئی اقرار کرے یا انکار کرے۔ قرآن مجید نے اس طریقہ عبادت کو غیر اللہ کی عبادت قرار دیا ہے۔ بیشک وہ بتوں، مزارات یا کسی اور چیز کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ قرآن کے ارشاد کے مطابق یہ غیر اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ اسی سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور تمام انبیاء (علیہ السلام) لوگوں کو روکتے رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں ایک دفعہ پھر توجہ دلائی۔ سوچو اور غور کرو۔ جب یہ نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی نفع و نقصان کے مالک ہیں تو پھر تم ان کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ یقین جانو رب العالمین کے سوا یہ سب میرے دشمن ہیں۔ دشمن سے مراد یہ نہیں کہ بت کسی کی دشمنی کرسکتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ میں غیر اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب سے بیزار اور ان سے نفرت کرتا ہوں۔ اسی بات کو امت مسلمہ کے لیے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ ” تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء کے کردار میں نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان بتوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور تمہارے معبودوں کے کبھی قائل نہیں ہوسکتے اور جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ ہمارے اور تمہارے درمیان کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی (الممتحنۃ : 4 ) یہی بات سرور دو عالم ﷺ نے بارہ سال کی عمر میں ایک پادری کو کہی تھی۔ نبی ﷺ کو قبل از نبوت شرک سے شدید نفرت تھی : آپ کی عمر مبارک بارہ سال دو مہینے دس دن ہوگئی۔ جناب ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصریٰ پہنچے بصریٰ شام کا مرکزی شہر تھا۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتا تھا، جو بُحَیرا کے لقب سے معروف تھا۔ جب قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو راہب اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے پاس آیا اور اس کی میزبانی کی۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ گرجے سے نہیں نکلتا تھا۔ اس نے آپ کے اوصاف کی بنا پر پہنچان لیا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا : یہ سید العالمین ہیں۔ اللہ نے اسے رحمۃ العالمین بنا کر بھیجا ہے۔ ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا ؟ اس نے کہا ” تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لیے جھک نہ گیا ہو۔ یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں۔ پھر میں اسے مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو کندھے کے نیچے نرم ہڈی کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم اسے اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔ اس کے بعد بحیرا نے ابو طالب سے کہا کہ انہیں واپس کر دو ملک شام نہ لے جاؤ۔ کیونکہ یہود سے خطرہ ہے اس پر ابو طالب نے بعض غلاموں کے ساتھ آپ کو مکہ واپس بھیج دیا۔ (الرحیق المختوم) سیرت ابن ہشام میں ہے کہ بحیرا نے آپ سے کہا کہ میں تجھ سے لات اور عزیٰ کا واسطہ دے کر کچھ سوال کروں گا جو نہی اس نے لات اور عزیٰ کے واسطے کی بات کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے لات اور عزیٰ کا واسطہ دے کر سوال نہ کرنا۔ (قَامَ إلَیْہِ بَحِیرَی، فَقَالَ لَہُ یَا غُلَامُ أَسْأَلُک بِحَقّ اللّاتِی وَالْعُزّی إلّا مَا أَخْبَرْتَنِی عَمّا أَسْأَلُکَ عَنْہُ وَإِنّمَا قَالَ لَہُ بَحِیرَی ذَلِکَ لِأَنّہُ سَمِعَ قَوْمَہُ یَحْلِفُونَ بِہِمَا فَزَعَمُوا أَنّ رَسُول اللّہِ ﷺ قَالَ (لَہُ ) لَا تَسْأَلْنِی بِاَللّاتِی وَالْعُزّی، فَوَاَللّہِ مَا أَبْغَضْتُ شَیْءًا قَطّ بُغْضَہُمَا) [ سیرۃ ابن ہشام ] ” جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو بحیرہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے بچے میں تجھ سے لات وعزیٰ کا واسطہ دے کر کچھ سوال کروں گا۔ تو مجھے ان کے صحیح صحیح جواب دینا۔ بحیرا نے لات و عزیٰ کا واسطہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے قافلے کے لوگوں کو لات وعزیٰ کی قسمیں اٹھاتے ہوئے سنا تھا اور اس سے اس نے تصور کیا کہ شاید آپ بھی ان کی قسمیں اٹھاتے ہوں گے۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا مجھ سے لات وعزیٰ کے نام نہ سوال کرنا۔ اللہ کی قسم میرے نزدیک ان دونوں سے زیادہ کوئی چیز قابل نفرت نہیں۔ “ ” اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نشانی کے طور اور نبوت عطا کرنے کے بعد معجزہ کے طور پر کچھ چیزوں کو نبی ﷺ کے سامنے جھکا یا تھا۔ ورنہ مشرکوں کے سوا ہر چیز صرف اپنے رب کو سجدہ کرتی ہے۔ “ ( الحج : 18) مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور اس کی قوم بتوں کے سامنے اعتکاف، رکوع، سجدے اور نذرانے پیش کرتے تھے۔ 2۔ بت نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ 3۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے تقلید آباء کو اپنی تائید کے طور پر پیش کیا۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے غیر اللہ کے ساتھ دشمنی کا اعلان فرمایا۔