Ayahs 26:177–185فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔
شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔
قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی نورانی مخلوق ہونا چاہیے تھا انھوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ بھی مطالبہ کیا اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو میرا رب جانتا ہے کہ اس نے کس وقت تک تمہیں ڈھیل دینا ہے اگر اس نے تمہیں عذاب میں گرفتار کرنا ہے تو وہ کس قسم کا عذاب ہوگا۔
قوم شعیب پر اللہ تعالیٰ کا عذاب :
قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان پر بلاشبہ عذاب عظیم نازل ہوا۔ ( الشعراء : 189)
ظالموں کو ایک کڑک نے آلیا وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو۔ یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پر پھٹکار کی گئی تھی۔ مفسرین نے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر سات راتیں اور آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ وہ نہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے ٹھہر سکتے تھے۔ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان پر سایہ افگن ہوا۔ جب سب کے سب بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے۔ زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور پھر ایسی دھماکہ خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔
یہاں قوم شعیب کے واقعہ کا اختتام بھی انہی الفاظ سے ہو رہا ہے جن الفاظ سے پہلی چھ قوموں کا ہوا ہے۔ گویا کہ سات انبیاء ( علیہ السلام) کی جدوجہد اور ان کی اقوام کا ردِّ عمل اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ! آپ کا رب ہر بات پر غالب اور بڑارحم کرنے والا ہے۔ سمجھانا مقصود یہ ہے کہ پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ان کی اقوام نے معاندانہ رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے انھیں نیست و نابود کردیا گیا۔ مال، افرادی قوت، صنعت و حرفت، چوپائے اور بھیڑبکریاں بڑے بڑے محلات اور سیاسی اقتدار، دنیا کی شان و شوکت اللہ کے غضب کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔
ا نھیں بھی اللہ تعالیٰ نے وقت معین تک مہلت دے رکھی اگر آپ کی قوم کو ان کے جرائم کے باوجود مہلت دی جارہی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا رب نہایت ہی رحیم و کریم ہے جس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو بار بار موقعہ دیا جائے تاکہ توبہ و استغفار کرسکیں۔
قوم شعیب کے جرائم :
1۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شک جیسے غلیظ اور بدترین عقیدہ میں مبتلا تھے۔ شرک وہ بیماری ہے ام الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین میں وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیماریوں نے جنم لیا، جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوظ کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ ام الامراض یعنی شرک کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ ( الاعراف : 85)
2۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ وزن اور پیمائش سے کم دیتے لیتے ہوئے طے شدہ وزن سے زیادہ لینے کی مجرمانہ کوشش کرتے۔ ( الاعراف : 85)
3۔ یہ لوگ پیشہ ور ڈاکو تھے ان کے علاقے سے گزرنے والے مسافروں کی عزت وآبرو اور مال وجان محفوظ نہیں تھے۔ ( الاعراف : 86، ہود : 85)
4۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت اور نافرمانی کرنے والے تھے۔ ( ہود : 89)
مسائل
1۔ قوم شعیب نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو سحرزدہ شخص قرار دیا۔
2۔ قوم شعیب نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بشر ہونے کی وجہ سے ان کی نبوت کا انکار کیا۔
3۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے قوم نے آسمان کا ٹکڑا گرادینے کا مطالبہ کیا۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ان کی اقوام کے الزامات :
1۔ اگر ہم ان کے لیے آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس میں سے چڑھ جائیں تو کہیں گے ہماری آنکھیں بند کردی گئی ہیں۔ بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ (الحجر : 14۔ 15)
2۔ آل فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو کا الزام لگایا۔ (القصص : 36)
3۔ کفار تمام انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیتے تھے۔ (الذاریات : 52)
4۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ کو جادوگر قرار دیا۔ (الصف : 6)
5۔ کفار نے قرآن کو جادو قرار دیا۔ (سبا : 43)
6۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ کو سحر زدہ یعنی جس پر جادو کردیا گیا ہو بھی قرار دیا۔ (الفرقان : 8)
7۔ حضرت نوح کو ان کی قوم نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (ہود : 27)
8۔ کفار آپ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ (الطور : 30)
Ayahs 26:186–192فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے سات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتوں اقوام کا بنیادی جرم یہ تھا کہ انھوں نے اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جس کے سبب انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین کو سات قوموں کی تباہی کے واقعات سنانے کے بعد سمجھایا گیا کہ تم محمد ﷺ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والے قرآن مجید کی تکذیب کرتے ہو حالانکہ اس قرآن کو رب العالمین نے جبرئیل امین کے ذریعے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل فرمایا ہے جو فصیح عربی زبان میں ہے۔ یقیناً اس نبی اور قرآن مجید کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے تاکہ آپ ﷺ برے لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرائیں۔ اگر اہل مکہ قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں تو یہ بنی اسرائیل کے منصف مزاج علماء سے پوچھ لیں۔ کیا قرآن مجید اور صاحب قرآن کا تذکرہ توراۃ، انجیل اور زبور میں موجود نہیں ہے ؟
یقیناً اہل کتاب کے حق گو علماء اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کریں گے کہ واقعی قرآن مجید اور صاحب قرآن کا تذکرہ تورات، انجیل اور زبور میں پایا جاتا ہے۔ علماء بنی اسرائیل سے بالخصوص وہ حضرات مقصود ہیں جو سرور دو عالم ﷺ کے دور میں آپ پر ایمان لائے۔ یقیناً بنی اسرائیل میں ایسے اہل علم ہر دور میں موجود رہیں گے جو قرآن مجید کی تائید اور تصدیق کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ملائکہ کے سردار جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے نبی کریم ﷺ کے دل پر نازل فرمایا۔ دل پر اس لیے اتارا گیا کہ جو بات دل پر اتر جائے دل اس کی تصدیق کرتا ہے اور ہمیشہ کے لیے وہ بات دل پر ثبت ہوجاتی ہے۔ جو بات انسان کے دل پر ثبت ہوجائے انسان اسی کے مطابق سوچتا، بولتا اور عمل کرتا ہے یہی وجہ ہے۔ کہ اہل علم نے سرور دو عالم ﷺ کو قرآن مجسم کہا ہے اس بات کی تائید ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ جب ایک صحابی نے ان سے سوال کیا کہ سرور دو عالم ﷺ کا اخلاق کیسا تھا ؟ اُم المومنین ؓ نے فرمایا کیا آپ نے قرآن مجید نہیں پڑھا ؟ سائل نے کہا کیوں نہیں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوں۔ اُم المومنین ؓ نے فرمایا جو کچھ قرآن مجید میں موجود ہے وہی آپ ﷺ کا اخلاق تھا۔ (رواہ احمد : مسند سیدہ عائشہ ؓ جہاں تک آپ ﷺ پر وحی نازل ہونے کی کیفیت ہے اس کی کئی صورتیں تھیں۔
جن میں سے ایک صورت وحی جلی کی ہے یہ وحی کی سب سے معروف صورت ہے۔ قرآن کریم سارے کا سارا وحی جلی کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ساری وحی قرآن کریم میں محصور ہے بلکہ کئی احادیث کے الفاظ بھی وحی کے ذریعے آپ پر نازل کیے گئے۔ وحی جلی کی صورت میں نبی ﷺ کا تعلق عالم دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا تھا۔
” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹی کی آواز ہوتی ہے اور یہ وحی مجھ پر بہت گراں گزرتی ہے جب فرشتے کا کہا ہوا مجھے یاد ہوجاتا ہے تو یہ حالت ختم ہوجاتی ہے اور کبھی فرشتہ انسان کی صورت میں میرے پاس آتا ہے میرے سامنے پڑھتا ہے میں اس کا پڑھا ہوا یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ سخت سردی کے دن میں آپ پر وحی نازل ہوتی جب ختم ہوجاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ “
[ رواہ البخاری : باب کیف بدء الوحی ]
مسائل
1۔ قرآن مجید رب العالمین کی طرف سے جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے سرور دو عالم ﷺ کے قلب اطہر پر نازل کیا گیا ہے۔
2۔ قرآن مجید فصیح عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔
3۔ اہل کتاب کے منصف مزاج علماء ہر دور میں قرآن مجید کی تصدیق کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کے نام اور القاب :
1۔ قرآن مجید کو روح الامین (جبریل) نے آپ ﷺ پر اتارا ہے۔ (الشعراء : 193)
2۔ روح الامین ( جبرائیل (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں۔ (التکویر : 21)
3۔ شب قدر کی رات فرشتے اور جبریل اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں۔ (القدر : 4)
4۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح القدس ( جبرائیل (علیہ السلام) سے مدد فرمائی۔ (البقرۃ : 87)
Ayahs 26:193–198فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید من جانب اللہ ہونے کے مزید دلائل۔
اہل مکہ ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر بہکی ہوئی بات کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر اعتراض کرتے محمد ﷺ کسی عربی سے سیکھ کر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سنائے دیتا ہے۔ (النحل : 103) دوسرے موقع پر خود مطالبہ کرتے یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔
یہ مطالبہ بذات خود ان کی حماقت کی دلیل تھا کیونکہ قرآن مجید عجمی زبان میں ہوتا تو اس کے سمجھنے میں انھیں کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا بالخصوص نزول قرآن کے وقت چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی عرب اَن پڑھ تھے۔ یہاں ان کی بات کا یہ جواب دیا گیا اگر کسی عجمی پر قرآن نازل کیا جاتا اور وہ انھیں قرآن پڑھ کر سناتا تو پھر بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔
دراصل قرآن مجید کا انکار کرنے والے مجرم ہیں یہ قرآن مجید پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک اذّیت ناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ قرآن مجید کے لیے ” سَلَکْنٰہُ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا دوسرا مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ قرآن مجید اپنی تاثیر کے اعتبار سے مجرموں کے دل میں گھر کرچکا تھا۔ جس وجہ سے وہ علیحدگی میں اس کی تصدیق کرتے لیکن لوگوں کے سامنے اس کا انکار کرتے تھے۔ یعنی کلام پاک کی صداقت تمہارے رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے۔ تمہارے دل مان چکے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض اہل علم نے اس کا یہ بھی مفہوم لیا ہے کہ قرآن کی مخالفت کفار کے دل میں رچ بس گئی ہے۔
(وَحَدّثَنِی مُحَمّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ الزّہْرِیّ أَنّہُ حُدّثَ أَنّ أَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ ، وَأَبَا جَہْلِ بْنَ ہِشَامٍ ، وَالْأَخْنَسَ بْنَ شَرِیقِ بْنِ عَمْرِو بْنِ وَہْبٍ الثّقَفِیّ ، حَلِیفَ بَنِی زُہْرَۃَ خَرَجُوا لَیْلَۃً لِیَسْتَمِعُوا مِنْ رَسُول اللّہِ صَلّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ وَہُوَ یُصَلّی مِنْ اللّیْلِ فِی بَیْتِہِ فَأَخَذَ کُلّ رَجُلٍ مِنْہُمْ مَجْلِسًا یَسْتَمِعُ فیہِ وَکُلّ لَا یَعْلَمُ بِمَکَانِ صَاحِبِہِ فَبَاتُوا یَسْتَمِعُونَ لَہُ حَتّی إذَا طَلَعَ الْفَجْرُ تَفَرّقُوافَجَمَعَہُمْ الطّرِیقُ فَتَلَاوَمُوا، وَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضِ لَا تَعُودُوا، فَلَوْ رَآکُمْ بَعْضُ سُفَہَاءِکُمْ لَأَوْقَعْتُمْ فِی نَفْسِہِ شَیْءًا، ثُمّ انْصَرَفُوا حَتّی إذَا کَانَتْ اللّیْلَۃُ الثّانِیَۃُ عَادَ کُلّ رَجُلٍ مِنْہُمْ إلَی مَجْلِسِہِ فَبَاتُوا یَسْتَمِعُونَ لَہُ حَتّی إذَا طَلَعَ الْفَجْرُ تَفَرّقُوا، فَجَمَعَہُمْ الطّرِیقُ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضِ مِثْلَ مَا قَالُوا أَوّلَ مَرّۃٍ ثُمّ انْصَرَفُوا حَتّی إذَا کَانَتْ اللّیْلَۃُ الثّالِثَۃُ أَخَذَ کُلّ رَجُلٍ مِنْہُمْ مَجْلِسَہُ فَبَاتُوا یَسْتَمِعُونَ لَہُ حَتّی إذَا طَلَعَ الْفَجْرُ تَفَرّقُوا، فَجَمَعَہُمْ الطّرِیقُ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضِ لَا نَبْرَحُ حَتّی نَتَعَاہَدَ أَلَا نَعُودَ فَتَعَاہَدُوا عَلَی ذَلِکَ ثُمّ تَفَرّقُوا) [ سیرت ابن ہشام : قِصّۃُ اسْتِمَاعِ قُرَیْشٍ إلَی قِرَاءَ ۃِ النّبِیّ ﷺ ]
” محمد بن مسلم شہاب زہری بیان کرتے ہیں ان تک یہ بات پہنچی ہے کہ ابو سفیان بن حرب، ابو جہل بن ہشام، اخنس بن شریق بن عمر بن وہب الثقفی، حلیف بن زہرہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کا قرآن سننے کے لیے نکلے اور آپ رات کو اپنے گھر میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک چھپ کر رسول اللہ ﷺ کا قرآن سننے لگا ان میں کوئی دوسرے کو نہیں جانتا تھا۔ وہ رات بھر قرآن سنتے رہے جب وہ واپس ہوئے تو ان کی آپس میں ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور عہد کیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر تمہارے بیوقوفوں نے تمہیں دیکھ لیا تو ان کے دل میں خرابی واقع ہوگی۔ پھر وہ وہاں سے چل دیے جب دوسری رات ہوئی تو کل کی طرح ہر بندہ اپنی اپنی جگہ پر قرآن سننے کے لیے موجود تھا جب فجر طلوع ہوئی تو جاتے ہوئے راستے میں ان کی پھر ملاقات ہوگئی تو انہوں نے آج بھی ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہوئے وہی باتیں کہیں جو پہلے دن کہہ چکے تھے پھر وہاں سے چل دیے جب تیسری رات ہوئی تو ان میں سے ہر ایک قرآن سننے کے لیے پھر اسی جگہ آپہنچا جب فجر طلوع ہوئی تو سب نے اپنے گھر کی راہ لی راستے میں ان کی پھر ملاقات ہوگئی تو بعض نے بعض کو کہا ہم قرآن سننے سے باز نہیں آسکتے یہاں تک کہ ہم آپس میں معاہدہ کرلیں کہ ہم دوبارہ کبھی قرآن نہیں سنیں گے۔ تو انہوں نے آپس میں معاہدہ کیا اور گھر کی راہ لی۔
مسائل
1۔ ہٹ دھرم آدمی کسی صورت حقائق کا اقرار نہیں کرتا۔
2۔ قرآن مجید کا انکار کرنے والے لوگ اس پر بیہودہ قسم کے اعتراض اٹھایا کرتے ہیں۔
3۔ قرآن مجید کے منکر اذیت ناک عذاب دیکھے بغیر قرآن کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayahs 26:199–202فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قرآن جس عذاب کا انتظار یا مطالبہ کرتے ہیں وہ عنقریب ان پر نازل ہوگا۔
منکرین قرآن ایمان لانے کی بجائے نبی کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے رہتے ہو وہ اب تک ہم پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟
اس کے انھیں کئی جواب دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک جواب یہ بھی ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ اچانک اور ایسے وقت تم پر نازل ہوگا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس وقت تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ تم پکار پکار کر کہہ رہے ہو گے کہ کاش ہمیں مہلت دی گئی ہوتی۔ کیا اس عذاب کے بارے میں تم جلدی کا مظاہرہ کرتے ہو ؟
اے نبی ! غور فرمائیں کہ اگر ہم انھیں مدت مدید مہلت دیئے جائیں اور پھر اپنے وعدے کے مطابق ان پر عذاب لے آئیں تو جس دنیا کے مال و اسباب اور ترقی پر یہ ناز کرتے ہیں وہ انھیں عذاب سے بچا نہیں سکتے۔ ہم نے کسی بستی کو اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کیا جب تک ان کے پاس ڈرانے والے نہیں بھیجے۔ ڈرانے والوں سے مراد انبیاء کرام (علیہ السلام) ہیں یا پھر ان کے جانشین۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی ہدایات اور اس میں بیان ہونے والے اقوام کے واقعات۔ لوگوں کے لیے نصیحت ہیں لیکن پھر بھی لوگ باطل عقیدہ اور برے کاموں سے باز نہیں آتے جس کی وجہ سے انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ کا عذاب اچانک نازل ہوتا ہے۔
2۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو لوگ مہلت کی تمنا کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلہ میں دنیا کی ترقی اور مال و اسباب کام نہیں دیتے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید نصیحت کا سرچشمہ ہے :
1۔ قرآن مجید متقین کے لیے نصیحت ہے۔ ( النور : 34)
2۔ قرآن مومنین کے لیے رحمت اور نصیحت ہے۔ ( العنکبوت : 51)
3۔ قرآن پاک نصیحت کا منبع ہے۔ ( آل عمران : 58)
4۔ قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔ ( یوسف : 104)
5۔ قرآن مجید نصیحت آمیز کتاب ہے۔ ( ص : 1)
6۔ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات سچے ہیں ان میں اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے۔ (ھود : 120)
7۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
8۔ ہم نے قرآن میں طرح طرح کے دلائل دیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : 41)
Ayahs 26:203–210فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ہرزہ سرائی اور اس کا جواب۔
کفار ہرزہ سرائی کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ پر یہ الزام بھی لگاتے کہ اس پر فرشتہ نازل ہونے کی بجائے کوئی شیطان مسلط ہوچکا ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے خیالات ڈالتا ہے۔ جسے یہ خاص انداز میں ہمارے سامنے بیان کرتا ہے۔ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ نہ آپ پر شیاطین کوئی بات نازل کرتے ہیں اور نہ ہی شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ وحی کا سلسلہ اس قدر مضبوط اور محفوظ ہے کہ شیطان اس سے کوسوں میل دور رکھے جاتے ہیں۔
شیطان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرواتا ہے۔ جبکہ نبی کریم ﷺ کی دعوت کا لب لباب اور مرکزی پیغام ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو کسی انداز میں بھی شریک نہ بنایا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک ایسا جرم ہے اگر نبی بھی ” اللہ “ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے یا کسی کو اس کی عبادت میں شریک کرے تو وہ بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔
وحی کی حفاظت کا انتظام اور جنّات کا اعتراف :
کیونکہ شیطان جنسی اعتبار سے جنات میں سے ہیں۔ اس لیے سورة جن میں انہی کے زبان سے اس بات کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
” یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر داروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا۔ ہم سننے کے لیے آسمان کے کچھ ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سننے کو کان لگائے تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے۔ “ (جن : 8۔ 9)
شرک کی سنگینی :
(ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) [ الانعام : 88]
” یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو جو عمل وہ کیا کرتے تھے ان کے ضائع ہوجاتے۔ “
(ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ہُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن) [ الزمر : 65]
” وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں سو خالصتاً اسی کو پکارو تمام تعریفیں جہانوں کے رب کے لیے ہیں۔ “
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو پکارنے کا گناہ اور سزا :
1۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : 65)
2۔ شرک کرنے والا راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ (النساء : 116)
3۔ اللہ مشرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا۔ (النساء : 48)
4۔ اٹھارہ انبیاء کے ذکر کے بعد ارشاد ہوا۔ اگر یہ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال ضائع کر دئیے جاتے۔ ( الانعام : 84 تا 88)
5 اے نبی ﷺ اگر آپ بھی شرک کریں گے تو آپ کے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے۔ ( الزمر : 65)
6۔ اگر آپ ﷺ شرک کریں تو آپ کو بھی عذاب ہوگا۔ ( الشعراء : 213)
7۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : 31)
8۔ شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72)
9۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (ابراہیم : 30)
10۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذّمہ ہے۔ (التوبۃ : 3)
11۔ شرک کرنے والا بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ( النساء : 116)
Ayahs 26:211–214فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ وہ اپنے عزیز و اقرباء کو توحید کی دعوت دیں، اور شرک سے ڈرائیں۔
نبوت کا پہلا کام اور پیغام لوگوں کو اللہ کی خالص عبادت کرنے کی دعوت دینا ہے۔ دعوت کا فطری اور صحیح طریقہ ہے کہ داعی عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے عزیز و اقرباء کو عقیدہ توحید کی دعوت دے اور جو اس دعوت کو قبول کرے ان کے ساتھ شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ اس حکم کی اتباع میں آپ ﷺ نے اپنے عزیز و اقرباء کو بار بار اس بات کی دعوت دی اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان سے آپ خصوصی طور پر شفقت و مہربانی فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی شفقت و مہربانی کی قرآن مجید نے اس طرح ترجمانی فرمائی ہے۔
” یقیناً تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آیا ہے جسے تمہاری تکلیف بہت شاق گزرتی ہے، تمہاری بھلائی کے بارے میں بہت چاہت رکھنے والا ہے، ایمان والوں پر بہت شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ “ (التوبہ : 128)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کھڑے ہو کر فرمانے لگے۔ اے قریش کے لوگوتم اپنی جانیں بچا لو۔ میں اللہ کے سامنے کسی کے کام نہ آسکوں گا۔ اے بنو عبدمناف میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ میرے مال سے جو چاہو مانگ لو لیکن اللہ کے سامنے میں تمہارے کسی کام نہ آؤں گا۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب ]
تفسیر بالقرآن
دعوت کا فطری انداز :
1۔ اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ (التحریم : 6)
2۔ اے پیغمبر اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔ (الشعراء : 214) 3۔ نرم انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔ (طٰہٰ : 44)
4۔ وعظ میں مؤثر انداز اختیار کرنے کا حکم (النساء : 63) 5۔ جھگڑے کی بجائے احسن انداز اختیار کرنے کا حکم۔ (النحل : 125)
6۔ اگر آپ نرم خو نہ ہوتے تو یہ لوگ آپ سے دور بھاگ جاتے لہٰذا معاف اور درگزر کرتے رہیں۔ ( آل عمران : 159)
Ayahs 26:215–216فہم القرآن
ربط کلام : ا لدّاعی کا کام بار بار دعوت دینا ہے اگر لوگ نہیں مانتے تو اسے اپنے رب کے ساتھ نماز میں رابطہ رکھنا اور اسی پر توکل کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہر بات پر غالب اور مہربان ہے۔
نبی اکرم ﷺ رات کی تاریکیوں میں رو، رو کر دعائیں کرتے کہ بار الٰہا ! ان لوگوں کو ہدایت سے سرفراز فرما دے۔ لوگ ہدایت حاصل کرنے کی بجائے گمراہی میں آگے بڑھے جا رہے تھے، جس پر آپ کو انتہائی غم ہوتا، اس صورت حال کے پیش نظر آپ کو دو طرح سے تسلی دی گئی۔ ان لوگوں سے کھلے الفاظ میں کہہ دیں کہ میں تمہارے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوں اور نہ میں تم سے ڈرتا ہوں۔ کیونکہ میرا بھروسہ ” اللہ “ پر ہے وہی مجھے کافی ہے۔ چاہے گا تو حق کو غلبہ عطا فرمائے گا وہ نہایت ہی مہربان ہے اور وہ مجھے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔
الدّاعی کا کام لوگوں کو سمجھانا ہے اگر اس کے مخاطب سمجھنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اسے دل گرفتہ ہونے اور لوگوں کے ساتھ الجھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر کسی نے اپنے عمل کا جواب دینا ہے۔ یہی بات سرور دو عالم ﷺ کو سمجھائی گئی کہ ایمان نہ لانے والوں کو یہ بتلائیں کہ میں تمہارے اعمال سے برئ الذمہ ہوں۔ مجھے حکم ہے میں اپنے رب پر بھروسہ کروں۔ جو ہر بات پر غالب اور نہایت مہربان ہے۔ اس کا یہ بھی فرمان ہے کہ جب میں کھڑا ہوں یا چلتا پھرتا یا اس کے حضور سجدہ کررہا ہوں۔ وہ مجھے ہر حال میں دیکھ رہا ہوتا ہے اور میری دعا کو سنتا اور اسے اچھی طرح جانتا ہے۔ اس سے پہلے آپ کو حکم دیا گیا ہے اللہ پر توکل کرتے ہوئے آپ ان لوگوں کے فکر و عمل سے برأت کا اعلان کریں پھر آپ کو اطمینان دلایا گیا کہ، آپ نماز میں کھڑے ہوں یا بازار میں چلتے پھرتے ہوں یا اپنے رب کے حضور سجدہ کررہے ہوں آپ کا رب آپ کو ہر حال میں جانتا اور آپ کی ہر بات کو سننے والا ہے۔ اسی بات کو گیا رھویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
” اے نبی تم جس حال میں بھی ہوتے ہو، اور قرآن سے جو بھی سناتے ہو اور ( لوگو) جو کام بھی تم کر رہے ہوتے ہو، ہم ہر وقت تمہارے سامنے موجود ہوتے ہیں جبکہ تم اس میں مشغول ہوتے ہو، زمین اور آسمان میں کوئی زرہ برابر چیز بھی ایسی نہیں جو آپ کے رب سے چھپی ہو۔ ذرہ سے بھی چھوٹی یا اس سے بڑی کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو لوح محفوظ میں درج نہ ہو۔ “ (یونس : 61)
” حضرت موسیٰ اور ہارون کو حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ دونوں نے عرض کی پروردگار ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا ہم پر ٹوٹ پڑے گا۔ فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن رہا ہوں اور سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ “ (طٰہٰ : 43 تا 46)
عبادات میں سب سے افضل عبادت فرض نماز ہے۔ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ جسے نفل نماز قرار دیا گیا ہے۔ نفل کا معنٰی ہوتا ہے ” زائد “ رسول محترم نے نوافل کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فرض نماز کی کمی، بیشی نفل نماز سے پوری کی جائے گی۔ بعض اہل علم کے نزدیک پہلے آپ ﷺ پر تہجد فرض تھی۔ بعد ازاں اسے نفل قرار دے دیا گیا۔ تہجد کا لفظ ” جہد “ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے۔ ” نیند کے بعد بیدار ہونا “ ظاہر ہے یہ کام ہمت اور کوشش کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ اہل علم ضروری سمجھتے ہیں کہ تہجد کچھ دیر سونے کے بعداٹھ کر پڑھنی چاہیے۔ ان کے بقول سونے سے پہلے پڑھے جانے والے عام نوافل ہوں گے یہ تہجد شمار نہیں ہوتے۔ لیکن احادیث سے ثابت ہے کہ آدمی اپنی صحت اور فرصت کے مطابق رات کے کسی پہر میں تہجد پڑھ سکتا ہے۔ البتہ تہجد کے لیے افضل ترین وقت آدھی رات کے بعد ہے۔
(تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) [ السجدۃ : 16]
” وہ اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتا ہے : کون ہے مجھ سے طلب کرئے میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اسکوبخش دوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب التحریض علی قیام الیل ]
مسائل
1۔ کوئی شخص دوسرے کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے۔ 2۔ رسول کریم ﷺ ہر وقت اپنے رب کی نگرانی میں ہوا کرتے تھے۔
3۔ آدمی کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے وہ ہر بات پر غالب اور مہربان ہے۔
4۔ انسان جس حالت میں ہو، اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا، جانتا اور اس کی ہر بات کو سنتا ہے۔