Ayahs 26:142–151فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی اپنی قوم کو مزید نصیحتیں اور ان کی قوم کا ردعمل۔
حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بار بار سمجھانے کی کوشش کی کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور اخلاقی حدود سے آگے نہ بڑھو تم اصلاح کرنے کی بجائے زمین پر فساد کرنے والے ہو۔ قوم نے اس کا مثبت جواب دینے کی بجائے کہا کہ اے صالح ! تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو جس طرح سحر زدہ لوگ باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح کے ہم انسان ہیں تو بھی ہمارے جیسا انسان ہے اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو کوئی معجزہ ہمارے سامنے پیش کرو۔ یاد رہے کہ ہمیشہ سے نافرمان لوگوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی کسی پیغمبر اور مصلح نے انھیں سمجھایا تو انھوں نے مصلح پر یہی الزام لگایا اور اعتراض کیا کہ تجھے تو جادو ہوگیا ہے اس لیے پاگلوں جیسی بات کرتا ہے۔ اس کے ساتھ منکرین کا یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ نبی مافوق الفطرت ہستی کو ہونا چاہیے یہ تو ہماری طرح انسان ہیں۔ یہی قوم ثمود نے حضرت صالح پر الزام لگایا اور ان سے معجزہ کا مطالبہ کیا۔
مسائل
1۔ قوم ثمود اخلاقی حدیں پھلانگ چکی تھی۔ 2۔ قوم ثمود کی پالیسیاں اور طرز عمل زمین میں فساد کا موجب تھا۔
3۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بشر کہہ کر مسترد کردیا 4۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو سحر زدہ قرار دیا۔
5۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ 6۔ قوم ثمود ہر برے لیڈر کے پیچھے چلا کرتی تھی
Ayahs 26:152–155فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے معجزہ طلب کرنے پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی کا معجزہ عطا فرمایا۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس کے پیچھے اس کا دودھ پیتا بچہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تائید میں اور قوم کے مطالبہ کے عین مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اونٹنی اور اس کا بچہ کو نمودار کیا۔ جب اونٹنی اپنے بچہ کے ساتھ قوم کے سامنے آچکی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے ایک دن یہ پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور پانی پئیں گے۔ خبردار ! اسے تکلیف دینے کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا۔ اگر تم نے اس کو تکلیف پہنچائی تو اللہ کا عذاب تمہیں دبوچ لے گا۔ اس انتباہ کے باوجود انھوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کو عذاب نے آپکڑا پھر وہ ذلیل و خوار ہوئے۔
اس واقعہ میں عبرت کا سبق یہ ہے کہ جو قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور پھر اس کا انکار کرئے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہلاک کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی قوم کی دنیوی ترقی اور اس کے بڑے بڑے مضبوط قلعے اور محلات کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ قوم ثمود کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لیے بار بار مہلت دی کیونکہ اللہ تعالیٰ مہربانی فرمانے والا ہے۔ تاکہ لوگ اس کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں۔ مسائل
1۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا اونٹنی ان کے سامنے پہاڑ سے نمودار ہوئی۔
2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئیے گی اور دوسرے دن تم لوگ پانی لیا کرو گے۔
3۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ تکلیف دینے کی غرض سے اونٹنی کو ہاتھ نہ لگان اور نہ تباہ ہوجاؤ گے۔
تفسیر بالقرآن
قوم ثمود کی تباہی کا ہولناک منظر :
1۔ صالح کی قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کو فرمایا تین دن فائدہ اٹھا لو، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا۔ (ھود : 64، 65)
2۔ انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور وہ نادم ہونے والوں میں سے ہوگئے۔ (الشعراء : 157)
3۔ حضرت صالح اور حضرت شعیب کو جادو زدہ کہا گیا۔ (الشعراء : 153۔ 185)
4۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77)
5۔ قوم ثمود کے بدبختوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ الشمس : 14)
6۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
7۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے ان کے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : 38)
8۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78)
9۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
10۔ قوم ثمود کی راہنمائی کی گئی لیکن انہوں نے گمراہی کو ترجیح دی تو انہیں ہولناک آواز نے آلیا۔ ( حٰم السجدۃ : 17)
Ayahs 26:156–160فہم القرآن
ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی تشریف آوری اور ان کا اپنی قوم کو سمجھنا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھی ان کی قوم کا بھائی قرار دیا گیا ہے کیونکہ نسل انسانی کے ناطے سے تمام انسان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ انھوں نے انہی الفاظ اور انداز سے اپنی دعوت کا آغاز کیا جس طرح ان کے پیش رو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انھوں نے بار بار قوم کو اپنے رب سے ڈرایا اور فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف رسول منتخب کیا گیا ہوں۔ میں رب کے پیغام تم تک پوری دیانت و امانت کے ساتھ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری تابعداری کرو۔ کفر و شرک اور بدکاری کو چھوڑ دو ، یاد رکھو ! میں فریضہ نبوت کی انجام دہی اور تمہاری خدمت کرنے پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا۔
حضرت لوط (علیہ السلام) :
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔
حضرت لوط نے عقیدہ توحید کی دعوت دینے کے ساتھ اس برائی کو ختم کرنے پر خصوصی توجہ فرمائی۔ آپ نے اپنی قوم کو بار بار فرمایا کہ اے میری قوم ! تم اپنی بیویوں سے صحبت کرنے کی بجائے لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں کو ازدواجی تعلقات کے لیے پیدا فرمایا ہے لیکن تم ان کی بجائے لونڈے بازی اور ہم جنسی کا ارتکاب کرتے ہو تم اخلاقی حدوں کو توڑ رہے ہو۔ تمہیں اللہ سے ڈر کر اس سے باز آنا چاہیے۔ قوم نے کہا کہ اے لوط ! اگر تو ہمیں اس کام سے روکنے سے باز نہ آیا تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال باہر کریں گے۔
مسائل
1۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حسب و نسب کے لحاظ سے اپنی قوم کے بھائی تھے۔
2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور فرمایا کہ کفر و شرک اور بدکاری چھوڑ کر میری تابعداری کرو۔
3۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی طرح بلامعاوضہ نبوت کا کام کرتے تھے۔
4۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم لونڈے بازی کا غیر فطری عمل کرتے تھے۔ 5۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے بار بار اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرایا۔
6۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نبوت کے کام اور لوگوں کی خدمت کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے۔
Ayahs 26:161–167فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوشہ۔
قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : 29)
قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب فرشتے (لڑکوں) کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے۔ تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے لوط نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ (ہود : 78)
بے حیا کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کیا سروکار، تو جانتا ہے کہ ہم کس ارادہ سے آئے ہیں۔ ان حالات میں لوط کہنے لگے آج کا دن میرے لیے بڑا بھاری ہے۔ کاش تمہارے مقابلے میں میرا کوئی حمایتی ہوتا یا کوئی پناہ گاہ جہاں میں تم سے بچ نکلتا۔ (ہود : 79، 80)
ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلّی دیتے ہیں :
عذاب کے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ اے اللہ کے نبی دل چھوٹا نہ کرو۔ یہ بےحیا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس آپ اہل ایمان کو لے کر رات کے پچھلے پہر ہجرت کر جائیں۔ ہاں یاد رہے کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جاسکتے کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہوں گے اور یہ عذاب ٹھیک صبح کے وقت نازل ہوگا۔ لوط (علیہ السلام) گھبراہٹ کے عالم میں پوچھتے ہیں کہ صبح کب ہوگی ؟ ملائکہ نے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صبح تو ہونے ہی والی ہے چناچہ صبح کے وقت رب ذوالجلال کا حکم صادر ہوا تو اس دھرتی کو اٹھا کر نیچے پٹخ دیا گیا پھر ان پر مسلسل نامزد پتھروں کی بارش کی گئی۔ (ھود : 69 تا 83)
سورۃ القمر : آیت، 37 تا 38 میں فرمایا کہ ظالموں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں پر زیادتی کرنا چاہی تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مسخ کردیا۔ سورة الصافات : آیت، 137 تا 138 میں ارشاد ہوا یقیناً لوط (علیہ السلام) مرسلین میں سے تھے جب ہم نے انھیں اور اس کے اہل کو نجات دی ہاں ایک بڑھیا کو پیچھے رہنے دیا پھر ہم نے باقی کو ہلاک کردیا۔ اے اہل مکہ تم صبح شام ان بستیوں سے گزرتے ہو لیکن اس کے باوجود عقل نہیں کرتے۔ (الصّٰفٰت : 135 تا 138)
(فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَ مَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ) [ ھود : 82، 83]
” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے (تہس نہس) کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “
دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اسکی سطح کا کل رقبہ 351 مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اور اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل بن چکی ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب لوط (علیہ السلام) سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ “
1۔ اس کے پانی کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
2۔ اسکے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنیوالی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں۔ اہل عرب اسکو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔
مسائل
1۔ قوم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو شہر سے نکال دینے کی دھمکی دی۔
2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے رب سے اپنے اور گھر والوں کے لیے نجات کی دعا کی۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی بیوی کو ان کی قوم کے ساتھ عذاب میں مبتلا کیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش فرمائی۔
تفسیر بالقرآن
لوط (علیہ السلام) کی قوم کا بد ترین کردار اور انجام :
1۔ ہم جنسی کی ابتدا قوم لوط نے کی۔ (الاعراف : 80)
2۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھا۔ (الاعراف : 81)
3۔ ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے ہی بدکاریاں کیا کرتے تھے۔ (ھود : 78)
4۔ لوط نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : 80)
5۔ ہم نے اس بستی کو الٹ کر اس پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : 74)
6۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82)
7۔ ہم جنسی کی سزا۔ (الاعراف : 84)
Ayahs 26:168–176فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر، قوم شعیب کفرو شرک میں ملّوث ہونے کے ساتھ لین دین میں بدترین خیانت کرتی تھی۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) :
حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مؤرخین اور سیرت نگاروں نے خطیب الانبیاء کے نام سے یاد کیا ہے۔ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ” مدیان “ کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں جس بنا پر ان کی قوم کو قوم مدین کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا شہر ان کے قومی نام مدین سے ہی معروف تھا۔ اس لیے قرآن مجید نے انھیں اہل مدین کے نام سے پکارا ہے۔ حضرت شعیب کو ان کی قوم میں ہی رسول مبعوث کیا گیا تاکہ آپ اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد فرمائیں۔ اہل مدین کو قرآن میں اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ (الشعراء : 176)
مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ اور ینبوع ہوتی ہوئی شام تک جاتی تھی، اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی اس کے عین چورا ہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بنا پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا۔ اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت اور کھنڈرات کافی حد تک برقرار تھے۔ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن ان کے آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرتے تھے۔
” اللہ “ ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کس کس انداز میں کتنا عرصہ سمجھایا ہوگا۔ لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی ہی چلی گئی۔ حتی کہ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقۂ عبادت کو چھوڑ دیں اور اپنے کاروبار کو اپنے طریقہ کے مطابق نہ کریں ؟ ھود، آیت : 87۔ تم پر اے شعیب (علیہ السلام) کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 185)
اے شعیب ! تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے آپ میں کمزور دیکھتے ہیں، اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے پتھر مار مار کر رجم کردیتے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکتا۔ (ھود، آیت : 91)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ارشاد :
میری قوم کیا تم اللہ تعالیٰ سے میری برادری کو بڑا سمجھتے ہو۔ تم اللہ کی نافرمانی سے باز نہیں آتے۔ تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو ۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ (ھود : 90 تا 95)
قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے :
اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ (الشعراء : 185 تا 187)
(قَال النَّبِیُّ ﷺ اکْتَالُوا حَتَّی تَسْتَوْفُوا) [ رواہ البخاری : باب الکیل علی البائع والمعطی ]
” نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب ناپ تول کرو تو اسے پورا کرو۔ “
ماپ تول میں کمی کرنے کی سزا :
(مَا طَفِفَ قَوْمُ الْمِیْزَانَ إلَّا أخَذَہُمُ اللّٰہُ بالسِّنِیْنَ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 107]
” جو بھی قوم تولنے میں کمی کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی مسلط فرما دیتا ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِیْ النَّارِ ) [ اخرجہ ابن حبان : ھذاحدیث حسن ]
” عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں، مکر و فریب کرنے اور دھوکہ دینے والا آگ میں جائے گا۔ “
مسائل
1۔ قوم شعیب ناپ تول میں کمی بیشی کیا کرتے تھے۔ 2۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو ماپ تول پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔
3۔ انسان کو ہر حال میں خالق کائنات سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 4۔ پہلوں اور بعد والوں کو اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ناپ تول میں کمی نہیں کرنی چاہیے :
1۔ ماپ تول کو پورا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دو ۔ (الاعراف : 85)
2۔ ماپ تول کو انصاف سے پورا کرو۔ (الانعام : 52)
3۔ ماپ، تول پورا رکھنے کا حکم۔ (الاسراء : 35)
4۔ ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (ھود : 84)
5۔ ماپ کو پورا کرو اور کمی کرنے والے نہ بنو۔ (الشعراء : 181)
6۔ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ ( المطففین : 1)