Ayah 27:2فہم القرآن
ربط سورة : الشعراء کا اختتام کفار کے الزامات کے جواب پر ہوا ہے اور سورة النمل کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے کیا گیا ہے۔ تاکہ الزام لگانے والوں کو معلوم ہو کہ اس کتاب کو نبی کریم ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔
یہ قرآن مجید کی آیات ہیں جو اپنے الفاظ، انداز اور مدعا کے اعتبار سے واضح ہیں۔ اس کتاب مبین میں نہ کوئی ابہام ہے اور نہ اس کے مضامین اور مسائل میں کوئی الجھاؤ ہے۔ یہ حق اور باطل کے درمیان حدِّ فاصل قائم کرتی ہے۔ بشرطیکہ کوئی انسان ایمان اور ایقان کے ساتھ اس کی تلاوت کرے۔ یہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ جو لوگ اس کی رہنمائی پر یقین اور عمل کریں گے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ اس پر ایمان لانے والوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
خوشخبری کا پیغام :
(عن عمر ؓ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِینَ )
[ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین ]
” حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلا شبہ ” اللہ “ اس کتاب کے ساتھ اقوام کو بلند کرے گا اور دوسروں کو پست کردے گا۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید کی آیات اپنا مدعا بیان کرنے میں بالکل واضح ہیں۔ 2۔ قرآن مجید پر ایمان لانے والوں کے لیے کامیابی کی نوید ہے۔
Ayahs 27:3–5فہم القرآن
ربط کلام : یقین اور ایمان سے محروم لوگوں کی دنیا میں سزا اور آخرت میں انتہا درجہ کا نقصان۔
جو لوگ ایمان وایقان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے آخری درجہ میں پہنچجاتا ہے تو پھر وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے تہذیب و تمدن، معاشرتی روایات، فیشن اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کا دل پریشانیوں کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ دل کے سکون کے لیے کبھی نشہ کرتا ہے اور کبھی مزید عیاشی کا سامان ڈھونڈتا ہے۔ لیکن دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہونے کی بجائے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے لیے دنیا میں بےچینی اور بےسکونی کی سزا ہے اور آخرت میں انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ان کے لیے ایسا نقصان ہوگا جس کا وہ دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کتاب مبین میں شک کرنے والے، نماز کے تارک، زکوٰۃ کے منکر اور آخرت پر یقین نہ رکھنے والے لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ ان کے لیے خوبصورت بنا دیتا ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں کئی مرتبہ یوں بیان کی گئی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کے اعمال شیطان خوبصورت بنا دیتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر چل کر جن رسومات، تہذیب و تمدّن اور اعمال کو یہ لوگ اپنے لیے مفید اور باعث عزت سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ یہ دنیا میں پریشان رہیں گے اور آخرت میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
(وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُنِ طْمَاَنَّ بِہٖ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْھِہٖ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ) [ الحج : 11]
” اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوجاتا ہے اگر مصیبت آگئی تو الٹا پھرجاتا ہے اس کی دنیا بھی خراب ہوگئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے کھلا نقصان۔ “
(اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا وَ رَضُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِھَا وَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ) [ یونس : 7]
” بیشک جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہوئے اور اس پر مطمئن ہوگئے وہ ہماری آیات سے غافل ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان اور قیامت کے منکروں کے اعمال خوبصورت بناد یے جاتے ہیں۔
2۔ جو لوگ برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں ان کے لیے دنیا میں پریشانی اور آخرت میں بدترین عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
دنیا اور آخرت میں نقصان پانے والے لوگ :
1۔ اے پیغمبر کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں جو اپنے اعمال میں نقصان پا نے والے ہیں۔ ( الکہف : 103)
2۔ اسلام کا انکار کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (البقرۃ : 121)
3۔ اسلام کے بغیر دین تلاش کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (آل عمران : 85)
4۔ شیطان کی تابعداری کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (المجادلۃ : 19)
5۔ مشرک نقصان پائیں گے۔ (الزمر : 65) 6۔ کافر نقصان پائیں گے۔ (النحل : 109)
7۔ زمین میں فساد کرنے والے لوگ خسارہ اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 27)
8۔ اللہ کفار کے اعمال دنیا میں تباہ کرے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (التوبۃ : 69)
9۔ جس نے اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنایا اس نے بہت نقصان پایا۔ (النساء : 119)
10۔ ان لوگوں نے نقصان پایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی۔ (الانعام : 31)
11۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والے ہوں گے۔ (حضرت آدم (علیہ السلام) کی دعا) (الاعراف : 23)
Ayah 27:6فہم القرآن
ربط کلام : جس قرآن کو مومنوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری کے طور اتارا گیا ہے یہ من جانب اللہ ہے۔
سرورِدو عالم ﷺ کے ساتھ مکہ والوں کو ایک یہ بھی اختلاف تھا کہ یہ نبی قرآن مجید کو خود بنا لیتا ہے اس الزام کی اس سے پہلے مختلف الفاظ اور پیرائے میں تردید کی گئی ہے۔ یہاں اس بات کو یوں بیان فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک کی ہرگز گنجائش نہیں کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا حکیم اور ہر بات کو جاننے والا ہے۔ ان الفاظ میں کفار کی تردید کرنے کے ساتھ سرور دو عالم ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! اس بات کا کبھی خیال نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی مخالفت کرنے والوں کا علم نہیں۔ یقین رکھو کہ ہر بات اس کے علم میں ہے لیکن وہ اپنی حکمت کے ساتھ حق و باطل میں کشمکش پیدا کرتا ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوجائے۔
وحی کا معنٰی :
لغوی لحاظ سے وحی میں مندرجہ ذیل مفہوم پائے جاتے ہیں۔
1۔ الہام :
(وَأَوْحَیْنَا إِلَی أُمِّ مُوسَی أَنْ أَرْضِعِیہِ ) [ القصص : 7]
” ہم نے امّ موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تم موسیٰ کو دودھ پلاؤ۔ “
2۔ شہد کی مکھی کو الہام :
(وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ )[ النحل : 68]
” تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ تو پہاڑوں، درختوں اور چھپروں میں گھر بنا لے۔ “
3۔ وحی کا معنٰی اشارہ۔ جس طرح زکریا (علیہ السلام) کو اشارہ ہوا۔
(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓی اِلَیْھِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّا) [ مریم : 11]
” وہ محراب سے نکل کے قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ کیا کہ صبح وشام سبحان اللہ کہو۔ “
4۔ شیطان کا وسوسہ پیدا کرنا اور برائی کو انسان کے لیے مزّین کرنا۔
(وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ ) [ انعام : 121]
” بیشک شیطان اپنے دوستوں کو اشارہ کرتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ جھگڑیں۔ “
(وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) [ انعام : 112]
” ہم ہر نبی کے لیے انسانی اور جناتی شیاطین میں سے دشمن بناتے ہیں جو ایک دوسرے کو چکنی چپٹی دھوکا دینے والی بتاتیں بتاتے ہیں۔ “
5۔ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو کسی کام کے کرنے کا حکم۔
( اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلآءِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) [ الانفال : 12]
” جب تیرے رب نے فرشتوں کی طرف وحی کی بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ۔ “
6۔ انبیاء (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجنا۔
(وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِیْ إِلَیْہِمْ )[ الانبیاء : 7]
” ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سبھی مردوں میں سے تھے اور ہم نے ان کی طرف وحی کی۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید نبی اکرم ﷺ کے دل و دماغ کا اختراع نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔
2۔ ” اللہ “ کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔
3۔ ” اللہ “ لوگوں کے اعمال اور ان کے دلوں کی حالت جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے :
1۔ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ (الشعراء : 192)
2۔ ” اللہ “ ہی قرآن مجید نازل کرنے والا، حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حٰم السجدۃ : 42)
3۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
4۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 1)
Ayahs 27:7–9فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں قرآن مجید کے بارے میں شک کرنے اور سرور دو عالم ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر ہوا۔ اب جو انہیں دنیا اور آخرت میں ہوگا اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یہ بات سورة مزمل آیت 15 کے حوالہ سے بتلائی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بہت سی مماثلتیں قائم کی ہیں۔ اس لیے موقع محل کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مشکلات اور ان کی قوم کی مخالفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی یہاں اس طرح ابتداء کی ہے کہ اے نبی ! موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر پر غور فرمائیں۔ جب وہ دس سالہ غریب الوطنی کی زندگی گزار کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف آرہے تھے۔ راستے میں انھوں نے بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ یہاں ٹھہریں وہ آگ دکھائی دے رہی ہے میں وہاں سے راستے کی معلومات حاصل کرتا ہوں یا آپ کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں تاکہ آپ اسے تاپ سکیں۔ یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی طرف بڑھے۔ جب اس کے قریب پہنچے تو انھیں آواز دی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جسے تم آگ سمجھ رہے ہو وہ آگ نہیں بلکہ اللہ کا مبارک نور ہے۔ جس سے اس کے آس پاس کا ماحول روشن اور بابرکت ہوچکا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ تعالیٰ ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ وہی رب العالمین ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر یقین دلایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تجھے آواز دینے والا ” اللہ “ ہے جو ہر بات پر غالب اور حکمت والا ہے۔ مفسرین نے سبحان اللہ کا یہاں یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یہ بات ہرگز نہ سمجھنا کہ میں درخت میں حلول کرچکا ہوں یا میرا نور اتنا محدود ہے کہ جس نے صرف محدود حلقہ کو گھیررکھا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! نہ میری ذات محدود ہے اور نہ میرا جمال اور کوئی صفت محدود ہے۔ میں تو رب العالمین ہوں۔ میں اس بات پر اختیار رکھتا ہوں کہ اپنی ذات کا پرتو اور اپنے حسن و جمال کی ایک جھلک کو کسی درخت پر مرکوز کر دوں۔ درخت پر تجلی مرکوز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ہمہ تن گوش ہو کر اس پر توجہ دے سکیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کا رب اپنا ہر فیصلہ نافذ کرنے پر غالب ہے اور اس کا حکم حکمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ ان الفاظ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مستقبل کے حوالے سے کامیابی کی نوید دی گئی ہے۔
(عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ وَالصَّلٰوۃُ نُوْرٌ وَّالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ وَّالصَّبْرُ ضِےَآءٌ وَّالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَےْکَ کُلُّ النَّاسِ ےَغْدُوْا فَبَآءِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا۔ ) [ رواہ : مسلم : باب فضل الوضوء ]
” حضرت ابومالک اشعری ؓ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے ‘ ” الحمدللہ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سبحان اللہ “ اور ” الحمدللہ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔ نماز روشنی ہے ‘ صدقہ دلیل ہے ‘ صبر بھی نور ہے۔ قرآن مجید تیرے حق میں یا تیرے خلاف حُجّت ہے۔ صبح کو اٹھنے والا ہر شخص اپنے نفس کا سودا کیے ہوتا ہے چاہے تو آزادی حاصل کرے یا چاہے تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دے۔ “
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین سے واپسی پر راستے میں ایک درخت پر اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اس روشنی کو آگ سمجھتے رہے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی میں بتلا دیا کہ میں ہر کمی کمزوری سے پاک ہوں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رب العالمین، العزیز اور الحکیم کہہ کر اپنا تعارف کروایا۔
Ayahs 27:10–12فہم القرآن
ربط کلام : پہلی وحی کے موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزات سے سرفراز کیا گیا۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول منتخب فرمالیا ہے تو انھیں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا زمین پر پھینکئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نہی عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر اپنا پھن پھلاتے ہوئے لہرانے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اڈر کر اس سے دور بھاگے اور انھوں نے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ کی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈریے نہیں کیونکہ میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔ میری بارگاہ میں پیشی سے وہ لوگ ڈرا کرتے ہیں جنھوں نے ظلم کیا ہوتا ہے۔ ہاں جو برائی کو بھلائی سے بدلتے ہیں انہیں معاف کرنے والا اور مہربان ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پلٹ کر اژدھا کو پکڑا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔
اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالووہ بغیر کسی بیماری کے چمکتا ہوا نکلے گا۔ یہ نونشانیوں میں سے دو ہیں جن کے ساتھ تجھے فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔ ہاں یہ بات ذہن میں رکھنا کہ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں
آل فرعون انتہائی ظالم لوگ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے میں تمہارے پاس اپنے رب کی ربوبیت اور وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ اس لیے تمہیں اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف ایک اللہ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو واقعی اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدہا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدہا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس سے بچائیں۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو پکڑ اتو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ پھر اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو اس کے سامنے تمام روشنائیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان)
(قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدُ ، وَعِکْرَمَۃُ وَالشَّعْبِیُّ ، وَقَتَادَۃُ ہِیَ یَدُہٗ ، وَعَصَاہٗ ، وَالسَّنِیْنُ ، وَنَقْصُ الثَّمَرَاتِ ، وَالطَّوْفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالقُمَّلُ ، وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ ) [ ابن کثیر ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاھد، عکرمہ، شعبی اور قتادہ کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی جانے والی تو نشانیاں یہ تھیں۔ 1۔ عصا، 2۔ یدِبیضاء، 3۔ قحط سالی، 4۔ پھلوں کی کمی، 5۔ طوفان، 6۔ ٹڈی دل، 7۔ جوؤں کا عذاب، کھٹمل، 8۔ مینڈک 9۔ اور خون کا عذاب۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔
Ayahs 27:13–14فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے پاس جانا۔ فرعون اور اس کے حواریوں کا ردِّ عمل۔
سورۃ طٰہٰ میں یہ وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجا تو انھیں دو نصیحتیں فرمائیں۔ اے موسیٰ تو اور تیرا بھائی ان معجزات کے ساتھ جاؤ۔ لیکن دو باتوں کا خیال رکھنا میرے ذکر سے غافل نہ ہونا اور جب فرعون سے گفتگو کرو تو اس میں سختی کی بجائے نرمی ہونی چاہے۔ (طٰہٰ : 42 تا 44)
جب موسیٰ (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے وزیروں، مشیروں کے پاس پہنچے تو انھوں نے دلائل سننے اور عظیم معجزات دیکھنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر قرار دیا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے صاف انکار کردیا۔ حالانکہ ان کے دل مان چکے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ لیکن پھر بھی انھوں نے زیادتی اور تکبّر کا رویہ اختیار کیا جس کے نتیجہ میں انھیں سمندر میں ڈوبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ فساد کرنے والوں کا کس قدر بدترین انجام ہوا۔ ایمان کے لیے تین شرائط ہیں ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہو تو وہ ایمان قبول نہیں کیا جاتا۔ تصدیق بالقلب، اقرار باللّسان اور عمل بالجوارح۔
مسائل
1۔ عظیم معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر قرار دیا۔
2۔ فرعون ور اس کے ساتھی اپنے دلوں میں موسیٰ (علیہ السلام) کی سچائی تسلیم کرچکے تھے۔ تسلیم کرلینے کے باوجود انھوں نے تکبر اور ظلم کا راستہ اختیار کیا جس کی وجہ سے وہ ذلیل و خوار ہوئے۔
Ayahs 27:15–16فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور انھوں نے اپنی نبوت اور اقتدار کے بارے میں لوگوں کو ان الفاظ میں آگاہ فرمایا۔
قرآن مجید کے الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو یہ پہلا خطاب تھا۔ جس میں انھوں نے اپنی نبوت، اقتدار اور اختیار کے بارے میں عوام کو آگاہ فرماتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں سے لے کر چیونٹیوں تک کی زبان اور عادات کا علم عنایت کیا تھا۔ یہ علم ان کے والد گرامی حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حاصل نہ تھا۔ اس لیے انھوں نے اپنے خطاب میں اسے خاص طور پر ذکر کیا۔ جہاں تک ورا ثت کا تعلق ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مسند اقتدار اور ان کے علم اور روایات کے وارث ہوئے۔ لیکن نبوت ایسا منصب ہے جو وراثت اور محنت سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب۔ جسے چاہتا ہے اپنا رسول منتخب کرتا ہے۔ اب سلسلہ نبوت کو نبی اکرم ﷺ کی ذات پر ختم کردیا ہے۔ لہٰذا قیامت تک کوئی رسول اور نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔ جہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے باپ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا وارث بننا ہے وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ذاتی مال کے وارث نہ تھے کیونکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی وفات کے وقت کسی قسم کی جائیداد اور مال نہیں چھوڑتے۔ یہ انبیاء (علیہ السلام) کی خصوصیت ہے لیکن کسی امتّی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی پوری کی پوری جائیداد فی سبیل اللہ وقف کر دے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ کی مسند اقتدار پر بٹھائے گئے تھے۔ جس بنا پر فرمایا گیا کہ وہ اپنے باپ کے وارث بنے اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہت بری چیز نہیں بشرطیکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق کی جائے کیونکہ اسلام میں حکومت کرنے کا ہر وہ طریقہ جائز ہے جس میں نظام حکومت شریعت کے مطابق چلایا اور لوگوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے جس شخص کو دنیا میں حکمرانی اور دین مل جائے اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہوتا ہے۔
مسائل
1۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے باپ کے اقتدار اور علم کے وارث بنے۔
2۔ اقتدار اور نبوت اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے جس پر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
علم والوں کے فضائل :
1۔ جہاد کے ساتھ ساتھ دین کا فہم حاصل کرنا لازم ہے۔ (التوبۃ : 122)
2۔ صاحب علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ (الزمر : 9) 3۔ یقیناً اللہ سے علماء ہی ڈرتے ہیں۔ (فاطر : 28)
4۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : 11)
5۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ (النمل : 15)
6۔ جو مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں عالم لوگ ہی ان کو سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت : 43)
7۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو خود علم عطا فرمایا۔ ( البقرۃ : 31)
8۔ نبی اکرم ﷺ پر پہلی وحی علم کے بارے میں نازل ہوئی۔ ( العلق : 1 تا 5)
9۔ نبی ﷺ اپنی امت کو قرآن، حکمت اور آداب سکھلانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ ( الجمعۃ : 2)
Ayah 27:17فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نہ صرف پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا بلکہ انھیں جنوں، انسانوں اور پرندوں پر حکومت کرنے کا اختیار بھی عطا ہوا۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) پہلے پیغمبر اور حکمران ہیں جو بیک وقت جنوں، انسانوں اور پرندوں پر عملاً حکمران بنائے گئے۔ اس کے لیے ” حُشَرِ لِسُلَیْمٰنَ “ کے الفاظ لا کر ثابت کیا گیا کہ جن وانس اور پرندوں کو مسخر کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا ورنہ ایسا کرنا سلیمان (علیہ السلام) کے بس کی بات نہ تھی۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اقتدار کی معاونت اور عوام کی خدمت کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں کو الگ الگ منظم کیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو یہ معجزاتی اختیارات دیے گئے تھے۔ معجزہ کسی پیغمبر کے بس کی بات نہیں ہوتی یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوتی ہے۔ معجزہ کا معنٰی ہے لوگوں کو عاجز کردینے والا، یعنی عام انسان اور کوئی مخلوق ایسا کام نہیں کرسکتی جو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے کرواتا ہے۔ معجزہ انسان کی عقل کو دنگ کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کی عقل اس قدر ماؤف ہوجاتی ہے کہ وہ معجزات کا انکار کرتے ہیں یا پھر ان کی تاویلات کے درپے ہوتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جن معجزات کا یہاں ذکر ہے کچھ لوگوں نے ان کی ناقابل فہم تاویلات کی ہیں۔ جن کا ذکر کرنا بےسود ہے۔
مسائل
1۔ سلیمان (علیہ السلام) کو جنات، انسانوں اور پرندوں پر حکمرانی عطا کی گئی۔ 2۔ سلیمان (علیہ السلام) نے تینوں طبقات کو الگ الگ منظم کرر کھا تھا۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں جنات کا تذکرہ :
1۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ (الذاریات : 56) 2۔ جنات غیب نہیں جانتے۔ (سبا : 14)
3۔ جن اور انسان مل کر اس جیسا قرآن بنا لاؤ۔ (بنی اسرائیل : 88)
4۔ جن و انس مل کر قیامت تک ایک سورة بھی اس جیسی نہیں بناسکتے۔ (البقرۃ : 23۔ 24)
5۔ اے انسانوں اور جنوں اگر تم خدا کی خدائی سے نکل سکتے ہو نکل جاؤ۔ ( الرّحمن : 33)
Ayah 27:18فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) صرف جن وانس اور پرندوں کی بولیاں نہیں جانتے تھے بلکہ وہ حشرات الارض کی بولیاں بھی سمجھتے تھے اس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔
قرآن مجید نے یہ نہیں بتلایا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے لشکروں کے ساتھ کس طرف اور کس قوم کے خلاف پیش قدمی کر رہے تھے۔ صرف یہ بات بتلائی گئی ہے کہ جب وہ اپنے لشکروں کے ساتھ ایک ایسی وادی سے گزرنے والے تھے جہاں چیونٹیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ چیونٹیوں کی سردار کو سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے لشکروں کی آمد کا علم ہوا تو اس نے چیونٹیوں کو آواز پر آواز دی کہ اے چیونٹیو ! اپنی اپنی بلوں میں داخل ہوجاؤ کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکر غیر شعوری طور پر تمہیں کچل نہ دیں۔ یہ آواز حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سنی تو مسکرائے اور اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ بعض مفسرین نے غیر مستند روایات کے حوالے سے یہ بات لکھی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی آواز تین میل دور سے سن لی تھی۔ اَللّٰہُ اَعْلَمُ ۔ بہر حال یہ ظاہر ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹیوں کے پڑاؤ پر پہنچنے سے پہلے یہ آواز سنی تھی جس پر وہ خوشی اور شکرانے کے طور پر مسکرائے تھے۔
چیونٹیوں کے بارے میں معلومات :
اللہ تعالیٰ نے چینٹوں کو بھی انسان کی طرح عقل دی ہے جو چیزوں کا ادراک کرلیتی ہے۔ انسانوں کی طرح مختلف قبائل اور خاندانوں میں بٹی ہوتی ہیں۔ ہر کام کے لیے الگ الگ چیونٹیاں متعین ہوتی ہیں۔ مثلاً خوراک کی بہم رسانی کے لیے الگ ہوتی ہیں۔ اپنے پڑاؤ کی نگہبانی اور دفاع کے لیے الگ ہوتی ہیں۔ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کا علیٰحدہ لشکر ہوتا ہے جو مختلف حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ان کی نگرانی کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ جرنیل متعین ہوتے ہیں۔ نیز جب وہ گندم وغیرہ کے دانے اپنے گوداموں میں ذخیرہ کرتی ہیں تو ان کو کاٹ کر دو ٹکڑے کردیتی ہیں تاکہ انہیں نمی پہنچے تو وہ اگ نہ پڑیں۔ لیکن جب وہ مسور اور دھنیا کا ذخیرہ کرتی ہیں تو ان کے چار چار ٹکڑے کرتی ہیں۔ کیونکہ ان کا نصف حصہ بھی اگ پڑتا ہے۔
حضرت سلیمان کے دور میں چیونٹی کی بارش کے لیے دعا :
(عَنْ اَبِی الصِّدِیْقِ النَّاجِی اَنَّ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَرَجَ بالنَّاسِ یَسْتَسْقِیْ فَمَرِ عَلٰی نَمْلَۃِ مُسْتَلْقِیَۃٍ عَلیَ قَفَاہَا رَافِعَۃٌ قَوَاءِمَہَا اِلَی السَّمَآءَ وَہِیْ تَقُوْلُ ، اَللّٰہُمَّ اِنَّا خَلَقً مِنْ خَلْقِکَ لَیْسَ لَنَاغِنًی رَزِقِکْ ، فَاَمَا اَنْ تَسْقِیْنَا وَاِمْا اَنْ تَہْلِکُنْا، فَقَالَ سُلَیْمَان للنَّاسِ اِرْجِعْوا فَقَدْ سَقِیْتُمْ بِدَعْوَۃِ غَیْرِکُمْ )
[ مصنف ابن ابی شیبہ : ج، 7، ص 77]
” حضرت ابی صدیق ناجی بیان کرتے ہیں بیشک سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) ایک دن لوگوں کے ساتھ بارش طلب کرنے کے لیے باہر نکلے تو ان کا گذر ایک چیونٹی کے پاس سے ہوا جو اپنی گدی کے بل لیٹی ہوئی ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے یہ دعا کر رہی تھی (اے اللہ ہم بھی تیری مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں اور ہم تیرے رزق سے مستغنی نہیں ہیں۔ اے مالک ہم پر بارش برسا وگرنہ ہم ہلاک ہوجائیں گی۔ ) سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں کو کہا واپس پلٹ چلو ایک اور مخلوق کی دعا سے بارش ہوجائے گی۔ “
مسائل
1۔ چیونٹیوں کی سردار نے قبل از وقت خطرے سے اپنی قوم کو آگاہ کیا۔
2۔ قوم کے سربراہ کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کو خطرات سے بچانے کی کوشش کرے۔
Ayah 27:19فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتہائی خوشی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکرا ادا کرتے ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی آواز سنی تو مسکرائے اور سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس قدر علم اور اقتدار عطا فرمایا ہے کہ میں ایک چیونٹی کی آواز کو سنتا اور سمجھتا ہوں۔ اتنے بڑے اقبال اور اقتدار کے مالک ہونے کے باوجود اتراتے نہیں بلکہ اپنے رب کا ان الفاظ میں شکر ادار کرتے ہیں۔ الٰہی ! جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر احسانات فرمائے ہیں میں ان کا اعتراف کرتا ہوں اور شکر گزار ہوں۔ الٰہی ! مجھے اپنے انعامات کے نتیجہ میں ایسے اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما جن اعمال کو تو پسند کرتا ہے۔ مجھے اپنی خاص رحمت کے ساتھ اپنے نیک بندوں میں شامل فرما ! حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں ” اَوْزِعْنِیْ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے کہ مجھے اس طرح پابند کیجیے جس بناء پر میں وہی کام کروں جنھیں تو پسند کرتا ہے۔ جن کا عام الفاظ میں یہ معنٰی ہے کہ میرے رب مجھے ان کا موں کی ہمت اور طاقت نصیب نہ کرنا جن کاموں کو تو پسند نہیں کرتا۔ کسی آدمی کے صالح فکر اور نیک ہونے کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرے اور اس کا شکر بجا لانے کی پوری کوشش کرتا رہے۔
اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا پریشانیوں سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے یہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ شکر کے مقابلہ میں ناشکری ہے جو کفر کے مترادف ہے۔
(بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ) [ الزمر : 66]
” پس اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزاربندوں میں شامل ہوجائیے۔ “
اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ ہونے کے ساتھ مزید ملنے کے حقدار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ایسا عمل ہے جس کے بارے میں یہ واضح کردیا گیا کہ اس کی گرفت سے بچنے کے ساتھ مزید عطاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سرکشی اور بغاوت کی حدود پھلانگتے ہوئے کہا تھا۔
(وَلَاتَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِےْنَ ) [ الاعراف : 17]
” اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ “
نبی اکرم ﷺ کی دعائیں :
(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ کُلِّ صَلاَۃٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ سنن النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ ]
” حضرت معاذبن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کے بعد اس دعا کو ضرور پڑھا کرو۔ اے میرے پروردگار ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
(عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِی یُبَلِّغُنِی حُبَّکَ اللَّہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِی وَأَہْلِی وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی عَقْدِ التَّسْبِیح بالْیَدِ ]
” حضرت ابی درداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ داؤد (علیہ السلام) کی دعا دوہرایا کرتے تھے اور کہتے۔ اے اللہ میں تم سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس کی محبت جو تم سے محبت رکھتا ہے اور ایسے عمل کی محبت جو مجھے تمہاری محبت کے قریب کر دے۔ اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کا حق دار بنا دے اے اللہ ! میرے لیے اپنی محبت میرے نفس، اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی بڑھ کر عزیز بنا دے۔ “
مسائل
1۔ سلیمان (علیہ السلام) ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے تھے۔ 2۔ سلیمان (علیہ السلام) اپنے رب سے صالح اعمال کرنے کی توفیق مانگتے تھے۔
3۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دنیا کے ساتھ اپنے رب سے جنت میں نیک لوگوں کی رفاقت کی دعا کی۔
تفسیر بالقرآن
شکر کی اہمیّت اور اس کی فضیلت :
1۔ اللہ نے تمہارے لیے سماعت، بصارت اور دل بنایا تاکہ تم شکر کرو۔ (النحل : 78)
2۔ اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تمہیں زیادہ دے گا۔ (ابراہیم : 7) 3۔ اگر تم اللہ کا شکر کرو تو وہ تم سے خوش ہوگا۔ (الزمر : 7)
4۔ اگر تم اللہ کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ تو تمہیں عذاب کرنے کا اسے کیا فائدہ ؟ (النساء : 147)
Ayahs 27:20–21فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے لشکر کا جائزہ لینا اور ہد ہد کے بارے میں رپورٹ طلب کرنا۔
آیت 17 میں بیان ہوا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنوں، انسانوں اور پرندوں کو الگ الگ منظم کر رکھا تھا۔ اسی اصول کے پیش نظر انھوں نے ایک علاقہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سفر کے دوران ایک مقام پر پہنچ کر اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو انھوں نے ہدہد پرندے کو لشکر میں غائب پایا۔ غضبناک ہو کر فرمایا کیا وجہ ہے ہد ہد نظر نہیں آیا۔ کیا وہ غیر حاضر ہے ؟ اگر اس نے غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتلائی تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا پھر اسے ذبح کرڈالوں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے رویہّ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص کو کتنا بڑا اقتدار اور فضیلت حاصل ہو۔ اسے بھی کسی کو سزا دینے سے پہلے صفائی کا موقعہ دینا چاہیے۔
اس مقام پر بھی بعض عقل پرستوں نے اپنی عقل کے خوب گھوڑے دوڑائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ہدہد سے مراد پرندہ نہیں بلکہ کسی انسان کا لقب یا نام ہے شاید انہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خود نہیں بدلتے قرآن کو بدل دیتے ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جس ہدہد کو خط دے کر بھیجا اسے یعنور کہا جاتا تھا، علامہ دمیری نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس پرندے سے پانی کی تلاش کا کام لیا کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ صلاحیت بخشی ہے کہ یہ زمین کے اندر پانی کو اس طرح دیکھ لیتا ہے جس طرح آدمی برتن میں پڑے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے۔
مسائل
1۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) مختلف موقعوں پر اپنے لشکروں کا جائزہ لیا کرتے تھے۔
2۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نہ صرف پیغمبر تھے بلکہ بیدار مغز حکمران بھی تھے۔
Ayahs 27:22–23فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں کے لشکر کے جائزہ سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ان کی خدمت میں ہد ہد پیش ہوا۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہد ہد کی غیر حاضری کے بارے میں ابھی طیش کے عالم میں تھے کہ ہد ہد ان کے حضو رپیش ہو کر اپنی غیر حاضری کی ان الفاظ میں وجہ عرض کرتا ہے۔ پیش ہوتے ہی معذرت خواہانہ انداز میں عرض کرتا ہے۔ جناب میں ملک سبا سے ایک ایسی مستند خبر آپ کے حضو رپیش کرتا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے۔ میں نے وہاں ایک عورت کو حکمران پایا۔ جس کے پاس نہ صرف ہر قسم کے وسائل موجود ہیں بلکہ وہ ایک عظیم تخت پر جلوہ افروز ہوتی ہے۔ ہد ہد نے مختصر مگر جامع رپورٹ پیش کرتے ہوئے ملک سبا کی حکمرانی اور اس کی مملکت کی ترقی کے بارے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آگاہ کیا۔ قرآن اور حدیث میں ملک سبا کی حکمران کا نام موجود نہیں تاہم مؤرخین اور مفسرین نے اس کا بلقیس بتلایا ہے۔
سبا جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دارالحکومت مارب موجودہ یمن کے دارالحکومت صنعاء سے 55 میل دور شمال مشرق میں واقع تھا۔ اس کا زمانۂ عروج مَعِین کی سلطنت کے زوال کے بعد تقریباً 1100 ق م سے شروع ہوا اور ایک ہزار سال تک یہ عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی۔ پھر 1115 ق م میں جنوبی عرب کی دوسری مشہور قوم حمیر نے اس کی جگہ لے لی۔ عرب میں یمن اور حضرموت اور افریقہ میں حبش کے علاقے پر اس کا قبضہ تھا، مشرقی افریقہ، ہندو ستان، مشرق بعید اور خود عرب کی جتنی تجارت مصر وشام اور یونان و روم کے ساتھ ہوتی تھی وہ زیادہ تر انہی سبائیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اسی وجہ سے یہ قوم قدیم زمانہ میں اپنی دولت کے حوالے سے مشہور تھی۔ بلکہ یونانی مؤرخین اسے دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کہتے ہیں۔ تجارت کے علاوہ ان کی خوشحالی کا بڑا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر ایک بہترین نظام آب پاشی قائم کر رکھا تھا جس سے ان کا پورا علاقہ جنت نظیر بنا ہوا تھا۔ ان کے ملک کی اس غیر معمولی شادابی کا ذکر یونانی مؤرخین نے بھی کیا ہے اور سورة سبا کے دوسرے رکوع میں قرآن مجید بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (ماخوذ از تفہیم القرآن جلد، 3)
عورت کی حکمرانی :
بعض نام نہاد دانشور غیر مسلموں سے متاثر ہو کرا نا صرف اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہیے بلکہ وہ مغربی جمہوریت کی پیروی میں عورت کو ملک کا سربراہ بنانے میں حرج نہیں سمجھتے۔ اس کے لیے ” سورة النمل “ سے ملکہ سبا کی حکومت کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایسے دانشور یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ مملکت سبا کی ملکہ بلقیس اس وقت تک ہی اپنے ملک کی حکمران رہی تھی جب تک وہ کافرہ تھی۔ جو نہی وہ اپنے وقت کے نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر ایمان لائی تو اس نے اپنے آپ کو ان کے تابع کردیا اس کے بعد اس کی حکمرانی کا تاریخ میں ثبوت نہیں ملتا۔ کچھ لوگ جنگ جمل میں حضرت عائشہ ؓ کی سربراہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات بھی انصاف کے ترازو پر پوری نہیں اترتی۔ کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے زندگی بھر کبھی مسلمانوں کی خلیفہ بننے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ وہ شدید ہنگامی حالات میں مسلمانوں کے درمیان صلح کی غرض سے نکلی تھیں لیکن حالات کی پیچیدگی میں پھنس کر رہ گئیں۔ اس لیے وہ زندگی بھر اپنے اس اقدام پر پریشان اور پشیمان رہیں۔ جب بھی قرآن مجید کی اس آیت (وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ ) [ الاحزاب : 33] کی تلاوت کرتیں تو زارو قطار رویا کرتی تھیں۔ [ طبقات ابن سعد ]
(عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِی اللَّہُ بِکَلِمَۃٍ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَیَّامَ الْجَمَلِ ، بَعْدَ مَا کِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَہُمْ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَّ أَہْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّکُوا عَلَیْہِمْ بِنْتَ کِسْرَی قَالَ لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَہُمُ امْرَأَۃً ) [ رواہ البخاری : باب کِتَاب النَّبِیِّ ﷺ إِلَی کِسْرَی وَقَیْصَرَ ]
” حضرت ابی بکرہ بیان کرتے ہیں مجھے ان کلمات نے بہت فائدہ دیا جو میں نے آپ ﷺ سے ایّام جمل میں سنے جب میں اصحاب جمل کے ساتھ مل کر لڑائی کر رہا تھا جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو حکمران بنا لیا ہے تو آپ نے فرمایا : وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پاسکتی جس نے اپنی حکومت عورت کے سپرد کردی۔ “
مسائل
1۔ ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ پیش کی۔
2۔ ہدہد نے ملک سبا کی ترقی اور اس کی حکمران کے بارے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ٹھوس معلومات پیش کیں۔
3۔ ملزم کو صفائی کا موقعہ دئیے بغیر سزا نہیں دی جاسکتی۔
Ayahs 27:24–26فہم القرآن
ربط کلام : ہد ہد کی رپورٹ کا مذہبی حصہ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے ہد ہد نے اپنے چشم دید مشاہدات میں یہ بات بھی عرض کی کہ میں نے ملک سبا کی حکمران اور اس کی قوم کو اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ کام شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا ہے۔
ملکہ سبا :
شیطان نے نہ صرف شرک کو ان کے لیے خوبصورت بنا کے پیش کیا ہے بلکہ اس نے انھیں صراط مستقیم سے روک رکھا ہے جس بنا پر وہ صراط مستقیم سمجھنے اور اس پر گامزن ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ یہ بات فہم القرآن میں کئی مرتبہ عرض ہوچکی ہے کہ شیطان شرک اور برے اعمال کو اس طرح خوبصورت کرکے پیش کرتا ہے کہ لوگ شرک اور دیگر جرائم کو گناہ سمجھنے کی بجائے اپنی تہذیب کا حصہ، معاشرتی روایات اور نیکی سمجھتے ہیں۔ جس بناء پر انھیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ہم نیکی کی بجائے گناہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ شرک اور دیگر گناہوں کو چھوڑناتو درکنار ایسے لوگ ان کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ یہ کسی فرد یا قوم کی گمراہی کی انتہا ہوتی ہے کہ وہ حق قبول کرنے کی بجائے گمراہی میں آگے بڑھتی جائے۔ اور اسے مذہب اور ثقافت کے نام پر کرتی رہے۔
ہد ہد کی رپورٹ اور قرآن مجید کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ شرک ایسا غلیظ عمل ہے جس سے پرندے بھی نفرت کرتے ہیں۔ ہدہد کے بیان سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی جبلت میں عقیدہ توحید سمودیا ہے اسی طرح ہی جانوروں کی فطرت میں عقیدہ توحید کا شعور رکھا ہے۔ جس بناء پر ہد ہد نے شرک سے نفرت کرتے ہوئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں یہ عرض کی کہ سبا کی ملکہ اور اس کی قوم کتنی ناعاقبت اندیش ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ نہیں کرتے حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جو زمینوں آسمانوں کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جو لوگ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا رب ہے۔
اس آیت اور قرآن مجید کے دیگر مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ پرندے اور دیگر مخلوق بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے ہیں اور انھیں پوری طرح اپنے معبود حقیقی کی الوہیت اور اس کی عبادت کرنے کا شعور بخشتا گیا ہے۔ مشرک ” اللہ “ کے سوا دوسروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ مومنوں کو حکم ہے کہ جب ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے ” رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم “ کے الفاظ تک پہنچیں تو وہ اللہ کے حضور سجدہ کریں۔
(وَمِنْ اٰیٰتِہٖ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) [ حٰم السجدۃ : 37]
” رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سورج چاند کو سجدہ نہ کر وبل کہ اس ذات کبریاء کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر واقعتا تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ “
(عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَقُلْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ یُّسْجَدَ لَہٗ قَالَ فَأَتَیْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقُلْتُ إِنّيآ أَتَیْتُ الْحِیْرَۃَ فَرَأَیْتُھُمْ یَسْجُدُوْنَ لِمَرْزُبَانٍ لَّھُمْ فَأَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَکَ قَالَ أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِيْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہٗ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَآءَ أَنْ یَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِھِنَّ لِمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَھُمْ عَلَیْھِنَّ مِنَ الْحَقِّ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ]
” حضرت قیس بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حیرہ گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول سجدے کے زیادہ لائق ہیں۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی : میں نے حیرہ میں دیکھا کہ لوگ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ! آپ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بتلائیے ! اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اسے سجدہ کرو گے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ایسے نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دینا ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے مردوں کا عورتوں پر جو حق رکھا اس وجہ سے عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کے سامنے سجدہ کیا کریں۔ “
” جب فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کی وسعت علم اور اپنے عجز کا اعتراف کرلیا تو پروردگار عالم نے انہیں حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سجدہ کا لغوی معنی ہے تذلّل اور خضوع اور شریعت میں اس کا معنٰی ہے ” وضع الجبھۃ علی الأرض “ پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ کا لغوی معنٰی مراد ہے کہ فرشتوں کو ادب واحترام کرنے کا حکم دیا گیا لیکن جمہور علماء کے نزدیک شرعی معنیٰ مراد ہے۔ یعنی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیشانی رکھ دیں۔ اب اس سجدہ کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ پیشانی جھکانے والا یہ اعتقاد کرے کہ جس کے سامنے میں پیشانی جھکا رہا ہوں وہ خدا ہے تو یہ عبادت ہے اور یہ بھی کسی نبی کی شریعت میں جائز نہیں بلکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد اولین تھا ہی یہی کہ وہ انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور دوسروں کی عبادت سے منع کریں تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس چیز سے روکنے کے لیے انبیاء تشریف لائے اس فعل کا ارتکاب خود کریں یا کسی کو اجازت دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جس کے سامنے سجدہ کیا جارہا ہے اس کی عزت واحترام کے لیے ہو عبادت کے لیے نہ ہو تو اس کو سجدہ تحیہ کہتے ہیں۔ یہ پہلے انبیاء کرام کی شریعتوں میں جائز تھا لیکن حضور کریم ﷺ نے اس سے بھی منع فرمادیا۔ اب تعظیمی سجدہ بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔ “ [ ضیاء القرآن، جلد اول ‘ البقرہ : 34]
خبکی تعریف :
” پوشیدہ چیزوں کو آسمان و زمین سے نکالنا مثلاً پانی کو آسمان سے نباتات کو زمین سے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ 2۔ غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے پرندے بھی نفرت کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ 4۔ اللہ ہی معبودِ حق ہے اس کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں۔
تفسیر بالقرآن
شیطان کن لوگوں کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بناتا ہے :
1۔ شیطان نے اکثر مشرکین کے لیے قتل اولاد کا عمل مزّین کردیا۔ (الانعام : 137)
2۔ قوم عاد وثمود کے اعمالِ بد کو شیطان نے مزّین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
3۔ ہر گروہ کے بد اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزّین کردیا ہے۔ (الانعام : 109)
4۔ ظالموں کے دل سخت ہوگئے اور شیطان ان کے اعمال کو مزین کر دکھاتا ہے۔ (الانعام : 43)
5۔ اللہ کے علاوہ سورج کو سجدہ کرنے والوں کے برے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (النمل : 24)
Ayahs 27:27–28فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے نہایت توجہ کے ساتھ ہدہد کی رپورٹ سماعت فرمائی اور حکم صادر فرمایا کہ فوری طور پر میرا خط لے کر ملکہ سبا تک پہنچاؤ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہُد ہُد کو ارشاد فرمایا کہ عنقریب ہم ایک حکم کے ذریعے جاننا چاہیں گے کہ تو نے ہمارے سامنے سچ بولا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں شامل ہے۔ تیرے لیے حکم یہ ہے کہ ہمارا مراسلہ لے کر فوری طور پر ملکہ سبا کی طرف جاؤ اور ان کے سامنے ہمارا مراسلہ ڈال کر پیچھے ہٹ کر جائزہ لو کہ وہ ہمارے مراسلہ کا کیا ردِّ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مراسلہ پوری ذمہ داری کے ساتھ ملکہ بلقیس کے سامنے ڈالا اور ٹھیک ٹھیک طریقے سے ملکہ اور اس کے درباریوں کے ردِّ عمل کا جائزہ لیا۔ قرآن مجیدنے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ ہد ہد نے واپس آکر سلیمان (علیہ السلام) کو کیا رپورٹ پیش کی تاہم قرآن مجید کے سیاق وسباق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے واپس آکر یقینی طور پر خط کے ردِّ عمل سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آگاہ کیا ہوگا۔ کیونکہ اسے حکم تھا کہ وہ خط پہنچانے کے بعد کچھ دیر وہاں ٹھہر کر اس کے ردِّ عمل کا جائز ہ لے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہُد ہُد سکھلایا ہوا جانور تھا۔ جس بنا پر ملکہ اور اس کے ساتھیوں کی حرکات کا جائزہ لے سکتا تھا۔ تبھی تو سلیمان (علیہ السلام) نے اسے حکم دیا تھا کہ خط ان کے سامنے پھینک کر ان کے ردّ عمل کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔
مسائل
1۔ مجاز اتھارٹی کو پیش آمدہ مسئلہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرنا چاہیے۔ 2۔ مجاز اتھارٹی کے لیے اپنے حکم کی تعمیل کا جائزہ لینا لازم ہے۔
3۔ حکمران کو دین اور ملک دشمن کی کارروائیوں سے آگاہ رہنا چاہیے۔ 4۔ مسلمان حکمران کا فرض ہے کہ وہ شرک کے خلاف اقدامات کرے۔