27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsفہم القرآن

Ayahs 27:29–31

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

” ملکہ نے کہا اے وزراء میری طرف سلیمان کی طرف سے ایک اہم خط بھیجا گیا ہے۔ (29)

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

جو اللہ رحمن ورحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ (30)

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

جس کا مضمون ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضرہوجاؤ۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : خط موصول ہوتے ہی ملکہ سبا نے اپنے وزیروں، مشیروں کا اجلاس بلایا اور انہیں کو خط پڑھ کر سنایا۔ ملکہ سبا نے خط موصول ہوتے ہی اسے اپنے وزیروں اور مشیروں کے سامنے پیش کیا اور اس پر مثبت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے وزراء کرام ! میرے پاس سلیمان (علیہ السلام) کا قابل احترام خط پہنچا ہے جس کی ابتداء اللہ مہربان اور رحم کرنے والے کے نام سے کی گئی ہے۔ اس میں ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میرے مقابلے میں سرکشی کرنے کی بجائے تابعدار ہو کر میرے حضور پیش ہوجاؤ۔ مشرک ہونے کے باوجود ملکہ نے خط کی ابتداء یعنی ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ سے اندازہ لگالیا تھا کہ خط لکھنے والے کے نظریات کیا ہیں۔ اس لیے اس نے اس سرکاری مراسلے کو تکریم کے ساتھ قوم کے زعماء کے سامنے پیش کیا۔ جس سے ملکہ بلقیس کی ذہانت اور شرافت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ قدیم زمانے سے یہ اصول چلا آرہا ہے کہ سفارت کا کوئی بھی انداز ہو اس کا پورا پورا احترام کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ خط میں بھی انتباہ تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا نام خط کے مضمون کے بعد لکھنے کی بجائے پہلے لکھا تھا حالانکہ اس زمانے میں بڑے لوگ اپنا نام خط سے پہلے اور ان کی رعایا کے لوگ اپنا نام خط کے مضمون کے بعد لکھتے تھے۔ ملکہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے رعب کی وجہ سے دونوں باتوں کو حرف نظر کردیا۔ مرسل الیہ سے پہلے خط پر اپنا نام لکھنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کا طریقہ ہے تاہم کسی بڑی شخصیت کو خط لکھتے وقت اپنا نام خط کے آخر میں لکھا جائے تو اہل علم کے نزدیک یہ بھی جائز ہے۔ خط اور تحریر سے پہلے ” بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ “ لکھنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ کی فضیلت اور اہمیت : رسول کریم ﷺ کے حکم کے مطابق ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرنا چاہیے۔ آپ ﷺ کی سنت مبارکہ اور ارشاد ات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کرنے سے مراد ہر موقعہ پر بسم اللہ کے الفاظ پڑھنا نہیں۔ بلکہ کام اور موقع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا اور اس کا نام لینا ہے تاکہ اسم مبارک سے ابتدا کرتے ہوئے کام اور موقعہ کا احساس آدمی کو رب کریم کے قریب کردے جیسا کہ سونے اور نیند سے بیدار ہونے کے وقت دعا کے الفاظ احساس دلاتے ہیں۔ ہر آدمی کو ایسے ہی مرنا اور اٹھنا ہوگا۔ جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینے سے تصور ابھرتا ہے کہ بڑائی اور کبریائی اللہ کی ذات کو زیبا ہے۔ یہ اللہ کا مال ہے اس پر کسی غیر کا نام لینے کی بجائے مالک حقیقی کا نام ہی لینا چاہیے۔ سواری پر برا جمان ہوتے ہوئے لفظ ” سُبْحَانَ الَّذِیْ “ سے دعا کرنے سے یہ خیال آنا چاہیے کہ جس مالک نے اس کو میرے تابع کیا ہے مجھے بھی اس ذات کبریا کا تابع فرمان ہونا چاہیے۔ سواری کو حاصل اور مطیع کرنا میرے بس کا روگ نہیں تھا۔ قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے : (فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ )[ النحل : 98] ” جب قرآن مجید کی تلاوت شروع کرو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ “ گویا کہ موقعہ کی مناسبت سے ہر کام کا آغاز رب کریم کے مبارک نام سے ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد میں یہ فلسفہ پایا جاتا ہے کہ جب کوئی کام شروع کیا جائے تو اس پر اللہ کا نام لیتے ہوئے احساس پیدا ہو کہ جو کام کرنا چاہتا ہوں وہ میرے لیے جائز بھی ہے یا نہیں۔ اگر کام حرام اور ناجائز ہو تو مومن کو اللہ کے نام کی لاج رکھتے ہوئے اس کام سے باز آنا چاہیے۔ جائز کام کی ابتدا میں بسم اللہ پڑھنے سے آدمی کا عقیدہ تازہ اور پختہ ہوجائے گا کہ اس کام کی ابتدا رحمن ورحیم کی مہربانی کا نتیجہ ہے اور اس کی تکمیل بھی اسی کے کرم سے ہوگی۔ (کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَایُفْتَحُ بِذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَہُوَ اَبْتَرُ اَوْقَالَ اَقْطَعُ ) [ مسند احمد : کتاب باقی مسند المکثرین ] ” جس کام کی ابتدا اللہ کے ذکر سے نہ کی جائے وہ بےبرکت اور نامکمل ہے۔ “
Ayahs 27:32–35

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

” ملکہ نے کہا اے سرداران قوم ! میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو کیونکہ میں تمہارے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتی۔ (32)

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وزیروں نے جواب دیا ہم طاقت ور اور جنگ جو لوگ ہیں تاہم فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا چاہیے۔ (33)

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

ملکہ نے کہا کہ بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے برباد اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں یہی کچھ وہ کریں گے۔ (34)

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

میں ان لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ میرے سفیر کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : ملکہ بلقیس کا اپنی قوم کے زعماء کے سامنے خط پڑھ کر مشورہ لینا اس پر قوم کا ردِّ عمل۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات عیاں ہورہی ہے کہ ملکہ اور اس کا انداز حکمرانی کیا تھا۔ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط پڑھنے کے بعد قوم کے نمائندوں سے کہا کہ مجھے اس معاملہ میں مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں تمہارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ انھوں نے خط کا مضمون سن کر فوری ردِّ عمل دیا کہ ہم طاقت ور اور شدید لڑائی لڑنے والی جنگجو قوم ہیں اس لیے ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ تاہم آپ ہماری حکمران ہیں آپ کو ہر قسم کے آئینی اختیارات ہیں۔ لہٰذا غور و فکر کرکے فرمائیں کہ ہمارے لیے کیا حکم ہے۔ ملکہ نے قوم کے نمائندوں کے حوصلہ اور جرأت دیکھنے کے باوجو دٹھنڈے دل اور نرم لب و لہجہ سے انھیں سمجھایا کہ یاد رکھو حکمرانوں کی تاریخ یہ ہے کہ جب وہ کسی بستی اور علاقہ پر یلغار کرتے ہیں تو اسے تباہ و برباد کردیتے ہیں اور وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ جنھوں نے ہمیں خط لکھا ہے اگر وہ کامیاب ہوئے تو ہمارے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ اس کی بجائے میں ان کی طرف کچھ تحائف بھیجتی ہوں اور پھر دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے نمائندوں کا کیا جواب دیتے ہیں۔ ملکہ سبا نے خط کے مضمون اور دیگر ذرائع سے معلوم کرلیا تھا کہ ہماری مضبوط حکومت کو جو شخص انتباہ اور ہمیں اپنی تابعداری کا حکم دے رہا ہے وہ کوئی معمولی حکمران نہیں اس لیے اس نے کہا کہ جنگ کرنے سے پہلے تحائف بھیجے جائیں۔ تحائف بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) نے تحائف قبول کرلیے اور خیرسگالی کا مظاہرہ کیا تو پھر ہمیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ دنیا پرست حکمران کو مذاکرات کے ذریعے رام کرنا آسان ہوگا۔ مسائل 1۔ ظالم بادشاہ دوسروں کی عزت کا خیال نہیں کیا کرتے۔ 2۔ کسی کو جانچنے کے لیے تحفے تحائف کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 27:36–37

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

” ملکہ کا وفد سلیمان کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو ؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا گیا ہے تمہارا ہدیہ تمہارے ہی لیے ہے۔ (36)

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اپنے بھیجنے والوں کی طرف واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا وہ مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔ “ (37)

فہم القرآن ربط کلام : تحائف پہنچنے پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ردِّ عمل۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملکہ بلقیس کے تحائف پہنچے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے نمائندوں کو فرمایا کہ جن تحائف کے ساتھ مجھے خوش کرنا چاہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے زیادہ اور بہترین مال عطا فرمارکھا ہے۔ اس لیے تم اپنے تحائف کے ساتھ خوش رہو اور واپس لے جاؤ۔ ہم اپنے لشکروں کے ساتھ تم پر ضرور پیش قدمی کریں گے جن کا مقابلہ کرنے کی تم طاقت نہیں رکھتے اور ہم مقابلہ میں آنے والوں کو زیر اور ذلیل کریں گے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مشرک ملکہ کے تحائف کو قبول کرنے سے اس لیے انکار کیا کہ اس طرح ان کے خلاف کارروائی کرنے کا جواز کمزور ہوجاتا۔ اس سے ظاہر ہوتا کہ مراسلہ بھیجنے والا حکمران کسی نظریہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ کشورکشائی اور دنیا کے مال کا حریص ہے وہ اس کمزوری یا مرّوت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ مشرکانہ عقیدہ پر قائم رہتے۔ جو سلیمان (علیہ السلام) کے لیے گوارا نہ تھا۔ کیونکہ شرک ایسا جرم اور گناہ ہے کہ جسے مواحد حکمران برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے کچھ عرصہ بعد جب طائف کے سردار مسلمان ہونے کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دو شرائط پیش کیں ایک تو ہم نماز نہیں پڑھیں گے۔ جس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا وہ دین ہی کیا جس میں نماز نہیں۔ طائف کے لوگ مان گئے ہم نماز پڑھا کریں گے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے طائف کے بت کو نہ چھیڑا جائے۔ نبی معظم ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں بلکہ ہم اسے فی الفور مسمار کریں گے۔ بالآخر انہوں نے یہ شرط پیش کی کہ آپ اپنے آدمیوں کے ذریعے یہ کارروائی کریں۔ نبی ﷺ نے یہ شرط تسلیم فرمائی اور چند صحابہ کو طائف بھیجا جنہوں نے بت خانے کو بنیادوں سے اکھاڑ پھینکا۔ تفصیل کے لیے سیرت ابن ہشام کا مطالعہ فرمائیں۔ عام حالات میں مشرک کا تحفہ قبول کرنا جائز ہے : (قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ہَاجَرَ إِبْرَاہِیمُ بِسَارَۃَ فَدَخَلَ قَرْیَۃً فیہَا مَلِکٌ أَوْ جَبَّارٌ فَقَالَ أَعْطُوہَا آجَرَ وَأُہْدِیَتْ للنَّبِیِّ ﷺ شَاۃٌ فیہَا سُموَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ أَہْدَی مَلِکُ أَیْلَۃَ للنَّبِیِّ َبغْلَۃً بَیْضَاءَ ، وَکَسَاہُ بُرْدًا، وَکَتَبَ لَہُ بِبَحْرِہِمْ ) [ رواہ البخاری : باب قَبُولِ الْہَدِیَّۃِ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ] حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے سائرہ[ کے ساتھ ہجرت کی تو آپ کا گزر ایسی بستی سے ہوا جہاں جابر حکمران رہتا تھا اس نے کہا ابراہیم کو ہاجرہ تحفہ میں دو ۔ نبی ﷺ کو زہر ملی ہوئی بکری تحفے میں دی گئی امام بخاری کے استاد ابو حمیدبیان کرتے ہیں نبی ﷺ کو ایلہ کے بادشاہ نے سفید خچر، چادر تحفے میں دیے اور ان کے لیے بحری سفر کا پروانہ تحریر کروایا۔ “ (عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ عَبْدِ اللَّہِ الْخُرَاسَانِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ تَصَافَحُوا یَذْہَبِ الْغِلُّ وَتَہَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْہَبِ الشَّحْنَاءُ ) [ مؤطا امام مالک : کتاب الجامع، باب ماجاء فی المھاجرۃ ] ” عطاء بن ابی مسلم عبداللہ خراسانی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تحائف کے بارے میں فرمایا کہ مسلمانو ! ایک دوسرے کو تحفہ دیا کرو کیونکہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ “
Ayahs 27:38–39

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے کہا اے سردارو تم میں سے کون ملکہ کا تخت میرے پاس لائے گا قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوجائے ؟ (38)

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا کہ میں اسے لاؤنگا قبل اس کے کہ آپ اپنی نشست گاہ سے اٹھیں۔ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔ “ (39)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ بلقیس کے خلاف پہلا اقدام۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کے تحائف واپس کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم ضرور تم پر یلغار کریں گے۔ ملکہ بلقیس کو اس کے نمائندوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جمال و کمال اور ان کے اسباب و وسائل کے بارے میں آگاہ کیا تو ملکہ کو یقین ہوگیا کہ ہم اس قدر طاقتور حکمران اور صاحب کردار شخص کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے اس نے اپنے وزیروں، مشیروں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد یہ طے کیا کہ مجھے خود ان کی خدمت میں پیش ہونا چاہیے تاکہ ہماری عزت اور ملک سلامت رہے۔ جونہی ملکہ اپنے قوم کے نمائندوں کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف چلی۔ ابھی راستے میں تھی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے پوچھا کہ کون ملکہ کے پہنچنے سے پہلے اس کا یہاں تخت لائے گا ؟ جنوں میں سے ایک دیوہیکل جن نے کہا کہ میں یہ نشست ختم ہونے سے پہلے آپ کی خدمت میں اس کے تخت کو پیش کرتا ہوں۔ میں امانتدار ہونے کے ساتھ ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ حکم اس لیے دیا تاکہ ملکہ کو اپنی آمد سے پہلے سلیمان (علیہ السلام) کی طاقت کا علم ہوجائے جس سے اس کی رعونت کا خاتمہ ہو اور وہ شرک سے تائب ہو کر مسلمان ہوجائے۔ مسائل 1۔ مسلمان حکمران کو غیر مسلموں پر اپنا رعب قائم کرنا چاہیے۔ 2۔ اہل کار باصلاحیت اور امانت دار ہونے چاہیں۔
Ayahs 27:40–41

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

” جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے اس کا تخت لے آتا ہوں جونہی سلیمان نے ملکہ کا تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔ تو پکار اٹھے یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کے شکر کا اسے ہی فائدہ ہے اور جو کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بےنیاز اور بزرگ ہے۔ (40)

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا اس کا تخت بدل دو دیکھیں وہ حقیقت تک پہنچتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو حقیقت تک نہیں پہنچتے۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : دیوہیکل جن کے اظہار خیال کے بعد ایک صاحب علم کا ردِّ عمل اور اس کی پیشکش۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قریبی لوگوں میں ایک شخص اٹھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا کہ میں آپ کے آنکھ جھپکنے سے پہلے آپ کے سامنے ملکہ کا تخت پیش کرتا ہوں۔ یہ کہتے ہی اس نے ملکہ کا تخت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حضور پیش کردیا۔ تخت دیکھتے ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عاجزانہ اور متشکرانہ انداز میں کہا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا نہ شکری کرتا ہوں جو شکر ادا کرتا ہے اس کے شکر کا اسے ہی فائدہ پہنچتا ہے جو ناشکری کرتا ہے بلاشبہ میرے رب کو اس کی ناشکری کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ نہایت کریم ہے۔ آدمی کو ہر وقت اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے لیکن اس موقعہ پر حضرت سلیمان نے اپنے رب کا اس لیے بھی شکریہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیسے ذہین اور لائق فائق ساتھی دیے ہیں جو آنکھ جھپکنے سے پہلے اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ شکر یہ کلمات کے ساتھ ہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے وزیروں کو کہا کہ ملکہ کے تخت میں کچھ تبدیلیاں کردی جائیں۔ کیونکہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اسے پہچانتی ہے یا نہیں۔ تخت میں تبدیلی کروانے کا مقصد یہ تھا کہ اس کی ذہانت کا اندازہ کیا جاسکے تاکہ معلوم ہو کہ وہ اپنے تخت کو پہچانتی ہے یا نہیں پہچان پاتی۔ ان الفاظ میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اگر وہ اپنے تبدیل شدہ تخت کو پہچان گئی تو یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ عقیدہ توحید کو جان کر مسلمان ہوجائے گی۔ جہاں تک تخت کے لانے والے اور اس کے اس کارنامے کا معاملہ ہے اس کے بارے میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ امام رازی (رح) کا اصرار ہے کہ اس شخص سے مراد حضرت سلیمان (علیہ السلام) خود ہیں۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے زبور کا علم اور یہ معجزہ عطا فرمایا تھا۔ دوسرے مفسرین اس بات کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کام خود نہیں کیا بلکہ ان کے کسی ساتھی نے کیا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ایسا علم عطا فرمایا تھا۔ جس کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا علم تھا جس کے واسطے سے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ہر صورت اسے پورا کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی پر اپنا فضل کرتا ہے تو اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ اس کا شکر گزار ہوتا ہے یا باغی اور ناشکرا بنتا ہے۔ جو اپنے رب کی ناشکری کرے گا اللہ تعالیٰ کو اس کی ناشکری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تفسیر بالقرآن شکر کے فائدے اور کفر کے نقصانات : 1۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم : 7) 2۔ اللہ شکر گزار بندوں کا قدرد ان ہے (النساء : 147) 3۔ اگر تم اس کا شکریہ ادا کرو تو وہ تم پر خوش ہوگا۔ (الزمر : 7) 4۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزادے گا۔ (آل عمران : 144) 5۔ جو شخص شکر کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو ناشکری کرتا ہے میرا رب اس سے بےپروا ہے۔ (النمل : 40) 6۔ اگر تم اس کی ناشکری کرو تو اللہ بےپروا اور تعریف والا ہے۔ (ابراہیم : 8)
Ayahs 27:42–43

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

” ملکہ جب حاضر ہوئی تو اسے کہا گیا کیا یہ آپ کا تخت ہے ؟ وہ کہنے لگی یہ تو وہی ہے ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہوچکے ہیں۔ (42)

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اس کو ایمان لانے سے جس چیز نے روک رکھا تھا وہ ان معبودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی کیونکہ وہ کافر قوم سے تھی۔ “ (43)

فہم القرآن ربط کلام : تخت کے بارے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ملکہ کو سوال اور اس کا جواب۔ جونہی ملکہ اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ شاہانہ انداز میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آئی تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کے تخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار فرمایا۔ ” کیا آپ کا تخت اس طرح کا ہے ؟ “ اس نے کہا جی ہاں ! کیوں نہیں یہ وہی ہے ہمیں تو آپ کے بارے میں سب کچھ پہلے ہی معلوم ہوچکا ہے۔ اس لیے ہم تابعدار ہو کر آئے ہیں۔ تخت کی پہچان اور ملکہ کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی ہی دانا عورت تھی۔ جس نے سفارتی نمائندوں کے ذریعے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے کردار اور اقتدار کو سمجھ لیا اور فیصلہ کیا کہ اپنی قوم کو رسوا اور ملک کو تباہ کرنے کی بجائے۔ اس حکمران کے پاس پہنچ کر براہ راست مذاکرات کرنے چاہییں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچنے کے بعد اس نے اپنے تبدیل شدہ تخت کو پہچان لیا جس سے اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قوت کا مزید اندازہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل و صورت اور پیغمبرانہ گفتگو اور حیادار انداز دیکھا تو اسے یقین ہوگیا یہ کوئی دنیا دار حکمران نہیں کہ جس نے محض کشور کشائی کے لیے مجھے دھمکی دی ہے یہ تو اللہ کا خاص بندہ ہے جو میری اور میری قوم کی ہدایت کے لیے کوشاں ہے۔ اس لیے ملکہ نے شاہانہ انداز کی بجائے عاجزانہ انداز میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی دعوت کا اعتراف کیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اظہار فرمایا۔ قرآن مجید نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ اللہ کے سوا سورج کی عبادت کرتی تھی کیونکہ اس نے کافر قوم میں پرورش پائی تھی۔ جو نہی اس کا ماحول تبدیل ہوا اور اسے عقیدہ توحید کی دعوت دی گئی تو اس نے اپنی بادشاہت کی پرواہ کیے بغیر مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا۔ ماحول کے اثرات : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ أَوْ یُنَصِّرَانِہٖ أَوْ یُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فیہَا جَدْعَاءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماقیل فی أولاد المشرکین ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہر نو مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح جانور اپنے بچے کو جنم دیتا ہے تو کیا تم ان میں کسی کو مقطوع الاعضا پاتے ہو ؟ (عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِِ وَالسُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیْرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّآ أَنْ یُّحْذِیَکَ وَإِمَّآ أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّآ أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیْحًاطَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّآ أَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًاخَبِیْثَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید، باب المسک ] ” حضرت ابوموسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اچھے اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو تجھے تحفہ دے گا یا تو اس سے خریدلے گا یا تو اس سے اچھی خوشبو پائے گا۔ بھٹی پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تو اس سے دھواں کی بو محسوس کرے گا۔ “ مسائل 1۔ انسان کی ہدایت اور گمراہی میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ 2۔ ذہین اور عقلمند وہ شخص ہے جو حق کو پہچانے اور اسے تسلیم کرنے میں تاخیر نہ کرے۔ 3۔ عقلمند کے لیے ایمان کے مقابلہ میں دنیا کے اقتدار اور اختیارات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ 4۔ مشرکانہ ماحول عقیدہ توحید سمجھنے اور ماننے میں بہت بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ۔ اس نے دیکھا تو سمجھی کہ یہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھالیے سلیمان نے فرمایا یہ شیشے کا بنا ہوا فرش ہے۔ وہ پکار اٹھی اے میرے رب میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی اور میں ایمان لائی ہوں سلیمان کے ساتھ اللہ پر جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : ملکہ بلقیس کو حقیقت کا مزید ادراک کرانے کے لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ایک اور حکیمانہ کوشش۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس کے تحائف مسترد کیے اور اسے ان الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر تم نے تابعداری اختیار نہ کی تو ہم تمہیں رسوا کر ڈالیں گے لیکن جونہی ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور مشیروں کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انھوں نے اسے مسلمان کرنے کے لیے جبر کی بجائے حکمت کا انداز اختیار فرمایا۔ پہلے اس کے تخت میں تبدیلیاں کروائیں، پھر ملکہ سے اس تخت کے بارے میں استفسار فرمایا۔ ملکہ نے بغیر کسی دقّت کے اپنا تخت پہچان لیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) چاہتے تھے اسے کھل کر سابقہ عقیدہ کے باطل ہونے کا ادراک ہوجائے۔ اس لیے انھوں نے ملکہ اور اس کے وفد کو ایسے محل میں ٹھہرنے کا حکم دیا کہ جس کے میں دروازے کے سامنے شیشے کا فرش لگا ہوا تھا۔ ملکہ نے پانی سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے پانچے اوپر کرلیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے توجہ دلائی کہ پانی نہیں بلوری فرش ہے۔ اس بات سے اس کے دماغ پر ٹھوکر لگی اور فوراً کہہ اٹھی اے میرے رب میں نے تیرے ساتھ شرک کرکے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ اس رب کی تابع ہوئی جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے شیشے کے فرش کے ذریعے یہ حقیقت باور کروائی کہ شرک ایک واہمہ ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دانا عورت تھی اشارہ سمجھ کر فوراً توحید باری تعالیٰ کا اعتراف کرتی ہے اور مسلمان ہوگئی۔ بعض مفسرین نے اسرائیلی روایات کے تحت لکھا ہے کہ اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسے اپنے حرم میں شامل کرلیا۔ (اللہ اعلم ) البتہ یہ حقیقت ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد تاریخ سے اس کی حکمرانی ثابت نہیں ہوتی۔
Ayahs 27:45–46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

” اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کی بندگی کرو بس پھر وہ دومتحارب گروپ بن گئے۔ (45)

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو۔ نیکی کی بجائے برائی کے لیے کیوں جلدی کرتے ہو۔ کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شاید تم پر رحم کیا جائے۔ “ (46)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر۔ جونہی حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیا تو ان کی قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ توحید خالص کا انکار کرنے والے لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں سے جھگڑنے لگے۔ جوں ہی صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تو ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی ایک گروہ ایمان لانے والوں کا اور دوسرا گروہ انکار کرنے والوں کا تھا۔ دونوں گروہوں کے درمیان زبردست کش مکش شروع ہوگئی جس طرح قرآن مجید نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے : (قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْن قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا بالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْن)[ الاعراف : 75۔ 76] ” اس کی قوم میں سے جو سردار اپنی بڑائی پر فخر کرتے تھے انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو کمزور بنائے گئے تھے کیا واقعی تم جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا رسول ہے ؟ ایمان والوں نے جواب دیا ہم اس دعوت پر ایمان رکھتے ہیں جس کے ساتھ حضرت صالح (علیہ السلام) بھیجے گئے ہیں۔ متکبرین نے کہا جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کا ہم تو انکار کرتے ہیں۔ “ (الاعراف : 75۔ 76) حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم بغاوت میں یہاں تک آگے بڑھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگنے کی بجائے صالح (علیہ السلام) سے بار بار یہ مطالبہ کیا اگر آپ واقعی اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہونا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی انہیں بار بار پھر سمجھایا کہ اے میری قوم تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ کہ تم اللہ تعالیٰ کا کرم مانگنے کی بجائے اس کا عذاب مانگ کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کی بخشش کیوں نہیں مانگتے ؟ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ” اَلْحَسَنَۃٌ“ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انتہائی خوبصورت ہو اور اس کی طرف انسان کا دل مائل ہو۔ یہ دنیا کی کوئی بھی نعمت ہوسکتی ہے اور یہ لفظ نیکی اور خیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ نیکی سے بڑھ کر نیک آدمی کو کوئی چیز مرغوب نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلہ میں السیءۃ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد دنیا کا ہر قسم کا نقصان ہے خواہ وہ بیماری کی شکل میں ہو یا مالی خسارے کی صورت میں اس کے لیے السَّیِءَۃٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے گناہ کو بھی سَیِءَۃٌ کہا جاتا ہے۔ مسائل ٍ 1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو توحید خالص کی دعوت دی تو ان کی قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ 2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے بار بار ان سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ 3۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو توبہ و استغفار کے لیے کہا لیکن وہ اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ تفسیر بالقرآن توبہ و استغفار کے فائدے : 1۔ اپنے پروردگار سے توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ تمہیں خوشی و عیش دے گا۔ (ہود : 3) 2۔ اپنے رب سے بخشش طلب کرو وہ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا۔ (ہود : 52) 3۔ تم اللہ سے بخشش طلب کرو میرا رب تمہاری توبہ قبول کرے گا۔ (ہود : 61) 4۔ اپنے رب سے بخشش طلب کرو وہ تمہیں معاف کردے گا اور بارش، مال اور اولاد سے نوازے گا۔ (نوح : 10۔ 12) 5۔ اللہ سے بخشش طلب کرو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ (المزمل : 20) 6۔ جب تک لوگ بخشش طلب کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انہیں عذاب نہیں دیں گے۔ (الانفال : 33)
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

” انہوں نے کہا تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ صالح نے جواب دیا تمہاری بدشگونی کا معاملہ اللہ کو معلوم ہے حقیقت یہ ہے کہ تمہاری آزمائش کی جارہی ہے۔ “ (47)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے خلاف پر اوپیگنڈا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے خلاف زور و شور کے ساتھ پر اوپیگنڈہ کیا کہ جب سے صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے یہ کام شروع کیا ہے قوم کا اتحاد ختم ہوا اور گھر گھر اختلاف پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ملک کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔ ہمارا دن رات کا سکون لٹ گیا ہے شعیب اور اسکے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے یہ ہوا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ یہ نحوست ہماری وجہ سے نہیں بلکہ تمہاری وجہ سے ہے۔ تمہیں اپنے فکر و عمل پر غور کرتے ہوئے یہ بات سوچنی چاہیے کہ تم بہت بڑی آزمائش میں مبتلا کیے گئے ہو۔ آزمائش سے مراد حق و باطل کی آویزش اور اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے جس سے صالح (علیہ السلام) نے انھیں یہ کہہ کر آگاہ کیا تھا۔ اگر تم نے توبہ استغفار نہ کیا تو ٹھیک تین دن کے بعد تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ لَا طِےَرَۃَ وَخَےْرُھَا الْفَالُ قَالُوْا وَمَا الْفَالُ قَالَ الْکَلِمَۃُ الصَّالِحَۃُ ےَسْمَعُھَا اَحَدُکُمْ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب الجذام ] حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا ‘ آپ نے فرمایا بد شگونی جائز نہیں البتہ فال بہتر ہے صحابہ کرام ؓ نے دریافت کیا کہ فال کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ‘ اچھا کلمہ جو تمہیں سنائی دے۔ مسائل 1۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو منحوس قرار دیا۔ 2۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو آزمائش سے آگاہ فرمایا تھا۔ تفسیر بالقرآن آزمائش کی شکلیں اور انبیاء پر منحوس ہونے کا الزام : 1۔ پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا۔ (العنکبوت : 3) 2۔ ڈر سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 3۔ فاقوں سے آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 4۔ مال و جان کی کمی کے ساتھ آزمائش۔ (البقرۃ : 155) 5۔ آل فرعون نے کہا موسیٰ اور اس کے ساتھی منحوس ہیں۔ ( الاعراف : 131) 6۔ قوم نے تین پیغمبروں کو منحوس قرار دیا۔ ( یٰس : 18۔ 19)
Ayahs 27:48–50

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

” اس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں اصلاح کی بجائے فساد پھیلاتے تھے۔ (48)

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے آپس میں کہا اللہ کی قسم کھا کر عہد کر و کہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے وراثوں سے کہیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہیں تھے اور ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔ (49)

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

انہوں نے یہ سازش کی اور ہم نے بھی ایک چال چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کے نمائندوں کا حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مذموم منصوبہ۔ صالح (علیہ السلام) کی قوم کا مسکن شمال مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحجر کے نام سے موسوم ہے جو مدینہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے جسے مدائن صالح کہتے ہیں یہی ثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا۔ وسیع رقبے میں ان کی عمارتوں کے گھنڈرات پائے جاتے ہیں۔ جن کو قوم ثمود نے پہاڑتراش تراش کر بنایا تھا ان گھنڈرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی زمانے میں اس کی آبادی لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے نوبڑے سردار تھے۔ جنھوں نے مل بیٹھ کر منصوبہ بنایا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو قتل کردینا چاہیے۔ اس بات کو صیغہ راز میں رکھنے کے لیے انھوں نے آپس میں قسمیں اٹھائیں اور یہ بھی طے کیا کہ اگر صالح (علیہ السلام) کا کوئی وارث اس کیس کو اٹھانا چاہے تو ہم کہیں گے کہ اس کام میں ہم کسی طرح بھی ملوث نہیں ہیں۔ سب کو یہی بات کہنا چاہیے تاکہ ہم سچے ثابت ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے رات کے وقت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایمان والے ساتھیوں پر یکبارگی حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو بچانے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ لفظ مکر کے بارے میں سورة آل عمران کی آیت کی 54 تفسیر میں ذکر ہوچکا ہے کہ مکر کا لفظ لوگوں کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنٰی مکر و فریب اور سازش ہوتا ہے اگر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی اللہ تعالیٰ کی تدبیر اور اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے نو نمائندے تھے گویا کہ نوقبائل یا نو پارٹیاں تھیں۔ جو سب کے سب اس بات پر متفق تھے کہ صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو قتل کردینا چاہیے۔ جس طرح انھوں نے صالح (علیہ السلام) کے خلاف منصوبہ بندی کی اور اس کے نتیجہ میں تباہ و برباد ہوئے۔ اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے خلاف اہل مکہ نے منصوبہ بندی کی اور ذلیل ہوئے۔ (وَ اِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ ) [ الانفال : 30] ” اور جب کفر کرنے والے لوگ آپ کے خلاف تدبیریں کر رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو ملک بدر کردیں وہ سازش کررہے تھے اور اللہ بھی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ قوم کے نو لیڈروں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے خلاف مذموم منصوبہ بنایا۔ 2۔ قوم کے نمائندوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو قتل کرنے کی قسمیں اٹھائیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مذموم منصوبہ کو ناصرف ناکام کیا بلکہ انھیں تباہ و برباد کردیا۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو جلانے کی کوشش کی۔ ( الانبیاء : 68) 2۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔ ( الاعراف : 88) 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ۔ ( المؤمن : 28) 4۔ آپ غمزدہ نہ ہوں اور کفار کے مکرو فریب سے تنگی محسوس نہ کریں۔ (النحل : 127) 5۔ نبی کریم کو حق سے پھیر دینے کے لیے کافروں نے سازش کی۔ (البقرۃ : 109) 6۔ کفار نے نبی اکرم کو قتل کرنے اور ملک بدر کرنے کی سازش کی۔ (الانفال : 30)
Ayahs 27:51–53

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

” آپ دیکھ لیں کہ ان کی سازش کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا ان کو اور ان کی پوری قوم کو۔ (51)

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

ان کے گھر خالی پڑے ہیں اس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے۔ اس میں نشان عبرت ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔ (52)

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور بچا لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور وہ پرہیزگار تھے۔ “ (53)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔ 1۔ قوم ثمود کو تین دن کی مہلت دی گئی۔ (ھود : 45) 2۔ قوم ثمود کو صبح کے وقت ہولناک دھماکے نے آلیا اور ان کی ترقی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ (الحجر 83۔ 84) 3۔ ہم نے ان پر ہولناک چیخ نازل کی وہ ایسے ہوگئے جیسے بوسیدہ اور سوکھی ہوئی باڑ ہوتی ہے۔ (القمر : 31) صالح (علیہ السلام) کی قوم کے انجام میں لوگوں کے لیے درس عبرت ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی کی چال کارگر نہیں ہوتی جو بھی مکروفریب سے کام لے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے صالح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح نشان عبرت بنا دے گا اور ان کی بستیاں آج بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِیُّ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاکِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ أَنْ یُّصِیبَکُمْ مَا أَصَابَہُمْ إِلَّا أَنْ تَکُونُوا باکِینَ ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَہٗ وَأَسْرَعَ السَّیْرَ حَتَّی أَجَازَ الْوَادِیَ ) [ رواہ البخاری، کتاب المغازی، باب نزول النبی الحجر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ حجر کے مقام سے گزرے تو آپ نے فرمایا ان لوگوں کے مقام سے نہ گزرا کرو۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہیں تم پر وہ آفت نہ آن پڑے جو ان پر آن پڑی تھی۔ اگر گزرنا نا گزیر ہو تو روتے ہوئے گزرا کرو۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکایا اور سواری کو تیز کیا یہاں تک کہ اس وادی سے گزر گئے۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ أَمَرَہُمْ أَنْ لاَ یَشْرَبُوا مِنْ بِءْرِہَا، وَلاَ یَسْتَقُوا مِنْہَا فَقَالُوا قَدْ عَجَنَّا مِنْہَا وَاسْتَقَیْنَا فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَطْرَحُوا ذَلِکَ الْعَجِینَ وَیُہَرِیقُوا ذَلِکَ الْمَاءَ وَیُرْوَی عَنْ سَبْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ وَأَبِی الشُّمُوسِ أَنَّ النَّبِیّ ﷺ أَمَرَ بِإِلْقَاء الطَّعَامِ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ عَنِ النَّبِیَّ ﷺ مَنِ اعْتَجَنَ بِمَاءِہِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَإِلَی ثَمُودَ أَخَاہُمْ صَالِحًا)] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آتے ہوئے حجر میں اترے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اس کنواں سے نہ پانی پئیں اور نہ اس سے پلائیں انہوں نے کہا ہم نے تو اس سے آٹا گوندہ لیا ہے اور پانی بھر لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا آٹے کو پھینک دو اور پانی بہا دو ۔ حضرت سبرۃ بن معبد اور ابی الشموس بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کھانا گرانے کا حکم دیا۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں آپ نے کھانا گرانے کا انہیں حکم دیا تھا جنہوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا تھا۔ “ مسائل 1۔ تباہ شدہ اقوام کی تاریخ اور ان کے آثارات کو عبرت کی نگاہ سے پڑھنا اور دیکھنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو عذاب سے محفوظ رکھا۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ اور اس کے دنیا و آخرت میں فوائد : 1۔ صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : 49) 2۔ متقین کے لیے جنت ہے۔ (الحجر : 45) 3۔ قیامت کے دن متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26) 4۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : 31 تا 33) 5۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو بےخوف ہوں گے۔ ( یونس : 62) 6۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : 34) 7۔ متقی کے کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : 4 تا 5) 8۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35)
Ayahs 27:54–58

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

” اور لوط کو ہم نے بھیجا یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم سر عام بدکاری کرتے ہو ؟۔ (54)

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ انتہا درجے کی جہالت کا کام کرتے ہو۔ (55)

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ (56)

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

آخرکار ہم نے بچا لیا اس کو اور اس کے گھروالوں کو سوائے اس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر رکھا تھا۔ (57)

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

نازل کی ان لوگوں پر بارش بہت ہی بری بارش تھی ان لوگوں کے لیے جنہیں متنبہ کیا گیا تھا۔ “ (58)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ نہ معلوم انہوں نے کتنی مدّت تک قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے سمجھنے کی بجائے ان سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں نیست ونابود کردیا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو۔ مسافروں پر ڈاکہ ڈالتے ہو اور ہر قسم کی برائی کرتے ہو۔ (العنکبوت : 29) قوم کا جواب : اسے اور اس کے ساتھیوں کو شہر سے نکال دیا جائے۔ اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : 29) قوم کے مطالبے پر اللہ کا عذاب : ” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے (تہس نہس) کردیا اور اس پر تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) زدہ تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “ [ ھود : 82، 83] (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ وَجَدْتُمُوہُ یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِہِ ) [ رواہ ابوداؤد : باب فیمَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی کو قوم لوط والا فعل کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔ “ مسائل 1۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جنس پرستی کا شکار تھی۔ 2۔ قوم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو علاقہ سے نکال دینے کی دھمکی دی۔ 3۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ان کی قوم کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ 4۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو عذاب سے بچا لیا گیا۔ تفسیر بالقرآن اقوام کی تباہی کا ایک منظر : 1۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : 23) 2۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب ہم جنسی کرنا تھی۔ (الاعراف : 81) 3۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا سبب ماپ تول میں کمی تھی۔ (ھود : 84، 85) 4۔ قوم عاد کی تباہی کا سبب رسولوں کی نافرمانی تھی۔ (ھود : 59) 5۔ قوم ثمود نے اونٹنی کا معجزہ مانگا اور پھر اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ (ھود : 64، 65)
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

” اے نبی فرما دیں کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور ” اللہ “ کے ان بندوں پر سلام ہو جنہیں اس نے منتخب فرما لیا۔ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں وہ اس کا شریک بنا رہے ہیں۔ “ (59)

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی اقوام کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد سورة کا اختتام ان الفاظ پر کیا جا رہا ہے کہ تمام تعریفات ” اللہ “ کے لیے ہیں اور اولولعزم انبیاء پر ان کے رب کی طرف سے سلام ہو۔ اس موقعہ پر رب ذوالجلال نے اپنی تعریف کے الفاظ اس لیے استعمال فرمائے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی ایسی طاقت تھی اور نہ ہے جو متکبر اور باغی اقوام کے وجود سے زمین کو پاک کرسکے۔ اقوام کی انتہا درجے کی مخالفت کے باوجود انبیاء نے اپنے کام کا حق ادا کیا جس پر اللہ کی رحمت کے حق دار قرار پائے لہٰذا ہمیشہ ہمیش کے لیے ان پر ” اللہ “ کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورۃ کے آخر میں قوم صالح اور قوم لوط کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہے ان لوگوں پر جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کام کے لیے منتخب فرمایا اس کے بعد مشرکین سے استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ہر حال میں اللہ بہتر ہے یا جن کو شریک بناتے ہو وہ بہتر ہیں ؟ قوموں کی تباہی کے بعد نبی اکرم ﷺ کو الحمدللہ کہنے کا اس لیے حکم فرمایا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے اپنے منتخب بندوں یعنی انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کفار اور مشرکین کے مقابلے میں کامیابی عنایت فرمائی۔ دنیا کو ظلم وستم اور کفرو شرک کی غلاظت سے پاک کیا۔ اس میں سرور دو عالم ﷺ اور آپ کے مخالفوں کے لیے پیغام ہے کہ بالآخر آپ اور آپ کے ساتھی کامیاب ہوں گے۔ کفار اور مشرکین ناکام اور نامراد ٹھہریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں توجہ دلائی ہے کہ سوچو اور غور کرو ! کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو انھیں کوئی بچانے اور چھڑانے والا تھا ؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا پھر سوچ لو ! تمہارے لیے ہر حال میں اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا جن کو اس کا شریک بناتے ہو وہ بہتر ہیں ؟ اس کے ساتھ اس بات پر بھی غور کرو کہ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری میں بہتری ہے یا بغاوت کی زندگی بہتر ہے۔ یہاں سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوا کہ خطبہ اور تقریر سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنے کے ساتھ انبیاء کرام (علیہ السلام) پر درود وسلام پڑھنے کے ساتھ نیک لوگوں کے لیے دعائے خیر کرنی چاہیے۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

” بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس نے اس کے ذریعہ سبز و شاداب باغ اگائے جن کا اگانا تمہارے بس میں نہیں تھا کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ بلکہ یہی لوگ حق سے ہٹ کر پھرنے والے ہیں۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں سے کیے گئے سوال کا تفصیلی جواب۔ انیسویں پارے کا اختتام اس سوال پر ہوا کہ اے لوگو ! بتلاؤ کہ انسان کے لیے ہر حال میں ” اللہ “ بہتر ہے یا اس کے سوا دوسرے ؟ اب اس کا تفصیلی جواب دیا جاتا ہے۔ بتاؤ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا، کون آسمان سے بارش برساتا ہے اور کون اس کے ساتھ سبز و شاداب اور لہلہاتے ہوئے باغ پیدا کرتا ہے جن کے اگانے کی تم قدرت نہیں رکھتے۔ کیا ” اللہ “ کے ساتھ کوئی اور بھی یہ کام کرنے والا ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں یا وہ کرسکتا ہو۔ ہر دور کے مشرک اس حقیقت کو مانتے اور مانتے رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی نے زمین و آسمان پیدا کیے ہیں نہ کوئی بارش برساسکتا ہے اور نہ ہی باغات اگا سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اپنے معبودوں کو ” اللہ “ کے شریک ٹھہراتے ہیں۔” یَعْدِلُوْنَ “ کا لفظ عدل سے نکلا ہے عدل کا معنی ہے انصاف کرنا، کسی کو کسی کے برابر ٹھہرانا اور ظلم کرنا۔ عدل ایسا لفظ ہے جس کا معنٰی اس کے سیاق وسباق سے متعین ہوتا ہے یہاں عدل کا معنٰی زیادتی کرنا اور کسی کو ” اللہ “ کے برابر ٹھہرانا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت کے دلائل اور توحید کے ثبوت مختلف الفاظ اور انداز میں انسان کے ذہن نشین کراتے ہیں۔ تاکہ انسان اپنے خالق کی پہچان حاصل کرے اور اس کے ساتھ شرک کرنے سے باز آجائے۔ گویا کہ ربوبیت کے دلائل دینے کا مقصد الوہیت ثابت کرنا ہے۔” اللہ “ کی الوہیت کو بلاشرکت غیرے مانے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ کیا ایک درخت بھی اللہ کے علاوہ کوئی اور پیدا کرسکتا ہے ؟ صرف ایک درخت کے لیے سب سے پہلے تو ایسی زمین ہونی چاہیے جس میں روئیدگی کی قوت ہو جہاں درخت اپنی جڑیں پھیلا سکے۔ پھر اس کے لیے بارش کی ضرورت ہے پھر روشنی اور اندھیرے کی ضرورت ہے پھر ہوا کی ضرورت ہے نہ معلوم ایک بیج کو نئے بیج تک پہنچنے کے لیے کس کس چیز کی ضرورت ہے۔” اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی جانتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے۔ مسائل 1۔ زمین و آسمانوں کو ” اللہ “ ہی نے پیدا فرمایا ہے۔ 2۔ ” اللہ “ ہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔ 3۔ ” اللہ “ ہی زمین میں باغ و بہار پیدا کرتا ہے۔ 4۔ ان کاموں میں ” اللہ “ کا نہ کوئی شریک تھا نہ ہے اور نہ کوئی ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود مشرک اپنے رب کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا : 1۔ ” اللہ “ بارش نازل کرتا ہے۔ (النور : 43) 2۔ ” اللہ “ ہی پانی کے ذریعے باغات اور نباتات اگاتا ہے۔ (الانعام : 100) 3۔ ” اللہ “ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117) 4۔ ” اللہ “ نے سات آسمان اور سات زمینیں بنائیں۔ (البقرۃ : 29) 5۔ ” اللہ “ نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29) 6۔ ” اللہ “ نے آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22) 7۔ ” اللہ “ نے زمین و آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : 54)
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

” اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا چلائے اور اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں اور دو دریاؤں کے درمیان پردہ حائل کردیا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (61)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ لوگو ! بتاؤ کہ کس نے زمین میں ٹھہراؤ پیدا کیا، اس میں دریا اور نہریں چلائیں، کس نے بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ بنائے اور کس نے دو سمندروں کے درمیان ایک پردہ بنایا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بنانے والا ہے ؟ جس نے یہ کام کیے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے یہ کام نہیں کیے۔ دلائل جاننے کے باوجود لوگوں کی اکثریت توحید کے علم سے نابلد ہے۔ سوالات کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین عظیم قدرتوں کا ذکر کیا ہے۔ قرار کے لفظ پر آپ جتنا غور کریں گے اتنے ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شان ربوبیت کے کرشمے آپ کو یہاں نظر آئیں گے۔ انسانی زندگی کی بقا اور نشونما کے لیے زمین میں کس کس خاصیت کا پایا جانا ضروری ہے اور کون کون سی ایسی چیزیں ہیں جو زمین میں موجود نہ ہوں تو انسانی زندگی اپنی رعنائیوں اور مسرتوں سے یکسر خالی ہوجائے، جس سے اب اس کا دامن معمور ہے۔ کون کون سی چیزیں ہیں اگر ان کا سراغ نہ لگایا جائے تو بےپناہ قوّتیں جو زمین کی فطرت میں مضمر ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بےکار پڑی رہیں۔ قرار کے لفظ پر آپ جتنا غور کرتے چلے جائیں گے معارف ومعانی کا ایک لا متناہی سلسلہ آپ کے سامنے بےنقاب ہوتا چلا جائے گا یہاں نیو یارک سائنس اکیڈمی کے پریذیڈنٹ اے سی موریسن کے مضمون کا مختصر اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔ ” زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر کاٹ رہی ہے اگر اس کی رفتا ایک ہزار میل کی بجائے ایک سو میل ہوتی تو دن اتنے لمبے ہوتے کہ سورج کی تپش تمام کھیتوں کو بھون کر رکھ دیتی اور راتیں اتنی لمبی اور سرد ہو تیں کہ زندگی کی اگر کچھ رمق سورج کی تپش سے بچ جاتی تو رات کی سردی اسے منجمد کر کے رکھ دیتی۔ سورج کا درجۂ حرارت بارہ ہزار ڈگری فارن ہیٹ ہے لیکن زمین کو اس سے اتنی مناسب دوری پر رکھ دیا گیا ہے کہ وہاں سورج کی حرارت اس قدر ہی پہنچتی ہے جو حیات بخش ہے۔ اگر اٹھارہ ہزار ڈگری ہوتا تو ساری زمین اس کی تمازت سے جل کر راکھ ہوجاتی۔ زمین کا جھکاؤ تیئس درجے کا زاویہ بناتا ہے اور اسی جھکاؤ سے ہمارے موجودہ موسم مناسب وقفوں کے بعد باری باری آتے ہیں۔ اگر اس میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھنے والے بخارات جنوب اور شمال میں حرکت کرتے اور اتنی زور سے برف باری ہوتی کہ ساری زمین ڈھک جاتی۔ اگر چاند کی دوری زمین سے اتنی نہ ہوتی جتنی اب ہے بلکہ صرف پچاس ہزار میل ہوتی تو سمندروں میں مدجزر اس شدت سے آتا کہ پہاڑوں تک کو بھی بہا کرلے جاتا۔ اگر زمین کی سطح موجودہ سطح سے صرف دس فٹ زیادہ موٹی ہوتی تو یہاں آکسیجن ہی نہ ہوتی اور کوئی جانور زندہ نہ رہتا اور اگر سمندر چند فٹ اور گہرے ہوتے تو ساری کاربن ڈائی اکسائیڈ اور آکسیجن صرف ہوجاتی اور روئے زمین پر کوئی سبز پتہ نظر نہ آتا۔ اس حکیمانہ نظام پر غور کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کارخانۂ ہستی اتفاقاً معرض وجود میں نہیں آیا بلکہ ایک حکیم ودانا خالق نے اس کی تخلیق فرمائی ورنہ زندگی کا کوئی امکان نہ تھا۔ (بحوالہ : ضیاء القرآن ) جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ ساحل کے نزدیکی مقامات پر جہاں دریا کا تازہ میٹھا اور (سمندر کا) نمکین پانی آپس میں ملتے ہیں وہاں کی کیفیت ان مقامات سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔ جہاں دو سمندوں کے نمکین پانی آپس میں ملتے ہیں یہ دریافت ہوا ہے کہ کھاڑیوں (estuaries) میں تازہ پانی کو کھاری پانی سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ ” پکنواکلائن زون “ (Pycnocline Zone) ہے جس کی کثافت غیر مسلسل ہوتی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے جو کھاری اور تازہ پانی کی مختلف پرتوں (Layers) کو ایک دوسرے سے الگ رکھتی ہے۔ اس رکاوٹ (یعنی علاقۂ امتیاز) کے پانی میں نمک کا تناسب (شوریت) تازہ پانی اور کھاری پانی دونوں ہی سے مختلف ہوتا ہے۔ اس مظہر کا مشاہدہ بھی متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ جن میں مصر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ جہاں دریائے نیل، بحیرہ روم میں گرتا ہے۔ ارضیات میں ” بل پڑنے “ (Folding) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشر ارض (Crust) میں بل پڑنے کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے ہیں۔ قشر ارض جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس چھلکے کی طرح ہے، جب کہ کرۂ ارض کی اندرونی پرتیں، (Layers) نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعًا غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پہاڑوں کی قیام پذیری (Stability) کا تعلق، قشر ارض میں بل پڑنے کے عمل سے بہت گہرا ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر تقریباً 035، 6 کلومیٹر ہے اور قشر ارض، جس پر ہم رہتے ہیں، اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی 2 کلومیٹر سے لے کر 35 کلومیٹر تک ہے۔ چونکہ قشر ارض بہت پتلی ہے، لہٰذا اس کے تھرتھرانے یا ہلنے کا امکان بھی بہت قوی ہے، اس میں پہاڑ خیمے کی میخوں کا کام کرتے ہیں جو قشرارض کو تھام لیتی ہیں اور اسے قیام پذیری عطا کرتے ہیں۔ یہی بات قرآن پاک میں ارشاد ہوئی : (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وََّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ ) [ النباء : 6۔ 7] ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ “ earth نام کی ایک کتاب ہے جو دنیا بھر کی کئی جامعات میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس کا بھی ہے، جو 12 سال تک امریکہ کی اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل جیسی شکل (Wedge Shape) سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو :earth از : پریس اور سلور ڈاکٹر فرینک پریس کے مطابق، قشر ارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پہاڑوں کے فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے، قرآن پاک واضح طور پر یہ فرماتا ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرز تے رہنے سے بچائیں :