Ayah 27:62فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ مزید سوال اور جواب۔
ان آیات میں مشرکین کو سوال و جواب کی صورت میں عقیدہ توحید سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مشرک کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی اور کامیابی کے وقت خالق حقیقی کو بھول جاتا ہے لیکن جب ہر طرف سے مایوس اور لاچار ہوجائے تو پھر اپنے رب کو آواز پر آواز دیتا ہے۔ انسان انتہائی مجبوری اور بےانتہا معذوری کے وقت اپنے رب کو پکارتا ہے تو رب کریم اسے ٹھکرانے اور مایوس کرنے کی بجائے اسے اطمینان اور تسلی دیتے ہوئے آواز دیتا ہے :
(قُلْ ےَا عِبَادِیَ الَّذِےْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ ےَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِےْعًا إِنَّہُ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِےْمُ ) [ الزمر : 53]
” اے نبی ! بتلا دیں کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیے ہیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کرنے والا ہے غفور الرّحیم ہے۔ “
جب ” اللہ “ ہی لاچار کی دعا سنتا اور وہی اس کی داد رسی کرتا ہے تو پھر انسان کا فرض ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارا کرے۔ لیکن مشرک اس قدر ناعاقبت اندیش ہوتا ہے کہ وہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے زندہ یا مردہ معبودوں کو پکارتا ہے حالانکہ اس کی مشکل کشائی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ لیکن بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشرک اس بات پر بھی غور نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے۔ جس طرح ہر انسان اپنے بڑوں کے بعد ان کی وراثت اور دیگر امور کا جانشین بنتا ہے اسی اصول پر پوری دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ آج ایک قوم پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔ کل اس کی جگہ پر دوسری قوم کا پھر یرا لہرارہا ہوتا ہے۔
یہی صورت حال مختلف ممالک کی ہے کل کسی اور جماعت کی حکومت تھی آج دوسری پارٹی اقتدار سنبھالے ہوئے ہے۔ کون چاہتا ہے کہ میں سب کو چھوڑ چھاڑ کر رخت سفر باندھوں ؟ کوئی نہیں سوچتا کہ میں اپنا اقتدار اور اختیار دوسرے کے حوالے کردوں لیکن اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا اچھا یا برا جانشین بناتا ہے۔ بالفاظ دیگر سدا اقتدار اور اختیار صرف اسی کو زیبا ہے لیکن اقتدار اور اختیار کو سب کچھ سمجھنے والے انقلاب زمانہ سے نصیحت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
مسائل
مشرک ان تین سوالات کا بھی جواب نہیں دے سکتا۔
1۔ اللہ تعالیٰ ہی لاچار اور مجبور کی دعاؤں کو سننے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی تکلیف کو دور کرنے والا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے۔
4۔ عقیدہ توحید کھلی حقیقت ہونے کے باوجود لوگوں کی اکثریت اسے قبول نہیں کرتی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں :
1۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
2۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61)
3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62)
4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63)
5۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
6۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
7۔ کیا اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : 71)
8۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ جو دن ختم کرکے رات لائے ؟ (القصص : 72)
9۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کوئی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88)
10۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے وہ رحمن، رحیم ہے۔ (البقرۃ : 163) 11۔ وہی اکیلا ہی زمین و آسمانوں کا الٰہ ہے۔ ( الزخرف : 84)
Ayah 27:63فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ حق ہونے پر بحر و بر اور ہواؤں کے حوالے سے دلائل۔
اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت کے تین دلائل دیے ہیں جن میں سے دو کے ساتھ ہر شخص کا واسطہ پڑتا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جسے تھوڑے بہت سفر کے ساتھ واسطہ نہیں پڑتا۔ یہی صورت بارش کی ہے جس سے پہلے ہر ملک اور علاقہ میں ہوائیں چلتی ہیں۔ خاص طور پر شدید گرمی کے موسم میں جب لوگ بارش کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی دعاؤں کو مستجاب کرتے ہوئے بادل نمودار کرتا ہے۔ بادلوں سے پہلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے ہیں جس سے طبیعت بہلتی اور جسم و جان کو راحت ملتی ہے۔ ظاہر ہے ٹھنڈی ہوائیں چلانا، بحر و بر کے سفر میں مسافروں کی رہنمائی کرنا صرف ” اللہ تعالیٰ “ کا کام ہے۔ جو الٰہِ حق ہے۔ ان آیات میں الٰہ کا مفہوم سمجھایا جا رہا ہے گویا کہ ” اللہ “ کی ربوبیت کے دلائل سے اس کی الوہیت ثابت کی جا رہی ہے۔
استفسار کیا ہے کہ اے مسافرو اور ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونے والو ! بتاؤ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے جو بحر وبر کے سفر میں تمہاری رہنمائی کرے اور ٹھنڈی ہوائیں چلا کر تمہارے جسم و جان کو راحت پہنچائے ؟ زمین و آسمانوں میں کوئی ہستی ایسی نہیں جو ان میں سے کوئی ایک کام کرسکے۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے مشرکانہ تصورات اور اعمال سے بلند وبالا ہے۔ لیکن مشرک اپنی ذہنی پستی کی بناء پر شجر وحجر، شمس و قمر، بتوں اور قبروں میں مدفون لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
الٰہ حقیقی نے ہی ستاروں کے ذریعہ سے ایسا انتظام کیا ہے کہ لوگ رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں اسی الٰہ نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے ایسے ذرائع رکھے ہیں جن سے مسافر اپنی سمت سفر اور منزل مقصود کی راہنمائی پاتا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔
مسائل
دو سوال جن کا مشرک کے پاس جواب نہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ ہی بحر و بر میں مسافروں کی رہنمائی کرتا ہے :
2۔ اللہ تعالیٰ ٹھنڈی ہوائیں چلا کر بارش کی خوشخبری دیتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے عقائد اور کردار سے بلند وبالا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی بحر و بر میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے :
1۔ بحرو بر میں رہنمائی کرنے والا ” اللہ “ ہے اس کا انکار کیوں ؟ (النمل : 63)
2۔ ” اللہ “ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ بحر و برّ کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام : 59)
3۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جو تمہیں بحروبر میں چلاتی ہے۔ (یونس : 22)
4۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے دریاؤں کو مسخر کردیا تاکہ تم اس سے تروتازہ گوشت حاصل کرو۔ (النحل : 14)
5۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کی ہر چیز مسخر کردی، دریاؤں میں کشتیاں اسی کے حکم سے چلتی ہیں۔ (الحج : 65)
6۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جو تمہیں بحروبر کے اندھیروں سے نجات دیتا ہے۔ (الانعام : 63)
7۔ کیا تم بےخوف ہوگئے ہو کہ ” اللہ “ تمہیں دریا کے کنارے زمین میں دھنسا دے اور تم پر تندوتیز آندھی بھیج دے۔ (بنی اسرائیل : 68)
Ayah 27:64فہم القرآن
ربط کلام : تو حد کے دلائل جاری ہیں۔ مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنا اور پھر اسے اپنی طرف لوٹانا، لوگوں کو زمین و آسمان سے رزق مہیا کرنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی اور شریک اور سہیم نہیں ہے۔
سورۃ البقرۃ آیت 117 میں ارشاد ہے کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے زمینوں، آسمانوں کو بغیر کسی نقشے اور پہلے سے موجود میٹریل کے پیدا فرمایا۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف ” کُن “ فرماتا ہے اور وہ چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے عین مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة الانعام آیت 101 میں یہ الفاظ استعمال فرمائے کہ اللہ ہی ذات واحد ہے جس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ نہ اس کی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد، اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے وہ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں کامل اور اکمل علم رکھتا ہے اور وہی ابتداء سے ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر ایک کو اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا۔ نہ صرف اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے بلکہ وہ ہر چیز کو اس کی ضروریات بھی فراہم کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی پرورش کا بندوبست ایسے مضبوط نظام کے ساتھ فرمایا ہے کہ ہر چیز کو زندگی اور بقا کے لیے جو کچھ اور جس قد رچاہیے اسے اسی حالت اور مقام پر پہنچایا جارہا ہے۔ پتھر کا کیڑا چاروں طرف بند چٹان کے اندر اپنی خوراک لے رہا ہے، مرغی کا بچہ انڈے میں پل رہا ہے، مچھلیاں دریا میں، پرندے ہوا میں، ستارے فضا میں، اور درندے صحرا میں اپنی اپنی خوراک اور ماحول میں مطمئن اور خوش وخرم دکھائی دیتے ہیں۔ دانہ اپنی آغوش میں زندگی اور بیج اپنے سینے میں نشوونما کا سامان لیے ہوئے ہے۔ زندگی کے لیے ہوا اور پانی اس قدر لازمی عناصر ہیں کہ ان کے بغیر زندگی لمحوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہ اتنے ارزاں اور وافر ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ پھول کی کلی کو جس ہوا اور فضا کی ضرورت ہے اسے مہیا کی جارہی ہے۔ اس لیے قرآن نے اللہ کی ہستی اور اس کے نظام ربوبیت سے بات کا آغاز کیا ہے تاکہ انسان کا وجدان پکار اٹھے کہ مجھے اس ہستی کا شکر ادا کرنا اور اسی کے تابع فرمان رہنا ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہ نظام اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کسی منتظم کے بغیر جاری اور قائم نہیں رہ سکتا۔ ایک زندہ ضمیر شخص جب اپنے چاروں طرف رب کی ربوبیت کے اثرات و نشانات دیکھتا ہے تو اس کے دل کا ایک ایک گوشہ پکار اٹھتا ہے۔
(فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) [ المؤمنون : 14]
” اللہ تعالیٰ برکت والا اور بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “
ان حقائق اور دلائل کے بعد مشرکین سے یہ استفسار کیا گیا ہے کہ بتائیں موت وحیات کا مالک اور مخلوق کی ضروریات پوری کرنے والا کون ہے ؟ اگر تمہارے زندہ یا مردہ، جاندار یا غیر جاندار معبودوں میں کسی ایک نے یا سب نے مل کر کوئی ایک کام کیا ہے یا کسی کی روزی کا ذمہ لے رکھا ہے تو دلیل پیش کرو۔
” کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ارض وسماوات کو کس نے پیدا کیا ہے۔ سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں سے جس کے لیے چاہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے کم کردیتا ہے۔ وہ یقیناً ہر بات سے خوب واقف ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا پھر اس پانی سے مردہ زمین کو کس نے زندہ کیا ؟ تو ضرور کہیں گے کہ ” اللہ نے “ کہیے پھر ہر طرح کی حمد بھی اللہ ہی کے لیے ہے مگر اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔ “ [ العنکبوت : 60 تا 63]
مسائل
دو سوال مشرک ان کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو اپنی طرف لوٹانے والا ہے۔
3۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی رازق ہے اس کے بغیر کوئی رزق دینے والا نہیں۔
4۔ مشرکین کے پاس شرک کی کوئی عقلی اور نقلی دلیل موجود نہیں۔ 5۔ مشرک اپنے عقیدہ اور مؤقف میں سراسر جھوٹا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرکین کا اقرار :
1۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ارض وسماوات کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ( العنکبوت : 61)
2۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً کہیں گے کہ انہیں زبردست اور سب کچھ جاننے والے نے ” اللہ “ پیدا کیا ہے۔ (لزخرف : 9 )
3۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر بادشاہت کس کی ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی ہے۔ (المومنون : 88۔ 89)
Ayahs 27:65–66فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے دلائل کا تسلسل۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز کا خالق اور رازق ہے بلکہ وہ اپنی مخلوق کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے
یہ حقیقت سچائی کی انتہا کو پہنچ چکی اور اس کے خلاف کوئی عقلی اور نقلی دلیل موجود نہیں ہے جس بناء پر ہر دور کا مشرک یہ حقائق تسلیم کرتا رہا اور کرتا رہے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، آسمان سے بارش اتارنے والا، بارش سے نباتات اگانے والا، زمین کو ٹھہرانے اور جمانے والا، زمین میں نہریں جاری کرنے والا، زمین پر مضبوط پہاڑ ٹھہرانے والا، دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کرنے والا، معذور اور مجبور کی دعا میں قبول فرمانے والا، بیماری اور مصیبت کو دور کرنے والا، لوگوں کو دوسرے کا جانشین بنانے والا، بحر و بر میں مسافروں کی رہنمائی کرنے والا، بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلانے والا، مخلوق کو فی البدیع پیدا کرنے والا ‘ موت کے بعد اپنی طرف لوٹانے والا اور ذی روح کو رزق دینے والا۔ ایک ” اللہ “ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اسی طرح زمین و آسمان کے غیب کو جاننے والا اس کے سوا کوئی نہیں۔ تو پھر کسی زندہ یا مردہ بزرگ کو اس کی خدائی میں شریک کرنے کا کیا معنٰی ؟ مشرک جن کو داتا، حاجت روا اور مشکل کشاء، دستگیر، غریب نواز کہتے ہیں ان کو یہ بھی خبر نہیں کہ انھیں کب اٹھایا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا انکار کرنے والوں کا علم ختم ہوچکا ہے یعنی ان کے پاس علم ہے ہی نہیں۔ حقیقت ہے کہ مشرک آخرت کا منکر ہوتا اگر اسے یقین ہو کہ قیامت کو اس سے شرک کے بارے میں سوال ہوگا تو کبھی شرک نہ کرے، مگر اس کے باوجود آخرت کے منکر شک میں مبتلا ہیں جس بنا پر قیامت پر یقین کرنے کے بارے میں اندھے ہوچکے ہیں۔ جنہیں ” اللہ “ کے سوا یا اس کے ساتھ پکارتے ہیں انھیں علم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے ؟
اللہ کے ہاں یہ درست نہیں کہ وہ ہر کسی کو اپنی تقدیر یعنی امور غائب سے مطلع کرتا رہے۔ ایک تو اس لیے کہ ہر شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بھید پانے اور برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے غیب کی اطلاع کے لیے پیغمبروں کو منتخب کر رکھا ہے۔ ان میں بھی جس پیغمبر کو جتنا چاہا امور غیب سے آگاہ فرمایا۔ لوگوں کا فرض ہے کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اگر کافر اور منافق بھی اخلاص کے ساتھ ایمان لائیں تو مخلص ایمانداروں کی طرح یہ بھی اجر عظیم پائیں گے۔ بعض لوگ پیروں ‘ فقیروں اور علماء کے حوالے سے ایسے واقعات لکھتے اور بیان کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ بھی غیب کے واقعات جانتے تھے۔ یہاں دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔ جہاں تک انبیاء کا معاملہ ہے ان کے بھی درجنوں واقعات ہیں کہ وہ غیب کا علم نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ انبیاء کرام خود تو غیب کا علم نہیں جانتے تھے لیکن انہیں عطائی علم غیب ضرور تھا۔ عطائی کا معنٰی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا اور عطا کردہ علم۔ علم غیب کی یہ تعریف بذات خود مضحکہ خیز ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انبیاء یا کسی کو کوئی بات بتلا دے تو وہ غیب کس طرح رہا۔ یہ بات علم غیب کی تعریف میں نہیں آتی اس لیے رسول کریم ﷺ کی زبان اطہر سے کئی بار یہ اعلان کروایا گیا کہ آپ از خود یہ اعلان فرمائیں کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔
مسائل
1۔ زمینوں، آسمانوں کا غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 2۔ مدفون بزرگوں کو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
3۔ عقیدۂ توحید اور آخرت کے بارے میں مشرک اندھے پن کا ثبوت دیتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کا علم کوئی نہیں جانتا :
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ (ھود : 31) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فرشتوں کے متعلق علم نہ ہوسکا۔ (ھود : 69)
3۔ حضرت لوط (علیہ السلام) فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔ (ھود : 77) 4۔ اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
5۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188)
6۔ آپ فرما دیں کہ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے۔ (یونس : 20)
7۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
8۔ اللہ کے خزانوں اور زمین و آسمان کے غائب کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ( الانعام : 50)
Ayahs 27:67–71فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے منکر اپنی بےعلمی اور متشکک طبیعت کی وجہ سے اندھے ہوچکے ہیں، ان کے اندھا پن کی دلیل۔
منکرین آخرت اپنے مؤقف کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں ” کیا ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ “ یہ ایسی بات ہے جس کا ہمارے باپ دادا اور ہم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے آج تک کوئی زندہ نہیں ہوا اور نہ ہم زندہ کیے جائیں گے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ یہاں صرف اس جواب پر اکتفا کیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! انھیں فرمائیں دنیا کی تاریخ پڑھو اور زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ قیامت کے منکروں اور اللہ کے باغیوں کا کیا انجام ہوا ؟ بار بار دلائل دینے اور سمجھانے کے باوجود یہ لوگ نہیں مانتے تو اے رسول ﷺ آپ کو ان کے انکار اور شرارتوں پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہاں آخرت کے منکروں کے لیے مجرم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جب آدمی یہ عقیدہ بنا لیتا ہے کہ مجھے اپنے اعمال کا مرنے کے بعد کسی کو جواب نہیں دینا ایسا شخص ظلم اور جرم کرتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں کرتا۔ بالخصوص وہ شخص جو کسی نہ کسی طرح لوگوں کی گرفت اور سزا سے بچنے کے اسباب رکھتا ہے۔ ایسا شخص انسانیت کی حدود سے نکل کر درندوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ آخرت کا انکار جرائم کا سب سے بڑا سبب ہے انسان کو آخرت کی جوابدہی کا فکر ہو تو وہ اقتدار اور اختیار رکھنے کے باوجود ظلم کرنے سے بچتا ہے۔ کیونکہ اس کا عقیدہ ہوتا ہے اگر میں کسی سبب قانون اور لوگوں سے بچ نکلا تو قیامت کے دن ضرور پکڑا جاؤں گا۔
مسائل
1۔ منکرین آخرت کے پاس آخرت کے انکار کی کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں ہے۔
2۔ آخرت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں بھی بدترین انجام ہوا۔
3۔ لوگوں کو تاریخ کا مطالعہ اور زمین پر چل پھر کر مجرموں کا انجام دیکھنا چاہیے۔
4۔ الدَّاعِیْ کو لوگوں کے کفر و شرک پر حد سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
مرنے کے بعد زندہ ہونے کے فکری اور عملی ثبوت :
1۔ اس بات پر تعجب ہے یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : 5)
2۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : 36 )
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ : 6)
4۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : 51)
5۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ کیا۔ ( المائدہ : 110)
6۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چار پرندے ذبح کروا کر انہیں زندہ کیا۔ ( البقرۃ : 260)
7۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر اور اس کے گدھے کو سو سال مردہ کرنے کے بعد زندہ کیا۔ ( البقرۃ : 259 )
8۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت کے بعد دوبارہ زندہ فرمایا۔ ( البقرۃ : 243)
9۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو 309 سال بعد نہیں اٹھایا تھا۔ (الکہف : 25 )
Ayahs 27:72–75فہم القرآن
ربط کلام : منکرین آخرت کو ایک اور انداز میں جواب۔
مکہ کے مشرک اس حد تک ہدایت سے بےتوفیق ہوئے کہ ان میں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کسی مردہ کی بوسیدہ ہڈی اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے بڑے غرور اور تمرد میں آکر کہتا ہے کہ اے محمد بتاؤ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” وہ ہمارے سامنے دلیل دیتا ہے اور اپنی تخلیق بھول گیا ہے۔ کہتا ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کون زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ پیدا کرنا جانتا ہے۔ “ (یٰس ٓ : 78۔ 79 کا)
اس واضح حقیقت اور ٹھوس دلیل کے باوجود پھر بھی وہ لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہو تو قیامت لاؤ یا عذاب کا وعدہ پوراکرو ؟ اے پیغمبر ! فرمادیجیے کہ جس کی تم جلدی کرتے ہو امید ہے کہ وہ قریب ہی آن پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے فضل و کرم کی بناء پر ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ تائب ہوجائیں مگر لوگ ڈھیل سے فائدہ اٹھانے اور مزید مہلت ملنے پر اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں۔ حالانکہ جو کچھ لوگ چھپاتے ہیں اور جو وہ اعلانیہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے نہ صرف وہ زمینوں، آسمانوں کے غیب سے واقف ہے بلکہ اس نے ایک کھلی کتاب میں ہر چیز لکھ رکھی ہے۔ گناہ چھپانے یا اعلانیہ کرنے کا ذکر فرما کر لوگوں کو بتلایا ہے کہ عذاب نازل نا کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ” اللہ تعالیٰ تمہارے جرائم سے ناواقف ہے ہرگز نہیں ! جو کچھ تم لوگوں سے چھپاتے ہو یا جو تم سر عام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح واقف ہے، کیونکہ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے، ناصرف کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بلکہ سب کچھ اس نے اپنے ہاں کھلی کتاب میں لکھ رکھا ہے۔ اس خطاب میں عسٰی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ” اُمید “ ہے۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی سے امید ہے۔ اللہ تعالیٰ کے منکر اس لفظ کی غلط توجیہہ کرسکتے تھے۔ اس لیے اسے ” قُلْ “ کہہ کر نبی کریم ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ کہیں کہ مجھے امید ہے جس عذاب کی تم جلدی کرتے ہو وہ تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے قریب ہی آن پہنچا ہے۔ چناچہ یہی کچھ ہوا کہ اہل مکہ بہت جلد ہر قسم کی ذلّت اور عذاب سے دو چار ہوئے۔
مسائل
1۔ دلائل سننے اور جاننے کے باوجود منکرین آخرت کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟
2۔ لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر اس لیے فضل کرتا ہے تاکہ لوگ اس کا شکر ادا کریں۔
4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید اور لوگوں کے اعمال کو پوری طرح جانتا ہے۔
5۔ زمینوں، آسمانوں میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہو۔
6۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بات لوح محفوظ پر درج کر رکھی ہے۔
Ayahs 27:76–79فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی غالب اکثریت اَن پڑھ تھی جس بناء پر وہ مدینہ کے یہودیوں سے پوچھتے کہ ہمیں علمی لحاظ سے محمد ﷺ پر کیا کیا اعتراض اٹھانے چاہییں۔ یہودی مکہ والوں کو مختلف قسم کے سوال کرنے کی تعلیم دیتے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ مکہ والوں کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا یہ قرآن مجید ان مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جن کی حقیقت جاننے کے باوجود بنی اسرائیل ان کو نہیں مانتے۔ بنی اسرائیل کے خطاب میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ لفظ صرف یہودیوں یا عیسائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہودیوں نے تورات کے بر خلاف یہ عقیدہ بنایا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں اس کی وضاحت فرمائی کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا نہیں بلکہ اس کا بندہ اور نبی تھا۔
عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم [ کو اللہ کا جزو قرار دیا۔ قرآن مجید نے اس کی بھی نفی کی ہے اس طرح دو ٹوک انداز میں فیصلہ کیا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل کے عقائد حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ قرآن مجید ہر اس شخص کے لیے ہدایت کا سر چشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اس پر ایمان لاتا ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے اختلاف میں حق واضح کیا گیا ہے اسی طرح ہی اے نبی آپ کا رب آپ کے مخالفوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ کیونکہ وہ ہر حال میں غالب ہے اور ہر معاملے کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ آپ اللہ پر بھروسہ کریں اور یقین رکھیں کہ آپ واضح طور پر حق پر گامزن ہیں۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے العزیز کی صفت لا کر اپنے پیغمبر کو مخصوص انداز میں مستقبل کی کامیابی کی خوشخبری دی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہجرت مکہ کے بعد دو صورتوں میں پورا فرمایا۔ نبی معظم ﷺ کے بڑے بڑے دشمن آپ کے ہاتھوں ذلّت کی موت مرے، باقی حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے یہودیوں کو ذلیل ہو کر مدینہ چھوڑنا پڑا۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت آپ کے سامنے کھڑے ہونے کی تاب نہ لاسکی اس طرح پوری دنیا میں اسلام کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا پھریرا بلند ہوا۔
مسائل
1۔ قرآن مجید لوگوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔
2۔ ایمان لانے والوں کے لیے قرآن مجید ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔
4۔ ایمان والوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ایمان داروں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم :
1۔ رسول کریم کو اللہ پر تو کل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : 79)
2۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ : 10)
3۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67)
4۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : 36)
5۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : 129)
6۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)
7۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : 59)
8۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3
Ayahs 27:80–81فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی طرف سے رہنمائی ہے لیکن اس سے روحانی طور پر زندہ لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
قرآن مجید نے حق اور باطل کے درمیان واضح طور پر ایک امتیاز قائم کردیا ہے۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ رسول معظم ﷺ حق بات پر گامزن اور واضح طور پر حق کی دعوت دینے والے تھے۔ لیکن اس کے باوجود لوگ آپ ﷺ کی تکذیب اور قرآن مجید کا انکار کرتے تھے، اور کرتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کے مخالفین روحانی طور پر مردہ ہوگئے تھے اور ہیں۔ اس لیے نہ صرف وہ حق بات سننے کے بارے میں گونگے، بہرے ہوچکے ہیں بلکہ جب ان کے سامنے حق بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں نبی اکرم ﷺ کو اپنے رب پر توکل کرنے کی ہدایت کی گئی اور آپ کو تسلی دیتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ اے نبی ! آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور ان لوگوں کو بھی نہیں سنا سکتے جو بہرے ہونے کے ساتھ پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔ اس طرح آپ اندھو کو بھی ہدایت کے راستے پر نہیں چلا سکتے آپ تو صرف ان لوگوں کو سنا اور سمجھا سکتے ہیں جو اپنے دماغ سے سوچتے ہیں اور کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، ہماری آیات پر ایمان لاتے ہوئے تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہدایت پانے کے لیے لازم ہے کہ انسان کی روح زندہ ہو اور حق بات سے دور بھاگنے کی بجائے اسے توجہ کے ساتھ سننے کے لیے تیار ہو۔ جو شخص روحانی طور پر مردہ، کانوں سے بہرہ اور آنکھوں سے اندھا ہو مزید یہ کہ حق بات سے دور بھاگنے والاہو، اسے ہدایت کس طرح نصیب ہوسکتی ہے ؟ ہدایت تو وہی شخص پائے گا جو حق بات کو توجہ کے ساتھ سننے اور اسے تسلیم کرنے کا مصمم ارادہ کرے اور اللہ سے اس کی توفیق طلب کرے۔
عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ إِنَّمَا قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّہُمْ لَیَعْلَمُون الآنَ أَنَّ مَا کُنْتُ أَقُولُ حَقٌّ وَقَدْ قَال اللَّہُ تَعَالَی (إِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَی) [ رواہ البخاری : باب ما جاء فی عذاب القبر ]
” سیدہ عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ کنویں کے کنارے کھڑے ہو کر آپ ﷺ کا مشرکین کے مقتولوں کو مخاطب کرنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس وقت یقیناً جانتے ہیں کہ جو کچھ میں نے انہیں کہا وہ برحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) “
(وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ) [ فاطر : 22۔ 23]
” زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ اللہ جیسے چاہتا ہے سنتا ہے آپ قبروں والوں کو ہرگز نہیں سنا سکتے۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں۔ “
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ اندھے، بہرے اور الٹے منہ بھاگنے والوں کو نہیں سنا سکتے تھے۔
2۔ نبی اکرم ﷺ دل کے اندھے کو گمراہی سے سے نہیں نکال سکتے تھے۔
3۔ ہدایت وہ شخص پاسکتا ہے جو حق بات کو توجہ اور تسلیم کرنے کی نیت سے سنے۔
تفسیر بالقرآن
ہدایت پانے کی چند بنیادی شرائط :
1۔ اللہ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43)
2۔ کسی کا ہدایت پانا اللہ کا احسان ہے۔ (الحجرات : 17)
3۔ رسول اکرم ﷺ کی تابعداری ہدایت کی ضمانت ہے۔ (النور : 54)
4۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213)
5۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : 3)
6۔ ایماندار لوگ اپنے رب سے ہدایت اور آسانی مانگتے ہیں۔ ( الکہف : 10)
7۔ ہدایت پر استقامت کی دعا کرنا چاہیے۔ (آل عمران : 8)
Ayah 27:82فہم القرآن
ربط کلام : اندھے، بہرے اور حق سے بھاگنے والے لوگ قیامت سے پہلے حق بات کا اعتراف نہیں کریں گے۔
اندھے، بہرے اور حق بات سے دور بھاگنے والے قیامت سے پہلے حق بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ قرآن و حدیث میں قیامت کی تین قسم کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو نبی کریم ﷺ کے دور میں مکمل ہوچکی ہیں۔ دوسری وہ ہیں جو قرب قیامت سے پہلے نمودار ہوں گی۔ تیسری نشانیاں وہ ہیں جو قیامت کی شروعات میں شمارہوتی ہیں وہ اس طرح نمودار ہوں گی جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو تسبیح کے دانے ایک دوسرے پر گرتے چلے جاتے ہیں۔ آخر میں تین نشانیاں وہ ظاہر ہوں گی جب توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی دابَّۃُ الْأَرْضِ ہے۔ یہ ایسا جانور ہوگا جو قیامت پر یقین نہ رکھنے والوں سے کلام کرے گا۔
ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ یہ جانور اس وقت ظاہر ہوگا جب زمین میں کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابن مردویہ نے ایک حدیث ابو سعید خدری سے نقل کی ہے جس میں فرماتے ہیں کہ یہی بات انہوں نے خود نبی ﷺ سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب لوگ امر بالمعرواور نہی عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ساتھ آخری حجت قائم فرمائے گا، یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا اس کی جنس کے لاکھوں، کروڑوں جانور ہونگے۔” دَابَۃٌ مِنَ الْاَرْضِ “ کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے بہرحال وہ لوگوں سے کلام کرے گا۔
اس جانور کے نکلنے کا وقت کونسا ہوگا ؟ اس کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور دن دہاڑے یہ جانور نکل آئے گا۔ ان میں سے جو نشانی بھی پہلے ہو۔ بہرحال دوسری نشانی اس کے قریب تر ہوگی۔ ( مسلم)
رہا کسی جانور کا انسانوں سے کلام کرنا یہ اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہے نطق کی طاقت عطا کر۔ قیامت سے پہلے تو وہ ایک جانور کو ہی نطق بخشے گا۔ مگر جب قیامت قائم ہوجائے گی تو اللہ کی عدالت میں انسان کی آنکھ اور کان اور اس کے جسم کی کھال تک بول اٹھے گی۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ثَلاَثٌ إِذَا خَرَجْنَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّۃُ الأَرْضِ )
[ رواہ مسلم : باب بَیَان الزَّمَنِ الَّذِی لاَ یُقْبَلُ فیہِ الإِیمَانُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تین باتیں جب ظاہر ہوجائیں اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا الا یہ کہ وہ پہلے سے ایمان لا چکا ہو اور نیک اعمال کرتا رہا ہو۔ 1 سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، 2 دجال کا نکلنا 3 دابۃ الارض کا ظاہر ہونا۔ “
مسائل
1۔ قرب قیامت زمین سے ایک جانور نمودار ہوگا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔
2۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کو یقین ہوجائے گا کہ اب قیامت آہی چکی ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کی چند بڑی بڑی نشانیاں :
1۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعۃ : 1)
2۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : 1)
3۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1)
4۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187)
5۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 4)
6۔ قیامت کے دن پہاڑ اون کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 5)
7۔ قیامت کا دن انتہائی دردناک ہوگا۔ (ھود : 26) 8۔ زمین کو ہلا کر تہہ وبالا کردیا جائے گا۔ (واقعۃ : 3، 4)
9۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر پر اگندہ غبار کی طرح ہوجائیں گے۔ (الواقعۃ : 5، 6)
10۔ زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ ( الواقعہ : 4 )
11۔ زمین و آسمانوں کو تبدیل کردیا جائے گا۔ ( ابراہیم : 48)
Ayahs 27:83–85فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے ایک مدّت بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرے گا۔
قیامت برپا ہونے کے ایک مدت بعد رب ذوالجلال کے حکم سے اسرافیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ صور میں پھونک مارے گا۔ اس کی پھونک سے لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف بھاگنا شروع ہوجائیں گے۔ محشر میں ہر نبی کی امت سے مجرموں کو الگ کردیا جائے گا۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ صرف مجرموں کو نیک لوگوں سے جدا ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ مجرموں کے درمیان بھی ان کے گناہوں کے حساب سے ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔ انہیں اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ انھیں سوال کرے گا ” کیا تم لوگ ہو جنھوں نے میری آیات کو جھٹلایا ؟ “ حالانکہ انہیں کو جھٹلانے کے لیے تمہارے پاس کوئی علمی دلیل نہ تھی ؟ کیا تم وہی ہو جو جہالت پر عمل کرتے رہے ہو ؟
اس طرح ان پر حق بات ثابت کردی جائے گی اور وہ اس کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہوں گے۔
(وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَیَمْکُثُ اَرْبَعِیْنَ لَااَدْرِیْ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اَوْ شَہْراً اَوْ عَامًا فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَاَنَّہُ عُرْوَۃُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَیَطْلُبُہُ فَیُہْلِکُہُ ثُمَّ یَمْکُثُ فِیْ النَّاسِ سَبْعَ سِنِیْنَ لَیْسَ بَیْنَ اثْنَیْنِ عَدَاوَۃٌ ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ رِیْحًا بَارِدَۃً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا یَبْقٰی عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ اَحَدٌ فَیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ خَیْرٍ اَوْ اِیْمَانٍ اِلَّا قَبَضَتْہُ حَتّٰی لَوْ اَنَّ اَحَدَکُمْ دَخَلَ فِیْ کَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْہُ عَلَیْہِ حَتّٰی تَقْبِضَہُ قَالَ فَیَبْقَیْ شِرَار النَّاسِ فِیْ خِفَّۃِ الطَّیْرِ وَاَحْلَام السِّبَاعِ لَا یَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا وَلَایُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا فَیَتَمَثَّلُ لَھُمُ الشَّیْطَانُ فَیَقَوْلُ اَ لَا تَسْتَحْیُوْنَ فَیَقُوْلُوْنَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَیَاأمُرُھُمْ بِعِبَادَۃِ الْاَوْثَانِ وَھُوَ فِیْ ذَالِکَ دَارٌّ رِزْقُھُمْ حَسَنٌ عَیْشُھُمْ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْ الصُّوْرِ فَلَا یَسْمَعُہُ اَحَدٌ اِلَّا اَصْغٰیِ لِیْتًا وَرَفَعَ لِیْتًا قَالَ فَاَوَّلُ مَنْ یَّسْمَعُہُ رَجُلٌ یَلُوْطُ حَوْضَ اِبِلِہٖ فَیَصْعَقُ وَیَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ مَطَرًا کَاَنَّہُ الطَّلُّ فَیَنْبُُُتُ مِنْہُ اَجْسَاد النَّاسِ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَااَیُّھَاالنَّاسُ ھَلُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ قِفُوْھُمْ اِنَّھُمْ مَسْءُوْلُوْنَ فَیُقَالُ اَخْرِجُوْا بَعْثَ النَّا رِ فَیُقَالُ مِنْ کَمْ کَمْ فَیُقَالُ مِنْ کُلِّ اَلْفٍ تِسْعُ ماءَۃٍ وَّتِسْعَۃٌ وَّتِسْعِیْنَ قَالَ فَذَالِکَ یَوْمٌ یَّجْٖٖعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا وَذَالِکَ یَوْمٌ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ ۔ ) [ رواہ مسلم : باب فِی خُرُوج الدَّجَّالِ وَمُکْثِہِ ۔۔]
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا دجال نکلے گا اور چالیس تک رہے گا حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم چالیس دن ‘ چالیس ماہ یا چالیس سال پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کو نازل کریں گے گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ؓ ہیں۔ وہ دجال کو تلاش کریں گے اور اسے ہلاک کردیں گے اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) سات سال تک دنیا میں رہیں گے ہر دو انسانوں کے درمیان کوئی عداوت نہیں رہے گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا اور زمین پر کوئی بھی ایسا نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا ‘ یہاں تک کہ اگر کوئی پہاڑ کے اندر بھی داخل ہوا تو وہ اس تک پہنچ جائے گی اور اس کی جان قبض کرلے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بعد بدترین لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں کی مانند تیز طرار اور درندوں کی طرح سخت ہوں گے۔ نہ وہ بھلائی کو جانتے ہوں گے اور نہ برائی کو برا جانیں گے۔ شیطان ان کے پاس انسانی شکل میں جاکر کہے گا کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ وہ کہیں گے تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے ؟ شیطان انہیں بتوں کی عبادت کرنے کے لیے کہے گا۔ اس حالت میں بھی انہیں بکثرت رزق مل رہا ہوگا۔ ان کی زندگی عیش و عشرت والی ہوگی پھر صور پھونکا جائے گا جو بھی اس کی آواز سنے گا اپنے سر کو ایک طرف جھکا دے گا دوسری طرف اونچا کرے گا آپ نے فرمایا ‘ صور کی آواز سننے والا پہلا شخص وہ ہوگا جو اپنے اونٹوں کے لیے حوض لیپ رہا ہوگا وہ بےہوش ہوجائے گا سب لوگ بےہوش ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ شبنم کی طرح بارش بھیجے گا۔ اس سے لوگوں کے جسم نمودار ہوں گے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا ‘ تو سب لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر منادی کی جائے گی کہ اے لوگو ! اپنے رب کے پاس جلدی پہنچو فرشتوں سے کہا جائیگا ” انہیں روک لو ‘ ان سے سوالات کیے جائیں گے “ حکم ہوگا جہنم کی طرف جانے والوں کو نکالو ‘ پوچھا جائے گا ان میں کتنے جہنمی ہیں ؟ حکم ہوگا۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنمی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ ایسا دن ہوگا ‘ جو بچوں کو بوڑھا کردیگا “ اور ایسادن ہوگا جس دن اللہ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹائیں گے۔ “
(عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوق ﷺ حَدَّثَنِی أَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُونَ ثَلاَثَۃَ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاکِبِینَ طَاعِمِینَ کَاسِینَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلاَءِکَۃُ عَلَی وُجُوہِہِمْ وَتَحْشُرُہُمُ النَّارُ وَفَوْجٌ یَمْشُونَ وَیَسْعَوْنَ یُلْقِی اللَّہُ الآفَۃَ عَلَی الظَّہْرِ فَلاَ یَبْقَی حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَکُونُ لَہُ الْحَدِیقَۃُ یُعْطِیہَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لاَ یَقْدِرُ عَلَیْہَا) [ رواہ النسائی : باب البعث ]
حضرت حذیفہ بن اسید حضرت ابوذر ؓ سے بیان کرتے ہیں بیشک کائنات میں سب سے سچے انسان نے مجھے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین طریقہ سے جمع کیا جائیگا۔ ان میں سے ایک جماعت کے لوگ سوار، کھانا کھاتے ہوئے، کپڑے پہنے ہوئے ہوگی، اور ایک جماعت کو فرشتے چہروں کے بل گھسیٹیں گے اور آگ ان کو اکٹھا کرے گی۔ ایک جماعت بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگی اللہ تعالیٰ ان پر آفت مسلط فرمائیں گے اس سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا حتیٰ کہ ایک آدمی کا باغ ہوگا وہ اس باغ کو ایسی سواری کے بدلے دیدے گا جس پر اسے کچھ اختیار نہ ہوگا۔
مسائل
1۔ محشر کے میدان میں مجرموں کی صف بندی کی جائے گی۔
2۔ اللہ تعالیٰ محشر کے دن مجرموں سے سوال کرے گا۔
3۔ محشر کے دن مجرموں کے جرائم کے مطابق عذاب دیا کیا جائے گا۔
4۔ مجرم جرم ثابت ہونے کے بعد کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔
تفسیر بالقرآن
محشر کے میدان میں مجرموں سے سوال و جواب :
1۔ مجرم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کے لیے اپنے برے اعمال کا کلیتاً انکار کریں گے۔ (الانعام : 23۔ 24)
2۔ مجر م اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گناہوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالیں گے۔ (الاحزاب : 66۔ 68)
3۔ مجرموں سے سوال کیا جائیگا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ (الصّٰفٰت : 22)
4۔ ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! میں نے رسول کو سمجھا ہوتا۔ (الفرقان : 27۔ 30)
Ayah 27:86فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات اور قیامت کو جھٹلاتے ہیں ان کے غور و فکر کے لیے رات اور دن میں دلائل۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی پہچان اور قیامت پر ایمان لانے کے لیے اپنی قدرتون پر غور کرنے کا بار بار حکم دیا ہے ان میں اکثر نشانیاں ایسی ہیں جن سے ہر شخص کو صبح و شام واسطہ پڑتا ہے اِ ن نشانیوں میں سے قرآن مجید نے رات اور دن کو کئی مرتبہ نشانی اور دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہاں رات کے بارے میں فرمایا ہے کہ رات اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ لوگ اس میں سکون پائیں اور دن کو روشن بنایا تاکہ لوگ اپنا کام کاج اور ضرورتیں پوری کرسکیں۔ کیا لوگوں نے رات اور دن کے بارے میں نہیں سوچا کہ ان میں کون کون سے فوائد رکھے گئے ہیں ؟ اگر رات اور دن کے بارے میں لوگ غور کریں تو یقیناً ان میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کے لیے بیشمار دلائل ہیں۔ یہاں رات اور دن کو قیامت کی نشانیوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کا آنا یقینی ہے اسی طرح ہی زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد جی اٹھنا یقینی بات ہے۔ رات کو انسان اور ہر جاندار چیز نیند کی آغوش میں چلی جاتی ہے جو موت کے مترادف ہے۔ دن کے طلوع ہونے کے ساتھ ہر جاندار اپنے اپنے کام میں لگ جاتا ہے۔ رات کے بعد دن کو اٹھنا اور دن کے بعد رات کو سونا ہر ذی روح کے لیے لازم ہے، اسی طرح قیامت کے بعد اٹھنا بھی لازم ہے۔ جس طرح کوئی جاندار ہمیشہ سویا نہیں رہ سکتا اسی طرح مرنے کے بعد کسی نے ہمیشہ مردہ نہیں رہنا اسے ہر حال میں اٹھایا جائے گا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو سکون کے لیے بنایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے دن کو لوگوں کی ضروریات کے لیے روشن بنایا ہے۔
3۔ ایمان لانے والوں کے لیے رات اور دن میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں موجود ہیں۔
تفسیر بالقرآن
رات اور دن کے فوائد :
1۔ رات دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ (الاعراف : 54) 2۔ رات دن کو اور دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (الزمر : 5)
3۔ رات اور دن کا بڑھنا، گھٹنا۔ (الحدید : 6) 4۔ رات آرام اور دن کام کے لیے ہے۔ (الفرقان : 47)
Ayah 27:87فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت سے قبل قیامت برپا ہونے کا تذکرہ ہو رہا تھا اب قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہوتا ہے۔
اسرافیل (علیہ السلام) فرشتہ قیامت سے پہلے صور پھونکے گا تو زمینوں، آسمانوں میں جو کچھ موجود ہے ہر چیز لرز جائے گی اور ہر جاندار گھبرا جائے گا سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محفوظ فرمائے گا اور ہر کوئی اپنے رب کے سامنے عاجزی اور درماندگی کی حالت میں پیش ہوگا۔ قرآن مجید نے دوسرے نفخہ کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
” آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوگی ؟ فرمادیں اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اسے اس کے وقت پر اللہ کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا وہ آسمانوں اور زمین پر بھاری واقع ہوگی تم پر اچانک ہی آئے گی آپ سے یوں پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی خوب تحقیق کرچکے ہوں۔ فرمادیں اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (الاعراف 187 )
” جس دن جبرائیل اور باقی فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ رحمن سے وہی بات کرسکے گا۔ جسے وہ خود اجازت دے اور وہ درست بات کرے۔ یہ دن ایک حقیقت ہے اب جو چاہے اپنے رب کی طرف واپس جانے کی راہ اختیار کرے۔ ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرایا ہے جو قریب آپہنچا ہے۔ اس دن آدمی وہ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا کاش ! میں مٹی بن جاتا۔ “ (النبا : 38 تا 40 )
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ أُتِیَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمًا بِلَحْمٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ یَجْمَعُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ ، فَیُسْمِعُہُمُ الدَّاعِی، وَیُنْفِدُہُمُ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْہُمْ فَذَکَرَ حَدِیث الشَّفَاعَۃِ فَیَأْتُونَ إِبْرَاہِیمَ فَیَقُولُونَ أَنْتَ نَبِیُّ اللَّہِ وَخَلِیلُہُ مِنَ الأَرْضِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَیَقُولُ فَذَکَرَ کَذَبَاتِہِ نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی مُوسَی) [ رواہ البخاری : باب النَّسَلاَنُ فِی الْمَشْیِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں آپ کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہلوں اور پچھلوں کو ایک ہی جگہ جمع فرمایا گا۔ لوگپکارنے والے کی آواز سنیں گے اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور سورج قریب تر ہوگا اس کے بعد آپ نے شفاعت والی حدیث کا تذکرہ کیا کہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے آپ اللہ کے نبی ہیں اور زمین میں اس کے خلیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری سفارش کیجیے، تو وہ اپنے جھوٹوں کا بہانہ پیش کرتے ہوئے کہیں گے (نَفْسِی نَفْسِی) اے اللہ میرے نفس کو بچا لے، میرے نفس کو بچا لے تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ یَہُودِیٌّ بِسُوقِ الْمَدِینَۃِ لاَ وَالَّذِی اصْطَفَی مُوسَی عَلَی الْبَشَرقَالَ فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ یَدَہُ فَصَکَّ بِہَا وَجْہَہُ قَالَ تَقُولُ ہَذَا وَفِینَا نَبِیُّ اللَّہِ ﷺ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِی الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاء اللَّہُ ثُمَّ نُفِخَ فیہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَنْظُرُونَ ) فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَہُ فَإِذَا مُوسَی آخِذٌ بِقَاءِمَۃٍ مِنْ قَوَاءِمِ الْعَرْشِ فَلاَ أَدْرِی أَرَفَعَ رَأْسَہُ قَبْلِی أَوْ کَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَی اللَّہُ وَمَنْ قَالَ أَنَا خَیْرٌ مِنْ یُونُسَ بْنِ مَتَّی فَقَدْ کَذَبَ )
[ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الزُّمَرِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینے کے بازار میں ایک یہودی نے قسم اٹھاتے ہوئے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بشریت پہ فضیلت عطا فرمائی۔ ایک انصاری اٹھا اور اس نے اس کے چہرے پہ تھپڑ مارتے ہوئے کہا تو اس طرح کہتا ہے جب کہ اللہ کے نبی ہم میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صور پھونکا جائے گا آسمان اور زمین کی ہر چیز بےہوش ہوجائے گی مگر وہی بچے گا جسے اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تمام لوگ رب کے روبرو کھڑے ہوجائیں گے۔ میں سب سے پہلے سر اٹھاؤں گا موسیٰ (علیہ السلام) کو عرش کا پایہ تھامے ہوئے پاؤں گا۔ میں نہیں جانتا اس نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا یا وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے استثنا حاصل ہے۔ جس نے میرے متعلق کہا میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا۔ “
مسائل
1۔ اسرافیل کے صور پھونکنے سے زمین و آسمان کی ہر چیز لرز جائے گی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب لوگ انتہائی درماندگی کی حالت میں پیش ہوں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 27:88فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کی کیفیت چناچہ جس دن صور پھونکا جائے گا انسان تو درکنار فلک بوس پہاڑ بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔
اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت کی منکر تھی اس لیے انھوں نے سرور دو عالم ﷺ سے سوال کیا کہ سینکڑوں، ہزاروں میلوں میں پھیلے ہوئے فلک بوس پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟
” یہ لوگ آپ پوچھتے ہیں کہ یہ پہاڑکہاں چلے جائیں گے فرمادیں کہ میرا رب ان کو دھول بناکر اڑا دے گا۔ اور زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ (طٰہٰ : 105 تا 106 )
اسی بات کو یہاں اِ ن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ اور ہر دیکھنے والا دیکھے گا کہ جن پہاڑوں کو آپ جامد دیکھتے ہیں وہ ریزہ ریزہ ہو کر یوں اڑ رہے ہوں گے۔ جیسے بارش کے موقع پر بادل فضا میں اڑتے اور تیرتے ہیں۔ انھیں وہی ذات چلائے اور اڑائے گی جس نے ہر چیز کو ایک مدت تک استحکام اور قیام بخشا تھا۔ وہ ذات لوگوں کے ہر قسم کے اعمال سے باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن پہاڑوں کی حالت :
1۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے۔ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : 47)
2۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے، پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزّمّل : 14)
3۔ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی، چاند گہنا دیا جائے گا اور سورج چاند کو جمع کردیا جائے گا۔ (القیامۃ : 6 تا 8)
4۔ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا، تارے بےنور ہوجائیں گے، پہاڑچلائے جائیں گے۔ (التکویر : 1 تا 3)