Ayahs 27:89–90فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن اعمال کی بنیاد پر لوگ دو قسم کے ہونگے، ذلت اور درماندگی سے محفوظ رہنے والے حضرات اور ان کے مقابلے میں ذلیل ہونے والے لوگ۔
آیت 87 میں ذکر ہوا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمینوں، آسمانوں اور اِ ن کے درمیان جو چیز ہے وہ لرز اور گھبرا جائے گی سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اس ذلت اور گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ اب ذلّت سے محفوظ اور اس سے دوچار ہونے والے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
جس شخص نے نیک کاموں میں زندگی بسر کی اس کے لیے بہترین بدلہ ہوگا اور اس دن ان کو گھبراہٹ سے محفوظ رکھا جائے گا۔ جس شخص نے برائی کے کاموں میں زندگی گزار دی اسے آگ میں الٹے منہ ڈالا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ تمہیں صرف تمہارے برے اعمال کی سزا دی جائے گی۔
یعنی وہ اس لحاظ سے بھی بہتر ہوگا کہ جتنی نیکی اس سے زیادہ انعام اسے دیا جائے گا اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نیک لوگوں پر احسان ہوگا۔ فرمان الٰہی ہے : ” جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کے لیے دس گناہ اجر ہے اور جو برائی کرے تو اسے صرف اسی کی سزا ملے گی۔ (الانعام : 160)
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے جس دن کوئی چیز سایہ فگن نہ ہوگی۔ (1) انصاف کرنے والا حکمران (2) اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ذوق وشوق رکھنے والا جوان (3) وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ منسلک رہے جب مسجد سے باہر جاتا ہے تو واپس مسجد میں جانے کے لیے فکر مند رہتا ہے (4) دو آدمی جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اور اسی بنا پر ایک دوسرے سے میل جول رکھتے اور الگ ہوتے ہیں (5) جس آدمی نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے (6) ایسا شخص جس کو ایک خاندانی حسین و جمیل عورت نے گناہ کی دعوت دی مگر اس نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو بچائے رکھا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور (7) وہ آدمی جس نے صدقہ کیا اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوپائی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ “ (رواہ البخاری : باب الصَّدَقَۃِ بالْیَمِینِ )
(وَعَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ قَالَ اَلَیْسَ الَّذِیْ اَمْشَاہُ عَلٰی الرِّجْلَیْنِ فِیْ الدُّنْیَا قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُّمْشِیَہٗ عَلٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ (متفق علیہ)
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا۔ اے اللہ کے رسول ! قیامت کے دن کافر کس طرح منہ کے بل چل کر میدان محشر کی طرف جائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا وہ ذات اس بات پر قدرت نہیں رکھتی ‘ جس نے دنیا میں ان کو پاؤں پر چلنے کی طاقت دی قیامت کے دن ان کو منہ کے بل چلائے۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کو ان کی نیکیوں کی جزا دی جائے گی۔
2۔ نیک لوگوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔
3۔ برے لوگوں کو جہنم میں الٹے منہ پھینکا جائے گا۔
4۔ برے لوگوں کو ان کی برائی کے برابر سزا دی جائے گی۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن نیک اور برے لوگوں کے درمیان فرق :
1۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں قیام کریں گے۔ (یونس : 26)
2۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ (یونس : 27)
3۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامۃ : 22) 4۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 73)
5۔ مومنوں کے چہرے خوش و خرم ہوں گے (عبس : 38) 6۔ کفار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40)
7۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : 73) 8۔ ” اللہ “ کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : 27 )
Ayah 27:91فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن نجات اخلاص پر مبنی اعمال پر ہوگی لہٰذا تمام نیکیوں کی بنیاد ” اللہ “ کی خالص عبادت کرنا ہے جس کا نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سب سے پہلے اس پر عمل کریں۔
اہل مکہ کی عزت و تکریم پوری دنیا میں بالعموم اور ججاز میں بالخصوص اس بناء پر کی جاتی تھی کہ یہ لوگ مکہ کے مکین اور بیت اللہ کے متولّی ہیں۔ اس بناء پر نہ صرف ان کی تکریم ہوتی تھی بلکہ انھیں تجارتی فوائد کے ساتھ بڑے بڑے تحائف بھی موصول ہوتے تھے۔ بیت اللہ کی وجہ سے انھیں امن حاصل تھا۔ سفر کے دوران لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ اس قافلے میں قریشی اور ہاشمی لوگ موجود ہیں تو لوٹ گھسوٹ کرنے والے قبائل اس قافلے پر ہاتھ اٹھانے سے پرہیز کرتے تھے۔ لیکن قریش کی اپنی حالت یہ تھی کہ جس بیت اللہ کی وجہ سے انھیں عزت و احترام اور امن وامان حاصل تھا۔ انھوں نے کعبہ کے رب کی عبادت کرنے کی بجائے اس میں (360) تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ سرور دو عالم ﷺ کی دعوت کا خلاصہ یہ تھا اور ہے کہ صرف کعبہ کے رب کی ہی عبادت کی جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے۔ مکہ کے لوگ نہ صرف اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے بلکہ وہ اس بات پر نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے جانی دشمن بن چکے تھے۔
اس صورت حال میں نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ بر ملا یہ بات فرمائیں اور اس پر قائم رہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں جس نے اپنے گھر کی وجہ سے مکہ کو حرمت عطا فرمائی ہے، ہر چیز اسی رب کی ملکیت ہے۔ لہٰذا ہر انسان کو اسی رب کا فرماں بردار ہونا چاہیے یہی حکم نبی ﷺ کو دیا گیا ہے کہ آپ سب سے پہلے ” اللہ “ کے تابعدار بن جائیں۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ َ أَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِقَتِیلٍ مِنْہُمْ قَتَلُوہُ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ النَّبِیُّ ﷺ فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ ، فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْقَتْلَ أَوِ الْفِیلَ شَکَّ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَسَلَّطَ عَلَیْہِمْ رَسُول اللَّہِ وَالْمُؤْمِنِینَ ، أَلاَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی أَلاَ وَإِنَّہَا حَلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارَ.........) [ رواہ البخاری : باب کِتَابَۃِ الْعِلْمِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بیشک خزاعہ قبیلے کے لوگوں نے فتح مکہ کے سال بنی لیث کا ایک آدمی قتل کردیا۔ اس واقعہ کی اطلاع نبی کریم ﷺ کو دی گئی آپ سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ یقینا اللہ نے مکہ میں قتل و غارت کو ممنوع قرار دیا ہے۔ یا آپ نے فیل کے لفظ استعمال فرمائے راوی کو شک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفار پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط فرمایا خبردارمجھ سے پہلے کسی کے لیے مکہ کی حرمت کو پامال کرنا جائز نہ تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے جائز ہوگا۔ میرے لیے کچھ وقت کے لیے ہی اس میں لڑائی کو جائز قرار دیا گیا۔ “
” حضرت واقد بن محمد کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے سنا وہ کہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا کیا تم جانتے ہو حرمت کے لحاظ سے عظیم مہینہ کون سا ہے۔ صحابہ نے کہا یہ مہینہ۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو حرمت کے لحاظ سے عظیم شہر کون سا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا مکہ۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو حرمت کے لحاظ سے عظیم دن کون سا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا آج کا دن آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت کو محترم قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ جس طرح اس دن تمہارے اس شہر اور مہینے کی کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ آپ نے تین بار یہ کلمات دھرائے۔ سب نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا افسوس ہو تم پر یا ویل ہو میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگ جاؤ۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب ظھر المو من حمی الا فی حداو حق ]
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ کو حکم تھا کہ وہ مکہ کے رب یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو تکریم اور امن و سکون سے نوازا ہے۔
3۔ ہر چیز پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ 4۔ نبی اکرم ﷺ صرف اپنے رب کے تابعدار تھے۔
تفسیر بالقرآن
بیت اللہ اور مکہ معظمہ کی عظمت و حرمت :
1۔ قسم ہے اس شہر کی۔ (البلد : 1) 2۔ بیت اللہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو بابرکت اور ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران : 96)
3۔ بیت اللہ امن کا گہوارہ ہے۔ (البقرۃ : 125) 4۔ بیت اللہ کے باسیوں سے محبت کی جاتی ہے (القریش : 1)
5۔ بیت اللہ کے طواف کا حکم ہوا ہے۔ (الحج : 29) 6۔ پیدل اور سوار دور سے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ (الحج : 27)
7۔ اے میرے رب اس گھر کو امن والا بنانا۔ (ابراہیم : 35) 8۔ قسم ہے اس امن والے شہر کی۔ (التین : 3)
Ayahs 27:92–93فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کا پہلا حکم اور پیغام یہ ہے کہ ایک ہی رب کی عبادت کی جائے مکہ والوں کو اس سے سخت اختلاف تھا جس بنا پر ان کا مطالبہ تھا کہ یہ قرآن نہ پڑھا جائے۔
مکہ والوں کی آپ کے ساتھ دشمنی کی بنیاد محض قرآن مجید تھا۔ قرآن مجید میں بھی ان کو بالخصوص ان آیات کے ساتھ شدید اختلاف تھا جن میں مکہ والوں کے کفر و شرک کی مذمت کرتے ہوئے انہیں توحید خالص کی دعوت دی گئی ہے۔ نبوت کے ابتدائی سالوں میں اہل مکہ کلی طور پر قرآن مجید کے خلاف تھے لیکن جوں جوں نبی اکرم ﷺ کی دعوت پھیلنے لگی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے اس دعوت پر پوری طرح استقامت کا مظاہرہ کیا تو مکہ والوں نے فکری پسپائی اختیار کرتے ہوئے بالآخر یہ مطالبہ کیا کہ آپ قرآن مجید میں کچھ تبدیلیاں کریں۔ آپ اپنے مؤقف میں نرمی کا مظاہرہ کریں گے، ہم بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بات کے اور بھی جواب دیئے گئے ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ مکہ کے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتارہوں۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ مجھے حکم ہے کہ میں کعبے کے رب کی توحید بیان کرتا جاؤں۔ جس نے ہدایت پائی اس کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا جو شخص گمراہ ہوا اس کا اسے ہی نقصان ہوگا۔ میں اپنے رب کے فرمان کے مطابق لوگوں کو برے عقائد اور کردار کے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔
سورۃ النمل کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے حوالے سے تیرہ (13) سوالات کیے جن کا جواب دینے میں ہر دور کا مشرک لاجواب رہا ہے اور قیامت تک کوئی مشرک ان سوالات کا الٹا جواب نہیں دے سکتا۔
یہی قرآن مجید کی عظمت اور سچائی ہے کہ کوئی شخص نہ اس کا توڑ پیش کرسکتا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کی کسی آیت جیسی آیت پیش کرسکتا ہے۔ اس لیے اس سورة کا اختتام اس بات پر کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس پر اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ لوگ نہ آپ کی دعوت کی صداقت کو جھوٹا ثابت کرسکتے ہیں اور نہ ہی توحید کے دلائل کا جواب دے سکتے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود اگر یہ لوگ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو عنقریب اللہ تعالیٰ انھیں اپنی قدرت کے ایسے معجزات دکھائے گا کہ یہ ان کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ آپ کا رب ان لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ نشانیوں سے مراد دونوں قسم کی نشانیان ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ ان میں بڑے بڑے لوگ اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کی کامیابی دیکھ کر حلقۂ اسلام میں داخل ہوجائیں، جو لوگ تسلیم کا روّیہ اختیار نہیں کریں گے وہ دنیا میں ذلیل اور آخرت میں رسوا ہوں گے۔ آپ اپنا کام صبر و شکر کے ساتھ جاری رکھیں یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں آپ کا رب اس سے غافل نہیں ہے۔
مسائل
1۔ آپ ﷺ کو حکم تھا کہ آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید کے احکام پڑھ کر سنائیں۔
2۔ جس نے ہدایت پائی اس ہدایت کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا۔ 3۔ جس نے گمراہی اختیار کی وہ گمراہی کا خمیازہ بھگتے گا۔
4۔ نبی اکرم ﷺ کا نبوت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آپ لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں۔
تفسیر بالقرآن
نبوت کے مرکزی مقاصد :
1۔ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے بیان کریں جو کچھ ان کی طرف بھیجا گیا ہے۔ (النحل : 44)
2۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 5)
3۔ ہم نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہٰذا میری عبادت کرو۔ (الانبیاء : 25)
4۔ ہم نے آپ ﷺ کو خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : 56)
5۔ اللہ نے ان پڑھ لوگوں میں رسول مبعوث فرمایا۔ جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے، انہیں تعلیم دیتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔ (الجمعہ : 2)
6۔ آپ ﷺ پر قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں۔ ( ابراہیم : 1)