28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة النّمل کا تعارف ربط سورة : الشعرآء کے آخر میں ایمانداروں کی صفت بیان ہوئی کہ وہ ” اللہ “ کو بہت یاد کرتے ہیں۔ النّمل کی ابتدا میں بتایا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے قرآن مجید ہدایت اور خوشخبری کا پیغام ہے۔ یہ سورة 7 رکوع اور 93 آیات پر مشتمل ہے۔ النّمل کا لفظ اس سورة کی اٹھارویں آیت میں استعمال ہوا ہے۔ سورۃ کی ابتدا میں قرآن مجید کا تعارف کروایا گیا ہے کہ قرآن اپنے مدعا اور دلائل کے حوالے سے واضح اور مدلّل کتاب ہے۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے خوشخبری کا پیغام ہے جو حقیقی معنوں میں ایمان لاتے ہیں، نماز قائم، زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے اور آخرت پر یقین کامل رکھتے ہیں، ان کے مقابلے میں جو آخرت کی جواب دہی پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کے لیے ان کے برے اعمال خوبصورت بنا دئیے گئے ہیں اور وہ اپنی روش میں اندھے ہوچکے ہیں۔ انہیں آخرت میں بدترین عذاب ہوگا اور یہی لوگ آخرت میں دائمی نقصان پانے والے ہیں۔ بنیادی ہدایات کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا ابتدائی واقعہ ذکر کیا گیا ہے۔ کہ ” اللہ “ نے انہیں سفر میں کس طرح نبوت اور عظیم معجزے عطا فرمائے، اس کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے اقتدار اور اختیارات کا ذکر فرماکر ملکہ بلقیس کے ساتھ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سفارت اور ملاقات کے مثبت نتائج کا تذکرہ کیا ہے۔ جس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی قدم، قدم پر ذہانت نمایاں ہے اور ملکہ بلقیس ہر قدم پر اپنی بےعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے بالآخر مسلمان ہوجاتی ہے۔ پھر صالح (علیہ السلام) کی قوم اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے کردار اور انجام پر تبصرہ کیا گیا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے کردار اور انجام سے اہل مکہ کو متنبہ کیا ہے۔ کہ تم جو کچھ بھی ہو لیکن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے تمہاری طاقت اور بغاوت زیادہ نہیں۔ جب فرعون اور اس کے لشکر حق کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکے تو تم کس باغ کی مولی ہو لہٰذا سمجھ جاؤ ورنہ تمہارا انجام بھی آل فرعون جیسا ہوگا۔ حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس کا واقعہ ذکر کر کے یہ سمجھایا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اقتدار بخشے اسے کس طرح دوسرے کو توحید کی دعوت دینا ہے اور جس تک توحید کی دعوت پہنچے اسے تسلیم کا رویہ اختیار کرنا چاہیے النّمل کے آخر میں سوالات کی صورت میں توحید سمجھائی گئی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ثبوت دئیے گئے ہیں پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ اہل مکہ پر واضح کردیں جس رب نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے۔ میں اسی رب کی توحید کی دعوت دیتا اور اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ جس نے قرآن مجید کی ہدایت کو قبول کیا اس کا اسے ہی فائدہ پہنچے گا جو اپنے انکار پر قائم رہا میرا کام تو اسے سمجھانا اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔ سورۃ کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہیں، وہ عنقریب اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائے گا۔ جنہیں دیکھ کر منکرین کو یقین ہوجائے گا، کہ جو کچھ آپ فرما رہے ہیں وہ حق اور سچ ہے یاد رکھیں کہ آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔

Ayah 28:1

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

” ط۔ س۔ م۔ (1)

Ayahs 28:2–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ (2)

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کے کچھ حالات ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔ (3)

فہم القرآن ربط کلام : سورة نمل کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ اے لوگو ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھلائے گا، کیونکہ آپ کا رب کسی کے اچھے اور برے عمل سے غافل نہیں ہے۔” اللہ “ کی نشانیوں میں یہ بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل جیسی مظلوم قوم اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے وسائل کے لحاظ سے کمزور شخص کو فرعون جیسے ظالم شخص سے نجات دی اور بنی اسرائیل کو پوری دنیا میں معزز بنایا۔ حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اہل مکہ اور آل فرعون کے کردار میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد : ” اے موسیٰ ! تو اور تیرا بھائی میرے معجزات لے کر دونوں فرعون کے ہاں جاؤ وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے۔ ہاں میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا اور دیکھو اسے نرمی سے سمجھانا کہنا شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈرجائے۔ انھوں نے عرض کی اے پروردگار ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا مزید سرکشی اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ڈرنے کی ضرورت نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں لہٰذا اس کے پاس جاؤ اور اسے کہنا ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے آزاد کر دے اور انھیں کسی قسم کی تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے پروردگار کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی اختیار کرتا ہے۔ “ [ طٰہٰ : 42۔ 47] اہل تاریخ بنی اسرائیل پر فرعون کے بد ترین مظالم کی دو وجوہات تحریر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کا نقطۂ نظر ہے کہ نجومیوں نے فرعون کو اس بات کی خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے خوف سے فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو باقی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یاد رہے بنی اسرائیل کے جوانوں کا قتل عام اور ان کی بیٹیوں کو باقی رکھنے کا معاملہ دو مرتبہ ہوا۔ ایک دفعہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت اور دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بعد۔ (المؤمن : 23) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں کا احساس، آخرت کا خوف اور ان کے ماضی کے الم ناک دور کا حوالہ دیتے ہوئے سمجھایا ہے کہ آج تم کمزور اور بےخانماں مسلمانوں کے خلاف مکہ والوں کی حمایت کررہے ہو۔ تمہیں وہ وقت بھی یاد رکھنا چاہیے۔ جب فرعون تمہارے جوانوں اور نونہالوں کو سر عام ذبح کرتا تھا۔ تمہاری ماؤں اور بہو ‘ بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ قرآن مجید نے اسے بلائے عظیم قرار دے کر ان مضمرات کی طرف اشارہ کیا ہے جو مظلوم اور غلام قوم کو پیش آیا کرتے ہیں۔ ظالم مظلوم کی بہو بیٹیوں کے ساتھ وہ سلوک روا رکھتے ہیں جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل ! اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان عظیم کرتے ہوئے بدترین مظالم سے تمہیں نجات دلائی اور تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے دشمن کو ذلّت کی موت مارتے ہوئے اسے ہمیشہ کے لیے نشان عبرت بنا دیا۔ اس سے دنیا میں تمہاری عظمت و سچائی اور بزرگی کی دھوم مچ گئی کہ بنی اسرئیل کے لیے دریا تھم گیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے دنیا کا بد ترین مغرور، سفّاک، خدائی اور مشکل کشائی کا دعوی کرنے والاڈبکیاں لیتے ہوئے دہائی دیتا رہا کہ لوگو ! میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ لیکن آواز آئی کہ تیرا ایمان ہرگز قبول نہیں ہوگا۔ اب تجھے آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ (قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعآنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُہٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا حَتّآی اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ا آلْءٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ فَالْیَوْمَ نُنَجَّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْن)[ یونس : 89 تا 92] ” فرمایا بلا شبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی ہے، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا جو نہیں جانتے اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کیا تو فرعون اور اسکے لشکروں نے سر کشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہا کہ میں ایمان لایا یقیناً سچ یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں سے ہوں۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید کی آیات اور احکام بالکل واضح ہیں۔ 2۔ قرآن مجید میں بیان کردہ واقعات افراط، تفریط اور ہر قسم کے نقص سے پاک ہیں۔ 3۔ فرعون نے طبقاتی کشمکش کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبوط کر رکھا تھا۔ 4۔ فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ 5۔ فرعون فساد کرنے والوں میں سب سے بڑا فسادی تھا۔ تفسیر بالقرآن فرعون کے مظالم اور اس کا بدترین کردار : 1۔ فرعون نے اپنی قوم میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ (القصص : 4) 2۔ بنی اسرائیل قتل و غارت کے عذاب میں دو مرتبہ مبتلا کئے گئے۔ (الاعراف : 127 تا 129) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقتدار بخشا تاکہ فرعون کو اپنی قدرت دکھلائے۔ (القصص : 5، 6) 4۔ فرعون نے ظلم کرنے کے لیے میخیں تیار کی ہوئی تھیں۔ (الفجر : 10) 5۔ فرعون نے اپنی بیوی پر اس لیے ظلم کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تھی۔ (التحریم : 11)
Ayahs 28:4–6

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے رہنے والوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا ان میں سے ایک گروہ کو ذلیل کرتا تھا اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ حقیقت یہ کہ وہ فساد کرنے والوں میں تھا۔ “ (4)

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

” اور ہم نے ارادہ کیا کہ ان لوگوں پر مہربانی کریں جو زمین میں کمزور کر دئیے گئے تھے۔ انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں ملک کا وارث بنادیں۔ (5)

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور زمین میں انہیں اقتدار بخشیں۔ فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو دکھلادیں جس کا انہیں ڈر تھا۔ “ (6)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اس کے ساتھیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔ بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے اور مدت دراز تک انہیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں حقیر ترین شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدّت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا گیا۔ جس سر زمین کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے مشرق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ نے برکات وثمرات کے خزانے رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنی اسرائیل کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے فرمائے اور انھیں آزادی جیسی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ فرعون اور اس کی قوم جو کچھ کرتی تھی اسے نیست ونابود کردیا گیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث اور خلیفہ بناتا ہے : 1۔ اللہ چاہے تو تمہیں اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے خلیفہ بنائے۔ (الانعام : 133) 2۔ تمہارا رب جلد ہی تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور ان کے بعد تم کو خلیفہ بنائے گا۔ (الاعراف : 129) 3۔ ” اللہ “ ہی اقتدار اور اختیار دینے والا ہے۔ ( آل عمران : 26) 4۔” اللہ “ ہی ذلّت اور عزت دینے والا۔ ( البقرۃ : 26)
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

” ہم نے موسیٰ کی والدہ کو وحی کی کہ وہ موسیٰ کو دودھ پلائے۔ جب تجھے موسیٰ کی جان کا خطرہ محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دے۔ خوف اور غم نہ کر ہم موسیٰ تیرے پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل فرمایں گے۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ کا خوفزدہ ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں تسلّی دیے جانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا نام یوکا بد تھا اور والد کا نام عمران بن قامت بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) تھا۔ عمران کے گھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ایسے وقت میں ہوئی جب فرعون اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا فیصلہ کرچکا تھا۔ اس لیے ان کی والدہ اور اہل خانہ ان کی ولادت کے وقت سخت پریشان تھے کہ بچے کو قاتلوں کی نگاہ سے کس طرح محفوظ رکھیں ؟ بہرحال جوں توں کر کے تین مہینہ تک ان کو ہر ایک کی نگاہ سے اوجھل رکھا اور ان کی پیدائش کے مطلق کسی کو خبر نہ ہونے دی لیکن جاسوسوں کی دیکھ بھال اور حالات کی نزاکت کی وجہ سے زیادہ دیر تک اس واقعہ کے پوشیدہ رہنے کی توقع نہ ہوسکی اور اس لیے ان کی والدہ سخت پریشان رہنے لگی۔ اس نازک وقت میں آخر اللہ نے مدد کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں یہ القا کیا کہ ایک تابوت بناؤ۔ اس صندوق کو نیل کے بہاؤ پر چھوڑ دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایسا ہی کیا مگر ساتھ ہی ماں کی مامتا فکر مند ہوگئی۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ کو کہا کہ وہ دریا کے کنارے کنارے چل کر صندوق پر نظر رکھے اور دیکھے۔ اے موسیٰ ہم نے یہ دوسری مرتبہ تجھ پر احسان فرمایا ہے پہلا احسان یہ تھا کہ جب تیری والدہ کو ہم نے الہام کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں خطرہ محسوس کرے تو اسے صندوق میں ڈال کر دریا کے حوالے کردینا تاکہ اسے میرا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن پکڑ لے دشمن سے مراد فرعون ہے جو سرکشی اور بغاوت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ سمجھا اور لوگوں سے کہلوایا اور اس نے محض نجومیوں کے کہنے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کو قتل کروا دیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کروائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناصرف فرعون کے گھر پر ورش پاتے ہیں بلکہ ان کی والدہ ہی ان کی دایہ اور مربیہ ٹھہرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں صندوق دریا کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے اُمِ موسیٰ فکر و غم نہ کرنا ہم اسے تیرے پاس لے آئیں گے۔ موسیٰ کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کا حکم جان کر موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کردیا۔ لیکن جب ماں کی مامتا تڑپ اٹھی تو موسیٰ کی بہن کو بھیجا کہ بیٹی دریا کے کنارے کنارے جاؤ اور دیکھو تیرے بھائی کا صندوق کہاں پہنچتا اور اسے کون پکڑتا ہے۔ دریا کی لہریں موسیٰ (علیہ السلام) کو لوریاں دیتے ہوئے فرعون کے محل تک پہنچا دیتی ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور جانوروں کو بھی الہام کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے پاس لوٹایا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ تفسیر بالقرآن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے رسول منتخب کیا اور انھیں معجزات عنایت فرمائے : 1۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا۔ (القصص : 14) 2۔ حضرت موسیٰ کے معجزے برہان تھے۔ (القصص : 32) 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والے معجزے عطا کیے۔ (البقرۃ : 53) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو حق و باطل میں فرق کرنے والی روشن کتاب عنایت فرمائی۔ (الانبیاء : 48)
Ayahs 28:8–11

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

” فرعون کے گھروالوں نے موسیٰ کو نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر بڑے غلط کار تھے۔ (8)

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو۔ ہوسکتا ہے یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں اور وہ انجام سے بیخبر تھے۔ (9)

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

ادھر موسیٰ کی ماں کا دل اڑا جارہا تھا تو قریب تھا کہ وہ اس کا راز فاش کر بیٹھی۔ اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے۔ تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے ہو۔ (10)

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

موسیٰ کی والدہ نے موسیٰ کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ چناچہ وہ دور سے موسیٰ کو اس طرح دیکھتی رہی تاکہ انہیں معلوم نہ ہو۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو ہدایت کی کہ وہ دریا کے کنارے پوری احتیاط کے ساتھ صندوق کے ساتھ ساتھ چلے اور دیکھنے البتہ چلنے کا انداز ایسا ہو کہ آل فرعون محسوس نہ کر پائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن اسی احتیاط اور سمجھداری کے ساتھ دریا کے کنارے چلتی رہی تآنکہ فرعون کے ملازموں نے محل کے قریب دریا میں تیرتے ہوئے صندوق کو پکڑکر فرعون کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح جس کی دشمنی وجہ سے فرعون نے ہزاروں بچے قتل کروائے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمن کو اسی کے اہلکاروں کے ہاتھوں اس کے گھر پہنچایا۔ تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کے گھر پرورش پا کر جوان ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت عطا فرمائے۔ اس کی وجہ سے فرعون، ہامان اور اس کے لشکر کیفر کردار تک پہنچیں کیونکہ وہ بڑے ظالم اور خطا کار تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق کھولا گیا تو فرعون کی بیوی نے موسیٰ کا معصوم اور پھول جیسا چہرہ دیکھا اس نے فرعون کو کہا اسے قتل نہ کیا جائے۔ درخواست کے انداز میں کہا کہ ہوسکتا ہے یہ بچہ ہمیں بہت ہی فائدہ پہنچائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو۔ ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ فرعون نے قتل کرنے سے ہاتھ روک لیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہونے والے اپنے انجام کو نہیں سمجھتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کے الہامی حکم کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کیا لیکن رات کے بعد جب صبح ہوئی تو اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ میرا لخت جگر دشمن کے ہاتھ لگ چکا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسے قتل کر ڈالے۔ ماں کی مامتا تڑپ اٹھی قریب تھا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ معصوم بیٹے کے فراق میں حوصلہ ہار بیٹھتی اور انتہائی غم کی حالت میں اڑوس پڑوس میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کر بیٹھتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا اور حوصلہ بخشا تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اس کا ایمان پکا رہ سکے۔ دریا میں اٹکیلیاں کھاتا ہوا صندوق دیکھ کر فرعون کے خدام نے اسے پکڑلیا صندوق کھولا گیا تو اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو معصوم اور پر نور چہرے کے ساتھ مسکراتا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمت کا پرتو اس طرح ڈال رکھا تھا کہ جو بھی انھیں دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ یہی حالت فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کی تھی جو نہی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے پر نظر ڈالی تو دل ہار بیٹھا اسے یہ احساس اور خیال تک نہ رہا کہ اس طرح دریا میں تیرتے ہوئے جس بچے کو میں نے پکڑا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ وہی ہو جس کی خاطر میں نے ہزاروں معصوم بچوں کا قتل کیا ہے۔ فرعون ایسا کیوں نہ سوچ سکا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔ (وَأَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِنِّی وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْنِی) [ طٰہٰ : 39] ” اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا تاکہ تو میری نگرانی میں پرورش پائے۔ “ مسائل 1۔ فرعون، ہامان اور ان کے ساتھی جس بچے سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو فرعون کے گھر پہنچا دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش اس کے دشمن کے ہاتھوں کروائی۔ 3۔ جادو اور علم نجوم کا دعویٰ رکھنے والے یہ نہ جان سکے کہ ہم اپنے دشمن کی پرورش کر رہے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر قائم رہی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی دلوں کو تسکین دینے والا ہے : 1۔ اللہ نے تمہارے گھر تمہارے لیے سکون کا باعث بنائے ہیں۔ (النحل : 80) 2۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ (یونس : 67) 3۔ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم تسکین حاصل کرو۔ (القصص : 82) 4۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہاری جانوں میں سے تمہارے لیے بیویاں پیدا فرمائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ (الروم : 21) 5۔ آپ ﷺ ان کے لیے دعا کیجئے آپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے۔ (التوبۃ : 103) 6۔ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرعد : 28)
Ayahs 28:12–13

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

” اور ہم نے پہلے ہی موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کردیا۔ موسیٰ کی بہن نے ان سے کہا میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاتی ہوں جو اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیرخواہی کے ساتھ اسے رکھیں۔ (12)

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

اس طرح ہم موسیٰ کو اس کی ماں کے پاس لے آئے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ پریشان نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ “ (13)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دائیوں کا دودھ پینے سے انکار۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کے سوا دوسری عورتوں کا دودھ نہ پیا۔ جس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دوسری دائیوں کا دودھ پینا حرام کردیا تھا۔ دودھ پلانے والی عورتوں نے بہت جتن کیے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی عورت کی چھاتی کو منہ لگانے کے لیے تیار نہ ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ الہام کے ذریعے وعدہ کیا تھا کہ اے اُمّ موسیٰ ! غم کرنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تیرے لخت جگر کو نہ صرف تیرے پاس لائے گا بلکہ وقت آنے پر اسے الرّسول بنایا جائے گا۔ رب کریم نے اپنے وعدے کو اس طرح پورا فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی والدہ کے دودھ کے سوا کسی کا دودھ پینے کے لیے تیار ہی نہ ہوئے۔ دوسری طرف فرعون کی بیوی کا حال یہ تھا کہ وہ بچے کو بھوکا دیکھ کر بےقرار ہوئے جارہی تھی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی بیوی کے دل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت ڈال دی تھی اس لیے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بیزاری کا اظہار کرنے کی بجائے اس فکر میں تڑپنے لگے کہ اگر بچے نے دودھ نہ پیا تو اس کی زندگی خطرہ میں پڑجائے گی۔ اس صورتحال میں ایک بی بی نے کہا جس کے بارے میں مفسرین کی غالب اکثریت کا کہنا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن تھی جس نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر کی نشاندہی کرتی ہوں جو اس بچے کی کفالت بڑی خیر خواہی اور ہمدردی کے ساتھ کریں گے۔ چنانچہ اس طرح ان کا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے رابطہ ہوا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی والدہ کے پاس لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی جدائی کا غم دور ہوجائے اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ اور برحق ہوتا ہے لیکن اکثر لوگ اس سے بےعلم ہوتے ہیں۔ بےعلم سے مراد ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کیے ہوئے وعدوں پر یقین نہیں رکھتے جس کی وجہ سے وہ دنیا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جَبَیْرِ بْنِ نُفَیْرِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الَّذِیْنَ یَغْزَؤُنْ مِنْ اُمَّتِیْ وَیَاْخُذُوْنَ اَلَجَعْلَ یَتَقُوَّوُنَ عَلَی عَدُوِّہِمْ مِثْلِ اُمِ مُوْسٰی تَرَضَعُ وَلَدَہَا وَتَاخُذَ اَجُوْہَا) [ سنن الکبری للبیہقی ] ” حضرت عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے غازیوں کی مثال جو اپنی مزدوری لیتے ہیں اور اپنے دشمن پہ جھپٹتے ہیں۔ موسیٰ کی ماں کی طرح ہے جس نے اپنے بچے کو دودھ پلایا اور اجرت حاصل کی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر دوسری عورتوں کا دودھ حرام قرار دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں کے ہاں لوٹا دیا۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کے وعدے پکے اور سچے ہوتے ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے۔ (الاحزاب : 4) 2۔ جان لو اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے۔ (القصص : 13) 3۔ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کے لحاظ سے کون زیادہ سچا ہے۔ (النساء : 87) 4۔ کفار عذاب کے بارے میں جلدی کر رہے ہیں اللہ اپنے وعدے کے ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ ( الحج : 47) 5۔ اللہ کے قول سے بڑھ کر کس کا قول سچا ہوسکتا ہے۔ (النساء : 122) 6۔ فرما دیجئے کیا تم نے اللہ سے عہد لیا ہے تو اللہ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا۔ ( البقرۃ : 80) 7۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ (لقمان : 33)
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

” جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور اس کی پرورش مکمل ہوگئی تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ “ (14)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ہاں جوان ہونا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں علم و حکمت عطا کیا جانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرعون کے ہاں پہنچایا۔ جس میں بڑی بڑی تین حکمتیں پنہاں تھیں۔ 1۔ لوگوں کو معلوم ہو کہ علم نجوم کی کوئی حیثیت نہیں اور اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی غیب کا علم نہیں جانتا۔ اگر علم نجوم کی کوئی حقیقت ہوتی تو فرعون کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ وہی بچہ ہے جس کے لیے میں ہزاروں بچوں کا قتل عام کروا چکا ہوں۔ ظاہر ہے کہ معلوم ہونے کی صورت میں وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فوری طور پر قتل کردیتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ ثابت کر دکھایا کہ اس نے فرعون جیسے قاتل اور ظالم کے ہاں اس کے دشمن کی پرورش کر وا سکتا ہے۔ 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس لیے فرعون کے ہاں پرورش کروائی گئی تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو امور سلطنت چلانے کی تربیت دی جائے۔ اِس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بھرپور جوانی کو پہنچے اور ان کی صلاحیتوں میں شباب آیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم اور علم سے سرفراز فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس طرح ہی نیکی کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ اگر حکم اور علم سے مراد نبوت ہے تو وہ انھیں مدین سے واپسی پر عطا کی گئی تھی۔ یہاں اس کا تذکرہ کرنے سے مراد بات کی تکمیل کرنا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے ہاں نہیں لوٹایا بلکہ انھیں علم نبوت اور بنی اسرائیل پر حکمران بھی بنایا تھا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّا سٍ قَالَ بُعِثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً یُّوْ حٰی اِلَیْہِ ثُمَّ اُ مِرَ بالْھِجْرَۃِ فَھَاجَرَ عَشْرَ سِنِیْنَ وَمَاتَ وَھُوَابْنُ ثَلٰثٍ وَّسِتِّیْنَ سَنَۃً ) [ رواہ البخاری : باب مَبْعَثِ النَّبِیِّ ] ” حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ رسول کریم ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ اس کے بعد آپ تیرہ سال مکہ معظمہ میں رہے اور آپ کی طرف وحی کی جاتی رہی۔ پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور وہاں آپ ﷺ نے دس سال بسر کیے۔ تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ “
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

” وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جب شہر کے لوگ سوئے ہوئے تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کی قوم کا تھا اور دوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰ نے اس کو ایک مُکّہمارا اور اس کا کام تمام کردیا موسیٰ نے کہا یہ شیطان کی کاروائی ہے وہ انسان کا دشمن اور وہ واضح طور پر گمراہ ہے۔ “ (15)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہجرت کا سبب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک طرف اپنی والدہ ماجدہ کی مبارک گود میں پرورش پائی اور دوسری طرف فرعون کے ہاں رہ کر امور سلطنت سے آگاہی حاصل کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صرف بنی اسرائیل کا سیاسی رہنما ہی نہیں بنایا تھا بلکہ انھیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس لیے انھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس بھیجا تاکہ ان کی تربیت میں رہ کر پیغمبرانہ آداب سیکھ جائیں کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جس ماحول میں پرورش پائی تھی اس میں تواضع اور انکساری کی بجائے جلال کا پہلو غالب تھا، پیغمبرانہ آداب سیکھنے کا یہ معنٰی ہرگز نہیں کہ پیغمبری کسی سے سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے، یہ تو خالصتاً اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہوتا ہے، جسے چاہتا ہے نبوت کے کام کے لیے منتخب کرتا ہے۔ ہوا یہ کہ ایک دن دوپہر کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) محل سے باہر نکلے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ ان میں ایک آدمی اسرائیلی تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی موسیٰ (علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر فرعون کے آدمی کو پیچھے ہٹانے کے لیے دھکا دیا تو ہاتھ لگتے ہی اس کی جان نکل گئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطان کا کام ہے جو انسان کا کھلا دشمن ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس واقعہ کو اس لیے شیطان کی طرف منسوب کیا کیونکہ لوگوں کو لڑانا شیطان کا کام ہوتا ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کرنے کے ارادے سے اس شخص کو دھکا نہیں مارا تھا، وہ تو دونوں کو چھڑانا چاہتے تھے۔ مگر وہ شخص جان ہار بیٹھا۔ مسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادۃً فرعون کے آدمی کو قتل نہیں کیا تھا۔ 2۔ مظلوم کی مدد کرنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کا شیوہ اور مشن ہے۔ 3۔ ہر برا کام شیطان کی شیطنت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شیطان انسان کا ابدی اور ازلی دشمن ہے۔ 1۔ شیطان نے کہا تھا کہ میں انسان کو گمراہ کرنے کے لیے دائیں بائیں آگے پیچھے سے حملہ آور ہوں گا۔ ( الاعراف : 17) 2۔ یقیناً شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (الاعراف : 22) 3۔ یقیناً شیطان انسان کا واضح دشمن ہے۔ (یوسف : 5) 4۔ یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو۔ (فاطر : 6) 5۔ یقیناً شیطان انسان کے ساتھ واضح دشمنی کرنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : 53) 6۔ شیطان انسان کو رسوا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (الفرقان : 29) 7۔ شیطان لوگوں کے درمیان دشمنی ڈالنا چاہتا ہے۔ (المائدۃ : 91) 8۔ شیطان نے آدم اور حوّا کو پھسلا دیا، وہ انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ (الاعراف : 32)
Ayahs 28:16–17

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

” موسیٰ کہنے لگے اے میرے رب میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے مجھے معاف فرما دے چناچہ اللہ نے اسے معاف کردیا وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (16)

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے عہد کیا کہ اے میرے رب جو آپ نے احسان مجھ پر کیا ہے اس کے بعد میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں ہوں گا۔ “ (17)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قتل خطا پر اپنے رب سے معافی مانگنا۔ باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے آدمی کو ارادتًاقتل نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر بھی قتل آخر قتل تھا جس بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو انتہائی پریشانی لاحق ہوئی۔ بیشک یہ قتل غیر ارادی طور پر ہوا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے اس پر انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ اے میرے رب ! یہ تیرے کرم کا نتیجہ ہے کہ تو نے نہ صرف بچپن میں میری جان بچائی بلکہ مجھے فرعون کے ہاں رہنے کا موقع عنایت فرمایا۔ میں تیری بارگاہ میں عہد کرتا ہوں کہ میں مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معذرت قبول کی اور انھیں معاف کردیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ جہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا مجرم کی مدد کرنے کا تعلق ہے اس کی وضاحت اگلی آیات میں موجود ہے۔ انسان سے غلطی ارادۃً ہو یا غیر ارادی طور پر ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا لازم ہے : (عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ سَأَلْتُ عَاءِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ عَمَّا کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعُو بِہِ قَالَتْ کَانَ یَقُول اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ) [ رواہ ابو داؤد : باب فِی الاِسْتِعَاذَۃِ ] ” حضرت فروہ بن نوفل الاشجعی بیان کرتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق سوال کیا کہ آپ کیا دعا کیا کرتے تھے تو سیدہ عائشہ نے فرمایا آپ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ان برے اعمال سے جو مجھ سے سرزد ہوئے اور جو سرزد نہیں ہوئے۔ “ مومنوں کو تعلیم : (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَارَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَارَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّاوَ اغْفِرْلَنَا وَ ارْحَمْنَااَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ) [ البقرۃ : 286] ” اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ کرنا۔ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا گیا تھا۔ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو، ہم سے درگزر فرما اور ہمیں معاف فرما دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرما۔ ‘ ‘ ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “ [ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ] مسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے غیر ارادی طور پر ہونے والے قتل پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی خطا کو معاف کردیا۔ 3۔ آدمی کو کسی صورت میں مجرم کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ انسان کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے : 1۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔ اللہ گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : 53) 2۔ اللہ کی رحمت دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ (الزخرف : 32) 3۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف : 56) 4۔ اللہ کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ (الحجر : 56) 5۔ ” اللہ “ کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ (الاعراف : 156) 6۔ تیرا پروردگار بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الکہف : 58) 7۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 218) 8۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : 109)
Ayahs 28:18–21

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

” دوسرے دن صبح سویرے موسیٰ ڈرتے اور ہر طرف سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے شہر میں جا رہے تھے کہ یکایک دیکھتے ہیں کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰ نے کہا تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔ (18)

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کریں تو وہ پکار اٹھا اے موسیٰ کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے۔ تو ملک میں اصلاح کرنے کی بجائے ظالم بن کر رہنا چاہتا ہے۔ (19)

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اس کے بعد ایک آدمی شہر کے دوسرے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا موسیٰ سردار آپ کے قتل کے مشورہ ہو رہے ہیں یہاں سے نکل جا میں آپ کا خیرخواہ ہوں۔ (20)

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

یہ خبر سنتے ہی موسیٰ ڈرتے اور سہمے ہوئے نکل کھڑے ہوئے اور موسیٰ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھے ظالموں سے بچائے رکھنا۔ “ (21)

فہم القرآن ربط کلام : ناعاقبت اندیش اور نام نہاد مظلوم کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنا پڑا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے قتل خطا کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی عرض کی تھی کہ بار الٰہ ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جس شخص کی حمایت کی تھی وہ کتنا ناعاقبت اندیش اور بدفطرت تھا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اگلی صبح کل کے واقعہ کی وجہ سے ڈرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہی شخص آج پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے طیش میں آکر فرمایا تو تو بڑا ظالم اور برا شخص ہے۔ یہ کہتے ہوئے موسیٰ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی کو پکڑیں تو جس کی کل حمایت کی تھی وہ کہنے لگا کہ اے موسیٰ کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے موسیٰ ﷺ کل والے شخص کو پیچھے ہٹانا چاہتے ہوں جب آگے بڑھے تو اس نے شور مچا دیا کہ اے موسیٰ تو مجھے بھی کل کی طرح قتل کرنا چاہتا ہے۔ بنی اسرائیل اور فرعون کی قوم کے درمیان ظالم اور مظلوم کشمکش تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے۔ نہ معلوم اس وجہ سے فرعون کی قوم میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کس قدر خدشات پائے جاتے تھے ؟ فرعون کی قوم بالخصوص بر سر اقتدار لوگوں کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا وجود بالیقین ناقابل برداشت تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ جوان فرعون کی آنکھوں کا تارا ہے اور فرعون کے بعد اسے ہی اقتدار حاصل ہوگا۔ بالخصوص انھیں اس لیے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ رقابت تھی کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص اقتدار کے ایوانوں میں اس قدر کیوں مقبول ہوچکا ہے۔ جونہی انھیں معلوم ہوا کل کے مقتول کو موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کیا ہے تو ان کا حسد و بغض اپنی انتہا کو پہنچا اور انھوں نے قتل کے محرکات جانے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا مؤقف سنے بغیر ہی فیصلہ کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فی الفور قتل کردینا چاہیے۔ اُنہی میں سے ایک شخص صبح کے وقت دوڑتا ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور سرداران فرعون کا فیصلہ سناتے ہوئے عرض کی۔ ” اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! فرعون کے وزیروں، مشیروں نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ میں آپ کو خیر خواہانہ مشورہ دیتا ہوں کہ آپ فوری طور پر یہاں سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ خبر سنتے ہی ڈرتے ہوئے بھاگ نکلے کہ کہیں میرا تعاقب نہ ہوجائے۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے فریاد کرنے لگے ” اے میرے رب ! مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرما۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دو وجہ سے قوم فرعون کو ظالم قرار دیا تھا۔ ایک یہ کہ قتل کے اسباب جاننے اور مؤقف سنے بغیر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سہوًا ایک آدمی قتل ہوا تھا لیکن انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ہزاروں آدمی اور معصوم بچوں کو قتل کیا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں ظالم قوم قرار دیا۔ مسائل 1۔ ناعاقبت اندیش اور ظالم کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ نادان دوست انسان کو کسی بھی آزمائش میں مبتلا کرسکتا ہے۔ 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے مشکل کے وقت صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل حل کرنے والا نہیں۔ تفسیر بالقرآن دشمن کے مقابلے میں انبیاء (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا : 1۔ نوح نے بدعا کی کہ الٰہی زمین پر ایک بھی کافر نہ چھوڑیے۔ (نوح : 26) 2۔ اے اللہ ! فساد کرنے والی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما۔ (حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا) (العنکبوت : 30) 3۔ اے ہمارے رب ! تو ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے (حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعا) ۔ (الاعراف : 89) 4۔ اے ہمارے پروردگار ! ان کے اموال کو ختم کردے اور ان کے دلوں کو سخت فرما۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا) ۔ (یونس : 88) 5۔ اللہ کے سوا کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ (الانفال : 10) 6۔ اللہ ہی سے مدد مانگنا چاہیے۔ (البقرۃ : 45) 7۔ اللہ ہی بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔ ( حج : 78)
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

” موسیٰ نے مدین کا رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا۔ (22)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ملک مدین کی طرف ہجرت اور راستے کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں پیدائش پائی اور ان کی تربیت بھی مصر شہر میں ہوئی تھی۔ ملک مصر سے باہر موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ پہلا سفر تھا وہ بھی انتہائی غم اور پریشانی کے عالم میں اچانک پیش آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے کہ مدین کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادۃً مدین کا سفر اختیار کیا یا اللہ تعالیٰ نے انھیں القاء فرمایا کیونکہ ابھی تک موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا نہیں کی گئی تھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدین مصر کے قریب تر ہو۔ بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ مدین مصر میں شامل نہ تھا۔ جس وجہ سے فرعون کی وہاں تک رسائی نہ تھی۔ اِ ن وجوہات کے پیش نظر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کی طرف رخ کیا اور راستے میں مسلسل دعا کرتے رہے کہ میرے رب ! مجھے صحیح راستے کی رہنمائی فرما۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے قریب پہنچے تو انھوں نے ایک گروہ کو اپنی بھیڑ بکریوں کو کنویں سے پانی پلاتے ہوئے پایا۔ جب وہ کنویں کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ دونوں جوان لڑکیاں پانی کے انتظار میں کنویں سے ذراہٹ کر کھڑی ہوئی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اپنے جانوروں کو پانی پلائے جا رہے ہیں۔ کسی نے خیال نہ کیا کہ ہم بچیوں کو جانوروں کو پانی پلانے کا موقع دیں۔ اس سے مدین کے معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ صورتحال دیکھی تو بےقرار ہو کر لڑکیوں کی طرف
Ayahs 28:23–24

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روکے ہوئے ہیں۔ موسیٰ نے ان عورتوں سے پوچھا تمہارا کیا مسئلہ ہے انہوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے آدمی ہیں۔ (23)

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

یہ سن کر موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلادیا پھر ایک سائے کی جگہ جا کر بیٹھ گئے اور دعا کی پروردگار جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔ “ (24)

گئے، پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ؟ انھوں نے حیا دار لہجے میں کہا کہ ہمارے باپ بوڑھے ہیں ہم اکیلی ہیں اور اس وقت تک اپنی بکریوں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا کر فارغ نہیں ہوپاتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کنویں کی طرف بڑھے اور لوگوں کو پیچھے ہٹا کر لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلایا خود پیچھے ہٹ کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر دعا کرنے لگے۔ میرے رب ! میں ایک پردیسی اور بھوکا آدمی ہوں تو جو بھی مجھ پر خیر نازل کرے گا میں اس کا محتاج اور طلب گار ہوں۔ یعنی میرے پاس کچھ بھی نہیں اس لیے ہر چیز کا محتاج ہوں۔ دوسروں کی خدمت کرنے والوں کا اجر : عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْےَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ ےَوْمِ الْقِےٰمَۃِ وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ ےَسَّرَ اللّٰہُ عَلَےْہِ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِےْہِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِےْقًا یَّلْتَمِسُ فِےْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖ طَرِےْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَےْتٍ مِّنْبُےُوْتِ اللّٰہِ ےَتْلُوْنَ کِتَاب اللّٰہِ وَےَتَدَارَسُوْنَہُ بَےْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَےْھِمُ السَّکِےْنَۃُ وَغَشِےَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلٰءِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِےْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہُ لَمْ ےُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ الاِجْتِمَاعِ عَلَی تلاَوَۃِ الْقُرْآنِ وَعَلَی الذِّکْرِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی رسول کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں جس نے کسی مومن کو دنیا کی پر یشانی سے نجات دلائی ‘ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کی مشکلات سے نجات عطا فرمائے گا۔ جس نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی پیدا کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا وآخرت میں آسانی پیدا فرمائے گا جو کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی مدد فرماتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے۔ جو حصول علم کے لیے سفر اختیار کرتا ہے رب کریم اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کرتے ہیں۔ جب بھی لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر قرآن مجید کی تلاوت اور آپس میں تعلیم وتعلّم کا سلسلہ جاری کرتے ہیں تو ان پر سکون اور اللہ کی رحمت سایہ فگن ہوتی ہے ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں میں ان کا ذکر فرماتے ہیں جو شخص اپنے کردار کی وجہ سے پیچھے رہ گیا اس کا حسب نسب اس کو آگے نہیں کرسکے گا۔ “ (عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِی ِّ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لِیَسْأَلْ أَحَدُکُمْ رَبَّہُ حَاجَتَہُ حَتَّی یَسْأَلَہُ الْمِلْحَ وَحَتَّی یَسْأَلَہُ شِسْعَ نَعْلِہِ إِذَا انْقَطَعَ ) [ رواہ الترمذی : باب لیسئل احدکم ربہ ] ” حضرت ثابت بنانی بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں اپنی ضرورت کی ہر چیز رب سے مانگنی چاہیے، حتیٰ کہ نمک، اور جوتے کا ٹوٹا ہوا تسمہ بھی۔ “ مسائل 1۔ مجبورلوگوں کی مدد کرنا انبیاء (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ 2۔ مجبوری کے عالم میں شریعت کی حدود میں رہ کر عورت محنت مزدوری کرسکتی ہے۔ 3۔ انسان کو اپنی ہر حاجت اپنے رب کے حضور پیش کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اپنے رب سے مانگنا : 1۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اپنی بےقراری اور غم کی شکایت صرف اللہ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ (یوسف : 86) 2۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں فرمائے گا تو ہم یقیناً نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : 23) 3۔ ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار ! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (الانبیاء : 83) 4۔ یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو پاک ہے اور میں ہی قصور وار ہوں۔ (الانبیاء : 87) 5۔ زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : 89)
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

” ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔ موسیٰ کے پاس آئی اور کہنے لگی میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں۔ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔ اس کا اجر دیں موسیٰ جب اس کے پاس پہنچے اور اپنا قصہ سنایا تو اس نے کہا کسی قسم کا خوف نہ کر اب آپ ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہیں۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا مستجاب ہوئی جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں بہترین ٹھکانہ عنایت فرمایا۔ اِدھر موسیٰ (علیہ السلام) دعا کر رہے تھے ادھر لڑکیوں نے گھر جا کر اپنے والد گرامی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو واقعہ عرض کیا کہ آج اس لیے ہم جلد واپس آگئی ہیں ایک مسافر نے ہمارے ساتھ یہ تعاون کیا ہے۔ ظاہر ہے لڑکیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیاء اور بھیڑ میں پانی پلانے کے واقعے کی قدرے تفصیل بیان کی ہوگی۔ جس سے متاثر ہو کر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیٹی کو بھیجا کہ وہ اس مسافر کو بلا لائے تاکہ اس کی اس خدمت کا بدلہ اور شکریہ ادا کیا جائے۔ پیغمبر کی صاحبزادی اس چال ڈھال کے ساتھ چلی کہ قرآن مجید نے قیامت تک اس کی حیا دار چال کا نقشہ محفوظ فرما دیا۔ جس کا تذکرہ قرآن مجید ان الفاظ میں پیش کرتا ہے کہ دونوں میں سے ایک لڑکی حیا دار چال، ڈھال کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچی اور آکر کہا کہ میرے والد محترم آپ کو اپنے ہاں بلا رہے ہیں تاکہ جو آپ نے ہمارے ساتھ بکریوں کو پانی پلانے میں جو تعاون کیا ہے اس کا صلہ دیا جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھوکے اور پردیسی تھے انھیں کھانے اور ٹھکانے کی ضرورت تھی۔ لڑکی کی بات سنتے ہی چل پڑے اور لڑکی سے کہا کہ میں آگے چلتا ہوں آپ میرے پیچھے پیچھے آئیں اور مجھے گھر کی نشاندہی کرتے جائیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ انھوں نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ لڑکی کو اپنا پردہ سنبھالنے میں آسانی رہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچے تو اپنی ہجرت کا سبب اور مصر کے حالات تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے بیان کیے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی اور حوصلہ دیا کہ آپ بالکل بےفکر ہو کر یہاں ٹھہریں۔ آپ ظالموں سے نجات پا چکے ہیں یہاں آپ کو کوئی خوف و خطرہ نہیں ہوگا۔ حیا کی اہمیت : (عَنْ عُقْبَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَام النُّبُوَّۃِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَافْعَلْ مَا شِءْتَ ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الأنبیاء، باب حدیث الغار ] ” حضرت عقبہ ؓ فرماتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ لوگوں نے نبوت کے کلام سے جو چیز حاصل کی اس میں یہ ہے کہ جب تجھ میں شرم و حیاء نہ رہے تو پھر جو مرضی کرتا رہ۔ “ (عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَرَّ عَلَی رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَہُوَ یَعِظُ أَخَاہُ فِی الْحَیَاءِ ، فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ دَعْہُ فَإِنَّ الْحَیَاءَ مِنَ الإِیمَانِ ) [ رواہ البخاری : باب الْحَیَاءُ مِنَ الإِیمَانِ ] ” حضرت سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ کا ایک انصاری آدمی کے پاس سے گزرہوا وہ اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو بیشک حیا ایمان کا حصہ ہے۔ “ ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حیا میں خیر ہی خیر ہے بشیر بن کعب نے کہا حکمت کی کتاب میں بھی یہ بات درج ہے کہ بیشک حیا کی وجہ سے وقار آتا ہے اور حیا کی وجہ سے تسکین ملتی ہے عمران بن حصین بشیر بن کعب سے کہنے لگے کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنے صحیفہ کے متعلق بتارہا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب الْحَیَاءِ ] مسائل 1۔ غمزدہ اور پریشان حال شخص کی مدد کرنا انبیاء (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ 2۔ آدمی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ نجات کا راستہ پیدا کردیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی ظالموں سے نجات دینے والا ہے۔ 1۔ حضرت نوح اور ان کے پیرو کاروں کی دعا تمام تعر یفات اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔ (المومنون : 28) 2۔ بنی اسرائیل نے کہا اے اللہ ہمیں ظالم قوم کی آزمائش سے بچانا۔ (یونس : 85) 3۔ حضرت آسیہ ؓ کی التجا اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ (تحریم : 11) 4۔ آپ ﷺ کی دعا اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے بچا۔ (المومنون : 94) 5۔ اصحاب الاعراف قیامت کے دن کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم میں شامل نہ فرمانا۔ (الاعراف : 47)