28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsفہم القرآن

Ayahs 28:26–28

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

” ان دونوں لڑکیوں سے ایک نے اپنے باپ سے عرض کی اباجان اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں یہ طاقت ور اور امانتدار ہے۔ (26)

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

اس کے باپ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کردوں بشرطیکہ آپ آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کریں اور اگر دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی مرضی ہے۔ میں آپ پر سختی نہیں کرنا چاہتا آپ انشاء اللہ مجھے نیک آدمی پائیں گے۔ (27)

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے پاگئی۔ دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں اس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو اور جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کا شعیب (علیہ السلام) کے گھر جانا اور شعیب (علیہ السلام) کا انہیں گھر داماد بنانا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نہایت بوڑھے اور ضعیف ہوچکے تھے جس بناء پر ان کی بچیاں ان کی بھیڑ بکریوں کی نگرانی کرتی تھیں۔ ان کی برادری میں کوئی ایسا حیا دار جوان نہ تھا جس پر اعتماد کیا جاسکے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب مالی لحاظ سے کمزور ہوں جس وجہ سے ملازم رکھنے کی گنجائش نہ ہو۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں انھیں ایک جوان میسر آیا جو خود بھی ضرورت مند تھا اس لیے اسے گھریلو ملازم رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کا اشارہ مل چکا ہو۔ تاہم بظاہر واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیا اور ان کی طاقت کا اس بات سے اندازہ کیا کہ کنویں کا ڈول جسے کئی آدمی مل کر کھینچنے تھے، موسیٰ (علیہ السلام) نے اکیلے ہی کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلایا۔ اس بات سے اندازہ کرتے ہوئے دو بیٹیوں میں سے ایک بیٹی نے والد سے درخواست کی کہ ہمیں صالح کردار ایک ملازم کی ضرورت ہے کیوں نہ ہو ابا جان اس شخص کو اپنے ہاں ملازم رکھ لیا جائے یہ شرم و حیا کے اعتبار سے امانتدار اور صحت کے لحاظ سے طاقتور ہے۔ قرآن مجید نے بچیوں کی عفت اور حیا کے پیش نظر وضاحت نہیں فرمائی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو گھر ملازم رکھنے کے لیے کس بچی نے سفارش کی تھی حالانکہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات اس بچی نے کہی ہوگی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو بلانے گئی تھی۔ حضرت شعیب نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا میں چاہتا ہوں دو میں سے ایک بیٹی کا آپ سے نکاح کردیا جائے لیکن شرط یہ ہے کہ حق مہر کے طور پر تو آٹھ یا دس سال میرے ہاں ملازمت کرے میں تجھ پر کوئی سختی نہیں کروں گا۔ انشاء اللہ تو میرا رویہ انتہائی صالح لوگوں جیسا پائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پہلے ہی چاہتے تھے کہ مجھے کوئی اچھا ٹھکانہ مل جائے اس لیے انھوں نے کہا کہ مجھے یہ بات منظور ہے البتہ یہ میری مرضی پر منحصر ہوگا کہ میں آٹھ سال کے بعد مزید دو سال آپ کی خدمت میں رہوں یا آٹھ سال پورے ہونے پر آپ سے فراغت چا ہوں۔ ہاں ! اگلے سال مدّت کے معاملہ میں مجھ پر کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے۔ جو میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے اللہ ہی اس پر نگران ہے۔ لہٰذا وقت کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) اور مستقبل کے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ذمّہ داری کا آغاز کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سسر حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ نبی نہیں تھے، حالانکہ ان کے پاس اس بات کی نفی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس دلائل موجود نہیں۔ گو اس معاملہ میں دونوں طرف سے قطعی دلائل نہیں پائے جاتے تاہم یہ بات قابل غور ہے۔ جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف نبی بنا کر بھیجنا تھا اسے عام آدم کی بجائے خاص شخصیت کے ہاں رکھنا کہیں بہتر تھا۔ قرآن مجید کے الفاظ سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ اس معاہدہ کے ساتھ یا کچھ دنوں کے بعد ہی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا تاکہ وہ گھر کے فرد کی حیثیت سے رہیں اور پردہ کے معاملہ میں کوئی دقّت پیش نہ آئے۔ اس بات سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے جونہی بیٹی کے لیے نیک رشتہ میسر ہو تو آدمی کو اس فرض سے سبکدوش ہونے کی جلد کوشش کرنی چاہیے۔ باحیا نوجوان کو خود رشتہ کی پیشکش کرنے میں بھی کوئی حرج اور غیرت کے منافی بات نہیں ہے۔ اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ حق مہر جائیداد یا روپے کی شکل میں ہو۔ تاہم حق مہر میں داماد کی مالی حیثیت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ حق مہر کی حیثیت : رسول اللہ ﷺ چند صحابہ ؓ میں تشریف فرما تھے ایک عورت نے (اپنے حالات سے مجبور ہو کر) اپنے آپ کو نکاح کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کیا آپ ﷺ خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص عرض کرنے لگا اگر آپ آمادہ نہیں تو میں اس عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تیرے پاس حق مہر کے لیے کچھ ہے ؟ اس نے عرض کیا یہ چادر جو میں نے لپیٹ رکھی ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ فرمایا کہ چادر اپنے پاس رکھو اور حق مہر کے لیے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ۔ کوشش کے باوجود اسے انگوٹھی بھی میسر نہ ہوسکی وہ خالی ہاتھ واپس آیا۔ آپ پوچھتے ہیں کہ تجھے قرآن مجید یاد ہے ؟ تو اس نے عرض کی کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ سورتیں حق مہر کے طور پر اپنی بیوی کو یاد کروا دینا۔ [ بخاری : کتاب النکاح ] تین کاموں میں جلدی کرنا چاہیے : (عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَہُ یَا عَلِیُّ ثَلاَثٌ لاَ تُؤَخِّرْہَا الصَّلاَۃُ إِذَا آنَتْ وَالْجَنَازۃُ إِذَا حَضَرَتْ وَالأَیِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَہَا کُفْؤًا) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی الْوَقْتِ الأَوَّلِ مِنَ الْفَضْلِ ] ” حضرت علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں۔ بیشک نبی کریم ﷺ نے اسے کہا اے علی تین کاموں میں تاخیر نہیں کرنی۔ جب نماز کا وقت ہوجائے، جب جنازہ حاضر ہو اور جب ہم پلہ رشتہ میسر آجائے۔ “ مسائل 1۔ ملازم پر سختی نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ معاہدہ کی پاسداری کرنا فریقین پر فرض ہے۔ 3۔ سُسر کو داماد اور داماد کو سسر کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی کار ساز ہے اسی پر توکل کرنا چاہیے : 1۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، بس تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : 102) 2۔ بیشک آپ ﷺ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز کا کارساز ہے۔ (ہود : 12) 3۔ اللہ ہر چیز کا قادر ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الزمر : 41) 4۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کافی ہے کارساز۔ (النساء : 132) 5۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا۔ اللہ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : 65) 6۔ وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : 9)
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر واپس چلے تو طور کی جانب اسے آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھروالوں سے کہا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں۔ جسے آپ تاپیں۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے وطن واپس آنا۔ قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معاہدہ کے مطابق آٹھ سال پورے کیے یا اختیاری مدت کے مطابق دس (10) سال مدین میں گزارے قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدّت پوری کرلی تو حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں طور پہاڑ کے دامن میں انھوں نے جلتی ہوئی آگ دیکھی۔ اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ تم ٹھہرو میں وہ آگ دیکھ رہا ہوں وہاں سے راستہ کی معلومات حاصل کروں یا آگ کے کچھ انگارے لاؤں تاکہ تم تاپ سکو۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے قریب پہنچے تو انھیں اس وادی کے دائیں جانب سے بابرکت جگہ میں ایک درخت سے آواز دی گئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یقیناً میں اللہ ہوں سب جہانوں کا رب ہوں۔ ” موسیٰ وہاں پہنچے تو پکارا گیا اے موسیٰ ۔ میں ہی تیرا رب ہوں تو اپنے جوتے اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں پہنچ چکا ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے جو کچھ وحی کی جاتی ہے توجہ سے سنو۔ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ “ ( طٰہٰ : 11 تا 14 )
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

” موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے مبارک مقام پر میں ایک درخت سے بلائے گئے اے موسیٰ میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں والوں کا مالک۔ “ (30)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ کے لیے جمع کی ضمیر استعمال فرمائی۔ ” اُمْکُثُوْا، تم ٹھہرو۔ “ ہوسکتا ہے کہ جس طرح اردو زبان میں ہم واحد مخاطب کے لیے جمع مخاطب کی ضمیر استعمال کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بناء پر جمع کی ضمیر استعمال کی ہو۔ البتہ تورات میں موجود ہے کہ مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں دو بچے پیدا ہوچکے تھے۔ جو سفر میں ان کے ساتھ تھے جس وجہ سے انھوں نے جمع کی ضمیر استعمال فرمائی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ انھوں نے جمع کی ضمیر اس لیے استعمال کی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اہلیہ، بیٹا اور ایک خادم بھی تھا۔ جس بناء پر انھوں نے اپنی اہلیہ کے لیے واحد مخاطب کی ضمیر استعمال کرنے کی بجائے جمع مخاطب کی ضمیر استعمال کی۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو وہاں ٹھہرا کر طور کے دامن کے قریب پہنچے تو انھیں اِ ن الفاظ سے مخاطب کیا گیا کہ اے موسیٰ ! آپ مبارک اور مقدس جگہ پر پہنچ چکے ہیں لہٰذا اپنا جوتا اتار دیں اور جو کچھ آپ کو کہا جا رہا ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو اور یقین کرو۔ میں اللہ ہی جہانوں کو پیدا کرنے والا اور انھیں رزق دینے والا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں لہٰذا صرف میری ہی عبادت کرو۔ میری یاد کے لیے میرے حضور نماز ادا کرتے رہو۔ (طٰہٰ : 14) موسیٰ (علیہ السلام) کو پوری طرح یقین ہوگیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ساتھ سرفراز فرمایا ہے اور واقعی ہی میرے ساتھ کائنات کا رب کلام فرما رہا ہے اور میرے رب نے مجھے نبوت سے سرفراز کردیا ہے تو اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے۔ میرے مطالعہ کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سفر کے دوران نبوت عطا فرمائی اور اعلان نبوت کے ساتھ ہی دو عظیم معجزات عطا کیے۔ ” اے موسیٰ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ (17) موسیٰ نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں۔ (18) ” فرمایا اے موسیٰ اپنا عصا پھینک یکایک عصا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ فرمایا پکڑ لے اس کو ڈرنا نہیں ہم اسے پھر ویسا ہی کردیں گے جیسے پہلے تھا۔ اور اب اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دباکر نکال جو بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے۔ کیونکہ ہم آپ کو اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب سرکش فرعون کے پاس جا۔ موسیٰ نے کہا پروردگار میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان فرمادے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ پائیں۔ میرے لیے میرے گھرو الوں سے ایک وزیر مقرر کر دے۔ ہارون کو جو میرا بھائی ہے اس کے ساتھ میری پشت مضبوط کردے اور اس کو میرے کام میں شریک فرمادے تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں۔ “ (طٰہٰ : 17 تا 33) ” اپناہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ چمکتا ہوانکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ فرعون اور اس کی قوم کی طرف لے جانے کے لیے یہ دونشانیاں نونشانیوں میں سے ہیں کیونکہ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ “ ( النمل : 12) مسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سفر کے دوران کوہ طور کے دامن میں مقدس وادی میں ایک درخت پر آگ دیکھی۔ 2۔ آگ سے آواز آئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں اللہ ہوں اور رب العالمین ہوں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ” رب “ کے معانی 1۔ سب کو پالنے والا۔ (الفاتحۃ : 1) 2۔ ساری کائنات کا خالق۔ (الانعام : 102) 3۔ کائنات کا مالک۔ (یونس : 31) 4۔ کائنات کا نظام چلانے والا۔ (فاطر : 13) 5۔ حاکم مطلق۔ (یوسف : 40) 6۔ پیدا کرنے والا۔ ( النساء) 7۔ عطا کرنے والا۔ ( سبا : 15)
Ayahs 28:31–35

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

” اپنی لاٹھی پھینک دیں جونہی موسیٰ نے دیکھا کہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور موسیٰ نے مڑکر بھی نہ دیکھا اے موسیٰ پلٹ آؤ خوف نہ کرو تو بالکل محفوظ ہے۔ (31)

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپناہاتھ گریبان میں ڈالیے چمکتا ہوا نکلے گا۔ خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لیں۔ یہ دو روشن نشانیاں ہیں آپ کے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ فرعون اس کے ساتھی بڑے نافرمان ہیں۔ “ (32)

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

” موسیٰ نے عرض کیا میرے رب میں ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ (33)

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان رکھنے والا ہے اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیجیں تاکہ میری تائید کرے مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ (34)

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی قوت دینگے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ہماری نشانیوں کے ذریعے تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی غلبہ ہوگا۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : عظیم معجزات ملنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون سے خوفزدہ ہونا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر زمین پر رینگنے لگا۔ اتنا بڑا سانپ دیکھ کر حضرت موسیٰ ڈر کر بھاگنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا موسیٰ ڈرو نہیں بلکہ آگے ہو کر پکڑ لو۔ یہ پہلے کی طرح لاٹھی بن جائے گا اور آپ مامون رہیں گے۔ اپنا ہاتھ بغل میں دبا کر نکال یہ بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا ظاہر ہوگا خوف کے وقت ہاتھ کو بغل میں دبا لینا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر چھوڑ کر مدین اس لیے گئے تھے کہ ان سے سہوًا ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مؤقف سنے بغیر فیصلہ کرلیا تھا کہ اسے قتل کردیا جائے اس بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے درخواست کی کہ میرے رب مجھ سے ان کا ایک شخص قتل ہوگیا تھا اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کی کہ میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) گفتگو کے اعتبار سے زیادہ فصیح زبان رکھتا ہے۔ اس لیے اسے میرا معاون بنائیں تاکہ وہ میری تصدیق کرے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی التجاء قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ عنقریب ہم آپ کے بھائی کے ساتھ آپ کو مضبوط کریں گے۔ آپ دونوں کامیاب ہو نگے فرعون اور اس کے ساتھی ہمارے معجزات کی وجہ سے تمہارے قریب بھی نہیں آسکیں گے۔ آپ اور آپ کے تابعدار فرعون اور اس کے درباریوں پر غالب رہیں گے۔ بائیبل میں ید بیضاء کی ایک اور ہی تعبیر کی گئی ہے جو وہاں سے نکل کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گئی، وہ یہ کہ حضرت موسیٰ نے جب بغل میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو پورا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید تھا، پھر جب دوبارہ اسے بغل میں رکھا تو وہ اصلی حالت پر آگیا۔ یہی تعبیر اس معجزے کی تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ فرعون کو برص کی بیماری تھی جسے وہ چھپائے ہوئے تھا اس لیے اس کے سامنے یہ معجزہ پیش کیا گیا کہ دیکھ۔ یوں آناً فاناً برص کا مرض پیدا ہوتا ہے اور کافور ہوجاتا ہے۔ لیکن اوّل تو ذوق سلیم اس کا انکار کرتا ہے کہ کسی نبی کو برص کا معجزہ دے کر ایک بادشاہ کے دربار میں بھیجا جائے۔ دوسرے اگر فرعون کو مخفی طور پر برص کی بیماری تھی تو ید بیضا صرف اس کی ذات کے لیے معجزہ ہوسکتا تھا اس کے درباریوں پر اس معجزے کا کیا رعب طاری ہوتا۔ لہٰذا صحیح بات وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی کہ اس ہاتھ میں سورج کی سی چمک پیدا ہوجاتی تھی۔ جسے دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔ قدیم مفسرین میں سے بھی بہتوں نے اس کے یہی معنی لیے ہیں۔ (تفہیم القرآن) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ ہی لاٹھی کا معجزہ عطا فرمایا اور ید بیضا بھی عطا کیا گیا۔ 2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ 3۔ فرعون اور اس کے سردار سرکش لوگ تھے۔ تفسیر بالقرآن غلبہ حاصل کرنے والے لوگ : 1۔ مومن ہی ہر حال میں بلند رہیں گے۔ (آل عمران : 139) 2۔ مومن اللہ کا لشکر ہیں اور غالب رہیں گے۔ (المجادلۃ : 22) 3۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : 160) 4۔ ہم نے ان کی مدد کی سو وہ غالب آگئے۔ (الصّٰفٰت : 116) 5۔ بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 249)
Ayahs 28:36–37

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

” جب موسیٰ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو صرف بنایا ہواجادو ہے۔ یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی نہیں سنیں۔ (36)

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا۔ میرا رب اس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے۔ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ انجام کس کا اچھا ہونا ہے حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ “ (37)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ضمانت اور عطا کیے ہوئے معجزات کی وجہ سے فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سفر کے دوران دو عظیم معجزات عنایت فرمائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے معجزات ملنے کے بعد اپنے رب کے حضور دو التجائیں پیش کیں : بارِ الٰہ ! میرے بھائی ہارون کو میر اپشتی بان بنا اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں گزارشات منطور کرلی گئیں۔ مصر واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو لے کر۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات اور ٹھوس دلائل کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس پہنچے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ٹھوس اور واضح دلائل کی طرف توجہ کرنے کی بجائے معجزات کا مطالبہ کیا۔ جونہی اس کی زبان سے یہ مطالبہ ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا دست مبارک اپنی بغل میں دبا کر ان کے سامنے کیا۔ جس سے فرعون کے ایوان میں روشن قمقمے اور مختلف قسم کی قندیلوں کی روشنی ٹمٹماتے دیوں کی طرح مانند پڑگئے۔ یدبیضا دیکھ کر فرعون اور اس کے حواریوں کی آنکھیں چکا چوند رہ گئیں۔ اتنا واضح معجزہ دیکھنے کے باوجود فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ماننے سے انکار کردیا۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا وہ خوفناک اژدھا کی صورت اختیار کرکے اپنے جبڑے کھول کر فرعون کے ایوان میں رینگنے لگا۔ اژدھا جس طرف منہ کرتا فرعون اور اس کے درباری چیخیں مارتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوتے۔ بالآخر مجبور ہو کر انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اس اژدھا کو قابو کریں تاکہ ہم آپ کی بات سننے کے قابل ہو سکیں۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اژدھا کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ دلائل سننے اور معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھی کہنے لگے ” اے موسیٰ ! یہ خدائی معجزات نہیں بلکہ آپ کے بنائے ہوئے جادو کی کرشمہ سازیاں ہیں جہاں تک آپ کی باتوں اور دلائل کا معاملہ ہے یہ ایسی باتیں ہیں جو نہ صرف ہم نے نہیں سنیں بلکہ پہلے لوگوں سے بھی ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی ہٹ دھرمی دیکھ کر اس موقع پر فقط اتنا ارشاد فرمایا کہ میرا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہ اس شخص کے حال سے بھی خوب واقف ہے جس کا آخرت میں ٹھکانہ بہتر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جو پہلا الزام لگایا وہ یہ تھا کہ ” اے موسیٰ ! تم جادوگر ہو۔ “ یہ ایسا الزام ہے جو بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) پر لگایا گیا۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت میں انتہا درجہ کی کشش اور ان کے معجزے ناقابل تمثیل ہوتے تھے۔ جن کا اثر زائل کرنے کے لیے آسان ترین الزام یہی تھا کہ ان کو جادوگر قرار دیا جائے۔ حالانکہ جادوگر گھٹیا کردار، افکار کے گندے اور پیٹ کے پجاری ہوتے ہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اس قسم کی گراوٹ سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ نبی اور جادوگر کے درمیان فرق سمجھنے کے لیے فہم القرآن جلد :1 کا صفحہ 68 ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ٹھوس دلائل اور کھلے معجزات کو جادو قرار دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ اور گمراہ شخص کو خوب جانتا ہے۔ 3۔ حقائق کو جھٹلانے والا ظالم ہوتا ہے ظالم کبھی فلاں نہیں پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن جادو کا انجام : 1۔ جادوکفر ہے۔ (البقرۃ : 102) 2۔ جادو کی اصلیت نہیں ہوتی۔ (الاعراف : 116) 3۔ جادو شیاطین کے ذریعے ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 102) 4۔ جادوگر کامیاب نہیں ہوتا۔ (طٰہٰ : 69)
Ayahs 28:38–39

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

” اور فرعون نے کہا اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارا کسی کو الٰہ نہیں جانتا۔ اے ہامان اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنوا۔ تاکہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں۔ کیونکہ میں موسیٰ کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ “ (38)

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

” فرعون نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔ “ (39)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے ظالمانہ رویہ کی انتہا۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کے مقابلہ میں فرعون اپنے آپ کو بےبس محسوس کرنے لگا تو اس نے دیوانے کے بھڑ مارنے کی مانند بھڑ مارتے ہوئے اپنے وزیروں، مشیروں کو کہا کہ میں یہ بات کسی حال میں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ کہ میرے سوا بھی تمہارا کوئی الٰہ ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بھڑ مارتے ہوئے اپنے دست راست وزیر ہامان کو کہا اے ہامان ! ملک بھر کے بھٹوں میں فی الفور پکی اینٹیں کثیر تعداد میں تیار کروائی ایک فلک بوس ٹ اور تیار کیا جائے۔ تاکہ بلند وبالا عمارت پر چڑھ کر دیکھوں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا کہاں رہتا ہے۔ کیونکہ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کا وجود مجھے نظر نہیں آتا۔ اگر وہ آسمان پر ہے تو میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ سب کچھ لوگوں کی تسلّی کے لیے ہے ورنہ مجھے یقین ہے کہ موسیٰ کذّاب انسان ہے۔ اس قسم کی گفتگو اور ظالمانہ اقدامات کے سبب فرعون اور اس کا لشکر ملک میں بڑے بن بیٹھتے تھے۔ جس کا انھیں کسی صورت استحقاق نہ تھا۔ وہ ظلم اور فخر و غرور میں اس قدر آگے بڑھ چکے تھے کہ ان کو یقین ہو چلا تھا کہ وہ رب ذوالجلال کے حضور کبھی جواب دہ نہ ہوں گے۔ فرعون اور اس کے آباؤ اجداد کئی پشتوں سے قانونی اور سیاسی اختیارات میں اپنے آپ سے کسی کو برتر نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی لوگ اس کے سامنے جھکتے اور سجدہ کرتے تھے جیسا کہ بڑے لوگوں کے سامنے لوگ جھکا کرتے ہیں۔ اسی بات کو ان کی خدائی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرعون کی طرح متکبرانہ بات ماضی قریب کی نام نہاد سپر پاور روس نے کہی تھی۔ روس کے خلا باز جب خلا (Space) میں چاند سے ہو کر آئے تو کہنے لگے کہ ہمیں تو کہیں مسلمانوں کا خدا نہیں ملا۔ یہ کائنات کتنی بڑی ہے ؟ اصل حقیقت تو خالق کائنات ہی جانتا ہے۔ درج ذیل معلومات سے اندازہ ہونے میں مدد ملے گی۔ کائنات میں فاصلوں کی پیمائش کے لیے جو اکائی استعمال کی جاتی ہے اسے نوری سال (Light Year) کہتے ہیں یہ وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے اس کی مقدار (9.46X10 , 12KM) ہے۔ جس کہکشاں میں ہمارا نظام شمسی (Solar System) واقع ہے اسے (Milky Way Galaxy) کہتے ہیں۔ اس کا قطر ایک لاکھ نوری سال (10000 Light Years) ہے اس میں لگ بھگ ایک سوبلین ستارے دریافت ہوچکے ہیں۔ Milky way سے اگلی کہکشاں 8 لاکھ نوری سال (800000 Light Years) کے فاصلے پہ واقع ہے ابھی تک بیسیوں ملین کہکشائیں (Tens of Millions Galaxies) دریافت ہوچکی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں موجود ستاروں ( Stars) کی تعداد کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا تاہم ان کی تعداد بلین بلین (Billion Billion=1024) سے زیادہ ہے۔ The Guinnes encyclopedia of Science یہ بیوقوف ایک نوری سال کے بھی کئی ہزار ویں حصے کا فاصلہ طے کر آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ یہ متکبرانہ اور گستاخانہ بات کرنے والے فرعون کو اللہ تعالیٰ نے سمندر میں ڈبو کر اس کی لاش کو دنیا کے لیے نشان عبرت بنا چھوڑا۔ دور جدید کے متکبرانہ نظام روس کو بھی اللہ تعالیٰ نے تمام جدید ترین ٹیکنالوجی کی دسترس کے باوجود ٹکڑے ٹکڑے کر کے دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا ہے۔ (ماخوذ از ضیاء القرآن) (فَاعْتَبِرُوْا یَااُولِی الْاَبْصَارِ ) [ الحشر : 2] ” اے دانا و بینا نصیحت حاصل کرو۔ “ مسائل 1۔ فرعون نے ہر حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو چیلنج کر رکھا تھا۔ 2۔ فرعون کے بعد ہامان سب سے بڑا باغی اور متکبر شخص تھا۔ 3۔ فرعون اور اس کے ساتھی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشی کو یکسر بھول چکے تھے۔ تفسیر بالقرآن اِلٰہ حقیقی کا مختصر تعارف : 1۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ رحمن ورحیم ہے (البقرۃ۔ 163) 2۔ یقیناً اللہ ایک ہی الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ 171) 3۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73) 4۔ فرما دیجیے اللہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19) 5۔ اللہ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ یقیناً الٰہ ایک ہی ہے۔ (النحل : 51) 6۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60) 7۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61) 8۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62) 9۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63) 10۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64) 11۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65) 12۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا ہے جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : 71) 13۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے جو دن ختم کرکے رات لائے ؟ (القصص : 72) 14۔ اگر دو الٰہ ہوتے تو فساد ہوجاتا۔ ( الانبیاء : 22) 15۔ بس اس ایک الٰہ کے سوا کوئی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88)
Ayahs 28:40–42

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

” آخرکار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑکر سمندر میں پھینک دیا دیکھ لو ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ (40)

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے بنایا۔ قیامت کے دن کوئی مدد نہیں پائیں گے۔ (41)

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

ہم نے اس دنیا میں ان پر لعنت ڈال دی اور قیامت کے دن بڑی ذلت سے دو چار ہوں گے۔ “ (42)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کا دنیا و آخرت میں انجام۔ فرعون کو اپنے اقتدار اور اختیارات پر بڑا ناز تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل پر اس قدر مظالم کا بازار گرم رکھا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی انتہائی کرب کے عالم میں بلبلا کر ان الفاظ میں فریاد کرنے لگے۔ ” انہوں نے کہا موسیٰ آپ کے ہمارے ہاں آنے سے پہلے ہمیں تکلیف پہنچائی گئی اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے فرمایا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں جانشین بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ “ [ الاعراف : 129] ” ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اس پر فرعون نے شہروں میں نقیب بھیج دیے۔ اور اعلان کروایا کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں اور انہوں نے ہم کو بہت غصہ چڑھا دیا ہے۔ اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکس رہنا ہے۔ اس طرح ہم انہیں ان کے باغوں، چشموں، خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے۔ یہ تو ہوا ان کے ساتھ اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کردیا۔ صبح ہوتے آل فرعون بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل پڑے۔ جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں۔ میرے ساتھ میرا رب ہے۔ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ سمندر پر اپنا عصا مار۔ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔ اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے ہم نے بچالیا اور دوسروں کو غرق کردیا۔ اس واقعہ میں ایک نشانی ہے مگر لوگوں میں اکثر ماننے والے نہیں ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور مہربان بھی۔ “ (الشعراء : 52 تا 68 ) مسائل 1۔ انسان کو ظالموں کے انجام پر نگاہ رکھنی چاہیے۔ 2۔ جہنم میں جاتے ہوئے فرعون اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں ڈبکیاں دے دے کر مارا۔ 4۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر ہمیشہ ہمیش پھٹکار برستی رہے گی۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں پر ہمیشہ لعنت برستی رہے گی : 1۔ بےگناہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر لعنت ہے اور اللہ کا عذاب ہوگا۔ (النساء : 93) 2۔ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے اور انہیں جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الاحزاب : 64) 3۔ اللہ اور رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر لعنت برستی ہے۔ (الاحزاب : 57) 4۔ ظالموں کے لیے جہنم کا عذاب اور لعنت ہے۔ (حم ٓ السجدۃ : 52) 5۔ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (المائدۃ : 64) 6۔ جہنمی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ (الاعراف : 38) 7۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الفتح : 6)
Ayahs 28:43–44

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

” پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور باعث رحمت تھی تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (43)

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اس وقت آپ مغربی کنارے میں موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کو فرمان شریعت عطا کیا اور نہ آپ شاہدین میں شامل تھے۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے لاؤ لشکر غرق کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں کی شکل میں توراتعطا کی گئی۔ رب ذوالجلال نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو باسلامت بحر قلزم عبور کروایا اور پوری دنیا میں ان کی عزت کو دوبالا فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر وادی طی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہاں کئی اہم واقعات بھی رونما ہوئے۔ جن میں سب سے بڑا اور اہم واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت فرمائی جس میں بنی اسرائیل کے لیے نصیحت و عبرت کے واقعات، پہلی اقوام کی تباہی کے اسباب اور اس تورات کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت اور رحمت کا باعث قرار دیا۔ تاکہ بنی اسرائیل اس سے رہنمائی حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ نزول تورات کا ذکر کرنے کے ساتھ یہ بھی وضاحت فرما دی گئی کہ اے نبی ﷺ ! آپ اس وقت بھی موجود نہ تھے جب اللہ تعالیٰ نے طور کے مغربی پہلو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اور دو عظیم معجزے عطا فرمائے تھے۔ طور کے مغربی پہلو میں آپ ﷺ کے موجود نہ ہونے سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جس واقعے کی تفصیلات بتائی جا رہی ہیں وہ کسی سے سنی سنائی اور پڑھی پڑھائی باتیں نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ وحی ہے جو قرآن مجید کی صورت میں حضرت محمد ﷺ پر نازل کی جا رہی ہے۔ بصیرت کی جمع بصائر، ہے جس سے مراد ایسے حقائق ہیں جن کو انسان ہدایت کی نیت سے پڑھے تو یقیناً ہدایت سے سرفراز ہوگا۔ قرن کی جمع ” قرون “ ہے جو تین میں سے کسی ایک معنٰی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ ایک نسل۔ 2۔ کسی قوم کا ایک دور۔ 3۔ بعض اہل علم نے ایک صدی کو ایک قرن قرار دیا ہے۔ تورات اور قرآن کی تعلیم کے بارے میں فرمان : (اآرٰکِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ) [ ابراہیم : 1] ” الر۔ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں، ان کے رب کے حکم سے اور اس کے راستے کی طرف جو سب پر غالب، بہت تعریف والا ہے۔ “ (وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَآ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ) [ ابراہیم : 5] ” اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے اور انہیں اللہ کے دن یاد دلائے، بلاشبہ اس میں ہر شخص کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر اور شکر کرنے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے تورات کو لوگوں کی ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل فرمایا تھا۔ 2۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کے دائیں جانب نبوت عطا کی گئی تو نبی آخر الزماں ﷺ اس وقت موجود نہ تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ ہر جگہ حاضر، ناظر نہ تھے اور نہ ہیں : 1۔ مریم [ کی کفالت کے وقت رسول اللہ ﷺ حاضر نہ تھے۔ (آل عمران : 44) 2۔ اخوان یوسف کے مکر کے وقت رسول اللہ ﷺ موجود نہ تھے۔ (یوسف : 102) 3۔ یہ غیب کی خبریں ہیں نہ آپ اس کے متعلق جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔ ( ہود : 49) 4۔ آپ طور کی مغربی جانب اس وقت موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت کے منصب پر سرفراز کیا۔ ( القصص : 44)
Ayahs 28:45–46

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

” اس کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں اور ان پر طویل زمانہ گزر چکا ہے۔ آپ اہل مدین کے درمیان موجود نہ تھے کہ ان کو ہماری آیات سنا رہے ہوتے ہم ہی رسول بھیجنے والے ہیں۔ (45)

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور آپ طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو پہلی مرتبہ پکارا تھا مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔ “ (46)

فہم القرآن ربط کلام : طور اور مدین میں آپ ﷺ کی غیر حاضری کے ثبوت سے آپ کی نبوت کے دو مزید دلائل دیے گئے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے نکل کر مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں آٹھ یا دس (10) سال گزارے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں اپنی دامادی کے شرف سے مشرف فرمایا۔ طے شدہ مدت کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں انھیں طور کی دائیں جانب روشنی نظر آئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کو یہ کہہ کر اس روشنی کی طرف بڑھے کہ آپ یہاں ٹھہریں میں وہاں سے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اگلے سفر کی رہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ اِ ن واقعات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان مقامات پر موجود نہ تھے یہ تو آپ پر آپ کے رب کا کرم ہے کہ آپ ان لوگوں کے سامنے قرآن مجید کی آیات تلاوت کرتے ہیں۔ جس میں ہزاروں سال پہلے ہونے والے واقعات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ جیسے بیان کرنے والا خود موجود ہو۔ یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو ان کے برے انجام سے آگاہ فرمائیں۔ جس کے پاس اس سے پہلے براہ راست کوئی پیغام دینے والا پیغمبر نہیں آیا۔ یہ نبی اکرم ﷺ کی نبوت کا تیسرا ثبوت ہے کہ مکہ اور مدینہ کی سر زمین پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اور آپ ﷺ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا۔ اس سے پہلے جو رسول آئے وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تھے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے نبی اکرم ﷺ پہلے اور آخری رسول ہیں۔ ان کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ یہاں تک کہ حجاز میں رہنے والے پہلے لوگوں کا تعلق ہے ان کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب ضرور مہیا فرمائے تھے جن سے انھیں نسل در نسل دین ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات پہنچتی رہیں یہی وجہ ہے کہ مکہ میں ایک گروہ ایسا تھا جو اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا پیرو کار کہتا اور سمجھتا تھا اور اسی بناء پر ہی دین ابراہیم (علیہ السلام) کی کئی باتیں بگڑی ہوئی شکل میں موجود تھیں۔ (عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ؓ عَنِ النَّبِی ﷺ قَالَ إِذَا رَأَیْتَ اللَّہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلَی مَعَاصِیہِ مَا یُحِبُّ فَإِنَّمَا ہُوَ اسْتِدْرَاجٌ ثُمَّ تَلاَ رَسُول اللَّہِ ﷺ (فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاہُمْ بَغْتَۃً فَإِذَا ہُمْ مُبْلِسُونَ ) [ رواہ احمد : مسند عقبۃ بن عامر ] حضرت عقبہ بن عامر ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں جب اللہ بندے کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود اسے عطا کرتا جائے جس کا وہ خواہش مند ہوتا ہے۔ یہی وہ مہلت ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی (جب ان چیزوں کو بھول گئے جن کی ہم نے انہیں نصیحت کی تھی ہم نے ان کے لیے ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کے جب وہ اس پہ خوش ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور وہ اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے۔ “ مسائل 1۔ نبی ﷺ کی بعثت کا مقصد لوگوں کو ان کے برے کاموں سے ڈرانا ہے۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ سے پہلے مکہ اور مدینہ کی سرزمین پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کیا گیا۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

” کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کیے کی بدولت کوئی مصیبت ان پر آئے تو وہ کہیں۔ اے پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان دار ہوتے۔ “ (47)

فہم القرآن ربط کلام : مجرم لوگ اس وقت تک نصیحت حاصل نہیں کرتے جب تک ان کی گرفت نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس لیے قرآن مجید کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ لیکن آپ ﷺ کے مخاطب نصیحت حاصل کرنے کی بجائے آپ کی مخالفت میں کمربستہ ہوگئے۔ آپ کو تسلی دینے اور مجرموں کو انتباہ کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ اصول نہ ہوتا کہ وہ مجرموں کو دنیا میں ہلکی پھلی سزا دے تو لوگ کبھی بھی اپنے رب کے حضور جھکنے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ جب لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑتا ہے تو اس وقت وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کیوں نہ اپنا رسول مبعوث فرمایا ؟ تاکہ ہم اس کی اتباع کرتے اور مومن بن جاتے۔ اس ارشاد میں بین السطور رسول معظم ﷺ کے مخالفوں کو سمجھایا گیا ہے کہ اگر تم نے تسلیمات کا رویہ اختیار نہ کیا تو ایک وقت آئے گا جب تم اپنے رب کی بارگاہ میں اس حسرت کا اظہار کرو گے کہ کاش ہم اپنے رسول کی اتباع کرتے اور آج عذاب سے بچ جاتے۔ قیامت کے دن مجرموں کا اقرار کرنا : (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا) [ الفرقان : 27] ” اس دن ظالم لوگ اپنے ہاتھوں پر کاٹتے ہوئے کہیں گے۔ کاش ہم نے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی۔ “ مسائل 1۔ مجرم عذاب آنے سے پہلے نصیحت کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔ 2۔ ” اللہ “ کے رسول آچکے لیکن مجرم ماننے کے لیے تیار نہیں۔
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

” مگر جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آپہنچاتو کہنے لگے کیوں نہ دیا گیا اس کو جو کچھ موسیٰ کو دیا گیا تھا۔ کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا موسیٰ اور جادو گر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اور کہا ہم کسی کو نہیں مانتے۔ “ (48)

فہم القرآن ربط کلام : مصیبت کے وقت رسول اور ہدایت کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب رسول ﷺ قرآن لے آکر آئے تو ان کا رد عمل کیا تھا۔ کفار مختلف بہانوں سے قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ ان کا ایک بہانہ اور عذر لنگ یہ بھی تھا کہ یہ عجب نبی ہے کہ اس کے پاس نہ مال، نہ کوئی جاگیر اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر وقت اپنے پاس عصا رکھتے جو مخالفوں کے سامنے اژدھا بن جاتا اور وہ ید بیضا رکھتے تھے جو لوگوں کی آنکھیں چندھیا دیتا تھا۔ اس نبی کے پاس قرآن کی آیات سنانے اور اس میں ہمارے بزرگوں کی تردید کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم اس کی اتباع کریں تو کس بنیاد پر ؟ ہاں اگر یہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات دیا جائے تو ہم اس کی اتباع کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔ کفار کے بہانوں کا یہاں صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ جن یہودیوں کے پڑھانے سے یہ لوگ ایسے بہانے پیش کرتے ہیں کیا انھیں معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہماری طرف سے حق اور معجزات لے کر آئے تو انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جادو گر قرار نہیں دیا تھا۔ اور کیا ان میں ایسے لوگ موجود نہیں جو کہتے ہیں کہ نہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات کو مانتے ہیں اور نہ اس قرآن پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں ؟ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب ہو تو کس طرح ؟ (لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) [ الترغیب والترہیب ] ” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ “ غلط وظائف ‘ بھرپور شعبدہ بازی اور فنی مہارت کے باوجود جادوگر اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو اپنے لیے حرام قرار نہ دے۔ اس کے ساتھ ہی اسے خاص قسم کی غلاظت اور بدترین قسم کا گناہ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے جادوگرمرد ہو یا عورت اس سے خاص قسم کی بدبو آیا کرتی ہے۔ یہ لوگ جسمانی طور پر جس قدر گندے ہونگے اسی رفتار سے ان کے شیطانی عمل دوسروں پر اثرانداز ہوں گے یہی وجہ ہے کہ ایک جادوگر اپنے شاگرد کو اپنا پیشاب پینے کا سبق دیتا ہے اور دوسرا پاخانہ کھانے کا حکم دیتا ہے اور کوئی غسل واجب سے منع کرتا ہے۔ گویا کہ کوئی نہ کوئی غلاظت اختیار کرنا جادوگر کے لیے ضروری ہے۔ البتہ یہ لوگ اس قسم کی باتیں دوسرے لوگوں سے ضرور چھپاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر جادو اثرانداز نہیں ہوتا۔ مسائل 1۔ کفار مختلف بہانوں سے حق کا انکار کرتے ہیں۔ 2۔ یہودیوں نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو جادوگر قرار دیا تھا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) پر جادوگر ہونے کا الزام : 1۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کھلے دلائل لے کر آئے تو قوم نے ان پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36) 2۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انھوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سباء : 43) 3۔ فرعون کے سرداروں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (الاعراف : 109) 4۔ جب کفار کے پاس حق بات آئی تو انھوں نے رسول اکرم ﷺ پر جادو گر ہونے کا الزام لگایا۔ (یونس : 76) 5۔ کفار نے کہا یہ نبی نہیں جادو گر ہے۔ (یونس : 2) 6۔ کفار نے کہا یہ نبی جھوٹا اور جادوگر ہے۔ (ص : 4) 7۔ ظالموں نے کہا کیا ہم جادوگر کی اتباع کریں ؟ (الفرقان : 8) 8۔ آپ ﷺ سے پہلے جو بھی نبی آیا اسے جادوگر کہا گیا۔ (الذاریات : 52)
Ayahs 28:49–50

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

” اے نبی ان سے فرما دیں۔ اگر تم سچے ہو تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جس میں ان دونوں سے زیادہ راہنمائی پائی جاتی ہو اگر تم سچے ہو۔ میں اس کی پیروی کروں گا۔ (49)

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

اگر وہ تمہارا مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ یہ اپنی خواہشات کے پیرو کار ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کے مقابلہ میں اپنی خواہشات کی پیروی کرے۔ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (50)

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو جادو گر اور قرآن مجید کو من ساختہ کتاب قرار دینے والوں کو چیلنج۔ نبی اکرم ﷺ کے سچا رسول اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں قرآن مجید نے منکرین کو بار بار چیلنج کیا ہے کہ اگر تمہیں رسول کے سچا اور قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے میں شک ہے تو تم بھی ایسی کتاب لے آؤ۔ ہاں تمہیں یہ بھی اختیار دیا جاتا ہے کہ پورا قرآن نہیں بناسکتے تو ایک سورة ہی اس کی سورة جیسی بنا کرلے آؤ۔ بیشک اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا جس سے مدد لے سکتے ہو اس سے مدد حاصل کرو لیکن یاد رکھو نہ تم نے آج تک یہ کام کیا ہے اور نہ قیامت تک کر سکوگے۔ قرآن مجید بنانا تو درکنار اس کی سورة جیسی ایک سورة بھی نہیں بنا سکتے اس لیے تمہیں اس آگ سے بچنا چاہیے جس کا ایندھن نافرمان لوگ اور پتھر ہوں گے۔ اس چیلنج کو یہاں ان الفاظ میں دوہرایا گیا کہ اگر سمجھتے ہو کہ تمہاری رہنمائی کے لیے کوئی اور کتاب بہتر ہوسکتی ہے تو اسے پیش کرو ! اگر تم اپنے الزام اور دعویٰ میں سچے ہو۔ کفار کو چیلنج دینے کے ساتھ ہی نبی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ اس چیلنج کا سامنا نہیں کر پا رہے تو یاد رکھو یہ لوگ محض اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کے پاس کوئی معقول دلیل اور عذر نہیں۔ اور محض تعصّب کی بنیاد پر مخالفت کر رہے ہیں۔ درحقیقت اس شخص سے بڑھ کر کوئی شخص گمراہ نہیں ہوتا جو اپنی خواہشات کا غلام ہوچکا ہے۔ نہ اس کے پاس ہدایت کا کوئی ذریعہ ہے اور نہ ہی اللہ کی طرف سے دیا ہوا علم ہے۔ جب کہ ہدایت کی بنیاد ” اللہ کا علم ہے جو صرف سرور دو عالم ﷺ پر وحی کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ جو شخص سچے قرآن کو جھٹلاتا ہے وہ پرلے درجے کا ظالم ہے ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَایُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوَاہٗ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) [ رواہ فی شرح السنۃ ] ” عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنی خواہشات کو میری لائی ہوئی تعلیمات کے تابع نہ کر دے۔ “ (اِِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْآخِرَۃِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلآءِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنْثٰی وَمَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِِنْ یَتَّبِعُوْنَ اِِلَّا الظَّنَّ وَاِِنَّ الظَّنَّ لاَ یُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیْءًا فَاَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِِلَّا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا) [ النجم : 27 تا 29] ” جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس کا انہیں کچھ بھی علم نہیں وہ محض ظن کی اتباع کرتے ہیں اور ظن حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں آتا۔ لہٰذا جو شخص ہماری یاد سے منہ موڑتا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا آپ اس کی پرواہ نہ کیجئے۔ “ مسائل 1۔ آدمی کو اپنی خواہشات کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کی اتباع کرنا چاہیے۔ 2۔ اپنی خواہش کے پیچھے لگنے والا پرلے درجے کا ظالم ہوتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ظالم کو ہدایت نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے چیلنجز : 1۔ جن اور انسان مل کر اس جیسا قرآن بنا لاؤ۔ (بنی اسرائیل : 88) 2۔ کوئی دس سورتیں بنا لاؤ۔ (ھود : 13) 3۔ کوئی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔ (یونس : 38) 4۔ قیامت تک نہیں بنا سکتے۔ (البقرۃ : 23)
Ayahs 28:51–53

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

” ہم اپنا فرمان پے درپے انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ نصیحت پائیں۔ (51)

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو اس پہلے ہم نے کتاب دی وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ (52)

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب قرآن انہیں سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے نازل کردہ ہے ہم تو پہلے ہی سے تسلیم کرنے والے ہیں۔ “ (53)

فہم القرآن ربط کلام : بیشک حق آجانے کے باوجود لوگ اپنی خواہشات کے بندے بنے رہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی خیر خواہی اور ہدایت کی خاطر مسلسل ان کی رہنمائی کا بندوبست کرتا رہا۔ جس بنا پر ہر دور میں کچھ نہ کچھ لوگ ہدایت قبول کرنے والے ضرور موجود رہے ہیں۔ رب کریم نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ اور مسلسل رہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ راہنمائی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے ہو یا ان کے جانشینوں کے واسطے سے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی رہنمائی کا ہمیشہ سے بندوبست کر رکھا ہے جو نبی ﷺ کے جانشینوں کی طرف سے قیامت تک جاری رہے گا۔ تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنی دنیا اور آخرت کو بہتر بنالیں۔ جو لوگ صدق دل کے ساتھ پہلی کتابوں پر ایمان لائے اور اپنے دور کے نبی کی پیروی کرتے رہے ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے تو بہانہ سازی کی بجائے وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے ہم اس کے تابع فرمان ہوتے ہیں۔ پہلے دن سے ہدایت کا بندوبست : (قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیْنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لاَ ھُمْ یَحْزَنُوْن) [ البقرۃ : 38] ” ہم نے حکم دیا تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے، تو جنہوں نے میری ہدایت کی تابعداری کی ان پر کوئی خوف و غم نہیں ہوگا۔ “ ایمان لانے والے تمام مسلم تھے اور ہیں : (وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَے النَّاسِ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اعْتَصِمُوْا باللّٰہِ ھُوَ مَوْلٰکُمْ فِنِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ) [ الحج : 78] ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم ہوجاؤ۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ” مسلم “ رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ پس نماز قائم کرو زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ رہو جو تمہارا مولیٰ ہے بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ سے رہنمائی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اس لیے نازل کیا کہ لوگ اس سے ہدایت پائیں۔ 3۔ پہلی کتابوں پر سچے دل سے ایمان لانے والے قرآن مجید پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے لوگوں کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا : 1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56) 3۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 4۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43) 5۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : 3) 6۔ نبی اکرم ﷺ بھی کسی کو (جبراً ) ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ (القصص : 56)