28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsفہم القرآن

Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی وہ برائی کو بھلائی سے رفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ (54)

فہم القرآن ربط کلام : پہلی کتب پر ایمان لانے اور عمل کرنے والے جب قرآن مجید کو آخری کتاب مانیں اور اس پر عمل کریں گے تو انھیں دوہرا صلہ دیا جائے گا۔ دین اسلام کے امتیازات میں یہ بات طرہّ امیتاز کی حیثیت رکھتی ہے کہ دین اسلام نہ صرف پہلی کتب اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تسلیم کرنے کا حکم دیتا ہے بلکہ جو شخص پہلے یہودی یا عیسائی تھا اب وہ نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہوئے آپ کی شریعت پر خلوص دل کے ساتھ ایمان لایا اور عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو قرآن اس کے لیے کھلے الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ ایسے شخص کا دوہرا صلہ ہوگا۔ کیونکہ یہ پہلی شریعت پر بھی عمل کرتا رہا اور اب قرآن کو من جانب اللہ اور نبی آخر الزّمان کو سچا نبی جان کر آپ پر ایمان لایا اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہا اس کے لیے دوہرا اجر ہوگا۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ برائیوں کو چھوڑنے اور نیکیوں کو اپنانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انھیں عطا کر رکھا ہے اس میں اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ پہلے ادیان پر اڑے رہنا اور دین اسلام کا انکار کرنا پرلے درجے کا گناہ اور برائی ہے۔ اللہ کے نیک بندے پہلے دین پر قائم رہنے کی بجائے دین اسلام کو قبول کرکے اپنی ضد کو چھوڑ کر دین حق پر گامزن ہوتے ہیں۔ جو برائی کو نیکی میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ بھی سچے دل کے ساتھ حلقۂ اسلام میں داخل ہوتے ہیں ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ گناہوں کو چھوڑنے اور نیکیوں کو اختیار کرنے والے ہوتے ہیں۔ (أَبُو بُرْدَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلاَثَۃٌ یُؤْتَوْنَ أَجْرَہُمْ مَرَّتَیْنِ الرَّجُلُ تَکُونُ لَہُ الأَمَۃُ فَیُعَلِّمُہَا فَیُحْسِنُ تَعْلِیمَہَا، وَیُؤَدِّبُہَا فَیُحْسِنُ أَدَبَہَا، ثُمَّ یُعْتِقُہَا فَیَتَزَوَّجُہَا، فَلَہُ أَجْرَانِ ، وَمُؤْمِنُ أَہْلِ الْکِتَابِ الَّذِی کَانَ مُؤْمِنًا، ثُمَّ آمَنَ بالنَّبِیّ ﷺ فَلَہُ أَجْرَانِ ، وَالْعَبْدُ الَّذِی یُؤَدِّی حَقَّ اللَّہِ وَیَنْصَحُ لِسَیِّدِہِ ) [ رواہ البخاری : باب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ ] ” حضرت ابو بردہ بیان کرتے ہیں انہوں نے اپنے باپ سے سنا وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر عطا کیا جائے گا، ایک وہ آدمی جس کے پاس لونڈی ہو وہ اسے بہترین تعلیم دیتا اور بہترین آدب سکھلاتا ہے پھر اسے آزاد کردیتا ہے اور اس سے شادی کرلیتا ہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔ دوسرا اہل کتاب کا مؤمن آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر نبی ﷺ پر بھی ایمان لایا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔ تیسرا وہ آدمی جو کسی کا غلام تھا اس نے اللہ کے حقوق بھی ادا کیے اور اپنے مالک کی بھی خیر خواہی کرتا رہا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے۔ “ مسائل 1۔ غیر مسلم مسلمان ہوجائے تو اس کے لیے دوہرا صلہ ہوگا۔ 2۔ اللہ کے بندے برائی پر اڑنے کی بجائے نیکی کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ 3۔ اللہ کے بندے اللہ کے دیے میں سے خرچ کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے بندے دین اسلام قبول کرتے ہیں اور اس پر ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں : 1۔ جب سنا انھوں نے جو رسول کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڑتی ہیں کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے سو ہمیں شہادت دینے والوں کے ساتھ شامل فرما لے۔ (المائدہ : 83) 2۔ جادوگروں کی ایمان کے بعد صبر اور ثابت قدمی کی دعا۔ (الاعراف : 120 تا 126) 3۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر بالمقابل ہوئے تو انھوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر نازل فرما اور ہمیں ثابت قدم فرما اور کافروں کی قوم پر ہماری مدد فرما۔ (البقرۃ : 250) 4۔ آزمائش میں ثابت قدمی کے بعد اللہ کی مدد یقینی اور قریب ہوا کرتی ہے۔ (البقرۃ : 214) 5۔ ہمارے رب ہم نے ایمان کی دعوت قبول کی تو ہماری خطاؤں کو معاف فرما۔ (آل عمران : 193 تا 194) 6۔ اے ہمارے رب ! ہمیں اور ہمارے مومن بھائیوں کو معاف فرما۔ (الحشر : 10) 7۔ اے ہمارے رب بیشک ہم ایمان لائے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ (آل عمران : 16)
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

” اور جب وہ بےہودہ بات سنتے ہیں تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ تمہیں سلام ہو ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ “ (55)

فہم القرآن ربط کلام : حق قبول کرنے والوں کی چوتھی خوبی۔ مفسرین نے اس آیت کا شان نزول لکھتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ جب عیسائیوں کے ایک وفد نے اسلام قبول کیا تو مشرکین مکہ نے انھیں طعنہ دیا کہ تم عجب لوگ ہو کہ تمہارے پچھلے لوگوں نے تمہیں حقیقت حال جاننے کے لیے بھیجا ہے اور تم انھیں اطلاع دیے اور ان سے مشورہ کیے بغیر اپنا دین چھوڑ رہے ہو یہ تمہاری کیسی جہالت ہے اس موقعہ پر مسلمان ہونے والوں نے جو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔ ” اللہ “ کے نیک بندے اور نصیحت قبول کرنے والوں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ باطل دین اور اپنی ضد پر اڑے نہیں رہتے بلکہ جوں ہی ان کے سامنے حق بات واضح ہوتی ہے تو وہ بلا تردّد حق بات قبول کرتے ہوئے اس پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ یہ ہر برائی چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور حق بات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں۔ ان کی چوتھی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ بےہودہ اور بےمقصد باتوں اور کاموں سے پرہیز کرتے ہیں کوئی انھیں بےہودہ کام یا بات کی طرف بلائے تو یہ پوری ایمانی قوت کے ساتھ اس کا انکار کرتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ کوئی برائی کے معاملہ میں اصرار کرے تو یہ کہہ کر اپنا دامن بچالیتے ہیں کہ تمہارے عمل تمہارے لیے، ہمارے اعمال ہمارے لیے، تمہیں سلام ہو ہم جاہلوں سے الجھنے ان جیسا کردار اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دوسرے مقام پر انھیں الرّحمن کے بندے قرار دے کر ان کے اوصاف کا ان الفاظ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ (وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَمًا) [ الفرقان : 63 ] ” رحمان کے حقیقی بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں جاہل ان سے جھگڑیں تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں۔ “ (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلاَتِہِمْ خَاشِعُوْنَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ للزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَ )[ لمومنون : 1 تا 5 ] ” یقیناً مؤمن فلاح پا گے۔ وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ فضولیات سے دور رہتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہٖ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ آدمی کے بہترین اسلام کی تعریف یہ ہے کہ وہ لا حاصل باتوں کو چھوڑ دے۔ “ مسائل 1۔ ” اللہ “ کے بندے لغو سے اجتناب کرتے ہیں۔ 2۔ ” اللہ “ کے بندے جاہلوں سے نہیں الجھتے۔ 3۔ بروں کے لیے برے اعمال اور نیکوں کے لیے نیک اعمال ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن جاہلوں سے اعراض کرنا چاہیے : 1۔ نبی محترم کو جاہلوں سے اعراض کی ہدایت تھی۔ (اعراف : 199) 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ : 67) 3۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : 46) 4۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : 63) 5۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع فرما دیتا پس آپ جاہلوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : 35)
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

اے نبی آپ جیسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ “ (56)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ جاہلوں سے الجھنے سے پرہیز کریں۔ یہ بھی جہالت کی بدترین قسم ہے کہ انسان جاننے کے باوجود حقیقت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جناب ابو طالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر فرمایا کہ چچا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لیں تاکہ قیامت کے دن میں اپنے رب کے حضور آپ کی سفارش کرسکوں۔ لیکن انھوں نے کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا اور کفر کی حالت میں دنیا سے چل بسے۔ نبی کریم ﷺ بڑے دل آزوزدہ ہو کر وہاں سے اٹھے اور کئی دن تک آپ کی طبیعت پر اس واقعہ کا اثررہا۔ رب کریم نے آپ کے دل کو ڈھارس دی اور یہ اصول بیان فرمایا کہ اے نبی بیشک آپ کسی کی ہدایت کے بارے میں کتنے ہی خواہش مند کیوں نہ ہوں لیکن ہدایت دینا ” اللہ “ کا کام ہے جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت کا طالب ہے جو ہدایت کا طالب ہوگا اللہ تعالیٰ اسے ضرور ہدایت عطا فرمائے گا۔ یہاں ہدایت سے مراد نیکی کی طرف رہنمائی نہیں بلکہ ہدایت قبول کرنا اور اس پر چلنے کی توفیق ہے۔ ( عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَمِّہِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ أَشْہَدُ لَکَ بِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللّٰہُ ”إِنَّکَ لاَ تَہْدِی مَنْ أَحْبَبْتَ ۔۔ الآیَۃَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کو موت کے وقت فرمایا کہ لا الہ الاللہ کہہ دو ! میں قیامت کے دن اس بات کی گواہی دوں گا لیکن اس نے انکار کردیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جس کے لیے آپ ہدایت پسند کریں۔ “ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ﷺ وَذُکِرَ عِنْدَہُ عَمُّہُ فَقَالَ لَعَلَّہُ تَنْفَعُہُ شَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَیُجْعَلُ فِی ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ ، یَبْلُغُ کَعْبَیْہِ ، یَغْلِی مِنْہُ دِمَاغُہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب قصۃ ابی طالب ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ کے پاس آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا شاید اسے میری شفاعت قیامت کے دن فائدہ دے۔ اسے آگ پر کھڑا کیا جائے گا۔ وہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچتی ہوگی جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُوْلَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اٰمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِءْتَ بِہٖ فَھَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوْبَ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ یُقَلِّبُھَا کَیْفَ یَشَآءُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب القدر، باب ماجاء أن القلوب ...] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ اکثر دعا کرتے۔ اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھنا۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے۔ کیا آپ ہمارے بارے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ انہیں جس طرف چاہتا ہے پھیر دیتا ہے۔ “ نبی کریم ﷺ اس بات پر از حد حریص تھے کہ سب لوگ اسلام کے چشمۂ فیض سے سیراب ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سارے بندے اس کی بارگاہ میں سر نیاز جھکائیں بالخصوص اپنے قبیلے اور رشتہ داروں کے متعلق نبی کریم کی انتہائی آرزو تھی کہ ان میں سے کوئی بھی نعمت ایمان سے محروم نہ رہے، اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اے حبیب ! ہدایت دینا آپ کا کام نہیں کہ جس کو چاہے ہدایت دے دے کیونکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ کون اس قابل ہے کہ اس کے دل میں ایمان کی شمع فروزاں کی جائے کس میں اس نعمت جلیلہ کو قبول کرنے کی استعداد ہے۔ (ماخوذ از ضیاء القرآن : جلد سوئم) مسائل 1۔ نبی ﷺ اپنی مرضی سے کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ 2۔ جو ہدایت کا طالب ہوتا ہے ” اللہ “ اسے ہدیات سے سرفراز کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی ہدایت دینے والا ہے : 1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56) 3۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 4۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43) 5۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : 3) 6۔ نبی اکرم ﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص : 56)
Ayahs 28:57–58

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

’ وہ کہتے ہیں اگر ہم تیرے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے امن والے حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنایا ہے۔ جس میں ہماری طرف سے رزق کے طور پر ہر طرح کے پھل چلے آتے ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ “ (57)

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

” اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترآیا کرتے تھے سو دیکھ لو وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے آخر کار ہم ہی وارث ہیں۔ “ (58)

فہم القرآن ربط کلام : مکہ والوں کا ہدایت قبول نہ کرنے کا عذر لنگ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی رفیقہ حیات حضرت ہاجرہ [ اور لخت جگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اس وقت مکہ میں چھوڑا جب بیت اللہ کی بنیادیں تھیں مگر عمارت موجود نہ تھی اور مکہ شہر کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور ان الفاظ میں دعا کی۔ ” اے میرے رب میں اپنے اہل و عیال کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ نماز قائم کریں اور اے اللہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ تیرا شکر ادا کریں۔ “ [ ابراہیم : 37] مکہ والے یہ بہانہ بناتے تھے کہ اگر ہم نے محمد ﷺ کے کہنے کہنے پر عقیدہ توحید قبول کرلیا تو لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے جس سے ہمارا روز گار بند ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلط فہمی دور کرنے اور ان کی زر پرستی کو ضرب لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا انھیں معلوم نہیں ؟ کہ ہم نے کتنی قومیں اور بستیاں تباہ کیں جنھیں اپنے محلات، کاروبار اور دنیا کی ترقی پر بڑا ناز تھا۔ جب ہم نے ان پر عذاب نازل کیا تو ان کے گھر اس طرح برباد ہوگئے جیسے یہاں کبھی کوئی آباد نہ ہوا ہو۔ ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن قوموں کو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی کی وجہ سے تباہ کیا وہ دنیا کے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ تھیں۔ کیونکہ امیر لوگ ہی فیشن اور ترقی کے نام پر ہر قسم کی برائی اور بےحیائی کے موجد ہوتے ہیں۔ اے مکہ والو ! جن بستیوں کو ہم نے تباہ کیا وہ تمہاری بستی سے کئی گنا طاقت ور تھیں۔ (وَکَأَیِّنْ مِنْ قَرْیَۃٍ ہِیَ أَشَدُّ قُوَّۃً مِنْ قَرْیَتِکَ الَّتِی أَخْرَجَتْکَ أَہْلَکْنَاہُمْ فَلَا نَاصِرَ لَہُمْ ) [ محمد : 13] اور کتنی ہی بستیاں جو اس بستی سے بڑھ کے طاقت ور تھیں ہم نے انہیں ہلاک کردیا ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حرم کو امن و الا بنایا ہے۔ 2۔ ” اللہ “ کے فضل سے دنیا بھر کے پھل مکہ میں چلے آتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حرم کو مکہ والوں کے رزق، امن اور عزت کا ذریعہ بنایا ہے۔ 4۔ نافرمان قوم کو دنیا کی ترقی ” اللہ “ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی نافرمان ترقی یافتہ اقوام کو تباہ برباد کیا۔ 6۔ انسان کو دنیا کی ترقی پر اترانا نہیں چاہیے۔ 7۔ اول آخر ” اللہ “ ہی دنیا کا مالک ہے۔ تفسیر بالقرآن لوگوں کی اکثریت حقیقت کا علم نہیں رکھتی : 1۔ اگر ہم منکرین کے سامنے ہر چیزکو اکٹھا کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ اکثر ان میں جاہل ہیں۔ (الانعام : 111) 2۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر : 57) 3۔ یہ دین صاف اور سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 40) 4۔ اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 5۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الروم : 6)
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا۔ جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو انہیں ہماری آیات سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظلم کرنے والے نہ ہوں

فہم القرآن ربط کلام : بستیوں کو تباہ کرنے کی وجہ۔ اس سے پہلے زکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترقی یافتہ اور کئی مال دار بستیوں کو تباہ کیا۔ اب وضاحت کی جا رہی ہے کہ جن بستیوں کو تباہ کیا گیا ان پر آپ کے رب نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ اس کا اصول ہے کہ اس وقت تک کسی قوم کو عذاب نہ دیا جائے جب تک اس تک رب تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچ جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر ہر تباہ کی جانے والی قوم کے مرکزی شہر یا علاقہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے جو ان کے سامنے اس کے فرامین بیان کرتے تھے اور انھیں باربار بتلاتے اور سمجھاتے کہ اگر تم اپنے رب کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو اس کا عذاب تم پر نازل ہوگا۔ جب لوگوں نے رسول کی ذات یا اس کی تعلیمات کو کلی طور پر جھٹلادیا تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب نازل کیا۔ اس کا عذاب ہمیشہ ظالم قوم پر ہی نازل ہوتا ہے۔ مرکزی شہر میں رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے تاکہ آسانی کے ساتھ لوگوں تک حق بات پہنچ جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ چھوٹے شہر، قصبات اور دیہات بڑے شہروں سے ہی متاثر ہوا کرتے ہیں۔ جس طرح غریب لوگ امیروں سے اور چھوٹے طبقات بڑے طبقہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ ظلم سے پہلی مراد شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ زیادہ دیر تک گوارہ نہیں کرتا اس لیے اس نے قوم نوح، ثمود، عاد اور دیگر قوموں کو نیست و نابود کیا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ اپنا پیغام پہنچانے سے پہلے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے تباہ ہونے والے اقوام کے مرکزی مقامات پر اپنے رسول مبعوث فرمائے۔ 3۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا کام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
Ayahs 28:60–61

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی رہنے والا ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے۔ جسے ہم نے صرف دنیا کی زندگی کا سامان دیا ہے پھر وہ قیامت کے دن سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : دنیا دار لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ دین پر عمل کرنے سے ان کا نقصان ہوگا۔ اس فرمان میں ان کے اس ذہن کی نفی کی گئی ہے۔ اہل مکہ کا خیال تھا کہ اگر ہم عقیدہ توحید اپنائیں اور دین اسلام کو قبول کریں گے تو لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے جس سے ہمیں کاروباری لحاظ سے نقصان پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ذہن کی نفی کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ اے لوگو ! تم اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ سوچتے ہو کہ اگر تم نے توحید خالص کو اپنایا اور دین اسلام کو اختیار کیا تو تمہیں دنیا کے حوالے سے نقصان پہنچے گا۔ یاد رکھو ! یہ دنیا عارضی اور اس کی زیب وزینت ناپائیدار ہے اگر تمہیں اللہ کے راستے پر چلنے سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو وہ نقصان آخرت کے مقابلے میں عارضی اور قابل تلافی ہے۔ جو کچھ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ لامحدود اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اگر تم حقیقی عقل رکھنے والے ہو تو سوچو اور غور کرو ! تمہیں ہمیشہ ہمیش رہنے والی نعمتوں کے لیے کام کرنا ہے یا فنا ہونے والی دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ جس نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو مقدم جانا اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بہترین وعدہ ہے جسے وہ اپنے سامنے پائے گا۔ اس لیے سوچ لو کہ جسے ہم صرف دنیا کا فائدہ دیتے ہیں وہ بہتر ہے یا آخرت کی لا محدود اور ہمیشہ ہمیش رہنے والی زندگی اور اس کی نعمتیں۔ اس حقیقت کے باوجود جس نے دنیا کو آخرت کے مقابلے میں مقدم سمجھا وہ آخرت میں ضرور ذلیل ہوگا۔ (وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ] ” حضرت سہل بن سعد الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ ملنا جو کچھ زمین میں ہے اس سے بہتر ہے۔ “ مسائل 1۔ دنیا کی زندگی اور اس کے اسباب عارضی ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو کچھ تیار کر رکھا ہے وہ دنیا و مافیھا سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے اور اچھے ہیں جن کا صلہ ہر مومن اپنے سامنے پائے گا۔ 4۔ جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم جانا وہ آخرت میں ذلیل ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا کے مقابلے میں آخرت بہتر ہے : 1۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ (الرعد : 26) 2۔ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں نہایت مختصر ہے۔ (التوبۃ : 38) 3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی عارضی ہے۔ (الرعد : 26) 4۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے اور آخرت متقین کے لیے بہتر ہے۔ (النساء : 77) 5۔ یقیناً دنیا کی زندگی عارضی فائدہ ہے اور آخرت کا گھر ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔ (المؤمن : 43) 6۔ دنیا عارضی اور آخرت پائیدار ہے۔ (المؤمن : 39) 7۔ دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ (الحدید : 20) 8۔ دنیا کے مقابلے میں آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (الاعلیٰ : 17) 9۔ دنیا کھیل اور تماشا ہے۔ (الانعام : 32)
Ayahs 28:62–64

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور قیامت کے دن جب اللہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

جن پر یہ فرمان ثابت ہوگا وہ کہیں گے اے ہمارے رب بیشک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ انہیں ایسا گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ تھے۔ ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ صرف ہماری بندگی نہیں کرتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہیں دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینے والوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کے سامنے شرک کی حیثیت واضح کرنے اور انھیں ایک دوسرے کے سامنے ذلیل کرنے کے لیے حکم صادر فرمائے گا کہ میری ذات اور صفات میں شریک کرنے والو ! وہ لوگ کہاں ہیں جن کو تم سفارشی اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر میرے شریک بنایا کرتے تھے ؟ اس وقت حقیقت واضح ہوچکی ہوگی کہ آج ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے۔ اس لیے مریدوں سے پہلے پیر، عابد سے پہلے معبود پکار اٹھیں گے اے ہمارے رب ! بیشک یہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا۔ یہ اسی طرح گمراہ ہوئے جس طرح ہم گمراہ تھے۔ پھر مریدوں کو موقعہ دیا جائے گا کہ بلاؤ اپنی مدد کے لیے جن کو دنیا میں تم مشکل کشا اور سفارشی سمجھتے تھے۔ جب غلط پیروں کو ان کے مریدمدد کے لیے پکاریں گے تو وہ ” اللہ “ کا عذاب دیکھتے ہی اپنی برأت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ اے اللہ یہ صرف ہماری عبادت نہیں کرتی تھے بلکہ جگہ جگہ ٹکریں مارتے پھرتے تھے۔ دنیا میں مشرک کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت کئی مزاروں کے چکر کاٹتا اور دردر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ مجرم اس بات کا بھی اظہار کریں گے کہ کاش ہم ہدایت یافتہ ہوتے۔ بخاری شریف میں کئی مقامات پر رسول معظم ﷺ کا فرمان درج ہے جس میں آپ نے توحید کی برکات کا یوں ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ محشر کے میدان میں اعلان فرمائیں گے جو دنیا میں کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پاس چلا جائے۔ مشرک اپنے اپنے پیروں اور معبودوں کے پاس چلے جائیں گے لیکن کچھ لوگ کھڑے رہیں گے۔ جن میں فاسق لوگ بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے سوال فرمائیں گے کہ تم کیوں نہیں جاتے ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم دنیا میں تیرے ساتھ کسی کو مشکل کشا، حاجت روا، دستگیر اور آپ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتے تھے اب بھی تیری ذات کبریا کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ چناچہ شرک سے اجتناب کرنے اور توحید کے صلہ میں انہیں معاف کردیا جائے گا۔ [ رواہ البخاری تفسیر سورة النساء ] مسائل 1۔ قیامت کے دن پیروں اور مریدوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کا موقعہ دیا جائے گا۔ 2۔ غلط پیر مریدوں کے بولنے سے پہلے مریدوں کو گمراہ کرنے کا اعتراف کریں گے۔ 3۔ ” اللہ “ کا عذاب دیکھ کر قیامت کے دن پیر، مرید اپنی گمراہی پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن گمراہ پیروں اور مریدوں کا آپس میں جھگڑنا : 1۔ قیامت کے دن پیر مرید ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : 25) 2۔ قیامت کے دن پیشوا اپنے پیرو کاروں سے براءت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166) 3۔ قیامت کے دن گمراہ پیروں اور لیڈروں کے پیچھے لگنے والے کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے علیحدگی اختیار کریں گے۔ (البقرۃ : 165) 4۔ کمزور بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ (سبا : 32۔ 31) 5۔ قیامت کے دن مجرم دوزخ میں جھگڑیں گے تو چھوٹے لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے۔ (المومن : 48) 6۔ قیامت کے دن جہنمیوں کا آپس میں جھگڑنا یقینی ہے۔ ( ص : 64 )
Ayahs 28:65–67

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

اس وقت کوئی جواب ان کو نہ سوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہ امید رکھے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں ہوگا

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں سے دوسرا سوال۔ مشرکوں سے دوسرا سوال یہ کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول آئے اور انھوں نے میری ذات کا تعارف کروایا اور میرے ارشادات تم تک پہنچائے تھے ؟ بتاؤ تم نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا تھا۔ رب ذوالجلال کے جلال اور اپنے گناہوں کی وجہ سے رسولوں کے منکر کوئی جواب نہیں دے پائیں گے اور نہ ہی انھیں ایک دوسرے سے پوچھنے کی ہمت ہوگی۔ مجرم حواس باختی کی وجہ سے سب کچھ بھول جائیں گے۔ اس طرح ان پر گمراہی کی شہادت پوری ثابت ہوجائے گی۔ البتہ جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی کرتے رہے یقیناً وہ کامیابی پائیں گے۔ رسول کے نافرمان کا قیامت کے دن حسرت کا اظہار : ” ظالم انسان اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی اتباع کی ہوتی۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی شیطان انسان کے لیے بڑا ہی دھوکہ باز۔ اور رسول اکرم ﷺ کہیں گے کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو مذاق بنالیا تھا۔ “ (الفرقان : 27 تا 30 )
Ayahs 28:68–70

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور منتخب کرتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اس انتخاب کا لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا تر ہے شرک سے جو لوگ کرتے ہیں

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ لوگ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں اور آخرت میں ہے۔ فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جانے والے ہو

فہم القرآن ربط کلام : گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اختیارات کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہاں شرک کی نفی ایک خاص انداز میں کی گئی ہے۔ مقصود یہ بتلانا ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھول کر دوسروں کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر ہیں ایسا ہرگز نہ ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کا نتیجہ ہے کہ اس نے لوگوں کو ہدایت اور گمراہی کے بارے میں اختیار دے رکھا ہے۔ کہ دونوں میں سے جس کا چاہیں انتخاب کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس فطرت پر چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس کو کس قسم کی صلاحیتیں دینی چاہئیں۔ جسے چاہتا ہے اپنے کام کے لیے منتخب کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کے اختیارات میں کوئی بھی مداخلت نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس نے کسی مردہ یا زندہ بزرگ کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے۔ وہ ہر قسم کی شراکت داری سے مبرّا اور مشرکوں کے تصورات سے بلند وبالا ہے۔ وہ لوگوں کے دلوں کے حال جانتا ہے کہ لوگ کس نیت اور مفاد کی خاطر اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ وہی ” اللہ “ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی کوئی کسی کی حاجت روائی کرنے والا ہے۔ اس کی ذات اور کام ہر لحاظ سے تعریف کے لائق ہیں۔ لہٰذا پہلے اور بعد، اوّل اور آخر وہی تعریف کے لائق ہے اور اسی کی تعریف کرنا چاہیے۔ کیونکہ سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور ہر کسی پر اسی کا حکم کار فرما ہے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ قُلُوبَ بَنِی آدَمَ کُلَّہَا بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُصَّرِفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ اللَّہُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَی طَاعَتِکَ ) [ رواہ مسلم : باب تصریف اللہ القلوب حیث یشاء ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک بنی آدم کے دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ وہ ان کو پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ دعا کی۔ اے اللہ دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پھیرے رکھنا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرے اور جیسے چاہے اپنے کام کے لیے منتخب فرماتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک اور خیالات سے بلند وبالا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے خیالات کو جاننے والا ہے۔ 5۔ ہر کسی نے ” اللہ “ کے ہاں ہی لوٹ کر جانا ہے۔ 6۔ ” اللہ “ کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور اس کے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے : 1۔ اللہ ہر ایک کی نماز اور تسبیح جانتا ہے۔ (النور : 41) 2۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : 7 ) 3۔ اللہ پر بھروسا کیجیے کیونکہ وہ سنتا اور جانتا ہے۔ (الانفال : 61) 4۔ اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (النور : 18) 5۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ (الحجرات : 16) 6۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : 216) 7۔ اللہ تعالیٰ تمہارے نفسوں کی خباثت کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 187) 8۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے باطن اور ظاہر کو جانتا ہے وہی غیوب کا جاننے والا ہے۔ (التوبۃ : 78)
Ayahs 28:71–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

اے نبی ان سے کہو کبھی تم نے غور کیا ہے کہ اگر اللہ قیامت تک رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے کیا تم سنتے نہیں ہو ؟

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

ان سے پوچھو تم نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر دن چڑھائے رکھے۔ تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہارے لیے رات لائے گا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو کیا تم دیکھتے نہیں

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں سکون حاصل کرو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرو اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف مخلوق کو پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا نظام بھی چلا رہا ہے۔ جس میں مشرکوں کے بنائے ہوئے شریکوں کا ذرا برابر بھی عمل دخل نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔ کائنات کے نظام میں لیل و نہار کی گردش کا بڑا عمل دخل ہے۔ اگر رات اور دن کا سلسلہ نہ ہوتا یا اسے ختم کردیا جائے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے یہ رنگینیاں، چہل پہل اور انسان کی ترقی لیل و نہار کے نظام کی وجہ سے ہے۔ دن کی اہمیت اور کی ضرورت واضح ہے، رات کو لیجیے۔ اگر رات اور اس کی نیند نہ ہوتی تو انسان کب تک کام کاج کرسکتا تھا۔ یہ رات ہی کا فائدہ ہے کہ آدمی دن کا تھکا ماندہ سوتا ہے۔ لیکن صبح اٹھتا ہے تو ذہن تازہ، جسم توانا اور ہر شخص اپنا اپنا کام کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو اس طرح بنایا ہے کہ دنیا کا ایک وسیع و عریض حصہ آرام کرر ہا ہوتا ہے۔ جبکہ لوگوں کا دوسرا حصہ دنیا کا نظام چلا رہا ہوتا ہے۔ یہاں رات ہوتی ہے وہاں انسان ہی نہیں اس وسیع و عریض علاقے کے درندے، پرندے، کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ چوپائے بھی آرام کرلیتے ہیں تاکہ صبح تازہ دم ہو کر انسانوں کی خدمت میں لگ جائیں۔ لیل و نہار کی گردش اور آنا جانا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایسی دلیل ہے کہ مشرکوں، خدا کے باغیوں اور کفار کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر رات مسلط کر دے تو بتاؤ۔ اس کے سوا کوئی ہے جو تمہارے لیے دن کی روشنی لے آئے لیکن پھر بھی تم اس کی قدرت پر توجہ نہیں دیتے۔ اگر اللہ تعالیٰ دن کو قیامت تک کے لیے طویل کر دے تو بتاؤ کوئی ہے جس رات میں تم سکون پاتے ہو اسے دن میں تبدیل کر دے۔ لیکن پھر بھی تم نگاہ عبرت کے ساتھ اپنے رب کو پہچاننے اور اس کی قدرتوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ پھر دیکھو اور غور کرو کہ تمہارے رب کا تم پر کتنا کرم ہے اس نے رات کو تمہارے سکون کے لیے اور دن کو تمہارے کام، کاج کے لیے بنایا۔ تاکہ تم اس کی ذات پر ایمان اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرکے شکر گزار بن جاؤ۔ شکر گزار ہی اپنے رب کے تابعدار ہوا کرتے ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی رات کو دن اور دن کو رات میں تبدیل کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو سکون اور دن کو کام کاج کے لیے بنایا۔ 3۔ ” اللہ “ کی قدرتوں پر غور کرنا اس پر ایمان لانا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن ” اللہ “ کی عظیم نشانیاں ہیں : 1۔ اللہ نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : 12) 2۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : 37) 3۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، دن اور رات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : 190) 4۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6)
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

جس دن اللہ انہیں پکارے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کو کا تم گمان کرتے تھے۔ ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم ہر امّت میں سے ایک گواہ لائیں گے پھر کہیں گے کہ لاؤ اپنے شرک کی دلیل اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور ناپید ہوجائیں گے ان کے سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرتوں اور لیل و نہار کی گردش میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا تو پھر ذات کبریا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے کا کیا جواز ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں جس بات کی سب سے زیادہ تر دید اور مذّمت کی ہے وہ شرک ہے۔ شرک کرنے والا جن کو ” اللہ “ کے ساتھ یا اس کے سوا پکارتا ہے وہ کسی نہ کسی درجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتا یا کم ازکم اس کے اختیارات میں شریک سمجھتا ہے۔ مشرکوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا بتاؤ جنھیں تم میرا شریک بناتے تھے کہاں ہیں ؟ اگر ہیں تو انھیں سامنے لاؤ تاکہ وہ اپنی اور تمہاری مدد کرسکیں۔ جو بزرگ دنیا میں لوگوں کو شرک سے منع کرتے رہے۔ وہ رب ذوالجلال کے حضور اپنی صفائی پیش کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے ان لوگوں کو شرک کی نہ تعلیم اور نہ ہی ترغیب دی تھی۔ ہمارے بعد انھوں نے خود ہی ہمیں آپ کا شریک بنا لیا تھا۔ جو لوگ بزرگی اور پیری فقیری کے چکر میں شرک کی تبلیغ اور ترغیب دیتے رہے۔ وہ رب ذوالجلال کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے ملائکہ انھیں مجرموں کی صورت میں رب تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہر اُمّت سے ایک دوسرے پر لوگوں کو گواہ کے طور پر پیش کریں گے تاکہ مشرکوں کو عملاً معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ تھا کہ نہ اس کا کوئی شریک تھا اور نہ ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے مشرک سب کچھ بھول جائیں گے اور نہ ہی شرک کی حمایت میں کوئی دلیل پیش کرسکیں گے۔ انبیاء کرام کی گواہی : (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَآأَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) کو پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا یا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا انہوں نے تمہیں تبلیغ کی اور میرا پیغام پہنچایا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد ﷺ اور اس کی امّت۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرک سے ان کے شرک کے بارے میں سوال کرے گا۔ 2۔ مشرک اپنے شرک کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے پر گواہ کے طور پر پیش کرے گا۔ 4۔ ہر نبی اپنی امت پر گواہ ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن شہادتیں : 1۔ اس دن تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ پیشی کا دن ہوگا۔ (ھود : 103) 2۔ افترا پردازی کرنے والوں کے خلاف شہادتیں پیش کی جائیں گی۔ (ھود : 18) 3۔ قیامت کے دن مجرم کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اس کے ہاتھ اور پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ ( یٰس : 65) 4۔ قیامت کے دن ہاتھ، پاؤں اور زبان مجرم کے خلاف شہادت دیں گے۔ ( النور : 24) 5۔ قیامت کے دن مجرم کے خلاف اس کے کان، آنکھیں اور جسم گواہی دے گا۔ (حٰم السجدۃ : 20) 6۔ سب کا حساب کتاب لکھا ہوا ہے اور فرشتے ان پر گواہی دیں گے۔ (المطففین : 20۔ 21) 7۔ انبیاء کرام اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دینگے۔ ( النساء : 41)
Ayahs 28:76–77

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

یقیناً قارون موسیٰ کی قوم کا ایک فرد تھا پھر وہ اپنی قوم کے خلاف ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں ایک طاقت ور جماعت اٹھایا کرتی تھی۔ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا فخر نہ کرو۔ کیونکہ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

جو تجھے اللہ نے مال دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی۔ فکر کر اور دنیا میں سے اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ اور لوگوں پر احسان کر جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة مبارکہ کی آیت 57 میں اہل مکہ کے عذر لنگ کا ذکر کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس نبی کی اتباع کریں تو ہمارے کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔ سورت کے اختتام میں اہل مکہ اور دنیا پرست لوگوں کے سامنے ایک سرمایہ دار کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اہل علم نے توراۃ اور تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر کی ہے کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بغاوت اور اپنی قوم کے ساتھ غداری کی۔ جس کے معاوضہ میں فرعون نے اسے اپنے ہاں ایک خاص مقام دیا۔ حکومتی خزانے کے بعد ملک بھر میں سب سے زیادہ دولت اس کے پاس تھی۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ سینکڑوں خچر اور اونٹ اس کے خزانے کی چابیاں اٹھایا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے قارون کے بارے میں فقط اتنا بتلایا ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم یعنی بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اپنی قوم کے برخلاف چلا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی رسی دراز کی اور اسے اس قدر مال دیا جس کی چابیاں ایک طاقت ور جماعت بھی مشکل سے اٹھایا کرتی تھی۔ قارون اپنے مال پر اترانے والا اور یتیموں، مسکینوں کے حقوق سلب کرنے والا تھا۔ اس کی قوم اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا کہ اپنے مال پر اکڑ پھکڑکا اظہار نہ کر۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اکڑ پھکڑ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فخر و غرور کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تجھے دے رکھا ہے۔ اس سے آخرت کا گھر بنانے کی کوشش اور مال سے ذاتی طور پر فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی خدمت کر۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر احسان فرمایا ہے اس لیے تجھے بھی کمزور لوگوں پر احسان کرنا چاہیے۔ کمزوروں کی مدد نہ کرنا، یتیموں، مسکینوں کے حقوق ادا کرنے سے اجتناب کرنا اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے۔ مال پر تکبر کا اظہار کرنا زمین میں فساد کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ مسائل 1۔ قارون اپنی قوم کا غدّار اور فرعون کا دست راز تھا۔ 2۔ قارون اپنے مال پر اترانے والا تھا۔ 3۔ اس کی قوم اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ فخر و غرور میں آگے ہی بڑھتا گیا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ فخر و غرور اور فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 5۔ جس پر اللہ تعالیٰ احسان فرمائے اسے لوگوں پر احسان کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو پسند نہیں کرتا ؟ 1 اللہ تعالیٰ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 36) 2۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 107) 3۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ : 64) 4۔ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الانعام : 142) 5۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23) 6۔ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الروم : 45) 7۔ اللہ تعالیٰ بےحیائی کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 22) 8۔ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الشوریٰ : 40) 9۔ اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (الانعام : 141)
Ayah 28:78

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

تو اس نے کہا یہ سب کچھ مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھے حاصل ہے۔ کیا اسے معلوم نہیں تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے۔ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے

فہم القرآن ربط کلام : قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود قارون کا طرز عمل۔ قوم کے معزز اور صالح لوگوں نے قارون کو بہت سمجھایا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتے ہوئے غریبوں، مسکینوں پر مال خرچ کرنا چاہیے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت سے باز آنا چاہیے۔ معزز لوگوں کی بات سمجھنے کی بجائے قارون کہنے لگا کہ اس مال میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں بنتا کیونکہ یہ میری قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خوشحال کرنا ہوتا تو وہ ضرور انھیں مال دیتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اِ ن کی یہی حالت منظور ہے اس لیے میں اپاہج اور نکمے لوگوں پر اپنا مال ضائع نہیں کرسکتا۔ یہی بات اہل مکہ کے کچھ لوگ کہا کرتے تھے۔ جب انھیں سمجھایا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں رزق دے رکھا ہے اس میں سے غریبوں، مسکینوں پر خرچ کرو۔ وہ کہتے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو ضرور کھلاتا پلاتا۔ (سورۃ یٰسٓ : 47) گویا کہ مشرکین مکہ نہ صرف فرعون اور قارون کی طرح اپنے نبی کے نافرمان تھے بلکہ فکری اور عملی طور پر قارون کے ساتھی بن چکے تھے اس لیے قارون کا واقعہ ذکر فرما کر انھیں نبی اکرم ﷺ کی بغاوت اور دنیا کے مال و اسباب پر فخر و غرور کرنے سے روکا گیا ہے۔ لیکن یہ لوگ قارون کی طرح فخر و غرور میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ جس طرح قارون بھول چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو تباہ کرچکا ہے جو جسمانی قوت اور مال و دولت کے لحاظ سے اس سے کہیں بڑھ کر تھے۔ اللہ تعالیٰ جب مجرموں کی گرفت کرتا ہے تو پھر ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ تم کیا کر رہے تھے۔ اس لیے کہ وہ ہمیشہ سے باخبر ہے کہ کون کیا عمل کر رہا ہے۔ باالفاظ دیگر عذاب کے وقت مجرموں کو مہلت نہیں دی جاتی۔ (مُعَاوِیَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُولُ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ مَکْتُوبَۃٍ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہْوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ ) [ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب الذکر بعد الصلوۃ ] حضرت معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے تمام کی تمام بادشاہت اسی کے لیے ہے اور وہ ہی سب تعریفوں کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ! جو چیز تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا نفع نہیں دے سکتا “ مسائل 1۔ کسی انسان کو دنیا کا مال صرف اس کی لیاقت کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نافرمان طاقتور اور مالداروں کو ہلاک کیا ہے۔ 3۔ ہلاک کرتے وقت اللہ تعالیٰ مجرم کے جرائم کے بارے میں سوال نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے بہت سے مجرموں کو دنیا میں تباہ و برباد کیا : 1۔ تمہارے پروردگار کا حکم آچکا کہ ان پر نہ ٹلنے والا عذاب آنے والا ہے۔ (ھود : 76) 2۔ ہم نے تم سے پہلے بستیوں والوں کو ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا۔ (یونس : 13) 3۔ کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں اور وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والی تھیں۔ (الحج : 45) 4۔ اللہ نے انبیاء کی طرف وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے۔ (ابراہیم : 13) 5۔ اللہ ظالم لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔ (الانعام : 47) 6۔ نہیں ہم نے ہلاک کیں بستیاں مگر ان کے رہنے والے ظالم تھے۔ (القصص : 59) 7۔ جس نے ہماری آیات سے اعراض کیا وہ ظالم ہے اور ہم مجرموں سے بدلہ لیا کرتے ہیں۔ ( السجدہ : 22)
Ayahs 28:79–81

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

ایک دن قارون اپنی قوم کے سامنے پوری ٹھاٹھ، باٹھ کے ساتھ نکلا اسے دیکھ کر دنیا کی زندگی کے طالب کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑے نصیب والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے افسوس تمہارے حال پر اللہ کا اجر بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا پھر کوئی اس کی مدد کرنے والا نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ اپنی مدد آپ کرسکا

فہم القرآن ربط کلام : قارون کا عملاً فخر و غرور کا اظہار کرنا اور اس کا بدترین انجام ہونا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک دن قارون لباس فاخرہ پہنے ہوئے نوکروں، چاکروں اور اپنے دوست و احباب کے ساتھ پورے جاہ و جلال کے ساتھ بڑے جلوس کی شکل میں نکلا۔ تاکہ جاہ و حشمت اور اپنی دولت و ثروت کی لوگوں پر دھاک بٹھا سکے۔ وہ اس جاہ و جلال اور شوکت و حشمت کے ساتھ نکلا کہ کمزور ایمان والے لوگ اس قدر مرعوب ہوئے کہ بےساختہ پکار اٹھے کہ کاش ! ہمیں بھی اس طرح کا مال اور اسباب دئیے جاتے جس طرح قارون کو دئیے گئے ہیں۔ یہ تو بڑا ہی خوش بخت اور اچھے نصیب والا ہے۔ لوگوں کی مرعوبیت دور کرنے اور ان کی حقیقی نعمتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صاحب علم یعنی صالح کردار لوگوں نے انھیں سمجھایا کہ تم پر افسوس ہو کہ دنیا کے مال اور شان و شوکت سے مرعوب ہوئے جا رہے ہو۔ دیکھو اور غور کرو ! کہ حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی اللہ کے ہاں دولت وہ اجر ہے جو صاحب ایمان اور صالح کردار لوگوں کو حاصل ہوگا۔ اس اجر کو وہی لوگ پاسکیں گے جو سچے ایمان اور صالح کردار پر ثابت قدم رہیں گے۔ صاحب علم لوگ ابھی کمزور ایمان والوں کو سمجھا ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے تکبر کی وجہ سے اس کے مال اور محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ جب وہ اپنے مال و اسباب کے ساتھ زمین میں دھنس رہا تھا تو اس کے حواری اور نوکر چاکر اس کی کوئی مدد نہ کرسکے جو کل اس پر رشک کر رہے تھے آج اپنے آپ پر افسوس کرنے لگے اور بےساختہ کہہ اٹھے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے رزق کی کشادگی سے سرفراز کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ رکھتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی قارون کے ساتھ دھنسا دیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے باغیوں اور منکروں کو حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ صبر و استقامت کی اہمیّت : صبر بےبسی کا نام نہیں صبر قوت برداشت ‘ قوت مدافعت بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں بہادری اور مستقل مزاجی کے ساتھ پریشانیوں پر حوصلہ رکھنے کا نام صبر ہے اور صبر کرنے والے کو آخرت میں بغیرحساب جنت میں داخلہ نصیب ہوگا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رفاقت ودستگیری حاصل ہوگی۔ (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) [ البقرۃ : 152] ” اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنیوالوں کے لیے ہے۔ “ (وَاسْتَعِیْنُوْا باالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) [ البقرۃ : 152] ” صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کیجیے۔ “ (اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابِ ) [ الزمر : 10]
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اب وہی لوگ جو کل اس کے مقام کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے افسوس ہم بھول گئے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے کم کردیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیا جاتا۔ افسوس کہ ہمیں یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے

” صبر کرنیوالوں کی جزاء حساب و کتاب کے بغیر جنت کا داخلہ ہے۔ “ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے وہ شخض زندگی کے حقائق سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ جس میں صبر و استقامت کا فقدان ہو۔ (سیرت عمر فاروق ؓ (قُلْ آمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] ” اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرو اور پھر اس پہ ڈٹ جاؤ۔ “ تفسیر بالقرآن صبر کا مفہوم اور اس کا صلہ : 1۔ جو لوگ صبر اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور اجرعظیم ہے۔ (ہود : 11) 2۔ صبربڑے کاموں میں سے ایک کام ہے۔ (الاحقاف : 35) 3۔ صبر کرنے والوں کا انجام بہترین ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5) 4۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ صبر کرنے والے بغیرحساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (الزمر : 10)