Ayahs 28:83–84فہم القرآن
ربط کلام : قارون کی بربادی فخر و غرور کی وجہ سے ہوئی، اس لیے غرور اور تکبر سے اجتناب کرنے والوں کے اجر کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قارون کو دنیا کے مال و اسباب سے نوازا تھا۔ لیکن اس نے شکر اور عاجزی اختیار کرنے کی بجائے کفر اور تکبر کا رویہ اختیار کیا۔ جس کے نتیجہ میں اسے اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قارون کے انجام سے لوگوں کو بتلا دیا گیا ہے کہ تکبر کرنے والوں کا بالآخر یہ انجام ہوگا۔ جو لوگ اللہ کی نافرمانی اور فخر و غرور سے بچیں اور زمین میں دنگا و فساد کرنے سے اجتناب کریں گے۔ ان کے لیے آخرت کا بہتر گھر ہوگا اس کے ساتھ ہی یہ اصول بھی بتلا دیا گیا کہ امیر ہو یا غریب، دنیا کے لحاظ سے چھوٹا ہو یا بڑا جو بھی شریعت کے مطابق نیکی کرے گا اسے اس کی نیکی سے بڑھ کر ثواب دیا جائے گا اور جو اپنے رب کے حضور برائی کے ساتھ آئے گا اسے اس کی برائی کے برابر ہی سزاد دی جائے گی۔
نیکی کی بہتر جزا :
(مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَاوَ مَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَ ھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) [ الانعام : 160]
” جو نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے دس گنا ثواب ہوگا اور جو برائی لے کر آئے گا سو اسے اس کے برابر سزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “
(مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍوَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) [ البقرۃ : 261]
” جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھاکر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔ “
اہل علم نے ” عُلُوًّا “ کا معنی ” زیادتی، فخر و غرور “ بیان کرنے کے ساتھ دوسروں کو نیچا دکھانا لکھا ہے۔ سورة قصص کی ابتداء فرعون کے ظلم و زیادتی کے ذکر سے ہوئی۔ سورة کا اختتام فرعون کے قریبی ساتھی ہامان کے انجام سے کیا گیا ہے۔ فرعون نے اقدار کے نشہ میں ” اللہ “ کی توحید کو ٹھکرا دیا اور قارون نے دولت کے نشے میں آکر اللہ کے بندوں پر تکبر کا اظہار کیا۔ دونوں کا انجام بدترین ہوا۔
(عَنِ ابْنِ عُمَر ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اِزَارَہٗ مِنَ الْخُیَلَاءِ خُسِفَ بِہٖ فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ ایک دفعہ ایک شخص تکبر کے ساتھ چادر گھسیٹ کر چل رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ جو لوگ فخر و غرور اور فساد فی الارض سے بچتے ہیں ان کے لیے آخرت کا بہترین گھر ہوگا۔
2۔ متقین کا بالآخر انجام بہتر ہوگا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نیکی کی بہتر جزا دے گا اور برے کو اس کی برائی کے برابر سزا دے گا۔
تفسیر بالقرآن
نیکی اور برائی کا بدلہ :
1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8)
2۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس گناکا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام : 160)
3۔ برائی کا بدلہ اس کی مثل ہی ہوگا۔ (القصص : 84) 4۔ نافرمانوں کو ہمیشہ کے عذاب کی سزادی جائے گی۔ (یونس : 52)
5۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا بدلہ جہنم ہے۔ (النازعات : 37)
6۔ صبر کرنے والوں کے لیے جنت ہے۔ (الدھر : 12) 7۔ تکبر کرنے والوں کو ذلّت آمیز سزا دی جائے گی۔ (احقاف : 20)
Ayahs 28:85–86فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا اختلاف قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی مرکزی دعوت توحید سے ہوا۔ اس لیے آخر میں آپ کی نبوت کے بارے میں وضاحت اور توحید کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر کیا گیا ہے۔
نبی محترم ﷺ کو تسلی دینے اور کفار کے الزام کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے۔ اے رسول ﷺ ! حالات جیسے بھی ہوں قرآن مجید کو لوگوں تک من و عن پہنچانا ہم نے آپ پر فرض قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے آپ کے ذہن میں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر قرآن نازل کرے گا اور اپنے کام کے لیے آپ کو منتخب فرمائے گا۔ آپ حوصلے اور جوانمردی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام لوگوں کے سامنے پڑھیں اور کھول کھول کر اس کی توحید بیان فرمائیں، کسی اعتبار سے بھی کفار کے ساتھ معاونت نہ کریں یہ قرآن آپ پر آپ کے رب کی طرف سے رحمت بن کر نازل ہوا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ آپ کے مقام کو سب سے اعلیٰ اور بہتر بنائے گا، آپ کی کامیابی کا پھریرا بلند ہوگا اور آخرت میں آپ حوض کوثر کے مالک ہوں گے۔ آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون شخص گمراہ ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ آپ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور جہاں تک کفار کے اس الزام کا تعلق ہے کہ یہ قرآن آپ اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ آپ کو بالکل خبر نہ تھی کہ آپ کا رب آپ پر قرآن نازل کرے گا۔ یہ محض اس کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرما لیا ہے۔ ” مَعَادْ “ کا معنی لوٹنے کی جگہ ہے جس کا معنی آخرت میں جنت اور دنیا میں کامیابی کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف لوٹنا ہے۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کا یہی مفہوم لیا ہے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (لَرَادُّکَ إِلَی مَعَادٍ ) قَالَ إِلَی مَکَّۃَ ) [ رواہ البخاری : باب (إِنَّ الَّذِی فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ ) الآیَۃَ ]
” حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آپ کا مکہ کی طرف لوٹنا ہے۔ “
مسائل
1۔ توحید کا پرچار، قرآن مجید کا ابلاغ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
2۔ توحید کی سمجھ اور قرآن کا فہم ” اللہ “ کی رحمت ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہدایت پانے والے اور گمراہ شخص کو اچھی طرح جانتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نزول وحی سے پہلے نبی معظم ﷺ نبوت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے :
1۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں آپ اس وقت موجود نہ تھے۔ (یوسف : 12)
2۔ میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : 50 )
3۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لیے ساری بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188)
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمانوں و زمین کا غیب کوئی نہیں جانتا۔ ( النمل : 65)
5۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو غیب پر مطلع نہیں کرتا۔ (آل عمران : 179)
6۔ اللہ کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اللہ کے علاوہ انھیں کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
7۔ کہہ دیجیے غیب اللہ کے لیے ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (یونس : 20)
8۔ اللہ ہی غیب کو جاننے والا ہے اور وہ کسی پر غیب ظاہر نہیں ہوتا۔ (الجن : 26)
Ayahs 28:87–88فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو مزید ہدایات :
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اے نبی ﷺ ! آپ سے پہلے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ہم نے ان کی طرف یہی پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ اس لیے اس کا حکم ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے۔ (الانبیاء : 25) نبی آخر الزماں ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں اس بات کا اعلان فرمائیں کہ میں بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ مجھے اس ذات نے اپنا رسول منتخب فرمایا ہے جو زمین و آسمانوں کا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہی موت وحیات پر اختیار رکھنے والا ہے اس کا حکم ہے کہ لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ (الاعراف : 158)
یہ وہ دعوت ہے جس کی ہر زمانے میں مشرکوں اور خدا کے باغیوں نے مخالفت کی ہے۔ اس کی پاداش میں کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا، کچھ کو ان کے گھر بار اور وطن سے نکالا گیا۔ باقی انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اذّیت ناک تکلیفیں دی گئیں۔ انہی تکالیف اور مصائب کا نبی ﷺ اور آپ کے رفقاء کرام کو سامنا کرنا پڑا۔ جس قدر آپ خلوص اور محنت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرتے اسی قدر آپ کو تکالیف دی جاتیں۔ نماز کی حالت میں آپ کی گردن پر غلاظت سے بھری ہوئی اونٹ کی اوجڑی رکھی گئی۔ حرم کے اندر آپ کے گریبان کو پکڑا گیا۔ آپ کے ساتھ رشتے ناطے توڑے گئے، مکہ کے بھرے بازار میں آپ کو لہولہان کیا گیا، آپ کے ساتھیوں کو سر عام پیٹا گیا اس کے باوجود آپ قرآن کے ابلاغ اور توحید کے پرچار سے پیچھے نہ ہٹے۔ ان حالات میں آپ کے دل کی ڈھارس اور فریضہ تبلیغ کی فرضیت کا مزید احسس پیدا کرنے کے لیے یہ حکم نازل ہوا۔ اے نبی ﷺ ! حالات کی نزاکت اور لوگوں کی مخالفت کے باوجود آپ نے مشرکین کے سامنے قرآن کی تلاوت کرنا اور توحید کی دعوت دینا ہے۔ اِنھیں بار بار بتلاؤ کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور عبادت کے لائق اور مشکل کشا، حاجت روا نہیں، اس لیے اس کے سوا نہ کسی کے سامنے جھکنا ہے اور نہ کسی کے حضو رہاتھ پھیلانے ہیں۔ اسی کا حکم جاری ہے اور ہر کسی نے مر کر اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ لہٰذا مشرکوں کی مخالفت آپ کو دعوت حق سے نہ روک دے اور نہ ہی اپنے رب کے ساتھ کسی کی عبادت کرنا، آپ کا رب ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ قائم دائم رہنے والا ہے، اوّل، آخر اسی کا حکم چلنا ہے اور آپ سب نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔
” حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بات ارشاد فرمائی اور میں نے دوسری بات کہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہوگیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا رہاوہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں نے کہا جو بندہ اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہٖ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُون اللَّہِ أَنْدَادًا )]
مسائل
1۔ داعی حق کو مشرکین کی مخالفت کی پروا کیے بغیر قرآن کی تبلیغ اور توحید کی دعوت کا فریضہ سر انجام دیتے رہنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں اس لیے کسی دوسرے کو پکارنا شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کبھی معاف نہیں کرنا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر کسی نے مرنا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور رہے گی۔
4۔ مرنے کے بعد ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے حضو رپیش ہونا ہے اس کا حکم ہر حال میں جاری ہے اور جاری رہے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے ساتھ یا اس کے سوا کسی کو پکارنے کی سزا :
1۔ جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود مانتا ہے اسے جہنم میں ذلیل ورسوا کر کے ڈالا جائے گا۔ ( بنی اسرائیل : 39)
2۔ اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ نہ سمجھو ورنہ ذلیل ہوجاؤ گے۔ ( بنی اسرائیل : 22)
3۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نا پکا رو وگرنہ عذاب میں مبتلا ہو جاؤگے۔ (الشعرآء : 213)
4۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : 65) 5۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : 31)