Ayahs 29:1–3فہم القرآن
ربط سورة : سورة القصص کا اختتام توحید کے مرکزی نقطہ پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنانا۔ چاہے حالات کتنے ہی ناگفتہ بہ ہوجائیں ایک داعی اور موحد کو ہر حال میں عقیدہ توحید پر قائم رہنا ہے۔ سورة العنکبوت کی ابتداء اس بات سے ہوئی کہ توحید کی دعوت دینے اور اس پر قائم رہنے پر مشکلات اور مصائب کا آنا ناگزیر ہے۔
الم ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان کا معنی اور مفہوم حدیث مبارکہ سے ثابت نہیں۔ صحابہ کرام ؓ ان کا معنی جانے بغیر ہی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حروف مقطعات کے بعد ارشاد ہوتا ہے کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ” اللہ “ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے سے آزمائش میں نہیں ڈالے جائیں گے ؟ انھیں یہ خیال چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے ایماندار لوگوں کو بھی چھوٹی، بڑی آزمائشوں کے ساتھ آزمایا اور تمہیں بھی ضرور آزمائے گا تاکہ وہ جان لے کہ ایمان کے دعویٰ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے دین اسلام کے اوصاف میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ دین اپنے ماننے والوں کو ہر حال میں خوشخبری نہیں سناتا بلکہ اس راستے میں آنے والی مشکلات اور مصائب سے بھی آگاہ کرتا ہے تاکہ دین اسلام کو قبول کرنے والا شخص ذہنی طور پر مشکلات کے لیے تیار ہو کر اسے قبول کرے۔ اس لیے یہاں بار بار تاکید کے الفاظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کی ذہن سازی فرمائی ہے کہ میں تمہیں ضرور بضرور آزماؤں گا۔ گھبرانے کی بات نہیں تم سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا کیونکہ سچے اور جھوٹے میں پرکھ کے لیے لازم ہے کہ تمہیں بھی آزمایا جائے مقصد یہ ہے کہ تمہارا رب خوب جان لے کہ کون دعویٰ ایمان میں سچا اور پکا ہے اور کون ایمان میں کچا اور جھوٹا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے جاننے کا یہ معنی نہیں کہ وہ کسی بات اور حقیقت سے بیخبر ہے اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی لوگوں کے سامنے ثابت کریں کہ سچے اور جھوٹے کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے۔ تاکہ مسلمان جھوٹے لوگوں کے ساتھ اسی انداز میں رہیں جس کا شریعت نے انھیں حکم دیا ہے۔ جہاں تک ایمان لانے کے بعد آزمائش کا تعلق ہے قرآن مجید نے دوسرے موقع پر یہاں تک فرمایا ہے کہ اے مسلمانو ! کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل کیے جاؤ گے ؟ حالانکہ تمہیں ان حالات سے واسطہ نہیں پڑا جن حالات سے تم سے پہلے لوگوں کو واسطہ پڑا تھا انھیں ہر قسم کی تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ خوب ہلائے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ تب جا کر اللہ تعالیٰ نے انھیں خوشخبری سنائی کہ اللہ کی مدد تو آ ہی پہنچی ہے۔ (البقرۃ : 214)
(عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ شَکَوْنَا إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ وَہْوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہُ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، قُلْنَا لَہُ أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلاَ تَدْعُو اللَّہَ لَنَا قَالَ کَان الرَّجُلُ فیمَنْ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ فِی الأَرْضِ فَیُجْعَلُ فیہِ ، فَیُجَاء بالْمِنْشَارِ ، فَیُوضَعُ عَلَی رَأْسِہِ فَیُشَقُّ باثْنَتَیْنِ ، وَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دینِہِ ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیدِ ، مَا دُونَ لَحْمِہِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ ، وَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دینِہِ ، وَاللَّہِ لَیُتِمَّنَّ ہَذَا الأَمْرَ حَتَّی یَسِیر الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَی حَضْرَمَوْتَ ، لاَ یَخَافُ إِلاَّ اللَّہَ أَوِ الذِّءْبَ عَلَی غَنَمِہِ ، وَلَکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُونَ ) [ رواہ البخاری : باب علامات النبوۃ ]
” حضرت خباب ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت شکایت کی جب آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں چادر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد فرمائے۔ آپ اپنے چہرے سے چادر ہٹاکر بیٹھ گئے اور فرمایا اللہ کی قسم تم سے پہلے لوگوں کو پکڑا جاتا اور ان کو ایک گھڑھے میں گاڑ کر اس کے سر پر آرا رکھ کر دو ٹکڑے کردیا جاتا۔ وہ پھر بھی اپنے دین پر قائم رہتا اس کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے نوچ لیا جاتا لیکن پھر بھی دین سے منحرف نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ اس دین کو غالب فرمائے گا کہ ایک سوار صنعا سے لے کر حضرموت تک تن تنہا سفر کرے گا۔ اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا اسے صرف اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا خوف ہوگا، لیکن تم عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّل ٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ للنَّبِیِّ ﷺ یَا رَسُول اللَّہِ وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّکَ فَقَالَ انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ قَالَ وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّکَ فَقَالَ انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ قَالَ وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ إِنْ کُنْتَ تُحِبُّنِی فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَی مَنْ یُحِبُّنِی مِنَ السَّیْلِ إِلَی مُنْتَہَاہُ )
[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی فضل اللفقر ]
” حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا اپنے دعویٰ پر غور کر کیا کہہ رہے ہو۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا پھر غور کرو کہ کیا کہہ رہے ہو اس نے عرض کی اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں اس نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی آپ نے فرمایا اگر تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقر وفاقہ کے لیے تیار ہوجا۔ اس لیے کہ جو مجھ سے پیار کرتا ہے اس کی طرف فقر وفاقہ سیلاب سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ضرور آزماتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کو بھی آزمایا تھا۔
3۔ آزمانے کا مقصد جھوٹے اور سچے، کھرے اور کھوٹے کے درمیان فرق کرنا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) اور مومنوں کی آزمائش کی چند مثالیں :
1۔ سخت آزمائش کے وقت رسولوں اور ایماندار لوگوں نے گھبرا کر کہا کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ (البقرۃ : 214)
2۔ اللہ کی طرف سے مومن کی خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان سے آزمائش ضرور کی جاتی ہے۔ صابر مومن کے لیے خوشخبری ہے۔ (البقرۃ : 155)
3۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے۔ (العنکبوت : 3)
4۔ ( ابرہیم (علیہ السلام) کا اسماعیل (علیہ السلام) کو قربانی کے لیے پیش کرنا) بہت بڑا امتحان تھا۔ (الصٰفٰت : 106)
5۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید کی خاطر آگ میں پھینکا جانابڑی آزمائش تھی۔ (الانبیاء : 68)
6۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی بیوی اور نو مولود بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر جانا بہت بڑی آزمائش تھا۔ (ابرہیم : 37)
7۔ ہم نے کھرے اور کھوٹے کی پہچان کرنے کے لیے پہلے لوگوں کو آزمایا۔ ( العنکبوت : 2)
8۔ ہم نے زندگی اور موت کو آزمائش بنایا تاکہ دیکھیں تم میں سے کون نیک عمل کرتا ہے۔ ( الملک : 2)
Ayahs 29:4–5فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کو آزمائشوں سے آگاہ کرنے کے بعد ظالموں کو انتباہ۔
جو لوگ بلا وجہ مومنوں کو تنگ کرتے ہیں ان کے بارے میں وہی الفاظ اور انداز اختیار کیا ہے جس انداز اور الفاظ میں مومنوں کو آزمائش کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ اس سے مومنوں کو تسلّی دی گئی ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو یونہی چھوڑے رکھے گا اور نہ ہی یہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اِ ن کی رسی دراز کر رکھی ہے جب پکڑنے پہ آئے گا تو ظالموں کو کوئی چھڑانے والا نہ ہوگا۔ اس کے باوجود اگر یہ سوچتے ہیں کہ ہمیں کھلا چھوڑ دیا جائے گا تو یہ ان کی بدترین غلط فہمی اور غلطی ہے جس کے بارے میں وقت آنے پر انھیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی توقع رکھتا ہے۔ اپنے عمل کے مطابق سزا اور جزا پر یقین رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جب وقت آئے گا تو لمحہ بھر کی تاخیر نہ ہوگی اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور ہر بات کو جاننے والا ہے۔
مسائل
1۔ ظالم اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر نہیں ہوتا۔
2۔ جسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین ہے اسے جزا اور سزا پر یقین رکھنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
Ayahs 29:6–7فہم القرآن
ربط کلام : انسان دنیا میں رہ کر جو کچھ بھی کرے گا اس کا نفع و نقصان اسی کو پہنچے گا۔
اس فرمان میں بھی ظالموں کو ایک طرح کا انتباہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص اچھا ہو یا برا، جو بھی کام کرتا ہے اس کا نفع و نقصان اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی نیکی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر کوئی زندگی بھر گناہ کرتا رہے تو رب کی ذات اور اس کی بادشاہی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہ ہر کمزوری سے مبرّا اور ہر قسم کی ضرورت سے بےنیاز ہے۔ یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اِ ن الفاظ میں سمجھائی تھی۔ اے میری قوم ! تم اور جو کوئی زمین میں بسنے والا ہے سب کے سب کفر پر جم جاؤ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی بادشاہی کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ ” غنی “ اور تعریف کے لائق ہے۔ (ابراہیم : 8)
اسی بات کو نبی آخر الزماں ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں یوں بیان فرمایا :
(یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ ]
” اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے، پچھلے جن و انس سارے کے سارے فاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو بھی میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ ) قَالَ یَامَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَھَا اشْتَرُوْٓا أَنْفُسَکُمْ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَابَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ لَآأُغْنِيْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا یَاعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَآأُغْنِيْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَاصَفِیَّۃُ عَمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا وَیَافَاطِمَۃُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ سَلِیْنِيْ مَاشِءْتِ مِنْ مَالِيْ لَآأُغْنِيْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا، باب ھل یدخل النساء والولد فی الأقارب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے قریش کے لوگو ! اپنے لیے کچھ کرلو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی فائدہ نہیں دے سکوں گا، اے بنی عبد منامیں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا ‘ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے کچھ فائدہ نہیں دے سکوں گا، اور اے صفیہ ! رسول کی پھوپھی ! میں تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکوں گا اور اے فاطمہ بنت محمد ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے میں تجھے اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ “
مسائل
1۔ نیکی یا بدی کرنے کا انسان کو ہی فائدہ یا نقصان ہوگا۔
3۔ حقیقی ایمان رکھنے اور صالح اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بہترین جزا دے گا۔
4۔ نیک لوگوں سے بتقاضاء بشریت جو غلطیاں ہوں گی اللہ تعالیٰ انھیں ضرور معاف کرے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ جہان والوں سے ہر لحاظ سے بےنیاز ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر انسان اپنے اچھے، برے اعمال کا ذمہ دا رہے :
1۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ (فاطر : 43)
2۔ قیامت کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائیگا۔ یٓس : 54)
3۔ جو شخص نیک اعمال کرتا ہے اس کا صلہ اسی کے لیے ہے اور جو برے اعمال کرے گا اس کا وبال اسی پر ہوگا آپ کا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 46)
4۔ ہر شخص اپنے معاملات کا خود ذمہ دار ہے۔ (البقرہ : 141)
5۔ مجر م اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گناہوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالیں گے۔ (الاحزاب : 66۔ 68)
6۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ( النجم : 38)
Ayahs 29:8–9فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں نیک اعمال کا ذکر ہوا۔ یہاں یہ بتلایا کہ اچھے اعمال میں بہترین عمل والدین کے ساتھ بھلائی کرنا اور شرک سے اجتناب کرنا ہے۔
صالح اعمال میں سب سے بڑا عمل۔ اللہ تعالیٰ کو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک سمجھنا اور اس کی خالص عبادت کرنا ہے۔ اس کے بعد دوسرا صالح عمل والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ قرآن مجید کے کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد انسان کو جو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے ” احسان “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ عبادت کے بارے میں استعمال ہو تو اس کا معنی ہے کہ کامل توجہ کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا۔ جب یہ لفظ لوگوں کے بارے میں استعمال کیا جائے تو اس کا معنٰی بھلائی اور دوسرے کے ساتھ احسان کرنا۔ بالخصوص والدین کے بارے میں یہ لفظ بار بار اس لیے استعمال کیا گیا ہے۔ کہ والدین کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے ان کی کمزوریوں کو پیش نظر رکھے بغیر ان کے ساتھ احسان کا روّیہ اختیار کرنا فرض ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو کسی کا احسان مند سمجھتا ہے تو وہ اس کی دل و جان سے قدر اور تابعداری کرتا ہے۔ اس لیے یہاں اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ اگر والدین اولاد کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے پر مجبور کریں تو اولاد شرک کرنے سے انکار کردے۔ کیونکہ شرک کی بنیاد حقیقی علم اور کسی ٹھوس دلیل پر نہیں ہے۔ جب شرک کی بنیاد حقیقی علم اور ٹھوس دلیل پر نہیں تو اس سے بچنا لازم ہے۔ بیشک والدین ہی شرک کا حکم دینے والے کیوں نہ ہوں۔ یہاں اولاد کے ساتھ مشرک والدین کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ یاد رکھو کہ بالآخر تم سب نے میری طرف ہی لوٹنا ہے۔ میں تمہیں بتلاؤں گا کہ تم کیا عمل کرتے رہے ہو۔ اولاد ہو یا ماں باپ، جو بھی سچا ایمان لائے اور صالح اعمال کرے گا اسے اللہ تعالیٰ ضرور نیک لوگوں میں شامل فرمائے گا۔
(عن عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِی بِہِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُہُ لَزَادَنِی)
[ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب قول اللہ تعالیٰ ووصینا الانسان بوالدین احسانا ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے استفسار کیا کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے پوچھا پھر کون سا عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ باتیں نبی اکرم ﷺ نے بتائیں اگر میں مزید پوچھتا تو آپ مجھے اور بھی بتاتے۔ “
(عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ سَعْدٍ قَالَ أُنْزِلَتْ فِیَّ أَرْبَعُ آیَاتٍ فَذَکَرَ قِصَّۃً فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَلَیْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّہُ بالْبِرِّ وَاللَّہِ لاَ أَطْعَمُ طَعَامًا وَلاَ أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّی أَمُوتَ أَوْ تَکْفُرَ قَالَ فَکَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ یُطْعِمُوہَا شَجَرُوا فاہَا فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ (وَوَصَّیْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا) الآیَۃَ ) [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الْعَنْکَبُوتِ ]
حضرت سماک بن حرب بیان کرتے ہیں میں نے مصعب بن سعد ؓ سے سنا وہ اپنے باپ سعد ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ میرے متعلق چار آیات نازل ہوئی انہوں نے اپنی والدہ کا قصہ بیان کیا سعد کی والدہ کہنے لگی کیا اللہ نے ماں کے ساتھ نیکی کا حکم نہیں دیا۔ اللہ کی قسم اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی اور نہ پانی پیؤں گی یہاں تک کہ میں مرجاؤں یا تو محمد ﷺ کا انکار کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب سعد اپنی ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو وہ اپنا منہ بند کرلیتی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (اور ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا کہ وہ اپنے والدین سے نیک سلوک کرے اور اگر وہ اس بات پر زور دیں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کرنا۔ میری طرف ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ میں تمہیں بتلا دوں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ )
(عِنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ رواہ فی شرح السنۃ)[ مشکوۃ المصابیح : باب کتاب الامارۃ والقضاء ]
” حضرت نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مخلوق کی اطاعت میں اللہ کی نافرمانی جائز نہیں۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیع اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَ اللَّہَ فَلاَ یَعْصِہِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیع اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ ]
” حضرت عائشہ ﷺ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔ اور جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے۔ “
مسائل
1۔ والدین کے ساتھ اولاد کو ” احسان “ کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
2۔ والدین اولاد کو شرک پر آمادہ کریں تو اولاد کا فرض ہے کہ وہ شرک کرنے سے انکار کردے۔
3۔ بالآخر ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے بارے میں بتائے گا۔
4۔ سچا ایمان رکھنے اور نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ صالح لوگوں میں شامل فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
والدین کے بارے میں ہدایات :
1۔ بنی اسرائیل سے والدین کے ساتھ احسان کرنے کا عہدلیا گیا۔ (البقرۃ : 83)
2۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہوا۔ (مریم : 32)
3۔ والدین کو اف کہنا اور جھڑکناجائز نہیں۔ (بنی اسرائیل : 23)
4۔ والدین کے سامنے عاجزی سے رہنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (بنی اسرائیل : 24)
5۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان : 15)
6۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم۔ (بنی اسرائیل : 23)
7۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرے۔ (الاحقاف : 10)
8۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : 26)
9۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرو۔ (الانعام : 151)
Ayahs 29:10–11فہم القرآن
ربط کلام : اس سورت مبارکہ کی ابتداء میں مومنوں کی آزمائش اور ظالموں کی گرفت کے بارے میں فرمایا۔ اب منافقوں کے کردار کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔
منافق کا لفظ نفق سے نکلا ہے جس کا معنٰی ہے چوہے کی ایسی بل جس کے دو منہ ہوں ایک منہ بند کیا جائے تو چوہا دوسری طرف سے نکل جاتا ہے۔ جب تک دونوں طرف سے بل بند نہ کی جائے چوہا قابو نہیں آتا۔ یہی منافق کا کردار ہوتا ہے کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے فائدہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرتے ہوئے اسلام کی خوبیاں ذکر کرتا ہے۔ اگر اسے اسلام کے راستے میں کوئی آزمائش آئے تو وہ کفار کی طرف رخ موڑ لیتا ہے۔ منافق کی اسی کیفیت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے لیکن جب انھیں اللہ کے راستے میں تکلیف پہنچتی ہے۔ یعنی اسلام دشمن قوتوں سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ کفار کی طرف سے ملنے والی تکلیف کو۔ اللہ کا عذاب سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں سے دور ہوجاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مدد اور نصرت حاصل ہوتی ہے اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے فائدہ پہنچتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھی ہیں۔ کیا منافق بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کے حال سے پوری طرح واقف نہیں ہے ؟ خبردار انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ منافقوں اور مومنوں کے درمیان ضرور فرق واضح کرے گا۔ یہ فرق آخرت میں تو ہر صورت واضح ہو کر رہے گا اگر مسلمان آپس میں متحد اور اسلام پر ثابت رہیں تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی یہ فرق کرکے دکھلائے گا جس کے نتیجہ میں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ ؓ کے دور میں منافق رسوا ہوئے۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً ) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔ “
مسائل
1۔ منافق اسلام کے راستے میں آنے والی آزمائش کو اللہ کا عذاب سمجھتا ہے۔
2۔ اسلام سے فائدہ حاصل ہو تو منافق اسلام، اسلام کرتا ہے اگر آزمائش آجائے تو منافق کفار کے ساتھ جا ملتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جاننے والا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ منافقوں اور مومنوں کے درمیان ضرور فرق واضح کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
منافق کا کردار اور اس کا انجام :
1۔ منافق دغا باز، ریا کار ہونے کے ساتھ بےتوجہگی کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ (النساء : 142)
2۔ منافق کے کلمہ پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ (المنافقون : 1)
3۔ منافق کی قسم پر اعتبار نہیں کیونکہ وہ اسے ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ (المنافقون : 2)
4۔ منافق کفار سے دوستی رکھتا ہے۔ (البقرۃ : 14)
5۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ (النساء : 145)
Ayahs 29:12–13فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو پھسلانے کے لیے کفار اور منافقوں کے مختلف ہتھکنڈے، اور قیامت کے دن ان کی پوچھ کے بارے میں انتباہ
کفار اور منافقوں کی ہر وقت کوشش تھی اور رہتی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے پھسلا دیا جائے۔ اسی کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ کے دور میں مسلمانوں کو پھسلانے اور بہکانے کے لیے کفار اور منافقوں نے مسلمانوں کو یہ بھی کہا کہ اگر تم دین اسلام کو چھوڑ دو ۔ تو تمہارے اسلام چھوڑنے کا گناہ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔ اس طرح انھوں نے مسلمانوں کو پھسلانے اور ان کے دلوں سے اسلام کی محبت کم کرنے کی کوشش کی۔ جس کا جواب دیا گیا ہے کہ کفار اور منافقوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا لہٰذا یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ ضرور اپنا اور دوسروں کا بوجھ اٹھائیں گے جنھوں نے خود گناہ کیے اور دوسروں کو گناہوں پر آمادہ کرتے رہے۔ ایسے لوگون کے جھوٹ اور گناہوں کے بارے میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ضرور باز پرس کرے گا۔ یاد رہے کہ آخرت کے دن کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ ہاں جس شخص نے کسی کو بالواسطہ یا بلا واسطہ گمراہ یا کسی کو گناہ پر آمادہ کیا اسے اپنا اور دوسرے کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔ اس سے گناہ کرنے والے کا بوجھ ہلکا نہیں ہوگا۔ اسی اصول کی بنیاد پر قرآن مجید میں یہ اصول بیان ہوا ہے کہ ایسے لوگوں کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ بنی اکرم ﷺ نے اس اصول کی یوں وضاحت فرمائی ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی کَانَ لَہُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَہُ لاَ یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْءًا وَمَنْ دَعَا إِلَی ضَلاَلَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لاَ یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : باب مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً أَوْ سَیِّءَۃً وَمَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی أَوْ ضَلاَلَۃٍ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ہدایت کی طرف بلایا اسے عمل کرنے والے کے اجر کے مطابق اجر ملے گا جنہوں نے اس کی تابعداری کی۔ ان کے اجر میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوگی اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا اس کو گناہ کرنے والے کے برابر گناہ ملے گا جو گمراہ شخص کی تابعداری کرتے ہوئے گمراہی کے راستے پر چلے تھے۔ اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ “
مسائل
1۔ کوئی شخص دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔
2۔ جس نے کسی کو گمراہ یا گناہ پر آمادہ کیا وہ اپنا اور دوسرے کا بوجھ بھی اٹھائے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جھوٹ بولنے والے اور گمراہ کرنے والے کو ضرور پوچھے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ ہی مجرم کو چھڑا سکے گا :
1۔ ہر ایک کو اس کے اپنے اعمال کام آئیں گے۔ (البقرۃ : 134)
2۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164)
3۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ (فاطر : 43)
4۔ کسی کے گناہ کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھا جائے گا۔ ( الرحمن : 39)
5۔ کوئی نفس کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164)
6۔ ہر ایک اپنے معاملے کا خود ذمہ دار ہے۔ (البقرہ : 141)
7۔ روز محشر دوست کام نہ آئیں گے۔ (البقرہ : 254)
8۔ قیامت کے دن مجرم کو اس کے ماں باپ، قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں گے۔ (عبس : 34۔ 36)
Ayahs 29:14–15فہم القرآن
ربط کلام : آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی اللہ کی پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے لیے مبعوث کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) انھیں ساڑھے نو سو سال سمجھاتے رہے، قوم نے سمجھنے کی بجائے نوح (علیہ السلام) کو بار بار یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پر ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑ سکتے۔ (نوح : 24) یاد رہے یہ اس قوم کے سب سے بڑے بت تھے۔ یہ قوم نوح کے فوت شدہ بزرگوں کے تخیلاتی مجسمے تھے جو انہوں نے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی یاد میں بنائے ہوئے تھے۔ قوم نے نوح (علیہ السلام) کو یہ بھی دھمکی دی کہ اگر تو باز نہ آیا تو ہم پتھر مار مار کر تجھے مار ڈالیں گے۔ (الشعراء : 116) اس کے ساتھ ہی یہ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تیرے اور ہمارے درمیان یہ جھگڑا طول پکڑ گیا ہے اس لیے جس عذاب کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اسے لے آؤ اگر تو واقعی ہی سچا ہے۔ (ہود : 32)
تب جا کر اللہ تعالیٰ نے ظالموں پر گرفت فرمائی اور انھیں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا۔ البتہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک کشتی کے ذریعے بچا لیا گیا۔ کشتی اور ڈوبنے والوں کو لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کو مختصر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اے کفار اور منافقو ! غور کرو ! کہ جب نوح (علیہ السلام) کے دور میں طوفان آیا تو کوئی کافر ایک دوسرے کو نہیں بچا سکا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے کافر بیٹے اور بیوی کو نہ بچا سکے۔ (ہود : 46) تمہاری کیا حیثیت اور طاقت ہے کہ تم قیامت کے دن ایک دوسروں کا بوجھ اٹھا سکو ؟ (التحریم : 15)
یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف اس لیے بھی اشارہ کیا گیا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلّی دی جائے کہ آپ لوگوں کو مظالم سہتے ہوئے ابھی بہت تھوڑا عرصہ گزار ہے۔ غور فرماؤ کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے کس قدر دین حق کے راستے میں محنت کی اور کتنی طویل مدت تک ظالموں کے ظلم برداشت کرتے رہے۔
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو سمجھایا۔
2۔ جب قوم نے سمجھنے سے انکار کیا تو انھیں غرق کردیا گیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے بچا لیا۔
4۔ کشتی اور قوم کو آئندہ نسلوں کے لیے نشان عبرت بنایا۔
تفسیر بالقرآن
قوم نوح پر آنے والے عذاب کی چند جھلکیاں :
1۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136)
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (ہود : 43)
3۔ قوم نوح کو تباہ کرنے کے لیے آسمان سے موسلاد ھار بارش کے دھانے کھول دئیے گئے۔ ( القمر : 11)
4۔ قوم نوح پر عذاب کے وقت تندور نے ابلنا شروع کردیا۔ ( ہود : 40)
5۔ قوم نوح پر عذاب کی صورت میں آسمان سے پانی برسا اور زمین سے جگہ جگہ چشمے ابل پڑے۔ (ہود : 44)
6۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔ (الشعراء : 120)
Ayahs 29:16–18فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں دوسرے حقائق کے ساتھ یہ بھی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا تو نہ وہ خود ایک دوسرے کو بچا سکے۔ اور نہ ہی ان کے مشکل کشا انہیں بچا سکے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خطاب سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مشرک جن بتوں اور معبودوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے ہیں اپنے چاہنے والوں کو نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم سے بیک وقت یہ استفسار کیا تھا کہ اے والد گرامی اور میری قوم کے لوگو ! بتلاؤ جن پتھر اور مٹی کی بنی ہوئی مورتیوں کے سامنے تم مراقبے، اور جن سے مانگتے ہو ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ؟ ان کا جواب تھا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس طرح ہی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انھیں باور کروایا کہ تم واضح طور پر بہک چکے ہو۔ (الانبیاء : 51 تا 54) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ بھی سمجھایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرتے رہو یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم حقیقت جانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اور پھر ان کے بارے میں جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمہیں کسی قسم کا رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ صرف ایک اللہ سے رزق مانگو اسی ایک کی عبادت کرو اور اسی کا شکریہ ادا کرو۔ کیونکہ تم سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس سے ڈرنے کی تلقین کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن بتوں اور مورتیوں سے مانگتے اور ان کے سامنے جھکتے اور سجدہ کرتے ہو ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی وہ تمہارے نفع اور نقصان کے مالک ہیں۔ ان کو خود ہی تم بناتے، سجاتے ہو اور پھر لوگون کو ان کا گرویدہ بنانے کے لیے جھوٹی کہانیاں تراشتے ہو حالانکہ وہ تمہیں ایک دانہ بھی نہیں دے سکتے۔
مشرکین کی شروع سے یہ عادت رہی ہے کہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مزارات، بت اور مورتیوں کے بارے میں ذاتی اور جماعتی مفاد کی خاطر داستانیں پھیلاتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں مزار پر گیا تو اسے نرینہ اولاد مل گئی۔ وہ شخص فلاں مقام پر پہنچا تو اس کی مشکل حل ہوگئی۔ فلاں فوت شدہ بزرگ نے فلاں جگہ پہنچ کر فلاں شخص کی مدد کی۔ یہ صاحب قبر اس مشکل کا تریاق رکھتا ہے اور وہ قبر والا فلاں پریشانی کو دور کرتا ہے۔ یہ اقتدار اوراقبال عنایت کرتا اور وہ گنج بخش اور شکر گنج ہے اور اپنے ماننے والوں کی روزی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح کی کہانیاں ہر دور کے مشرک بالخصوص متولی، مجاور اور یہ عقیدہ رکھنے والے علماء بناتے اور بتاتے رہتے ہیں۔ رزق کی کشادگی کی خواہش انسانی فطرت کی کمزوری ہے اس لیے نام نہاد مذہبی لوگ مزارات پر اور کافر بتوں کے سامنے نذو نیاز پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی روزی اور وسائل میں اضافہ ہوجائے۔ یہی عقیدہ ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا تھا جس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو منع کیا اسی وجہ سے انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے سلامت نکلے تو پھر قوم، حکومت اور ان کے باپ نے بالاتفاق ابراہیم (علیہ السلام) کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کے رد عمل کی طرف توجہ دلاکر نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بتلایا ہے کہ آپ کے جدّ امجد کو کن کن مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جس طرح وہ اور ان کے ساتھی ثابت قدم رہے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو بھی استقامت اور صبر و استقلال کا مظاہر کرنا ہوگا۔ جس طرح آپ کو جھٹلایا جا رہا ہے اسی طرح پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا گیا۔ حالات جیسے بھی ہوں رسول پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے کھول کھول کر عقیدہ توحید بیان کرے اور پوری جرت و استقلال کے ساتھ شرک کی تردید کرتا رہے۔
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اسی سے ڈرنے کی تلقین کی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنا اور اس سے ڈر کر زندگی گزارنا بہترین طرز زندگی ہے۔
3۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی عبات کرتے ہیں وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان کے نام پر جھوٹے قصہ کہانیاں اور کرامات بیان کرتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رزق دینے والا نہیں اس لیے اسی سے رزق مانگنا، اسی کی عبادت کرنا اور اسی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
5۔ رسول اکرم ﷺ کا کام کھلے الفاظ میں لوگوں تک حق پہنچانا تھا۔ جو آپ نے کماحقہ لوگوں تک پہنچایا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک اور رزق دینے والا نہیں :
1۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاروجو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ (یونس : 106)
2۔ اللہ کے سوا کوئی ذرہ بھر بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ (الانبیاء : 66)
3۔ اے نبی ﷺ آپ اعلان فرمادیں کہ میں اپنے بارے میں بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں (الاعراف : 188)
4۔ کیا تم انکی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نفع و نقصان نہیں پہچاسکتے۔ (الانبیاء : 66)
5۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : 52)
6۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق اللہ کے ذمّہ ہے۔ (ھود : 2)
7۔ بیشک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذّاریات : 58)
8۔ ہم نے اس زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : 20)
Ayahs 29:19–20فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام اور نبی آخر الزّماں نے لوگوں تک کھلے الفاظ میں توحید اور حق بات پہنچائی اب لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی توحید پر ایمان لائیں اور حق بات قبول کریں۔
عقیدہ توحید سمجھنے کے لیے پہلی بات یہ ہے کہ انسان ” اللہ “ کی قدرتوں پر غور کرے اور پھر سچے دل کے ساتھ ایمان لائے کہ ساری مخلوق پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے جب انسان یہ حقیقت سمجھ جائے اور اس پر خلوص نیت کے ساتھ ایمان لے آئے تو وہ ایک ” اللہ “ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے شرک سے بچ جائے گا۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ لوگو ! کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پہلی بار کس طرح پیدا کرتا ہے اور پھر اسے زندہ کرے گا یہی بات انسان کو اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ جس ” اللہ “ نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اس کے لیے بہت ہی آسان ہے کہ وہ اسے دوبارہ پیدا کرے۔ اگر انسان کو مر کر جی اٹھنے پر اعتبار نہیں تو وہ زمین پر چل کر دیکھے خاص طور پر کسی صحرا میں جا کر ملا حظہ کرے کہ موسم خزاں میں جو جڑی بوٹیاں گل سڑ گئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح دوبارہ پیدا فرمایا ہے۔ اسی طرح لوگوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر کامل اور اکمل قدرت رکھتا ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْنَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ ) [ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ [ متفق علیہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دوسرا صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں جانتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میرا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز مٹی ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ہے۔ کہ آپ ﷺ نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ سوائے دمچی کے انسان اسی سے پیدا کیا جائے گا اور جوڑا جائے گا۔ “
اللہ تعالیٰ کے لیے پہلی مرتبہ پیدا کرنا یا اس کا اعادہ کرنا بالکل سہل ہے سوائے انسان کو سمجھانے کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری مرتبہ پیدا کرنا بہرحال آسان ہے۔
مسائل
اللہ ہی انسان کو پیدا کرنے والا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کے لیے انسان یا کسی دوسری چیز کو دوبارہ پیدا کرنا آسان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنے والا ہے :
1۔ اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (آل عمران : 156)
2۔ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا۔ (البقرۃ : 73)
3۔ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کرتا ہے۔ (آل عمران : 27)
4۔ اللہ ہی موت وحیات کا خالق ہے۔ (الملک : 2)
5۔ بیشک زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبۃ : 116)
Ayahs 29:21–23فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انسان کو صرف زندہ ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی بارگاہ میں حاضر فرماکر صحیح عقیدہ اور نیک عمل کرنے والوں پر رحم فرمائے اور برے لوگوں کو سزا دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مہربانی اور بخشش کے اصول بتلا دیے ہیں اور اپنی گرفت اور سزا کا بھی قانون واضح کیا ہے۔ بخشش اور عذاب کے اصول بتلانے کے باوجود اسے کامل اختیا رحاصل ہے کہ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب میں مبتلا کرے۔ اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمانوں میں کوئی عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہے۔ تاہم اس کا فرمان ہے کہ مشرک اور کافر کے علاوہ جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور ہر کسی نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہی زمینوں، آسمانوں کا مالک ہے اس کی مرضی کے بغیر کوئی کسی کی خیر خواہی اور نہ کسی قسم کی کوئی مدد کرسکتا ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کی آیات کا انکار کیا وہ اس کی رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان کے لیے اذّیت ناک عذاب ہوگا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے گا اور جس پر چاہے رحم فرمائے گا۔
2۔ ہر کسی نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
3۔ دنیا اور آخرت میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو مجبور نہیں کرسکتا۔
4۔ اللہ کی مرضی کے خلاف نہ کوئی خیر خواہی کرسکتا ہے اور نہ ہی مدد دے سکتا ہے۔
5۔ اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر اس کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں۔
6۔ آیات ربانی کا انکار کرنے والے اذیت ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف انسان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا :
1۔ مدد تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : 10)
2۔ جنہیں تم اللہ کے سوا معبود مانتے ہو کیا وہ تمہاری یا اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟۔ (الشعراء : 93)
3۔ کیا ان کے پاس ہمارے سوا معبود ہیں جو ان کی حفاظت کریں ؟ وہ تو خود اپنی مدد کی قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہمارے مقابلے میں ان کا ساتھ دیا جاسکتا ہے۔ (الانبیاء : 43)
4۔ کیا وہ ان کو ہمارا شریک ٹھہراتے ہیں ؟ جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ انہیں کسی قسم کی مدد بھی نہیں دے سکتے بلکہ وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ (الاعراف : 191۔ 192)
5۔ اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو نہ تو وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی۔ (الاعراف : 197)
6۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا اگر میں انہیں دھتکار دوں تو اللہ کے مقابلہ میری مدد کون کرے گا ؟۔ (ھود : 30)
7۔ مومن بندے نے (فرعون کے روبرو پوری قوم کو مخاطب کرکے کہا تھا) اگر اللہ کا عذاب آجائے تو ہماری مدد کون کرے گا۔ (مومن : 29)
8۔ انہوں نے اللہ کے سوامعبود بنا لیے تاکہ وہ ان کے مد گار ہوں حالانکہ وہ ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ (یٓس : 74۔ 75)
Ayah 29:24فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے جو خطاب کیا اس کا تذکرہ آیت سولہ اور سترہ میں ہوچکا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کے دلائل دیے گئے جو لوگ عقیدہ توحید کا انکار کرتے ہیں ان کی سزا بیان کی گئی۔ یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ کفار اپنے عقیدہ کی وجہ سے اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا رد عمل بیان کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں قوم کا رد عمل تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں یا پھر اسے آگ میں جلا دیا جائے۔
(قَالُوا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْا اٰلِہَتَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِیْنَ ) [ الانبیاء : 68]
” اگر اپنے خداؤں کو بچانا چاہتے ہو تو اس کو زندہ جلا دو ۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امن عامہ کے تحت گرفتاری :
حکمرانوں نے نے فیصلہ کیا کہ امن عامہ کے تحت ابراہیم (علیہ السلام) گرفتار کرلیا جائے۔ چناچہ آپ کو دس دن تک جیل میں رکھا گیا اور پھر بادشاہ کی کونسل نے انہیں زندہ جلاد ینے کا فیصلہ کیا اس طرح عوام اور حکمران سب کے سب اس بات پر متفق ہوچکے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ نہ چھوڑا جائے بلکہ عبرتناک سزا دی جائے۔
عوامی مطالبہ :
(قَالُوا ابْنُوْا لَہُ بُنْیَانًا فَأَلْقُوْہُ فِی الْجَحِیْمِ )[ الصّٰفٰت : 97]
” اس کے لیے ایک بڑا گہرا گڑھا بناؤ اور اس کو آگ سے بھر کر ابراہیم کو دہکتے ہوئے انگاروں میں پھینک دو ۔ “
شا ہی آرڈنینس کے تحت پوری مشینری آگ کو بھڑ کا نے میں لگی ہوئی ہے۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ لوگوں کے جذبات کا عالم یہ تھا کہ عورتیں نذریں ما نتی تھی۔ اگر فلاں مشکل یا بیماری رفع ہوجائے تو میں اتنی لکڑیاں آگ میں ڈالوں گی مؤ رخین نے تحریر کیا ہے کہ آج تک آگ کا اتنا بڑا الاؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ آگ میں پھینکنے کا وقت آیا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اس قدر پھیلی ہوئی آگ میں ابراہیم کو کس طرح پھینکا جائے۔
شا ہی کو نسل کا ہنگامی اجلس طلب کیا جاتا ہے۔ زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ ابر اہیمکو آگ میں کس طرح پھینکا جائے ؟ فیصلہ ہوتا ہے کہ ایسی مشین تیار کئی جائے جس میں جھو لادے کر آگ کے درمیان میں پھینکا جائے لہٰذا اس طرح کیا گیا تجویز دینے والے کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ زمین میں دھنستا جائے گا۔ (ابن کثیر )
مسائل
1۔ قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے بچالیا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کا رد عمل :
1۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : 16)
2۔ حضرت ابراہیم نے کہا اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : 78 )
3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو تبلیغ کرتے ہوئے کہا اے ابا جان آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (مریم : 42)
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکوں کو چیلنج۔ (الممتحنۃ : 4)
5۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف انہوں نے سازش کی۔ اللہ نے انہیں خائب و خاسر کردیا۔ (الانبیاء : 70)
6۔ مشرکین نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے آگ کا الاؤ جلایا اور انہیں آگ میں ڈال دیا۔ ( الصّٰفّٰت : 97)
7۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے کہا اگر تو باز نہ آیا تو تجھے سنگسار کر دوں گا تجھے گھر سے نکال دوں گا۔ ( مریم : 46)
Ayah 29:25فہم القرآن
ربط کلام : آگ سے بسلامت نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو آخری خطاب۔
قوم اور حکومت نے اپنی طرف سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلا ڈالا تھا۔ لیکن رب جلیل نے اپنے خلیل (علیہ السلام) کو اتنے دن آگ میں پڑے رہنے کے باوجود آنچ نہ آنے دی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بسلامت آگ سے نکل کر قوم کے سامنے آئے تو لوگ اللہ کی قدرت کا معجزہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے۔
قرآن مجید کے خطاب اور الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ سے نکلنے کے بعد حضرت کا قوم سے یہ پہلا خطاب تھا۔ اس لیے انھوں نے بتوں کی تردید کرنے کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دنیا کی زندگی یعنی اس کے مفاد اور میری مخالفت کے لیے تم آپس میں اکٹھے ہوچکے ہو۔ لیکن یاد رکھو قیامت کے دن نہ صرف تم ایک دوسرے سے لا تعلق اور بتوں کی عبادت کا انکار کرو گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھی کرو گے۔ اب تو کفر و شرک پر ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہو لیکن قیا مت کے دن تم ایک دوسرے کی قطعاً مدد نہیں کرسکو گے۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنَ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّتِسْعِیْنَ جُزْءً ا کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں یقیناً اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ عرض کیا گیا اللہ کے رسول ! یہی آگ جلانے کے لیے کافی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس آگ سے وہ ننانوے حصے زیادہ ہے ان میں سے ہر حصے کی گرمی دنیا کی آگجیسی ہے۔ “
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ]
” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم میں ڈالا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کے پیپ پلائی جائے گی۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن مشرک ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکیں گے۔
2۔ قیامت کے دن عابد اور معبود ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن عابد اور معبود ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے :
1۔ عابد و معبود ایک دوسرے سے بیزار ہوں گے۔ (یونس : 28 تا 30)
2۔ جب مشرک اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے یہی ہیں وہ جن کی ہم اللہ کے سو اپکارتے تھے۔ معبود کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ (النحل : 86)
3۔ اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار نہیں سنتے۔ اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ (فاطر : 14)
4۔ جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو معبود ان کے دشمن ہوں گے اور اپنی پرستش سے انکار کریں گے۔ (الاحقاف : 6)
5۔ ان کے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں کے انکاری ہوجائیں گے۔ (الروم : 13)
6۔ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔ وہ سب ان سے غائب ہوں گے۔ (حٰم السجدہ : 48)