29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsفہم القرآن

Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

ہم نے اسی طرح آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے، جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی اس لیے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان لوگوں میں بھی بہت سے لوگ اس پر ایمان لا رہے ہیں اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم نازل کیے اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحف ابراہیم، تورات، زبور اور انجیل میں یہ بات بھی بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کے آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین کے طور پر مبعوث کیے جائیں گے اور ان پر قرآن نازل کیا جائے گا۔ جس کا تذکرہ یوں کیا جا رہا ہے کہ اسی طرح ہی ہم نے آپ ﷺ کی طرف قرآن مجید نازل کیا جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب عنایت کی اور وہ اس پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔ وہی لوگ قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں اور اہل مکہ میں بھی قرآن مجید پر ایمان لانے والے ہیں۔ حقائق جاننے اور ٹھوس دلائل آنے کے باوجود ہماری آیات کے ساتھ صرف کافر لوگ ہی جھگڑا کیا کرتے ہیں۔ پہلی کتابوں پر ایمان لانے کا معنٰی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ ان پر ایمان لانے کے باوجود سب کے لیے قابل اتباع صرف قرآن مجید ہے کیونکہ یہ سب سے آخری آسمانی کتاب ہے۔ ایمان کی مبادیات اور ان کا مرکزی تقاضا : (عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاض الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَاد الشَّعْرِ لاَ یُرٰی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنِ الإِیمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ باللَّہِ وَمَلاَءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ )[ رواہ مسلم : باب مَعْرِفَۃِ الإِیمَانِ وَالإِسْلاَمِ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی سفید کپڑوں میں ملبوس سیاہ بالوں والا جس پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے اور ہم سے کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا وہ آکر نبی ﷺ کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے عرض کی مجھے ایمان کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔ “ (عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ ؓ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ مَنْ رَأَی مُنْکَرًا فَغَیَّرَہُ بِیَدِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَغَیَّرَہُ بِلِسَانِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِلِسَانِہِ فَغَیَّرَہُ بِقَلْبِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الإِیمَانِ ) [ رواہ النسائی : باب تَفَاضُلِ أَہْلِ الإِیمَانِ ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے برائی کو دیکھا اور اس نے اسے اپنے ہاتھ سے ختم کیا تو وہ بری ہوگیا۔ اگر اس میں برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں اور اس نے اسے اپنی زبان سے منع کیا وہ بھی بری ہوا۔ اس نے زبان سے روکنے کی طاقت نہ پائی مگر اس نے اسے اپنے دل سے برا سمجھا تو وہ بھی بری ہوگیا۔ یہ سب سے کمتر ایمان ہے۔ “ مسائل 1۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح نبی اکرم ﷺ پر قرآن نازل کیا ہے۔ 2۔ پہلی کتابوں پر صحیح ایمان رکھنے والے لوگ قرآن مجید پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ صرف کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں۔ تفسیر باالقرآن پہلی آسمانی کتابوں اور قرآن مجید پر ایمان لانا فرض ہے : 1۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 4) 2۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 136) 3۔ اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابوں، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 285)
Ayahs 29:48–49

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑجاتے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

یہ تو روشن دلائل ہیں۔ ان لوگوں کے دلوں کے لیے جنہیں علم دیا گیا ہے اور ہماری آیات کا انکار صرف ظالم ہی کیا کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی صداقت اور نبی اکرم ﷺ کی نبّوت کے مزید ثبوت۔ سب سے پہلے قرآن مجید کا انکار کرنے والے اہل مکہ تھے، جن کا ایک الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ اپنی طرف سے آیات بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے جس کی درجنوں دلائل کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔ جن میں دو دلائل یہ ہیں کہ سوچو اور غور کرو کہ محمد ﷺ اس سے پہلے نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ اگر محمد ﷺ پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو پھر تمہیں اس کی نبّوت میں ضرور شک ہوسکتا تھا کہ پڑھا لکھا انسان تھا اپنی صلاحیّت کی بنیاد پر ایک کتاب بنا لایا ہے۔ نبی ﷺ کی حالت یہ ہے کہ نہ آپ نے کسی کے سامنے زنوائے تلمذ طے کیے اور نہ ہی آپ ﷺ نے کسی سے لکھنا سیکھا پھر لوگوں کو کس بنیاد پر شک ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے قرآن مجید کسی سے پڑھ لیا ہے یا اپنی طرف سے لکھ لیا ہے ؟ یہاں اس بات کا بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ انسان کو بائیں کی بجائے دائیں ہاتھ کے ساتھ لکھنا چاہیے۔ حقیقتاً اس ارشاد کا روئے سخن منکرین قرآن کی طرف ہے لیکن بات کی اہمیت کے پیش نظر اور نبی اکرم ﷺ کو تسلّی دینے کے لیے آپ کو مخاطب کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کو غمگین اور دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی آپ کی توجہ ان کے بےہودہ الزام کی طرف ہونی چاہیے کیونکہ آپ تو اس سے پہلے نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے۔ باطل پرست لوگ کسی دلیل کی بنیاد پر الزام نہیں لگاتے بلکہ حقیقت میں یہ ظالم اور بےانصاف لوگ ہیں جو بلا دلیل اور خواہ مخواہ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں ہماری آیات پر وہ لوگ ضرور ایمان لاتے ہیں جن کو حقیقی علم کی آگہی بخشی گئی ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے ذوالقعدہ میں عمرہ ادا کرنا چاہا، لیکن مکہ والوں نے آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ بالآخران سے طے ہوا کہ آپ آئندہ سال آئیں گے اور مکہ مکرمہ میں صرف تین دن قیام کریں گے۔ جب کفار نے صلح نامہ تحریر کرنا چاہا تو آپ نے یوں تحریر لکھوائی، کہ اس معاہدے پر محمد رسول اللہ ﷺ نے صلح کی ہے۔ انہوں نے فوراً اعتراض کیا۔ ہم آپ کی رسالت تسلیم نہیں کرتے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو کبھی آپ کو نہ روکتے۔ آپ تو بس محمد بن عبداللہ ہیں کہ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا ‘ میں اللہ کا رسول ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ اس کے بعد آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ کے الفاظ مٹا دے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم ! میں ہرگز ان الفاظ کو نہیں مٹاؤں گا۔ تو رسول معظم ﷺ نے قلم پکڑا، جبکہ آپ بہتر انداز میں لکھ نہیں سکتے تھے۔ آپ ﷺ نے یہ تحریر کیا کہ یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ نے کیا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب کَیْفَ یُکْتَبُ ہَذَا مَا صَالَحَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ ] مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ لکھنا، پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ 2۔ باطل پرست اور بےانصاف لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ 3۔ علم کی حقیقت سے آشنا لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ تفسیر باالقرآن ” اللہ “ کی آیات کا کون لوگ انکار کرتے ہیں : 1۔ فاسق لوگ ” اللہ “ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 99) 2۔ قرآن مجید میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کی گئی مگر اکثر ناشکرے اس کا انکار کرتے ہیں۔ (الکہف : 54) 3۔ ” اللہ “ کی آیات کا انکار کرنے کا بدلہ آخرت میں آگ کا گھر ہے۔ ( حٰمٓ السجدۃ : 28) 4۔ کیا تم باطل کے ساتھ ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہو ؟ (النحل : 72)
Ayahs 29:50–51

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر نشانیاں اس کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتاری گئیں۔ فرمائیں نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید عظیم ترین کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کے لیے شفا اور ایمان لانے والوں کے لیے اس کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو درجنوں معجزات عنایت فرمائے۔ لیکن ظالم لوگ تمام معجزات دیکھنے کے باوجود یہی کہتے اور مطالبہ کرتے رہے کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی جاتی۔ اس کا اس موقع پر صرف یہ جواب دیا گیا کہ اے نبی ﷺ بےانصاف لوگوں کو یہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو لا تعداد نشانیاں اور معجزات موجود ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر سوال کے جواب میں نشانی پیش کرنے کے لیے نہیں بھیجا اور نہ ہی میرے پاس یہ اختیار ہے کہ جب چاہوں تمہارے سامنے کوئی معجزہ پیش کر دوں۔ نشانی اور معجزہ دینے اور دکھلانے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ جب چاہتا ہے مجھے عطا فرماتا ہے۔ مجھے مبعوث فرمانے کا مقصد یہ ہے کہ میں لوگوں کو واضح انداز اور کھلے الفاظ میں ان کی برائیوں کے انجام سے آگاہ کروں۔ حق کے مخالف لوگ آئے روز نئے سے نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیا ان کو قرآن مجید کی صورت میں معجزہ کافی نہیں ہے جس کی آیات ان کے سامنے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان میں جو حقائق بیان اور پیشین گوئیاں کی جاتی ہیں۔ ان میں کچھ پوری ہوچکی ہیں باقی ان کی زندگی اور آخرت میں پوری ہوجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید ایسا معجزہ ہے جس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرسکتا۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور نصیحت ہے۔ مگر ان لوگوں کے لیے جو اس کی نصیحت پر ایمان لاتے ہیں۔ ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو کوئی غم وحزن میں مبتلا ہو وہ کہے ( اللَّہُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ نَاصِیَتِی بِیَدِکَ مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ أَوْ عَلَّمْتَہُ أَحَداً مِنْ خَلْقِکَ أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِی کِتَابِکَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیعَ قَلْبِی وَنُورَ صَدْرِی وَجَلاَءَ حُزْنِی وَذَہَابَ ہَمِّی) اے اللہ ! میں تیرا بندہ ہوں تیرے بندے کا بیٹا ہوں تیری بندی کا بیٹا ہوں میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے تیرا حکم مجھ پر نافذ ہوتا ہے تیرے فیصلوں میں عدل و انصاف ہے میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے ساتھ جو تو نے اپنے لیے خاص کیے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلائے یا اپنی کتاب میں نازل فرمائے یا علم غیب کے مطابق ان کا انتخاب فرمایا اے اللہ ! قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کی روشنی اور غموں اور پریشانیوں کو دور کرنے کا سبب بنا دے، اللہ اس کے غم اور پریشانیاں ختم فرما دیتا ہے۔ اور انہیں ان سے نجات عطا کرتا ہے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم اسے سیکھ نہ لیں آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں ہر سننے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے یاد کرے۔ “ [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن مسعود ] مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ برے لوگوں کو ان کی برائی کے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید عظیم اور بےنظیر معجزہ ہے۔ 3۔ ایمان لانے والوں کے لیے قرآن مجیداللہ تعالیٰ کی رحمت اور نصیحت ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : 1) 3۔ قرآن مجید برہان اور نور مّبین ہے۔ (النساء : 174) 4۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138) 6۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف : 1) 7۔ جن وانس مل کر قرآن کی ایک سورة بھی نہیں بنا سکتے۔ (بنی اسرائیل : 88) 8۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس : 57) 9۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 10۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

فرما دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ” اللہ “ کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے۔ جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہ نقصان پانے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک اور جواب۔ منکرین نبوت کے پے در پے مطالبات پورے کر دئیے گئے اور ان کے ہر سوال کا مُدّلل جواب دیا گیا اور وہ اس کے مقابلے میں لا جواب ہوئے مگر اس کے باوجود مطالبہ کرتے کہ اے نبی ﷺ آپ کی نبّوت کی تائید میں فلاں قسم کا معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو بالآخر یہ جواب دیا گیا کہ تمہارے پاس دیگر معجزات کے ساتھ قرآن مجید جیسا عظیم اور زندہ جاوید معجزہ آچکا ہے۔ لیکن پھر بھی تم ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہو۔ اب میرے اور تمہارے درمیان ” اللہ “ ہی گواہ ہے اور وہ ٹھیک، ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے جو نہ صرف تمہاری نیتوں کو جانتا ہے بلکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ جو باطل کو مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا انکار کرتے ہیں بالآخر نقصان پائیں گے۔ اس فرمان میں باطل پرستوں کو دائمی اور لا محدود نقصان سے آگاہ کرنے کے ساتھ یہ سمجھایا ہے کہ اگر تم ٹھوس دلائل اور واضح حقائق کو نہیں مانتے تو میرے ساتھ الجھنے کی بجائے تم اپنا کام کرو۔ میری نبوت کی تائید کے لیے میرے رب کی گواہی کافی ہے۔ ایسے موقعہ پر آپ ﷺ کو یہ آیت پڑھنے اور اس پر مضبوط عقیدہ رکھنے کی تلقین فرمائی گئی کیونکہ جسے ” اللہ “ کا سہارا حاصل ہوجائے وہ کامیاب ہوگا، ہر مبلغ اور مسلمان کے لیے یہی آخری سہارہ اور بیش بہا سرمایہ ہے۔ (فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ) [ التوبہ : 29] ” پھر اگر وہ منہ موڑیں تو فرما دیں مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ “
Ayahs 29:53–55

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

یہ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ اور یقیناً عذاب اپنے وقت پر اچانک آئے گا۔ جس کی انہیں خبر بھی نہ ہوگی

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کو گھیرے میں لے لے گی

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

اس دن عذاب انہیں اوپر، نیچے سے ڈھانپ لے گا اور اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب اپنے ان اعمال کا مزہ چکھو جو تم کیا کرتے تھے

فہم القرآن ربط کلام : نبی معظم ﷺ سے دیگر معجزات مانگنے کے ساتھ کفار یہ بھی مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے رہتے ہو وہ آتا کیوں نہیں ؟ جواباً فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں لیکن انہیں بتلائیں کہ عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ وہ کسی کے جلدی کرنے سے اپنے وقت سے پہلے نازل نہیں ہوتا۔ البتہ جب نازل ہوتا ہے تو اس قدر اچانک نازل ہوتا ہے کہ کوئی بھاگنا چاہے تو بھاگ نہ سکے اور کوئی بچنا چاہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔ جس عذاب کا یہ لوگ بار بار مطالبہ کرتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ ” اللہ “ چاہے گا تو وہ تمہیں دنیا میں ہی آلے گا اگر انہیں یقین نہیں آرہا تو عاد، ثمود اور قوم لوط کی بستیاں دیکھیں کہ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کی رسّی ڈھیلی کر رکھی ہے لیکن جہنم تو بہرحال کفار کا انتظار کر رہی ہے جو ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوگی اور اوپر سے جہنّم کے ملائکہ انہیں جھڑکیاں دیتے ہوئے کہیں گے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے یہ وہی ہے۔ لہٰذا اس کا مزہ چکھو اب اس سے کبھی نکل نہیں پاؤ گے۔ انہیں جان لینا چاہیے کہ جہنم کا عذاب ان سے زیادہ دور نہیں ہے۔ (لَہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنِ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہُ یَاعِبَادِ فَاتَّقُوْن) [ الزمر : 16] ” ان کے اوپر اور نیچے سے بھی آگ بھی چھائی ہوگی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے پس اے میرے بندو میرے عذاب سے بچو۔ “ (نَار اللّٰہِ الْمُوْقَدَۃُ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْءِدَۃِ اِِنَّہَا عَلَیْہِمْ مُوْصَدَۃٌ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ ) [ ہمزہ : 6 تا 9] ” اللہ “ کی آگ خوب بھڑکائی ہوئی ہے جو دلوں پر چڑھ جائے گی وہ ان پر ہر طرف سے بند کردی جائے گی اور اونچے ستونوں میں ہوگی۔ “ (عَنْ سَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ )[ رواہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار ] ” حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کو ٹخنوں تک، بعض کو گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردنوں تک پہنچی ہوگی۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ سے کفار بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب آتا ہے تو اچانک آیا کرتا ہے۔ 3۔ جہنّم کفار کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوگی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی گرفت اور عذاب کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جو اپنے وقت سے پہلے نازل نہیں ہوتا۔ تفسیر بالقرآن جہنم کے عذاب کا ایک منظر : 1۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 2۔ جہنم پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : 6) 3۔ مجرم جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 4۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ تیز ہوگی۔ (التوبۃ : 81) 5۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30) 6۔ جہنم کے شعلے بڑے بڑے مکانوں کی طرح بلند ہوں گے۔ ( المرسلٰت : 32)
Ayahs 29:56–57

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو۔ میری زمین بہت وسیع ہے پس تم میری ہی عبادت کرتے رہو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر شخص کو موت کا مزا چکھنا ہے پھر تم ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو جہنّم کے عذاب کا نقشہ پیش کرنے کے بعد مومنوں کو ہجرت کا حکم دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ مومنوں دنیا کی تکلیفیں تو معمولی اور عارضی ہیں اگر جہنّم کی تکلیفوں سے بچنا چاہتے ہو تو اپنا ایمان بچا کر ہجرت کر جاؤ۔ ہجرت کرنے والوں کو یہ حکم دیتے ہوئے تسلّی دی گئی ہے کہ یہ نہ سوچو کہ گھر بار چھوڑ کر جائیں تو کدھر جائیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ” اللہ “ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ تمہاری زندگی کا مقصد ” اللہ “ کی عبادت اور اس کی غلامی کرنا ہے۔ اس لیے اپنے مقصد حیات کو سامنے رکھو اور اس کے لیے ہجرت کر جاؤ اور اپنے رب کی غلامی میں زندگی بسر کرو۔ اگر تمہیں کسی قسم کے نقصان کا خطرہ ہے تو اس بات پر غور کرو کہ بالآخر تمہاری زندگی نے بھی ایک دن ختم ہونا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کی موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ نیک ہو یا بد اس سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ سب نے ہمارے حضور پیش ہونا ہے۔ یہاں ظالموں کو ان کے ظلم کی پوری سزا دی جائے گی اور نیکو کاروں کو ان کی نیکیوں اور قربانیوں کا پورا پورا صلہ دیا جائے گا۔ (عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِینَکَ فَلِاُبَایِعَکَ فَبَسَطَ یَمِینَہٗ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِی قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ یُغْفَرَ لِی قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَأَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ) [ رواہ مسلم : کتاب التفسیر، باب قول اللہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الاقربین ] ” حضرت عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اپنا دایاں ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں جب آپ نے اپنا دایاں ہاتھ آگے فرمایا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔ آپ پوچھتے ہیں اے عمرو ! کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں ارشاد ہوا کہ وہ کونسی شرط ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ فرمایا عمرو تو نہیں جانتا یقیناً اسلام پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے ؟ اسی طرح ہجرت کرنے سے پہلے کے بھی گناہ ختم ہوجاتے ہیں اور یقیناً حج سے بھی سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ ‘ قَالَ : خَطَّ النَّبِیُّ ﷺ خَطَّامُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِیْ فِی الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِیْْ فِی الْوَسَطِ فَقَالَ ھٰذَا الْاِنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ خَارِجٌ اَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الصِّغَارُ الْاَعْرَاضُ فَاِنْ اَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَسَہٗ ھٰذَا وَاِنْ اَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَسَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : باب فی الامل وطولہ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے ایک دفعہ ایک چوکور خط کھینچا اور وسطی خط کے درمیان سے کچھ لکیریں کھینچی۔ ایک لکیر درمیان سے مربع شکل سے باہر نکلنے والی کھینچی اور فرمایا، یہ انسان ہے۔ اور یہ مربع اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو لکیر باہر نکل رہی ہے، وہ اس کی حرص ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی لکیریں آفات وبیماریاں ہیں۔ اگر ایک سے محفوظ رہا تو دوسری اسے آلے گی اگر یہ خطا کر جائے ‘ تو تیسری آفت اسے نشانہ بنالے گی۔ “ مسائل 1۔ جہاں ایمان بچانا مشکل ہو وہاں سے ہجرت کر جانا چاہیے۔ 2۔ ” اللہ “ کی زمین بہت ہی وسیع و عریض ہے۔ 3۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ 4۔ ہر نفس نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر با لقرآن ہر کسی کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے : 1۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ (الانبیاء : 35) 2۔ موت کا وقت مقرر ہے۔ (آل عمران : 145) 3۔ موت کی جگہ متعین ہے۔ (آل عمران : 154) 4۔ موت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آل عمران : 168) 5۔ موت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ (النساء : 78) 6۔ قلعہ بند ہونے والے کو بھی موت آئے گی۔ (النساء : 78) 7۔ اے نبی آپ کو بھی موت آنا ہے اور آپ کے مخالفوں نے بھی مرنا ہے۔ ( الزمر : 30) 8۔ اللہ تعالیٰ کے سوا سب نے فنا ہونا ہے۔ (الرحمن : 26)
Ayahs 29:58–59

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہم انہیں جنت کے بلندو بالا محلاّت میں رکھیں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ عمل کرنے والوں کے لیے یہ بہتر اجر ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

فہم ال قرآن ربط کلام : موت کا معنٰی کلیتاً ملیا میٹ ہونا نہیں یہ تو ” اللہ “ کے حضور پیش ہونے کا ذریعہ ہے۔ وہاں نیک لوگوں کو بڑے، بڑے انعامات سے نوازا جائے گا۔ موت ہر کسی کو آنی ہے۔ لیکن جو اپنے ایمان کی خاطر کسی چیز کو خاطر میں نہ لایا اور صالح عمل کرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے ضرور، ضرور جنت کے محلاّت میں داخل فرمائے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہو نگی۔ جنتّی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ان کے لیے بہترین اجر ہوگا کیونکہ وہ دنیا کے نقصانات اور ہر قسم کی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے اپنے رب پر اعتماد کرتے رہے۔ صبر کا معنٰی تکلیف کے وقت حوصلہ کرنا اور مستقل مزاجی کے ساتھ حق بات پر قائم رہنا ہے۔ توکل کا معنٰی ہے کہ مشکل ترین حالات میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی مدد پر بھروسہ کیا جائے۔ جنت کی ایک جھلک : (وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَأَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْجَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ قَالَ وَ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ و رسول پر ایمان لایا اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی جنم دھرتی میں بیٹھا رہا۔ صحابہ نے عرض کی اللہ کے رسول ! کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ مقام ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “ (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر ] ” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے معاملات عجیب ہیں۔ اس کے تمام معاملات میں خیر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے اگر اس کو آسانی ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یہ اسکے لیے بہتر ہے۔ اگر اسے تکلیف آتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “ مسائل 1۔ سچا ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت عنایت فرمائے گا۔ 2۔ نیک لوگ مشکل کے وقت صبر اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن صبر کا حکم اور اجر : 1۔ نبی ﷺ کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5) 2۔ صبر اہم کاموں میں سے اہم ترین کام ہے۔ (الاحقاف : 35) 3۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 4۔ صبر کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5) 5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ صبر کرنے والے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونگے۔ (الزمر : 10)
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ہی انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے وہ سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے وقت تین باتیں انسان کو پریشان کرتی ہیں۔ 1 ۔ جائیں تو کہاں جائیں 2 ۔ مال، جان کے نقصان کا اندیشہ 3 ۔ روزی کا فکر ہجرت کے لیے کدھر جائیں اس کا جواب دیا کہ ” اللہ “ کی زمین بہت وسیع ہے، مالی اور جانی نقصان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ بالآخر ہر کسی کو موت آنی ہے اور سب کچھ چھوڑ کر آخرت کو سدھارنا ہے۔ اب روزی کے بارے میں تسلّی دی جا رہی ہے کہ ہر انسان بالخصوص ہجرت کرنے والا غور کرے کہ کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق جمع نہیں کرتے مگر انہیں بھی ” اللہ تعالیٰ “ رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی عطا کرتا ہے، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یعنی وہ تمہارے وطن میں ہی نہیں بلکہ تم جہاں بھی ہوتے ہو تمہارا حال جانتا ہے اور تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے۔ رزق کی فراہمی کے بارے اپنے رب کا یہ اصول یاد رکھو کہ زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کا رزق ” اللہ “ کے ذمّہ ہے وہ سب کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے مرنے کی جگہ بھی اس کے علم میں ہے اس نے سب کچھ کھلی کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ (وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَ مَسْتَوْدَعَھَا کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) [ ہود : 6] ” اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمّہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ “ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “ (عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ؓ یَقُوْلُ قَالَ رَجُلٌ یَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَعْقِلُہَا وَأَتَوَکَّلُ أَوْ أُطْلِقُہَا وَأَتَوَکَّلُ قَالَ اِعْقِلْہَا وَتَوَکَّلْ )[ رواہ الترمذی : باب اعقل و توکل ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ! میں سواری کو باندھوں اور توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو پھر توکل کرو۔ “ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ قَالَ لَمَّا تَجَلّٰی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَمُ کَانَ یَبْصُرُالنَّمْلَۃَ عَلیٰ الصَّفَا فِیْ الَّلیْۃِ الظُّلْمَاءِ مَسِیْرَۃَ عَشْرَۃِ فَرْسَخٍ )[ تفسیر ابن کثیر، سورة الاعراف : 143] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں دس فرسخ کے فاصلے سے پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے : 1۔ ہم نے زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : 20) 2۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : 52) 3۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق ” اللہ “ کے ذمہ ہے۔ (ھود : 6) 4۔ بیشک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذاریات : 58) 6۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سبا : 39) 5۔ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے جو تمہیں روزی دیتا ہے۔ (فاطر : 3) 6۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق نہیں مانگتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132) 7۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : 212) 9۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج : 58) 8۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ ” اللہ “ تمہیں اور انہیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : 151) 9۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے تو کہتا ہے کہ ” اللہ “ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : 31)
Ayahs 29:61–62

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اگر آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکا کھا رہے ہیں

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اے ہجرت کرنے والو ! اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو مشرکین سے پوچھ لو کہ رزق دینے والا کون ہے ؟ اس کے ساتھ ہی مشرکین سے مزید سوال۔ قرآن مجید لوگوں کو صرف دلائل کی بنیاد پر عقیدہ توحید اور حقائق تسلیم کرنے پر زور نہیں دیتا بلکہ وہ لوگوں کا ضمیر بیدار کرنے کے لیے ان سے استفسار کرتا ہے کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا اور چاند و سورج کو کس نے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے ؟ قرآن مجید مکہ میں نازل ہوا تھا اس لیے سب سے پہلے انہی سے سوال کیا گیا کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک بنانے والوں ! بتاؤ کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور شمس و قمر کو تمہارے لیے کس نے مسخر کر رکھا ہے ؟ توحید انسان کی فطرت کی آواز ہے اور یہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے اس لیے مشرکین مکہ بےساختہ جواب دیتے کہ انہیں صرف ایک ” اللہ “ ہی نے پیدا کیا ہے۔ اس اقرار پر انہیں جھنجھوڑا گیا ہے کہ پھر ایک اللہ کو چھوڑ کر کیوں در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین و آسمانوں اور شمس و قمر کو پیدا ہی نہیں کیا بلکہ وہ تمہیں کھلاتا اور پلاتا بھی ہے۔ جس طرح زمین و آسمانوں اور شمس و قمر کو کسی اور نے پیدا نہیں کیا اسی طرح اللہ کے سوا تمہیں کوئی رزق دینے والا نہیں۔ نہ صرف کوئی رزق دینے والا نہیں بلکہ تمہارے رزق میں کوئی ایک دانے کے برابر بھی کمی وبیشی نہیں کرسکتا۔” اللہ “ ہی اپنی حکمت کے تحت اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز سے باخبر ہے۔ لیکن سب کچھ جاننے کے باوجود مشرک اپنے رب کو چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نزول وحی سے پہلے نبی اکرم ؓ اسفل بلدح مقام کی نچلی جانب زید بن عمرو بن نفیل سے ملے۔ نبی کریم ؓ کو دستر خوان پر کھانا پیش کیا گیا۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا۔ اور زید بن عمرو نے بھی کہا کہ میں اس چیزکو نہیں کھاؤں گا جس کو تم اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو اور نہ ہی وہ چیز کھاؤنگا جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔ زید بن عمرو کے الفاظ وَأَنَّ زَیْدَ بْنَ عَمْرٍو کَانَ یَعِیبُ عَلَی قُرَیْشٍ ذَبَاءِحَہُمْ ، وَیَقُول الشَّاۃُ خَلَقَہَا اللَّہُ ، وَأَنْزَلَ لَہَا مِنَ السَّمَاءِ الْمَاءَ ، وَأَنْبَتَ لَہَا مِنَ الأَرْضِ ، ثُمَّ تَذْبَحُونَہَا عَلَی غَیْرِ اسْمِ اللَّہِ إِنْکَارًا لِذَلِکَ وَإِعْظَامًا لَہُ ) [ رواہ البخاری : باب حَدِیثُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ ] زید بن عمروقریش کے ذبیحوں پر تعجب کرتے اور کہتے کہ بکری کو اللہ نے پیدا کیا ہے، اسی نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے اور اس کے ذریعے نباتات اگائی ہیں۔ پھر تم اس کا انکار اور غیر اللہ کی تعظیم کرتے ہوئے ان چیزوں کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو ؟ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا اور شمس وقمر کو مسخر فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کا رزق زیادہ اور کم کرنے والا ہے۔ 3۔ ” اللہ “ ہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ 4۔ حقائق تسلیم کرنے کے باوجود مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی نے زمین و آسمانوں اور شمس وقمر کو پیدا فرمایا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا ہے۔ (البقرۃ : 22) 2۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو اند ھیروں میں تمہاری رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا۔ (الانعام : 97) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں چاند کو روشنی کا باعث اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ (نوح : 16 ) 4۔ یقیناً اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، فرمائیں پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : 61)
Ayahs 29:63–64

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ کیا ؟ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔ کہیے الحمد للہ مگر ان کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی کھیل اور دل کے بہلاوے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اصل گھر تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ لوگ جان جائیں

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین سے ایک اور سوال اور دنیا کی حیثیت۔ اے پیغمبر ﷺ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے کون بارش برساتا ہے اور اس بارش کے ساتھ مردہ زمین کو کون زندگی عطا کرتا ہے ؟ لا محالہ ان کا جواب ہوگا کہ بارش برسانے والا اور اس کے ساتھ نباتات اگانے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ انہیں فرمائیں کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت ماننے کے لیے تیار نہیں جس دنیا کی خاطر یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی یقیناً آخرت کا گھر ہمیشہ کے لیے ہے۔ کاش لوگ یہ حقیقت پاجائیں۔ کفار کے اعتراف کے جواب میں اس لیے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ توحید کا عقیدہ ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہے جس کا انکار کرنا پرلے درجے کے مشرک کے لیے بھی ممکن نہیں لیکن اس کے لیے عقل سے کام لینا ضروری ہے جو شخص اپنے ضمیر سے کام لے اور تعصب سے بچے وہ توحید کا اقرار اور شرک سے اجتناب کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جہاں تک شرک کا تعلق ہے اس کی بنیاد کے بارے میں غور کیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس کے پیچھے جلد بازی دنیوی مفاد اور بےعقلی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کھیل تماشا کے سوا کچھ نہیں۔ جس طرح کھیل تماشا سے وقتی اور عارضی طور پر لطف اٹھایا جاتا ہے اسی طرح ہی دنیا کا معاملہ ہے جس کی نعمتیں ناپائیدار اور ان کا لطف عارضی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ نَامَ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَلَی حَصِیرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِی جَنْبِہِ فَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَکَ وِطَاءً فَقَالَ مَا لِی وَمَا للدُّنْیَا مَا أَنَا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا)[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی أَخْذِ الْمَال ]ِ ” حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک چٹائی پر سوئے تو آپ کے پہلو پر نشان پڑگئے۔ ہم نے عرض کی اللہ کے رسول ! آپ اجازت دیں تو ہم آپ کے لیے اچھا سا بستر تیار کردیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ ایک مسافر جیسا تعلق ہے جو کسی درخت کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر آگے چل دیتا ہے۔ “ (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِبَعْضِ جَسَدِی فَقَالَ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَھْلِ القُبُوْرِ ) [ رواہ البخاری : باب قول النبی ﷺ کُنْ فِی الدُّنْیَا۔۔] حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑکر فرمایا۔ دنیا میں اجنبی یا مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو اہل قبور میں شمار کرو۔ مسائل 1۔ اللہ ہی آسمان سے بارش برساتا اور اس کے ساتھ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ 2۔ مشرک توحید کے دلائل کا اقرار کرنے کے باوجود عقل سے کام نہیں لیتا۔ 3۔ موحد کو عقیدہ توحید سمجھنے اور اپنانے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 4۔ آخرت کے مقابلہ میں پوری کی پوری دنیا عارضی اور تھوڑی ہے۔ تفسیر بالقرآن لوگوں کی اکثریت کا حال : 1۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت شکر گزار نہیں ہوتی۔ (البقرۃ : 243) 2۔ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو نہیں مانتی۔ (الاعراف : 187) 3۔ قرآن آپ کے رب کی طرف سے حق ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں مانتی۔ (ھود : 17) 4۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ (سبا : 13) 5۔ اگر آپ ﷺ اکثریت کے پیچھے چلیں گے تو یہ آپ کو گمراہ کردیں گے۔ ( البقرۃ : 145)
Ayahs 29:65–66

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

جب کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس سے مانگتے ہیں۔ جب اللہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک شرک کرنے لگتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کی ناشکری کریں اور مزے لوٹیں۔ عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کا مشکل وقت پر ” اللہ “ کی ذات کا اقرار کرنا، اور صرف اسے پکارنا۔ موحّد اور مشرک کے عقیدہ کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ موحّد ہر حال میں ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے اور مشرک صرف مصیبت کے وقت ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے یہی حال مشرکین مکہ کا تھا وہ عام حالات میں صرف ایک ” اللہ “ کو پکارنے کی بجائے دوسروں کو بھی شامل کرتے اور انہیں پکارتے تھے، حالانکہ قرآن مجید نے بار بار اس بات سے منع کیا ہے کہ نہ ” اللہ “ کے سوا کسی کو پکارا جائے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو پکارا جائے، لیکن نہ مکہ کے مشرک اس بات سے رکتے تھے اور نہ آج کے مشرک اس سے باز آتے ہیں، حالانکہ ہر دور میں مشرک کی یہ حالت رہی ہے اور رہے گی کہ بڑی مصیبت کے وقت سب کو بھول کر صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں۔ یہی مکہ والے کرتے تھے۔ جب کشتی بھنور میں پھنس جاتی تو صرف ایک ” اللہ “ کو پکارتے جب کشتی بھنور سے نکل جاتی تو کہتے کشتی فلاں بزرگ یا بت کی مدد سے بھنور سے نکلی ہے۔ یہاں شرک کو کفر قرار دیا اور فرمایا کہ اللہ چاہے تو کشتی کو غرقاب کر دے لیکن وہ مشرک کو اس لیے مہلت دیتا ہے تاکہ اپنے رب کی نعمتوں سے مزید فائدہ اٹھالے۔ مفسرین نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے عکرمہ بن ابوجہل کا واقعہ نقل کیا ہے۔ جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ یہ سوچ کر بھاگ نکلا کہ مجھے کسی صورت بھی معافی نہیں مل سکتی۔ جدہ کی بندرگاہ پر پہنچا اور بیڑے میں سوار ہوا۔ لیکن اللہ کی قدرت کہ جوں ہی بیڑے نے ساحل چھوڑا تو اتنے شدید بھنور میں پھنسا کہ ملّاح اور مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب نجات کی کوئی صورت باقی نہیں ہے۔ ملاّح نے مسافروں سے کہا کہ جب بیڑے کو ایسے طوفان کا واسطہ پڑتا ہے تو کسی اور کی بجائے صرف ایک اللہ کو پکارا جاتا ہے۔ اس لیے صرف ایک اللہ کے حضور فریادیں کرو۔ اس کے سوا کوئی بیڑا پار لگانے والا نہیں۔ یہ بات عکرمہ کے دل پر اثر کرگئی اور اس نے سوچا کہ یہی تو محمد ﷺ دعوت دیتا ہے اگر یہاں سے بچ نکلا تو میں حلقہ اسلام میں داخل ہوجاؤں گا چناچہ عکرمہ ؓ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے اور باقی زندگی اسلام اور رسول محترم کے ساتھ اخلاص کے ساتھ گزاری اور جنت کے وارث بنے۔ تفصیل کے لیے کسی مستند سیرت کی کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔ یہاں ” اَلدِّیْنَ “ کا معنٰی تابعداری ہے۔ یعنی پوری تابع داری کے ساتھ صرف ایک ” اللہ “ کو پکارو جس طرح تمہارے رب نے تمہیں حکم دیا ہے۔ لیکن افسوس اس تاریخی حقیقت اور قرآن مجید کے منع کرنے کے باوجود آج کا مشرک کشتی ڈوبنے کے وقت بھی صرف ایک ” اللہ “ کو پکارنے کے لیے تیار نہیں ہوتا وہ بےجھجک کہتا ہے۔ یا بہاء الحق بیڑا دھک یا پیر عبدالقادر شیأ اللہ مسائل 1۔ مشرک صرف سخت مصیبت کے وقت ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے موحد ہر حال میں ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر حال میں صرف ایک اللہ کو پکارنا چاہیے : 1۔ مشرک جب کسی مشکل میں گھر جاتے ہیں تو خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ ( یونس : 22) 2۔ لوگو ! اللہ کی خالص عبادت کرو۔ (الزمر : 3) 3۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی خالص عبادت کروں۔ (الزمر : 11) 4۔ جب مشرکین کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو ” اللہ “ کو خالصتاً پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65) 5۔ مومنو ! اللہ تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ پکارو اگرچہ کفار کے لیے یہ ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ (المومن : 14) 6۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں صرف اسی کو پکارو (المومن : 65) 7۔ ہر کسی کو یہی حکم دیا گیا کہ خالصتاً اللہ کو پکارا جائے۔ ( البینۃ : 5)
Ayahs 29:67–68

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کو پُر امن بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لیے جاتے ہیں۔ کیا پھر بھی باطل پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا۔ جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے۔ حالانکہ حق اس کے سامنے آچکا ہے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کا ضمیر جھنجھوڑنے کے بعد انہیں ایک احسان یاد کروا کر سمجھایا گیا ہے۔ مشرکین مکہ کو جو بھی مقام حاصل تھا، اس کا پہلا اور بڑا سبب بیت اللہ کی تولیت اور مکہ معظمہ کا باسی ہونا تھا، اسی وجہ سے دنیا بھر کے پھل اور اناج مکہ میں پہنچتے ہیں، اسی بنا پر لوگ مکہ والوں کا احترام کرتے اور اسی سبب سے ہی انہیں ہر طرح کا امن حاصل تھا اور ہے۔ حالانکہ اس زمانے میں حجاز کے علاقہ میں دن دہاڑے سفر کرنا انتہائی مشکل تھا۔ قافلوں کی صورت میں سفر کرنے کے باوجود لوگ حفاظتی گارڈ اپنے ساتھ رکھتے تھے، اس کے باوجود ڈاکوؤں، قذاقوں سے بچ نکلنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا، اس بدامنی اور انارگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انہیں احساس دلایا گیا کہ غور کرو ! کہ جو احترام اور امن تمہیں حاصل ہے وہ کعبہ کی بدولت اور اس کے رب کے کرم کا نتیجہ ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ تم کعبہ کے رب پر ایمان لاتے اور اس کا شکر ادا کرتے لیکن تم کعبہ کے رب کے منکر ہو اور بتوں کے بارے میں کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ہے، یاد رکھو ! جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے یا اس کی طرف سے آئے ہوئے حق کو جھٹلائے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا۔ ظالموں کے لیے سوائے جہنم کے کوئی اور ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ (عَنْ صُفَیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَخْطُبُ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ یَاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضَ فَھِیَ حَرَامٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُھَا وَلَایُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَایَاْخُذُلُقْطَتَھَا الاَّ مُنْشِدٌفَقَالَ الْعَبَّاس الاَّ الْاِذْخِرَ فَاِنَّہٗ لِلْبُیُوْتِ وَالْقُبُوْرِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلاَّ الْاِذْخِرَ ) [ رواہ ابن ماجہ : باب فَضْلِ مَکَّۃَ ] ” حضرت صفیّہ بنت شیبہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے لے کر قیامت کے دن تک مکہ کو حرمت والا بنایا ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے۔ یہاں کی گری ہوئی چیز صرف وہی اٹھا سکتا ہے جو اعلان کروانے کی غرض سے اٹھائے۔ عباس ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ اذخر بوٹی گھروں اور قبروں میں استعمال ہوتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اذخر بوٹی کاٹنے کی اجازت دے دی۔ “ ” حضرت انس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مدینہ مقام عَیْرسے ثور تک حرمت والا ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ اس میں کسی بدعتی کو جگہ دی جائے۔ جس نے کوئی بدعت رائج کی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت برستے رہے گی۔ “ [ رواہ الخاری : باب حَرَمِ الْمَدِینَۃِ ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو امن والا شہر بنایا ہے۔ 2۔ مشرک اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی بجائے غیر اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی فرد یا قوم کو امن نصیب فرمائے تو اسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 4۔ شرکیہ عقیدہ رکھنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ 5۔ مشرک سب سے بڑا ظالم ہوتا ہے اور ظالموں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ تفسیر بالقرآن بیت اللہ اور مکہ کی عظمت : 1۔ بیت اللہ دنیا میں پہلا گھر ہے جو بابرکت اور ہدایت کا مرکز ہے۔ (آل عمران : 96) 2۔ بیت اللہ امن کا گہوارہ ہے۔ (البقرۃ : 125) 3۔ بیت اللہ کے باسیوں سے محبت کی جاتی ہے (القریش : 1) 4۔ بیت اللہ کے طواف کا حکم۔ (الحج : 29) 5۔ قسم ہے اس امن والے شہر کی۔ (التین : 3) 6۔ لوگ پیدل، سوار اور دور سے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ (الحج : 27)
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے لیے محنت کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیک لوگوں کے ساتھ ہے

فہم القرآن ربط کلام : شرک اور ظلم جتنا بھی بڑھ جائے حق کے متلاشی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حق پا ہی لیا کرتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ اخلاق کے ساتھ کوشش کریں۔ سورۃ العنکبوت کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ انہیں اس راستے میں کوئی آزمائش نہیں آئے گی، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایمان داروں کو بھی آزمایا تھا، اور تمہیں بھی آزمائے گا تاکہ حق والے اور باطل پرست آپس میں ممتاز ہوجائیں۔ سورة کا اختتام اس بات سے کیا جاتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اگر کوئی حق کی جستجو اور آزمائشوں کا مقابلہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کے راستے ہموار کر دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کی دستگیری کرتا ہے۔ ” سبیل “ کی جمع ” سُبُلٌ“ اور اس کے ساتھ جمع کی ضمیر استعمال فرمائی ہے جمع کی ضمیر میں رعب اور دبدبہ پایا جاتا ہے۔” سُبُلٌ“ کے ساتھ جمع کی ضمیر لا کر یقین دلایا ہے کہ انسان کا کام خلوص نیت کے ساتھ کوشش کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایسے شخص کے لیے حق تک پہنچنا آسان کر دے گا اور اپنے راستوں میں کوئی نہ کوئی راستہ ضرورنکال دے گا۔ احسان کا معنٰی پورے خلوص کے ساتھ نیکی کرنا اور برائی کے بدلے حسن سلوک کرنا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کوشش کرنے والوں کے لیے حق کا راستہ ہموار کردیتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 2۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبۃ : 36) 3۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ (النساء : 146) 4۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128) 5۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بیشک اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 194)