30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

Ayah 30:1

الٓمّٓۚ Open ayah 30:1 in the Quran reader

الف لام میم

Ayahs 30:2–5

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

رومی مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

وہ مغلوب ہونے کے بعد چند سالوں میں غالب ہوجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

اللہ کا ہی اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن اللہ کی دی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

اللہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہ زبردست اور رحم کرنے والا ہے

فہم القرآن سورۃ العنکبوت کے آخر میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے راستے ہموار کردیتا ہے جو دنیا کے لیے کوشش کرے گا وہ اپنا مقدر پالے گا۔ اگر آخرت کے لیے کوشاں ہوگا تو آخرت میں اپنا حصہ پائے گا۔ اب اس کا ایک حوالہ دے کر مسلمانوں کو روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ دنیا میں ” اللہ “ کی مدد کی ایک عظیم مثال ملاحظہ فرمائیں کہ ایک وقت تھا کہ جب ایرانیوں کے مقابلے میں رومی شکست فاش سے دوچار ہوئے اور مسلمان کفار کے ہاتھوں مار کھا رہے تھے، ان نازک ترین اور ناقابل یقین حالات میں اعلان ہوتا ہے کہ عنقریب رومی غالب ہونگے۔ شکست میں بھی ” اللہ “ کا حکم کار فرما تھا اور فتح بھی ” اللہ “ کے حکم سے ہوگی ” اللہ “ کی مدد سے اس دن مومن خوش ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے کیونکہ وہ ہر اعتبار سے غالب اور مہربان ہے۔ وہ جس کو زیر کرنا چاہے وہ دم نہیں مار سکتا جس پر رحم کرنا چاہے وہ زیر نہیں ہوسکتا وہی کامیابی اور شکست دینے پر اختیار رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی نبوت سے آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ روم میں محلاتی سازشوں کی وجہ سے ایک خونی انقلاب برپا ہوا۔ جس میں روم کے بادشاہ مارلیس اور اس کے خاندان کو قتل کردیا گیا۔ اس کے بعد فوک اس نامی سردار سلطنت روم پر قابض ہوا، حالات کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز نے روم پر حملہ کیا اور یہ جواز بنایا کہ روم کا بادشاہ ماریس میرا محسن تھا، کیونکہ ایران میں اقتدار سنبھالنے کے لیے اس نے خسرو پرویز کی مدد کی تھی۔ اس بات کو بہانہ بناتے ہوئے خسرو نے مسلسل پیش قدمی کر کے روم کا بیشتر علاقہ اپنے قبضہ میں لے لیا یہاں تک کہ روم کے بادشاہ کو اپنی جان بچانی بھی مشکل ہوگئی۔ دوسری طرف حجاز کے مرکز مکہ معظمہ میں عقیدہ توحید کی بنیاد پر زبردست کشمکش برپا تھی۔ اس اثناء میں مسلمانوں کو مجبور کردیا گیا کہ وہ مکہ سے نکل جائیں۔ حالات کی مجبوری کی وجہ سے کچھ مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی جو روم کے زیر اثر عیسائی حکومت تھی۔ اس عالمی کشمکش میں قرآن اعلان کرتا ہے کہ ٹھیک دس سال میں ایرانیوں پر رومی غالب آئیں گے اور اس دن مسلمانوں کو بھی خوشی نصیب ہوگی۔ یاد رہے کہ ” بِضْعَ سِنِیْنَ “ کا ہندسہ ایک سے دس تک بولا جاتا ہے۔ اس دور کے تجزیہ نگار اور سیاست دان خاص کر اہل مکہ اس اعلان کو دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے، لیکن وہی ہوا جو قرآن مجید نے اعلان کیا تھا۔ صورت حال یہ تھی کہ مسلمانوں کی ہمدردیاں ایران کے مقابلے میں رومیوں کے ساتھ تھیں کیونکہ رومی اہل کتاب تھے گو ان کی مذہبی حالت بگڑ چکی تھی۔ اس کے باوجود عیسائی اپنے آپ کو توحید کے دعوے دار اور آخرت پر ایمان لانے والے سمجھتے تھے، ان کے مقابلے میں ایرانیوں نے یزدان اور ہر من کے نام پر دو خدا بنا رکھے تھے۔ وہ ان کی عبادت کرتے تھے اس کے ساتھ ایرانیوں کی غالب اکثریت آگ کی پوجا بھی کرتی تھی۔ اسی بنا پر مشرکین کی ہمدردیاں خسرو پرویز کے ساتھ تھیں اور مسلمانوں کے جذبات رومیوں کے ساتھ تھے۔ رومیوں کو شکست ہوئی تو مکہ والوں نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ اسی طرح تم بھی ہمارے مقابلے میں ناکام ہوجاؤ گے۔ ان حالات میں سورة روم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں دو ٹوک انداز میں مسلمانوں کو خوشخبری دی گئی کہ بیشک تمہارے قریب اور ابھی، ابھی رومی شکست کھا گئے ہیں۔ لیکن ٹھیک دس سال میں یہ ایرانیوں پر فتحیاب ہوں گے اور اس سے مسلمان خوش ہوجائیں گے، اس کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اللہ کی مدد حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس خوشخبری کا کفار کی ایک مجلس میں ذکر کیا جس کا کفار نے خوب مذاق اڑایا، سیدنا ابوبکر ؓ کی تکرار ابی بن خلف سے ہوئی تو بات اس نقطہ پر پہنچی کہ اگر رومی غالب ہوئے تو ابی بن خلف دس اونٹ ابوبکر صدیق کے حوالے کرے گا اگر ایرانیوں نے فتح پائی تو دس اونٹ ابوبکر صدیق ؓ ابی بن خلف کو دیں گے۔ اس گفتگو کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آکر اپنی شرط کی تفصیل بتائی۔ (أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ فِی مُنَاحَبَۃٍ (الم غُلِبَتِ الرُّومُ ) أَلاَّ اِحْتَطْتَ یَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّ الْبِضْعَ مَا بَیْنَ الثَّلاَثِ إِلَی التِّسْعِ )[ رواہ الترمذی : باب و من سورة الروم ] آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” بِضْعِ “ کا لفظ ایک سے دس تک کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ابی کے پاس جا کر تین سال کی بجائے دس سال کی شرط لگائیں۔ ابوبکر صدیق ؓ نے اس طرح ہی کیا لیکن اس مرتبہ دس اونٹوں کی بجائے سو اونٹ قرار پائے۔ یاد رہے کہ بعدازاں شریعت میں اس طرح کی شرط لگانے سے منع کردیا گیا ہے۔ (النَّبِیّ ﷺ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَاب اللَّہِ کُلُّ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَاب اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَان ماءَۃَ شَرْطٍ کِتَاب اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ وَالْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ )[ رواہ البخاری : باب المکاتب ] نبی ﷺ نے لوگوں میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ کہ وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں اور ہر ایسی شرط ناجائز ہے۔ جس کا کتاب اللہ میں وجود نہ ہو اگرچہ ایسی سو شرائط ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کی کتاب برحق ہے اور اللہ کی شرائط مستقل ہیں ولاء کا حق دار وہی ہے جو غلام کو آزاد کرائے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید کی پیشین گوئی کے مطابق رومی ٹھیک 9 سال کے اندر ایرانیوں پر فتح یاب ہوئے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے رومیوں کی فتح کے ساتھ ہی مسلمانوں کو بدر کے مقام پر زبردست فتح عطا فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی مدد سے کمزور بھی فتح پاتے ہیں : 1۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (آل عمران : 123) 2۔ غار ثور میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور ابوبکر ؓ کی مدد فرمائی۔ (التوبۃ : 40) 3۔ اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل : مکمل) 4۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص : 5) 5۔ ” اللہ “ کی مدد سے قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر غالب آئیں۔ ( البقرۃ : 249)
Ayahs 30:6–7

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ کا اعلان ہے کہ، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

لوگ دنیا کی زندگی کو ظاہری طور پر جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں

فہم القرآن ربط کلام : رومیّوں کا غالب آنا اور مسلمانوں کا کامیاب ہونا یقینی بات ہے کیونکہ یہ ” اللہ “ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ وعدہ سے مراد ایک تو یہ وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے مکہ معظمہ میں مسلمانوں سے فرمایا کہ رومی غالب اور فارسی مغلوب ہوں گے جس سے مسلمانوں کو خوشی ہوگی۔ رومیوں کا فتح یاب ہونا اور مسلمانوں کا مشرکین پر غالب آنا بظاہر اس قدر ناممکن تھا کہ اس پر یقین کرنا مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے مسلمانوں کے ساتھ ” وَعَدَہٗ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تاکہ کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو یقین اور اطمینان ہوجائے کہ اب مشکلات کا آسانیوں میں تبدیل ہونا یقینی ہوچکا ہے۔ رومیوں اور مسلمانوں کے حالات اس قدر ناگفتہ بہ تھے کہ لوگوں کو یقین آنا مشکل تھا اس لیے ارشاد فرمایا کہ اکثر لوگ اپنے محدود علم کی وجہ سے حقائق کو نہیں سمجھتے اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کے ظاہری اسباب پر یقین رکھتے ہیں اور ان سے مرعوب ہوتے یا ان پر فریفتہ ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ آخرت سے لاپرواہ ہوتے ہیں۔ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ ظاہری اسباب پر توجہ رکھتا ہے اور اسی کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرتا ہے اس وجہ سے وہ سینکڑوں حقائق سے تغافل اختیار کرتا ہے۔ لیکن عقل مند شخص وہ ہے جو دنیا میں رہ کر آخرت اور حقائق پر نظر رکھے۔ ” وَعَدَہٗ “ سے مراد آخرت کا وعدہ بھی ہے۔ تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ دنیا کی کامیابی اور ناکامی ایک عارضی چیز ہے اصل تو آخرت ہے۔ جس کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی ہے جو وہاں ناکام ہوا وہ ہمیشہ کے لیے ناکام اور نقصان پائے گا۔ وہاں فاتح اور مفتوح، ظالم اور مظلوم، نیک اور بد کا حساب ہوگا۔ اس سے غافل رہنے کی بجائے ہر انسان کو اس کی تیاری کرنی چاہیے۔ (عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا وَتَمَنَّی عَلَی اللَّہِ قَالَ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ) [ رواہ الترمذی : باب الکیس من دان نفسہ ] ” حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا دانا وہ ہے جس نے اپنے آپ کو عقل مند بنالیا اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کیے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو خواہشات کے پیچھے لگا لیا اور پھر بھی اللہ تعالیٰ سے امید رکھے ہوئے ہے۔ “ رومیوں کی کامیابی اور بدر میں مسلمانوں کی عظیم فتح مستند سیرت نگار اور مؤرخین نے لکھا ہے کہ 624 ؁ء کو جس دن بدر میں مسلمان فتح یاب ہوئے اسی دن یا اسی سال رومیوں نے فارس پر غلبہ حاصل کیا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ 2۔ انسان دنیا کی زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر آخرت کی جوابدہی سے تغافل کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا فرمان اور وعدہ سچا ہوتا ہے : 1۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ حاکموں کا حاکم ہے۔ (ھود : 45) 2۔ اللہ کا فرمان سچ ہے۔ (الاحزاب : 4) 3۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (القصص : 13) 4۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ (الروم : 6) 5۔ اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے بات کرنے میں کون زیادہ سچا ہوسکتا ہے ؟ (النساء : 122) 6۔ خبردار اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یونس : 55) 7۔ صبر کرو اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (الروم : 60) 8۔ قیامت کے دن شیطان کہے گا یقیناً اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا (ابراہیم : 22) 9۔ وہ کہیں گے پاک ہے ہمارا رب یقیناً اس کا وعدہ پورا ہوا۔ (بنی اسرائیل : 108) 10۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھو کے میں نہ ڈال دے۔ (لقمان : 33) 11۔ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں مبتلانہ کرے۔ (فاطر : 5) 12۔ اللہ نے تمہارے ساتھ اپناوعدہ سچا کر دکھایاجب تم کفار کو اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے۔ (آل عمراٰن : 152)
Ayahs 30:8–10

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے آپ پر غور نہیں کیا اور یہ نہیں سوچا کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں با مقصد اور ایک مقرر مدّت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے انکاری ہیں

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آئے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، انہوں نے زمین کو خوب آباد کیا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا تھا۔ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا مگر وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں پھر ان کا انجام بہت برا ہوا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی غفلت کا ایک سبب اسے دنیا میں ملنے والی مہلت ہے جس کی طرف انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اسے اپنے انجام کا خیال رکھنا چاہیے۔ انسان دنیا کی سہولیات اور زیب وزینت پر فریفتہ ہو کر آخرت کے احتساب کو بھول جاتا ہے۔ خاص طور پر کافر اور مشرک کی جب دنیا میں گرفت نہیں ہوتی تو وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ شائد مرنے کے بعد بھی مجھے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو بالخصوص ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! اپنے آپ اور زمین آسمان اور جو کچھ ان میں موجود ہے اس پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح اور کیونکر پیدا کیا ہے۔ اس نے کوئی چیز بھی بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ ہر چیز کے پیدا کرنے کا ایک مقصد ہے اور وہ اپنے مقصد کو پورا کر رہی ہے۔ اس نے ہر چیز کی بقاء اور فنا کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اس میں انسان بھی شامل ہے۔ انسان کو پیدا کرنے کا مقصد زمین میں خلافت کی ذمہ داری پوری کرنا اور اپنے رب کی بندگی کرنا ہے۔ جس کی تشریح نزول آدم کے وقت کردی گئی تھی کہ اے آدم زمین پر اترجاؤ۔ ایک مدّت تک تمہارا وہاں رہنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔ یاد رکھو کہ اپنے رب کی راہنمائی کے مطابق زندگی گزارو گے کہ تو دنیا اور آخرت میں اجر پاؤ گے اگر نافرمانی کا راستہ اختیار کرو گے تو سزا سے دوچار ہو گے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے انسان کو ایک مہلت دی گئی ہے مگر اس کے باوجود انسان اپنے خالق کو بھول جاتا ہے ایسے انسانوں کی ہر دور میں اکثریت رہی ہے، جن میں مکہ کے مشرک سرفہرست تھے، اس لیے انہیں براہ راست کہا گیا کہ کیا انہوں نے دنیا کی تاریخ پر غور نہیں کیا ؟ کہ ان سے پہلے کتنے لوگ گزر چکے ہیں جو طاقت اور عمر کے حوالے سے ان سے بڑھ کر تھے اور انہوں نے ان سے زیادہ زمین پر ترقی کی اور اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان کے پاس واضح دلائل اور کھلے معجزات کے ساتھ رسول بھیجے گئے لیکن انہوں نے اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا اور انبیاء کی اطاعت کرنے کی بجائے ظلم اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کردیا۔ کیونکہ یہ لوگ خود ہی اپنے آپ ظلم کرنے والے تھے، ظلم سے مراد شرک ہے اور آپس کے مظالم بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، انہوں نے ” اللہ “ کی آیات کو جھٹلایا اور مذاق کیا جس کے نتیجہ میں برا انجام پایا۔ ان کی غفلت کا بنیادی سبب دنیا کے وسائل پر اترانا اور آخرت کی جوابدہی کو بھول جانا تھا۔ ظلم کا انجام : (أَنَّ زِیَاداً مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ حَدَّثَہُمْ عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُول اللَّہِ ﷺ جَلَسَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّ لِی مَمْلُوکِیْنِ یُکَذِّبُونَنِی وَیَخُونُونَنِی وَیَعْصُونَنِی وَأَضْرِبُہُمْ وَأَسُبُّہُمْ فَکَیْفَ أَنَا مِنْہُمْ فَقَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ ﷺ بِحَسْبِ مَا خَانُوکَ وَعَصَوْکَ وَیُکَذِّبُونَکَ فإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ دُونَ ذُنُوبِہِمْ کَانَ فَضْلاً لَکَ عَلَیْہِمْ وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِہِمْ کَانَ کَفَافاً لاَ لَکَ وَلاَ عَلَیْکَ وَإِنْ کَانَ عِقَابُکَ إِیَّاہُمْ فَوْقَ ذُنُوبِہِمُ اُقْتُصَّ لَہُمْ مِنْکَ الْفَضْلُ الَّذِی بَقِیَ قِبَلَکَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَبْکِی بَیْنَ یَدَیْ رَسُول اللَّہِ ﷺ وَیَہْتِفُ فَقَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ مَا لَہُ مَا یَقْرَأُ کِتَاب اللَّہِ (وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئاً وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفَی بِنَا حَاسِبِینَ ) فَقَال الرَّجُلُ یَا رَسُول اللَّہِ مَا أَجِدُ شَیْئاً خَیْراً مِنْ فِرَاقِ ہَؤُلاَءِ یَعْنِی عَبِیدَہُ إِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّہُمْ أَحْرَارٌ کُلُّہُمْ )[ رواہ احمد : مسند السیدۃ عائشۃ ] ” عبداللہ ؓ بن عیاش بن ابی ربیعہ کے غلام زیاد نے انہیں حدیث بیان کی اس آدمی سے جس نے اسے نبی ﷺ سے بیان کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی آپ کے سامنے عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے دو غلام ہیں جو میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں میں انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں میرا یہ معاملہ کیسا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس قدر تیری خیانت، تیری نافرمانی اور تیرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اگر تیری ڈانٹ ڈپٹ ان کے غلطیوں سے کم ہوئی تو تجھے اجر عطا کیا جائے گا اور اگر برابرہوئی تو معاملہ یکساں ہے اور اگر ڈانٹ ان کی خطاؤں سے زیادہ ہوئی تو تیری نیکیوں میں کمی کی جائے گی یہ سن کر وہ شخص آپ ﷺ کے سامنے روتے ہوئے آہ وزاری کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھتا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن ہم عدل و انصاف کا ترازو قائم کریں گے اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا اگر نیکی اور برائی ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ہوئی ہم اسے بھی لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب لینے والے۔ وہ آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اس سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا کہ غلاموں کو آزاد کر دوں اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے انہیں آزاد کردیا۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ فِی بَعْضِ صَلاَتِہِ اللَّہُمَّ حَاسِبْنِی حِسَاباً یَسِیرًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الْحِسَابُ الْیَسِیرُ قَالَ أَنْ یَنْظُرَ فِی کِتَابِہِ فَیَتَجَاوَزَ عَنْہُ إِنَّہُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ یَوْمَءِذٍ یَا عَاءِشَۃُ ہَلَکَ وَکُلُّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ یُکَفِّرُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ عَنْہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ تَشُوکُہُ ) [ روہ احمد : مسند عائشہ صدیقہ ؓ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی ﷺ کو بعض نمازوں میں یہ الفاظ پڑہتے ہوئے سنا آپ فرماتے اے بار الٰہا ! میرا حساب و کتاب آسان فرماناجب آپ نماز سے فارٖغ ہوئے تو میں نے عرض کی اللہ کے پیغمبر حساب یسیر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ انسان کے نامہ اعمال کی طرف دیکھ کر اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس دن جس سے حساب و کتاب میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ ہلاک ہوگیا اور ہر وہ تکلیف جو مومن کو پہنچتی ہے اللہ عزوجل اس کے عوض اس کے گناہ مٹا دیتا ہے حتٰی کہ کانٹا چبھنے سے بھی گناہ مٹ جاتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں کوئی چیز بےمقصد پیدا نہیں کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک وقت تک مہلت دی ہے جس سے غلط فائدہ اٹھا کر انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔ 3۔ اللہ کے نافرمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ ان سے پہلے کتنے ترقی یافتہ اور طاقت ور لوگ تباہ کر دئیے گئے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ 5۔ برے لوگوں کا انجام برا ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا میں نافرمان طاقتور لوگوں کا انجام : 1۔ دیکھیں فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الاعراف : 103) 2۔ دیکھیں ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ (یونس : 39) 3۔ زمین میں چل کر دیکھیں مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔ (النمل : 69) 4۔ آپ ﷺ دیکھیں جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ (الزخرف : 25) 5۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ نے ان سے پہلے بستیوں کو ہلاک کیا جو طاقت، قوت اور مال کے لحاظ سے مکہ والوں سے بڑھ کر تھے۔ (القصص : 78) 6۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : 37) 7۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5) 8۔ جب قوم لوط پر ہمارا عذاب آیا تو ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹا کر پتھروں کی بارش کی۔ (ھود : 82) 9۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : 136) 10۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
Ayah 30:11

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اللہ ہی مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لٹائے جاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی نافرمانی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو یوں ہی پیدا کیا ہے اس لیے مرنے کے بعد ہم نے دوبارہ پیدا نہیں ہونا، یہاں ان کے باطل عقیدہ کا جواب دیا گیا ہے۔ جس ” اللہ “ نے انسان کو پہلے سے تیار شدہ نمونے کے بغیر پیدا کیا ہے دوسری مرتبہ اسے پیدا کرنا اس کے لیے کیسے مشکل ہوگا ؟ ہر انسان کو نہ صرف دوبارہ پیدا کیا جائے گا بلکہ سب نے اپنے رب کی بارگاہ میں پیش بھی ہونا ہے۔ جب یہ دن قائم ہوگا تو اس دن مجرم ہ کے بکے رہ جائیں گے، نہ صرف ہ کے بکے ہوں گے بلکہ ہر طرف سے مایوس ہوں گے۔ پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کا تیسرا بڑا عنوان قیام قیامت اور اس میں حساب و کتاب کا مسئلہ ہے، جس کا منکرین قیامت بلا دلیل انکار کرتے ہیں، قرآن مجید قیامت برپا ہونے کے مختلف دلائل دیتا ہے یہاں انسان کی اپنی تخلیق کا حوالہ دیتے ہوئے قیامت قائم ہونے کا ثبوت دیا ہے کہ اے انسان اپنی طرف دیکھ اور اس پر غور کر جس رب نے تجھے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے کیا اس کے لیے تجھے دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے ؟ کیوں نہیں نہ صرف وہ تجھے دوبارہ پیدا کرے گا بلکہ تم نے اس کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا اور نیکی کی جزا اور برائی کی سزا پانا ہے۔ تفسیر بالقرآن جس رب نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا : 1۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنے والا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا ” اللہ “ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64) 2۔ آپ ﷺ فرما دیں اللہ ہی نے مخلوق کی ابتداء کی اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (یونس : 34) 3۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11) 4۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا وہی پیدا کرے گا۔ (بنی اسرائیل : 51) 5۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55)
Ayahs 30:12–13

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی تو اس دن مجرم ہ کے بکے رہ جائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

ان کے بنائے ہوئے شریکوں میں سے نہ صرف کوئی ان کا سفارشی ہوگا بلکہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے شریکوں کا انکار کریں گے

فہم القرآن ربط کلام : کفار جس دن کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے حضور پیش کرے گا اور اس دن مشرکین کی یہ حالت ہوگی۔ قیامت کے بارے میں مشرک اس لیے لاپرواہی کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں رب تعالیٰ کا مقرب سمجھ کر پوجتا ہوں اور ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتا ہوں۔ وہ قیامت کے دن مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے کیونکہ یہ اس کے پیارے اور مقرب ہیں اسے لیے ان کی سفارش مسترد نہیں ہوگی۔ حالانکہ اس دن صورت حال اس قدر ہولناک ہوگی کہ جو لوگ دنیا میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ مرشد کے بغیر قیامت کے دن نجات نہ ہوگی اور مرید ہمارے جھنڈے تلے ہوں گے۔ جوں ہی اپنے مریدوں کو دیکھیں گے تو وہ ان سے برأت کا اعلان کردیں گے۔ مرید اپنے پیروں سے کہیں گے کہ تم تو ہماری بخشش کے دعوے کیا کرتے تھے اور تمہی نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ جواب میں پیر کہیں گے کہ ہم نے تمہیں گمراہ نہیں کیا تم تو خود ہی گمراہی کو پسند کرتے تھے۔ لہٰذا آج ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ جونہی مرید اپنے پیروں، ور کر اپنے لیڈروں اور عابد اپنے معبودوں سے مایوس ہوں گے تو وہ بھی ان سے کہیں گے ہم بھی تمہیں بڑا نہیں مانتے لیکن اس وقت کسی کو انکار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔ تفسیر بالقرآن معبودوں کا اپنی عبادت سے انکار کرنا : 1۔ قیامت کے دن معبود اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (یونس : 28) 2۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے مگر معبود انکار کردیں گے۔ (النحل : 86) 3۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودوں کو دیکھ کر کہیں گے ہمیں یہ گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : 63) 4۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166) 5۔ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے معبودوں کو پکارو لیکن ان کے معبود ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ ( الکہف : 52)
Ayahs 30:14–16

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگ الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں انہیں جنت میں خوش وخرم رکھا جائے گا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن نہ صرف عابد اپنے معبودوں کی عبادت کے انکاری ہوں گے بلکہ وہ ان سے اپنا دامن بھی بچالیں گے۔ قیامت کے دن عابد اپنے معبودوں سے الگ ہوجائیں گے۔ ان الفاظ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ دونوں کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے۔ 1 مشرک دنیا میں اپنے معبودوں کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر تعظیم کرتے ہیں۔ اس تعظیم میں ان کے سامنے مؤدّب ہو کر کھڑے ہونا، ہاتھ جوڑنا جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرونیاز پیش کرنا شامل ہے یہی تو عبادت ہے۔ جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ مگر اکثر مشرک اسے بزرگوں کی تعظیم کے طور پر اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے لیے کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے اس سے باربار منع کیا اور اسے شرک قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود مشرک جن کو ” اللہ “ کے سوا وسیلہ بناتے ہیں زندگی بھر ان کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ طالب اور مطلوب، ساجد اور مسجود کو الگ الگ کردیا جائے گا اور کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔ 2 مجرموں کو ان کے گناہوں اور جرائم کے اعتبار سے الگ الگ کردیا جائے گا۔ جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ انہیں جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔ وہ وہاں ہر طرح خوش و خرم ہوں گے۔ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ جل جلالہ کے ارشادات کی تکذیب کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُہُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا واللَّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ )[ الانعام : 23] ” پھر ان کا فریب اس کے سواکچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم ! اے ہمارے رب ! ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔ “ مسائل 1۔ کافر اور مشرک کی کوئی بھی سفارش نہیں کر پائے گا۔ 2۔ قیامت کی ہولناکیاں دیکھ کر مشرک اپنے معبودوں کا انکار کریں گے۔ 3۔ قیامت کے دن مجرموں سے مومنوں کو ممتاز کیا جائے گا اور مجرموں کی درجہ بندی کی جائے گی۔ 4۔ خالص عقیدہ رکھنے اور نیک اعمال کرنے والے خراماں خراماں جنت میں داخل ہوں گے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والے جہنم میں ذلیل و خوار ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کے انعامات : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 5۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کریں گے۔ ( الزمر : 89) 5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31) جہنمیوں کی سزائیں : 1۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : 49) 2۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقۃ : 30۔ 31) 3۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ (المعارج : 44) 4۔ قیامت کے دن مجرموں کے ابرو پاؤں کے انگوٹھے کے بالوں سے باندھ دیے جائیں گے۔ (الرحمن : 41) 5۔ بیشک مجرم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : 74)
Ayahs 30:17–18

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس اللہ کی تسبیح کرو جب شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے حمد ہے اور تیسرے پہر اور جب تم پر ظہر کا وقت آتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کا مؤثر ترین ذریعہ ” رب “ کے حضور نماز پڑھنا اور اس کا ثنا خواں رہنا ہے۔ کفار ” اللہ “ کی ذات کے منکر اور اس کے احکام اور ملاقات کو قولاً اور فعلاً جھٹلانے والے ہیں۔ جس وجہ سے جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ جہنم سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ پر سچا ایمان لایا جائے اور اس کے احکام کی تعمیل کی جائے جس کا عملی مظاہرہ یہ ہے کہ آدمی صبح، شام، سہ پہر اور ظہر کے وقت اپنے رب کو یاد کرے یہ اس لیے بھی لازم ہے کہ زمین کا ذرّہ ذرّہ اور آسمانوں کا چپہ چپہ اپنے رب کی حمد بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ گویا کہ انسان کے گردوپیش اور اوپر نیچے کا ماحول اپنے رب کا ثناخواں ہے۔ جس سے یہ بات لازم ہوجاتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اوقات میں اسے یاد کرے۔ اس لیے پنجگانہ نماز فرض قرار پائی جو اللہ تعالیٰ کی یاد کا بہترین ذریعہ اور طریقہ ہے۔ ظاہر ہے یہ کام وہی شخص کرے گا جو اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان، اس کے احکام کی تعمیل اور قیامت کے دن کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے، قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نماز کے لیے ” اَقِیْمُوْا “ کا لفظ آیا ہے سورة کوثر میں ” فَصَلِّ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا صاف معنٰی ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کو یاد کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، جاہل صوفی اور حدیث رسول کے منکر یہ کہہ کر نماز کا انکار کرتے ہیں کہ اصل چیز اللہ کو یاد کرنا ہے اگر مسنون طریقہ کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حالانکہ تمام صحابہ کرام ؓ نے صبح وشام، ظہر اور عصر کے وقت تسبیح پڑھنے سے مراد فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز لی ہے۔ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں رسول اکرم ﷺ نے نماز کے اوقات مقرر فرمائے ہیں۔ ” حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول محترم ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ہمارے ساتھ دو دن نمازیں ادا کرو۔ پہلے دن جب سورج ڈھلا ہی تھا تو بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اس کے بعد اقامت ظہر ہوئی پھر بلال ؓ کو نماز عصر کی اقامت کا حکم فرمایا جبکہ سورج کافی بلند اور دھوپ تیز تھی پھر سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز کھڑی فرمائی ابھی سورج کی سرخی ختم ہونے ہی پائی تھی تو عشاء کی نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا۔ پھر صبح کی نماز کا حکم دیاجب کہ فجرا بھی نمودار ہوئی تھی۔ جب دوسرا دن ہوا تو بلال ؓ کو نماز ظہر ٹھنڈی کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس نے خوب ٹھنڈے وقت میں اذان کہی۔ نماز عصر تاخیر سے ادا فرمائی لیکن سورج ابھی بلندی پر تھا۔ نماز مغرب سورج کی روشنی کے آثار ختم ہونے سے پہلے ادا کی۔ جب رات کا تیسرا حصہ گزر گیا تو نماز عشا ادا کی گئی، نماز فجر اس وقت ادا کی جب صبح کی روشنی خوب پھیل چکی تھی۔ اب ارشاد ہوا کہ نمازوں کے اوقات پوچھنے والا کہاں ہے ؟ وہ عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول میں حاضر ہوں۔ فرمایا تمہاری نمازوں کے وقت ان اوقات کے درمیان ہیں۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلٰوۃ ] تسبیح کی فضیلت : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ ، خَفِیْفَتَانِ عَلَیْ اللِّسَانِِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِیْ الْمِیْزَانِ سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن کے لحاظ سے بھاری ہیں۔ مسائل 1۔ نماز ” اللہ “ کی تسبیح کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ 2۔ زمین وآسماں اور ہر چیز اپنے رب کی حمد بیان کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن میں نماز کے اوقات : 1۔ نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لیکر رات تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھا کرو۔ (بنی اسرائیل : 78) 2۔ دن کے دونوں سروں یعنی صبح شام اور رات کی ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ (ہود : 114) 3۔ اللہ کی تسبیح صبح شام بیان کرو اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو تب بھی۔ (الروم : 17۔ 18) 4۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اللہ کی تسبیح بیان کریں رات کے کچھ اوقات میں اور نماز کے بعد بھی۔ (ق : 39۔ 40) 5۔ سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کے اوقات میں اور دن کے اطراف میں تسبیح وتحمید بیان کریں۔ (طٰہٰ : 130)
Ayahs 30:19–20

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کی مردگی کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم بھی نکال لیے جاؤ گے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر تم پھیلتے چلے جا رہے ہو

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کے حضور نماز پڑھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہی زندہ سے مردہ اور مردے سے زندہ پیدا کرتا ہے اور اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور زمین میں بکھیر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد کرنا اور اس کے حضور اس لیے جھکنا ہے کیونکہ وہی زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے جس کا ایک واضح ثبوت یہ دھرتی ہے جس کا انسان پوری زندگی مشاہدہ کرتا اور اس پر بسیرہ کرتا ہے بالخصوص صحرا میں رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ جب بارش نہ ہو تو وہاں بسنے والے لوگ اس قدر مایوس ہوجاتے ہیں کہ انہیں ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔ جونہی بارشیں ہوتی ہیں تو وہی صحرا اس قدر شاداب ہوجاتا ہے کہ اس کا سہانا اور دلکش منظر دیکھنے کے لیے لوگ دوردور کے شہروں سے آکر کئی کئی روز وہاں تفریح کے طور پر قیام کرتے ہیں۔ جس طرح زمین بارش سے زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردہ زمین سے مردہ انسانوں کو زندہ کرے گا۔ اور اسی مردہ زمین سے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور اس کے بعد نسل درنسل تخلیق انسانی کا سلسلہ جاری فرمایا۔ انسان کی خوراک رہناسہنا اور مرنا جینا بھی مٹی کے ساتھ وابستہ ہے۔ انسان اپنی پیدائش پر غور کرے تو اسے علم نہیں یقین ہوجائے گا کہ اس کی اپنی پیدائش بھی مردہ سے ہوئی ہے۔ انسان اوّل یعنی آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ جو آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت بھی بےحس و حرکت یعنی مردہ تھی اور آج بھی حس و حرکت سے محروم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو عزرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ زمین سے مٹی اٹھالاؤ۔ عزرائیل (علیہ السلام) مٹی اٹھالائے تو اللہ تعالیٰ نے زمین سے انسان کا ڈھانچہ بنایا پھر اس میں روح پھونکی تو مردہ زمین سے چلنے، پھرنے، اٹھنے، بیٹھنے اور کھانے، پینے والا زندہ انسان معرض وجود میں آیا۔ اس کے بعد آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی کو پیدا کیا۔ پھر اس کی افزائش کا سلسلہ شروع فرمایا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ ہر انسان اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اس کی پیدائش پانی کی بوند سے ہوئی ہے۔ جو لاتعداد جرثوموں پر مشتمل ہوتی ہے۔ خالق کی تخلیق پر غور فرمائیں کہ اس نے اس بوند سے خون کا لوتھڑا بنایا اور پھر لوتھڑے سے انسان کا بہترین وجود بنایا اور اس کے بعد اس میں روح پھونکی اور بطن مادر میں ہی اس کے مستقبل کے معاملات طے فرما دیئے۔ انسان ہر دور میں چیزیں ایجاد کرتے اور بناتے رہے ہیں اور بناتے رہیں گے لیکن انسان پانی کے ایک قطرے کے ایک حقیر سے حصہ سے کوئی چیز ایجاد نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ بالخصوص کوئی جاندار چیز تو کبھی نہیں بنا سکے گا۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے پانی کی ایک بوند سے بہترین شکل و صورت والا انسان پیدا کیا اس لیے اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی تخلیق کے بارے میں بار، بار غور کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے کہ اس نے انسان کو مٹی سے بنایا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کی نسل چلانے اور پھیلانے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ہی قیامت کے دن لوگوں کو پیدا کرے گا۔ تفسیر بالقرآن تخلیق انسان کے مراحل : 1۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26) 2۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 3۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 4۔ حوا کو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1) 5۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : 37) 6۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20) 7۔ ” اللہ “ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے پھر تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67) 8۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11) 9۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر جسطرح چاہتا ہے پیدا کرتا۔ (الحج : 5)
Ayah 30:21

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور شفقت پیدا فرما دی۔ یقیناً اس میں اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں

فہم ال قرآن ربط کلام : تخلیق انسانی کا دارومدار میاں بیوی کے ملاپ پر ہے اس لیے اب میاں بیوی کے تعلقات کا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی تسکین اور نسل کو جاری رکھنے کے لیے اسی سے اس کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا۔ پھر مستقل طور پر میاں، بیوی کا رشتہ قائم فرمایا۔ اس رشتہ کے تین بنیادی تقاضے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ناپید ہوجائے۔ تو ازدواجی زندگی بےلطف، بےقراری اور ناہمواری کا شکار ہوجاتی ہے 1 میاں بیوی کے درمیان پُر سکون ماحول ہونا چاہیے جو باہمی اتحاد اور اعتماد کے بغیر ممکن نہیں۔ 2 اتحاد اور سکون باہمی محبت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ 3 باہمی محبت واحترام کے لیے لازم ہے کہ ایک دوسرے کیساتھ شفقت و مہربانی کا روّیہ اختیار کیا جائے جس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کی کوتاہی کو معاف کیا جانا چاہیے۔ میاں، بیوی کا رشتہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نتیجہ ہے یہ جتنا بہتر ہوگا اتنا ہی اچھا اثر اولاد کی تربیت پر پڑے گا میاں بیوی معاشرے کا بنیادی یونٹ ہیں اس یونٹ کو مضبوط اور بہتر سے بہترین ہونا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں وہ شخص بہتر ہے جو اپنے گھروالوں کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے۔ میاں، بیوی کے رشتہ میں اللہ کی قدرت ملاحظہ فرمائیں کہ کتنے جوڑے ہیں جو نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے تک نہ تھے بلکہ ان کے خاندان بھی ایک دوسرے کے واقف نہیں تھے۔ میاں، بیوی کا جوڑا صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ اس لیے محاورہ ہے کہ ” رشتے زمین پر نہیں آسمانوں پر طے ہوتے ہیں۔ “ جونہی میاں، بیوی کا رشتہ قائم ہوتا ہے دونوں خاندانوں میں بھائی چارہ اور میاں، بیوی کے درمیان اس قدر گہرا تعلق قائم ہوجاتا ہے کہ جو لڑکی والدین کے گھر سے باہر ایک رات رہنا بھی سوچ نہیں سکتی۔ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے کے بعد والدین کے گھر آئے تو واپس جانے کے لیے بیتاب ہوتی ہے۔ جوں جوں اولاد ہوتی ہے توں توں والدین سے تعلق کم ہوتا چلا جاتا ہے یہ اللہ کی قدرت نہیں تو اور کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنی بیویوں کی قدر کیا کرو کیونکہ ” اللہ “ کے حکم سے ان کا وجود اور عزت وناموس تمہارے لیے جائز قرارپایا ہے۔ ( عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ۔۔ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اللَّہ۔۔ ) [ رواہ مسلم : باب حَجَّۃِ النَّبِیِّ ﷺ ] ” جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔ اللہ کے حکم سے تمہاری بیویوں کی شرم گاہیں تمہارے لیے حلال قرار پائی ہیں۔۔ “ (خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہٖ وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب عن رسول اللہ ] ” وہی شخص اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہے اور میں تم سے اپنے گھر والوں کے بارے میں بہت بہتر ہوں۔ “ (عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْقُشَیْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَاحَقُّ زَوْجَۃِ أَحَدِنَا عَلَیْہِ قَالَ أَنْ تُطْعِمَھَاإِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوَھَا إِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَھْجُرْ إِلَّا فِی الْبَیْتِ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ] ” حضرت حکیم بن معاویہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم پر ہماری بیویوں کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے جب کپڑے پہنے تو اسے بھی پہنائے منہ پر نہ مارے ‘ نہ گالی دے اور اسے نہ چھوڑ مگر گھر میں۔ “ مسائل 1۔ میاں، بیوی کا رشتہ ” اللہ “ کی قدرت کی نشانی ہے۔ 2۔ میاں، بیوی کے درمیان محبت و مہربانی کا معاملہ ہونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن میاں، بیوی کا تعلق اور حقوق : 1۔ میاں، بیوی آپس میں لباس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (البقرۃ : 187) 2۔ بیوی نسل انسانی کا ذریعہ ہیں۔ (النساء : 1) 3۔ بیوی سکون کا باعث ہے۔ (الروم : 21) 4۔ بیوی خاوند کی نائب ہے اور خاوند گھر کا منتظم ہے۔ (النساء : 34) 5۔ بیوی کو بہترین طریقے سے رکھنا چاہیے اور اچھے طریقے سے چھوڑنا چاہیے۔ ( البقرۃ : 231)
Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ” اللہ “ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یقیناً جاننے والوں کے لیی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی قدرت کی پانچویں اور چھٹی نشانی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں عظیم تر نشانیاں یہ ہیں کہ اس نے آسمانوں کو ٹھوس صورت میں پیدا کیا اور بغیر ستونوں کے ٹھہرایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے خوبصورت بنایا اور شہاب ثاقب کے ذریعے اس کی حفاظت فرمائی۔ آسمان کو اس طرح قائم دائم فرمایا ہے کہ آج تک نہ جھکا ہے اور نہ ہی کہیں سے اس میں دراڑ واقع ہوئی ہے۔ یہ قیامت تک جوں کا توں کھڑا اور لوگوں کو دکھائی دیتا رہے گا۔ زمین پر غور فرمائیں کہ اسے تہہ بہ تہہ سات زمینوں میں تقسیم کیا اور پوری کی پوری زمین پانی پر بچھائی اور ٹھہرائی ہے۔ زمین اپنی وسعت اور وجود کے اعتبار سے اتنی بھاری اور بوجھل ہے کہ اس کے بوجھ کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ پھر جمادات، نباتات، حیوانات، ٹھہرائے اور اس پر انسان بسائے لیکن اس کے باوجود کروڑوں سالوں سے پانی پر ٹھہری ہوئی ہے نہ کہیں سے دھنسی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح غور فرمائیں کہ ایک ہی آب وہوا، ایک جیسی خوراک اور ایک ہی ملک میں رہنے والے لاکھوں، کروڑوں انسان ایک ہی جیسی زبان (TONGUE) اور آب وہوا رکھتے ہیں مگر بولیاں الگ الگ ہیں۔ اب تک دنیا میں تقریباً 6900 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کی معلومات کے مطابق اب تک 60 فی صد لوگ جو زبانیں بولتے ہیں۔ وہ تیس کے قریب ہیں۔ جن میں مشہوریہ زبانیں ہیں۔ دنیا میں مشہور زبانوں کے نام اور ان کے بولنے والوں کی تعداد : 1۔ چینی : 882 ملین 2۔ ہسپانوی : 325 ملین 3۔ انگریزی :-380 312 ملین 4۔ عربی : 206-422 ملین 5۔ ہندی : 181 ملین 6۔ پُرتگالی : 178 ملین 7۔ بنگالی : 173 ملین 8۔ روسی : 146 ملین 9۔ جاپانی : 128 ملین 10۔ جرمن : 96 ملین 11۔ اردو بولنے والے اور سمجھنے والے تقریباً پچاس کروڑ سے زائد ہیں۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور دن کے وقت تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو توجہ سے بات سنتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ساتویں اور آٹھویں نشانی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بیشمار اور اَن گنت ہیں۔ لیکن اس کی قدرت کی کچھ ایسی نشانیاں اور نعمتیں ہیں جن سے استفادہ کیے بغیر کوئی آدمی رہ نہیں سکتا ان میں نیند بھی شامل ہے۔ نیک ہو یا بد، چھوٹا ہو یا بڑا، کافر ہو یا مسلمان، نیند ایسی نعمت ہے جسے انسان کی جبلّت میں رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے، نیند کی آغوش میں جانا ہر ایک کی فطری ضرورت اور مجبوری ہے۔ اس فطری ضرورت میں انسان کی زندگی مضمر ہے۔ جوں ہی آدمی نیند کی آغوش میں جاتا ہے تو اس کی جسمانی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے یہاں تک کہ انسان کا غم بھی ہلکا ہوجاتا ہے۔ بالخصوص رات کی نیند انتہائی مفید بنا دی گئی ہے۔ اگر انسان کو دو ، تین دن نیند نہ آئے تو اس کا وجود اکڑ جاتا ہے اور وہ چلنے، پھرنے یہاں تک کہ سوچنے، سمجھنے کے قابل نہیں رہتا۔ میڈیکل سائنس اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ سوتے وقت روشنی کی بجائے آدمی کو اندھیرے میں سونا چاہیے کیونکہ اندھیرے میں سونے سے نہ صرف نیند گہری آتی ہے بلکہ اس سے سکون میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ گہری اور پرسکون نیند کے ذریعے انسان کی دن بھر میں استعمال کی ہوئی انرجی بحال ہوجاتی ہے۔ اور تھکاماندہ انسان تازہ دم ہو کر صبح کو اپنے کام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ رات کی نیند کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد آدمی کو جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا چاہیے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ میڈیکل سائنس اس حقیقت تک پہنچ چکی ہے کہ پہلی رات کی نیند رات کے پچھلے پہر کی نیند سے کہیں بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو رات اور دن میں تقسیم کیا ہے۔ رات آرام اور سکون کے لیے ہے۔ دن کام اور دیگر مصروفیات کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس میں انسان اپنے رب کا فضل تلاش کرتا ہے۔ فضل سے مراد خوراک اور دیگر وسائل ہیں۔ رات اور دن میں سے کسی ایک کا وجود نہ ہو یا ان میں کوئی خلل واقع ہوجائے تو انسان ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا نظام ختم ہوجائے۔ جو لوگ اپنے رب کے ارشادات توجہ سے سنتے اور ان پر غور کرتے ہیں یقیناً وہ ہدایت پاتے ہیں۔ ” ابوبرزہ اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ “ [ رواہ البخاری : باب مَا یُکْرَہُ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ ] سونے کی دعا : نبی اکرم ﷺ سے سونے کے وقت بہت سی دعائیں ثابت ہیں یہاں صرف چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ” حضرت ابو سعید ؓ نبی مکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں جو شخص اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے تین مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے۔ ” أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ “ تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں، اگرچہ درختوں کے پتوں کی تعداد کے برابر ہوں، بیشک صحرا کی ریت کے ذروں کے برابر بھی ہوں، اگرچہ دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر ہوں۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ] سونے کے آداب : 1 وضو کرنا۔ 2 بسم اللہ پڑھ کر بستر پر جانا۔ 3 لیٹنے سے پہلے بستر کو اچھی طرح جھاڑنا۔ 4 دائیں کروٹ لیٹنا۔ 5 دایاں ہاتھ دایاں رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ رخ لیٹنا۔ 6 مسنون دعائیں پڑھنا۔ 7 آیۃ الکرسی، سورة البقرۃ کی آخری دو آیات، سورة السجدہ اور سورة الملک کی تلاوت کرنا 33 مرتبہ سبحان اللہ 33 مرتبہ الحمد اللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا سنت نبوی ہے۔ اس کے بعد (اللَّہُمَّ باسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْیَا) [ رواہ البخاری : باب وَضْعِ الْیَدِ الْیُمْنَی تَحْتَ الْخَدِّ الأَیْمَنِ ] ” اے اللہ میں تیرے نام سے ہی مرتا ہوں اور تیرے نام سے ہی جیتا ہوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور عظیم نعمتوں میں نیند بہت بڑی نعمت ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے رات آرام اور دن کام کاج کے لیے بنایا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو غور سے سننے والے ہی ہدایت پاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن کے فائدے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو باعث سکون اور دن کو کسب معاش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ (القصص : 73) 2۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ (یونس : 67) 3۔ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم تسکین حاصل کرو۔ (القصص : 82) 4۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : 12) 5۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : 37)
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں برق دکھاتا ہے۔ جو خوف اور امید لیے ہوتی ہے، اور آسمان سے پانی برساتا ہے۔ پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نویں، دسویں اور گیارہویں نشانی۔ انسان کی زندگی اور اس کے رزق کا دارومدار پانی پر ہے اور پانی کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہے۔ اگر ایک مدّت تک بارش نہ ہو تو نہ صرف پہاڑوں میں پھوٹنے والے چشمے خشک ہوجاتے ہیں بلکہ زمین کا پانی بھی اتنا نیچے چلا جاتا ہے کہ اس کا حاصل کرنا لوگوں کے لیے ناممکن بن جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ سمندر سے بخارات اٹھتے ہیں۔ ہوائیں انہیں اٹھا کر فضا میں کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ بخارات بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ فرشتہ انہیں ہانک کر وہاں لے جاتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ انہیں برسنے کا حکم صادر فرماتا ہے۔ بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور اس کے سینے میں چھپے ہوئے بیج اس کی چھاتی پر لہلہانے لگتے ہیں جس میں عقل والوں کے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرماکر اپنے حضور کھڑا کرے گا۔ اس آیت میں آسمانی بجلی کے بارے میں خوف اور امید کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جب آسمانی بجلی زمین پر گرتی ہے تو ہر چیز کو خاکستر کردیتی ہے۔ جب اوپر چڑھتی ہے تو اس کی آواز اس قدر گرج دار اور خوف ناک ہوتی ہے کہ سننے والوں کے کلیجے دھک دھک کرنے لگتے ہیں اور کئی فصلیں ایسی ہیں بالخصوص چنے کی فصل جو البرق کی چمک سے جل کر راکھ ہوجاتی ہے۔ جہاں زمین پر بجلی کے گرنے کے نقصانات ہیں وہاں اس کی وجہ سے ایسی گیسیں زمین پر اترتی ہیں جن کے بیشمار کیمیائی فوائدہو تے ہیں۔ بجلی کی گرج اور چمک سے خوف کے ساتھ ساتھ بارش برسنے کی امید اور بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح اس میں امید اور خوف دونوں پائے جاتے ہیں۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ أَقْبَلَتْ یَہُودٌ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوْا یَآأَبَا الْقَاسِمِ أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا ہُوَ قَالَ مَلَکٌ مِّنَ الْمَلاآءِکَۃِ مُوَکَّلٌ بالسَّحَابِ مَعَہٗ مَخَارِیْقُ مِنْ نَارٍ یَّسُوقُ بِہَا السَّحَابَ حَیْثُ شَآء اللّٰہُ فَقَالُوْا فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِیْ نَسْمَعُ قَالَ زَجْرُہٗ بالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَہٗ حَتّٰی یَنْتَہِیَ إِلٰی حَیْثُ أُمِرَ قَا لُوْا صَدَقْتَ )[ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة الرعد وہو حدیث صحیح ] ” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا اے ابوالقاسم ! ہمیں بجلی کی کڑک کے بارے میں بتائیں کہ یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بادلوں پر مقرر ہے۔ اس کے پاس آگ کے کوڑے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بادلوں کو ہانکتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ جہاں لے جانے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا ان میں آواز کیا ہے جو ہم سنتے ہیں۔ آپ نے فرمایا فرشتہ بادلوں کو ہانکتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ “ (وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَ الْمَلآءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ ) [ الرعد : 13] ” اور بجلی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ “ مسائل 1۔ آسمانی بجلی بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہے۔ 2۔ البرق میں خوف اور امید دونوں موجود ہوتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں سے بارش برساتا ہے اور اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ 4۔ جس طرح ایک مدت کے بعد بارش کے ساتھ زمین سے بیج اگتے ہیں اسی طرح ہی قیامت کے دن مردوں کو زندہ کیا جائے گا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی ہر قدرت میں عقل مندوں کے لیے نصیحت کا سبق موجود ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن بارش کا نزول اور اس کے فوائد : 1۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا ” اللہ “ ہے اس کے ساتھ کیا دوسرا الٰہ ہے ؟ (النمل : 60) 2۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) 3۔ قیامت، بارش کا نازل ہونا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی انہیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ (لقمان : 34) 4۔ برق اپنے رب کی تسبیح پڑھتی ہے۔ ( الرعد : 13)
Ayahs 30:25–26

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیاں ہیں کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جو نہی وہ تمہیں زمین سے پکارے گا، بس ایک ہی پکار سے تم نکل کھڑے ہو گے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اسی کا ہے سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بارہویں نشانی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات عظیم المرتبت ہے اسی طرح اس کی قدرت اور کام عظیم اور عدیم المثال ہیں۔ زمین و آسمان پر غور فرمائیں کہ آسمان کسی سہارے کے بغیر قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ زمین پانی پر بچھائی گئی ہے۔ اس کے باوجود نہ اس میں جھول ہے اور نہ ہی کسی مقام سے پانی میں غرق ہوئی ہے۔ زمین و آسمان صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہیں اور اس کے حکم ثانی تک قائم رہیں گے۔ قیامت کے دن زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور میں پھونک مارنے کا حکم دے گا۔ اسرافیل کے صور پھونکنے کے ساتھ ہی لوگ اپنے اپنے مدفن سے نکل کھڑے ہوں گے۔ کوئی اس کے حکم کی نافرمانی نہیں کر پائے گا۔ کیونکہ زمین و آسمانوں میں ہر چیز ” اللہ “ کی ملک اور اس کے تابع فرمان ہے۔ اسی نے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے بالکل آسان ہے۔ کیونکہ وہی زمین و آسمان پر غالب اور بلند وبالا ہے اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ اس فرمان میں یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اے انسان غور کر کہ جس زمین پر تیرا ٹھکانہ ہے اور جس آسمان تلے تو زندگی گزارتا ہے وہ اور ان کی ہر چیز اپنے رب کی تابع فرمان ہے۔ مگر تو اس کی نافرمانی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ شریک بنانے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتا حالانکہ تو نے مر کر اپنے رب کے حضور حاضرہونا ہے۔