Ayah 30:27فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات کبریا کی مذکورہ بالا صفات اور قدرتیں ہیں اسی ذات اکبر نے پوری مخلوق کو ابتدا سے پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق، زمین و آسمان کی پیدائش، لیل ونہار کی گردش اور اپنی دوسری قدرتوں کا تذکرہ اور شمار کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ جس ذات نے یہ سب کچھ پیدا کیا اسی نے پوری مخلوق اور انسان کو پہلی دفعہ پیدا فرمایا اور وہی اسے دوبارہ زندہ کرنے کے بعد اپنے حضور حاضر کرے گا۔ مخلوق اور انسان کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے بالکل آسان کام ہے۔ وہ اپنی ذات اور تخلیق کے حوالے سے اعلیٰ اور بےمثال ہے۔ زمین و آسمانوں میں اس کی ذات اور صفات کی نہ کوئی مثال ہے اور نہ ہوگی وہ ہر اعتبار سے غلبہ رکھنے والا ہے اور اس کے ہر کام میں لا تعداد حکمتیں پائی جاتی ہیں۔ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کے بارے میں یہ بھی الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ کہ سوچو اور غور کرو کیا پہلی دفعہ مخلوق کو پیدا کرنا مشکل ہے یا دوسری مرتبہ۔ (العنکبوت : 19۔ 20)
” اَلْعَزِیْزُ “ کی صفت لا کر اشارہ کیا کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، بادشاہ ہو یا فقیر، نیک ہو یا بد، ڈوب کر مرا ہو یا جل کر جس حالت میں مرا ہو۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے کہ اسے دوبارہ زندہ کرے۔ دوبارہ پیدا کرنے میں ” اَلْحَکِیْمُ “ کی حکمت یہ ہے کہ وہ ظالم کو سزا دے اور نیک کو جزا دے۔
مسائل
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کائنات کی تخلیق کے حوالے سے اپنی قدرت کی 16 نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔
1۔ ” اللہ “ ہی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔
2۔ اسی نے لوگوں کو زمین پر پھیلایا اور بسایا ہے۔
3۔ ” اللہ “ ہی نے مردوں سے ان کی بیویوں کو پیدا کیا ہے۔
4۔ اسی نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور مہربانی کا جذبہ پیدا فرمایا ہے۔
5۔ ” اللہ “ نے ہی زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔
6۔ اسی نے لوگوں کی مختلف زبانیں اور رنگتیں بنائی ہیں۔
7۔ ” اللہ “ ہی نے رات کو باعث سکون بنایا ہے۔
8۔ اسی نے لوگوں کے لیے دن کو کام کاج کے لیے بنایا ہے۔
9۔ ” اللہ “ ہی آسمانی بجلی سے لوگوں کو خوف زدہ کرتا اور امید دلاتا ہے۔
10۔ وہی آسمان سے بارش کے ذریعے مردہ زمین کو شاداب کرتا ہے۔
11۔ ” اللہ “ ہی زمین و آسمانوں کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
12۔ وہی لوگوں کو قیامت کے دن زمین سے نکلنے کا حکم دے گا اور لوگ اس کے حکم کے ساتھ ہی نکل کھڑے ہوں گے۔
13۔ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اس کے حکم کے تابع ہے۔
14۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے بالکل آسان ہے۔
15۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور تخلیق کے حوالے سے پوری کائنات میں اعلیٰ اور بےمثال ہے۔
16۔ زمین و آسمان میں وہی سب پر غالب اور بڑا حکمت والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ اعلیٰ اور بےمثال ہے :
1۔ ” اللہ “ تعالیٰ ہی رب ہے۔ ( لانعام : 102) 2۔ ” اللہ “ ہر چیز کا خالق ہے۔ ( الرعد : 16)
3۔ ” اللہ “ ہی کی ذات ازلی اور ابدی ہے۔ (الحدید : 3) 4۔ مشرق ومغرب ” اللہ “ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 142)
5۔ غنی ہے اور تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : 35) 6۔ زمین و آسمان پر ” اللہ “ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : 189)
7۔ قیامت کو بھی اللہ تعالیٰ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان : 26) 8۔ ” اللہ “ ہر چیز پر گواہ۔ ( البروج : 9)
9۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ ” اللہ “ کی ملکیت ہے اور ا ” اللہ “ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189)
10۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت ” اللہ “ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 107)
11۔ ” اللہ “ سخت عذاب دینے والا۔ ( البقرۃ : 165) 12۔ اس نے ہمیشہ رہنا اور باقی نے فنا ہوجانا ہے۔ (الرّحمن : 26)
13۔ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے وہ ہر بات سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ : 11)
Ayahs 30:28–29فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیات میں توحید کے ایسے دلائل دیے گئے ہیں جس سے ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان چیزوں سے مستفید ہوتا ہے۔ اب انسان کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے اس کی نفسانی کیفیت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
اے لوگو ! تمہارے لیے تمہارے نفس کی ایک کیفیت پیش کی جاتی ہے اس پر توجہ کرو اور اسے سمجھنے کے لیے اپنی عقل سے کام لو۔ وہ کیفیت اور مثال یہ ہے کہ جن غلاموں کے تم مالک ہو اور جو رزق اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں کیا تم اپنے زرخرید غلاموں کو برابر کے شریک کرنے کے لیے تیار ہو ؟ تمہارے نفسوس کی کیفیت تو یہ ہے کہ تم اپنے مال میں غلاموں کی شراکت کے تصور سے اس طرح کانپتے ہو جس طرح تم پہلے سے وراثت میں شریک رشتہ داروں سے ڈرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خود داری اور آزادی پیدا کی ہے جس بناء پر انسان زیادہ سے زیادہ اختیارات چاہتا اور اپنے معاملات میں دوسروں کی شراکت اور عمل داری قبول نہیں کرتا۔ یہ تو انسان کی طبیعت کی کمزوری اور ضرورت ہے کہ اسے چاروناچار اپنے معاملات میں دوسروں کو شریک کرنا پڑتا ہے۔ اگر انسان تمام معاملات کو بلا شرکت غیرے چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے معاملات میں کوئی دخل اندازی کرے۔ اس کی طبیعت اور کیفیت کا حوالہ دینے کے بعد اسے احساس دلایا گیا ہے کہ اے انسان تو کمزور اور ضرورت مند ہونے کا باوجود اپنے محدود اور عارضی اختیارات میں کسی کی شرکت پسند نہیں کرتا۔ غور کر ! کہ اللہ تعالیٰ خالق، مالک اور بلاشرکت غیرے مخلوق کا بادشاہ ہے وہ کس طرح دوسرے کو گوارا کرسکتا ہے ؟ یہ مثال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگو ! اس مثال پر انصاف کے ساتھ غور کرو کہ جن کو تم اللہ کے شریک بناتے ہو وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے شریک ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح گوارا کرسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ مثال اور دلائل دے کر اپنی توحید سمجھاتا ہے تاکہ لوگ عقل وفکر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔ لیکن جو لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے وہ بغیر حقیقت جانے اپنے تصورّات، خواہشات اور مفادات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگ جان بوجھ کر گمراہ ہوچکے ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے اگر یہ عقل سلیم سے کام لیں تو کبھی شرک کا ارتکاب نہ کریں۔ لیکن یہ حقیقت جاننے کے باوجود اسے سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ جس وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نہیں دیتا۔ مشرکین کا عقیدہ ہے کہ یہ بزرگ قیامت کے دن بھی ہماری مدد کریں گے حالانکہ قیامت کے دن ان کی کوئی بھی مدد نہیں کرسکے گا۔ یہ بات فہم القرآن کے کئی مقامات پر عرض ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو گمراہ کرنے کا صرف اتنا مفہوم ہے کہ جو شخص گمراہی کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی رسّی دراز کردیتا ہے جس وجہ سے وہ گمراہی میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ ایسے گمراہ کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
مسائل
1۔ ہر انسان طبعی طور پر اپنے معاملات میں کسی کی شراکت اور دخل اندازی پسند نہیں کرتا۔
2۔ انسان عقل سلیم کے ساتھ سوچے تو کبھی شرک نہ کرے۔
3۔ اللہ تعالیٰ عقیدہ توحید اور حقائق کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ لوگ سمجھنے کی کوشش کریں۔
4۔ مشرک اور ظالم اپنی جہالت کی بنیاد پر اپنی خواہشات اور تصورّات کی پیروی کرتے ہیں۔
5۔ قیامت کے دن ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
Ayahs 30:30–31فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ایک مثال کے ذریعے انسان کی فطرت کو بیدار کرتے ہوئے شرک سے نفرت دلائی اور عقیدہ توحید سمجھایا۔ اس آیت میں یہ باور کروایا ہے کہ توحید فطرت کی آواز ہے اور انسان کو اپنی حقیقی فطرت پر قائم رہنا چاہیے۔
حکم ہوا کہ اپنے آپ کو دین حنیف پر قائم رکھیں یہی فطرت ہے۔ اور اسی فطرت پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔” اللہ “ سے ڈرتے ہوئے اسی کی طرف متوجہ رہو اور نماز قائم کرو، اور مشرکین میں نہ ہوجاؤ۔ اہل علم نے ان الفاظ کے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔
1 مشرکین میں نہ ہوجاؤ کا تعلق نماز سے نہیں دونوں حکم الگ، الگ ہیں۔ 2 نماز قائم کرو یعنی اخلاص سے نماز پڑھو اور ریاکاری سے بچو کیونکہ ریا کاری کرنا شرک ہے۔ 3 جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ان مشرکین میں نہ ہوجاؤ۔
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا عملی ثبوت نماز ہے جس کے بارے میں پہلے پارے میں ارشاد ہوا کہ ” نماز قائم کرنا مشکل کام ہے سوائے ان لوگوں کے ہے جو ڈرنے والے ہیں “ (البقرہ : 45) ” اَلدِّیْنُ “ سے پہلی مراد اللہ کی توحید ہے اس کی اشاعت اور تقاضے پورے کرنے پر پوری توجہ مرکوز رکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر لوگوں کو پیدا کیا ہے اگر عقیدہ توحید ٹھیک ہوا۔ اور اس کے تقاضے پورے ہوئے تو سارے کا سارا دین اور نظام ٹھیک رہے گا ” اَلدِّیْنُ “ سے دوسری مراد پورا دین ہے یعنی پورے کے پورے دین پر قائم رہیں اور اسے قائم کرو۔ دین ٹھوس دلائل پر قائم ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں یہ ہر اعتبار سے کامل اور اکمل ہے دین کی بنیاد توحید ہے۔ اس میں ذرا سی کھوٹ پیدا ہوگئی تو سارے کا سارا دین مسترد کردیا جائے گا۔ اس کا اوّلین تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اسی کی اطاعت کا پورا خیال رکھیں۔ جس کا دوسرا تقاضا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور تیسرا تقاضا زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ہے۔ اور کسی صورت بھی عقیدہ وعمل میں مشرکوں کے ساتھ نہیں ملنا۔ بعض مفکرین کا خیال ہے کہ انسان نے رفتہ رفتہ اپنے رب کو پہچانا ہے حالانکہ قرآن مجید کا واضح ارشاد ہے کہ ” توحید انسانی فطرت کی آواز ہے اور اسی پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے “ (الاعراف : 172 تا 174)
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّیَّۃٍ ذَرَأَہَا فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہٖ کَالذُّرِّ ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قُبُلًا قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ )[ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عباس ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عرفہ کے مقام پر آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اس کی تمام اولاد نکالی۔ انھیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلایا پھر ان سے کلام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہنا کہ ہم تو اس سے بیخبر تھے یا تم کہو کہ شرک تو ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کی اولاد تھے۔ کیا تو ہمیں باطل کام کرنے والوں کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ أَوْ یُنَصِّرَانِہٖ أَوْ یُمَجِّسَانِہٖ کَمَثَلِ الْبَہِیمَۃِ تُنْتَجُ الْبَہِیمَۃَ ہَلْ تَرٰی فیہَا جَدْعَاءَ ) [ رواہ البخاری : باب ماقیل فی أولاد المشرکین ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہر نو مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جس طرح جانور کسی کو جنم دیتا ہے تو کیا تم ان میں کسی کو مقطوع الاعضا پاتے ہو ؟ “
” حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جنت والے جنت اور جہنم والے جہنم میں داخل ہوجائیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہر اس آدمی کو آگ سے نکال لیا جائے جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے۔ فرشتے آگ سے لوگوں کو نکالیں گے جو جل کر سیاہ ہوچکے ہوں گے۔ انہیں نہر حیات میں غسل دیا جائے گا وہ ایسے نمو پائیں گے جس طرح سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب تفاضل أھل الإیمان فی الأعمال ]
نماز کی فضیلت :
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ۔۔]
” عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا ؓ إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ اُدْعُھُمْ إِلٰی شَھَادَۃِ أَنْ لَّاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِيْ کُلِّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ فَإِنْ ھُمْ أَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَأَعْلِمْھُمْ أَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً فِيْ أَمْوَالِھِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِیَاءِھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَاءِھِمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوٰۃ، باب وجوب الزکوٰۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا کہ یمن والوں کو سمجھاؤ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو انہیں بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اموال میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں میں تقسیم کی جائے گی۔ “
مسائل
1۔ ہر حال میں اپنے آپ کو عقیدہ توحید پر قائم رکھیں۔ 2۔ ہر حال میں دین حنیف پر قائم رہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ 4۔ اللہ کے دین میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔
5۔ دین حنیف ٹھوس دلائل پر قائم ہے۔ 6۔ لوگوں کی اکثریت عقیدہ توحید اور دین حنیف سے لابلد ہے۔
7۔ ” اللہ “ سے ڈرتے رہیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیتے رہیں۔ 8۔ مسلمان کو مشرکوں سے نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
” اَلدِّیْنُ “ کی اہمیت اور اس کے معانی۔
1۔ دین سے مرادجزاو سزا کا دن ہے۔ (الفاتحۃ : 4) 2۔ دین کا معنٰی شریعت ہے۔ (النساء : 125)
3۔ دین کا معنٰی قانون ہے۔ (یوسف : 76) 4۔ عبادت کا نام دین ہے۔ (الزمر : 3)
5۔ دین کا معنٰی روزِقیامت۔ (الذٰریات : 12، الانفطار : 15، 17، 18)
6۔ دین کا معنٰی فرمانبرداری۔ (المومن : 14) 7۔ الدین بمعنٰی نظام حکومت۔ (المومن : 25)
8۔ الدین بمعنٰی دین۔ (التوبۃ : 29) 9۔ الدین کا معنٰی تابع بنانا اور تابع ہونا ہے۔ (البقرۃ : 131)
Ayah 30:32فہم القرآن
ربط کلام : ” اَلدِّیْنُ “ ایک تھا لیکن لوگوں نے ” اَلدِّیْنُ “ کو تقسیم کیا اور فرقہ واریّت میں مبتلا ہوگئے۔
عقیدہ توحید وحدت فکر دیتا ہے۔ اس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ جس طرح تمہارا الٰہ ایک ہے اسی طرح تمہیں بھی ایک ہونا چاہیے یہی پورے دین کی فکر ہے۔ لیکن جن لوگوں نے عقیدہ توحید میں ملاوٹ کی اور ” اَلدِّیْنُ “ کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور گروہ بندی کا شکار ہوگئے۔ توحید میں شرک کی آمیزش کرنے اور الدّین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی وجہ سے لوگ توحید کی وحدت اور ” اَلدِّیْنُ “ سے دور ہوئے۔ انہیں اس پر افسوس کی بجائے اپنی گروہ بندی پر فخر ہے اور اسی کو اصل دین سمجھتے ہیں ہر کوئی اس پر شاداں اور فرحاں دکھائی دیتا ہے۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب اتباع سنۃ ]
” حضرت جا بر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے پس تھے آپ ﷺ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف لکیریں کھینچی پھر آپ نے اپنا دست مبارک درمیان کی لکیر پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے اور یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) “
” حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودی اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے۔ ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنّت میں جائے گا۔ عیسائی بہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ ان کے اکہتر جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں داخل ہوگا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتّی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے ہیں۔ “ [ رواہ ابن ماجۃ : باب افْتِرَاقِ الأُمَم ]
(یَآ أَیُّھَا النَّاسُ ! أَلَآ إِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ وَلَا لِاَعْجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلآی أَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ إِلَّا بالتَّقْوٰی) [ مسند أحمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث رجل من أصحاب النبی ﷺ ]
” اے لوگو ! خبردار یقیناً تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ خبردار ! کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، سرخ کو کالے پر اور کالے کو سرخ پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ “
” حضرت مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی کے ساتھ تھا مے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔ “ [ موطا امام مالک : باب النَّہْیِ عَنِ الْقَوْلِ بالْقَدَرِ ]
سب سے پہلے امت میں افتراق اور دین میں اختلاف جھوٹی نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب نے پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ اس کا امت کے ساتھ کوئی ناطہ نہ تھا اور صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کے تربیت یافتہ تھے۔ اس لیے انہوں نے نہ صرف فکری طور پر اس فتنے کا تدراک کیا بلکہ قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اس کا قلع قمع کردیا۔ اس کے بعد حضرت علی ؓ کے دور میں خارجی فرقہ پیدا ہوا۔ حضرت علی ؓ نے ان کا مقابلہ کیا جس بنا پر یہ فتنہ زیادہ مدت تک نہ چل سکا۔ اس کے بعد علاقائی طور پر خلق قرآن اور جبری طلاق جیسے فتنے پیدا ہوئے۔ مگر اس دور کے آئمہ کرام نے ان فتنوں کو دبا دیا۔ اس دوران سیاسی اختلافات رونما ہوئے اور خلافت راشدہ کئی حصوں میں تقسیم ہوئی۔ مگر اعتقادی اور فکری اعتبار سے امت چار سو سال متحد رہی۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؓ اور دیگر اہل علم کی تحقیق کے مطابق چوتھی صدی ہجری کے آخر میں امت فکری طور پر چار حصوں میں تقسیم ہوئی۔ آئمہ کرام کے نام پر مستقل طور پر چار فرقے معرض وجود میں آئے۔ جو حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی کہلائے۔ اور پاکستان میں حنفی کہلوانے والے حضرات قادری، سہروردی، نقشبندی، چشتی اور دیوبندی کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس فرقہ واریت کے باوجود ہر دور میں ایک جماعت توحید وسنت پر قائم رہی اور وہ قیامت تک قائم رہے گی۔
مسائل
1۔ جن لوگوں نے شرک کیا وہ فرقہ فرقہ ہوگئے۔ 2۔ ہر گروہ اپنی رسومات اور فقہ پر خوش ہے۔
تفسیر بالقرآن
اتحاد کا حکم :
1۔ اتحاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ (آل عمران : 103) 2۔ اتحاد اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ (الانفال : 63)
3۔ باہمی اختلاف اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ (الانعام : 65) 4۔ کتاب اللہ کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ (البقرۃ : 256)
5۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور فرقوں میں نہ بٹو۔ (آل عمران : 103)
Ayahs 30:33–35فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ مفاد اور تعصبات کی خاطر دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ انہیں معمولی تکلیف پہنچے تو وہ مخلص ہو کر اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بات ماننے کے دل میں وعدے بھی کرتے ہیں۔ ایک رب کو ماننا اور ہر حال میں اسی کو پکارنا ہی انسان کی فطرت ہے اور ہونی چاہیے۔
اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ الٰہی میری مشکل حل فرما اور مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے۔ جب تکلیف رفع ہوجاتی ہے تو اپنے رب سے اس طرح لاتعلق ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے رب کو پکارا ہی نہیں تھا۔ ان میں سے جو لوگ مشرکانہ عقیدہ رکھتے ہیں انکی حالت اس سے بھی بدتر ہوتی ہے وہ نہ صرف اپنے رب کو بھول جاتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں۔ پہلے زمانے کے مشرک اکثر ایسا کیا کرتے تھے۔ لیکن آج کلمہ پڑھنے والے بہت سے مشرکوں کا حال یہ ہے کہ انتہائی تکلیف کے وقت بھی اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے تو اوٹ پٹانگ باتیں بناتے ہیں۔ ان کی باتیں بحث برائے بحث کے سوا کچھ نہیں ہوتیں کیونکہ ان کے پیچھے کوئی معقول دلیل نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس شرک کو کفر قرار دیتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ جو کچھ ہم نے تمہیں مہلت اور فائدہ دے رکھا ہے اس سے فائدہ اٹھالو۔ اور بہت جلد تمہیں اپنے کفرو شرک کے انجام کا علم ہوجائے گا۔
آخر میں سوالیہ انداز میں فرمایا ہے کہ کیا ہم نے شرک کی کوئی دلیل نازل کی ہے کہ جس کے ساتھ مشرک اپنے شرک کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی حمایت اور تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں۔ لہٰذا مشرک خواہ مخواہ حجت بازی کرتے ہیں۔ نہ صرف شرک کرتا ہے بلکہ بلا دلیل اپنے شرک کے بارے میں اصرار اور تکرار کرتا ہے۔
مسائل
1۔ انسان مصیبت کے وقت اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔
2۔ اکثر لوگ مصیبت ٹل جانے کے بعد اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
3۔ کفرو شرک کرنے والوں کو بہت جلد ان کے انجام کا علم ہوجائے گا۔
4۔ مشرک کے پاس شرک کرنے کی معقول دلیل نہیں ہوتی۔
تفسیر بالقرآن
شرک کی کوئی دلیل نہیں لیکن مشرک پھر بھی شرک کرتے ہیں :
1۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : 117)
2۔ انہوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24)
3۔ اس کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل : 64)
4۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 175)
5۔ وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : 71)
6۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : 81)
8۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم : 23)
Ayahs 30:36–37فہم القرآن
ربط کلام : جو رب انسان خوشی سے سرفراز اور غم سے دوچار کرتا ہے وہی اس کے رزق پر اختیار رکھتا ہے۔ انسان ان باتوں پر غور کرے تو وہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے سے باز آجائے۔
اکثر لوگوں کی یہ بھی عادت ہوتی ہے کہ انہیں کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ خود کفیل کرتا ہے تو وہ اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اترانے لگتے ہیں اگر انہیں کسی غلطی یا کمزوری کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں بالخصوص رزق کے معاملے میں اکثر لوگوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ مال کی فراوانی ہو تو اتراتے ہیں اور مال اللہ کی نافرمانی کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔ انہیں سمجھایا جائے تو ان کے روّیے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مال کے نشے میں اپنے آپ سے باہر ہوئے جا رہے ہیں۔ کاروبار میں نقصان ہو تو ان کی بےبسی دیکھنے والی ہوتی ہے اور اکثر دفعہ ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والا محسوس کرتا ہے کی یہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس ہوچکا ہے۔ حالانکہ جو رب تکلیف کے بعد راحت دینے والا ہے وہی رزق کو کشادہ اور کم کرنے والا ہے۔ رزق کا معاملہ چلنے والی ٹریفک کے مانند ہوتا ہے جس میں کبھی تیزی آتی ہے اور کبھی ٹھہراؤ آجاتا ہے۔ اس لیے انسان کو ہر حال میں اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے یہی مسلمان کی شان ہے۔ کیونکہ تکلیف کے بعد سہولت اور سہولت کے بعد تکلیف، کشادگی کے بعد تنگی اور تنگی کے بعد کشادگی۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت عمل میں آتی ہے۔ ایمان دار لوگ اس حکمت سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور اپنے رب کے اور قریب ہوجاتے ہیں۔
جہاں تک رزق کے بڑھنے اور کم ہونے کا معاملہ ہے دنیا میں کوئی ایسا انسان ہوا ہے اور نہ ہوگا جسے ایک ہی مقدار اور رفتار کے ساتھ رزق مل رہاہو۔ اگر کوئی زمیندار ہے تو بیشک وہ کتنی ہی محنت اور فصل کی نگرانی کرلے۔ ہر سال اس کی فصل ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی کاروباری آدمی ہے اور بیشک وہ ارب پتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے کاروبار میں بھی اتارچڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ حالانکہ کاروباری آدمی کی ہر وقت سوچ اور کوشش ہوتی ہے کہ اس کے کاروبار میں نقصان کی بجائے منافع ہی ہوتا چلا جائے۔ اسی طرح ایک مزدور اور غریب آدمی کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہتا ہے کہ کبھی وہ اس قدر تنگ دست ہوجاتا ہے کہ پیٹ پالنے کے لیے مزدوری بھی حاصل نہیں ہوتی اور کبھی مسلسل مزدوری ملنے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ایک حد تک آسودہ دیکھتا ہے۔ رزق میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور بعض دفعہ انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ میرے رزق میں کمی بیشی کا سبب کیا ہے۔ امیر ہو یا غریب اسے ہر حال میں یہ سوچنا اور عقیدہ اپنانا چاہیے کہ رزق کی کمی، بیشی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں۔ وہی ایک ذات ہے جو ہر کسی کے رزق میں کمی بیشی کرتی ہے۔ اسی عقیدہ کے پیش نظر نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے :
( قُلِ اللَّہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ) [ رواہ الترمذی : باب فی دعاء النبی ﷺ ]
” الٰہی مجھے ہمیشہ حرام سے بچا کر حلال کے ساتھ میری ضرورتیں پوری فرما اور مجھے اپنے خاص فضل کے ساتھ اپنے سوا دوسروں سے بےنیاز کردے۔ “
مسائل
1۔ اکثر لوگ سہولت کے وقت اتراتے ہیں اور تکلیف کے وقت مایوس ہوجاتے ہیں۔
2۔ اللہ ہی رزق کشادہ اور کم کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسان کی مختلف حالتیں :
1۔ انسان ناشکرا ہے۔ ( العادیات : 6) 2۔ انسان جلد باز ہے۔ ( بنی اسرائیل : 11)
3۔ اگر انسان کو اللہ رحمت دے کر چھین لے تو یہ مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ (ہود : 9)
4۔ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر نہ اتراؤ کیونکہ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23)
5۔ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو اسے بھول جاتا ہے۔ (الزمر : 8)
Ayah 30:38فہم القرآن
ربط کلام : رزق کی کمی، بیشی کا سبب بیان کرنے کے بعد مال داروں کو مال کے معاملہ میں ان کے فرض سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید بات سے بات نکال کر انسان کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے۔ پچھلی آیت میں رزق کی کشادگی اور تنگی کا ذکر ہوا ہے۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے رزق کی کشادگی سے نوازے اس کا فرض بنتا ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے مال سے لوگوں پر خرچ کرے یہ اس کا غریبوں پر احسان نہیں بلکہ یہ غریبوں کا حق ہے مال دار جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال سے لٹاتا ہے۔ مال دار اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرے جس کی ترتیب یہ بیان فرمائی ہے کہ پہلے قریبی لوگوں سے ابتدا کرے۔ اس کے ساتھ حکم دیا کہ اللہ کی رضا اور اس کے حکم کے مطابق خرچ ہونا چاہیے یقیناً ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو کسی پر احسان جتلانے یا نمودونمائش کے لیے خرچ نہیں کرتے بلکہ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں یہی لوگ فلاح پائیں گے۔ دنیا میں ان کے لیے غریبوں کی دعائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس سے مال میں برکت اور معاشرہ میں اخوت و ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور آخرت میں جنت عطا ہوگی۔
(عَنْ اَبِیْ الدَرْدَآءِ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اِبْغُوْنِیْ الضُّعَفَآءَ فَاِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَاءِکُمْ ) [ رواہ ابوداؤ : باب فی الانتصار برذل الخیل والضعفۃ ]
” ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا مجھے بھی اپنے کمزوروں میں شمار کرو کیونکہ تمہاری مدد اور تمہیں رزق تمہارے کمزوروں کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِيُّ ﷺ السَّاعِيْ عَلَی الْأَرْمِلَۃِ وَالْمِسْکِیْنِ کَالْمُجَاھِدِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوِ الْقَاءِمِ اللَّیْلَ الصَّاءِمِ النَّھَارَ ) [ رواہ البخاری : کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الأھل ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ اور مسکین کے ساتھ تعاون کرنے والا۔ اللہ کی راہ میں مجاہد کی طرح ہے یا رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ “
صدقہ کرنے کی ترتیب :
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ابو طلحہ ؓ انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں والے تھے ان باغات میں بیرحاء نامی باغ ان کا سب سے بہترین مال تھا۔ جو مسجد کے سامنے تھا نبی ﷺ اس میں جاتے اور وہاں سے پانی پیا کرتے تھے جب آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) نازل ہوئی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں : اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب تک تم اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو کبھی نیکی تک نہ پہنچ سکو گے۔ یقینًامیرے پاس ” بیرحاء “ کا باغ ہے جو میری پوری جائیداد میں میرے نزدیک قیمتی اور عزیز ہے میں اس کے بدلے اللہ کے ہاں نیکی اور آخرت کے خزانے کا خواہشمند ہوں لہٰذا آپ اسے جہاں چاہیں استعمال کریں۔ آپ ﷺ نے اس جذبہ کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا : یہ مال بڑا نفع بخش ہے یہ مال بڑا فائدہ مند ہے جو تم نے کہا میں نے سن لیا۔ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چناچہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور عزیزوں میں تقسیم کردیا۔ “
[ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب لن تنالوا البرحتی تنفقوا مما تحبون ]
مسائل
1۔ اللہ کے دیے ہوئے مال سے خرچ کرنا چاہیے۔ 3۔ صدقہ کرتے وقت قرآن کی ترتیب کا خیال رکھنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
صدقہ کرنے کا حکم اور اس کا اجر :
1۔ اللہ کو قرض حسنہ دینے کا حکم۔ (المزمل : 20) 2۔ اللہ اسے سات سو گناہ سے بھی زیادہ بڑھائے گا۔ (البقرہ : 261)
3۔ صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ (البقرۃ : 265) 4۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11)
5۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
6۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88) 7۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ( التوبۃ : 99)
8۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : 134)
9۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39)
10۔ مومنین اللہ کے راستے میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ (الرعد : 22)
11۔ مسلمان کو اس کے دئیے ہوئے صدقہ پر سات سو گنا ثواب دیا جائے گا۔ ( البقرۃ : 261)
Ayah 30:39فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اب جو چیز صدقہ کرنے میں رکاوٹ بنتی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرتی ہے اس کے بارے میں پہلا حکم۔
اسلامی نظام معیشت جن بنیادوں پر قائم ہے۔ اس میں سود کی ممانعت اور زکوٰۃ و صدقات کی ترویج کی بڑی اہمیت و کردار ہے۔ مسلمانوں کی معیشت کی ترقی اور اس کا استحکام اسی میں ہے کہ وہ ہر قسم کے معاشی استحاصل بالخصوص سود کے لین دین سے پاک ہو۔ سودی معیشت کے پیچھے صرف ایک ہی اصول کارفرما ہوتا ہے کہ مال دینے والے کے مال میں اضافہ ہوتا چلا جائے بیشک دوسرا کنگال سے کنگال ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اس فرمان میں اس سوچ کی نفی کرتے ہوئے سود خوروں کو سمجھایا ہے کہ جو مال تم اضافہ کے لیے دیتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس میں اضافہ نہیں ہوتا۔ قرآن کے الفاظ کا یہ بھی مفہوم لیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی معاشی ترقی کے لیے جو تم سود دیتے ہو اس سے ان کے مال میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اور کنگال ہوجاتے ہیں۔ سود کے مقابلے جو تم اللہ کی رضا کی خاطر زکوٰۃ دیتے ہو اس سے ان کے اور تمہارے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔ نزول قرآن کے وقت اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا کہ جن برائیوں میں لوگ بری طرح پھنس چکے ہیں۔ ان سے نکالنے کے لیے پہلے لوگوں کی فکر میں تبدیلی لائی جائے اور پھر تدریجی عمل کے ذریعے ان کو ان برائیوں سے نکالاجائے۔ اسی اصول کے پیش نظر سود کی حرمت سے پہلے سود خوروں کو سمجھایا گیا کہ جو مال تم سود پر دیتے ہو۔ بظاہر تمہیں اس میں بڑھوتری نظر آتی ہے لیکن اس سے برکت اٹھا لی جاتی ہے اس لیے سودی نظام معیشت ترقی کرنے کی بجائے بالآخر خسارے پر منتج ہوتا ہے۔ یہاں تک سود لینے اور دینے والے کا معاملہ ہے سود لینے والا بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ اس سے میری مشکل حل ہوجائے گی لیکن بالآخر وہ پہلے سے بھی زیادہ مقروض اور خستہ حال ہوجاتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سودی معیشت میں برکت نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ سود کو ختم کرنا چاہتا ہے اور صدقات کو فروغ دینا چاہتا ہے (البقرہ : 276)
صحابہ کرام ؓ نے ان الفاظ کا دوسرا مفہوم یہ بھی لیا ہے کہ کسی کو تحفہ اور ہدیہ دیتے وقت یہ نیت نہیں رکھنی چاہیے کہ کل اس سے زیادہ وصول کیا جائے گا۔ جہاں تک زکوٰۃ اور صدقہ دینے کا تعلق ہے اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہونی چاہیے۔ زکوٰۃ اور صدقہ سے ایک طرف اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور دوسری طرف جس کو زکوٰۃ یا صدقہ دیا جاتا ہے اس کی مالی معاونت ہونے کے ساتھ اور صدقہ کرنے والے کے مال میں برکت ہوتی ہے جہاں تک قیامت کا اجر ہے وہ سات سو گناہی نہیں۔ دینے والے کے اخلاص اور حلال مال کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے گا اضافہ فرمائے گا۔
( عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَا نَقَصَ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَاد اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍا اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) [ رواہ مسلم : باب استحباب العفو والتواضع ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا جو بندہ درگزر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے۔ اور جو اللہ کی رضا کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کرتا ہے۔ “
” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے سود کھانے، کھلانے اور گواہی دینے والوں پر لعنت کی اور فرمایا کہ یہ سب برابر ہیں۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب المساقاۃ، باب لعن آکل الربوا وموکلہ ]
سود خور کی پہلی سزا یہ ہوگی کہ قبر سے اٹھتے ہی یہ ایسی حرکات کرے گا کہ لوگ اسے پہچان جائیں گے کہ یہ وہ اللہ کا باغی اور قومی مجرم ہے جو دنیا میں سود کھایا کرتا تھا۔ اس کی حواس باختگی کو شیطان کے خبط کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اندازہ کیجیے جس شخص پر شیطان مسلط ہوجائے کیا اس سے کسی بھلے کام کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اس پر یہ سزا اس لیے مسلط ہوگی کہ یہ دنیا میں کہا کرتا تھا کہ تجارت اور سود میں کوئی فرق نہیں حالانکہ تجارت اور سود میں مماثلت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ (البقرۃ : 257) (سود اور تجارت میں فرق سمجھنے کے لیے البقرۃ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ )
مسائل
1۔ سود سے مال میں اضافہ نہیں ہوتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سودی معیشت سے برکت اٹھا لیتا ہے۔
3۔ زکوٰۃ اور صدقہ محض اللہ کی رضا کی خاطر دینے چاہیے۔
4۔ زکوٰۃ اور صدقہ سے لینے اور دینے والے کے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
سود کی حرمت کے بارے میں احکام :
1۔ سود حرام ہے۔ (البقرۃ : 275، آل عمران : 130) 2۔ سودخوروں کی اللہ اور رسول سے جنگ ہے۔ (البقرۃ : 279)
3۔ اللہ سود کو مٹانا چاہتا ہے۔ (الروم : 39) 4۔ سود کی حرمت کے بعد سود کھانے کی سخت سزا ہے۔ (البقرۃ : 275)
Ayah 30:40فہم القرآن
ربط کلام : سورة الرّوم کی پہلی دس آیات کے بعد کسی نہ کسی انداز میں مسلسل اللہ کی توحید کے دلائل دیے گئے ہیں اب پھر اسی عنوان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
سابقہ آیات میں یہ بتلایا گیا ہے جب مشرک کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے۔ مصیبت ٹل جائے تو مشرک اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے وہی سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ وہی موت دینے والا ہے اور وہی موت کے بعد سب کو زندہ کرے گا کیا کوئی ہے جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو ؟ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا ہر دور کے مشرک اعتراف کرتے آرہے ہیں اور قیامت تک اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جب ان کاموں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی مخلوق میں کوئی بھی اس کا شریک کار نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا تو پھر مشرک کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ ” اللہ “ ہر قسم کے شرک سے پاک اور اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے تمام مخلوقات سے اعلیٰ اور بےمثال ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ أُرَاہُ یَقُول اللّٰہُ شَتَمَنِیْ ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِیْ ، وََکَذَّبَنِیْ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُ ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِیْ کَمَا بَدَأَنِیْ )
[ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالٰی (وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں۔ وہ میری تکذیب کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے لائق نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے اولاد بنا رکھی ہے اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا ہے۔ “
مشرک کا گناہ :
(اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا) [ النساء : 48]
” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کرنے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہتان باندھا اور بہت بڑا گناہ کیا۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ ہی سب کو پیدا کرتا ہے اور وہی سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔
2۔ ” اللہ “ ہی موت دینے والا اور وہی دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔
3۔ ” اللہ تعالیٰ “ مشرکوں کے شرکاء اور ان کے بدترین عقیدہ سے پاک اور بلندوبالا ہے۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ ہی خالق، مالک، رازق اور وہی موت وحیات کا مالک ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام انسانوں اور زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ (البقرۃ : 22)
2۔ ” اللہ “ ہی نے انسان کو بڑی اچھی شکل و صورت میں پیدا فرمایا۔ (التین : 4)
3۔ ” اللہ “ نے انسان کو ایک نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 4۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ (الروم : 20)
5۔ ” اللہ “ نے ایک ہی جان سے سب انسانوں کو پیدا کیا۔ (الاعراف : 189)
6۔ ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54)
7۔ لوگو ! اس رب سے ڈر جاؤ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1)
8۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذّاریات : 58) 9۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (سبا : 39)
10۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا بلکہ وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 132)
11۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ : 212) 12۔ اللہ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا۔ (البقرۃ : 73)
13۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : 60)
14۔ اللہ تعالیٰ ہی مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کرتا ہے۔ (آل عمران : 27)
Ayahs 30:41–42فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں صدقہ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ سود خوری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اب ان کے دنیا میں پیدا ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید نے انسان کو بارہا دفعہ یہ حقیقت بتلائی اور سمجھائی ہے کہ اے انسان تیرا خالق، رازق، مالک اور بادشاہ صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ جس کا پہلا اور بنیادی تقاضا ہے کہ تم بلاشرکت غیرے میری بندگی کرو اور آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔ لیکن انسانوں کی غالب اکثریت نے اپنے رب کی ذات اور اس کے احکام کو فراموش کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کی بالخصوص مالی استحاصل کیا۔ جس کا نتیجہ نکلا کہ دنیا امن وامان کی بجائے فتنہ و فساد کا گہوارہ بن گئی یہاں تک کہ بحروبرّمیں فساد برپا ہوا۔ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا، بیٹا باپ کا دشمن بنا میاں اور بیوی کے درمیان تفریق پیدا ہوئی، ماں نے اپنے معصوم بچوں کا گلا گھونٹا۔ رشتوں کا تقدس پامال ہوا، لوگوں کی عزتیں تارتار ہوئیں، بڑوں کا دل چھوٹوں کی محبت سے خالی ہوا اور چھوٹے بڑوں کے گستاخ ٹھہرے۔ ایک ملک نے دوسرے پر چڑھائی کی، طاقتور نے کمزور کو پیوند خاک کیا، گھر ویران ہوئے بستیاں اجڑ گئیں، ملک تباہ ہوئے۔ اس طرح انسان کا اپنا ہی کیا اس کے سامنے آیا۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں لوگوں کو ان کے کیے کا انجام اس لیے دکھاتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ لیکن انسان ہے جو سب کچھ دیکھنے اور پانے کے باوجود اپنے رب کی طرف پلٹنے کا نام نہیں لیتا اس کا پہلا اور بنیادی سبب یہ ہے کہ انسان صرف ایک اللہ سے ڈرنے کی بجائے دوسروں سے ڈرتا ہے اس پر توکل کرنے کی بجائے دوسروں پر بھروسہ کرتا ہے اس کے حضور جھکنے کی بجائے خود ساختہ معبودوں کے سامنے سرجھکاتا ہے۔ اس کا حکم ماننے کی بجائے دوسروں کا حکم مانتا ہے یہی شرک ہے اور اسی کے سبب انسان، انسان بننے کی بجائے حیوان اور درندہ بن جاتا ہے۔ اسی سے نظام بگڑتا ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے ہلاک کیا اگر یقین نہیں آتا تو انسان دنیا کی تاریخ پڑھے اور چل پھر کر نگاہ عبرت سے قوموں کے کھنڈرات دیکھے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے کفرو شرک اور ظلم و ستم کرنے والوں کو کس طرح تباہ کیا۔ اس فرمان کے پہلے مخاطب عرب تھے جنہوں نے ایک دوسرے کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ دوسرے مخاطب ایرانی اور رومی تھے جنہوں نے اس وقت پوری دنیا کے امن کو تہہ بالا کردیا تھا۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس لیے ان کے اعمال کا کچھ نہ کچھ انجام دکھلاتا ہے تاکہ لوگ اپنے رب کے حضور توبہ کریں اور آخرت کے عذاب سے بچ جائیں اس طرح دنیا کے عذاب میں ہمارے رب کی شفقت پنہاں ہوتی ہے۔ انسان کو اس کا خیال رکھتے ہوئے اپنے رب کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔
مسائل
1۔ بحروبر میں فساد برپا ہونے کا بنیادی سبب ” اللہ “ کی بغاوت اور اس کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے برے اعمال کا انجام دکھاتا ہے تاکہ لوگ تائب ہوجائیں۔
3۔ دنیا کا جغرافیہ اور تاریخ اقوام کی تباہی پر گواہ ہیں۔
تفسیر بالقرآن
فساد فی الارض کے بنیادی اسباب :
1۔ فساد بپا کرنے اور برے انجام سے دوچار ہونے والوں کی اکثریت مشرک تھی۔ (الروم : 41، 42)
2۔ فرعون فساد کرنے والا تھا۔ (یونس : 91) 3۔ ماپ تول کو انصاف سے پورا کرو۔ (الانعام : 52)
4۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا لین دین میں کمی کے ذریعے زمین میں فساد کرنے کا باعث نہ بنو۔ (الاعراف : 85)
5۔ زمین میں فساد لوگوں کے اعمال کا نتیجہ ہے (الروم : 41) 6۔ ماپ تول کو پورا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دو ۔ (الاعراف : 85)
7۔ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے کفار اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے : (آل عمران : 112)
Ayahs 30:43–45فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کے فساد اور برے انجام سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ انسان اسی بنیاد پر ہی دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
عقیدہ توحید اور دین کی اہمیّت اور اس کی فضیلت کے پیش نظر براہ راست سرور دوعالم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ مشرک جس قدر چاہیں عقیدہ توحید اور دین اسلام کو ناپسند کریں اور اس کی مخالفت کرتے رہیں آپ کو ہر حال میں اپنے چہرے کو اپنے رب کی طرف رکھنا اور دین اسلام پر قائم رہنا چاہیے۔ اس دن سے پہلے جو ہر صورت آکر رہے گا جو کسی کے انکار یا اقرار سے ٹل نہیں سکتا۔ اس دن سب لوگ منتشر ہوں گے کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جس نے عقیدہ توحید اپنانے کے ساتھ نیک عمل کیے اس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس دن ایمان دار اور صالح عمل کرنے والوں کو اپنی طرف سے مزید فضل وکرم سے نوازے گا۔ کفار اور مشرکین کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کسی صورت بھی انہیں پسند نہیں کرتا۔ جسے اللہ تعالیٰ پسند نہ کرے اس کا انجام کس طرح اچھا ہوسکتا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ ” اَلدِّیْنِ “ سے مراد عقیدہ توحید اور پورا دین ہے۔ اس میں دو اشارے پائے جاتے ہیں کہ ہر آدمی کو مرتے دم تک عقیدہ توحید اور دین پر قائم رہنا چاہیے اور دوسرا اشارہ یہ ہے کہ ” لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کا عقیدہ اور دین اسلام قیامت تک باقی رہے گا۔
جس طرح قیامت کسی کے ٹالنے سے ٹل نہیں سکتی اسی طرح مخالفوں کی مخالفت کے باوجود دین اسلام قیامت تک قائم رہے گا جس کا سرفہرست عنوان عقیدہ توحید ہے جو اس کا انکار کریں گے وہ سزا پائیں گے اور جو اس کا اقرار کریں گے وہ بہترین جزاپائیں گے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ ” یَمْھَدُوْنَ “ ” مَہَدَ “ سے ہے جس کا معنٰی ہے بستر بچھانا، راستہ ہموار کرنا بھی ہے۔ مفہوم یہ ہوا کہ ایماندار لوگ صالح اعمال کے ساتھ دنیا میں رہتے ہوئے جنت کا راستہ ہموار کر رہے ہیں بالفاظ دیگر جنت میں اپنا بستر بچھا رہے ہیں۔ کسی چیز پر چہرہ جمانے سے مراد اس کی طرف کامل توجہ کرنا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنا ہے۔
” حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول محترم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں کہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے سوال کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے دوسری روایت میں ہے ’ آپ کے علاوہ ‘ کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ فرمایا اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس پر قائم ہوجاؤ۔ “ [ رواہ مسلم : باب جامِعِ أَوْصَافِ الإِسْلاَمِ ]
(عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لَا تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی لَا یُقَالَ فِی الْأَرْضِ اللّٰہُ ، اللّٰہُ )
[ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
” حضرت انس ؓ فرماتے ہیں بیشک رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والے لوگ موجود ہوں گے۔ “
تفسیر بالقرآن
عقیدہ توحید اور دین اسلام پر ہمیشہ قائم رہنے کا حکم :
1۔ آج کے دن تمہارے لیے تمہار ادین مکمل ہوا، میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔ (المائدۃ : 3)
2۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔ (آل عمران : 19) 3۔ اپنے چہرے کو دین حنیف پر سیدھا کیے چلتے جاؤ۔ (الروم : 30)
4۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے لہٰذا تمہیں اسلام پر ہی موت آنی چاہیے۔ (البقرۃ : 132)
5۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیک لوگوں سے ملا دے۔ یوسف (علیہ السلام) کی دعا۔ (یوسف : 101)
6۔ کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : 83)
7۔ جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : 85)