30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsفہم القرآن

Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی نشانی ہے کہ وہ خوشخبری دینے کے لیے ہوائیں بھیجتا ہے تاکہ تمہیں اپنی رحمت سے ہمکنار کرے اور اس کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں۔ تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار ہوجاؤ

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کفار کو اس لیے پسند نہیں کرتا کہ وہ اس کی ذات کے منکر اور اس کی نعمتوں کے ناشکرے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو ان کے اعمال کے بدلے جزا دینے کے ساتھ اپنے فضل سے مزیدنوازے گا اور کفار کو پسند نہیں کرتا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مومن اللہ کی ذات پر بلاشرکت غیرے ایمان لانے کے ساتھ اس کے احکام مانتے ہوئے اس کی نعمتوں پر شکر گزار رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کافر اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا انکار کرنے کے ساتھ اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے حالانکہ ” اللہ “ کی پہچان کے لیے، اس کی قدرت کی نشانیاں اور اس کی رحمتیں اس قدر ہمہ گیر اور ہمیشہ سے جاری ہیں کہ جن سے کافر بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ٹھنڈی ہواؤں پر غور کریں کہ موسم گرما میں جوں ہی چلتی ہیں اس سے کافر اور مومن مسرور ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب بارش برسنے ہی والی ہے بارش ہوتی ہے تو انسان ہی نہیں بلکہ درند پرند یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح بحری سفر کرنے والے کافر ہوں یا مومن سب کے سب مستفید ہوتے ہیں۔ باد موافق سے ان کے سفر کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور وہ بڑے اطمینان کے ساتھ بحری سفر کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو وسعت دیتے اور اپنی منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں۔ سفری سہولتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ سمندر میں طلاطم پیدا کردے اور ہواؤں کو مخالف سمت پر چلا دے تو بادبانی کشتیاں تو درکنار ہزاروں ہارس پاور (HORSE POWER) انجنوں سے چلنے والے جہاز بھی کئی کئی دن تک اپنی جگہ پر ٹھہرے رہتے ہیں حالانکہ اس کی عطائیں اس لیے ہیں کہ لوگ اپنے رب کا شکر بجالائیں لیکن کافر کفر اور مشرک اپنے رب کے ساتھ شرک کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ اس کا شکر کروگے تو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا۔ (وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزٍیْدَنَّکُمْ وَ لَءِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ) [ ابراہیم : 7] ” اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب بہت سخت ہے۔ “ (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَخَذَ بِیَدِہِ وَقَالَ یَا مُعَاذُ وَاللَّہِ إِنِّیْ لَاُحِبُّکَ وَاللَّہِ إِنِّیْ لأُحِبُّکَ فَقَالَ أُوصِیْکَ یَا مُعَاذُ لاَ تَدَعَنَّ فِی دُبُرِکُلِّ صَلاَۃٍ تَقُوْلُ اللَّہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ أبوداوٗد : باب فی الإستغفار ] ” حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور دو مرتبہ فرمایا اے معاذ ! اللہ کی قسم میں تجھ سے محبت کرتا ہوں پھر فرمایا اے معاذ ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنے نہ چھوڑنا : الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “ مسائل 1۔ ہوائیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی سمندروں میں کشتیاں اور جہاز چلانے والا ہے۔ 3۔ انسان کو اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن شکر کرنے کا حکم اور اس کے فائدے : 1۔ لوگو ! اللہ کو یاد کرو اللہ تمہیں یاد کرے گا اور اس کا شکر ادا کرو کفر نہ کرو۔ (البقرۃ : 152) 2۔ لوگو ! تم اللہ کا شکر ادا کرو اور ایمان لاؤ۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی قدر دان ہے۔ (النساء : 147) 3۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو وہ تمہیں مزید عطا فرمائے گا۔ (ابراہیم : 7) 4۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دل، آنکھیں اور کان دیے تاکہ تم شکر کرو۔ (السجدۃ : 9) 5۔ اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ نعمتیں کھا کر اس کا شکر کرو۔ (البقرۃ : 172) 6۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرو۔ (العنکبوت : 17) 7۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں تمہارے لیے سامان زندگی بنائے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (الاعراف : 10) 8۔ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم شکر کرو۔ (الحج : 36) 9۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزار بندوں میں شامل ہوجاؤ۔ (الزمر : 66) 10۔ میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہو بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (لقمان : 14) 11۔ لوگوں میں بہت کم لوگ شکرادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ (سبا : 13)
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ پھر جنہوں نے جرم کیا ہم نے ان سے انتقام لیا اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر حق تھا

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں بتلانے اور توحید کا سبق سکھلانے کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ پہلے ابر کرم کا ذکر کیا اب رحمت نبوت کا ذکر کیا جاتا۔ جس طرح بارش سب کے لیے ہوتی ہے اسی طرح نبوت کی دعوت بھی عام اور سب کے لیے ہے۔ جس طرح لوگوں کی اکثریت اپنے رب کی شکر گزار نہیں ہوتی اسی طرح لوگوں کی اکثریت نبوت کی ناقدری کرتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ نبوت کا فیض سب کے لیے عام ہوتا ہے جس سے مومن فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت بہتر بناتے ہیں کافر اس کی مخالفت کرکے دنیا اور آخرت میں نقصان پاتے ہیں حالانکہ ان کے سامنے انبیاء کرام (علیہ السلام) ٹھوس دلائل اور کھلے معجزات پیش کرتے ہیں۔ لیکن کافر نہ صرف ان کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ جب لوگ ظلم کی حدود پھلانگ جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ظالموں سے ان کے ظلم کا بدلہ لے کر انبیاء اور مومنوں کو ممتاز کردیتا ہے ایسا کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے جس دن گواہ کھڑے کیے جائیں گے۔ “ [ المومن : 51] تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے نوح، ابراہیم، ہود، صالح، شعیب، موسیٰ ، عیسیٰ اور نبی ﷺ کی مدد فرمائی : 1۔ (البقرۃ : 253۔ التوبۃ : 40۔ البقرۃ : 87۔ الشعراء : 65۔ یوسف : 34۔ الاعراف : 64۔ ہود : 94۔ الاعراف : 83)
Ayahs 30:48–49

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ “ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بھاری بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ جس طرح چاہتا ہے بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے اور انہیں ٹکڑوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے بارش برساتا ہے تو یکایک وہ خوش ہوجاتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

حالانکہ اس کے برسنے سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے

فہم القرآن ربط کلام : نبوت کے بیان کے بعد توحید کے دلائل دئیے جاتے ہیں۔ جس ” اللہ “ نے اپنی پہچان کے لیے انبیاء کرام (علیہ السلام) بھیجے۔ وہی ہوائیں چلاتا ہے جو ابر کرم کو اٹھاتی، فضا میں پھیلاتی اور برساتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بادلوں کو ٹکڑیوں کی صورت میں تقسیم کرتا ہے پھر اسی کے حکم سے بادلوں سے بارش برستی ہے۔ بارش برسنے سے پہلے لوگ مایوسی کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے بارش سے سیراب کرتا ہے جن پر بارش برستی ہے وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ بارش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ اس پر انسان سوچے تو اسے معلوم ہوجائے کہ لوگوں کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کس طرح بارش کا انتظام کرتا ہے۔ جہاں بارش برستی ہے غور فرمائیں سمندر اس مقام سے کتنی دورہوتا ہے۔ سمندر کا پانی سورج کی تپش سے بخارات کی صورت میں اٹھتا ہے جسے ہوائیں اٹھا کر ایک خاص بلندی پر لے جا کر کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔ نہ سورج کی تپش سے پانی خشک ہوتا اور نہ ہی ہوا کی گرفت سے نکل کر نیچے گرتا ہے۔ بادلوں کی شکل میں لاکھوں، کروڑوں ٹن پانی ہوائیں ادھر ادھر لیے پھرتی ہیں کیا مجال کہ کوئی بادل جوں کا توں کہیں گرجائے بادل وہاں برستا ہے جہاں اسے اللہ تعالیٰ برسنے کا حکم دیتا ہے۔ اب بارش برسنے کے انداز اور رفتار پر غور فرمائیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں بادل یکدم اپنا پانی بہادے اگر ایسا ہوتا تو بستیوں کی بستیاں غرقاب ہوجاتیں اور زمین پر کوئی چیز باقی نہ رہتی کیا بخارات کا بنانا، ہواؤں کا اٹھانا اور فضا میں بادلوں کو ادھر ادھر لیے پھرنا پھر قطرہ قطرہ کرکے پانی برسنا اور اس سے ساری کے ساری فضا اور درختوں کے پتوں کو غسل دینا کیڑے مکوڑوں سے لے کر پرندوں تک پانی پہنچاناکسی حکومت کے بس کا کام ہوسکتا ہے ؟ (بارش کے بارے میں نبی ﷺ سے یہودیوں کا سوال اور آپ کا جواب اس سورة کی آیت 24 کی تفسیر میں دیکھیں۔ ) (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُول اللَّہ ﷺ مَطَرٌ قَالَ فَحَسَرَ رَسُول اللَّہِ ﷺ ثَوْبَہُ حَتَّی أَصَابَہُ مِنَ الْمَطَرفَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ لِمَ صَنَعْتَ ہَذَا قَالَ لأَنَّہُ حَدِیثُ عَہْدٍ بِرَبِّہِ تَعَالَی ) [ رواہ مسلم : باب الدُّعَاءِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ] ” حضرت انس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول ﷺ کے ساتھ تھے۔ بارش ہوئی تو رسول ﷺ نے اپنے جسم سے کپڑا ہٹایا۔ بارش کا پانی آپ کے جسم مبارک کو لگا۔ ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا میں نے ایسے اس لیے کیا کیونکہ بارش اپنے رب سے نئی نئی ملاقات کرکے آئی ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا اسْتَسْقَی قَال اللَّہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہَاءِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ )[ رواہ ابو داؤدد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ] ” حضرت عمرو بن شعیب ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ جب بارش کے لیے دعا کرتے تو فرماتے : اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہِیمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ ” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی ہواؤں کے ذریعے بادل اٹھاتا اور پھر اپنے حکم سے لوگوں کو پانی پلاتا ہے۔ 2۔ لوگ بارش برسنے سے خوش ہوجاتے ہیں۔ 3۔ بارش برسنے سے پہلے انسان کے چہرے پر ناامیدی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں بارش کا ذکر : (النمل : 60) (الاعراف : 57) (البقرۃ : 164) (لقمان : 34) (ہود : 52) (النحل : 22) (نوح : 10۔ 12) (النور : 43)
Ayahs 30:50–51

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

اللہ “ کی رحمت کے اثرات دیکھو کہ وہ مردہ زمین کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ یقیناً وہی مردوں کو زندگی عطا کرنے والا ہے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیج دیں جس کی تلخی سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو وہ کفر کرنے والے ہوجائیں

فہم القرآن ربط کلام : بارش پر مزید غور کرنے کا حکم۔ اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ پھر اللہ کی رحمت پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ بارش کے بعد مردہ زمین کو کس طرح زندہ کرتا ہے جو ” اللہ “ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے جس سے کئی قسم کی نباتات اور کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ جن ہواؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اگر انہی ہواؤں کو بادصرصر بنادے جو ہر چیز کو جلا کر رکھ دیں تو انسان ناشکری کرنے کے سوا کیا کرسکتے ہیں ؟ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بارش سے نباتات اور دیگر چیزوں کی تخلیق کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جو ذات کبریا بارش کے ذریعے زمین میں پڑی ہوئی مردہ چیزوں کو زندہ کرتی ہے کیا وہ مردہ انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتی ؟ اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جن ہواؤں کے ذریعے بارش برساتا ہے انہیں ہواؤں کے ذریعے لہلہاتی کھیتیوں کو جلا کر خاکستر کر دے اس کے سوا نہ کوئی باد رحمت چلاسکتا ہے اور نہ ہی باد صرصر کو روک سکتا ہے گویا کہ اسے مخلوق کی فنا اور بقا پر پورا پورا اختیار حاصل ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ ، قَالَ مَا ہَبَّتْ رِیْحٌ قَطُّ إِلَّا جَثَاالنَّبِیُّ ﷺ عَلیٰ رُکْبَتَیْہِ وَقَالَ اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہَا رَحْمَۃً وَلَا تَجْعَلْہَا عَذَابًا، اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہَا رِیَاحاً وَلَا تَجْعَلْہَا رِیْحاً ) [ رواہ البیھقی : باب ذکر مسألۃ اللہ عز وجل۔۔] ” عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب بھی ہوا چلتی تو نبی اکرم ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور دعا کرتے۔ اے اللہ ! اس کو رحمت بنانا، عذاب کا باعث نہ بنانا۔ اے اللہ ! اس کو رحمت والی ہوا بنانا، عذاب والی آندھی نہ بنانا۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ؓ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِذَا اسْتَسْقٰی قَال اللَّہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہَاءِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ )[ رواہ ابو داؤدد : باب رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِی الاِسْتِسْقَاءِ ] ” حضرت عمرو بن شعیب ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ جب بارش کے لیے دعا کرتے تو کہتے : (اللّٰہُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَہَاءِمَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَأَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ ) ” اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو بارش کے ذریعے پانی پلا اور اپنی رحمت کو پھیلاتے ہوئے مردہ زمین کو زندہ کردے۔ “ مسائل 1۔ بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جب برستی ہے تو اس پر غور کرنا چاہیے۔ 2۔ جس طرح بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے : 1۔ تم ” اللہ “ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرما دے گا۔ (ہود : 52) 2۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو وہ معاف کرے گا، بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : 10۔ 12) 3۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) 4۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60) 5۔ اللہ تعالیٰ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11) 6۔ اللہ تعالیٰ پانی سے ہر قسم کی نباتات پیدا کرتا ہے۔ (الانعام : 99) 7۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تاکہ تم طہارت حاصل کرو۔ (الانفال : 11)
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

اے نبی آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے نہ ان بہروں کو اپنی بات سنا سکتے ہیں جو پیٹھ پھیرے چلے جا رہے ہیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ راست پر لاسکتے ہو۔ آپ تو صرف انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور انہیں مانتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں پوری کائنات میں پھیلا رکھی ہیں اور اس نے اپنی توحید کے دلائل کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں لیکن اندھے اور بہرے لوگ اس کی نشانیوں کو غور سے دیکھنے اور دلائل کو توجہ کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ سروردوعالم ﷺ لوگوں کو دن رات اللہ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتے لیکن کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود اس کی ذات کو بلاشرکت غیرے ماننے اور اس کی توحید کے دلائل سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ ایسے لوگوں کی حقیقت بتلانے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے فرمایا گیا کہ اے رسول آپ نے اپنے کام میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اگر یہ لوگ حقائق دیکھنے سے اندھے اور سچ سننے سے بہرے ہوچکے ہیں تو آپ کو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ ایسے اندھوں کو ہدایت دینے والے نہیں ہیں جو ہدایت سے دوربھاگنے والے ہیں۔ آپ ان لوگوں کی راہنمائی کرسکتے ہیں جو ہمارے ارشاد ات پر ایمان لانے والے ہیں حقیقتاً یہی لوگ ہماری فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ یہاں اندھے اور بہروں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہدایت کے بارے میں دل کے اندھے اور حقیقت سننے سے بہرے ہوچکے ہیں۔ (اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بالْمُھْتَدِیْنَ ) [ القصص : 56] ” اے نبی آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔ “ یہاں اس بات کی بھی نفی ہوجاتی ہے کہ مردے نہیں سنتے گو یہاں مردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو روحانی طور پر مردہ ہوچکے ہیں حالانکہ کان، آنکھیں اور دل موجود ہیں۔ جو (PHYSICALLY) طور پر اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ روحانی صلاحتیں کھو چکے ہیں اس لیے وہ سچی بات سنتے نہیں۔ مردے نہیں سنتے : جب کوئی حقیقتاً جسمانی طور پر مردہ ہوجائے تو پھر وہ کس طرح سن، دیکھ اور سوچ سکتا ہے ؟ اس لیے قرآن مجید نے مردوں کے بارے میں فرمایا ہے۔ ” کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو پکڑ سکتے ہوں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہوں فرما دیں تم اپنے سب شرکاء کو بلا لو، پھر میرے خلاف تدبیر کرو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو ۔ یقینا میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے ہیں۔ “ [ الاعراف : 195] یہ حال صرف بتوں کا نہیں بلکہ قبروں میں مدفون بزرگ کا بھی یہی حال ہے۔ (وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ) النحل : 20۔ 21] ” اور جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ مردے ہیں زندہ نہیں۔ انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ “ [ النحل : 19، 20] (وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ اِنَّ اللّٰہَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِیْ الْقُبُوْرِ ) [ فاطر : 22] ” زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا سکتا ہے آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے۔ “ (اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[ النمل : 80] ” آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے نہ ان بہروں تک اپنی آواز پہنچا سکتے جو پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ مردوں اور بہروں کو نہیں سنا سکتے تھے۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ دل کے اندھوں اور ایمان نہ لانے والوں کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ 3۔ ہدایت وہی لوگ پاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر دل سے ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں کمزور اور بوڑھا کردیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو ” رب “ بارش برستا اور ہوائیں چلاتا ہے اس کی مزید صفات ملاحظہ فرمائیں۔ ” اللہ “ ہی وہ ذات ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد قوت عطا فرمائی۔ قوت دینے کے بعد پھر وہ تمہیں کمزوری اور بڑھاپے میں مبتلا کردیتا ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ ہر بات کا علم رکھنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کے تین مرحلوں کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو پیدائش کے وقت انتہائی کمزور پیدا کرتا ہے۔ انسان اعضاء کے اعتبار سے اس قدر چھوٹا اور کمزور ہوتا ہے کہ وہ نہ چل سکتا ہے نہ اپنے آپ بیٹھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اپنے ہاتھ سے کھا، پی سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ابتدائی ایّام میں وہ کروٹ بھی نہیں بدل سکتا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے اس کی مامتا کے ذریعے کھلاتا پلاتا ہے۔ پھر انسان پر ایسا وقت آتا ہے کہ جب یہ اپنی قدوقامت، جسمانی قوت اور فکری صلاحیت کے اعتبار سے عالم شباب کو پہنچ جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسی انسان کی آہستہ آہستہ قوت سلب کرکے اسے بڑھاپے میں مبتلا کردیتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں اس فرمان میں انسان کو اس کے تخلیقی مراحل یاد کروائے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے خالق کو پہچانے اور اسی کے سامنے سرفگندہ رہنے کی کوشش کرے۔ اور اسی کا قانون تسلیم کرے اور ہر وقت اس کا ذہن رہے کہ میں جو کچھ بھی ہوں اور جو کر رہا ہوں وہ سب کا سب میرے رب کا عطا کردہ ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے اور وہ ہر چیز پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ جس طرح میری زندگی کے مختلف مراحل اس کے قبضے میں ہیں اسی طرح ہی وہ میری نافرمانی پر مجھے پکڑنے پر قادر ہے۔ (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنسَانَ مِنْ سُلاَلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ اَنشَءْنٰہُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ) [ المؤمنوں : 12 تا 14] ” یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ ٹھہرایا۔ پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنایا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کے ٹکڑے میں تبدیل کیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنایا۔ پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنایا۔ پھر ایک شکل و صورت میں اسے پیدا کیا۔ برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرتا پھر جوان کرتا اور اس کے بعد ضعیف اور بوڑھا کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسانی زندگی کے مختلف مراحل : 1۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26) 2۔ انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 3۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 4۔ حوا کو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1) 5۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 6۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20) 7۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11) 8۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر انسان پیدا کیا۔ (الحج : 5) 9۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ پھر تمہیں بوڑھا کرتا اور کچھ تم میں بڑھاپے سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں اور کچھ اپنی عمر کو پہنچ جاتے ہیں کیا پھر بھی تم عقل نہیں کرتے۔ (المومن : 67) 10۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکھف : 37)
Ayahs 30:55–57

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جب قیامت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں، اسی طرح وہ دھوکا کھایا کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

مگر جو علم اور ایمان والے تھے وہ کہیں گے کہ اللہ کی کتاب میں تو تم حشر کے دن تک پڑے رہے ہو۔ ، سو یہی حشر کا دن ہے لیکن تم جانتے نہ تھے

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن ظالموں کی معذرت انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

فہم القرآن ربط کلام : جو ” اللہ “ انسان کو پیدا کرنے، جوان اور بوڑھا کرنے پر قادر ہے وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا فرما کر لوگوں کو زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں پیش کرے گا۔ مجرم قیامت کی سختی اور اللہ تعالیٰ کا جلال دیکھ کر قسمیں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ انہیں فرمایا جائے گا جس طرح تم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول چکے ہو اسی طرح تم قیامت کو فراموش کرچکے تھے۔ جس بنا پر تم سوچتے نہیں تھے کہ کل ہمیں اپنے عقائد اور اعمال کا جواب دینا ہے۔ جب مجرم ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھا رہے ہوں گے تو قیامت پر یقین رکھنے والے ایمان دار لوگ انہیں کہیں گے تم اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی جو اس نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے یعنی تم اپنی عمر کے مطابق دنیا میں رہے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگئی یہی وہ دن ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔ اس دن وہ معذرت پر معذرت کریں گے لیکن ان کی معذرت اور آہ زاریاں قبول نہیں کی جائیں گی۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن مجرم دنیا میں رہنے کی مدّت کو بھول جائیں گے۔ 2۔ صاحب ایمان لوگ مجرموں کو یاد کروائیں گے یہی قیامت ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔ 3۔ قیامت کے دن مجرموں کو معذرت کرنے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ 4۔ قیامت کے دن مجرموں کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرمین کی حسرت اور التجائیں : 1۔ اسلام کا انکار کرنا منکرین کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ (الحاقۃ : 50) 2۔ مشرکین قیامت کے دن حسرت کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 167) 3۔ قیامت کے دن منکر حسرت وافسوس کریں گے۔ (الانعام : 31) 4۔ قیامت کے دن مجرم دنیا کی بری دوستی پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ (الفرقان : 27 تا 29) 5۔ مجرم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجانے کی خواہش کریں گے۔ (النساء : 42، النباء : 40) 6۔ مجرم دنیا میں لوٹ کر نیک عمل کرنے کی تمناکریں گے۔ (السجدۃ : 12) 7۔ مجرم افسوس کا اظہار کریں گے کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔ (الفرقان : 28) 8۔ جہنم کے داروغہ سے درخواستیں کریں گے۔ (الزخرف : 77) 9۔ اپنے مرشدوں اور لیڈروں کو دگنی سزا دینے کا مطالبہ کریں گے۔ (الاحزاب : 68) 10۔ مرید اپنے مرشدوں کو اپنے پاؤں تلے روندنے کا مطالبہ کریں گے۔ (السجدۃ : 29) 11۔ مجرم کہیں گے اب ہمارا چیخنا چلانا اور صبر کرنا برابر ہے۔ (ابراہیم : 21)
Ayahs 30:58–60

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

میں نے اس قرآن میں لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا۔ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تم کوئی نشانی لے آؤ۔ وہ کہیں گے کہ تم جھوٹ پر ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو بےعلم ہیں

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس اے نبی صبر کرو یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آپ کو ہرگز ہلکا نہ کردیں وہ لوگ جو یقین نہیں کرتے

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کی معذرتیں اس لیے قبول نہیں ہوں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین اور اپنی توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں ہر طرح کی مثالیں دے کر انہیں سمجھایا ہے۔ اس فرمان کے دو مطالب ہیں ایک طرف قبل از وقت مجرموں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر تم نے کفر و شرک پر تکرار جاری رکھا تو یاد رکھو وہ دن دور نہیں جب تم اپنے کیے پر معذرتیں کروگے لیکن تمہاری معذرتوں کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جائے گا لہٰذا سنبھلنا چاہتے ہو تو آج موقعہ ہے سنبھل جاؤ ورنہ پچھتاوے کے سو اکچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف نبی کریم ﷺ کو تسلّی دی گئی ہے کہ اگر آپ ان کے سامنے مزید دلائل اور معجزے پیش کریں تو پھر بھی یہ لوگ آپ پر جھوٹ کا الزام لگائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ حقیقت کا علم نہیں جاننا چاہتے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہرثبت کردیتا ہے جس وجہ سے ان کا ہدایت قبول کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے وہ انہیں ان کے کیے کی ضرور سزا دے گا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ہلکا کردیں اس لیے آپ کو صبر کرنا چاہیے۔ ” وَلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ “ کا دوسرا معنٰی یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور کام کو ہلکا بنانا چاہتے ہیں جس میں یہ ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔ یعنی دشمن تم کو ایسا کمزور نہ پائیں کہ ان کے شور و غوغا سے تم دب جاؤ یا ان کی بہتان و افتراء کی مہم سے مرعوب ہوجاؤیا ان کی پھبتیوں اور طعنوں اور تضحیک و استہزاء سے تم پست ہمّت ہوجاؤ یا ان کی دھمکیوں اور طاقت کے مظاہروں اور ظلم وستم سے تم ڈرجاؤ یا ان کے دیے ہوئے لالچوں سے تم پھسل جاؤ یا قومی مفاد کے نام پر جو اپیلیں وہ تم سے کررہے ہیں ان کی بنا پر تم ان کے ساتھ مصالحت کرلینے پر اتر آؤ۔ اس کی بجائے وہ تم کو اپنے مقصد کے شعور میں اتنا ہوشمند اور اپنے یقین و ایمان میں اتنا پختہ اور اس عزم میں اتنا راسخ اور اپنے کیرکٹر میں اتنا مضبوط پائیں کہ نہ کسی خوف سے تمہیں ڈرایا جاسکے، نہ کسی قیمت پر تمہیں خریدا جاسکے، نہ کسی فریب سے تم کو پھسلایا جاسکے، نہ کوئی خطرہ یا نقصان یا تکلیف تمہیں اپنی راہ سے ہٹا سکے اور نہ دین میں کسی لین دین کا سودا تم سے چکایا جاسکے۔ یہ سارا مضمون اللہ تعالیٰ کے کلام کی بلاغت نے اس ذرا سے فقرے میں سمیٹ دیا ہے کہ یہ بےیقین لوگ تم کو ہلکا نہ پائیں۔ اب اس بات کا ثبوت تاریخ کی بےلاگ شہادت دیتی ہے کہ نبی ﷺ دنیا پر ویسے ہی بھاری ثابت ہوئے جیسا کہ اللہ اپنے آخری نبی ﷺ کو بھری بھرکم دیکھنا چاہتا تھا۔ آپ ﷺ سے جس نے جس میدان میں بھی زور آزمائی کی۔ اس نے اسی میدان میں مات کھائی اور آخر اس شخصیت عظمیٰ نے وہ انقلاب برپا کردکھایا جسے روکنے کے لیے عرب کے کفر و شرک نے اپنی ساری طاقت صرف کردی اور اپنے سارے حربے استعمال کرڈالے۔ (تفہیم القرآن جلد 3) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دین اور اپنی توحید سمجھانے کے لیے کئی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ 2۔ قیامت کے منکروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ گمراہی کی مہر لگا دیتا ہے۔ 3۔ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ کو صبر کرنے کی تلقین : 1۔ اگر یہ لوگ آپ سے منہ موڑ لیں تو آپ ” اللہ “ پر بھروسہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ ( التوبہ : 129) 2۔ نبی ﷺ کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5) 3۔ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کیجیے۔ (الدھر : 24) 4۔ تکلیف پر صبر کیجیے یقیناً یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ (لقمان : 17) 5۔ صبر کیجیے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ( الحج : 55) 6۔ اے نبی ﷺ ! کفار کی باتوں پر صبر کیجیے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں۔ (طٰہٰ : 130)