Ayahs 31:1–5فہم القرآن
سورۃ الرّوم کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں مگر قرآن کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم نہیں مانیں گے۔ ان کے انکار کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اے رسول ﷺ ! اس پر صبر کیجیے کہ آپ کے مخالف آپ میں ہلکا پن پیدانہ کردیں۔ سورة لقمان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ بنایا ہے گویا کہ یہی قرآن کچھ لوگوں کی گمراہی کا سبب بن رہا ہے اور کچھ کے لیے باعث ہدایت ثابت ہورہا ہے۔ ہدایت یافتہ لوگ یہی کامیاب ہونگے۔
الف، لام، میم حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں عرض ہوچکا ہے کہ ان کا معنٰی نبی ﷺ سے ثابت نہیں لہٰذا انہیں اسی طرح ہی پڑھنا چاہیے۔ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں جو نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔ ایسے لوگ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہیں آخرت کے قائم ہونے پر پورا یقین ہے کہ یہ برپا ہو کر رہے گی اور اس میں نیکی کی جزا اور بدی کی سزا دی جائے گی۔ یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید کے بیشمار اوصاف جمیلہ کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں مرکزی اور بنیادی وصف دو ہیں 1 قرآن مجید پڑھنے، اس پر غور کرنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے سے انسان اپنے رب کی رحمت کا مستحق ٹھہرتا ہے اور دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے قرآن مجید کے بنیادی مضامین میں توحید و رسالت کے بعد تین مضامین ہیں جن کی باربار تاکید کی جاتی ہے۔ نماز کو اس کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنا، زکوٰۃ کو اس کے اصولوں کے تحت خرچ کرنا، اور آخرت پر یقین رکھنا ہے 2 یقین کا معنٰی ہے کہ آدمی زبان سے اقرار اور اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تسلیم کرے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں ایک دن اس کا حساب دینا ہے۔ اسی تصور کے پیش نظر آخرت کے بارے میں قرآن مجید اکثر مقامات پر ایمان کی بجائے یقین کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ انسان کا ایمان وایقان جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر اس کے اخلاق اور اعمال میں نکھار اور سنوار پیدا ہوگا۔
مسائل
1۔ قرآن مجید پر حکمت، ہدایت اور رحمت کا مرقع ہے۔
2۔ قرآن مجید سے وہی لوگ مستفید ہوسکتے ہیں جو نیکی کے طالب ہوں گے۔
3۔ تمام نیکیوں کا انحصار نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور آخرت پر یقین رکھنے میں ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک :
1۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف : 1)
3۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : 1) 4۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174)
5۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 6۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس : 57)
7۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
8۔ قرآن مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82)
9۔ جن و انس مل کر اس جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88)
12۔ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ (القدر : 1)
10۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
Ayahs 31:6–7فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید ہدایت کی کتاب ہے مگر اس کی ہدایت سے وہی شخص مستفید ہوسکتا ہے جو لغویات سے اجتناب کرنے والا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل کیا ہے لیکن لوگوں میں بیشمار ایسے لوگ ہیں۔ جو اچھائی کے مقابلہ میں برائی، نیکی کی بجائے گمراہی کے طلبگار اور پرستار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو برائی کے خریدار ہوتے ہیں۔ اپنی جہالت کی بنا پر ناصرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانے اور گمراہ کرنے میں اپنا مال اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ پھر عملاً یا قولاً اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ان کے لیے رسوا کردینے والا عذاب ہوگا۔ اس آیت کا پس منظر ذکر کرتے ہوئے مفسّرین نے لکھا ہے کہ نضر بن حارث نے ایران اور روم سے ایسا لٹریچر درآمد کیا جس میں فحاشی اور بےحیائی کو داستان گوئی کے انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ اس نے مکہ معظمہ میں اسے قرآن مجید کے مقابلے میں عام کرنے کی کوشش کی تاکہ لوگ قرآن مجید کے مقابلے میں ان باتوں اور کاموں میں مصروف رہیں۔ اس کے بارے میں یہاں تک لکھا گیا ہے کہ اس نے فاحشہ عورتوں کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کریں اس کے ساتھ ہی وہ سرورگرامی کی ذات اطہر اور قرآن مجید کی مقدس آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتا اور لوگوں کے سامنے آیات ربانی کو حقیر بنا کر پیش کرتا۔ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگوں میں ایسا بیہودہ شخص بھی ہے جو اپنا مال خرچ کرکے بےحیائی خریدتا ہے اور جہالت کی بنیاد پر لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کرتا ہے۔
نضربن حارث خود حیرہ گیا۔ وہاں سے باشاہوں کے حالات اور رستم و اسفندیار کے قصّے سیکھے۔ آپ ﷺ جہاں کہیں بھی جا کر اپنا پیغام سناتے، ابو لہب کی طرح پیچھا کرتے ہوئے نضربن حارث بھی وہاں پہنچ کر یہ قصّے سناتا۔ پھر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد ﷺ کا کلام مجھ سے بہتر ہے ؟ علاوہ ازیں اس نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں۔ جب کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف مائل ہونے لگتاتو وہ کسی لونڈی کو اس پر مسلّط کردیتا مقصد یہ تھا کہ لونڈی اسے کھلائے پلائے اور اس کی سوچ کا رخ موڑ دے اسی سلسہ میں یہ آیت نازل ہوئی [ سیرت ابن ہشام : جلد 1]
نیکی کو چھوڑ کر برائی اختیار کرنے والا شخص کتنا ہی پڑھا لکھا اور سمجھدار کیوں نہ ہو حقیقت میں وہ جاہل ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دیتا ہے۔ اسے ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اس شخص کا کردار پیش فرما کر ایک پورے کلچر کی نفی کی گئی ہے۔ افسوس ! مسلمان حکومتوں میں شاید کوئی حکومت اور معاشرہ ایسا ہو جو کروڑوں، اربوں ڈالر بےحیائی خریدنے اور ا سے پھیلانے کے لیے صرف نہ کررہے ہوں جسے کلچر، ثقافت اور تفریح کا نام دیا گیا ہے۔ کفار کو چھوڑیں صرف مسلمان ملکوں میں نئی نسل کو اخلاقی اور عملی طور پر تباہ کرنے کے لیے سینکڑوں ٹیوی چینل چل رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بےہودہ رسائل چھپ رہے ہیں۔ قرآن مجید نے ” لَھْوَ الْحَدِیْثِ “ کے لیے ” اِشْتَرَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے ” اِشْتَرَ “ عربی زبان میں صرف خریدو فروخت کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی چیز کو بدلے میں لینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ” لَھْوَ “ کا لفظ بیہودہ اور بےحیائی کے لیے استعمال ہوتا ہے قرآن مجید نے بےمقصد کام اور بات کو بھی ” لَھْوَ “ قرار دیا ہے۔ جو شخص لغویات کا عادی ہوجائے اس کے لیے نیکی کی بات سننا بوجھ بن جاتا ہے اور بیہودہ کاموں پر خوش ہوتا ہے یہی حالت اہل مکہ کی تھی انہیں قرآن مجید کی طرف دعوت دی جاتی تو وہ غرور اور تعصب کی بناء پر یوں پیٹھ پھیرجاتے جیسا کہ انہوں نے قرآن سنا ہی نہیں یا ان کے کانوں میں سکہ پڑچکا ہے ایسے لوگوں کے لیے صرف یہی پیغام ہے کہ انہیں اذّیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائی جائے۔
لَھْوَ الْحَدِیْثِ :
(عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ َ قَالَ قاَلَ النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَنِیْ رَحْمْۃً لِّلْعٰالَمِیْنَ وَہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ وَأَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ بِمَحْقِ الْمَعَازِفِ وَالْمَزَامِیْرِ وَالاأَوْثَانِ وَالصُّلْبِ وَأَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ )[ رواہ احمدبحوالۃ مشکوٰۃ : باب بیان الخمر ووعید شاربہا ]
” سیّدناابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور جاہلیّت کے کاموں کو ختم کردوں۔ “
(أَبُو مَالِک الأَشْعَرِی ُّ وَاللَّہِ مَا کَذَبَنِیْ سَمِعَ النَّبِیَ ﷺ یَقُوْلُ لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْخِزَّ وَالْحَرِیرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ )[ رواہ البخاری : کتاب الاشربۃ : باب مَا جَاء فیمَنْ یَسْتَحِلُّ الْخَمْرَ وَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ]
” ابومالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور معازف یعنی آلات موسیقی اور گانے بجانے کو جائز کہیں گے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ )
[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اسلام کی اچھائی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے۔ “
مسائل
1۔ جو لوگ اللہ کی آیات سے مذاق کرتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
2۔ جب کفار کو قرآن کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ اس طرح دکھائی دیتے ہیں جیسے انہوں نے سنا ہی نہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید سے اعراض کرنے کا نتیجہ :
1۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : 57) 2۔ قرآن سے منہ پھیرنے والوں کی سزا۔ (السجدۃ : 22)
3۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ : 124، 125)
4۔ اعراض کرنے والوں کو اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ : 100، 101)
5۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 99)
6۔ قرآن سے اعراض کرنے والوں کو آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 75)
Ayahs 31:8–9فہم القرآن
ربط کلام : ” عَذَابٌ مُّھِیْنٌ“ پانے والوں کے بعد ” جَنّٰتُ النَّعِیْمِ “ کا انعام پانے والوں کا ذکر خیر۔
فہم القرآن میں کئی مقامات پر یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ اکثر مقام پر جنّت اور جہنم کا بیک مقام ذکر کرتا ہے تاکہ قارئ قرآن کے سامنے بیک وقت دونوں قسم کے انجام آجائیں اور وہ غور کرے کہ مجھے کس قسم کے اعمال اختیار کرنے چاہئیں تاکہ میں دنیا وآخرت کی ذلّت سے بچ جاؤں اور اپنے رب کے انعامات کا حقدار ہوجاؤں ایسے لوگوں کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے جو اپنے رب پر بلا شرکت غیرے ایمان لائے اور اس کے بتلائے ہوئے نیک اعمال کرتے رہے۔ وہ نعمتوں والی جنت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ان کے ساتھ ” اللہ “ کا سچاوعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا ہر وعدہ پورا کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم اور فیصلے میں اَن گنت حکمتیں ہوتی ہیں۔
جنت کے حسن و جمال کی ایک جھلک :
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْجَنَّۃُ مَا بِنَاؤُہَا قَالَ لَبِنَۃٌ مِنْ فِضَّۃٍ وَلَبِنَۃٌ مِنْ ذَہَبٍ وَمِلاَطُہَا الْمِسْکُ الأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُہَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوتُ وَتُرْبَتُہَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ یَّدْخُلْہَا یَنْعَمْ وَلاَ یَبْأَسْ وَیُخَلَّدْ وَلاَ یَمُوْتُ لاَ تَبْلَی ثِیَابُہُمْ وَلاَ یَفْنٰی شَبَابُہُمْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ الجنۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنّت اس طرح بنائی گئی ہے کہ اس کی ایک اینٹ چاندی کی اور دوسری سونے کی ہے اور اس کا گارا خوشبودار کستوری کا ہے۔ اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت کے ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے جو اس میں داخل ہوگا وہ خوش و خرم رہے گا۔ اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اسے موت نہیں آئے گی نہ اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی وہ بوڑھا ہوگا۔ “
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے) ۔ “
مسائل
1۔ صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والوں کے لیے نعمتوں والی جنت ہوگی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ حکیم اور غالب ہے۔
تفسیر بالقرآن
جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30)
4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23)
5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31)
6۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں چار قسم کی نہریں ہوں گی۔ ( محمد : 10)
7۔ جنت میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں کسی جن وانس نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ ( الرحمن : 56)
8۔ جنت میں محبت کرنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ ( الواقعہ : 37)
Ayah 31:10فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ کفار کو عذاب الیم دے گا اور ایمان داروں کو جنت عطا فرمائے گا اس کی شان یہ ہے کہ اس نے بغیر ستونوں کے آسمان ٹھہرائے اور بلند وبالا پہاڑ بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی دو عظیم قدرتوں اور دو بڑی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ وہ ہے جس نے بغیر ستونوں کے ایک دوسرے پر آسمان کھڑے کیے ہیں۔ جن کے بارے میں اب تک سائنسدانوں کا خیال ہے کہ صرف ایک ہی آسمان ہے اور وہ بھی ٹھوس میٹریل سے بنا ہوا نہیں بلکہ اکثر سائنسدان کہتے ہیں کہحدِّ نظر کا نام آسمان ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا نقطہ نظر ہے کہ آسمان موجود ہے۔ لیکن یہ ٹھوس چھت ہونے کی بجائے ایک دھواں ہے جس تک ہماری نظر نہیں پہنچ سکتی۔ حالانکہ حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ آسمان ایک دوسرے کے اوپر ہیں ان کے درمیان فاصلے ہیں اور ان میں دروازے میں جن سے ملائکہ زمین پر آتے جاتے ہیں۔ کچھ اہل علم نے یہ بھی ترجمہ اور مفہوم لکھا ہے کہ آسمان کے نیچے ستون ہیں لیکن انسان انہیں دیکھ نہیں سکتے۔ پہاڑوں کے بارے میں جدید تحقیقات جاننے کے لیے فہم القرآن کی جلد 3 سورة الرّعد آیت : 3 ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے اور اس کے ذریعے ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے یہاں ” زَوْجٌ کَرِیْمٌ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ قرآن مجید نے دنیا کو پہلی بار اس حقیقت سے آگاہ فرمایا کہ جاندار چیزوں کے نر اور مادہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں۔ جس طرح کھجور کے درخت میں نر اور مادہ ہوتے ہیں اسی طرح دوسرے درختوں میں بھی نر اور مادہوتے ہیں۔
” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا ‘ اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے کہا آپ ہمیں خوشخبری دیتے ہیں، لیکن کچھ ہمیں عطا بھی کریں۔ ان کے بعد اہل یمن کے کچھ لوگ آئے آپ نے فرمایا کہ اے اہل یمن ! خوشخبری قبول کرو ‘ آپ سے پہلے بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہم قبول کرتے ہیں آپ کی خدمت میں ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ ہم دین کی سمجھ حاصل کریں اور ہم آپ سے کائنات کی ابتداء کے بارے میں پوچھیں کہ سب سے پہلے کیا چیز تھی ؟ آپ نے فرمایا کہ ” اللہ “ تھا ‘ اور اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی اس کا عرش پانی پر تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔ پھر لوح محفوظ میں تمام امور لکھے۔ عمران ؓ کہتے ہیں پھر ایک شخص میرے پاس آیا، اس نے کہا، اے عمران ! اپنی اونٹنی کو تلاش کروکیون کہ وہ بھاگ گئی ہے۔ میں اسے ڈھونڈنے نکلا اللہ کی قسم مجھے یہ زیادہ پسند تھا کہ اونٹنی چلی جاتی ‘ لیکن میں نہ اٹھتا۔ “ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ )]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان کھڑے کیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ گاڑ دئیے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش برساتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نباتات، پھل اور ہر قسم کا اناج پیدا کرتا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات کے بھی جوڑے پیدا کیے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں پہاڑوں کا ذکر :
1۔ اللہ نے تمہارے لیے سایہ دار چیزیں بنائیں اور اسی نے تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی ہے۔ (النحل : 81)
2۔ کیا ہم نے زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا ؟ (النباء : 6، 7)
3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑگاڑ دیے۔ (النازعات : 32) 4۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں میں راستے بنائے ہیں۔ (الانبیاء : 31)
5۔ تم پہاڑوں کو کھود کھود کر خوبصورت گھر بناتے ہو۔ (الشعراء : 149)
6۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا۔ (النمل : 61)
7۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کیا اور وہ بھی صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے۔ (الانبیاء : 79)
8۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟ کہ زمین و آسمان کی ہر چیز، چاند، سورج اور ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الحج : 18)
Ayah 31:11فہم القرآن
ربط کلام : عظیم نشانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد مشرکین سے سوال۔
ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان پیدا کیے اور زمین پر پہاڑ گاڑ دئیے۔ وہ آسمان سے بارش نازل کرتا اور اس کے ساتھ بیشمار عمدہ اناج اور نباتات پیدا کرتا ہے تم بتاؤ کہ تمہارے خداؤں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ خالق حقیقی کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے اور مشکل کشا، حاجت روا سمجھنے والے ظالم ہیں۔ اور یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ دوسرے مقام پر ظالموں کو درج ذیل سوالات کیے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ہر دور کے مشرکوں کے پاس اس کے سوا نہ کوئی جواب ہے اور نہ ہوگا حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے، وہی خالق اور مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شرک کرنے والوں کو کئی مرتبہ ظالم قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات دوسروں میں سمجھتے اور بیان کرتے ہیں ظلم کا معنٰی ہے کہ کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھا جائے۔
مسائل
1۔ ساری کی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی نے کچھ بھی نہیں پیدا کیا۔
3۔ مشرک کھلی گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرکین سے سوالات :
1۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : 31)
2۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : 34)
3۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ کہتے ہیں اللہ ہی ہے۔ (الزمر : 38)
4۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ؟ جواباً کہتے ہیں، اللہ ہی ہے۔ (المومنون : 86۔ 87)
5۔ مزید حوالوں کے لیے دیکھیں۔ (المومنون : 88۔ 89) (العنکبوت : 61) ( لقمان : 25)
Ayah 31:12فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ہر قسم کے چوپائے پیدا کیے اور پھر اسی سے انسان کے رزق کا بندوبست فرمایا۔ جس پر ہر انسان کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے اور یہی عقل مندی ہے۔ اب ایک عقل مند شخص کا عقیدہ اور اس کی دانائی پر مبنی نصیحتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
عرب کی تاریخ میں حضرت لقمان ایک جانی پہچانی شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور مؤرّخ لکھتے ہیں کہ یہ نسب کے اعتبار سے خالص عربی تھے۔ بعض مؤرّخین نے انہیں افریقی نسل قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ عربی النسل تھے۔ ان کا قدر چھوٹا، رنگ کالا اور بدن بھاری تھا۔ ظاہری طور پر پرکشش شخصیت نہ ہونے کے باوجود اپنی دانشمندی کی وجہ سے اس زمانے کی پوری دنیا پر ان کے اقوال حوالے کے طور پر پیش کیے جاتے تھے۔ ان کی دانائی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اس وقت ” اللہ “ کی توحید کو سمجھا اور اس کا پرچار کیا جب دنیا کفر و شرک کے اندھیرے میں بھٹک رہی تھی۔ اہل عرب بالخصوص مکہ کے لوگ ان کی دانائی کے بڑے معترف تھے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے نام پر یہ سورت نازل فرمائی اور ان کے نصائح میں سب سے پہلے یہ نصیحت ذکر فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحتیں کرتے ہوئے سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا وہ عقیدہ توحید تھا۔
شکر وہ جذبہ ہے جس سے انسان اپنے محسن کو پہنچانتا ہے۔ انسان کا سب سے بڑا محسن اس کا خالق ہے۔ اس لیے، حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہنے کی نصیحت فرمائی۔ یہی انسان کے دانشمند ہونے کی پہلی دلیل ہے۔ شکر کے بیشمار فوائد ہیں۔ جن میں چند ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا۔ مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے۔ اور یہ رب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ شرک خالق کی سب سے بڑی ناشکری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کے کرنے سے تم عذاب سے محفوظ رہو گے اور مزیدنعمتیں پانے کے حقدار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ایسا عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا کہ اگر شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مزید عطا فرمائے گا (ابراہیم : 7) اس دوہرے انعام کی وجہ سے شیطان نے سرکشی اور بغاوت کی حدود پھلانگتے ہوئے کہا تھا۔ (وَلَاتَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِےْنَ ) [ الاعراف : 17]” اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ “
شکروہ جذبہ ہے جس سے انسان کی طبیعت خود بخود اپنے محسن کے ادب واحترام اور اس کی سمع و اطاعت کے لیے آمادہ ہوتی ہے۔ اعتراف احسانات سے ” اللہ “ کی ذات کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور محبت کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ذات باری تعالیٰ کے شکریے کو ہر محسن کے شکر یے کے ساتھ منسلک فرمایا ہے (مَنْ لَمْ یَشْکُرِالنَّاسَ لَمْ یَشْکُرِاللّٰہَ ) ” جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ ” اللہ “ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ “
آپ ﷺ کے فرمان کا مقصدیہ ہے کہ جو شخص اپنے جیسے انسانوں کے چھوٹے چھوٹے احسانات کا شکریہ نہیں ادا کرتا وہ خالق کائنات کے پہاڑوں جیسے ان گنت احسانات کا شکریہ کس طرح ادا کرسکتا ہے۔
آپ ﷺ کی دعا :
آپ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ (اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ ]” اے اللہ اپنے شکر اور بہترین انداز سے عبادت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ “
” حضرت ابی سعید مقبری حضرت ابوہریرہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ یہ دعا میں نے رسول اللہ ﷺ سے جب سے یاد کی اس کو چھوڑا نہیں۔ (اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ وَأَتَّبِعُ نَصِیحَتَکَ وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ ) اے اللہ مجھے سب سے زیادہ شکر گذار، کثرت سے ذکر کرنے، ہدایت کی پیروی کرنے اور نصیحت کی حفاظت کرنے والا بنا دے۔ “ [ رواہ الترمذی : باب فی الاستعاذۃ ]
مسائل
1۔ عقیدہ توحید اپنانا اور اس کا پرچار کرنا بہت بڑی دانائی ہے۔ 2۔ شرک بہت بڑی ناشکری ہے۔
3۔ شکر کا فائدہ انسان ہی کو ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کے کفر کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
5۔ اللہ تعالیٰ غنی اور صاحب تعریف ہے۔
Ayah 31:13فہم القرآن
ربط کلام : سب سے بڑی حکمت کی بات یہ ہے کہ انسان اپنے رب پر بلاشرکت غیرے ایمان لائے اور اس کا شکریہ ادا کرے۔ جس نے نعمتوں کا اعتراف کیا اور اپنے رب کا شکرادا کیا یقیناً وہ شرک سے بچ جائے گا اور یہی سب سے بڑی دانائی ہے۔
حضرت لقمان کے بارے میں صحابہ کرام ؓ اور مفسرین کی غالب اکثریت کی رائے ہے کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ صرف نیک اور انتہائی دانشور انسان تھے۔ اہل عرب نہ صرف ان کی دانشمندی کے قائل تھے بلکہ بوقت ضرورت ان کے اقوال کا حوالہ بھی دیا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس لیے حضرت لقمان کے ارشادات کا ذکر کیا ہے تاکہ مشرکین مکہ کو معلوم ہو کہ جس توحید کی وجہ سے ہم نبی ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اسی توحید کی حضرت لقمان تبلیغ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے لخت جگر کو جو نصیحتیں اور وصیتیں کیں ان میں سرفہرست یہ وصیّت تھی کہ میرے بیٹے ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ بیٹا یقین جان ! کہ سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا ہے ظلم کی تعریف کرتے ہوئے اہل لغت نے لکھا ہے۔
” وَضْعُ الشَّیْءِ غَیْرَ مَحَلِّہٖ “ ” کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دینا۔ “
حضرت لقمان کی وصیتوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے کہ ہم نے لقمان کو یہ حکمت عطا فرمائی تھی جس سے ثابت ہوا کہ دنیا میں سب سے بڑی حکمت اور عقل کی بات اللہ تعالیٰ کی توحید کو سمجھنا، اس پر پکے رہنا اور اس کا پرچار کرنا ہے۔ عقیدہ توحید کے برخلاف نظریہ رکھنا۔ صرف کفرو شرک کی بات نہیں بلکہ سب سے بڑا ظلم ہے۔
حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اپنی اولاد کو وصیت :
(وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّینَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُون أَمْ کُنْتُمْ شُہَدَاءَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیہِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی قَالُوا نَعْبُدُ إِلَہَکَ وَإِلَہَ آَبَاءِکَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَہًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ )[ البقرہ : 131، 132]
” جب ابراہیم کے رب نے اسے فرمایا کہ فرمانبردار ہوجا اس نے عرض کی میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا ہے۔ ابراہیم اور یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا لیا ہے تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ )
[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں تو اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے گا تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “
مسائل
1۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیّت کی کہ ” بیٹا “ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ 2۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
تفسیر بالقرآن
شرک کی قباحتیں :
1۔ شرک کی ممانعت۔ (البقرۃ : 22) 2۔ شرک بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : 13)
3۔ مشرک ناپاک ہے۔ (التوبۃ : 28) 4۔ مشرکوں کے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ (الانعام : 88)
5۔ مشرکوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الفتح : 6) 6۔ مشرکوں پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72)
7۔ شرک معاف نہیں ہوگا۔ (النساء : 48) 8۔ شرکیہ عقیدے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : 117)
9۔ شرک سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : 31) 10۔ بتوں کے الٰہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ (النجم : 23)
11۔ اٹھارہ جلیل القدر انبیاء ( علیہ السلام) کا تذکرہ کر کے فرمایا اگر یہ شرک کرتے تو ان کے اعمال برباد ہوجاتے۔ (الانعام : 88)
Ayah 31:14فہم القرآن
ربط کلام : حقوق اللہ کے بعد سب سے پہلے والدین کے حقوق ہیں اس لیے ان کے بارے میں نصیحت کی جا رہی ہے۔
اردوزبان میں وصیّت سے مراد وہ بات لی جاتی ہے جو فوت ہونے والا شخص کسی کے بارے میں اپنے ورثاء کو نصیحت کرتا ہے لیکن عربی زبان میں ہر نصیحت کے لیے وصیّت اور نصیحت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بندگی کے بعد انسان پر سب سے زیادہ حق اس کے والدین کا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر توحید باری تعالیٰ کے ذکر کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ والدین میں جس شخصیت کا حق فائق ہے وہ انسان کی ماں ہے کیونکہ ماں اپنے بچے کے لیے بڑی مشقت برداشت کرتی ہے صاحب امید ہونے کے بعد بچے کو جنم دینے تک ہر آنے والا دن ماں کے لیے بھاری ہوتا ہے۔ ماں کے لیے بچے کو جنم دینا کا یہ دورانیہ موت وحیات کے مترادف ہوتا ہے۔ اس کے بعد ماں اپنے نونہال کو دو سال تک دودھ پلاتی ہے جس دوران ماں ایسی خوراک نہیں کھا سکتی جس کا بچے کی افزائش پر منفی اثر پڑنے کا اندیشہ ہو۔ اس طرح ماں پہلے دن سے لے کر بچے کا دودھ چھڑانے تک آزمائش کے دور سے گزرتی ہے۔ اسی لیے احادیث کی مقدس دستاویزات میں باپ سے زیادہ ماں کے حقوق کا تذکرہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے انسان ہر دم میرا شکر ادا کرنے کے ساتھ اپنے والدین بالخصوص اپنی ماں کا شکر گزار رہنا۔ کیونکہ اس نے تجھے بڑی تکلیف کے ساتھ جنم دیا اور تجھے دو سال دودھ پلایا ہے اور یاد رکھنا بالآخر تجھے میری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ آخرت کی یاد دلاکر آدمی کو ایک انتباہ کیا گیا ہے تاکہ اولاد اپنے والدین کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھے۔ شکر وہ جذبہ ہے جس سے انسان اپنے محسن کی قدر جاننے کے ساتھ اس کی فرمانبرداری میں لذت محسوس کرتا ہے اس لیے شکرگزار ہی نیک ہوتے ہیں۔
ابتدائی دور میں بیشمار ایسے صحابہ کرام ؓ تھے جن کی مشرکوں کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں تھیں۔ مالدار صحابہ قبل از ایمان مشرک رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ لیکن کلمہ پڑھنے کے بعد انہوں نے ایسے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ جس پر یہ فرمان نازل ہوا جس میں وضاحت فرمائی ہے کہ جو کچھ بھی تم اللہ کی رضا کے لیے غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر عنایت کیا جائے گا۔ حضرت اسماء ؓ کی والدہ اپنی بیٹی اسماء ؓ سے تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ سے مدینہ آئی جس پر حضرت اسماء ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتی ہیں کہ میری والدہ مجھ سے مالی تعاون کی امید رکھتی ہے۔ کیا میں مشرکہ والدہ کے ساتھ تعاون کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تمہیں اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الھبۃ وفضلھا، باب الھدیۃ للمشرکین ]
(عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ )[ رواہ ابوداؤد : کتاب الأدب، باب فی برالوالدین ]
” بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں کس سے اچھا سلوک کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں سے، پھر اپنی ماں سے، پھر اپنی ماں سے، پھر اپنے باپ سے اور پھر قریبی رشتہ داروں سے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
2۔ والدین میں والدہ کے حقوق فائق ہیں۔ 3۔ بچے کی رضاعت کی مدّت دو سال ہے۔
تفسیر بالقرآن
والدین کے بارے میں اولاد کو قرآن مجید کی ہدایات :
1۔ بنی اسرائیل سے والدین کے ساتھ احسان کا عہدلیا گیا۔ (البقرۃ : 83)
2۔ والدین کے سامنے عاجزی سے رہنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (بنی اسرائیل : 24)
3۔ غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ (لقمان : 15)
4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو والدہ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم۔ (مریم : 32)
5۔ والدین سے نیکی کرنے کا حکم۔ (بنی اسرائیل : 23) 6۔ والدین کو اف کہنا اور جھڑکناجائز نہیں۔ (بنی اسرائیل : 23)
Ayah 31:15فہم القرآن
ربط کلام : والدین کی فرمانبرداری کی حدود۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جنم اور نسب کے حوالے سے انسان پر اس کے والدین کا بہت زیادہ حق ہے۔ لیکن انسان کا حقیقی خالق اور مالک ” اللہ “ ہے۔ اس نے انسانی افزائش کے لیے والدین کو اپنی تخلیق کا ذریعہ بنایا ہے اس لیے اس نے اپنی بندگی کے بعد ماں باپ کی سمع و اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لیکن والدین کی اطاعت کی بھی ایک حد مقرر فرمائی ہے۔ بیشک والدین یہودی، عیسائی یا کسی بھی دین پر ہوں ان کی سمع و اطاعت کرنے کا حکم ہے۔ اس وقت تک جب تک وہ کفرو شرک کا حکم نہ دیں۔ اگر وہ کفرو شرک، اور بدعات کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفرو شرک کی تائید میں کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ لہٰذا دنیا کے اچھے معاملات میں والدین کی تابعداری کرنی ہے۔ مگر دین کے معاملہ میں پیروی اس شخص کی کرنی ہے جو ” اللہ “ کے راستے کی طرف بلانے والا ہو بالآخر سب کو ” اللہ “ کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ وہ بتائے گا کہ تم کیا عمل کرتے رہے ہو۔
(عَنِ النَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ )
[ مشکوۃ : باب کتاب الامارۃ والقضاء ]
” حضرت نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ “
حضرت سماک بن حرب بیان کرتے ہیں میں نے مصعب بن سعد ؓ سے سنا وہ اپنے باپ سعد ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ میرے متعلق چار آیات نازل ہوئی انہوں نے اپنی والدہ کا قصہ بیان کیا سعد ؓ کی والدہ کہنے لگی کیا اللہ نے ماں کے ساتھ نیکی کا حکم نہیں دیا ؟ اللہ کی قسم اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی اور نہ پانی پیؤں گی یہاں تک کہ میں مرجاؤں۔ جب تک تو محمد ﷺ کا انکار نہ کرے۔ راوی کہتے ہیں جب سعد ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو وہ منہ بند کرلیتی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (اور ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین سے نیک سلوک کرے اور اگر وہ اس بات کا مطالبہ کریں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرائے جسکا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہیں کرنا۔ میری طرف ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے۔ میں تمہیں بتلا دوں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ ) [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الْعَنْکَبُوتِ ]
اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کسی کو ” اللہ “ کا شریک اس لیے نہیں بنانا کیونکہ تجھے اس کا علم نہیں۔ علم اور معرفت کسی چیز کو جاننے کا نام ہے، جس کی بنیاد ٹھوس اور واضح دلیل پر ہونی چاہیے۔ کیونکہ شرک کی واضح اور ٹھوس دلیل نہیں ہوتی اس لیے فرمایا ہے کہ جس کا تو علم نہیں رکھتا اسے اپنے رب کا شریک نہ بنانا۔ اسی بنیاد پر فرمایا گیا ہے کہ اندھیرا اور روشنی برابر نہیں ہوسکتے۔ (فاطر : 20)
مسائل
1۔ کفرو شرک میں کسی کی تابعداری کرنا جائز نہیں۔ 2۔ کافر اور مشرک والدین کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا لازم ہے۔
3۔ جو شخص اللہ کے راستے کی طرف بلائے اس کی بات ماننا چاہیے۔
4۔ سب نے ” اللہ “ کی طرف پلٹنا ہے وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی خبر دیگا۔
تفسیر بالقرآن
شرک کی کوئی دلیل نہیں :
1۔ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (المؤمنون : 117)
2۔ انھوں نے اللہ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24)
3۔ اس کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے کوئی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل : 64)
4۔ کچھ لوگ ” اللہ “ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : 71)
5۔ لوگو ! تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے حالانکہ اللہ نے اس کی کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : 81)
6۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے اس کی توحید کی دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 175)
Ayah 31:16فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو دوسری وصیت۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو آخرت کی جو ابدہی کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا انسان چھپ کر گناہ کرے یا اعلانیہ۔ رات کو کرے یا دن کی روشنی میں۔ گناہ بڑا ہو یا چھوٹا۔ بیشک وہ رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو وہ زمین کی گہرائیوں میں ہو یا پہاڑ کی چوٹی پر یہاں تک کہ آسمانوں میں چھپا ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں ضرور حاضر کرے گا کیونکہ وہ باریک سے باریک چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
جس شخص کا یہ ذہن بن جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ وہ جب چاہے پکڑ سکتا ہے اس نے پکڑ لیا تو اس کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ وہ شخص گناہ نہیں کرسکتا اگر بتقاضأ بشریت اس سے گناہ سرزد ہوجائے تو وہ زیادہ دیرتک توبہ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے قرآن مجید انسان کو یہ عقیدہ اور ذہن دیتا ہے کہ اے انسان تو جہاں کہیں ہو تیرا رب اپنے علم اور اقتدار کے حوالے سے تیرے ہی ساتھ ہوتا ہے۔
” کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اللہ جانتا ہے۔ جب تین آدمی سرگوشی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ چوتھا ہوتا ہے اور جب پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو اللہ ان کے ساتھ چھٹا ہوتا ہے۔ اسی طرح اس سے کم یا زیادہ ہوں تو اللہ ضرور ان کے ساتھ ہوتا ہے وہ کہیں بھی ہوں۔ پھر قیامت کے دن جو کام انہوں نے کیے ہیں ان کی ان کو خبر دے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ “ (المجادلۃ : 7)
اللہ تعالیٰ ذات کے اعتبار سے نہیں اپنے علم، اقتدار اور اختیارات کے حوالے سے ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔
” اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی تر اور خشک دانہ نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ “ [ الانعام : 59]
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللَّہُ مَالاً فَقَالَ لِبَنِیْہِ لَمَّا حُضِرَ أَیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّیْ لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ ، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُوْنِی ثُمَّ اسْحَقُوْنِیْ ثُمَّ ذَرُّونِیْ فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوْا، فَجَمَعَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہِ )
[ رواہ البخاری : باب حدثنا ابو الیمان ]
” حضرت ابو سعید نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی گزرا ہے جسے اللہ نے مال کی فراوانی عطا کی تھی اس نے موت کے وقت اپنے بیٹوں کو کہا میں نے کبھی نیک عمل نہیں کیا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا کر میری راکھ کو ہواؤں میں اڑا دینا، انہوں نے ایسا ہی کیا اللہ عزوجل نے اسے زندہ کیا، اور پوچھا کہ تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا تھا ؟ وہ کہنے لگا کہ آپ کے ڈر نے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت میں لے لیا۔ “
مسائل
1۔ انسان جہاں کہیں ہو وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپ سکتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ باریک سے باریک چیز کو جانتا ہے۔
3۔ قیامت کے دن انسان کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : 5) 2۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : 216)
3۔ اللہ تعالیٰ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : 30) 4۔ اللہ تعالیٰ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے۔ (الانعام : 59)
5۔ ہر گرنے والا پتّہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے۔ (الانعام : 59) 6۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : 19)
7۔ اللہ تعالیٰ کے لیے یکساں ہے جو لوگ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں۔ ( الرعد : 10)
Ayah 31:17فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو تیسری، چوتھی، پانچویں اور چھٹی وصیّت۔
عظیم باپ اپنے لخت جگر کو نصیحت پر نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے اے بیٹا آخرت کی فکر کرو، فکر آخرت کا تقاضا ہے کہ انسان نیک بن جائے۔ عقیدہ توحید پر کار بند ہونے کے بعد سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حضور نماز پڑھے۔ نماز نہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبوب عبادت ہے بلکہ یہ عظیم ترین نیکی ہونے کے ساتھ نمازی کو برائی اور بےحیائی سے روکتی ہے۔ بشرطیکہ اس کو اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کیا جائے۔ نمازی بننے کے ساتھ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرو اور برائی سے منع کرتے رہو اسی بات کو ” قرآن مجید “ نے امر بالعمروف اور نہی عن المنکر کا نام دیا ہے۔ اگر یہ کام روایتی اور پیشہ کے طور پر نہ کیا جائے تو اس راستے میں مشکلات کا آنا یقینی امر ہے۔ جس پر تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگیاں گواہ ہیں اس لیے حضرت لقمان فرماتے ہیں بیٹا صبر کے ساتھ مصائب و آلام کو برداشت کرنا بڑے عزم کا کام ہے۔
مسائل
1۔ نماز قائم کرنا، لوگوں کو اچھائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہیے۔
2۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے راستے میں مصائب پر صبر کرنا بڑے عزم کی بات ہے۔
تفسیر بالقرآن
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت :
1۔ مؤمن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ (آل عمران : 114)
4۔ اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ (التحریم : 6) بہترین امت (آل عمران : 110)
Ayahs 31:18–19فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو مزید چار وصیتیں۔
ایک اچھے مسلمان اور بہترین مبلّغ کے لیے لازم ہے کہ وہ ان باتوں کا خیال کرے جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو ارشاد فرمائی ہیں۔ عظیم دانشور اپنے بیٹے کو اخلاق اور کردار کے حوالے سے سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگوں سے تکبر اور لاپرواہی سے اپنے چہرہ کو نہ پھیرنا۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا۔ یقیناً یہ فخرو غرور کا انداز ہے یاد رکھ کہ رب ذوالجلال کو فخروغرور کرنے والے لوگ پسند نہیں۔ جو شخص ان باتوں کا خیال نہیں رکھتا بیشک وہ علمی، مالی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے کتنا بڑا کیوں نہ ہو بالآخر لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں بسا اوقات متکبر شخص کے سامنے لوگوں کی گردنیں جھکی ہوئی ہوتی ہیں۔ مگر ان کے دل اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔
( وَعَنْ اَنسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا صَافَحَ الرَّجُلُ لَمْ یَنْزِعْ یَدَہٗ مِنْ یَدِہٖ حَتّٰی یَکُوْنَ ہَوُ الَّذِیْ یَنْزِعْ یَدَہٗ وَلَا یَصْرِفُ وَجَہَہٗ عَنْ وَجْہِہٖ حَتّٰی یَکْوْنَ ہُوَالَّذِیْ یَصْرِفُ وَجْہَہٗ عَنْ وَجْہِہٖ وَلَمْ یُرَ مُقَدِّماً رُکْبَتَیْہِ بَیْنَ یَدَیْ جَلِیْسٍ لَہٗ ) [ رواہ الترمذی : باب المصافحۃ ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ جب کسی آدمی سے ہاتھ ملاتے تو آپ اس کے ہاتھ کھینچے سے پہلے اپنے ہاتھ کو الگ نہ کرتے اور نہ ہی آپ اپنے چہرے کو اس کے چہرے سے ہٹاتے جب تلک وہ اپنے چہرے کو خود نہ ہٹا لیتا۔ چلنا، اکڑ کر اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجلس میں بیٹھے ہوئے اپنے گھٹنوں کو کبھی دراز کیا۔ “
چال ڈھال میں میانہ روی :
حضرت لقمان اپنے بیٹے کو یہ وصیت بھی کرتے ہیں کہ بیٹا اکڑ کر نہ چلنے کا یہ معنٰی نہیں کہ آدمی بیماروں کی طرح چلے اس کا مفہوم یہ ہے کہ درمیانے انداز اور رفتار میں چلنا چاہیے۔ جس میں تندرستی کے اظہار کے ساتھ، تواضع بھی ہونی چاہیے اس میں پیدل چلنا ہی شامل نہیں بلکہ سواری کی رفتار بھی اسی انداز کی ہونی چاہیے بعض لوگ گاڑی ڈرائیو کر رہے ہوں تو اس سپیڈ کے ساتھ گزرتے ہیں کہ پیدل چلنے والے کا کلیجہ کانپ جاتا ہے۔ راستے میں پانی ہو تو راہگیروں کے کپڑے گندے ہوجاتے ہیں ایسے آدمی کو لوگ بدعائیں ہی دیا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ اصول مسلّمہ ہے کہ تیز رفتاری سے ایکسیڈنٹ زیادہ ہوتے ہیں اس لیے آدمی پیدل ہو یا سوار اسے میانہ روی کا خیال رکھنا چاہیے۔
چلنے کا انداز اور میانہ روی :
زمین پر اکڑ کر چلنے سے انسان بڑا نہیں ہوجاتا انسان بڑا ہوتا ہے تواضح اور انکساری کے ساتھ۔ جس قدر لوگوں کے ساتھ تواضح اختیار کرے گا۔ اسی قدر ہی ان میں بڑا بنتا جائے گا۔ اکڑ کر چلنے کے بارے میں قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ مذمت کی گئی ہے۔
(وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا) [ بنی اسرائیل : 37]
” اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک تو نہ زمین کو پھاڑ سکے گا اور نہ اونچائی میں پہاڑوں تک پہنچ پائے گا۔ “
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قاَلَ مَارَایْتُ شَیْءًا اَحْسَنَ مِنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَاَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِیْ فِیْ وَجْہِہٖ وَمَا رَایْتُ اَحَدًا اَسْرَعَ فِیْ مَشْیِہٖ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ کَاَنَّمَا الْاَرْضُ تُطْوٰی لَہٗ اِنَّا لَنُجْہِدُ اَنْفُسَنَا وَاِنَّہٗ لَغَیْرُ مُکْتَرِثٍ ) [ رواہ الترمذی : باب فی صفۃ النبی ﷺ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو حسین نہیں دیکھا گویا کہ سورج آپ کے چہرے میں رواں دواں ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تیز چلنے والا کسی کو نہیں دیکھا اس طرح دکھائی دیتا گویا کہ آپ کے لیے زمین سکڑ گئی ہے۔ ہمیں آپ کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش کرنا پڑتی، اور آپ کو کسی قسم کی مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ “
(کَانَ عَلِیٌّ إِذَا وَصَفَ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ ۔۔ إِذَا مَشٰی تَقَلَّعَ کَأَنَّمَا یَمْشِیْ فِی صَبَبٍ )[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ النَّبِیّ ﷺ ]
” حضرت علی ؓ نبی اکرم ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قدرے جھک کرچلتے جیسے ڈھلوان سے نیچے اتر رہے ہوں۔ “ (یعنی گردن اکڑا کر نہیں چلتے بلکہ ہلکا سا جھکاؤ لیے ہوئے چلا کرتے ہیں۔ )
گفتگو میں میانہ روی رکھیں :
حضرت لقمان اپنے بیٹے کو پے درپے نصیحتیں کرتے ہوئے سمجھاتے ہیں کہ میرے لخت جگر اپنی آواز بھی بلا ضرورت بلند نہ کرو۔ خواہ مخواہ اور بلا وجہ اونچی آواز سے بولنا گدھے کی طرح بولنا ہے۔ عقل مندی اور سنجیدگی کا تقاضا ہے کہ آدمی ماحول اور ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے آواز بلند کرے۔ چاہے وہ کتنا بڑا خطیب کیوں نہ ہو۔ اسے ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں میری آواز اور لب و لہجہ میں تصنّع اور کراہت تو نہیں پائی جاتی۔ یہی اصول نماز میں ہونا چاہیے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کا تو بالخصوص خیال رکھنا چاہیے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا سَمِعْتُمْ صِےَاح الدِّےْکَۃِ فَسَلُوْا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ فَاِنَّھَا رَأَتْ مَلَکًا وَاِذَا سَمِعْتُمْ نَھِےْقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوْا باللّٰہِ مِنَ الشَّےْطَان الرَّجِےْمِ فَاِنَّہُ رَاٰی شَےْطَانًا)
[ رواہ البخاری : باب خیر مال المسلم ]
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو۔ کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کو ہینگتا سنو تو ” اَعُوْذُ باللّٰہِ مِن الشَّےْطٰنِ الرَّجِےْمِ “ پڑھو۔ کیونکہ گدھا شیطان کو دیکھ کر ہینگتا ہے۔
مسائل
1۔ لوگوں کے ساتھ متکبرانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ چال، ڈھال اور بولنے میں میانہ روی ہونی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ متکبر اور مغرور آدمی کو پسند نہیں کرتا۔ 4۔ سب سے مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ متکبر اور مغرور آدمی کو پسند نہیں کرتا۔
1۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23)
2۔ اللہ تعالیٰ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ( القصص : 76)
3۔ زمین میں اکڑ کر نہ چل ! نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندیوں کو پہنچ سکتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 37)
4۔ اللہ تکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ (لقمان : 18)
5۔ جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس پر اتراؤ نہیں کیونکہ اللہ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23)
6۔ یقیناً اللہ تکبر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ (النساء : 36)
Ayah 31:20فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لقمان کی وصیتوں میں سر فہرست وصیت ” اللہ “ کی توحید ہے۔ توحید سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غوکرے۔
کیا انسان اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور ہر چیز کو ان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں کہ ان کا شکر ادا کرنا تو درکنار انہیں شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ انسان اپنے رب کی شکر گزاری اور تابعداری کرنے کی بجائے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ کافر اپنے رب کی ذات کا انکار کرتا ہے اور مشرک اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک بناکر جھگڑا کرتا ہے۔ اگر ان کو سمجھایا جائے تو یہ اپنے رب کی ذات اور صفات کے خلاف من گھڑت دلیلیں ہی نہیں دیتے بلکہ موحد کے ساتھ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ کافر اور مشرک کے پاس اپنے باطل عقیدہ کی تائید میں کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ یہ لوگ کسی حقیقی علم، آسمانی ہدایت اور کتاب الٰہی کی دلیل کے بغیر جھگڑتے ہیں۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تعلق ہے ان میں کھلی نعمتیں تو انسان کے سامنے ہیں۔ جن نعمتوں کا انسان تصور نہیں کرسکتا تھا وہ بھی ظاہر کی جا رہی ہیں۔ کیا آج سے کچھ مدّت پہلے کا انسان گیس، بجلی، ہوائی جہاز، ٹرانسپورٹ اور بیشمار موجودہ ایجادات کو جانتا تھا ؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آنے والے انسانوں کو، کونسی نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ لیکن نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت دین اسلام ہے جو ہمارے رب نے ہم پر مکمل کردیا ہے۔