Ayah 31:21فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا اپنے رب کے ساتھ جھگڑنے کا ایک انداز۔
انسان کا حقائق ٹھکرانے اور اپنے رب کے ساتھ جھگڑنے کا یہ بھی انداز ہے کہ جب اسے یہ بات کہی جاتی ہے کہ صرف اس کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں ہم تو اسی کی اتّباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے گویا کہ یہ اپنے آباء و اجداد کی رسومات کو دین سمجھتے ہیں۔ جس کے بارے میں سورة البقرہ آیت 171 میں یہ ارشاد ہوا کہ ” کیا ان کے باپ دادا دین کے بارے میں کوئی سمجھ اور رہنمائی نہ رکھتے تھے “ اس کے باوجود یہ ان کی پیروی کریں گے۔ ایسے کفار کی مثال تو اس شخص کی ہے جو شخص چِلّانے کی آواز کے سوا کچھ نہیں سمجھتا یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں ایسے لوگ کبھی عقل سے کام نہیں لیتے۔ (البقرۃ : 171) یہاں یہ ارشاد ہوا ہے کیا ان کے باپ دادا کو شیطان جہنم کے عذاب کی طرف بلاتا رہا اور وہ جہنم کے راستے پر ہی چلتے رہے اس کے باوجود یہ لوگ اپنے باپ، دادا کے طریقے پر چلتے رہیں گے ؟ اس فرمان میں سمجھانا مقصود یہ ہے کہ دانشمندی کا تقاضا اور جہنم کے راستے سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کرے۔ کسی اور کے پیچھے نہ چلے۔
مسائل
1۔ اکثر لوگ بلا دلیل اپنے آباء و اجداد کی پیروی کرتے ہیں۔
2۔ شیطان انسان کو جہنم کے راستے کی دعوت دیتا ہے۔
Ayah 31:22فہم القرآن
ربط کلام : آباؤ اجداد کی تقلید اور ادھر ادھر دینے کی بجائے آدمی کو اپنے رب کا فرمانبردار ہونا چاہیے۔
قرآن وسنت کے دلائل سے بےاعتنائی کرنا اور مذہبی رسومات یا خاندانی روایات کا لحاظ رکھتے ہوئے آباء و اجداد کی ڈگر پر چلنا حقیقت میں شیطان کی پیروی کرنا ہے۔ شیطان انسان کو جہنم میں لے جانا چاہتا ہے جہنم سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرے اور نیک کام کرتا رہے۔ جس نے اس فکر وعمل کو اپنالیا گویا کہ اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جس کا ٹوٹنا نا ممکنات میں سے ہے۔ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اے صاحب ایمان لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرنا چاہیے یہاں تک کہ تمہیں موت بھی اس کی تابعداری میں آئے اللہ کی رسی کو سب مل کر تھامے رکھو اور آپس میں تفریق پیدا نہ کرو (البقرہ : 102، 103)
” العُرْوَۃِ الْوُثْقٰی “ کا معنٰی مضبوط کڑا ہے جسے ” حَبْلُ اللّٰہ “ بھی کہا گیا ہے۔ آدمی جب گرنے یا ڈوبنے لگتا ہے تو وہ کسی نہ کسی چیز کو تھامنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ گرنے اور ڈوبنے سے بچ جائے اگر اس کا ہاتھ مضبوط کڑے ( Ring) کو پڑجائے تو اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ گرنے سے بچ جائے گا۔ یہی حقیقی ایمان کا فائدہ ہے۔ کہ جس آدمی کا اپنے رب پر سچا اور پکا ایمان ہو تو وہ کسی صورت بھی کفر و شرک کے گڑھے میں نہیں گرتا اس فرمان سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط سے مضبوط رکھنا چاہیے۔ ایسا شخص ہر حال میں اپنے رب پر راضی رہتا اور اس سے اجر پاتا ہے۔ اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنے یا حوالے کرنے کا معنٰی پوری طرح اس کی تابعداری کرنا ہے۔ کیونکہ انسان جب کسی راستے پر چلتا ہے تو اس کے چہرے کا رخ بھی اسی طرف ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کو اسی بات کا حکم دیا گیا۔
(فَاَقِمْ وَجْھَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْن) [ الروم : 30]
” اے نبی یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین پر قائم رکھو، وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت بدلی نہیں جاسکتی، یہی مستقل دین ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “
(کِتَاب اللّٰہِ ھُوَحَبْلُ اللّٰہِ اَلْمَمْدُوْدُ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ) [ جامع الصغیر للألبانی ]
” اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسّی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی گئی ہے۔ “
(عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر ]
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے معاملات عجیب ہیں۔ اس کے تمام معاملات میں خیر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے اگر اس کو آسانی ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یہ اسکے لیے بہتر ہے اور اگر اسے تکلیف آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “
مسائل
1۔ انسان کو ہر حال میں اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رکھنا چاہیے۔ 2۔ انسان کو ہر حال میں نیکی کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
3۔ کتاب اللہ کے ساتھ تمسّک کرنے والا ہی آخرت میں کامیاب رہے گا۔
تفسیر بالقرآن
محسن کے اوصاف :
1۔ اللہ کے سامنے جھک جانے والامحسن ہے۔ (لقمان : 22) 2۔ بیشک اللہ محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (یوسف : 90)
3۔ صبر کرو اللہ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ( ھود : 115) 4۔ اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : 56)
5۔ ہم تمہارے گناہ مٹا دیں گے اور عنقریب ہم محسنین کو زیادہ عطا کریں گے۔ (البقرۃ : 58)
6۔ احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (البقرۃ : 195)
7۔ انہیں معاف کیجیے اور در گزر کیجیے یقیناً اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 13)
Ayahs 31:23–24فہم القرآن
ربط کلام : جس نے کتاب اللہ کے ساتھ تمسّک کرنے سے انکار کردیا اس کا انجام بدترین ہوگا۔
سروردوعالم ﷺ صبح و شام اس فکر اور کوشش میں رہتے تھے کہ لوگ ہدایت پر گامزن ہو کر جہنم کی ہولناکیوں سے اپنے آپ کو بچالیں۔ لیکن لوگ ہدایت کی طرف آنے کی بجائے گمراہی کی طرف سرپٹ دوڑے جاتے تھے۔ جس پر آپ دل گرفتہ ہوجاتے آپ ﷺ کو تسلی اور ڈھارس دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ ان کے کفرو شرک پر جمے رہنے سے آپ دل گرفتہ نہ ہوں۔ آپ کا کام حق بات پہنچانا ہے جس کا آپ حق ادا کر رہے ہیں منوانا آپ کا کام نہیں۔
جو لوگ حق کا انکار کرتے ہیں بالآخر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے دنیا میں ہم ان کو قلیل فائدہ دیں گے اور پھر انہیں شدید عذاب کی طرف مجبور کردیں گے۔ دنیا کا فائدہ ہے آخرت کے مقابلے مدّت اور حیثیت کے اعتبار سے بالکل ہی قلیل ہے۔ جہنم کی طرف مجبور کرنے کا معنٰی یہ ہے کہ جہنمی جہنم کو دیکھ کر آہ وزاریاں کریں گے مگر ملائکہ ان کو ہانک کر اور کسی کو چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیں گے۔
مسائل
1۔ داعی کو لوگوں کے کفرو شرک پر دل گرفتہ ہونے کی بجائے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔
2۔ ہر کسی نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال ہی نہیں بلکہ ان کے دلوں کی حالت بھی جانتا ہیں۔
Ayahs 31:25–26فہم القرآن
ربط کلام : کفرو شرک اختیار کرنے والوں سے ایک سوال۔
جو لوگ دنیا کی مختصر مدّت اور قلیل فائدے کی خاطر کفرو شرک اختیار کرتے ہیں۔ اس حقیقت کا وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جن کو ہم اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں ان کا زمین و آسمان کی تخلیق میں کوئی حصہ نہیں یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف نبی اکرم ﷺ کے بدترین دشمن بھی کیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو حکم ہوا کہ ان سے استفسار فرمائیں کہ بتاؤ کہ زمینوں آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کفار مکہ کا جواب یہی ہوتا تھا کہ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ اس طرح وہ ” اللہ “ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اے نبی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے کہ مشرکوں کے پاس حقیقت تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں مگر اس کے باوجود ان کی اکثریت جہالت کا اظہار کرتی ہے حالانکہ انہیں اسی خالق کی عبادت کرنی چاہیے۔
انہیں فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب کا سب ” اللہ “ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور حمدوستائش کے لائق ہے اگر تمام کے تمام انسان کفرو شرک پر تل جائیں تو اس کی بادشاہی اور حمدوستائش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
(یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْءًا یَا عِبَادِیْ لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِیْ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ ]
” اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے، آخری اور تمام انسان اور جن ایک متقی آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے، اور بعد والے، تمام کے انسان اور جن ایک فاجرشخص کے دل کی طرح ہوجائیں تو بھی میری بادشاہت میں ذرا برابر کمی نہیں کرسکتے۔ “
غنی کا معنٰی دولتمند، مالدار، مستغنی، مکتفی اور حمید کا معنٰی تعریف کرنے والا، تعریف کیا ہوا ہے۔
مسائل
1۔ ہر دور کے کافر اور مشرک اقرار کرتے ہیں کہ زمین و آسمانوں کا خالق ” اللہ “ ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ حمدوستائش کے لائق اور بےنیاز ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار اور مشرکین کا توحید باری تعالیٰ کا اعتراف :
1۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ارض وسماوات کو کس نے پیدا کیا، سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے مشرک ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ( العنکبوت : 61)
2۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً کہیں گے کہ انہیں زبردست اور سب کچھ جاننے والے ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ (لزخرف : 9 )
3۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر کس کی بادشاہت ہے ؟ جواب دیتے ہیں ” اللہ “ کی بادشاہت ہے۔ (المومنون : 88۔ 89)
5۔ اگر آپ ﷺ ان سے زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں گے تو اللہ ہی کا نام لیں گے۔ (لقمان : 25)
6۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (النمل : 64)
7۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ تو کہتے ہیں ” اللہ “ ہی خالق ہے۔ (الزمر : 38)
8۔ فرما دیں کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ؟ اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کی تدبیر کرتا ہے ؟ تو وہ فوراً کہیں گے ” اللہ “ تو فرما دیں پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟ (یونس : 31)
Ayah 31:27فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ زمین و آسمانوں کا مالک اور تعریف کے لائق ہے یاد رکھو کہ اس کی حمدوستائش کی انتہا نہیں۔
اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ حمدوثنا کے لائق ہے اگر کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا نہیں کرتے تو اسے اس کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ اس قدر اَن گنت تعریفات کا مالک اور حق دار ہے کہ اگر کائنات کے تمام درختوں کی قلمیں بنالی جائیں اور سات سمندر سیاہی بنا دئیے جائیں۔ جن و انس، ملائکہ اور ہر جاندار چیز اپنے رب کی حمد لکھنے بیٹھ جائے تو ساتوں سمندر ختم ہوجائیں، قلمیں گھس گھس کر اپنا وجود کھو بیٹھیں سب کو سات گنا اور بڑھا لیاجائے تو پھر بھی آپ کے رب کی حمدوثنا ختم نہ ہو پائے گی کیونکہ جس کی نعمتوں کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ (ابراہیم : 34) اور نہ ہی اس کی مخلوق کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔ (المدثر : 31) غور فرمائیں کہ کون ہے جو زمین کے ذرّات اور حشرات، سمندر کے قطرات اور اس کی مخلوقات، پہاڑوں کے سنگرات، زمین و آسمانوں کے ملائکہ کا شمار کرسکے۔ جب ہم اس کی نعمتوں اور مخلوقات کا شمار نہیں کرسکتے تو خالق کی حمدوثنا کس طرح احاطہ اور شمار کرسکتے ہیں نہ ہی خالق کی تخلیق کے فوائد اور اس کے حسن و جمال کا احاط کیا جاسکتا ہے۔ جب انسان اپنے خالق کے سامنے اس قدر بےبس اور اس کا خالق اس قدر تعریفات کے لائق اور اختیارات رکھنے والا ہے تو پھر دوسروں کو اس کا شریک بنانے اور اس کی نافرمانی کرنے کا کیا معنٰی ؟
” حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں۔۔ آپ دعا کر رہے تھے۔” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی کی بجائے تیری رضاکا طلب گار ہوں۔ “ سزا کی بجائے معافی کا خواست گار ہوں اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ میں تیری شایان شان تعریف کرنے کی طاقت وصلاحیّتیں نہیں۔ “ [ رواہ مسلم : باب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ]
Ayah 31:28فہم القرآن
ربط کلام : جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ وہی پوری کی پوری کائنات کا مالک اور بادشاہ ہے اس کی تعریفات ختم ہونے والی نہیں وہی دوبارہ پیدا کرنے اور مارنے والا ہے۔
قرآن مجید نے تخلیق انسان کا بڑی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا اور بتایا ہے کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرما کر پھر بیشمار مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ [ النساء : 1] کفار کا سوال تھا کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح پیدا کیا جاسکتا ہے قرآن مجید نے اس کے کئی جواب دئیے ہیں یہاں یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو پیدا کرنا اور ان کی موت کے بعد اٹھانا ایک انسان کو پیدا کرنے اور اس کو اٹھانے کی طرح ہے کیونکہ وہ کسی کام کے لیے صرف ” کُنْ “ کہتا ہے اور وہ کام بالکل اس کے حکم کے مطابق ہوجاتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام لوگوں کو پیدا کرنا ایک انسان کے پیدا کرنے کے برابر ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
موت کے بعد جی اٹھنے کے ثبوت :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73) 2۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259)
3۔ چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 260) 4۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : 25)
5۔ مزید حوالوں کے لیے دیکھیں : (البقرۃ : 243) (الاعراف : 155) (المائدۃ : 110)
Ayah 31:29فہم القرآن
ربط کلام : جو ” اللہ “ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے کیا وہ انسان کو مٹی سے دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟
اللہ تعالیٰ انسان کو باربار اپنی قدرتوں کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اے انسان دیکھ اور غور کر کہ جس زمین پر تیرا بسیرا اور جس آسمان کے نیچے تیرا ڈیرہ ہے۔ جس لیل ونہار پر تیری زندگی کا انحصا رہے اور جس شمس وقمر کے آنے جانے پر تیری زندگی کے رات دن بنتے ہیں۔ غور کر کہ کبھی رات کا کچھ حصہ دن میں ضم ہوجاتا ہے اور کبھی دن رات میں کئی کئی گھنٹے گم ہوجاتی ہے۔ سورج کو دیکھ کہاں سے نکلتا ہے اور کہاں غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب چاند پر توجہ کر کہ وہ پندرہ راتیں کہاں غائب رہتا ہے جب نکلتا ہے تو کس قدر باریک ہوتا ہے۔ جب غائب ہونے کو آتا ہے تو چودھویں رات کو کس طرح تاباں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوقات مقرر کر رکھے ہیں یہ اسی طرح اپنی ڈیوٹی دیتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گا جو دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے وہی ” اللہ “ تمہارا حقیقی خالق اور معبود ہے اور وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور اپنے حضور پیش کرے گا۔ بس ہر حال میں اسی کو پکارو، اسی کی بندگی کرو اور اس کی غلامی میں آجاؤ۔ اس کے سوا جن کو تم پکارتے اور جن کے سامنے نذرونیاز پیش کرتے اور جن کے حضور سجدے کرتے ہو وہ سب کے سب باطل ہیں اور معبود نہیں ہیں۔ اللہ تمہارے شرکیہ تصورّات اور اعمال سے بلندوبالا ہے ہاں یہ بھی یاد رکھو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس کی اچھی طرح خبر رکھنے والا ہے۔
Ayah 31:30(فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ ) [ یونس : 32]
” سو اللہ ہی تمہارا سچا رب ہے۔ پھر سچ کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ بس تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔ “
مسائل
1۔ ” اللہ “ ہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا اور نکالتا ہے۔
2۔ ” اللہ “ ہی نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور وہی انہیں مقررہ وقت پر چلائے جا رہا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا باقی تمام معبود باطل ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے بلندوبالا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک جن معبودوں کو پکارتے ہیں ان کی حقیقت :
1۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : 16)
2۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : 76)
3۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان میں مبتلا کرے تو کون تمہیں بچائے گا۔ (الفتح : 11)
4۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : 3)
5۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ؟ (المائدۃ : 86)
6۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (الاعراف : 197)
7۔ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : 73)
Ayahs 31:31–32فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور بڑی دلیل جس سے فائدہ اٹھانے کے باوجود لوگ شرک سے توبہ نہیں کرتے۔
قرآن مجید اس بات کی طرف کئی بار توجہ دلاتا ہے کہ سمندروں میں سفر کرنے والے مسافرو ! اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھو اور غور کرو کہ یہ تمہارے رب کا کتنا عظیم کرم ہے کہ تم سمندروں میں اس طرح سفر کرتے ہو جیسے خشکی پر۔ اگر غور کرو تو تمہیں احساس ہوگا کہ سمندر کا سفر تمہارے پیدل چلنے سے بھی آسان بنادیا گیا ہے۔ تم بحری جہازوں پر اس طرح بیٹھے سمندر کا نظارہ کرتے اور آپس میں خوش گپیاں مار رہے ہوتے ہو جیسے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہو۔ پھر غور کرو ! جس سمندر پر ایک قدم رکھو تو ڈوب جاؤ وہ نہ صرف تمہیں اٹھائے ہوئے ہے بلکہ ٹنوں من بوجھ بھی اپنے آپ پر لادے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں تمہارا خادم بنا ہوا ہے۔ ایک دفعہ پھر توجہ کرو ! جو پانی ایک سوئی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا وہ تمہارے سمیت پورے بیڑے کا بوجھ کس طرح اٹھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں تمہیں اس لیے دکھاتا ہے تاکہ تم ان پر غور وخوض کرو یقیناً مشکلات پر صبر کرنے اور نعمتوں پر شکر کرنے والے لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ صبرو شکر نہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ جب انہیں سائبانوں کی طرح موجیں گھیر لیتی ہیں تو وہ اپنے مشکل کشاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک ” اللہ “ کو پکارتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ انہیں نجات دے کر خشکی پر لاتا ہے تو پھر اپنے کفر و شرک پر تکرار اور اصرار کرتے ہیں۔ یہی لوگ عہد توڑنے والے اور ناشکرے ہیں۔
لغت کے اعتبار سے مخلص کا معنٰی چُن لینے یا منتخب کرنے والا، ریاکاری یا دکھلاوا نہ کرنے والا، بات کو کھوٹ سے خالی رکھنے والا ہے۔
اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم شہادت دیتے ہیں فرمایا ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو بیشک ہم اس سے غافل تھے۔ ( الاعراف : 172)
مسائل
1۔ سمندر میں چلنے والے بحری جہاز اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے چلتے ہیں۔
2۔ سمندر کے سینے پر چلنے والے جہاز اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے۔
3۔ مصائب پر صبر اور نعمتوں پر شکر کرنے والے لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
4۔ مشرک مصیبت کے وقت صرف ایک ” اللہ “ کو پکارتا ہے۔ 5۔ مشرک عہد شکنی کرتا ہے۔
6۔ مشرک مشکل سے نجات پانے کے بعد اپنے شرک پر اصرار کرتا ہے۔ 7۔ مشرک اپنے رب کا ناشکرا ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اخلاص کا حکم اور مخلصین کا مقام :
1۔ نبی ﷺ کو اخلاص کا حکم۔ (الزمر : 11) 2۔ تمام امتوں کو اخلاص کا حکم۔ (الاعراف : 29)
3۔ اخلاص والے مومن ہیں۔ (النساء : 146) 4۔ مخلص بندوں پر شیطان قابو نہیں پاسکتا۔ (ص : 83)
5۔ پہلے لوگوں کو اخلاص کا حکم۔ (البینۃ : 5) 6۔ سب کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (المومن : 65)
7۔ نبی کریم ﷺ کو مخلص لوگوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت۔ (الکہف : 28)
Ayah 31:33فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے دراصل وہ اپنے رب سے جھگڑتا ہے۔ انسان کو اپنے رب سے جھگڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور قیامت کے عذاب سے بچنا چاہیے۔
اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے خوف کھاؤ جس دن باپ اپنے بیٹے کے اور بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام نہیں آسکے گا۔ اس دن کو برپا کرنا اور لوگوں سے ان کے اعمال کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمّہ ہے۔ تمہیں اس دن کے بارے میں دنیا کی زندگی دھوکے میں مبتلا نہ کرے اور نہ ہی شیطان تمہیں تمہارے رب کے بارے میں کسی فریب میں مبتلا کرے۔ قرآن مجید میں یہ بات پوری طرح کھول کر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے دن نہ سفارش چلے گی نہ فدیہ قبول ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کا اثر ورسوخ کام آئے گا حالت یہ ہوگی کہ جونہی کسی مجرم کی گرفتاری عمل میں آئے گی تو اس کے عزیزو اقربا اس سے دوربھاگ جائیں گے یہاں تک کہ بھائی اپنے بھائی سے ماں، باپ اپنی اولاد سے سے دور بھاگ جائے گی ( عبس : 33 تا 36) یہ صورتحال دیکھ کر مجرم خواہش کرے گا کہ کاش میری اولاد، میری بیوی، میرے بھائی اور میرے خاندان کے افراد اور زمین کے برابر سونا لے کر مجھے چھوڑ دیا جائے۔ (المعارج : 11 تا 14) جس دنیا کی خاطر انسان اللہ اور آخرت کو بھول جاتا ہے اس دن اس کی کوئی چیز کام نہیں آئے گی اس لیے فرمایا کہ اے لوگو تمہیں دنیا کی زندگی اور شیطان تمہارے رب سے دور نہ کر دے۔
قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بےبسی :
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَلْقٰی إِبْرَاہِیْمُ أَبَاہُ آزَرَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌوَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہٗ إِبْرَاہِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَآأَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ إِبْرَاہِیْمُ یَارَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ أَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَأَیُّ خِزْیٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِی الْأَبْعَدِفَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِنِّیْ حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلٰی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ یَآ إِبْرَاہِیْمُ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَإِذَا ھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍ فَیُؤْخَذُ بِقَوَآءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِی النَّارِ ) [ رواہ البخاری : باب قول اللّٰہ تعالیٰ (واتخذ اللّٰہ ابراھیم خلیلا)]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنے باپ آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور گردو غبار ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے کہیں گے میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو۔ تو وہ کہے گا کہ آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) فریاد کریں گے کہ اے میرے رب آپ نے مجھ سے قیامت کے دن مجھے ذلیل نا کرنے کا وعدہ کیا تھا میرے باپ سے زیادہ بڑھ کر اور کونسی ذلت ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا ابراہیم اپنے پاؤں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے تو ان کا باپ کیچڑ میں لتھڑا ہوا بجو بن چکا ہوگا جسے ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “
لفظ غرور کے دو معانی ہیں۔ 1 اگر ” غین “ پر زبر پڑھیں تو اس کا معنٰی شیطان ہوگا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ” وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ باللّٰہِ الْغَرُوْرُ “ کہ شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ نہ دے۔ 2 دوسرا معنٰی ہے دھوکہ، فراڈ۔
مسائل
1۔ انسان کو اپنے رب سے ڈر کر زندگی بسر کرنی چاہیے۔ 2۔ انسان کو دنیا کی زیب وزینت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرم کو کوئی چیز فائدہ نہ دے گی :
1۔ کافر زمین کے برابر سونا دے کر بھی جہنم سے نجات نہیں پاسکے گا۔ (آل عمران : 91)
2۔ قیامت کے دن ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (الانعام : 51)
3۔ کافر بغیر حساب کے جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ (الکہف : 105)
4۔ کافروں کو ان کی جمعیت اور تکبر کام نہیں آئے گا۔ (الاعراف : 48)
Ayah 31:34فہم القرآن
ربط کلام : جس دن سے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔
یقیناً اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہوگی وہی بارش نازل کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔ کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کس جگہ واقع ہوگی۔ یقیناً اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں حتمی طور پر کوئی نہیں جانتا۔
علم قیامت :
کتب حدیث میں قیامت کے بارے میں بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہاں تک ارشاد فرما دیا ہے کہ قیامت جمعہ کے دن واقع ہوگی اور جن لوگوں پر قیامت برپا ہوگی وہ بدترین لوگ ہوں گے۔ قیامت کا آغاز اچانک ہوگا۔ واضح نشانیاں بتلانے کے باوجود قیامت کے برپا ہونے کا سال، مہینہ اور دن کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کون سے سال اور مہینے کا کونسا جمعہ ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے جبریل امین (علیہ السلام) کے ایک سوال کے جواب میں یہی ارشاد فرمایا تھا کہ جس طرح تجھے معلوم نہیں اسی طرح مجھے خبر نہیں کہ قیامت کب برپا ہوگی۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ بَارِزًا یَوْمًا للنَّاسِ فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ ۔۔ فقَالَ مَتٰی السَّاعَۃُ قَالَ مَا الْمَسْءُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّاءِلِ )[ رواہ البخاری : کتاب الایمان باب سؤال جبریل ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کے پاس بیٹھے تھے۔ جبرائیل (علیہ السلام) آئے۔۔ انہوں نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ “ ؟
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَا یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہٗ لَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہٗ إِلٰی فِیْہٖ وَلَا یَطْعَمُہَا وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیْطُ حَوْضَہٗ لَا یَسْقِیْ مِنْہٗ )[ رواہ احمد : مسند ابی ہریرۃ ؓ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا کپڑا بیچنے اور خریدنے والا ابھی کپڑا سمیٹ نہیں سکیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ رہا ہوگا اور وہ اس کو پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اپنے منہ میں نہیں ڈال سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک آدمی اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا وہ اس سے پانی پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ إِلَّا عَلٰی شِرَار النَّاسِ )[ رواہ مسلم : کتاب الفتن واشراط الساعۃ باب قرب الساعۃ ]
” حضرت عبداللہ ؓ نبی معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ قیامت صرف برے لوگوں پر قائم ہوگی۔ “
رحم مادر :
رحم مادر کے بارے میں دوسرا شخص تو کجا جنم دینے والی مامتا کو علم نہیں ہوتا کہ بیٹا جنم دے گی یا اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوگی کیونکہ ابتدائی ایام میں بیٹی بیٹے کا قطعاً کسی کو علم نہیں ہوتا۔ جہاں تک الٹرا ساؤنڈ یا ایکسرے کا تعلق ہے اس سے اس وقت ہی معلوم ہوسکتا ہے جب مادہ منویہ لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ اس وقت لوتھڑے میں کچھ آثار پیدا ہوجاتے ہیں جس سے کافی حد تک معلوم ہوجاتا ہے کہ پیدا ہونے والابیٹا ہوگا یا بیٹی تاہم الٹرا ساؤنڈ یا دیگر طریقوں سے رحم کی حالت پوری معلوم کرنا مشکل ہے بیشک میڈیکل سائنس اپنے عروج پر ہے لیکن اس کے باوجود الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے کے ذریعے معلوم ہونے والی رحم مادر کی کیفیت سو فیصد پر فیکٹ (perfect) معلوم نہیں ہوتی اس لیے کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں کہ الٹرا ساؤنڈ کے رزلٹ کے خلاف نتیجہ نکلتا ہے۔ اس طرح یہ حقیقت بھی سو فیصد مسلّمہ ہے کسی مشین کے ذریعے معلوم نہیں ہو سکے گا کہ پیدا ہونے والا بچہ نیک ہوگا یا بد، غریب ہوگا یا امیر۔ خوبصورت ہوگا یا عام صورت لیے ہوئے ہوگا۔
بارش کب ہوگی :
اس میں کوئی شک نہیں بارش ہونے سے پہلے ہوا کا درجہ حرارت ایک خاص ڈگری تک پہنچنا ضروری ہے جب ہوا کی کیفیت نقطہ انجماد کے قریب پہنچتی ہے تو بارش ہونے کے امکانات غالب دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن دنیا میں کتنے واقعات ہیں کہ محکمہ موسمیات نے اپنے طور پر یقینی خبر دی کہ فلاں علاقہ میں فلاں وقت بارش ہوگی مگر وقت آنے پر بارش کا نام ونشان تک نہ تھا۔ پھر برسنے والی بارش کا اندازہ تو لگا لیا جاتا ہے کہ فلاں علاقہ میں اتنی سینٹی میٹر بارش ہوئی لیکن بارش کے قطرات شمار کرنا اور پانی کی مقدار کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا۔ ناممکن ہے اس لیے بارش کے بارے میں پوری معلومات صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا :
انسان نے علم وہنر میں بےانتہا ترقی کی ہے اس نے دریاؤں کا رخ موڑ دئیے سمندروں پر گزر گاہیں بنالیں چاند پر کمندیں ڈالیں ہر ایجاد کی گارنٹی دے ڈالی مگر اسے اپنے بارے میں معلوم نہیں کہ کل اس کے ساتھ کیا واقعات پیش آنے والے ہیں اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کل کی رات اپنے بستر پر لیٹوں گا یاقبر کی لحد میں اترجاؤں گا۔ انسان کی بیخبر ی اور بےبسی کا اندازہ لگائیں کہ مستقبل کے اندازے لگانے والا۔ آنے والے کل کے بارے میں نہیں جانتا اس لیے پوری نفی کے ساتھ ارشاد ہوا ہے کہ انسان نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔
موت کہاں واقع ہوگی :
یہ تو معلوم ہے کہ ہر انسان کا ایک وقت مقرر ہے وقت آنے پر ہر انسان موت کے گھاٹ اترجائے گا حکیم اور ڈاکٹر کافی حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شخص کی موت فلاں بیماری کی وجہ سے ہوگی اور مریض اتنے دن تک زندہ رہ سکے گا لیکن ڈاکٹر قطعی طور پر نہیں بنا سکتے کہ اس کی موت کس دن اور کس وقت واقع ہوگی۔ لیکن آج تک نہ کسی کو معلوم ہوا اور نہ ہوگا کہ انسان کی موت کہاں واقع ہوگی اور اسے کس جگہ سپرد خاک کیا جائے گا۔ یہ بھی ایسی حقیقت ہے جسے نہ کوئی شخص پاسکا ہے اور نہ ہی پاسکے گا۔ قیامت کے آثار کے بارے میں کتاب وسنت میں کافی حد تک معلومات فراہم کردی گئی ہیں۔ بارش ہونے کے آثار بھی کافی حد تک واضح ہوجاتے ہیں۔ رحم مادر کے بارے میں بھی کسی حد تک آثار ظاہر ہوجاتے ہیں اس لئے ان تین باتوں کے بارے میں کلیتاً نفی کے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ انسان کے ساتھ کل کیا ہونے والا ہے اور اس کی موت کہاں واقع ہوگی ان کے بارے میں حتمی طور پر نفی کی گئی ہے اس لیے کوئی شخص ان پانچ باتوں کے بارے میں سو فیصد آگاہی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ ان کے بارے میں کامل اور اکمل علم صرف ” اللہ “ کی ذات کے پاس ہے اس لیے فرمایا کہ اس کے سوا ان کے بارے میں کوئی قطعی اور یقینی علم نہیں رکھتا۔
مسائل
1۔ 1 قیامت، 2 بارش، 3 رحم مادر، 4 کل کیا ہوگا، 5 موت کہاں واقع ہوگی۔ ان کے بارے میں قطعی علم اللہ ہی کے پاس ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
غائب صرف ” اللہ “ ہی جانتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور غائب کو جانتا ہے۔ (التوبۃ : 94)
2۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : 19)
3۔ تم اپنی بات کو پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرواللہ تعالیٰ سینوں کے بھید جانتا ہے۔ (الملک : 13)
4۔ اللہ تعالیٰ کے لیے برابر ہے جو انسان چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ (الرعد : 10)
5۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ (الحشر : 22)
6۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے ؟ (البقرۃ : 77)
7۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ سرگوشیوں سے بھی واقف ہے ؟ (التوبۃ : 78)
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو غیب کا علم نہیں :
1۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
2۔ آپ فرما دیں کہ غیب ” اللہ “ ہی کے پاس ہے۔ (یونس : 20)
3۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب ” اللہ “ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
4۔ نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں۔ (ھود : 31)
5۔ آپ فرما دیں میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : 50)
6۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188)
7۔ حضرت ابراہیم کو فرشتوں کے متعلق علم نہ ہوسکا۔ (ھود : 69) 8۔ حضرت لوط فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔ (ھود : 77)