Ayahs 32:1–3فہم القرآن
سورة لقمان کے آخر میں یہ ارشاد ہوا کہ قیامت، بارش، ماں کے رحم، انسان نے کل جو کرنا ہے اور جہاں اس نے مرنا ہے ان سب امور کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ وہ علیم اور خبیر ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حقیقی اور قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ انہیں یہ بھی یقین کرلینا چاہیے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ہی نازل کیا ہے جس کی تنزیل اور تعلیمات میں کوئی شریک نہیں لہٰذا لوگوں کو اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں کرنا چاہیے۔
الف، لام، میم کے بارے میں وضاحت ہوچکی کہ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ اہل مکہ کا الزام تھا کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنالیا ہے اس الزام کے کئی جواب دیے گئے ہیں یہاں اس کا پہلا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ قرآن جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس کے ” منزل من اللہ “ ہونے میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ہے گویا کہ یہ شاہی اعلان اور فرمان ہے اسے تسلیم کرو۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ قرآن اس نے اپنی طرف سے بنالیا ہے ایسا ہرگز نہیں یہ تو آپ ﷺ کے رب کی طرف سے حق نازل ہوا ہے۔ حق سے مراد یہ ہے کہ کفار اپنے الزامات میں جھوٹے ہیں اور تیرے رب کا فرمان حق اور سچ ہے کہ اس قرآن کو جہانوں کے رب نے نازل فرمایا ہے۔ حق کا یہ بھی معنٰی ہے کہ ” قرآن “ میں جو کچھ بیان ہوا اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہیں اور نہ اس کے کیے ہوئے اعلان کبھی جھوٹ ثابت ہوں گے۔ اس میں جو کچھ بیان ہوا وہ دنیا اور آخرت میں جوں کا توں پورا ہوگا اور اس پر عمل کرنے والا کبھی نقصان نہیں پائے گا۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو برے انجام سے ڈرائیں جن کے پاس مدّت دراز سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ یہ لوگ ہدایت پائیں۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب میں حضرت ھود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ان کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مکہ میں مبعوث کئے گئے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد نبی آخرالزماں ﷺ ہی مکہ میں مبعوث کیے گئے قرآن مجید کے پہلے مخاطب اہل مکہ تھے اس لیے حکم ہوا کہ انہیں ڈرائیں کیونکہ ان کے پاس اس سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ برے عقائد اور کام چھوڑ کر صراط مستقیم پر آجائیں۔
مسائل
1۔ قرآن مجید رب العالمین نے نازل فرمایا ہے۔
2۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں، اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈر جائیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کا اختصار :
1۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 2۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف : 1)
3۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : 1) 4۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174)
5۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 6۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس : 57)
7۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
8۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82)
9۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
10۔ جن و انس مل کر اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88)
11۔ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا۔ (البقرۃ : 185) 12۔ قرآن مجید لیلۃ القدر میں نازل ہوا۔ ( القدر : 1)
Ayah 32:4فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اس ذات کبریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش بریں پر مستوی ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے اسے چھ دن میں پیدا فرمایا پھر جس طرح اس کی شان ہے عرش معلی پر متمکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے بارے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اس ذات نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ان کی تخلیق سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ (ھود : 7) جہاں تک زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اے پیغمبر ﷺ انہیں فرمائیں کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمینوں کو دو دن میں پیدا کیا پھر زمین پر پہاڑ گاڑے اور زمین میں ہر قسم کا رہنے سہنے کا سامان بنایا اور اس میں برکت پیدا فرمائی۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو دھواں کی صورت میں تھا ان کو دو دنوں میں سات آسمان بنایا پھر ہر آسمان کو اس کے متعلقہ امور کا حکم دیا اس کے بعد پہلے آسمان کو ستاروں کے ذریعے خوبصورت بنایا اور اس کی حفاظت کا بندوبست کیا یہ کام اس ذات کبریا نے کئے ہیں جو ہر چیز کو جاننے والا اور ہر کام کرنے پر غالب ہے ( حٰم السجدہ : 9 تا 13) اس کے سوا نہ تمہارا کوئی خیرخواہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہوگا۔ کیا پھر بھی تم سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو ؟ قرآن مجید یہ حقیقت مختلف الفاظ اور انداز میں بیان کرتا ہے کہ لوگو ! تم اپنے رب کی خالص عبادت کرو اور کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ۔ تم دوسروں کو اس لیے اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو کہ قیامت کے دن وہ تمہاری سفارش اور مدد کریں گے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی انداز میں بھی کفرو شرک کیا اس کی کوئی سفارش اور خیرخواہی کرنے ولا نہیں ہوگا کیا تم اتنی آسان اور کھلی حقیقت سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو ؟
(اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا لاوَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِہٖ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ) [ الاعراف : 45]
” بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر قائم ہوا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلاآتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے، اس حال میں کہ اس کے حکم کے تابع ہیں سن لو پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ ہی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔
2۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق عرش بریں پر متمکن ہے۔
3۔ قیامت کے دن کافر اور مشرک کی کوئی بھی خیرخواہی اور سفارش نہیں کرسکے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش اور خیرخواہی نہیں کرسکے گا :
1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ : 255)
2۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : 38)
3۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : 109)
4۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس : 3)
5۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے الرّحمن اجازت دے گا۔ (مریم : 87)
6۔ اگر الرّحمن نقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کچھ کام نہ آئے گی۔ (یٰس : 23)
7۔ سفارشیوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ (المدثر : 48)
Ayahs 32:5–6فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ عرش بریں پر متمکن ہونے کے باوجود پوری کائنات کا مالک اور اس کا نظام چلا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ عرش بریں پر متمکن ہو کر کائنات کے نظام سے لاتعلق نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے کچھ ذمہ داریاں دوسروں کو سونپ رکھی ہیں۔ ایسا عقیدہ رکھنا بدترین شرک ہے اس کی نفی کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ وہ آسمان سے لے کر زمین تک بلا شرکت غیرے پورے کا پورا نظام چلارہا ہے۔
جو ہستی اتنی زبردست ہے کہ پوری کائنات کو عدم سے وجود میں لائی ہے اور اس کا نظام بلاشرکت غیرے چلا رہی ہے اس کے مقابلہ میں تمہارے معبودج نہیں تم سرپرست اور سفارشی سمجھ بیٹھے ہو تمہارے کس کام آسکتے ہیں۔ کیا تمہیں اتنی موٹی حقیقت بھی سمجھ نہیں آتی ؟
اسے کسی کی مشاورت اور معاونت کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جانتا ہے۔ ہر اعتبار سے غالب ہے۔ سب پر غالب ہونے کے باوجود نہایت مہربان ہے۔ پہلی آیت میں تدبیرِ کائنات کے بارے میں ارشاد ہوا کہ جو تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال بنتا ہے۔ تمہارا ہزار سال اس کے ہاں ایک دن کے برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا حقیقی معنٰی کیا ہے اس کے بارے میں اہل تفسیر نے پانچ آراء کا اظہار فرمایا ہے۔
1 جو کام ایک ہزار سال کی مدت میں پورے ہونے والے ہوتے ہیں۔ اس کے ہاں یہ مدت ایک دن کے برابر ہے۔
2 ۔ اللہ تعالیٰ کچھ کام ملائکہ کے حوالے کرتے ہیں۔ جب ہزار سالہ منصوبہ مکمل ہوجاتا ہے تو ملائکہ اس کی رپورٹ اپنے رب کے حضور پیش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اگلے ایک ہزار سال کا منصوبہ ان کے حوالے کردیتے ہیں۔
3 اس سے مراد قیامت کا ایک دن ہے جو دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس طرح قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔
4 قرآن پاک نے جب یہ بات کفار کو بتلائی کہ اگر تم اپنے فکروعمل سے باز نہ آئے تو تم پر عذاب نازل ہوگا۔ اس سے سبق حاصل کرنے کی بجائے کفار نے اس دن کا مذاق اڑایا اور مطالبہ کیا کہ اب تک عذاب نازل کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ جس مدت کو تم ایک ہزار سال سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ایک دن کے برابر ہے۔ ( الحج : 47)
5 مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کو متشابہات میں شمار کرتے تھے ان کا فرمان ہے کہ ہمیں اس دن کے بارے میں قیل وقال کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنا چاہیے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی پوری کائنات کے نظام کو چلارہا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہونے کے باوجود نہایت مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی کائنات کو بنانے اور اس کے نظام کو چلانے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ سب کو پیدا کرنے والا ہے۔ ( النساء) 2۔ اللہ تعالیٰ سب کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ : 1)
3۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق ہے۔ (الانعام : 102) 4۔ اللہ تعالیٰ کائنات کا مالک ہے۔ (یونس : 31)
5۔ اللہ تعالیٰ کائنات کا نظام چلانے والا۔ (فاطر : 13) 6۔ اللہ تعالیٰ حاکم مطلق ہے۔ (یوسف : 40)
7۔ اللہ تعالیٰ ہی عطا کرنے والا ہے۔ ( سبا : 15) 8۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے اور اس کا ہی حکم چلنا چاہیے۔ (الاعراف : 54)
9۔ تمہارا رب ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (المومن : 62)
10۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : 102)
11۔ اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، اور وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : 4)
Ayahs 32:7–9فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ نے زمین و آسمان اور ہر چیز بنائی اور پورے کے پورے نظام کو بلا شرکت غیرے چلارہا ہے اسی نے انسان کو مٹی سے بنایا اور ہر چیز کو اس کے مناسب حال نہایت خوبصورت پیدا کیا۔
اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی اور پیدا کی ہے اسے نہایت ہی خوبصورت اور متوازن بنایا ہے۔ پھول کی پتیوں کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کس قدر بھولی بھالی، پیاری، پیاری اور نہایت ہی دلکش ہوتی ہے پتیوں کی تراش، خراش دیکھو تو یوں لگتا ہے کہ کسی خاص ڈائی سے نکالی ہوئی ہیں رنگت پر نظر پڑتی ہے تو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی پتی پر رنگ کے کسی شیڈ میں۔ گلاب کی پتی کا ابتدائی حصہ سفیدی لئے ہوئے ہے اوپر کا حصہ نہایت ہی سرخ رنگ سے مّزین ہے۔ درندوں کو، دیکھو شیر کا چہرہ کس قدر بارعب اور جسم کتنا پھرتیلا ہے۔ بلی کے بچے کو دیکھو کتنا بھولہ بھالا لگتا ہے یہاں تک کتے کا بچہ بھی پیارا لگتا ہے۔ غرض کہ جو چیز بنائی خوب سے خوب تر بنائی۔ ہر کسی کو اس کی طبع کے مطابق ماحول دیا اور اس کی خوراک کا بندوبست فرمایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر اس کی نسل کا سلسلہ مرد، زن کے پانی کے ایک قطرہ سے شروع کیا جو عورت کے رحم میں پہنچ کر خون بنتا ہے اس کے بعد لوتھڑے کی شکل اختیار کرتا ہے پھر اسے ایک وجود بخشا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے پھر اسے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے کے لیے دل دیا تاکہ سچائی کو سنے، حقیقت کو دیکھے اور دل کے ساتھ سوچے کہ میں نے کس کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنی ہے اور کس کا سب سے زیادہ شکر گزار رہنا ہے لیکن انسانوں کی اکثریت اپنے خالق اور مالک کی ناقدری اور ناشکری کرتے ہیں۔ کان، آنکھیں اور دل اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو دیے ہیں مگر ان کی اور انسان کی سماعت، بصارت اور سوچ میں بےانتہا فرق ہے اس لیے انسان سے شکر گزار رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شکر کا جذبہ محسن کی قدر کرنے کا احساس دلاتا ہے اور شکر گزارہی تابعدار ہوا کرتے ہیں۔
(حَدَّثَنَا أَبُوْ مُوْسَی الأَشْعَرِیُّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیْعِ الأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلَی قَدْرِ الأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمُ الأَحْمَرُ وَالأَبْیَضُ وَالأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذَلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابوداؤد : باب فِی الْقَدَرِ ]
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا فرمایا اسی لیے آدم کی اولاد زمین کی رنگت کے مطابق ہے بعض ان میں سے سرخ ہیں اور بعض سفید، اور بعض سیاہ اور ان میں کچھ آرام اور سکون سے زندگی بسر کرنے والے ہیں اور کچھ غم زدہ اور کچھ خبیث النّفس اور کچھ نیک ہیں۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ وَرَفَعَ الْحَدِیْثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثٰی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہٖ ) [ رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ رِزْقِہِ وَأَجَلِہِ وَعَمَلِہِ وَشَقَاوَتِہِ وَسَعَادَتِہِ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اسی طرح اس کا نیک اور بد ہونا اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جو چیز پیدا فرماتا ہے نہایت خوبصورت پیدا کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی افزائش کا انتظام اسی کے وجود کے ذریعے سے فرمایا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھ، کان اور دل عنایت کیے تاکہ وہ اس کا شکر ادا کرے۔
Ayahs 32:10–11فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تاکہ یہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کا تابعدار اور شکر گزار رہے لیکن انسان کی ناشکری کی انتہا۔
ناقدری اور ناشکری کی انتہاء ہے کہ قیامت کے منکر کہتے ہیں کہ کیا ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ازسر نو پیدا کیے جائیں گے۔ ایسا کہنے والے دراصل اپنے رب کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں۔ انہیں آگاہ فرمادیں کہ ہاں جو فرشتہ تم پر مقرر کیا گیا ہے وہ تمہیں موت دے گا پھر تم اپنے رب کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْنَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ ) [ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ ابْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ [ متفق علیہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دوسرا صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں جانتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میرا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز مٹی ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) مسلم میں ہے۔ کہ آپ ﷺ نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی سوائے دمچی کے انسان اسی سے پیدا ہوا اور اسی سے جوڑا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کا انکار کرنا کفر ہے۔ 2۔ ہر کسی کو موت آنی ہے اور اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔
تفسیر بالقرآن
موت کے بعد جی اٹھنے کے دلائل :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73)
2۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو سو سال کے بعد زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے ان کے ذبح کیے ہوئے چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 260)
4۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ (آل عمران : 49، المائدۃ : 110)
5۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : 25)
6۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243)
7۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
8۔ آپ فرما دیں ” اللہ “ ہی نے تخلیق کی ابتداء کی پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (یونس : 34)
9۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ لوٹائے گا تاکہ نیک و بد کو جزاو سزا مل سکے۔ (یونس : 4)
10۔ تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : 5)
11۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : 36 )
12۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ : 6)
Ayah 32:12فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ مر کر جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں قیامت کے دن ان کی حالت دیدنی ہوگی۔
سروردوعالم ﷺ سے منکرین قیامت اس بات پر جھگڑا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد کسی نے زندہ نہیں ہونا حالانکہ قرآن مجید نے مرنے کے بعد جی اٹھنے کے درجنوں دلائل دئیے ہیں جن میں ثبوت کے طور پر عزیر (علیہ السلام) اور ان کے گدھے کا زندہ کیا جانا، ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے چار پرندوں کا دوبارہ زندہ ہونا، اصحاب کہف کا (309) تین سو نوسال بعد جی اٹھنا، موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے مقتول کا زندہ ہونا بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کا مرنے کے بعد زندہ کیا جانا۔ (البقرہ آیت 259) عیسیٰ ( علیہ السلام) کا مردوں کو زندہ کرنا۔ (المائدہ : 110)
اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت لوگوں کو دوبارہ پیدا فرما کر اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا جب منکرین قیامت اس کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو وہ ذلّت اور خوف کی وجہ سے اپنے رب کے سامنے گردنیں جھکائے ہوئے فریاد پر فریاد کریں گے۔ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی آنکھوں سے قیامت دیکھ لی اور سب کچھ اپنے کانوں سے سن لیا ہے اب ہمیں واپس جانے دیجیے تاکہ ہم نیک عمل کریں کیونکہ اب ہمیں یقین ہوچکا ہے کہ قیامت برحق ہے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن ذلّت اور خوف کی وجہ سے مجرم سرجھکائے ہوئے ہوں گے۔ 2۔ مجرم دنیا میں واپس لوٹنے کی فریاد کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرمین کی فریادیں :
1۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
2۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37۔ المومنون : 107)
Ayahs 32:13–14فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کی درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا حکم۔
مجرموں کو مزید احساس دلانے اور ذلیل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میرا فرمان سچ ثابت ہوا کہ میں جہنم کو بہت سے جنوں اور انسانوں سے بھروں گا لہٰذا اب جہنم کا عذاب چکھو اس لیے کہ تم میری ملاقات کو فراموش کرچکے تھے لہٰذا ہم نے بھی تمہیں فراموش کردیا ہے بس اب تم اپنے کیے کے بدلے میں ہمیشہ کا عذاب سہتے رہو۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تین ارشادات فرمائے ہیں۔
1 اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام جنوں اور انسانوں کو ہدایت سے سرفراز کردیتا چاہنے سے مراد جبراً ہدایت دینا ہے اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اچھائی اور برائی کا شعور دے کر یہ اختیار بخشا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اچھائی کریں یا برائی کریں۔ جہنم میں داخل ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو فراموش کیا اور دنیا کو مقدم سمجھا جس وجہ سے انہیں جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
2 یہاں مجرمین کے لیے ” اَجْمَعِیْنَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس سے مراد تمام کے تمام نافرمان جنّ اور انسان ہیں۔
3 اللہ تعالیٰ کا کسی کو فراموش کرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ خاکم بدھن کہ اللہ تعالیٰ بھی بھول جاتا ہے۔ فراموش کرنے کا معنٰی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ کے لیے اپنی رحمت سے دور کر دے گا اور ان پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔
(عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَاءِ قَالَ قَا لَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یُلْقٰی عَلَی أَہْلِ النَّارِ الْجُوْعُ فَیَعْدِلُ مَا ہُمْ فِیْہِ مِنَ الْعَذَابِ فَیَسْتَغِیْثُوْنَ فَیُغَاثُوْنَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِیْعٍ لاَ یُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ فَیَسْتَغِیْثُوْنَ بالطَّعَامِ فَیُغَاثُوْنَ بِطَعَامٍ ذِیْ غُصَّۃٍ فَیَذْکُرُوْنَ أَنَّہُمْ کَانُوْا یُجِیْزُوْنَ الْغُصَصَ فِیْ الدُّنْیَا بالشَّرَابِ فَیَسْتَغِیْثُوْنَ بالشَّرَابِ فَیُرْفَعُ إِلَیْہِمُ الْحَمِیْمُ بِکَلاَلِیْبِ الْحَدِیْدِ فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوْہِہِمْ شَوَتْ وُجُوْہَہُمْ فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُوْنَہُمْ قَطَّعَتْ مَا فِیْ بُطُوْنِہِمْ فَیَقُوْلُوْنَ ادْعُوْا خَزَنَۃَ جَہَنَّمَ فَیَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تَکُ تَأْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا بَلٰی قَالُوْا فَادْعُوْا وَمَا دُعَاءُ الْکَافِرِیْنَ إِلاَّ فِیْ ضَلاَلٍ قَالَ فَیَقُوْلُوْنَ ادْعُوْا مَالِکًا فَیَقُوْلُوْنَ (یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ ) قَالَ فَیُجِیْبُہُمْ (إِنَّکُمْ مَاکِثُوْنَ ) قَالَ الأَعْمَشُ نُبِّءْتُ أَنَّ بَیْنَ دُعَاءِہِمْ وَبَیْنَ إِجَابَۃِ مَالِکٍ إِیَّاہُمْ أَلْفَ عَامٍ قَالَ فَیَقُوْلُوْنَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ فَلاَ أَحَدَ خَیْرٌ مِنْ رَبِّکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ (رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَالِّیْنَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُوْنَ ) قَالَ فَیُجِیْبُہُمْ (اخْسَءُوْا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ) قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ یَءِسُوْا مِنْ کُلِّ خَیْرٍ وَعِنْدَ ذَلِکَ یَأْخُذُوْنَ فِیْ الزَّفِیْرِ وَالْحَسْرَۃِ وَالْوَیْلِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ طَعَامِ أَہْلِ النَّارِ ]
” حضرت ابی دردا ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی اور وہ بھوک اس عذاب کے برابر ہوگی جس میں وہ مبتلا ہوں گے وہ کھانا طلب کریں گے تو انہیں کھانے میں سوکھی گھاس دی جائے گی جس سے نہ وہ موٹے ہو نگے اور نہ ان کی بھوک دور ہوگی وہ کھانا طلب کریں گے تو انہیں ایسا کھانا دیا جائے گا کہ ان کے حلق میں اٹک جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ دنیا میں جب کھانا حلق میں اٹک جاتا تھا تو ہم پانی کے ساتھ اسے نیچے اتارتے تھے۔ پانی طلب کریں گے تو انہیں گرم پانی لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب وہ اسے اپنے چہروں کے قریب کریں گے تو ان کے چہرے جھلس جائیں گے اور جب اسے اپنے پیٹ میں داخل کریں گے تو ان کے پیٹ کٹ کے رہ جائیں گے وہ جہنم کے دروغے سے فریاد کریں گے انہیں جواب دیا جائے گا کیا تمہارے پاس رسول معجزات لے کر نہیں آئے تھے جہنمی جواب دیں گے ہاں ! تو فرشتے کہیں گے تم چیختے چلاتے رہو تمہاری فریاد رائیگاں جائے گی وہ کہیں گے مالک کو پکارو تو جہنمی مالک کو پکاریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کہے کہ ہمارے مرنے کا فیصلہ فرما دے انہیں جواب دیا جائے گا تم ہمیشہ اسی میں رہو گے حدیث بیان کرنے والے اعمش نے کہا ان کو جہنم کے کنٹرولر فرشتے مالک کی طرف سے ایک ہزار سال کے بعد جواب دیا جائے گا۔ دوزخی آپس میں کہیں گے کہ اپنے پروردگار کو پکارو تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں تو وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ تھے اے ہمارے پروردگار ہمیں اس جہنم سے نکال دے اگر ہم دوبارہ ایسے اعمال کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔ انہیں جواب دیا جائے گا اسی دوزخ میں رہو اور ہم سے کوئی بات نہ کرو اب وہ ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے اور آہ وزاریاں کریں گے اور کھانے پینے پر حسرت کا اظہار کریں گے اور واویلا کرتے رہیں گے۔ “
مسائل
1۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو جبراً ہدایت دینا چاہتا تو کوئی شخص گمراہ نہ ہوتا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نافرمان جنوں اور انسانوں کو جہنم میں داخل کرے گا۔
3۔ جو لوگ قیامت کو فراموش کریں گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں فراموش کردے گا۔
4۔ کفار اور مشرکین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کی جہنم میں آہ زاریاں :
1۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : 44)
2۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
3۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
4۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : 107)
5۔ جب بھی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے۔ (السجدۃ : 20)
6۔ ہر جہنمی کی خواہش ہوگی کہ اسے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : 27 تا 28)
7۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
8۔ جب بھی ارادہ کریں گے کہ ہم نکلیں جہنم سے تو اس میں واپس لوٹائے جائیں گے۔ (الحج : 22)
Ayah 32:15فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کے احکام اور قیامت کو فراموش کردینے والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور قیامت پر یقین رکھنے والوں کا کردار۔
” اللہ “ کے باغیوں اور قیامت کے منکروں کے سامنے باربار نصیحت کرنے کا کچھ اثر نہیں ہوتا ان کے مقابلے میں جو لوگ اپنے رب پر ایمان رکھتے ہیں اور قیامت کے دن پر یقین کرتے ہیں۔ ان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب بھی انہیں دین کی کوئی بات سمجھائی جائے یا ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حکم آئے جس پر فوری طور پر سرجھکا نامقصود ہو تو وہ اپنے رب کے حضور سجدے میں پڑ کر اس کی حمدو ثناء کرتے ہیں وہ کسی حال میں بھی تکبر کرنے والے نہیں ہوتے۔ ان میں یہ بات بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے بلایا جائے تو وہ اپنے رب کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اس کے حضور قیام و سجود کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔
تکبر کا معنٰی پہلے بھی بیان ہوچکا ہے تاہم موقع کی مناسبت سے پھر تحریر کیا جاتا ہے۔
(اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ ]
” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “
( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُول اللَّہ ﷺ کَانَ یَقْرَأُ فِیْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ تَنْزِیْلَ السَّجْدَۃِ وَ (ہَلْ أَتَی عَلٰی الإِنْسَانِ حِیْنٌ مِنَ الدَّہْر)[ رواہ ابوداوٗد : باب مَا یُقْرَأُ فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورة سجدہ اور سورة دھر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ “
نبی محترم ﷺ مشکل ترین وقت میں اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر اس کی مدد کے طلب گار ہوتے تھے۔ غزوہ بدر کے موقعہ پر اللہ کے حضور ان الفاظ میں عرض کرتے رہے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ بَدْرٍاللَّہُمَّ أَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعْدَکَ ، اللَّہُمَّ إِنْ شِءْتَ لَمْ تُعْبَدْ فَأَخَذَ أَبُو بَکْرٍ بِیَدِہِ فَقَالَ حَسْبُکَ فَخَرَجَ وَہْوَ یَقُولُ (سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّون الدُّبُرَ )[ رواہ البخاری : کتاب المغازی ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے دن یہ دعا کی۔” اے اللہ میں تیرے عہد اور وعدے کا تجھے واسطہ دیتا ہوں اے اللہ اگر تو چاہتا ہے کہ تیری عبادت نہ کی جائے۔ “ ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ بس کیجیے۔ آپ ﷺ یہ کہتے ہوئے نکلے کہ عنقریب لشکروں کو شکست دی جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ “ [ رواہ البخاری : باب قصۃ غزوۃ بدر)
حالات کا دباؤ اس قدر تھا کہ آپ ﷺ سجدے میں پڑے روتے ہوئے یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے ہمیشہ زندہ اور قا ئم رہنے والے اللہ ہماری نصرت فرما۔
سجدہ تلاوت کی دعا :
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِ الْقُرْاٰنِ بالَّلیْلِ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ فَتَبارَکَ اللّٰہُ أحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ) [ المستد رک علی الصحیحین للحاکم ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ قیام اللیل میں سجدہ تلاوت کے وقت یہ دعا کرتے تھے۔ میرا چہرہ اس ذات کا مطیع ہوا جس نے اپنی قدرت سے اسے بنا کر کان اور آنکھیں عطاکیے۔ اللہ تعالیٰ بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ ایمان دار لوگ متکبر نہیں ہوتے۔
2۔ ایمان داروں کے سامنے سجدہ کی آیات پڑھی جائیں تو وہ اپنے رب کے حضور سربسجود ہوتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
تکبر سے بچنے کا حکم :
1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : 74) 2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : 39)
3۔ تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : 35) 4۔ متکبّر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23)
5۔ اللہ تعالیٰ فخر و غرور کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 36) 6۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المومن : 76)
7۔ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر اتراؤ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23)
Ayahs 32:16–17فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والے لوگ رات کے وقت اٹھ کر بھی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
نیک لوگوں کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف ضرور شامل ہوتا ہے کہ وہ ساری رات خراٹے لے کر نہیں سوتے جونہی سحری کا وقت قریب ہوتا ہے وہ نیند سے اچاٹ ہوتے ہیں اور اپنے نرم ونازک اور آرام دہ بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کے حضور خوف وطمع کی حالت میں فریادیں کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا جس کا کسی کے دل میں خیال بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ یہ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ ہوگا یہاں مومن کے دل کی کیفیت کا ذکر خوف اور طمع کے حوالے سے کیا گیا ہے مومن کی یہی حالت ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے اعمال کی طرف نگاہ کرتا ہے تو اسے ” اللہ “ کی پکڑ کا خیال آتا ہے جس پر لرزاں وترساں ہوتا ہے جب اس کا خیال اللہ تعالیٰ کی بےکراں رحمت کی طرف جاتا ہے تو اس کی امید اپنے رب پر مضبوط ہوجاتی ہے اس کیفیت کی وجہ وہ عسر، یسر میں اپنے عزیز و اقرباء اور مساکین پر خرچ کرتا ہے۔
(عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ اأنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ؓ ، اِشْتَکٰی فَدَخَلَ عَلَیْہِ النَّبِیُّ ﷺ یَعُوْدُہٗ فَقَالَ کَیْفَ تَجِدُکَ یَا عُمَرُ ؟ فَقَالَ اأرْجُوْ وَأَخَافُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ مَا اجْتَمَعَ الرَّجَاءُ وَالُخَوْفُ فِیْ قَلْبِ مَؤْمِنٍ إِلَّا اأعْطَاہ اللّٰہُ الرَّجَاءَ وَأَمِنَہُ الْخَوْفَ ) [ رواہ البیھقی : باب فی الرجاء من اللہ تعالیٰ ]
” سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ بیمار ہوگئے تو نبی اکرم ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا اے عمر ! اپنے آپ کو کیسے محسوس کررہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے امید بھی ہے اور خوف بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کے دل میں امید اور خوف دونوں حالتیں نہیں جمع ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ اس کی امید پوری کردیتے ہیں اور اسے خوف سے محفوظ فرمالیتے ہیں۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَاأتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا اِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں ‘ جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ان کے بارے میں کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا اگر تمہیں پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “
نماز تہجد کی فضیلت :
عبادات میں سب سے افضل عبادت فرض نماز ہے۔ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ جسے نفل نماز قرار دیا گیا ہے۔ نفل کا معنیٰ ہوتا ہے ” زائد چیز “۔ رسول محترم نے نوافل کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فرض نماز کی کمی نفل نماز سے پوری کی جائے گی۔ بعض اہل علم کے نزدیک پہلے آپ ﷺ پر تہجد فرض تھی۔ بعد ازاں اسے نفل قرار دے دیا گیا۔ تہجد کا لفظ ” جہد “ سے نکلا ہے۔ جس سے مراد ” نیند کے بعد بیدار ہونا “ ظاہر ہے یہ کام ہمّت اور کوشش کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے جہد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کچھ اہل علم ضروری سمجھتے ہیں کہ تہجد کچھ دیر سونے کے بعداٹھ کر پڑھنی چاہیے۔ ان کے بقول سونے سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل تہجد شمار نہیں ہوتے۔ لیکن احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی اپنی صحت اور فرصت کے پیش نظر رات کے کسی پہر میں تہجد پڑھ سکتا ہے۔ البتہ تہجد کے لیے افضل ترین وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے۔
سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان کے لیے ایسا وقت ہے کہ لیل و نہار کا کوئی لمحہ ان لمحات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ زمین و آسمان کی وسعتیں نورانی کیفیت سے لبریز دکھائی دیتی ہیں۔ ہر طرف سکون و سکوت انسان کی فکر و نظر کو جلابخشنے کے ساتھ خالق حقیقی کی طرف متوجہ کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف رات اپنے سیاہ فام دامن میں ہر ذی روح کو سلائے ہوئے ہے اور دوسری طرف بندۂ مومن اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے کروٹیں بدلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ کہیں نیند کی غفلت میں پرنور لمحات گذر نہ جائیں۔ وہ ٹھنڈی راتوں میں یخ پانی سے وضو کرکے رات کی تاریکیوں میں لرزتے ہوئے وجود اور کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ شکر و حمد اور فقر و حاجت کے جذبات میں زار و قطار روتا ہوا فریاد کناں ہوتا ہے۔ وہ آنسوؤں کے پانی سے اس طرح اپنی ردائے حیات کو دھو ڈالتا ہے کہ اس کا دامن گناہوں کی آلودگی سے پاک اور وجود دنیا کی تھکن سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ طویل ترین قیام اور دیر تک رکوع و سجود میں پڑارہنے سے تہجد بندۂ مومن کو ذہنی اور جسمانی طور پر طاقت و توانائی سے ہمکنار کردیتی ہے۔ اگر وہ خوردو نوش میں مسنون طریقوں کو اپنائے تو اس کو کسی قسم کی سیر و سیاحت حتیٰ کہ معمولی ورزش کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ تہجد گزار بندوں کی اس طرح تعریف فرماتا ہے۔
(تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) [ السجدۃ : 16]
” وہ اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآء الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرُ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَأَسْتَجِیْبَ لَہُ مَنْ یَسْاَلْنِیْ فأُعْطِیَہٗ مَنْ یَسْتَغْفِرْنِیْ فَأَغْفِرَلَہُ ) [ رواہ البخاری : باب التحریض علی قیام الیل ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اسکوبخش دوں۔ “
تفصیل کے لیے دیکھئے : (میری کتاب آپ ﷺ کا تہذیب و تمدن اور فہم القرآن جلد 3 صفحہ نمبر : 929۔ 930)
صدقہ کی فضیلت :
(اِنَّ الصَّدَ قَۃَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّ بِّ وَ تَدْفَعُ مِےْتَۃَ السَّوْءِ ) (مشکوۃ : باب فضل الصدقۃ)
” صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچا تا ہے۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں پھر اس کو صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ آدمی کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ]
(مَامِنْ مُّسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَکَلَ مِنْہُ إِنْسَانٌ أَوْ دَآبَّۃٌ إِلَّا کَانَ لَہٗ بِہٖ صَدَقَۃٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ]
” جس مسلمان کے کھیت سے کسی انسان یا جانورنے دانہ کھایا اسے بھی صدقہ کا ثواب ملے گا۔ “
(کُلُّ سُلَامٰی عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ کُلَّ یَوْمٍ یُعِیْنُ الرَّجُلَ فِيْ دَابَّتِہٖ یُحَامِلُہٗ عَلَیْھَا أَوْ یَرْفَعُ عَلَیْھَا مََتَاعَہٗ صَدَقَۃٌ وَالْکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ وَکُلُّ خُطْوَۃٍ یَمْشِیْھَا إِلَی الصَّلٰوۃِ صَدَقَۃٌ وَدَلُّ الطَّرِیْقِ صَدَقَۃٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ]
” روزانہ ہر جوڑ پر صدقہ ہے کسی آدمی کو سواری کے لیے سواری دے دینا یا کسی کے سامان کو سواری پر رکھ لینا صدقہ ہے اور اچھی بات کہناصدقہ ہے۔ نماز کے لیے جاتے ہوئے ہر قدم کا بدلہ صدقہ ہے اور کسی کو راستہ بتلانا صدقہ ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے بندے اپنے رب کے خوف اور اس کی رحمت کی طلب میں رات کے وقت اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کے حضور قیام کرتے ہیں۔
2۔ اللہ کے بندے اپنے رب سے ڈرتے بھی ہیں اور اس کی رحمت کی امید بھی رکھتے ہیں۔
3۔ اللہ کے بندے عسر، یسر میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جس کا خیال کسی کے دل میں نہیں آسکتا۔
تفسیر بالقرآن
نماز تہجد اور صدقہ کی فضیلت :
1۔ نماز کی پابندی کیجئے دن کے دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بھی بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ( العنکبوت : 45)
2۔ صدقہ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
3۔ اللہ تعالیٰ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 261) 4۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ : 261)
5۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11) 6۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : 88)
7۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39)
8۔ مومنین اللہ کے راستے میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ (الرعد : 22)
Ayahs 32:18–20فہم القرآن
ربط کلام : آیت 10 تا 17 میں تابعدار اور نافرمانوں کے کردار اور انجام کا ذکر ہوا ہے اب کھلے الفاظ میں اعلان ہوتا ہے کہ تابعدار اور نافرمان برابر نہیں ہوسکتے۔
اس سے پہلی آیات میں نافرمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے بنا کر اس کو کان، آنکھیں اور دل دیا تاکہ یہ اپنے وجود اور ” اللہ “ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کا شکر گزار بننے کی کوشش کرے اس کے شکر کی حقیقی صورت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرے اور آخرت میں کامیاب ٹھہرے۔ لیکن نافرمان اور قیامت کے منکر کہتے ہیں کیا ہمیں مرنے کے بعد پھر اٹھایا جائے گا ؟ ایسے لوگوں کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا کہ ہاں ! نہ صرف انہیں اٹھایاجائے گا بلکہ جہنم میں بھی جھونکا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں صاحب ایمان لوگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جونہی ان کے سامنے ان کے رب کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو یہ تکبر کرنے کی بجائے اپنے رب کے حضور سزبسجود ہوتے ہیں۔ رات کو اٹھ اٹھ کر اپنے رب کے حضور خوف اور امید کے جذبات کے ساتھ دعائیں کرتے ہیں اور جو کچھ انہیں عطا کیا گیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کے بارے میں کسی انسان کے دل میں تصور بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس تقابل کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ ایمان دار اور صاحب کردار لوگوں کے لیے جنت ہے جس میں ان کی مہمان نوازی کی جائے گی اور ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دیا جائے گا۔ جو دنیا میں نافرمان ٹھہرے ان کے رہنے کی جگہ جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہے جب وہ اس سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو ملائکہ انہیں مارتے اور جھڑکیاں دیتے ہوئے جہنم میں دور تک دھکیل دیں گے۔ ان کی اذیت اور تڑپ میں اضافہ کرنے کے لیے فرشتے اعلان کریں گے کہ بس تم جہنم کی آگ میں جلتے رہو کیونکہ تم قیامت اور جہنم کو جھٹلایا کرتے تھے۔
مسائل
1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔
2۔ مومنوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور ان کے اعمال کی بہترین جزادی جائے گی۔
3۔ فاسقوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا انہیں کہا جائے گا کہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہو۔
تفسیر بالقرآن
جنتیوں کی جزا اور جہنمیوں کی سزا :
1۔ جنت میں جنتیوں کو ہر نعمت میسر ہوگی جس کی وہ چاہت کریں گے۔ ( الانبیاء : 102)
2۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 3۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17)
4۔ جنت میں سونے اور لؤلو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33)
5۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 76)
6۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21) 7۔ جہنمیوں کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16)
8۔ جہنمیوں کو آگ کے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا۔ (ہمزہ : 90)
9۔ جہنمیوں کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزادی جاسکے۔ (النساء : 56)
Ayah 32:21فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی آخرت سے پہلے دنیا میں سزا۔
جو لگ اپنے رب کے احکام کا انکار کرتے ہیں اور قیامت کے حساب و کتاب کو جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان سے اعراض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے والا شخص بڑا ظالم ہوتا ہے ان مجرموں سے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں انتقام لیں گے قیامت کو انہیں بڑا عذاب ہوگا لیکن دنیا میں بھی چھوٹے چھوٹے عذابوں کے ساتھ ان سے انتقام لیا جاتا ہے۔ کافر اور مشرک آخرت کے عذاب سے یہ کبھی چھٹکارا نہیں پائیں گے لیکن دنیا کے چھوٹے عذاب سے انہیں اکثر اوقات اس لیے نجات دی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ آخرت اور دنیا کے عذاب میں یہ فرق ہے کہ آخرت کا عذاب کافر، مشرک پر ہلکا نہیں ہوگا۔ لیکن دنیا کے عذاب میں سزا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی شامل ہوتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے عذاب سے نجات پانے کے لیے اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما کر قیامت کے بڑے عذاب سے بچا لے اس طرح دنیا کے عذاب میں شفقت کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے۔ بڑے عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے اور دنیا میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے بعد بڑا عذاب بھی آسکتا ہے۔
مسائل
1۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتا ہے وہ بڑا ظالم ہے۔ 2۔ ظالموں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انتقام لیتا ہے۔
3۔ دنیا میں سزا دینے کا ایک مقصد یہ بھی ہے تاکہ بندہ اپنے رب سے معافی مانگ لے۔
4۔ اللہ تعالیٰ بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذاب دیتا ہے تاکہ لوگ اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
5۔ دنیا کے عذاب اللہ تعالیٰ اس کی شفقت پنہاں ہوتی ہے۔
Ayah 32:22فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کو دنیا میں ہلکے پھلکے عذاب اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت کے حقدار بن جائیں مگر ظالم پھر بھی اعراض کیے رکھتے ہیں۔
اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ ہم لوگوں کو بڑا عذاب دینے سے پہلے اس لیے چھوٹے، چھوٹے عذاب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ لیکن ظالم لوگ نہ نصیحت قبول کرتے ہیں اور نہ ہی وہ چھوٹے، چھوٹے عذابوں سے ڈرتے ہیں۔ جب لوگوں کی یہ حالت ہوجائے تو پھر ظالموں سے انتقام لیا جاتا ہے اور ایک طرف ان کے گناہوں کی سزا دی جاتی اور دوسری طرف مظلوموں کا بدلہ چکایا جاتا ہے تاکہ دنیا کا نظام درہم برہم ہونے سے بچ جائے اور مظلوموں کو ریلیف دیا جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم مدین، آل فرعون اور دیگر اقوام پر عذاب نازل ہوئے اور انہیں نیست ونابود کر کے دوسری اقوام کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقعہ دیا گیا۔
مسائل
1۔ جو قوم مسلسل اعراض کا رویّہ اختیار کرئے اس پر بڑا عذاب نازل کیا جاتا ہے اس طرح ظالموں سے انتقام لیا جاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظالم اقوام پر نازل ہونے والے عذاب :
1۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 2۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6)
3۔ قوم عاد کو تند وتیز آندھی کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : 6) 4۔ ثمود زور دار دھماکے کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
5۔ قوم لوط کی بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔ (الحجر : 74)
6۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82)
Ayahs 32:23–25فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے انتقام لیا ان میں آل فرعون بھی شامل ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کرنے کے بعد آل فرعون کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لیے راہنمائی تھی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں ایسے راہنما مقرر فرمائے جو اس کے حکم کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتے مگر لوگوں نے ان کی راہنمائی قبول کرنے کی بجائے ان کی مخالفت کی اور انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں جس پر راہنماؤں نے صبر سے کام کیا کیونکہ وہ اپنے رب کے ارشادات پر یقین رکھنے والے تھے کہ انہیں تکلیفوں کے بدلے ضرور اجر سے نوازا جائے گا۔ جن لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقرر کردہ راہنماؤں سے اختلاف کیا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ بنی اسرائیل میں ائمہ مقرر کرنے سے مراد انبیاء عظام ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مبعوث کیے ان سے مراد بارہ رہنما بھی ہوسکتے ہیں جنہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے نائب کے طور پر بارہ قبیلوں کا نقیب مقرر کیا تھا یہاں پہلی آیت میں (فَلَا تَکَنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِنْ لِقَاءِہٖ ) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جس کا ایک معنٰی یہ ہے کہ کفار اپنے رب کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کے منکر ہیں لیکن اے نبی ﷺ آپ کو اپنے رب کی ملاقات پر کامل یقین رہنا چاہیے کہ اس دن آپ کے اور آپ کے مخالفوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ بعض اہل علم نے ان الفاظ کا یہ بھی معنٰی لیا ہے کہ اس ملاقات سے مراد نبی اکرم ﷺ کی معراج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہونے والی ملاقات ہے۔
(عَنْ اَبِیْ سَعِےْدِنِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ اِنَّ اُنَاسًا مِّنَ الْاَنْصَارِ سَاَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاَعْطَاھُمْ حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ فَقَالَ مَا ےَکُوْنُ عِنْدِیْ مِنْ خَےْرٍ فَلَنْ اَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ وَمَنْ یَّسْتَعِفَّ ےُعِفَّہُ اللّٰہُ وَمَنْ یَّسْتَغْنِ ےُغْنِہِ اللّٰہُ وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ ےُصَبِّرْہُ اللّٰہُ وَمَا اُعْطِیَ اَحَدٌ عَطَآءً ھُوَ خَےْرٌ وَّاَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ) [ رواہ البخاری : باب الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّہِ ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے مال کیلئے سوال کیا آپ ﷺ نے ان کو مال دے دیا حتیٰ کہ جو مال آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جتنا بھی مال ہو میں کبھی انکار نہیں کروں گا لیکن جو شخص سوال کرنے سے خود کو بچائے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے بچائے گا اور جو شخص بےنیازی اختیار کریگا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دیگا۔ جو شخص صبر کریگا اللہ تعالیٰ اسے صبر عنایت فرمائیگا۔ کوئی شخص صبر سے بہتر اور فراخی والے تحفہ سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی جو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ تھی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لیے دینی رہنما مقرر فرمائے۔ 3۔ قوم کے راہنما کو صابر ہونا چاہیے۔
4۔ رہنما کو اللہ تعالیٰ پر یقین ہونا چاہیے۔ کہ اسے ضرور بہترین بدلہ دیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
صبر کے فوائد :
1۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 152)
2۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ : 152) 3۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : 10)
4۔ بیشک جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا انہیں کوئی خوف اور حز ن و ملال نہیں ہوگا۔ (الاحقاف : 13)