Ayah 32:26فہم القرآن
ربط کلام : حق اور انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کا انجام۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کرنے والے فرعون، ہامان، قارون اور ان کے ساتھیوں کا کیا انجام ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ جن لوگوں نے اختلاف کیا ان کا حشر دیکھنا چاہو تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور چل پھر کر ان کے مقامات دیکھو۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن کے اقتدار کا پھریرا چار سو لہرا رہا تھا۔ رب ذوالجلال کا حکم نازل ہوا تو ان کا نام ونشان مٹا دیا گیا۔ قوم عاد، قوم صالح اور قوم مدین عرب کے علاقہ میں شامل تھیں۔ مکہ والے تجارت کے لیے سفر کرتے تو ان کے کھنڈرات سے گزرتے تھے۔ ان کے واقعات میں عبرت کے بہت سے اسباق ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے اور نصیحت پانے کے لیے سنتے ہیں۔ قرن سے مراد کسی قوم کے اقتدار کا دورانیہ، ایک نسل یا ایک صدی شمار کیا جاتا ہے۔
مسائل
1۔ تباہ ہونے والی اقوام اپنے سے بعد والی اقوام کے لیے نشان عبرت ہیں۔ 2۔ قوموں کے انجام میں عبرت پنہاں ہوتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اقوام کی تباہی :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 2۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13)
3۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 4۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
5۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6) 6۔ (آل فرعون کو سمند میں ڈبو دیا گیا۔ ( ٍیونس : 90)
Ayahs 32:27–30فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے یہاں تاریخی اور جغرافیائی نشانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد بارش سے سبق حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
پہلی آیت میں اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اب بارش اور اس کے پانی سے اگنے والی نباتات پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بارش نازل کرتا ہے اور پھر اس پانی سے زمین کو سیراب کرتا اور فصلیں اگاتا ہے اس سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور تم بھی اپنی خوراک حاصل کرتے ہو لیکن پھر بھی تم عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے !
بارش بذات خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ اور اس کی رحمت کا سرچشمہ ہے اس سے کیڑے مکوڑے، درند، پرند، چوپائے اپنے حسب حال اور ضرورت مستفید ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے نباتات، انگوریاں اور فصلیں پیدا کرتا ہے جس سے دوسری مخلوق کے ساتھ چوپائے اور انسان اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔ بارش کے فوائد ذکر کرنے کے ساتھ یہ بتانا مقصود ہے کہ بارش کی وجہ سے زمین سے نباتات اگتی ہے اسی طرح ایک دن آئے گا جب تمہاری موت کے بعد تمہیں بھی اٹھا لیاجائے گا۔ سب کچھ سننے اور دیکھنے کے باوجود آپ سے سوال کرتے ہیں کہ فیصلے کا دن کب آئے گا ؟ اس سوال کے پہلے بھی جواب دئیے گئے ہیں یہاں صرف یہ بتلایا ہے کہ آپ انہیں فرمادیں کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں یہ قیامت دیکھنے کے بعد ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کا ایمان اس دن انہیں فائدہ نہیں دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی اگر یہ لوگ اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ ان کا خیال چھوڑ دیں آپ بھی انتظار فرمائیں اور یہ بھی انتظار کریں۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو دنیا میں ان کی پکڑ کرے گا ورنہ قیامت کے دن ان سے ضرور پوچھا جائے گا۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن کفار کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔
2۔ ضدی لوگوں کے ساتھ الجھنے کی بجائے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ہٹ دھرم اور جہالوں اعراض کرنے کا حکم :
1۔ نبی ﷺ کو جاہلوں سے اعراض کی ہدایت تھی۔ (اعراف : 199)
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ : 67)
3۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : 46)
4۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : 63)
5۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع فرما دیتا پس آپ جاہلوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : 35)
6۔ آپ ﷺ جاہلوں سے اعراض کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں کیونکہ اللہ ہی نگہبان ہے۔ (النساء : 81)