32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsفہم القرآن

Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

اور کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے ہم کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں اس میں بڑی نشانیاں ہیں کیا پھر بھی یہ توجہ سے نہیں سنتے

فہم القرآن ربط کلام : حق اور انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کرنے والوں کا انجام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کرنے والے فرعون، ہامان، قارون اور ان کے ساتھیوں کا کیا انجام ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ جن لوگوں نے اختلاف کیا ان کا حشر دیکھنا چاہو تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور چل پھر کر ان کے مقامات دیکھو۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن کے اقتدار کا پھریرا چار سو لہرا رہا تھا۔ رب ذوالجلال کا حکم نازل ہوا تو ان کا نام ونشان مٹا دیا گیا۔ قوم عاد، قوم صالح اور قوم مدین عرب کے علاقہ میں شامل تھیں۔ مکہ والے تجارت کے لیے سفر کرتے تو ان کے کھنڈرات سے گزرتے تھے۔ ان کے واقعات میں عبرت کے بہت سے اسباق ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے اور نصیحت پانے کے لیے سنتے ہیں۔ قرن سے مراد کسی قوم کے اقتدار کا دورانیہ، ایک نسل یا ایک صدی شمار کیا جاتا ہے۔ مسائل 1۔ تباہ ہونے والی اقوام اپنے سے بعد والی اقوام کے لیے نشان عبرت ہیں۔ 2۔ قوموں کے انجام میں عبرت پنہاں ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اقوام کی تباہی : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 2۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13) 3۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 4۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5) 5۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6) 6۔ (آل فرعون کو سمند میں ڈبو دیا گیا۔ ( ٍیونس : 90)
Ayahs 32:27–30

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

ور کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ایک بےآب وگیاہ زمین کی طرف پانی بہا لے جاتے ہیں اور پھر اسی زمین سے فصل اگاتے ہیں۔ جس سے ان کی جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں کیا انہیں کچھ نہیں سمجھ آتا

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ فیصلہ کب ہوگا۔ اگر تم سچے ہو

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

ان سے فرماؤ کہ فیصلے کے دن ایمان لانا ان کے لیے کچھ سود مند نہیں ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

بس انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کریں

فہم القرآن ربط کلام : پہلی اقوام کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ قیامت کے دن زندہ ہونے کا انکار کرتے تھے یہاں تاریخی اور جغرافیائی نشانیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد بارش سے سبق حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں اقوام کے تباہ شدہ کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور اب بارش اور اس کے پانی سے اگنے والی نباتات پر غور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح بارش نازل کرتا ہے اور پھر اس پانی سے زمین کو سیراب کرتا اور فصلیں اگاتا ہے اس سے تمہارے چوپائے بھی کھاتے اور تم بھی اپنی خوراک حاصل کرتے ہو لیکن پھر بھی تم عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ! بارش بذات خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ اور اس کی رحمت کا سرچشمہ ہے اس سے کیڑے مکوڑے، درند، پرند، چوپائے اپنے حسب حال اور ضرورت مستفید ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے نباتات، انگوریاں اور فصلیں پیدا کرتا ہے جس سے دوسری مخلوق کے ساتھ چوپائے اور انسان اپنی روزی حاصل کرتے ہیں۔ بارش کے فوائد ذکر کرنے کے ساتھ یہ بتانا مقصود ہے کہ بارش کی وجہ سے زمین سے نباتات اگتی ہے اسی طرح ایک دن آئے گا جب تمہاری موت کے بعد تمہیں بھی اٹھا لیاجائے گا۔ سب کچھ سننے اور دیکھنے کے باوجود آپ سے سوال کرتے ہیں کہ فیصلے کا دن کب آئے گا ؟ اس سوال کے پہلے بھی جواب دئیے گئے ہیں یہاں صرف یہ بتلایا ہے کہ آپ انہیں فرمادیں کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں یہ قیامت دیکھنے کے بعد ایمان لائیں گے۔ لیکن ان کا ایمان اس دن انہیں فائدہ نہیں دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی اگر یہ لوگ اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ ان کا خیال چھوڑ دیں آپ بھی انتظار فرمائیں اور یہ بھی انتظار کریں۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو دنیا میں ان کی پکڑ کرے گا ورنہ قیامت کے دن ان سے ضرور پوچھا جائے گا۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن کفار کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہ دے گا۔ 2۔ ضدی لوگوں کے ساتھ الجھنے کی بجائے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ہٹ دھرم اور جہالوں اعراض کرنے کا حکم : 1۔ نبی ﷺ کو جاہلوں سے اعراض کی ہدایت تھی۔ (اعراف : 199) 2۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جہالت سے پناہ مانگی۔ (البقرۃ : 67) 3۔ حضرت نوح کو جہالت سے بچنے کا حکم۔ (ہود : 46) 4۔ جاہلوں سے بحث کی بجائے اجتناب اور اعراض کرنا چاہیے۔ (الفرقان : 63) 5۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع فرما دیتا پس آپ جاہلوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : 35) 6۔ آپ ﷺ جاہلوں سے اعراض کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں کیونکہ اللہ ہی نگہبان ہے۔ (النساء : 81)