Ayahs 33:1–3فہم القرآن
سورۃ السجدۃ کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ ہٹ دھرم لوگوں سے اعراض کرنا چاہیے الاحزاب کا آغاز اس بات سے کیا کہ ہٹ دھرم اور جاہلوں سے صرف اعراض ہی نہیں کرنا بلکہ ان کی مخالفت کو بھی خاطر میں نہیں لانا۔ لہٰذاے نبی ﷺ آپ کو ہر حال میں وحی الٰہی کی اتباع کرنا ہے۔
مکہ معظمہ میں آپ کے مخالف مشرکین تھے۔ مدینہ تشریف آوری کے بعد آپ ﷺ کا واسطہ، یہود اور منافقوں سے پڑا۔ جو صبح و شام آپ کے خلاف سازشیں کرتے اور نئے سے نیا الزام لگاتے اور اسے پھیلاتے رہتے تھے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن سیدہ زینب ؓ کا نکاح اپنے متبنّٰی بیٹے زید ؓ بن حارثہ کے ساتھ کیا تاکہ مسلم معاشرے میں طبقاتی اونچ نیچ ختم کی جاسکے۔ سیدہ زینب ؓ ذہنی طور پر حضرت زید ؓ کے ساتھ نکاح کرنے کے حق میں نہ تھیں۔ مگر اللہ کے نبی ﷺ کا حکم سمجھ کر آمادہ ہوگئیں۔ لیکن معاشرتی امتیاز اور طبیعتیں نہ ملنے کی وجہ سے نباہ مشکل ہوا۔ حضرت زید ؓ گاہے گاہے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گھر یلو حالات عرض کرتے۔ نبی ﷺ پیار اور محبت سے سمجھاتے کہ جس طرح بھی ممکن ہوسکتا ہے نباہ کرنا چاہیے۔ اس کوشش کے باوجود رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جونہی یہ رشتہ منقطع ہوا ” اللہ “ کا حکم ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ زینب کو اپنے حرم میں شامل کرلیں تاکہ زینب کی دلجوئی کے ساتھ ایک اور رسم کا خاتمہ ہوسکے۔ اس زمانے میں لوگ متبنّٰی بیٹے کی بیوی کو حقیقی بہو کا درجہ دیتے تھے متبنّٰی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنا آپ ﷺ کے لیے بڑی آزمائش اور مخالفوں کے لیے پراپیگنڈہ کا ایسا بہانہ تھا جس کا دفاع کرنا اس وقت کے حالات کے مطابق انہتائی مشکل تھا اس لیے اس سورة کی ابتداہی ان الفاظ سے ہوئی کہ اے نبی ﷺ کفار اور مشرکین کے پیچھے لگنے کی بجائے آپ کو صرف ” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اس لیے آپ کو اپنے رب کی وحی کی پیروی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال اور معاملات سے اچھی طرح باخبر ہے اس پر بھروسہ کیجئے وہ ہر معاملے میں کافی ہے یعنی اسے معلوم ہے کہ میں نے اپنے بندے کا دفاع کس طرح کرنا ہے جب وہ کسی کی حفاظت اور دفاع کا فیصلہ کرتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا بال برابر بھی نقصان نہیں کرسکتی۔
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ زید بن حارثہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سیدہ زینب ؓ کی شکایت لے کر آئے آپ ﷺ نے حضرت زید کو فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو نہ چھوڑو۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ اگر کسی چیز کو چھپانے والے ہوتے تو آپ اس بات کو چھپاتے۔ راوی بیان کرتے ہیں سیدہ زینت ؓ اسی بنیاد پر نبی ﷺ کی دوسری ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تمہارے اہل و عیال نے کیے لیکن۔ میرے نکاح کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر فرمایا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب وکان عرشہ علی الماء ]
مسائل
1۔ مسلمان کو صرف ایک ” اللہ “ سے ڈرنا اور اسی کے حکم کی اتباع کرنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے۔
3۔ اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے جو اس پر بھروسہ کرتا ہے ” اللہ “ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔
Ayahs 33:4–5فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو ” اللہ “ پر توکل کرنے کی تلقین کرنے کے بعد مسلم معاشرے سے رسومات کو ختم کرنے کا اعلان۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے ہی لوگوں کی مخالفت کی پر وہ کیے بغیر رسومات کا خاتمہ کیا کرتے ہیں۔
عرب معاشرہ میں متبنّٰی بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دینا اور جذبات میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ بیٹھنا حرف آخر سمجھا جاتا تھا۔ ان الفاظ اور رسومات کے خلاف کرنا اس طرح تھا جیسے کوئی شخص خودکشی کرنے کا اعلان کردے۔ لوگوں کے دلوں سے ان رسومات کو کھرچ ڈالنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے کہ ایک دل میں اپنے رب کا خوف رکھے اور دوسرے دل میں لوگوں کا خوف سمایا رہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کے سینے میں ایک ہی دل رکھا ہے تو اس کے دل میں ایک ہی ذات کا خوف اور اس کے حکم کا احترام ہونا چاہیے۔ لہٰذا حکم دیا جاتا ہے کہ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھتے ہیں انہیں سن لینا چاہیے کہ اس طرح ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں بن جاتیں اور جن لے پالکوں کو تم اپنا بیٹا قرار دیتے ہو وہ تمہارے حقیقی بیٹوں کا درجہ نہیں حاصل کرسکتے۔ یہ تمہارے منہ کی باتیں ہیں یعنی تمہارے اپنے الفاظ اور محبت کے جذبات ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے وہی سچ ہے اور وہ ہر معاملے میں سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے۔ اس کا حکم ہے کہ تم اپنے لے پالک بچوں کو ان کے حقیقی باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ ” اللہ “ کے نزدیک یہی انصاف کی بات ہے اگر تمہیں ان کے باپوں کا نام معلوم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں۔ اس معاملے میں جو تم سے پہلے غلطی ہوگئی اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ اگر تم دانستہ طور پر غلطی کروگے تو اس پر مواخذہ کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ذکر کرتے ہیں یہ فرمان نازل ہونے سے پہلے لوگ نبی ﷺ کے متبنّٰی زید کو زید بن محمد کہتے تھے (رواہ البخاری : کتاب السیف) جونہی یہ حکم نازل ہوا تو ہم اسے زید ؓ بن حارثہ کے نام سے پکارنے لگے۔ حضرت سلمان فارسی ؓ فارس کے رہنے والے اور حضرت صہیب ؓ روم کے رہنے والے تھے جس وجہ سے رومی کہلائے چھوٹی عمر میں وہ دشمن کے ہاتھ چڑھ گئے انہیں خود بھی معلوم نہ تھا کہ ان کے باپوں کے نام کیا ہیں۔ ( بخاری : کتاب المناقب) لوگوں کو اس بات پر الجھن ہوتی تھی کہ ضرورت کے وقت انہیں کس کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ جن کے باپ تمہیں معلوم نہیں وہ دینی اعتبار سے تمہارے بھائی اور دوست ہیں۔ آپ انہیں بھائی اور دوست کہہ کر پکار سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو پیار سے بھائی اور بیٹا بھی کہا جاسکتا ہے لیکن وہ حقیقی بھائیوں اور بیٹوں کا درجہ نہیں پاسکتے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ أَوِ انْتَميٰ إِلٰی غَیْرِ مَوَالِیْہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ الْمُتَتَابِعَۃُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ أبوداوٗد : باب فی الرجل ینتمی الخ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کے باپ کو اپنا باپ بنانے کا دعویٰ کیا یا کسی نے اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے آقا کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا۔ اس پر قیامت کے دن تک ” اللہ “ کی لعنت برستی رہے گی۔ “
(عَنْ سَعْدٍ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُوْلُ مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیہِ ، وَہْوَ یَعْلَمُ أَنَّہُ غَیْرُ أَبِیْہِ ، فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ)[ رواہ البخاری : باب مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ ]
” حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اپنے باپ کا علم ہونے کے باوجود کسی دوسرے شخص کی طرف اپنی نسبت کی اس پر جنت حرام ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔ 2۔ بیوی کو ماں کہنے سے وہ اپنے خاوند کی ماں نہیں بن جاتی۔
3۔ متبنّٰی تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بن سکتے۔ 4۔ اللہ کا ہر فرمان سچ ہے اور وہ سیدھے راستے کی رہنمائی کرتا ہے۔
5۔ اپنے لے پالکوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔
6۔ جن کے باپ کا نام تم نہیں جانتے وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں۔
7۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ راہنمائی فرمانے والا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43)
2۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ (الانعام : 161)
3۔ اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ ( الحج : 54)
4۔ ہم نے قوم ثمود کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت کے بدلے جہالت پسند کی۔ (حٰم السجدۃ : 17)
5۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 6۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56)
7۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 8۔ ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ (الحجرات : 17)
Ayah 33:6فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو کسی کو اپنا بیٹا قرار دینے سے منع کیا گیا ہے اب نبی اکرم ﷺ کا امت کے ساتھ رشتہ اور مسلمانوں کے آپس میں رشتے کی وضاحت کی گئی ہے۔
اس فرمان میں یہ بتلایا ہے کہ سروردوعالم ﷺ کا اپنی امت کے ساتھ اور امت کا اپنے نبی ﷺ کے ساتھ کیا رشتہ ہے یہ ایسا رشتہ ہے جو تمام رشتوں سے زیادہ مقدس اور مقدم ہے اور ہونا چاہیے۔ سروردوعالم ﷺ اپنے ساتھیوں کے لیے خود ان کی جانوں سے زیادہ خیرخواہ ہیں۔ لہٰذا مومنوں کے لیے بھی نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ محبوب اور مقدم ہونے چاہیں۔
اس خصوصیت کے ساتھ نبی ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کی بیویاں اسی طرح ان کے لیے حرام ہیں جس طرح مسلمانوں کی مائیں ان پر حرام ہیں۔ یہ مخصوص معاملہ نبی کریم ﷺ کے سوا دنیا میں اور کسی انسان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ازواج مطہرات صرف اسی معنٰی میں امّہات المومنین ہیں کہ ان کی تعظیم و تکریم مسلمانوں پر واجب ہے اور ان کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح نہیں ہوسکتا تھا۔ باقی دوسرے احکام میں وہ ماں کی طرح نہیں ہیں۔ مثلاً ان کے حقیقی رشتہ داروں کے سوا باقی سب مسلمان ان کے لیے غیر محرم تھے جن سے پردہ واجب تھا ان کی صاحبزادیاں مسلمانوں کے لیے بہنیں نہیں تھیں ورنہ ان سے بھی مسلمانوں کا نکاح حرام ہوتا۔ ان کے بھائی بہن مسلمانوں کے لیے خالہ اور ماموں کے حکم میں نہ تھے۔ ان سے کسی غیر رشتہ دار مسلمان کو وہ میراث نہیں پہنچتی تھی جو ایک شخص کو اپنی ماں سے پہنچتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید کی رو سے یہ مرتبہ تمام ازواج نبی ﷺ کو حاصل ہے جن میں لامحالہ حضرت عائشہ ؓ بھی شامل ہیں۔ لیکن ایک گروہ نے جب حضرت علی، حضرت فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد کو مرکز دین بنا کر سارا نظام دین انہی کے گرد گھمادیا اور اس بنا پر دوسرے بہت سے صحابہ کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کو بھی ہدف لعن وطعن بنایا، تو ان کی راہ میں قرآن مجید کی یہ آیت حائل ہوگئی جس کی رو سے ہر اس شخص کو انہیں اپنی ماں تسلیم کرنا پڑتا ہے جو ایمان کا مدعی ہو۔ آخر کار اس مشکل کو رفع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب دعویٰ کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں آپ کی زوجیت میں باقی رکھیں اور جسے چاہیں آپ کی طرف سے طلاق دے دیں۔ ابو منصور احمد بن ابو طالب طبرسی نے کتاب الاحتجاج میں یہ بات لکھی ہے اور سلیمان بن عبداللہ البحرانی نے اسے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا :
” یَااَبَا الْحَسَنِ اَنَّ ہٰذَا الشَّرْفَ بَانٍ مَادُمْنَا عَلٰی طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالیٰ فَاَیَّتُہُنَّ عَصَتِ اللّٰہَ تَعَالیٰ بَعْدِیْ بالْخُرُوْجِ عَلَیْکَ فَطَلِّقْہَا مِنَ الْاَزْوَاجِ وَاسْتَقِطْہَا مِنْ شَرْفِ اُمَّہَاتِ الْمُوؤمِنِیْنَ “
” اے ابو الحسن ! یہ شرف تو اسی وقت تک باقی ہے جب تک ہم لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں۔ لہٰذا میری بیویوں میں سے جو بھی میرے بعد تیرے خلاف خروج کر کے اللہ کی نافرمانی کرے اسے تو طلاق دے دیجیو اور اس کو امہات المؤمنین کے شرف سے ساقط کر دیجیو۔ “
اصول روایت کے اعتبار سے تو یہ روایت سراسر بےاصل ہے ہی لیکن اگر آدمی اسی سورة احزاب کی آیت 28۔ 29 اور 51۔ 52 پر غور کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ روایت قرآن کے بھی خلاف پڑتی ہے کیونکہ آیت ” تخییر “ کے بعد جن ازواج مطہرات نے ہر حال میں رسول اللہ ﷺ ہی کی رفاقت کو اپنے لیے پسند کیا تھا انہیں طلاق دینے کا اختیار حضور ﷺ کو باقی نہ رہا تھا۔
علاوہ بریں ایک غیر متعصب آدمی اگر محض عقل ہی سے کام لے کر اس روایت کے مضمون پر غور کرے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ انتہائی لغو اور رسول پاک ﷺ کے حق میں سخت توہین آمیز افترا ہے۔ رسول کا مقام تو بہت بالا تروبرتر ہے ایک معمولی شریف آدمی سے بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی وفات کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دینے کی فکر کرے گا اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے داماد کو یہ اختیار دے جائے گا کہ اگر کبھی تیرا اس کے ساتھ جھگڑا ہو تو میری طرف سے تو اسے طلاق دے دیجیو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اہل بیت کی محبت کے مدعی ہیں ان کے دلوں میں صاحب البیت کی عزت وناموس کا پاس کتنا کچھ ہے اور اس سے بھی گزر کر خود اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا وہ کتنا احترام کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن : جلد 4)
نبی کریم ﷺ کا امت کے ساتھ تعلق اور محبت :
(لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ) [ التوبۃ : 128]
” بلاشبہ یقیناً تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آیا ہے جس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت شاق گزرتا ہے، تمہاری بھلائی کے بارے میں بہت خواہش رکھتا ہے، ایمان والوں پر بہت شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ “
(لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ]
” تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اپنے والدین ‘ اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوجاؤں۔ “
مواخات صحابہ ؓ :
ہجرت کے بعد مہاجروں کی آباد کاری کا مسئلہ بہت اہم تھا نبی اکرم ﷺ نے اس مسئلہ کو یوں حل فرمایا آپ ﷺ نے انس ؓ کے گھر مہاجر اور انصار کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا یہ رشتہ اس قدر مضبوط اور محترم ہوا کہ مواخاتی بھائی ایک دوسرے کی وراثت میں حصہ دار بن گئے جب مسلمانوں کی حالت بہتر ہوگئی تو اس قانون کو ختم کردیا گیا اور حکم ہوا کہ کتاب اللہ میں جن وارثوں کی تفصیل دی گئی وہی رشتہ دار ہی ایک دوسرے کی وراثت میں حقدار ہوں گے البتہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہوسکتا ہے اور کسی کے حق میں اپنے مال سے تیسرے حصہ تک وصیت کی جاسکتی ہے۔ البتہ جو وراثت میں حصہ دار ہے اس کے لیے مال والا وصیت نہیں کرسکتا۔
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ مسلمانوں کے لیے ان کی ذات سے مقدم ہیں۔
2۔ ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں۔
3۔ مومن ایک دوسرے سے ان کے غیر مسلم رشتہ داروں سے زیادہ قریب ہیں۔
Ayahs 33:7–8فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اور مخالفت کرنے والے جس قدر چاہیں حق کی مخالفت کرنے پر تل جائیں اے پیغمبر ﷺ آپ نے لوگوں تک حق پہنچانا اور ہر حال میں حق پر قائم رہنا ہے۔ اس حوالے سے آپ کے سامنے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ارشاد ہوا کہ ہم نے انبیاء کرام، نوح، ابراہیم، موسٰی، عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ ﷺ سے عہد لیا ہے کہ ہر حال میں لوگوں تک حق پہنچانا اور اس پر قائم رہنا ہے۔ اس بارے میں آپ اور دوسرے انبیاء سے سوال کیا جائے گا۔ لہٰذا لوگوں کے حق کے بارے میں جذبات کچھ بھی ہوں آپ کو پہنچانا ہوگا۔ جو لوگ سچائی کا انکار کریں گے ان کے لیے اذّیت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ یہاں سچائی سے مراد ہر قسم کی سچائی ہے جس میں پہلی سچائی جس کا عہد لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا اور اس کا پرچار کرنا ہے۔ دوسری سچائی اور عہد یہ ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے نبی کی تائید کرے گا اور لوگوں تک حق بات پہنچائے۔
(عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِيِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَا اَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) )
[ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچایا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا نوح (علیہ السلام) نے میرا پیغام پہنچایا تھا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے، محمد ﷺ اور اس کی امّت۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے عہد لیا کہ وہ حق پر قائم اور حق کا پرچار کرتا رہے گا۔
2۔ اللہ تعالیٰ سچ پر قائم رہنے والوں سے سوال کرے گا اور سچ کا انکار کرنے والوں کو سزا دے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا انبیاء کرام (علیہ السلام) سے جواب طلب فرمانا اور نبیوں کا انکار کرنے والوں کو سزا دینا :
1۔ ہم ان لوگوں سے بھی ضرور سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور رسول سے بھی جواب طلب کیا جائے گا۔ (الاعراف : 6)
2۔ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے متعلق ضرور سوال کرے گا۔ (الاحزاب : 8)
3۔ کفار کے لیے دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر انکا ہماری طرف لوٹنا ہوگا پھر ہم انہیں سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (یونس : 70)
4۔ ہم ان کی کہی ہوئی بات لکھ لیں گے اور ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے گا۔ (مریم : 79)
5۔ ہم ان کے پاس اچانک عذاب لے آئیں گے اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوگا۔ (العنکبوت : 53 )
6۔ وہ لوگ جو دین کو کھیل تماشا بناتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا، قیامت کے دن ہم ان کو بھلا دیں گے۔ (الاعراف : 51)
7۔ قیامت کے دن ہم انہیں فرموش کردیں گے جس طرح وہ قیامت کی ملاقات کو بھول گئے کیونکہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ (الاعراف : 51)
8۔ ان کے کفر کی وجہ سے ہم انہیں شدید ترین عذاب چکھائیں گے۔ (یونس : 70)
Ayahs 33:9–11فہم القرآن
ربط کلام : اصولی اور بنیادی ہدایات دینے کے بعد اب اس سورة کے عنوان اور واقعات پر خطاب شروع ہوتا ہے۔
قرآن مجید تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں واقعات کو انہی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے جس طرح وہ رونما ہوئے ہوں۔ قرآن مجید بنیادی طور پر ہدایت کی کتاب ہے جس میں انسان کی زندگی کے بارے میں کامل اور اکمل ہدایات کا انتظام کیا گیا ہے یہی وجہ ہے قرآن کسی واقعے کو محض واقعاتی انداز میں بیان نہیں کرتا اس لیے غزوہ احزاب کا خلاصہ بیان کرنے سے پہلے بنیادی ہدایات دی گئیں اور مسلمانوں کو یہ احساس دلایا گیا کہ دشمن کے اس قدر ہمہ جہت حملہ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو کامیابی عنایت فرمائی۔ یہ ” اللہ “ کا انعام تھا جس کو تمہیں یاد رکھنا چاہیے۔ لہٰذا وہ وقت یاد کرو کہ جب تمہارا دشمن ہر جانب سے تم پر حملہ آور ہوچکا تھا۔ جس سے تمہاری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور کلیجے منہ کو آچکے تھے تم میں کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف قسم کے گمان کیے اور اس موقعہ پر مومنوں کو پوری طرح ہلایا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کو سخت آندھی میں پھنسایا اور ایسے لشکر کے ساتھ پسپا کیا جو تمہیں نظر نہیں آتا تھا۔ یاد رکھو کہ جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح دیکھنے والا ہے۔
غزوہ خندق میں کفار کے لشکر کی کیفیت :
حزب کی جمع احزاب ہے جو مختلف قسم کے لوگوں اور لشکر پر بولا جاتا ہے اس جنگ میں مشرکین مکہ، یہودیوں کے مختلف گروہ اور دیگر قبائل نے حصہ لیا اس لیے اسے غزوہ احزاب کہا جاتا ہے۔ مدینہ کے منافقین سامنے آنے کی جرأت نہ کرسکے لیکن انہوں نے دشمن کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس لشکر کی تیاری کے لیے مشرکین مکہ اور عرب کے یہودیوں نے آپس میں مل کر دیگر قبائل کو اکسایا اور اپنے ساتھ ملایا۔ اس طرح دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے رسول معظم ﷺ بھی حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے اس لیے آپ نے دشمن کے حملہ آور ہونے سے پہلے مدینہ کے دفاع کا بندوبست فرما لیا۔
خندق کی کھدائی :
آپ ﷺ نے اپنے رفقاء کرام سے مشورہ کیا کہ مدینہ کا دفاع کس طرح کیا جائے ؟ حضرت سلمان فارسی ؓ کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے آپ ﷺ نے مدینہ کی خالی جانب خندق کی کھدائی کا کام شروع کیا دس، دس آدمیوں کا گروپ بنا کر انہیں چالیس، چالیس ہاتھ خندق کھودنے پر مامور کیا۔ جو کھدائی آپ ﷺ کے حصہ میں آئی آپ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کی کھدائی میں مصروف ہوگئے۔ سخت ترین حالات کے باوجود صحابہ ؓ خندق کھودتے ہوئے مندرجہ ذیل شعر پڑھ رہے تھے۔
(نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلٰی الْجِہَادِ مَا بَقِیْنَا أَبَدًا) [ رواہ البخاری : باب التَّحْرِیْضِ عَلَی الْقِتَالِ ]
” ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے موت تک محمد ﷺ کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی۔
جس کے جواب میں نبی اکرم ﷺ آخرت کی بھلائی اور دنیا کی کامیابی کی دعا دیتے۔
( اللَّہُمَّ لاَ عَیْشَ إِلاَّ عَیْشَ الآخِرَۃِ ، فَاغْفِرْ لِلْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ ) [ رواہ البخاری : باب التَّحْرِیْضِ عَلَی الْقِتَالِ ]
” اے اللہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے مہاجرین اور انصار کو معاف فرما۔ “
اسی دوران کئی واقعات پیش آئے جن میں سرفہرست تین واقعات ہیں :
آپ ﷺ کا اپنے پیٹ پر پتھر باندھنا :
معاشی تنگی کا حال یہ تھا کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کئی افراد ایسے تھے جو کئی کئی دن بھوکے رہ کر خندق کی کھدائی میں مصروف تھے۔ ایک صحابی ؓ بھوک سے مجبور ہو کر رسول مکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر عرض کرتا ہے کہ بھوک کی وجہ سے اس نے اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے نبی کریم ﷺ نے اس کے اطمینان کی خاطر اپنے پیٹ سے قمیض اٹھائی، صحابہ کرام ؓ یہ دیکھ کر حیران اور غمزدہ ہوگئے کہ سرور دو عالم ﷺ نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے ہیں اس کے باوجود لوگوں سے بڑھ کر خندق کی کھدائی میں مصروف ہیں۔[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِیْ مَعِیْشَۃِ أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ ]
چٹان کا واقعہ :
صحابہ کرام ؓ کے ایک دستہ کے حصہ میں خندق کا وہ ٹکڑا آیا جس میں ایسا پتھر آیا کہ جس کو دس صحابہ بھی مل کر نہ توڑ سکے صحابہ کرام ؓ مایوس ہو کر آپ کی خدمت میں اس صورتحال کا تذکرہ کرتے ہیں۔ آپ اپنا کدال لے کر خندق کے اس حصہ میں اترے اور اس زور سے پے درپے تین دفعہ کدال مارا جس سے چنگاریاں نکلیں اور چٹان کئی حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
آپ ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو خوشخبری سنانا :
(قَال اللَّہُ أَکْبَرُ أُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ فَارِسَ ) [ مسند احمد : باب حدیث البراء بن عازب ]
” آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ خوش ہوجاؤ ! اللہ تعالیٰ نے قیصرو کسریٰ کے خزانوں کی چابیاں مجھے عطا فرمادیں ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی تیز آندھی اور غیر مرئی لشکر کے ساتھ مدد فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کے موقع پر صحابہ کرام ؓ کو بڑی شدید آزمائش سے آزمایا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کامیاب فرمایا :
1۔ بدر میں مشرکین پسپا ہوئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ (آل عمران : 123 تا 127)
2۔ احد میں پہلے مسلمان غالب رہے۔ (آل عمران : 152)
3۔ 8 ہجری کو اہل مکہ مغلوب ہوئے اور مسلمان کامیاب ہوئے۔ (الفتح : 1)
4۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست خوردہ ہوئے اور مسلمان امن میں رہے۔ (التوبۃ : 26)
5۔ جنگ خندق میں اہل مکہ اور دیگر قبائل کو شکست ہوئی۔ (الاحزاب : 25 تا 27)
Ayahs 33:12–15فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ احزاب میں منافقوں کا کردار۔
منافقت انسان کے دل کی بیماری ہے جس کے اثرات انسان کے اخلاق اور کردار پر ضرور ظاہر ہوتے ہیں بالخصوص اسلام اور مسلمانوں پر مشکل وقت آئے تو منافق کی منافقت ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ایسے موقعہ پر منافق کی ہمدردیاں کفار اور مشرکین کے ساتھ ہوجایا کرتی ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر منافقوں نے نبی اکرم ﷺ کا اس وقت ساتھ چھوڑا جب کفار احد کے مقام پر پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی منافقوں کی ہمدردیاں مدینہ کے یہودیوں اور اہل مکہ کے ساتھ تھیں۔ منافقوں نے دیکھا کہ دس ہزار کا لشکر مدینہ پر امڈ آیا ہے اور مسلمان اپنے بچاؤ کے لیے خندق کھودنے پر مجبور ہوگئے ہیں، مدینہ کے یہودی بھی نبی اکرم ﷺ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ چکے ہیں تو منافقوں نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے اور انہیں محاذ سے واپس لانے کے لیے یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تم سے جو فتح کا وعدہ کیا ہے وہ سراسر دھوکہ اور فراڈ ہے۔ منافق مسلمانوں کو یہ بھی کہتے کہ خندق چھوڑو اور اپنے گھروں کو واپس لوٹ چلو۔ دکھلاوے کے طور پر جو منافق نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ٹولیوں کی صورت میں آپ ﷺ کی خدمت میں درخواست کر رہے تھے کہ ہمیں میدان جنگ سے واپس جانے دیجیے۔ کیونکہ مدینہ میں ہمارے گھروں کو شدید خطرہ ہے۔ حالانکہ ان کے گھروں کو کوئی خطرہ نہیں تھا وہ صرف جنگ سے فرار چاہتے تھے یاد رہے کہ نبی معظم ﷺ نے مدینہ میں سب کے گھروں کی حفاظت پر کچھ لوگ مامور کر رکھے تھے۔ اس کے باوجود منافق اپنے گھر غیر محفوظ ہونے کا بہانہ بنا کر آپ سے اجازت لیتے رہے ان کے دل کی کیفیت یہ تھی کہ اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گھس کر ان سے تعاون چاہتی تو معمولی توقف کے بعد منافق ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے پر تیار ہوجائے۔ ایسے لوگوں کو یہ وارننگ دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بدعہدی کے بارے میں تم سے ضرور بازپرس کرے گا۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب علامۃ المنافق ]
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً ) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑ کی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اللہ کے رسول ﷺ ! وہ کون سے گناہ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ‘ جادو کرنا ‘ ناحق کسی جان کو قتل کرنا ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن ‘ مومن ‘ بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ [ رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما ]
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَاإِیْمَانَ لِمَنْ لَّآ أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَادِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہٗ ) [ رواہ احمد : مسند أنس بن مالک ]
” حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو اکثر فرماتے کہ جو امانت دار نہیں وہ ایمان دار نہیں اور جو بدعہد ہے وہ دین دار نہیں۔ “
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی دبر کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا، جو اس کی عہد شکنی کے بقدر بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی بڑی نہیں ہوتی۔ “
[ رواہ مسلم : باب تحریم الغدر ]
مسائل
1۔ منافق جھوٹے بہانے بنا کر مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ 2۔ منافق مسلمانوں میں انتشار اور بددلی پیدا کرتا ہے۔
3۔ منافق وعدہ خلافی کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی کرنے والے کو ضرور پوچھے گا۔
تفسیر بالقرآن
عہد کو پورا کرنے کا حکم :
1۔ اللہ کے بندے وعدہ ایفاء کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 177) 2۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام : 152)
3۔ ایماندار اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا عہد پورا کرتے ہیں۔ (الرعد : 20) 4۔ اللہ کے عہد کا ایفاء ضروری ہے۔ (النحل : 91)
5۔ قیامت کے دن ایفائے عہد کے بارے میں سوال ہوگا۔ (الاسراء : 34) 6۔ اے ایمان والوں عہد پورے کرو۔ (المائدہ : 1)
7۔ جو اللہ کا وعدہ پورا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ (البقرۃ : 40)
Ayahs 33:16–18فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو مزید دو چیلنج۔
اس سے پہلے منافقین کو یہ وارننگ دی گئی کہ تمہاری وعدہ خلافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ تم سے ضرور بازپرس کرے گا اب ان کے بارے میں نبی ﷺ کو فرمایا ہے کہ ان سے فرما دیجیے اگر تم موت یامیدان جنگ میں مارے جانے سے ڈرتے ہو تو اس بھاگنے کا تمہیں معمولی فائدہ ہوگا کیونکہ بالآخر تم موت سے بچ نہیں پاؤ گے۔ انہیں یہ بھی فرمادیجیے کہ جس نقصان سے بچنے کے لیے تم جنگ سے فرار اور بدعہدی کرتے ہو اگر اللہ تعالیٰ تمہیں نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرلے تو دنیا کی کونسی طاقت تمہیں اس سے بچا سکتی ہے اگر تم پر اپنی رحمت فرمانا چاہے تو کون اس کی رحمت کو ہٹا سکتا ہے یہ لوگ نقصان کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہیں پاسکتے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تعلق ہے وہ مومنوں کے لیے خاص ہے۔ منافق منافقت سے توبہ کیے بغیر اللہ کی رحمت کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کو خوب جانتا ہے جو مسلمانوں کو جہاد سے روکتے ہیں اور خود بھی جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔
نبی کریم ﷺ کی ابن عباس کو نصیحت :
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ )
[ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرے گا تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “
مسائل
1۔ طبعی یا غیر طبعی موت کا ایک دن مقرر ہے۔ 2۔ ” اللہ “ کی پکڑ سے کوئی طاقت بچا اور چھڑا نہیں سکتی۔
3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر اپنی رحمت فرمانا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا انسان کا کوئی مددگار اور خیرخواہ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 33:19فہم القرآن
ربط کلام : منافق کی ایک اور بری عادت اور اس کے بزدل ہونے کی انتہاء۔
درحقیقت منافق ابن الوقت اور مفاد کا بندہ ہوتا ہے اس لیے کسی اچھے کام پر مال خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پاتا۔ نہ صرف خود بخیل ہوتا ہے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی بخل پر آمادہ کرتا ہے۔ یہی حالت منافقین مدینہ کی تھی۔ وہ اپنے رشتہ دار مخلص مسلمانوں کو جہاد پر مال خرچ کرنے سے روکتے تھے۔ مال کی محبت کی وجہ سے انسان بخل کرتا ہے اور بخیل آدمی دوسروں کی نسبت موت سے زیادہ ڈرتا ہے یہی حال منافقین کا تھا۔ جن کے بارے میں صحابہ ؓ کو فرمایا گیا کہ ان کی طرف دیکھو اور غور کرو کہ جب تم انہیں جہاد کے لیے کہتے ہو تو ان کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں جیسے مرنے والا ایک ہی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جب جہاد کا خوف جاتا رہتا ہے تو پھر ان کی زبانیں قینچی کی طرح چلتی ہیں اور یہ مال غنیمت لینے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر مطالبہ کرتے ہیں۔
Ayah 33:20حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں لائے۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی مشکل نہیں کہ ان کے اعمال ضائع کر دے۔ منافق اس حد تک بزدل ہوچکے ہیں کہ اپنے گھروں میں جانے کے باوجود خیال کرتے ہیں کہ ابھی تک کفار کے لشکر واپس نہیں گئے اگر کفار کے لشکر واپس آجائیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ وہ مدینہ چھوڑ کر دیہاتوں میں نکل جائیں اور وہاں جا کر تمہارے بارے میں معلومات لیتے رہیں کیونکہ یہ تمہارے ساتھ رہ کر لڑنے کے لیے تیار نہیں ” اَشِحَّۃٌ“ کی جمع ” شیح “ ہے جس کا معنٰی بہت زیادہ بخل کرنا اور لوگوں کو خیر کے کاموں سے روکنا ہے۔
مسائل
1۔ منافق بزدل اور بخیل ہوتا ہے۔ 2۔ منافق کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ 3۔ حقیقت میں منافق بےایمان ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے :
1۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور نئی مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ (ابراہیم : 19۔ 20)
2۔ اگر اللہ چاہے تو تم کو فنا کر کے دوسری مخلوق لے آئے یہ اللہ کے لیے مشکل نہ ہے۔ (فاطر : 16۔ 17)
3۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ (انساء : 123)
4۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور تمہارے بعد جسے چاہے لے آئے۔ (الانعام : 133)
5۔ اے ایمان والو ! اگر تم دین سے مرتد ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا۔ (المائدۃ : 54)
Ayah 33:21فہم القرآن
ربط کلام : حالات جیسے بھی ہوں مسلمانوں تمہارے لیے رسول معظم ﷺ کی ذات ہی اسوہ حسنہ ہے اور ہونی چاہیے۔
اس فرمان کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سابقہ آیات کا خلاصہ ذہن میں رکھا جائے تاکہ اس فرمان کی اہمیت اور فرضیت کا تصور پوری طرح اجاگر ہوجائے اس تصور سے ہی ایک مسلمان کی زندگی اسلام کے سانچے میں ڈھل سکتی ہے غزوہ احزاب جسے تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں غزوہ خندق لکھا جاتا ہے اس کے خوف ناک اور بھیانک منظر کی تصویر چند سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔
1۔ موسم نقطہ انجماد سے نیچے گر چکا ہے جس وجہ سے سردی اس قدر زیادہ اور ناقابل برداشت ہے کہ خیموں میں بیٹھے ہوئے مجاہدوں کی بغلیں بج رہی ہیں۔ خیمے سے باہر نکلنے کے خیال ہی سے جان کے لالے پڑجاتے ہیں۔
2۔ سروردو عالم ﷺ نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے ہیں صحابہ ؓ روٹی کے خشک ٹکڑے اور بوسیدہ گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔ اور کچھ نے کمر سیدھی رکھنے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہیں۔
3۔ مدینہ میں منافقین کی سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔
4۔ یہودیوں نے آپ ﷺ کے ساتھ کیا ہوا بقائے باہمی کا معاہدہ توڑ کر حملہ آوروں کے ساتھ سازباز کرلی ہے۔ اور عورتوں کے کیمپ پر دھاوا بولنے کے لیے تیاری کرچکے ہیں۔
5۔ مدینہ میں چند مسلمانوں کے سوا باقی مسلمان خندق کی حفاظت اور اپنے دفاع میں رات دن مصروف ہیں۔
6۔ دشمن پوری قوت کے ساتھ باربار خندق عبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
7۔ مسلمانوں کی دفاعی پوزیشن اس قدر کمزور ہے کہ آنکھ جھپکنے کے برابر بھی ادھر ادھر توجہ نہیں کرسکتے جس وجہ سے سرور دوعالم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں آدھی رات کے وقت پڑھنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
8۔ دشمن دس ہزار سورماؤں کے ساتھ پچیس دن سے مدینے کی چھوٹی سی ریاست کا محاصرہ کیے ہوئے ہے جس بنا پر باہر سے مدینہ میں کسی چیز کا آنا ناممکن ہوچکا ہے جس وجہ سے بچے بھوک سے بلک بلک کر روتے ہیں۔
9۔ خوف و ہراس اور دشمن کے دباؤ کی وجہ سے مسلمانوں کے کلیجے منہ کی طرف آچکے ہیں جس کا نقشہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
(وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ ) [ الاحزاب : 10]
” جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل گلے میں اٹک گئے “
حالات کے اس تناظر میں حکم ہوتا ہے کہ اے مسلمانو ! اللہ کا رسول ﷺ تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ خاص طور پر اس شخص کے لیے نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید، آخرت کے حساب و کتاب پر یقین اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنے والا ہے۔ اس فرمان میں اسوہ حسنہ سے مراد رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کا کوئی خاص پہلو مراد نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ کی پوری حیات مبارکہ امت کے لیے عظیم اور حسین نمونہ ہے۔ جس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ حالات کتنے پرفتن ہوں مسائل اور مصائب کا طوفان سر سے گزرچکا ہو مشکلات پہاڑوں کی مانند سامنے کھڑی ہوں، کلیجہ حلق میں آکے اٹک چکا ہوباد مخالف طوفان کی شکل اختیار کر جائے غربت اپنی انتہاء کو پہنچ جائے۔ موت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے کھڑی ہوجائے ان حالات میں بھی مسلمان کے لیے اسوہ رسول ﷺ سے بڑھ کر کوئی اسوہ قابل عمل نہیں ہوسکتا البتہ اس پر وہی شخص ایمان لائے گا اور عمل کرے گا جو اپنے رب کی ملاقات کی امید، آخرت پر یقین اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرنے والا ہے ” اللہ “ کی یاد دل اور زبان سے بھی ہو اور مسلمان کا عمل بھی اس کی شہادت دیتا ہو۔
مسائل
1۔ رسول اکرم ﷺ مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ 2۔ ہر حال میں اللہ کی ذات اور اس کے فرمان کو یاد رکھنا چاہیے۔
3۔ جو شخص اللہ، آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ ہر صورت رسول اللہ ﷺ کو اپنا اسوہ بنائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنے کے فائدے :
1۔ اللہ کا ذکر صبح اور شام کثرت سے کرو۔ (آل عمران : 41)
2۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد زمین میں نکل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الجمعۃ : 10)
3۔ ایام تشریق میں اللہ کو زیادہ یاد کرو۔ (البقرۃ : 202) 4۔ جب حج کے مناسک ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو۔ (البقرۃ : 198)
5۔ جنگ کے دوران اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الانفال : 45)
Ayahs 33:22–24فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کا نمونہ پیش کرنے اور اس کی اہمیت ذکر کرنے کے بعد صحابہ کرام ؓ کا کردار پیش کیا جاتا ہے۔
” الْمُؤْمِنُوْنَ “ سے مراد صحابہ کرام ] کی جماعت ہے جنہوں نے موسم کی شدت، افراد کی قلت، انتہائی غربت، دشمن کا خوف، داخلی، خارجی مصائب اور مسائل کے باوجود اللہ کے رسول ﷺ کا اس یقین کے ساتھ ساتھ دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو بھی ہمارے ساتھ وعدہ کیا وہ سچ ثابت ہوا اور ہوگا۔ مصائب اور مسائل نے ان کے ایمان میں کمزوری پیدا کرنے کی بجائے اضافہ ہی کیا ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مال و جان کی قربانی دے کر اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کردیا ہے جو باقی ہیں وہ اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے شہادت کا انتظار کررہے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قول وفعل میں سچے لوگوں کو ان کی سچائی کی جزا دے گا اور منافقت پر قائم رہنے والوں کو سز ادے گا اگر منافق اپنی منافقت سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
جنگ کے دوران آپ ﷺ کا کردار آپ ہر حال میں سب مسلمانوں کے لیے واجب الاتباع نمونہ ہیں :
جنگ کی سب سے زیادہ ذمہ داری سپہ سالار پر ہوتی ہے۔ غزوہ خندق میں مسلمانوں کے سپہ رسول معظم ﷺ تھے۔ دشمن کی کثرت مسلمانوں کی تعداد اور خوراک کی قلت، حالات کی سنگینی نبی ﷺ کے پائے ثبات میں ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہ کرسکی۔ مسلمانو ! تمہارا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے اور تمہیں رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ جنگ میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں رسول کی ذات تمہارے لیے نمونہ ہونی چاہیے اس مختصر جملہ میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کو تمام مسلمانوں پر لازم اور واجب قرار دیا گیا ہے۔
سیدنا انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر نہ ہو سکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اب اگر آپ ﷺ کے ساتھ حاضر ہونے کا موقع آیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں۔ راوی کہتا ہے کہ پھر وہ ڈر گئے اور ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور لفظ کہنا مناسب نہ تھا۔ جب اگلے سال احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوئے تو انہیں راستے میں سعد بن معاذ ؓ ملے۔ انہوں نے پوچھا ابو عمر کہاں جاتے ہو ؟ انس ؓ کہنے لگے۔ ” واہ میں تو احدپہاڑ کے پار جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ چناچہ وہ بڑی جرأت سے لڑے۔ حتیٰ کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر ضربوں، نیزوں اور تیروں کے اسی (80) سے زیادہ زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضرنے کہا کہ ” میں اپنے بھائی کی نعش کو صرف اس کے پوروں سے پہچان سکی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (رواہ ترمذی : ابواب التفسیر)
حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کو کس طرح بدعہدی پر آمادہ کیا :
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسی مدد فرمائی کہ عام لڑائی کی نوبت ہی نہ آنے دی اور کفار کے محاصرہ کو اٹھانے کے لیے یخ بستہ ہوا اور فرشتے بھیج دئیے۔ یہود میں اور مکہ کے اتحادیوں میں پھوٹ ڈال دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن بدحواس ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بھلا اللہ کی زبردست قوت کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے ؟
یہود بنو قریظہ تھے جو مسلمانوں کے معاہد تھے۔ بنو قینقاع اور بنی نضیر کی جلا وطنی کے بعد مدینہ میں یہود کا یہی قبیلہ باقی رہ گیا تھا۔ کیونکہ یہ قبیلہ دوسروں کی نسبت قدرے شریف اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والا تھا۔ جب بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کردیا گیا اور جنگ احزاب کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو بنو نضیر کا رئیس حیی بن اخطب رات کی تاریکیوں میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ کعب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ حیی مجھے مسلمانوں سے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کے لیے آیا ہے۔ لہٰذا اس نے دروازہ ہی نہ کھولا۔ حیی نے اس سے کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں تو آخر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حیی کہنے لگا کعب میں تمہارے پاس زمانے کی عزت اور چڑھتا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں۔ ان لوگوں نے مجھ سے عہدوپیمان کیا ہے کہ وہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کا صفایا کیے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے۔ اس کے جواب میں جو کچھ کعب نے کہا وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے کہا حیی واللہ تم میرے پاس زمانے کی ذلت اور برسا ہوا بادل لے کر آئے ہو جو صرف گرج چمک رہا ہے۔ تم پر افسوس مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔ میں نے محمد ﷺ میں صدق وصفا کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ ( ابن ہشام) مگر حیی نے کعب کو سبز باغ دکھا دکھا کر بالآخر بدعہدی پر مجبور کر ہی لیا وہ کہنے لگا اگر قریش محمد ﷺ کا خاتمہ کیے بغیر ہی واپس چلے گئے تو میں بھی تمہارے ساتھ قلعہ بند ہوجاؤں گا اور واپس نہیں جاؤں گا پھر جو انجام تمہارا ہوگا وہی میرا ہوگا۔ اس شرط پر کعب بھی اتحادیوں میں شامل ہوگیا۔
یہود کا انجام اور ان کا سیدنا سعد بن معاذ ؓ کو حکم تسلیم کرنا :
یہودیوں کے پاس وافر مقدار میں راشن موجود تھا اور انہوں نے مسلمانوں کے استیصال کے لیے ڈیڑھ ہزار تلواریں، دو ہزار نیزے تین سو زرہیں اور پانچ سو ڈھالیں بھی تیار کر رکھی تھیں۔ مگر وقت پر کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی۔ انہوں نے صرف 25 دن کے محاصرہ کے بعد اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ ان کے حق میں جو بھی فیصلہ ان کے حلیف سعد بن معاذ کریں گے وہ انہیں منظور ہوگا۔ حالانکہ ان کے پاس قلعہ میں اس قدر راشن موجود تھا کہ اگر وہ چاہتے تو پورا سال قلعہ بند رہ کر آسانی سے گزارا کرسکتے تھے مگر ان کے ضمیر نے انہیں جلد ہی بےچین کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی۔
بنو قریظہ کا انجام :
سیدنا سعد بن معاذ ؓ کو جنگ احزاب میں کاری زخم لگا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے کہ
(عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ أُصِیْبَ سَعْدٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فِیْ الأَکْحَلِ ، فَضَرَبَ النَّبِی ﷺ خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُوْدَہُ مِنْ قَرِیْبٍ ، فَلَمْ یَرُعْہُمْ وَفِیْ الْمَسْجِدِ خَیْمَۃٌ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ إِلاَّ الدَّمُ یَسِیْلُ إِلَیْہِمْ فَقَالُوْا یَا أَہْلَ الْخَیْمَۃِ ، مَا ہَذَا الَّذِیْ یَأْتِیْنَا مِنْ قِبَلِکُمْ فَإِذَا سَعْدٌ یَغْذُوْ جُرْحُہُ دَمًا، فَمَاتَ فِیْہَا)[ رواہ بخاری : کتاب الصلوٰۃ، باب الخیمۃ فی المسجد للمرضی وغیرہم ]
” سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جنگ خندق میں سعد بن معاذ ؓ کو ہفت اندام کی رگ میں تیر لگا تو آپ ﷺ نے مسجد میں ہی ان کے لیے خیمہ لگوادیا۔ تاکہ ان کی عیادت کرتے رہیں۔ مسجد میں بنو غفار کا خیمہ بھی تھا۔ جب سیدنا معاذ ؓ کا خون بہہ کر ان کے خیمہ کی طرف آیا تو وہ ڈر کر کہنے لگے اے خیمہ والو ! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے بہہ کر ہماری طرف آرہا ہے دیکھا تو سعد ؓ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا بالآخر اسی زخمی سے وہ چل بسے۔ “
مسائل
1۔ صحابہ کرام ] نے ہر حال میں اپنے رب سے کیے ہوئے وعدے پورے کیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام ؓ اور اپنے قول وفعل میں سچے مسلمانوں کو جزائے خیر دے گا۔
3۔ منافقت سے تائب ہونے والے کو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ مہربان ہے۔
تفسیر بالقرآن
سچائی اور اس کی جزا :
1۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کی وہی سچے ہیں۔ (الحشر : 8)
2۔ اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے گا۔ (الاحزاب : 24)
3۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ (النساء : 69)
4۔ قیامت کے دن سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا صلہ دیا جائے گا۔ (المائدۃ : 119)
5۔ سچے مومن وہ ہیں جو اپنے مال اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ (الحجرات : 15)
6۔ اے ایمان والو سچے لوگوں کا ساتھ دو ۔ (التوبۃ : 119)
Ayah 33:25فہم القرآن
ربط کلام : رسول معظم ﷺ کے اسوہ کی اہمیت اور صحابہ کرام ] کا کردار بیان کرنے کے بعد احزاب میں شریک ہونے والے کفار کی ہزیمت کا ذکر۔
کفار، یہود اور ان کے حلیف اس نیت کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے کہ مدینہ کی ننھی منی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔ اور مسلمانوں کو تہس نہس کردیا جائے گا۔ اس کے لیے انہوں نے مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ بھی ساز باز کرلی۔ اہل مکہ نے تقریباً ایک مہینہ تک مدینہ کا محاصرہ کیے رکھا اور باربارخندق عبور کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ناکام رہے۔ اس کے باوجود انہوں نے مسلمانوں پر اس قدر دباؤ قائم رکھا کہ ایک دن نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء کو ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز بروقت پڑھنے کا موقعہ نہ مل سکا۔ آپ ﷺ نے چاروں نمازیں نصف رات کے قریب بالترتیب ادا کیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے باد و باراں کے شدید ترین طوفان کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ جس سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے۔ یہاں تک کہ چولہوں پر پڑی ہنڈیاں الٹ گئیں اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی کمک بھیجی۔ جنہوں نے کفار کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اس طرح کفار پوری دنیا میں ذلیل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دو بدو جنگ کرنے سے بچالیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہایت طاقتور اور زبردست ہے۔ غزوہ احزاب کی واپسی کے موقعہ پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
( الآنَ نَغْزُوْہُمْ وَلاَ یَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِیْرُ إِلَیْہِمْ )[ رواہ البخاری : باب غَزْوَۃُ الْخَنْدَقِ ]
” اب ہم کفار پر یلغار کریں گے وہ ہم پر یلغار نہیں کرسکیں گے۔ ہم ہی ان کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کے موقع پر نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مدد فرمائی اور کفار کو ذلیل کیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ بڑا طاقتور اور ہر اعتبار سے غالب ہے۔