33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsفہم القرآن

Ayahs 33:26–27

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے حملہ آوروں کا ساتھدیا تھا، اللہ ان کیقلعوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اس نے تمہیں ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں عطا کیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ خندق کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت وسطوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا یہودیوں پر رعب اور دبدبہ ڈال دیا۔ نبی ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں سے بقائے باہمی کی بنیاد پر امن کا معاہدہ کیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مدینہ پر حملہ آور ہوگا تو ہم مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ لیکن یہودی اس معاہدے پر قائم نہ رہے اور ان کی ہمدردیاں اہل مکہ کے ساتھ رہیں اور خفیہ طور پر اہل مکہ کو مسلمانوں کے حالات بتلاتے رہتے تھے۔ غزوہ خندق کے موقع پر انہوں نے با ضابطہ طور پر مکہ والوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور کچھ لوگوں نے مسلمان خواتین کو بھی پریشان کرنے کی کوشش کی۔ رسول اکرم ﷺ غزوہ خندق سے ظہر کے وقت مدینہ پہنچے اور آپ ﷺ اپنی بیوی حضرت امّ سلمہ ؓ کے گھر میں غسل فرما رہے تھے تو جبرائیل امین تشریف لائے اور فرمایا۔ اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں لیکن ملائکہ نے ابھی تک نہیں رکھے آپ ہتھیار پہنیں اور بنوقریظہ کے قلعوں کا محاصرہ کریں۔ نبی ﷺ نے غسل سے فارغ ہوتے ہی یہودیوں کے قلعوں کا محاصرہ کا اعلان کیا اور تین ہزار صحابہ کے ساتھ یہودیوں کے علاقہ کی ناکہ بندی کرلی یہودیوں نے کچھ دن قلعہ بند ہو کر گزارے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر مسلمانوں کا رعب ڈال دیا آپ ﷺ نے یہودیوں کے سامنے تین تجاویز پیش کیں۔ لیکن انہوں نے کوئی تجویزقبول نہ کی۔ بالآخر یہودیوں نے آپ ﷺ کے سامنے اس شرط پر ہتھیار ڈال دئیے کہ جو فیصلہ سعدبن معاذ ؓ کریں گے ہمیں قبول ہوگا۔ حضرت سعد ؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ اس طرح جن لوگوں نے عہد شکنی کی تھی انہیں قتل کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی زمینوں اور گھروں کا مالک بنا دیا جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ جن یہودیوں نے عہد شکنی کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا ان میں کچھ کو تم نے قیدی بنایا اور کچھ کو قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے گھروں اور زمینوں کا مالک بنایا حالانکہ تم نے اس زمین پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔ ایسا اس لیے کیا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفصیل کے لیے سیرت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں ) حضرت سعد ؓ نے بنو قریضہ کے بارے میں یہ فیصلہ سنایا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قید میں رکھا جائے اور ان کی جائیداد کو تقسیم کردینا چاہیے۔ نبی معظم ﷺ نے سعد کے فیصلہ کے مطابق عملدرآمد کروایا۔ جب سعد ؓ نے اپنے قبیلے والوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ ﷺ نے ان کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ تو نے بادشاہوں جیسا فیصلہ کیا ہے۔[ رواہ البخاری : باب اذا نزل العدوّعلیٰ حکم رجل ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر مسلمانوں کا رعب ڈال دیا۔ 2۔ مسلمانوں نے کچھ یہودیوں کو قتل کردیا اور باقی کو قیدی بنا لیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہودیوں کے قلعوں اور زمینوں کا وارث بنادیا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20) 2۔ اللہ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29) 3۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہے۔ ( الحدید : 4) 4۔ اللہ تعالیٰ آسمانون و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ ( المجادلۃ : 7) 5۔ اللہ تعالیٰ حاضر اور غیب کو جاننے والا ہے۔ ( الرعد : 9) 6۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148)
Ayahs 33:28–29

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں سے فرما دیں، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے کر اچھے طریقے سے رخصت کرتا ہوں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ اللہ نے نیکوکاروں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے

فہم القرآن ربط کلام : آیت 21 میں نبی کریم ﷺ کو امت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا ہے اس کے بعد غزوہ احزاب کا اختتام اور انجام بیان کیا اب اہل بیت کے حوالے سے نبی کریم کا اسوہ بیان کیا جاتا ہے۔ اے نبی ﷺ اپنی بیویوں سے فرماؤ۔ کہ اگر تم دنیا اور اسکی آرائش وزیبائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں حسب توفیق دے کر اچھے طریقے کے ساتھ رخصت کرتا ہوں اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہو تو یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے بہترین اجر تیار کر رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کے باپ تھے اور ازواج مطہرات گھر یلو خواتین تھیں انہیں کیا معلوم کہ صحابہ کرام ؓ کے معاشی حالات کیسے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک سربراہ کو اپنے ساتھیوں اور آئندہ نسلوں کے لیے نمونہ بننا ہوتا ہے۔ چند آیات پہلے یہ حقیقت بیان ہوچکی ہے کہ رسول اکرم ﷺ تمام مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ بنائے گئے ہیں ظاہر بات ہے کہ نمونہ تو وہی ذات ہوسکتی ہے جس کا ظاہر، باطن، گھریلو اور پبلک زندگی کا ایک ایک لمحہ امت کے لیے مثال ہو۔ امّہات المومنین نے آپ سے جب خوشحالی کا مطالبہ کیا تو آپ کو یہ بات اس قدر ناگوار گزری کہ آپ ایک مہینہ کے لیے ان سے الگ تھلگ ہوگئے۔ یہاں تک کہ یہ بات مشہور ہوگئی کہ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ زُوْجَ النَّبِیِّ ﷺ اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَآَءَ ہَا حِیْنَ اَمَرَ اللّٰہُ اَنْ یُخْیِّرَ اَزْوَاجَہٗ فَبَدَاءَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ اِنِّیْ ذَاکِرٌ لَّکَ اَمْرًا فَلَا عَلَیْکِ اَنْ تَسْتَعْجِلِیْ حَتّٰی تَسْتَاْمِرِیْ اَبَوَیْکِ وَقَدْ عَلِمَ اَنَّ اَبَوَیَّ لَمْ یَکُوْنَا یَاْمُرَانِیْ بِفَرَاقِہٖ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ قَالَ یَاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِاَزْوَجِکَ اِلٰی تَمَامِ الْاٰیَتَیْنِ فَقُلْتُ لَہٗ فَفِیْ اَیْ ہَذَا اَسْتَاْمِرُ اَبَوَیَّ فَاِنِّیْ اُرِیْدُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر باب قولہیا ایھا النبی قل لازواجک ] ” سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں اللہ تعالیٰ نے جب رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تیرے سامنے ایک معاملہ رکھنے لگا ہوں اور اس میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلو۔ سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ آپ کو علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدا ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دیں۔ دو آیات تلاوت کیں تو میں نے عرض کی کہ کیا اس بارے میں، میں اپنے والدین سے مشوہ کروں ؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو ترجیح دیتی ہوں۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کے لیے دنیا کی زیبائش پسند نہیں کرتے تھے۔ 2۔ میاں، بیوی کے درمیان علیحدگی احسن طریقہ سے ہونی چاہیے۔ 3۔ نیک بیوی کے لیے لازم ہے کہ وہ دنیا کی بجائے آخرت کو پسند کرے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے کن لوگوں کے لیے بہترین اجرتیار کر رکھا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ دے گا۔ (التوبۃ : 121) 2۔ اللہ تعالیٰ صابر لوگوں کو ان کے صبر کی بہترین جزا دے گا۔ (النحل : 96) 3۔ اللہ تعالیٰ نیکوں کو ان کے اعمال سے بہتر جزا دے گا۔ (العنکبوت : 7) 4۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مزیداجر عطا کرے گا۔ (النور ؛ 38) 5۔ اللہ تعالیٰ نیکوں کے اعمال سے بہتر صلہ عطاکریں گے۔ (النحل : 97) 6۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : 59) 7۔ ایمان لانے والوں، نماز قائم کرنے والوں اور زکٰوۃ دینے والوں کے لیے اللہ کے ہاں اجر ہے۔ (البقرۃ : 277)
Ayah 33:30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جس کسی نے فحش حرکت کا ارتکاب کیا اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ سزا دینا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی مکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج کا کردار بھی امت کی عورتوں کے لیے نمونہ قرار دیا۔ اس لیے آپ کی ازواج کو حکم ہوا۔ سادگی اور شرم وحیاء کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی ازواج کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان کا مقام عام عورتوں جیسا نہیں وہ تو امہات المومنین ہیں اس لحاظ سے امّہات المؤمنین تمام عورتوں سے افضل اور اعلیٰ ہیں لہٰذا ان کا کردار بھی اعلی ہونا چاہیے تھا۔ یہاں یہ مفہوم لینے کی ہرگز اجازت نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کسی بیوی سے کردار اور حیا کے حوالے سے کسی گراوٹ کا خدشہ تھا ایسا سوچنا بھی گناہ ہے۔ بتلانا مقصودیہ ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کو سادگی میں مسلمان عورتوں کے لیے نمونہ بننا ہے اسی طرح انہیں کردار اور حیا میں بھی نمونہ بننا ہے کیونکہ اولاد اپنی ماں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے بالخصوص بیٹیاں ماں کے نقش قدم پر چلتی ہیں اس لیے امّہات المؤمنین کو اپنی روحانی اولاد کے لیے نمونہ بننا چاہیے اس کے ساتھ یہ بھی بیان کردیا گیا کہ اگر نبی ﷺ کی ازواج سے کسی اخلاقی گرواٹ کا اظہار ہوگا تو انہیں سزا بھی دوگنی ہوگی انہیں عذاب دینا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں جس کا معنٰی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور حرمت تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکے گی۔ اس سے یہ مسئلہ خود بخود نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی حرمت اور واسطے کا کوئی بوجھ نہیں ہے۔ ہاں ازواج مطہرات میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری اور نیک عمل کرے گی ان کے لیے اجر بھی دوگنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے اس فرمان میں یہ اصول اشارتاً بتلایا گیا ہے کہ معاشرے کے بڑے لوگ اور قوموں کے راہنماؤں کی وجہ سے لوگ بگڑتے اور سنورتے ہیں۔ اس لیے انہیں اپنی اور دوسروں کی سزا بھی بھگتنا پڑے گی اگر یہ نیک ہوں گے تو ان کی وجہ سے لوگوں میں سنوار پیدا ہوگا ہے لہٰذا انہیں اجر بھی دوگنا دیا جائے گا اس میں ماں، باپ، استاد اور مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔ اسی بات کو نبی ﷺ انے یک خط میں یوں تحریر فرمایا تھا۔ نبی محترم ﷺ کے خط کا اقتباس : نبی اکرم ﷺ نے صلح حدیبیہ کے بعد دنیا کے اکثر حکمرانوں کو خطوط لکھے جن میں انہیں اسلام کی دعوت دی۔ ان میں ایک خط روم کے بادشاہ ہرقل کو لکھا جس میں اسلام کی دعوت دینے کے بعد تحریر کروایا کہ اگر تو مسلمان نہ ہوا تو (فَإِنِّیْ أَدْعُوْکَ بِدِعَایَۃِ الْإِسْلاَمِ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، وَأَسْلِمْ یُؤْتِکَ اللَّہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ ، فَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَعَلَیْکَ إِثْمُ الأَرِیسِیِّیْنَ ) [ رواہ البخاری : باب دُعَاء النَّبِیِّ ﷺ إِلَی الإِسْلاَمِ وَالنُّبُوَّۃِ ] ” میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرلو تو سلامت رہو گے اور اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر عطاکرے گا۔ اگر تو نے اعراض کیا تو تیری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا۔ “ روم کی اکثر آبادی کسان پیشہ تھی اس لیے آپ ﷺ نے ہرقل کی عوام کے لیے ” اَلْاَرِیْسِیِّیْنَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مسائل 1۔ بڑے لوگوں کو دوگنا عذاب ہوگا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بڑے کو عذاب دینا مشکل نہیں۔ 3۔ جو بڑے لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تابعداری کریں گے انہیں دوگنے اجر سے نوازا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن بڑے مجرموں کو دوگنا عذاب ہوگا : 1۔ جہنم میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کر کہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ایک کے لیے دوگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔ (الاعراف : 38۔ 39) 2۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو لعنت سے دوچار کر۔ (الاحزاب : 68) 3۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 75) 4۔ مجرموں کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ ( البقرۃ : 85) 3۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں برا عذاب ہے۔ (البقرۃ : 114) 4۔ کافروں کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (المائدۃ : 41) 5۔ کفار کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اللہ قیامت کو سخت عذاب چکھائے گا۔ (الحج : 9)
Ayah 33:31

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دو گنا صلہ دیں گے۔ اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم تیار کر رکھا ہے

فہم القرآن ربط کلام : ازواج مطہرات کا مقام اور اجروثواب۔ اکیسویں پارے کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ اے نبی کی ازواج ! اگر تم میں سے کسی نے بےحیائی کا ارتکاب کیا تو اسے دوگنی سزا دی جائے گی ہاں جو تم میں ” اللہ “ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی۔ اسے دوہرا ثواب اور بہترین رزق دیا جائے گا۔ کیونکہ تمہارا مقام عام مسلمان عورتوں جیسا نہیں بلکہ تم ان سے ممتاز مقام کی حامل ہو۔ کیونکہ تمہارے گھروں میں ” اللہ “ کی آیات کا نزول ہوتا ہے اور اس کا رسول شب وروز تمہارے گھروں میں تشریف فرما ہوتا ہے۔ لہٰذا تمہیں ہر حال میں ” اللہ “ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا اور مسلمان عورتوں کے لیے نمونہ بننا چاہیے۔ دین اسلام کی اشاعت اور ترقی پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح دکھائی دیتی ہے کہ دین کا بیشتر حصہ بالخصوص ازواجی اور گھریلو زندگی کے مسائل کی اشاعت اور ترویج امہات المؤمنین کے ذریعے ہی عمل میں آئی ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ کو چار بیویوں کی قید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ ازواج مطہرات کو معلوم تھا کہ ہمارے فرائض مسلمان خواتین سے بہت زیادہ ہیں اس لیے نبی ﷺ کی ہر بیوی نے اپنے خاندان میں تبلیغ دین کے لیے محنت فرمائی اور اپنے عزیز و اقرباء کو آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے آگاہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں ان کے خاندان کے لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ اس طرح نبی کریم ﷺ کی ازواجی زندگی اسلام کی ہمہ جہت ترقی میں بہترین ذریعہ ثابت ہوئی۔ قرآن مجید نے امہات المؤمنین کے حوالے سے یہ اصول واضح فرمایا ہے کہ جس شخص کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے اگر وہ دین کی اشاعت میں محنت کرے گا تو اس کا اجر بھی دوگنا ہوگا۔ اسی اصول کے پیش نظر نبی معظم ﷺ نے ہرقل کو یہ تحریر فرمایا تھا۔ (فَإِنِّی أَدْعُوکَ بِدِعَایَۃِ الإِسْلاَمِ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، وَأَسْلِمْ یُؤْتِکَ اللَّہُ أَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ ، فَإِنْ تَوَلَّیْتَ فَعَلَیْکَ إِثْمُ الأَرِیسِیِّینَ ) [ رواہ البخاری : باب دُعَاء النَّبِیِّ ﷺ إِلَی الإِسْلاَمِ وَالنُّبُوَّۃِ ] ” میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کرلے تو سلامت رہے گا اور اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر عطاکرے گا اگر تو نے اعراض کیا تو تیری رعایا کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا۔ “ (عَنْ جَرِےْرٍ ؓ قَالَ کُنَّا فِی صَدْرِ النَّھَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَےْرِ اَنْ یُّنْقَصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّءَۃً کَانَ عَلَےْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَےْرِ اَنْ یُّنْقَصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیءٌ) [ رواہ مسلم : باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ او کلمۃ طیبۃ وانہا حجاب من النار ] حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم دن کے پہلے پہررسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپ نے فرمایا کہ جس نے اسلام میں نیکی کی ابتدا کی جب تک لوگ اس پر عمل کرتے رہیں گے اسے اپنا اور دوسروں کے برابر ثواب ملتا رہے گا۔ جبکہ لوگوں کے اجر میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوگی۔ اور جس نے اسلام میں کسی برے کام کی بنیاد رکھی اس کو اپنا بھی اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی برابر گناہ ہوتا رہے گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ ” حضرت ابوبردہ ؓ نے اپنے والد گرامی کو نبی مکرم ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہوئے سنا سرکاردو عالم ﷺ نے فرمایا تین طرح کے افراد کو دوہرا اجر عطا کیا جائے گا ان میں سے ایک وہ ہوگا جس کے پاس لونڈی ہو اس نے اسے اچھی طرح تعلیم دی اور اس کو ادب سکھایا اچھے انداز سے اس کی تربیت کی پھر وہ اس کو آزاد کردے اور اس سے نکاح کرلے۔ دوسرا یہود و نصاریٰ کا وہ شخص جو اپنے دین میں پکا تھا اور بعد ازاں نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آیا اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے تیسرا وہ شخص جو غلام ہے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے اپنے مالک کے کام اور خدمت میں اس کی خیرخواہی کرتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر، بَاب فَضْلِ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو دوگنا اجر عنایت فرمائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ازواج مطہرات کو رزق کریم سے سرفراز کرے گا۔ 3۔ ازواج مطہرات کا مقام اور مرتبہ امت کی خواتین سے بلند وبالا ہے۔
Ayahs 33:32–33

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو۔ کہ جو شخص دل کی خرابی میں مبتلا ہو وہ امید لگا بیٹھے۔ صاف سیدھی بات کیا کرو

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور دور جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ” اللہ “ چاہتا ہے کہ نبی کے گھر والوں سیہر قسم کی غلاظت کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے

فہم القرآن ربط کلام : بےحیائی سے بچنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عورت غیر محرم سے بات کرتے ہوئے اپنی زبان میں کسی حد تک بےاعتنائی کا اظہار کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام اخلاق اور اچھی گفتگو کرنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن عورت کا غیر محرم کے ساتھ اخلاق یہ ہے کہ وہ اس سے بات کرتے ہوئے اپنی زبان میں نسبتاً بیگانگی کا اظہار کرے تاکہ جس شخص کے دل میں بےحیائی کا کچھ مرض ہے وہ غلط توقعات وابستہ نہ کر بیٹھے۔ تاہم اس ہدایت کا یہ معنٰی نہیں کہ عورت غیرمحرم سے بات کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کرے یا ایسا انداز اختیار کرے جس میں بد خلقی پائی جائے اس کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمان عورتوں کو بےحیائی سے بچانے اور مسئلہ کی اہمیت جتلانے کے لیے امہات المؤمنین کو مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ مسلمان بیٹیوں کو احساس ہو کہ اہم ضرورت کے وقت ہم نے غیر محرم سے کس طرح بات کرنی ہے۔ عورتوں کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ کیونکہ عورت بازا رحسن یا مارکیٹ کا مال نہیں بلکہ گھر کی محافظ، وقار اور ملکہ ہے۔ اگر عورت صحیح معنوں میں گھر کی ذمہ داری نبھائے تو اسے سخت مجبوری کے سوا گھر سے نکلنے کی فرصت کہاں ملتی ہے۔ پابندی کا یہ مطلب نہیں کہ عورت رشتہ داروں اور اپنی سہیلیوں کے ہاں نہیں جاسکتی یا مجبوری کے تحت کوئی کاروبار نہیں کرسکتی۔ قرآن مجید عورت پر ضرورت کے تحت گھر سے باہرنکلنے پر پابندی نہیں لگاتا بلکہ پابندی اس بات پر ہے کہ جب گھر سے نکلنا پڑے تو حسن و جمال کی نمائش کرتے ہوئے نہ نکلے جسے قرآن مجید نے دورجاہلیت کا نکلنا قرار دیا ہے۔ حدیث شریف میں عورت کو یہاں تک ہدایت کی گئی ہے کہ اگر وہ باجماعت نماز ادا کر رہی ہو تو امام کے بھولنے کی صورت میں کوئی مرد لقمہ نہ دے پائے تو عورت لقمہ دینے کی بجائے اپنے الٹے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مار کر امام کو اس کی غلطی سے متنبہ کرے۔ (رواہ البخاری : باب التصفیق للنساء) اس سے اندازہ فرمائیں کہ دین غیر محرم عورت اور مرد کے اختلاط کو کس قدر ناپسند کرتا ہے۔ چہ جائیکہ عورت ٹیوی، ریڈیو، کیبل اور اخبارات میں آکر پورے ناز نخرے کے ساتھ لوگوں کے سامنے اپنے انگ انگ کی نمائش کرے۔ قرآن مجید کی ہدایت ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں باوقار طریقے کے ساتھ رہیں جس کے لیے ” وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس کا معنٰی قرار اور وقار کیا گیا ہے۔ یعنی اپنے گھر میں قرار پکڑو اور وقار کے ساتھ رہو اور نماز پڑھو، زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اسکے رسول کی تابعداری میں لگی رہو۔ ” تَبَرُّجْ “ کا معنی بےپردگی اور خوبصورتی کا اظہار کرنا ہے۔ اسی طرح ” تَبَرُّجْ “ کا معنٰی ابھار اور نمایاں ہونا بھی ہے۔ آسمانی برج کو بھی اسی لیے برج کہا جاتا ہے۔ کہ وہ حدِّنگاہ سے اوپر ہوتے ہیں۔ اہل لغت اور اہل تفسیر نے ” تَبَرُّجْ ‘ کا معنٰی عورت کا اپنے حسن و جمال کو نمایاں کرنا لکھا ہے۔ بالفاظ دیگر اپنے حسن و جمال کو چھپانے کی بجائے لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں جہالت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ (البقرۃ : 67) عورت کے اس فعل کو جاہلیت قرار دیا گیا ہے۔ یعنی وہ جہالت جو اسلام سے پہلے عربوں میں موجود تھی۔ (اَنَّ أَبَا مَالِکِ الأَشْعَرِیِّ حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ أَرْبَعٌ فِی أُمَّتِی مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ لاَ یَتْرُکُونَہُنَّ الْفَخْرُ فِی الأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِی الأَنْسَابِ وَالاِسْتِسْقَاء بالنُّجُومِ وَالنِّیَاحَۃُ )[ رواہ مسلم : باب التَّشْدِیدِ فِی النِّیَاحَۃِ ] ” ابو مالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ جاہلیت کی چار عادات کو نہیں چھوڑیں گے۔ حسب ونسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا۔ “ اہل بیت اور ان کا مقام پاکستان میں شیعہ اور بریلوی حضرات فکر وعمل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں اس لیے مولانا پیر کرم شاہ صاحب بریلوی کی تفسیر سے من وعن اقتباس تحریر کیا جاتا ہے : اس آیت کا سیاق وسباق دیکھنے کے بعد یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ آیت کے اس جملہ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ ) میں بھی وہی مخاطب ہیں جن سے پہلے اور بعد میں خطاب ہورہا ہے۔ اور وہ ازواج مطہرات ہیں اور اہل بیت سے بھی ازواج مراد ہیں۔ فرقہ وارانہ تعصّب سے بلند اور خالی الذّہن ہو کر اگر ان آیات کا مطالعہ کیا جائے تو ان آیات کا یہی مفہوم ہے جو بلا تکلّف سمجھ آتا ہے یعنی خدا نہ بھلا کرے فرقہ ورانہ تعصّبات کا کہ وہ حق فہمی کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ شیعہ حضرات کو اس بات پر اصرار ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات داخل نہیں۔ اس سے مراد فقط حضرات خمسہ ہیں یعنی امام المرسلین ﷺ ، امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سیّدہ فاطمہ طاہرہ اور حضرت حسنین کریمین ؓ اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے جو دلائل انہوں نے پیش کیے ہیں وہ پیش خدمت ہیں۔ انہیں پڑھیے ! سنجیدگی سے ان پر غور کیجیے اور ازروئے انصاف یہ فیصلہ کیجیے کہ راہ حق سے کون بہک گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : 1 اس جملہ میں ضمیریں مذکر ذکر کی گئی ہیں ” عَنْکُمُ “ اور ” یُطَھِّرَکُمْ “ اگر ان کا مرجع ازواج مطہرات ہوتیں تو مؤنث کی ضمیریں ذکر کی جاتیں۔ ” عَنْکُمُ “ کی بجائے ’ عَنْکُنَّ “ آجاتا اور ” یُطَھِّرَکُمْ “ کی بجائے ” یُطَہِّرُکُنَّ “ ہوتا۔ 2 آیت کے اس حصہ میں ” بَیْتِ “ واحد مذکور ہے۔ یہ چیز ازواج کی نفی کرتی ہے کیونکہ جہاں ان کے گھروں کا ذکر ہے وہاں بیت کی جمع بیوت مذکور ہے۔ جیسے ” وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ اور ” وَاذْکُرْنَ مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ ہیں۔ 3 اس سلسہ میں جو بڑی وزنی بات انہوں نے کہی ہے کہ ” اِنَّمَا “ حصر کے لیے آتا ہے یعنی جو چیز اس کے بعد مذکور ہے اس کے لیے یہ فعل ثابت ہے اور جو مذکور نہیں اس سے یہ فعل منفی ہے۔ نیز ارادہ کی دو قسمیں ہیں وہ ارادہ جس کی مراد کا پایا جانا یا نہ پایا جانا مستلزم نہیں، دوسرا وہ ارادہ جس کے ساتھ مراد کا پایا جانا ضروری ہے یعنی ایسا ارادہ جس پر ” تَطْہِیْرًا “ اور ” اذھاب رجس “ ضرور مرتب ہوگا۔ اس مقام پر ارادہ ” محصّنہ “ نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا ارادہ تو ہر مومن کے لیے ہے کہ وہ ہر ناپاکی سے منزّہ ہو، ظاہری اور باطنی نجاستوں سے اس کا دامن حیات پاک ہو۔ اہل بیت کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں۔ حالانکہ یہ مقام مدح اہل بیت کا ہے۔ یہاں تو کسی ایسی چیز کا ذکر ہونا چاہیے جو ان کے ساتھ مخصوص ہو اور وہ ارادہ کا دوسرا معنٰی ہے جس سے ان حضرات کی عصمت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ازواج مطہرات کی عصمت کا کوئی بھی قائل نہیں۔ یہاں وہی لوگ مراد ہوں گے جن کی عصمت ثابت ہے اور وہ حضرات خمسہ ہیں۔ اس لیے ثابت ہوا کہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج نہیں ہیں۔ امید ہے کہ یہ دلیل پیچ در پیچ آپ نے سمجھ لی ہوگی۔ 4 کتب اہل سنت میں بھی ایسی احادیث بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد ازواج نہیں بلکہ حضرات خمسہ ہیں۔ شیخ الطائفہ طوسی نے التبیان میں اور شیخ طبرسی نے مجمع البیان میں اور اسی فرقہ کے دوسرے مفسرین نے اپنی تفاسیر میں یہی دلائل پیش کیے ہیں۔ آئیے ! ان دلائل کا بنظر انصاف جائزہ لیں۔ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اگر ازواج مراد ہوتیں تو ضمیریں مؤنث کی ذکر کی جاتیں۔ اس لیے گزارش ہے کہ آیت کے اس حصّہ میں اہل بیتکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ مذکر ہے اگرچہ معنٰی مؤنث ہے اور عربی زبان میں بسا اوقات معنٰی کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ صرف لفظ کے مطابق ضمیر ذکر کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سورة ہود کی آیت 71، 72، 73 ملاحظہ فرمائیے ! جہاں فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ پاس ہی حضرت سارہ [ کھڑی ہیں۔ آپ وفود مسرّت سے ہنس پڑی ہیں۔ ساتھ ہی اظہار تعجب کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔ (یٰوَیْلَتٰٓی ءَ اَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ ھٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًااِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ) یعنی میں بوڑھی اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہے کیا میرے ہاں بچہ پیدا ہوگا ؟ یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ فرشتے حضرت سارہ (علیہ السلام) کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں (قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ رَحْمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ) اے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی رفیقہ حیات ! کیا تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کررہی ہو۔ اے اہل بیت ! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔” تَعْجَبِیْنَ “ مؤنث کا صیغہ ہے لیکن بعد میں اہل بیت کے لفظ کے پیش نظر ” عَلَیْکُمْ “ میں مذکر کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں اسی صفحہ کی پہلی آیت میں ” مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ “ پر غور کیجیے۔” یَّقْنُتْ “ مذکر کا صیغہ ہے لیکن بلا اختلاف اس سے مراد ازواج ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ” مَنْ تَّقْنُتْ “ ہوتا لیکن ” مَنْ “ کے لفظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ” یَّقْنُتْ “ فرمایا گیا۔ اس لیے شیعہ حضرات کا یہ استدلال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ دوسری دلیل کے بارے میں عرض ہے کہ ازواج مطہرات کے حجروں کی دو حیثیتیں ہیں ایک حیثیت تو یہ ہے کہ امّہات المومنین کی قیام گاہیں ہیں۔ دوسری حیثیت یہ ہے کہ ان حجروں میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات اقامت گزیں ہیں۔ جب ان حجروں کا ذکر ازواج کی قیام گاہوں سے ہو تو انہیں جمع ذکر کیا جاتا اور جب آپ ﷺ کی نسبت سے ہو تو واحد ” وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ میں ہر زوجہ محترمہ کو حکم ہے کہ وہ اپنے اپنے حجرہ میں ٹھہرے۔ اسی طرح ” مَایُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ “ میں بھی ہر بی بی کا حجرہ مراد ہے۔ کیونکہ وحی کا نزول مختلف حجرات میں ہوتا تھا۔ لیکن اہل البیت میں ” بَیْتِ “ سے مراد آپ ﷺ کی قیام گاہ ہے اس لیے اس کو واحد ذکر کیا گیا۔ تیسرا استدلال بھی بڑا انوکھا ہے۔ آپ کی دلیل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ مقام مدح اہل بیت ہے۔ حالانکہ یہ مقام مقام مدح نہیں بلکہ مقام موعظت و ارشاد ہے۔ جو باتیں اور جو خوبیاں اہل بیت کو اپنانی چاہئیں اور جس ضابطہ حیات کی انہیں پابندی کرنا چاہیے اس کا تفصیلی ذکر ہور ہا ہے اس لیے اس دلیل کی بنیاد ہی درست نہیں۔ نیزعصمت انبیاء کا عقیدہ تو متفقہ عقیدہ ہے۔ لیکن دوسرے حضرات کی عصمت آپ کا اپنا مفروضہ ہے۔ اس پر دلیل کی عمارت کیسے تعمیر کی جاسکتی ہے۔ نیز اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہاں سے عدم عصمت ثابت ہوتی ہے ورنہ تحصیل لاحاصل لازم آئے گی۔ یعنی جو ہستیاں پہلے ہی معصوم اور ہر طرح کے رجس سے منزّہ اور مبرّہ ہیں ان کے متعلق یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو پاک اور طاہر کرنا چاہتا ہے اس کا کوئی مطلب نہیں۔ اس کے علاوہ اگر اہل سنت کی عصمت کا ذکر ہی بطور مدح کرنا مقصود ہوتا تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی۔ ” اِنَّمَا اَرَاد اللّٰہُ اَذْھَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَطَہَّرَکُمْ تَطْھِیْرًا “۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ آیت اس طرح نہیں ہے۔ ان صاحبان نے چوتھی دلیل یہ پیش کی ہے کہ اہلسنت کی کتب میں بھی بکثرت ایسی احادیث ہیں جو اکابر صحابہ ابو سعیدخدری، انس بن مالک، واثلہ بن اسقع، امّ المومنین عائشہ اور امّ المومنین امّ سلمہ ؓ سے مروی ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد حضرات خمسہ ہیں اور ازواج اہل بیت میں داخل نہیں۔ اس کے متعلق گزارش ہے کہ وہ احادیث جن میں یہ مذکور ہے کہ یہ آیت فقط ان حضرات قدسی صفات کے حق میں نازل ہوئی۔ ان کے راوی مجروح اور ساقط الاعتبار ہیں۔ جن کی تفصیل ذیل میں پیش کی جارہی ہے اور جن کے راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔ ان میں کوئی تخصیص مذکور نہیں۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ امّہات المومنین اور یہ حضرات سب اہل بیت میں شامل ہیں اور یہی حق ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے۔ کچھ لوگوں نے اہل بیت کے لفظ کو نبی ﷺ کی ازواج کے لیے مخصوص کردیا ہے۔ حالانکہ حدیث کی روشنی میں اہل بیت میں ازواج مطہرات کے ساتھ حضرت علی، حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن و حسین ؓ بھی شامل ہیں۔ (عَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ قَالَتْ فِیْ بَیْتِیْ اُنْزِلَتْ (اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا) قَالَتْ فَاَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ إِلٰی فَاِطِمَۃَوَعَلِیٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ فَقَالَ ہٰؤُلٓاءِ اَہْلُ بَیْتِیْ قَالَتْ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ مَا اَنَا مِنْ اَہْلِ الْبَیْتِ قَالَ بَلٰی اِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالٰی)[ رواہ البیھقی : باب الدلیل علی ان ازواجہ ﷺ من اہل بیتہ فی الصلوۃ علیہن ] ” حضرت امّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی اور حضرت حسن و حسین ] کو بلایا اور فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ حضرت امّ سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ تعالیٰ ! “ مخصوص نظریہ رکھنے والے ایک فرقہ کی ستم ظریفی مولانا مودودی کا ارشاد : مولانا مرحوم کی کتاب خلافت ملوکیت کے حوالے سے کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ مولانا صاحب کا رجحان اہل تشیع کی طرف ہے اس لیے ان کی تحریر پیش خدمت ہے۔ ایک گروہ نے اس آیت کی تفسیر میں صرف اتنا ہی ستم نہیں کیا کہ ازواج مطہرات کو ” اہل بیت “ سے خارج کرکے صرف حضرت علی، فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد کے لیے اس لفظ کو خاص کردیا بلکہ اس پر مزید ستم یہ کیا کہ اس کے الفاظ ” اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے “ سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ حضرت علی و فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح معصوم ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ” رِجْسٌ“ سے مراد خطا اور گناہ ہے اور ارشاد الٰہی کی رو سے یہ ” اَہْلَ الْبَیْتِ “ اس سے پاک کردیئے گئے ہیں۔ حالانکہ آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ تم سے گندگی دور کردی گئی اور تم بالکل پاک کردیئے گئے بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں پاک کردینا چاہتا ہے۔ سیا ق وسباق بھی ہی نہیں بتاتا کہ یہاں مناقب اہل بیت بیان کرنے مقصود ہیں بلکہ یہاں تو اہل بیت کو نصیحت کی گئی ہے کہ تم فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو اس لیے کہ اللہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے۔ بالفاظ دیگر مطلب یہ ہے کہ تم فلاں رویّہ اختیار کروگے تو پاکیزگی کی نعمت تمہیں نصیب ہوگی ورنہ نہیں۔ تاہم اگر ” یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا “ کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ اللہ نے ان کو معصوم کردیا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وضو، غسل اور تیمم کرنے والے سب مسلمانوں کو معصوم نہ مان لیا جائے کیونکہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ “ ” مگر اللہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے (المائدۃ : 6) (تفہیم القرآن : جلد 4) مسائل 1۔ نبی کریم ﷺ کی بیویوں کا مقام و مرتبہ عام عورتوں جیسا نہیں ہے۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی آوازوں میں جھکاؤ پیدا نہ کرو۔ 3۔ آپ ﷺ کی بیویوں کو معقول بات کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 4۔ آپ ﷺ کی بیویوں کو اپنی زیب وزینت ظاہر کرنے اور جاہلیت کے گمان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ 5۔ آپ ﷺ کی بیویوں کو اخلاقی اطوار سمجھانے کے ساتھ نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی بیویوں کو ان احکام پر عمل کرنے کا اس لیے حکم دیا تاکہ ان کو پاک کردے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو پاک کرتا ہے : 1۔ پاک وہی ہے جسے اللہ پاک کرے۔ (النساء : 49) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کے الزام سے پاک کیا۔ (الاحزاب : 69) 3۔ حضرت یوسف کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : 31) 4۔ عیسیٰ نے گود میں اپنی والدہ کی پاکدامنی کا اعلان فرمایا۔ (مریم : 30) 5۔ اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (التوبۃ : 108) 6۔ ہم نے اسے لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی اور اپنی جناب سے پاکیزگی اور شفقت عطا فرمائی تھی وہ پرہیزگار تھے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے، سرکش اور نافرمان نہ تھے۔ (مریم : 12 تا 14) 7۔ جس نے اپنے آپ کو پاک کرلیا وہ فلاح پا گیا۔ (الاعلیٰ : 14)
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

جو تمہارے گھروں میں ” اللہ “ کی آیات اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں، ان کو یاد رکھا کرو یقیناً اللہ باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کے گھر کا ماحول۔ آیت 28 سے لے کر مختلف انداز میں نبی اکرم ﷺ کے گھر والوں کو خطاب کیا ہے اس موقعہ پر آخری حکم ہوا کہ پاک صاف ماحول میں رہتے ہوئے ” اللہ “ کی آیات اور حکمت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں وحی کی صورت میں پڑھی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو اور ان کی تلاوت کیا کرو۔ ہمیشہ عقیدہ اپناؤ کہ اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں یہ بات کھل گئی ہے کہ اہل بیت میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج بدرجہ اولیٰ شامل ہیں کیونکہ وحی حضرت علی ؓ کے گھر میں نازل نہیں ہوتی تھی جب آپ ﷺ گھر میں ہوتے تو وحی امّہات المؤمنین کے حجروں میں ہی نازل ہوا کرتی تھی۔ اکثر اہل علم اور مفسرین نے حکمت کے معانی فہم و فراست، علم وحلم، عدل و انصاف، حقیقت اور سچائی تک پہنچنا اور دین کی سمجھ حاصل کرنا بیان کیے ہیں اس کی تائید حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ ضَمَّنِی النَّبِیُّ ﷺ إِلَی صَدْرِہِ وَقَال اللَّہُمَّ عَلِّمْہُ الْحِکْمَۃَ )[ رواہ البخاری : باب ذِکْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی معظم ﷺ نے مجھے اپنے گلے لگایا اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ ! اسے قرآن کا فہم عطا فرما۔ “ (عَنْ اأمِّ سَلْمَۃَ أَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَا تُؤْذِیْنِیْ فِیْ عَاءِشَۃَ ، فَوَاللّٰہِ مَا مِنْکُنَّ اِمْرَأَۃً یَنْزِلُ عَلَّیَّ الْوَحْیُ وَأَنَا فِیْ لِحَافِہَا لَیْسَ عَاءِشَۃَ قُلْتُ لَا جَرَمَ ، وَاللّٰہِ لَا أُؤْذِیْکَ فِیْہَا اأبَدًا) [ مسند ابی یعلیٰ الموصلی ] ” ام سلمہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارے میں پریشان نہ کرنا۔ اللہ کی قسم ! عائشہ کے علاوہ تم میں سے کوئی بیوی نہیں کہ جس کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل ہوتی ہو۔ میں نے کہا کوئی شک نہیں ! اللہ کی قسم میں عائشہ کے بارے میں آپ کو کبھی پریشان نہیں کروں گی۔ “ گھر میں نماز اور تلاوت کرنے کا حکم : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لاَ تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِی تُقْرَأُ فیہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ )[ رواہ : باب اسْتِحْبَابِ صَلاَۃِ النَّافِلَۃِ فِی بَیْتِہِ وَجَوَازِہَا فِی الْمَسْجِدِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، جس گھر میں سورة البقرۃ پڑھی جاتی ہے اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ “ (عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ أَتَی مَسْجِدَ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ فَصَلَّی فیہِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلاَتَہُمْ رَآہُمْ یُسَبِّحُونَ بَعْدَہَا فَقَالَ ہَذِہِ صَلاَۃُ الْبُیُوتِ ) [ رواہ ابوداؤد : باب رَکْعَتَیِ الْمَغْرِبِ أَیْنَ تُصَلَّیَانِ ] ” سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بنو عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف لائے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز پڑھی۔ جب انہوں نے فرض نماز مکمل کی تو آپ ﷺ نے انہیں نفل پڑھتے ہوئے دیکھا۔ تو آپ نے فرمایا یہ گھروں میں پڑھی جانے والی نماز ہے، یعنی نفلی نماز گھر میں پڑھنی زیادہ افضل ہے۔ “ مسائل 1۔ گھر میں قرآن مجید کی تلاوت اور حدیث شریف کا تذکرہ کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن تلاوت قرآن اور اس کی حکمت : 1۔ قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ : 121) 2۔ قرآن کی تلاوت کے وقت تدبر کرنا چاہیے۔ (النساء : 82) 3۔ سحری کے وقت تلاوت کرنا افضل ہے۔ (الاسراء : 78) 4۔ اللہ کے بندے رات کو اٹھ اٹھ کر قران مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ (آل عمران : 113) 5۔ ایمانداروں کے دل اللہ کے ذکر سے سہم جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے وہ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (الانفال : 2) 6۔ جن کو کتاب دی گئی وہ اس کی تلاوت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے۔ (البقرۃ : 121)
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

یقیناً مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، ڈرنے والے مرد اور ڈرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم تیار کیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کو یاد کرنے اور اس کی نازل کردہ حکمت کا تقاضا ہے کہ مسلمان مرد اور خواتین میں درج ذیل اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔ جن حضرات میں یہ اوصاف ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا اور انہیں اجر عظیم عطا کرے گا۔ اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مفسّرین نے لکھا ہے کہ امّہات المؤمنین میں سے حضرت امّ سلمہ ؓ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! قرآن مجید میں بار بار مردوں کو ہی مخاطب کیا گیا ہے عورتوں کو مخاطب کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں مومن مردوں اور عورتوں کو نہ صرف یکساں طور پر مخاطب کیا گیا ہے بلکہ اس میں ایک سچے اور پکے مسلمان مرد اور عورت کے کردار کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان اوصاف کا مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، امیر ہو یا غریب، عربی ہو یا عجمی، گورا ہو یا کالا، حکمران ہو یا محکوم جس میں بھی یہ اوصاف ہوں گے اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کو معاف فرمائے گا اور اسے اجر عظیم سے نوازے گا۔ 1 مسلمان : اسلام کا معنٰی سلامتی اور تابعداری ہے اسلام کا جامع تصور۔ ” ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے فرمایا کہ فرمانبردار ہوجا۔ اس نے عرض کی کہ میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے سامنے جھکا دیا ہے۔ (البقرۃ : 131) ابراہیم اور یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرما لیا ہے تمہیں موت اسلام کی حالت میں آنی چاہیے۔ “ (البقرہ : 132) 2 مومن : مومن کا معنٰی ہے ایمان دار کچھ اہل علم نے مسلم اور مومن کے الفاظ کو ایک دوسرے کا مترادف قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلم اور مومن کے درمیان درجہ بندی کے لحاظ سے بڑا فرق ہے۔ مسلمان وہ ہے جو اسلام کے ظاہری ارکان پر واجبی طور پر عمل کرتا ہے۔ مومن وہ ہے جو ارکان اسلام پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک تڑپ اور لگن کے ساتھ نیکی کے معاملات میں دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ مومن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی سے بھی محروم نہ رہے۔ گویا کہ وہ اسلام کے ہر پہلو پر پوری طرح عمل کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے عام مسلمانوں کو یوں خطاب فرمایا۔ ” دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لا چکے ہیں۔ اے پیغمبر ! انہیں فرما دیں کہ تم ہرگز ایمان نہیں لائے۔ ہاں یہ کہو کہ ہم مسلمان ہیں۔ ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کرے گا کیونکہ اللہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ ایمان دار تو وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے رسول کی رسالت پر ایمان لاتے ہیں پھر اس میں کوئی شک نہیں کرتے اور اپنے مالوں اور نفسوں کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ “ (الحجرات : آیت 14۔ 15) 3 قٰانِتِ : مرد کے لیے قٰانِتِ اور عورت کے لیے قٰانِتٰتِ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جس سے مراد وہ شخص اور عورت ہے جو دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ قولاً اور فعلاً اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرتے ہوئے طبیعت میں سکون محسوس کرے۔ نماز کے بارے میں بالخصوص یہ حکم دیا گیا ہے (وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِین) [ البقرۃ : 238] ” اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے کھڑے ہوا کرو۔ “ 4 اَلصَّادِقْ : ہر حال میں ” اَلصِّدْقَ “ اختیار کرنے والے کو الصَّادِقْ کہا جاتا ہے یعنی ایسا مسلمان جو اپنے قول اور فعل کے ساتھ اسلام کی صداقت کا ترجمان ہو۔ ایک مسلمان کو قولاً اور فعلاً اسلام کا ترجمان بنتے ہوئے اس بات کا بھی التزام کرنے کا حکم ہے کہ وہ ہمیشہ سچے لوگوں کا ساتھ دے۔ (یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰادِقِیْنَ ) [ التوبہ : 119] ” اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کا ساتھ دیا کرو۔ “ 5 صَابِرْ : صبر بےبسی اور بےکسی کا نام نہیں۔ صبر قوت برداشت ‘ قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں جرات ‘ بہادری دکھانا بھی صبر میں شامل ہے۔ صابر کو آخرت میں بغیرحساب و کتاب کے جنت میں داخلہ نصیب ہوگا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رفاقت ودستگیری حاصل ہوگی۔ (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) [ البقرۃ : 152] ” اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنیوالوں کے لیے ہے۔ “ ٰ 6 خَاشِعِیْنَ : ” خَاشِعِیْنَ “ ” خَاشِعٌ“ کی جمع ہے۔ مسلمان کی کوئی عبادت ایسی نہیں جس میں خشیت الٰہی نہ پائی جائے۔ خشیت دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے رب کی نافرمانی اور اس کی گرفت سے ڈرتا رہتا ہے۔ جس میں یہ صفت ہوگی وہ مسلمان ہر وقت اپنے اخلاق اور اعمال کا محاسبہ کرے گا۔ ان لوگوں کی یوں تعریف کی گئی ہے۔ (الَّذِینَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوْنَ )[ المومنون : 2] ” مومن اپنی نماز میں خشیت اختیار کرتے ہیں۔ “ 7 مُتَصَدِّقْ : ” مُتَصَدِّقْ “ حقیقت میں وہ شخص ہوتا ہے جو عسر اور یسر میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے کیونکہ صحیح معنوں میں مسلمان وہ ہے جو اپنے سے کمزور مسلمان کے ساتھ تعاون کرئے۔ قرآن مجید نے اس بات کو متقین کی ایک صفت کے طور پر ہی نہیں لیا بلکہ اسے ایمان کی مبادیات میں شامل کیا ہے۔ (الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) [ آل عمران : 134] ” متقین عسر، یُسر میں خرچ کرتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محسنین سے محبت کرتا ہے۔ “ (الَّذِیْنَ یَؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) [ البقرۃ : 3] ” جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ‘ نماز قائم کرتے اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ 8 اَلصَّوْمْ : ” اَلصَّوْم “ کا شرعی معنٰی سحری سے لے کر مغرب تک روزہ رکھنا ہے۔ روزہ اس بات کا بالفعل احساس دلاتا ہے کہ بھوک اور تنگ دستی کی سختیاں غریب کی زندگی پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔ روزہ سے آدمی کے گناہ معاف ہونے کے ساتھ دوسرے سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ 9 عفت و عصمت کی حفاظت کرنے والے : قرآن مجید میں ایسے احکام نازل ہوئے ہیں۔ اگر مسلمان ان کی پاسداری کریں تو مسلم معاشرہ میں ہر کسی کی عزت وعفت محفوظ رہ سکتی ہے۔ تفصیل میں جانے کی بجائے یہاں صرف دو حوالے پیش کیے جاتے ہیں۔ جس سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ اسلام کس طرح لوگوں کی عفت کی حفاظت کرتا ہے۔ ” اے پیغمبر ﷺ ! مومنوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اللہ تعالیٰ کو ان کے سب کاموں کی خبر ہے۔ اے پیغمبر مومن عورتوں سے بھی کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو بچاتے رہیں اور اپنی سج دھج کو ظاہر نہ کیا کریں۔ “ (النور : 30، 31) ” زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ یہ برائی اور بہت برا راستہ ہے۔ (بنی اسرائیل : 32) ” سہل بن سعد ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب حِفْظِ اللِّسَانِ ] 0 اَلذَّاکِرِیْن : ” الذّٰکِرِیْنَ وَّ الذّٰکِرٰتِ “ سے مراد مخصوص لوگ نہیں جو مجالس پڑھنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔” الذّٰکِرِیْنَ وَّ الذّٰکِرٰ تِ “ سے مراد وہ خوش قسمت اور با نصیب لوگ ہیں جوہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہتے ہیں۔ ذکر کے بارے میں فہم القرآن جلد 1 آیت 152 میں قدرے تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ ذکر سے مراد اللہ کا نام، صفات اور ذات کا ذکر کرنا اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہونا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ذکر کے تصور کو اس قدر وسعت سے بیان فرمایا ہے۔ (اِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَاف بالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ وَرَمْیُ الْجِمَارِ لِاِقَامَۃِ ذِکْرِ اللّٰہِ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب المناسک ‘ باب فی الرمل ] ” یقینا ! بیت اللہ کا طواف ‘ صفا ومروہ کی سعی اور شیاطین کو کنکریاں مارنا ” اللہ “ کا ذکر بلند کرنے کے لیے ہیں۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ )[ رواہ مسلم : باب ذِکْرِ اللَّہِ تَعَالَی فِیْ حَالِ ۔۔] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ “ (عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الَّذِیْ ےَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِیْ لَا ےَذْکُرُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَےِّتِ ) [ رواہ البخاری : باب فَضْلِ ذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اپنے ” رب “ کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ شخص کی ہے۔ “ مسائل 1۔ صالح اعمال کے حوالے سے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے صالح مردوں اور عورتوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا اور اجرِعظیم عطا کرنے والا ہے : 1۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح : 14) 2۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بیشک اللہ معاف کرتا اور رحم فرماتا ہے۔ (التوبۃ : 99) 3۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کر دے وہ غفور الرّحیم ہے۔ (النور : 22) 4۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ (الفرقان : 70) 5۔ جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تیرا رب بڑا غفور الرحیم ہے۔ (النحل : 119) 6۔ اللہ جلد پکڑنے والا اور غفور الرحیم ہے۔ (الانعام : 165) 7۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (الزمر : 53) 8۔ ہم ان کو ان کے اعمال سے بہتر جزا دیں گے۔ (النحل : 97) 9۔ اللہ ان کو ان کے اعمال سے بہتر صلہ عطا فرمائے گا۔ ( الزمر : 35)
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کردیں تو پھر اسے اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑگیا

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں ذکر ہونے والے اوصاف حمیدہ کا تقاضا ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن کہلوانے کا حق نہیں رکھتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کو اپنے لیے قطعی اور آخری فیصلہ تسلیم نہ کرلے۔ نبی نے معاشرے میں سماجی اونچ نیچ ختم کرنے کے لیے اپنے متبنّٰی بیٹے زید کے لیے حضرت زینب کا رشتہ اس کے قریبی رشتہ داروں سے طلب کیا زینب ؓ اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے اسے ناپسند جانا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم قریش کے رؤسا ہیں اور زید ایک آزاد کردہ غلام ہے۔ حضرت زینب آپ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھی انہوں نے نکاح کے پیغام کے ردعمل میں یہ الفاظ کہے کہ ” اَنَا خَیْرٌ مِنْہُ نَسَبًا “ میں زید سے نسب کے لحاظ سے اعلیٰ ہوں اس بنا پر اس نے نکاح کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ کہ کسی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کریں تو پھر اسے اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اختیار باقی رہے۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔ جونہی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ حضرت زینب اور اس کے رشتہ داروں نے اسے سنا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے آکر اپنی آمادگی کا اظہار کردیا۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے حضرت زید کا نکاح حضرت زینب سے کردیا۔ تاہم ان کا آپس میں نباہ نہ ہوسکا۔ جس کا ذکر اگلی آیت میں کیا گیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ازواجی زندگی میں عجب واقعہ : (عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ؓ أَنَّہٗ زَوَّجَ أُخْتَہٗ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَتْ عِنْدَہٗ مَاکَانَتْ ثُمَّ طَلَّقَھَا تَطْلِیْقَۃًلَمْ یُرَاجِعْھَا حَتَّی انْقَضَّتِ الْعِدَّۃُ فَھَوِیَھَا وَھَوِیَتْہُ ثُمَّ خَطَبَھَا مََعَ الْخُطَّابِ فَقَالَ لَہٗ یَا لُکَعْ أَکْرَمْتُکَ بِھَا وَزَوَّجْتُکَھَا فَطَلَّقْتَھَا وَاللّٰہِ لَاتُرَاجِعُ إِلَیْکَ أَبَدًا آخِرُ مَا عَلَیْکَ قَالَ فَعَلِمَ اللّٰہُ حَاجَتَہٗ إِلَیْھَا وَحَاجَتَھَا إِلٰی بَعْلِھَا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ )إِلٰی قَوْلِہٖ (وَأَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ) فَلَمَّا سَمِعَھَا مَعْقِلٌ قَالَ سَمْعًا لِّرَبِّیْ وَطَاعَۃً ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ أُزَوِّجُکَ وَأُکْرِمُکَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة البقرۃ ] ” حضرت معقل بن یسار ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کردی وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس کے خاوندنے اسے ایک طلاق دی اور عدت گزر گئی لیکن رجوع نہ کیا۔ پھر میاں بیوی ایک دوسرے کو چاہنے لگے اس آدمی نے نکاح کے لیے آدمی بھیجا تو معقل بن یسار ؓ نے کہا ‘ کمینے ! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اپنی بہن کے ساتھ شادی کی اور تو نے اسے طلاق دے دی۔ اللہ کی قسم ! اب یہ کبھی بھی تیرے پاس نہیں لوٹے گی یہ آخری باری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کی خواہش کے پیش نظر آیت نازل فرمائی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ ) جب معقل بن یسار ؓ نے یہ آیت سنی تو فرمایا کہ میں نے اپنے رب کی بات کو سنا اور مان لیا۔ پھر انہوں نے اس آدمی کو بلایا اور کہا میں تیرا نکاح کرتا ہوں اور تیری عزت بھی کروں گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بعد کسی مومن مرد اور عورت کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والا واضح طور پر بھٹک جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہرمؤمن اور مؤمنہ پر فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم تسلیم کرے : 1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ (الانفال : 46) 2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (آل عمران : 132) 3۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ (محمد : 33) 4۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نافرمانی سے بچو۔ (المائدۃ : 92) 5۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول اور صاحب امر کی اطاعت کرو۔ (النساء : 59 )