Ayah 33:37فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ اب بتلایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے تابع رہ کر میاں اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ جس کی مثال حضرت زینب اور حضرت زید کے حوالے سے پیش کی گئی ہے۔
اس سورة مبارکہ کی آیت پانچ کی تشریح میں عرض کیا گیا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ نبی کریم ﷺ کے غلام تھے جسے آپ نے آزاد فرما کر اپنا متبنّٰی بنا لیا تھا۔ زید بن حارثہ کا تعلق قبیلہ کلب سے تھا جب آٹھ سال کے ہوئے تو ان کی والدہ انہیں ننھال لے گئی وہاں دشمن قبیلے نے ان کے ننھال پر حملہ کردیا۔ دشمن دوسرے آدمیوں کے ساتھ زید بن حارثہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے طائف کے قریب عکاظ کی منڈی میں اسے فروخت کردیا۔ خریدنے والے حضرت خدیجہ ؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام ؓ تھے انہوں نے زید کو اپنی پھوپھی خدیجہ کو دے دیا حضرت خدیجہ ؓ کا نکاح نبی اکرم ﷺ سے ہوا تو انہوں نے زید کو آپ کی خدمت میں پیش کیا اس طرح زید ؓ کے بخت جاگ اٹھے اور زید اس ہستی کے غلام ٹھہرے جس کی غلامی پر آزادی بھی ناز کرتی ہے اور جس کی غلامی پر پوری دنیا بھی قربان کر دینی چاہیے۔
زید ؓ کی عمر تقریباً پندرہ سال کی ہوچکی تھی جب اس کے والد اور چچا کو معلوم ہوا کہ ہمارا بچہ مکہ میں ہے۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اس وقت تک آپ ختم نبوت کے تاج سے سرفراز نہیں ہوئے تھے گویا کہ آپ محمد بن عبداللہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ زید کے والد اور چچا نے آپ سے پورا ماجرہ عرض کیا اور نہایت عاجزی سے درخواست کی کہ اسکی والدہ اس کی جدائی میں نڈھال ہوچکی ہے آپ ہم سے جو قیمت لینا چاہتے ہیں وصول کرلیں اور ہمارا بچہ ہمارے حوالے کردیں۔ آپ نے فرمایا کہ زید کو بلا کر پوچھتا ہوں اگر وہ آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہے تو میں آپ سے اس کے عوض ایک دمڑی بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ زید کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ زید ان بزرگوں کو جانتے ہو ؟ زید نے عرض کی کہ ہاں یہ میرے والد ہیں اور یہ میرے چچا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زید یہ تجھے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں اگر تم جانا چاہتے ہو تو میں تجھے خوشی سے اجازت دیتا ہوں۔ زید نے ایک مرتبہ اپنے باپ اور چچا کو دیکھا اور پھر نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر نظر ڈالی اور عرض کی کہ آقا میں آپ کا دامن چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتا۔ نہ معلوم زید کے والد اور چچا نے کس کس انداز میں ان کو سمجھایاہو گا جس کا اندازہ کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔
زید کی وفا شعاری اور فدا کاری کی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے حرم مکہ میں جا کر زید کی نہ صرف آزادی کا اعلان کیا بلکہ قریش کے معززین کے سامنے یہ بھی اعلان فرمایا کہ گواہ رہنا زید میرا بیٹا ہے۔ اس کے بعد حضرت زید کو زید بن محمد کے نام سے بلایا جاتا تھا۔ یہ واقعہ نبوت سے تقریباً پندرہ سال پہلے کا ہے جب آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا تو اس وقت حضرت زید ؓ کی عمر تیس سال تھی۔ نبوت کی تصدیق کرنے والوں میں زید ؓ کا چوتھا نام ہے۔ پہلی حضرت خدیجہ ؓ دوسرے حضرت ابوبکر ؓ تیسرے حضرت علی ؓ ہیں۔
معاشرے میں اونچ نیچ ختم کرنے کے لیے نبوت کے چوتھے سال نبی اکرم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب ؓ کا نکاح حضرت زید ؓ سے کردیا حق مہر بھی اپنی طرف سے ادا فرمایا اور کچھ گھریلو سامان بھی دیا۔ حضرت زینب ؓ اور جناب زید ؓ کے درمیان وہ ہم آہنگی اور یگانگت پیدا نہ ہوسکی جو ازواجی زندگی کا جزوِلازم ہے چناچہ حضرت زید ؓ نے زینب ؓ کو طلاق دے دی جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو اشارہ ہوچکا تھا کہ جب زید ؓ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دے اور زینب ؓ اپنی عدت پوری کرلے تو آپ نے اس سے نکاح کرنا ہوگا۔ جس کے بارے ا رشاد ہوا کہ ہم نے اس سے آپ کا نکاح کردیا تاکہ منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی قدغن نہ رہے۔ وضاحت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نہ تمہارے منہ بولے لڑکے تمہارے حقیقی بیٹے بن سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی بیویاں تمہاری بہو ہوسکتی ہیں۔
حضرت زینب ؓ سے نکاح کرنے سے پہلے آپ ﷺ اس بات سے خوف زدہ تھے کہ اگر میں نے زینب ؓ سے نکاح کرلیا تو منافق اور یہود و نصارٰی طوفان بد تمیزی برپا کردیں گے کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو کو اپنے نکاح میں لے لیا ہے۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ آپ کو حق بات پر عمل کرنے میں صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہی حقدار ہے کہ بندہ اسی سے ڈرتا رہے۔
جہاں تک حضرت زید ؓ پر اللہ تعالیٰ کے انعام کا تعلق ہے اس سے بڑا انعام کیا ہوسکتا ہے کہ جو غلام در بدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل خاص سے سرور دو عالم کی چوکھٹ پر خادم ہونے کا شرف بخشا اور نبی کے خاندان کا داماد بنایا۔
مسائل
1۔ اچھے خاندان سے ازواجی تعلق قائم ہونا اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہوتا ہے۔
2۔ حق کے بارے میں آدمی کو لوگوں سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرنا چاہیے۔
3۔ متبنّٰی کی بہو سے نکاح کرنا جائز ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حکم عمل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
آدمی کو صرف ” اللہ تعالیٰ “ سے ڈرنا چاہیے :
1۔ اے عقل مندو اللہ سے ڈر جاؤ۔ (الطلاق : 10) 2۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقل مند و تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 100)
3۔ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صاف گوئی اختیار کرو۔ (الاحزاب : 70)
4۔ اے لوگو اس اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1)
5۔ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ان میں صلح کروادو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الحجرات : 10)
7۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : 102)
8۔ اللہ سے ڈرو اور اطاعت کرو۔ (التغابن : 16)
Ayahs 33:38–39فہم القرآن
ربط کلام : پہلے فرمان کا تتمہّ ۔
اللہ تعالیٰ کا ہر حکم تعمیل کے لیے ہوتا ہے جس بنا پر سب سے پہلے اس پر نبی عمل کرتا ہے لہٰذا کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس کرے۔ اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں بھی یہی طر یقہ رہا ہے۔ اس کا حکم قطعی ہوا کرتا ہے یعنی اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں پس وپیش کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہی پیغمبروں کی شان ہے کہ ان پر جو احکام نازل ہوئے انہوں نے لوگوں کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پروا کیے بغیر انہیں من و عن اپنی امتوں تک پہنچایا اور اس پر عمل کر کے دکھلایا۔ اے نبی ﷺ آپ کو بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔ یہاں تک لوگوں کی مخالفت کا تعلق ہے آپ اس سے بےپروا ہوجائیں اللہ تعالیٰ آپ کو ہر حال میں کافی ہوگا۔
قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آپ ﷺ کو یوں مخا طب فرمایا گیا ہے۔
” اے پیغمبر ! جو آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اترا ہے لوگوں تک پہنچا دیجیے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تو نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا ” اللہ “ ہی تجھے لوگوں کی تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔ وہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ ( المائدہ : آیت 67)
حضرت حسن بصری کی والدہ حضرت ام المومنین امّ سلمہ ؓ کی کنیز تھیں۔ اس بدولت حسن بصری نے حضرت ام المومنین امّ سلمہ ؓ کے ہاں پرورش پائی وہ اس آیت کی تصریح میں فرمایا کرتے تھے کہ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے بالواسطہ امت محمدیہ کے علماء سے بھی لیا ہے کہ وہ حق کو چھپانے کی بجائے اسے ہر حال میں بیان کرتے رہیں۔ حضرت حسن بصری ؓ کا اپنا کردار یہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف پر سر عام تنقید کرتے۔ ایک دن حجاج نے انہیں بلا کر تلوار لہراتے ہوئے پوچھا کہ آپ میرے بارے میں یہ یہ باتیں کرتے ہیں ؟ حضرت حسن بصری نے وہی باتیں حجاج کے رو برو کہتے ہوئے فرمایا کہ ہاں جب تک تم ان جرائم سے باز نہیں آؤ گے میں تمہیں ٹوکتا رہوں گا۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ آیات کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے سچ بولنے کا وعدہ لیا ہے جس کی پاسداری کرنا ہمارا فرض ہے۔ (تفسیررازی)
مسائل
1۔” اللہ ” کے پیغمبر صرف ” اللہ “ ہی سے ڈرتے ہیں اور لوگوں سے نہیں ڈرتے تھے۔
2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی ہوا کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔
1۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3)
2۔ احد کے غازیوں نے کہا ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے اور وہی ہمیں کافی ہے۔ (آل عمران : 173)
3۔ میرے بندوں پر شیطان کی کوئی دلیل کار گر نہ ہوگی اور تیرا رب تجھے کافی ہے۔ (بنی اسرائیل : 65)
4۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اللہ کافی ہے ولی اور مددگار۔ (النساء : 45)
5۔ ان سے اعراض کیجیے اور اللہ پر توکل کیجیے اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : 81)
6۔ اللہ ہی کے لیے آسمان و زمین کی بادشاہت ہے اور اللہ کارساز کافی ہے۔ (النساء : 171)
7۔ اللہ پر توکل کیجیے، وہی کارساز کافی ہے۔ (الاحزاب : 3)
Ayah 33:40فہم القرآن
ربط کلام : متبنّٰی کے متعلقہ مسائل بیان کرنے اور نبی ﷺ کے فرض منصبی کا ذکر کرنے کے بعد اب مردوں سے نبی ﷺ کا تعلق اور آپ کی رفعت شان اور مقام کا بیان ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں تھیں۔ ان میں سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بطن سے آپ ﷺ کی چاربیٹیاں ہوئیں جن کے اسمائے گرامی زینب، رقیہ، امّ کلثوم، فاطمہ (رح) ہیں اور حضرت خدیجہ ؓ سے آپ ﷺ کے تین بیٹے ہوئے جن کے اسمائے گرامی قاسم، ابراہیم، طیب ہیں۔
آپ ﷺ کے تینوں بیٹے اس آیت کریمہ کے نازل ہونے سے پہلے فوت ہوچکے تھے ان کے بعد آپ کے ہاں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ محمد ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں آپ ” اللہ “ کے رسول اور خاتم المرسلین ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر بات اور کام کو اچھی طرح جانتا ہے۔ 1 اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ اس نے آپ ﷺ کے بیٹوں کو کیوں حیات نہیں رکھا۔ 2 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین ہیں جو بہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے مگر تم نبی ﷺ کی شوکت و عظمت کو پوری طرح نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے نبی کا کیا مقام ہے۔ 3 جب حضرت محمد ﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں تو زید کی بیوی آپ کی بہو کیسے بن گئی۔ 4 خاتم المرسلین ہونے کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ آپ ہر چیز کی حلّت اور حرمت واضح کریں۔
آپ ﷺ سے پہلے سلسلہ نبوت اس لیے جاری رکھا گیا کہ درج ذیل ضرورتوں میں سے کوئی ایک ضرورت باقی رہتی تھی۔ آپ کی تشریف آوری کے بعد اب کسی بات اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
اب نبی کی ضرورت کیوں نہیں ؟
1 پہلے نبی کو کلی طور پر جھٹلا دیا جائے تو اس کی تائید کے لیے دوسرے نبی کی ضرورت ہوتی ہے :
بے شک کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کو جھٹلا دیا تھا لیکن آپ ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے حضرات مکی دور سے لے کر اب تک رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ آپ ﷺ کی امت قیامت کے دن تمام امتوں سے زیادہ ہوگی۔
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے آدم ! وہ کہیں گے میں حاضر ہوں ! میں حاضر ہوں ! ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جہنمیوں کو الگ کرو آدم (علیہ السلام) پوچھیں گے جہنمی کتنے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے ہیں۔ اس وقت بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ نشہ میں ہوں گے لیکن حقیقت میں نشہ کی حالت نہ ہوگی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہوگا صحابہ ؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا ہزار میں سے ایک شخص ہم میں سے ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا خوش ہوجاؤ ! اس لیے کہ ایک شخص تم میں سے ہوگا اور ہزار یا جوج ماجوج سے ہوگا۔ پھر آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں چوتھائی تعداد تمہاری ہوگی ہم نے اللہ اکبر کہا پھر آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ جنتیوں میں تمہاری تعداد تیسرا حصہ ہوگی ہم نے اللہ اکبر کہا پھر آپ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں، کہ تم جنت والوں میں نصف ہو گے ہم نے اللہ اکبر کہا آپ نے فرمایا تمہارا تناسب لوگوں میں ایک سیاہ بال کی طرح ہے جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا سفید بال کی مانند جو سیاہ رنگ کے بیل پر ہو۔ “ [ رواہ البخاری : باب قصۃ یأجوج ومأجوج ]
2 پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شریعتیں نامکمل تھیں۔ آپ کا دین کامل اور اکمل ہے اس لیے آپ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے :
(اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) [ المائدۃ : 3]
” آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا “
3 پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی لائی ہوئی کتب مسخ ہوگئیں، اس لیے کتاب اور نبی کی ضرورت تھی لہٰذا آپ مبعوث کیے گئے۔
تب اللہ تعالیٰ نے ایک کے بعد دوسرا نبی مبعوث فرمایا۔ یہاں تو قرآن مجید اپنی زبر، زیر کے ساتھ محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے ارشادات اور ان کے بیان کرنے والے راویوں کے نام اور کوائف بھی محفوظ کر لئے گئے ہیں۔
(اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ) [ الحجر : 9]
” یقیناً ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ “
(وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) [ النحل : 44]
” اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت اتاری، تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ “
4 پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) مخصوص قوم اور زمانے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے لیکن آپ کو ﷺ قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول بنایا گیا ہے۔ اس لیے اب کسی نبی کی ضرورت نہیں :
(قُلْ یٰٓا أَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا)[ الاعراف : 158 ]
” فرما دیں اے لوگو ! بیشک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ “
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ 1۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے 2۔ میرے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ 3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ 4۔ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ 5۔ مجھے قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کا حق دیا جائے گا۔ “ [ رواہ احمد : مسند ابی ذر ]
مسائل
1۔ نبی ﷺ مردوں میں کسی کے باپ نہیں۔ 2۔ حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین ہیں۔
3۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔
تفسیر بالقرآن
آپ ﷺ کی عالمگیر نبوت کے چند دلائل :
1۔ اے رسول اعلان فرمائیں کہ ” اللہ “ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رسول منتخب فرمایا ہے۔ (الاعراف : 158)
2۔ رسول اللہ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (سباء : 28) 3۔ رسول اللہ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : 45)
4۔ رسول اللہ پوری دنیا کے لیے رحمت عالم ہیں۔ (الانبیاء : 107) 5۔ رسول اللہ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40)
6۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو نبوت اور حکمت عنایت فرمائی۔ ( الجمعہ : 2)
7۔ آپ ﷺ کی نبوت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : 164)
Ayahs 33:41–42فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے امّتِ محمدیہ کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ اس کو نبی کریم ﷺ جیسا عظیم الشّان، عدیم المرتبت رحمت عالم اور ختم المرسلین نبی عطا فرمایا جس پر امت کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر کا تقاضا ہے ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔
ذکر ایسی عبادت ہے جس کے بارے میں حکم ہوا ہے کہ اسے کثرت کے ساتھ کیا کرو۔ یہاں ذکر کے دو مخصوص اوقات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ کیونکہ صبح و شام سے ہی انسان کی زندگی بنتی ہے۔ ہر انسان ہر صبح اپنی زندگی کا آغاز کرتا ہے اور شام کو اس کی دن بھر کی سرگرمیوں کا اختتام ہوتا ہے اس لحاظ سے دونوں اوقات بڑے اہم ہیں۔ ان اوقات میں ” اللہ “ کے ذکر کی خاص اہمیت اور فضیلت ہے۔ نبی اکرم ﷺ صبح و شام خاص طور پر اذکار کیا کرتے تھے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں آپ کے ﷺ اذکار موجود ہیں جن کو یاد کرنا اور پڑھنا چاہیے یہاں صرف ذکر کی فضیلت کے بارے میں آپ کے تین ارشادات لکھے جاتے ہیں۔
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ ]
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
اللہ تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ وہ جہاں بھی میرا ذکر کرے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “
(عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الَّذِیْ ےَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِیْ لَا ےَذْکُرُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَےِّتِ )[ رواہ البخاری : باب فَضْلِ ذِکْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ]
” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کا ذکر کرنے والے کی مثال زندہ شخص کی ہے اور نہ ذکر کرنے والے کی مثال مردہ کی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ کا ذکربالخصوص صبح و شام کرنا لازم ہے۔
Ayahs 33:43–44فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کا ذکر لازم ہے اور اس کے بیشمار فوائد ہیں جن میں سے چھ کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول :
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ َ أَنَّ رَسُول اللَّہِ قَالَ إِنَّ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَلاَءِکَۃً فُضُلاً یَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّکْرِ یَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّکْرِ فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلاَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ حَتَّی یَبْلُغُوا الْعَرْشَ فَیَقُول اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ مِنْ أَیْنَ جِءْتُمْ فَیَقُولُونَ مِنْ عِنْدِ عَبِیدٍ لَکَ یَسْأَلُونَکَ الْجَنَّۃَ وَیَتَعَوَّذُونَ بِکَ مِنَ النَّارِ وَیَسْتَغْفِرُونَکَ فَیَقُولُ یَسْأَلُونِی جَنَّتِی ہَلْ رَأَوْہَا فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا وَیَتَعَوَّذُونَ مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ فَکَیْفَ لَوْ رَأَوْہَا فَإِنِّی قَدْ غَفَرْتُ لَہُمْ فَیَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّ فیہِمْ عَبْدَکَ الْخَطَّاءَ فُلاَناً مَرَّ بِہِمْ لِحَاجَۃٍ لَہُ فَجَلَسَ إِلَیْہِمْ فَقَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أُولَءِکَ الْجُلَسَاءُ لاَ یَشْقَی بِہِمْ جَلِیسُہُمْ ) [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّکْرِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے جو ذکر کی مجالس کے متلاشی رہتے ہیں جہاں ذکر ہو رہا ہو ملائکہ وہاں جمع ہوجاتے ہیں اور جب ان کا کسی ایسی مجلس کے پاس گذر ہوتا ہے تو فرشتے ایک دوسرے کے اوپر کھڑے ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں تم کہاں سے آئے ہو۔ حالانکہ اللہ کو علم ہے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔ فرشتے عرض کرتے ہیں۔ ” اللہ “ تیرے بندوں کے ہاں سے آئے ہیں، وہ تجھ سے تیری جنت کے طلب گار ہیں اور تیری جہنم سے پناہ مانگتے ہیں اور تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں وہ مجھ سے جنت مانگ رہے تھے کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے۔ اگر وہ جنت کو دیکھ لیں تو ان کی کیفیت کیا ہو ؟ اور وہ جہنم سے پناہ مانگ رہے ہیں اگر وہ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی حالت کیا ہو ؟ میں نے انہیں معاف کردیا ہے فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ان میں ایک فلاں گناہگار بھی ہے جو اپنی ضرورت کے تحت آیا اور وہاں بیٹھ گیا۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس مجلس میں بیٹھنے والے ایسے نیک بخت ہیں کہ ان کی وجہ سے اسے بھی رحمت سے محروم نہیں کیا جاتا۔ “
ملائکہ کی دعائیں :
جب کوئی شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے تو نہ صرف اس پر رب کریم کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے بلکہ اس دورانیہ میں ملائکہ اسکے لیے دعا گو رہتے ہیں۔
ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے اور ملائکہ اس کے لیے خیر و برکت کی دعائیں کرتے ہیں ذکر کرنے سے انسان شیطان کے تسلط سے نجات پاتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے ہر ظلمت سے نکال کر نوربصیرت اور نورشریعت سے ہمکنار کرتا ہے۔
” عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، شیطان انسان کے دل کے ساتھ چمٹا رہتا ہے جب آدمی اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے۔ جب انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : تعلیقاً ]
ذکر کا صرف یہ معنٰی نہیں کہ انسان زبان سے ” اللہ، اللہ “ کرتا رہے اور عمل کی دنیا میں جو چاہے کرتا پھرے۔ ایسے شخص کو دنیا میں ذکر کرنے کا ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا لیکن قیامت کے دن اسے کچھ نہیں ملے گا۔ ذکر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان شرک و بدعت سے اجتناب کرے اور اپنے آپ کو اپنے رب کے تابع کردے۔ ایسے شخص کو دنیا میں ذکر کے فوائد سے سر فراز کیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے لیے رب کریم نے اجر کریم تیار کر رکھا ہے۔
مسائل
اس آیت میں بیان ہونے والے ذکر کے چھ فوائد :
1۔ ذکر کرنے والے پر اللہ کا فضل نازل ہوتا ہے۔ 2۔ ذکر کرنے والے کے لیے ملائکہ دعائیں کرتے ہیں۔
3۔ ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ظلمت سے نکال کر نورہدایت نصیب کرتا ہے۔
4۔ موت کے وقت ملائکہ اسے سلام کرتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ذکر کرنے والے پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔
6۔ ذاکر کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِعظیم تیار کر رکھا ہے۔
Ayahs 33:45–48فہم القرآن
ربط کلام : نبی آخر الزمان ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد دلانے اور اس کی توحید کی شہادت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے۔
نبی معظم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا گیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کو ” اللہ “ کے حکم کے مطابق ” اللہ ” کی طرف بلائیں اور ” اللہ “ کی توحید کی دعوت اور شہادت دیں اور لوگوں کو ” اللہ “ کی یاد کی تلقین کریں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل کی خوشخبری سنائیں۔ جو اس دعوت کا انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور جو لوگ دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنیں وہ کافر ہوں یا منافق انہیں انکے حال پر چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مشن کو کامیاب فرمائے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔ یہاں نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کو سراج منیر قرار دیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت کا چمکتا ہوا سورج جس سے کفر و شرک کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور نور ہدایت سے فضا منور ہوگئی گویا کہ آپ نور ہدایت تھے نور مجسم نہ تھے۔ اس حقیقت کے باوجود کچھ علماء نے اپنے باطل عقیدہ کی بناء پر نبی اکرم ﷺ کو نورمجسم لکھا ہے حالانکہ نوع ذات کے اعتبار سے آپ ﷺ انسان تھے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں شامل ہیں جو شخص آپ کے پیکر خاکی کو نور مجسم کہتا ہے وہ کفر و شرک کی بات کرتا ہے کیونکہ قرآن مجید نے بار بار آپ ﷺ کو بشر کہا ہے۔
(قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) [ الکہف : 110]
” اے نبی فرمادیں میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے۔ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور عبادت میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ “
شاہد :
کچھ مفسرین نے اس جہالت کا مظاہرہ کیا ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے نبی اکرم ﷺ اس کے عمل پر گواہ ہوتے ہیں اور قیامت کے دن لوگوں کے ہر عمل پر شہادت دیں گے۔ حالانکہ عقل و نقل کے لحاظ سے یہ بات سو فیصد غلط ہے یہ ایسا عقیدہ اور بات ہے کہ جس کا کوئی صحابی ؓ بھی قائل نہ تھا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو توحید کی شہادت اور حق کی گواہی دینے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔
2۔ آپ ﷺ مومنوں کو خوشخبری دینے والے اور کفار اور منافقوں کو انتباہ کرنے والے تھے۔
3۔ آپ ﷺ نور مجسم نہیں بلکہ نورہدایت تھے۔
4۔ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔
5۔ کفار اور منافقوں کی مخالفت کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے فضل عظیم کی بشارت دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
نبی اکرم ﷺ کی عظمت و شان :
1۔ نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کافر ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (البقرۃ : 104)
2۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (الفتح : 8)
3۔ آپ ﷺ کا منصب لوگوں پر شہادت قائم کرنا ہے۔ (المزمل : 15)
4۔ آپ ﷺ اور دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (النساء : 41)
5۔ رسول کریم ﷺ شاہد اور مبشر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (الاحزاب : 45)
Ayah 33:49فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں۔ اب لوگوں پر لازم ہے کہ وہ کفار اور مشرکین کی بات ماننے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی بات مانیں جس ایک کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تم اپنی بیویوں کو چھوئے بغیر طلاق دے دو تو پھر بھی انہیں رخصت کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہترین سلوک کرو۔ گویا کہ گھریلو معاملات میں بھی نبی کریم ﷺ کا حکم ماننا چاہیے۔
ارشادہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو ! تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ اگر انہیں چھونے سے پہلے طلاق کی نوبت پیش آجائے تو تمہاری بیویوں پر عدّت گذارنے کی کوئی پابندی نہیں۔ طلاق کے بعد جب چاہیں آگے نکاح کرسکتی ہیں۔ البتہ خاوندوں پر لازم ہے کہ جب انہیں رخصت کریں تو بہتر سے بہتر طریقے سے رخصت کیا کریں۔ بہتر طریقے سے رخصت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رخصت کرتے وقت اپنی استعداد کے مطابق کچھ نہ کچھ انہیں ضرور دینا چاہیے تاکہ ان کی دلجوئی ہونے کے ساتھ جس اعتماد اور تعلق کی بناء پر یہ رشتہ قائم ہوا تھا اسے کم سے کم نقصان پہنچے۔
یہاں ” مَسَّ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد بیوی سے خلوت کرنا ہے۔ خاوند اپنی منکوحہ سے جماع کرلے تو طلاق دینے کی صورت میں پورے کا پورا حق مہرادا کرنا ہوگا اور اگر مباشرت یعنی جماع نہیں کیا تو آدھا حق مہر ادا کرنا ہوگا بشرطیکہ حق مہر مقرر ہوچکا ہو۔ یعنی واضح ہونا چاہیے کہ کتنا ادا کرنا ہے۔ جماع سے پہلے طلاق دی جائے تو حق مہر نہ مقرر ہونے کی صورت میں کچھ نہ کچھ دے کر بیوی کو رخصت کرنا چاہیے۔ اچھے طریقے سے رخصت کرنے کا یہ بھی معنٰی ہے کہ بیوی کی عیب جوئی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر مباشرت سے پہلے خاوند فوت ہوجائے تو عورت پر کوئی عدت نہ ہوگی۔
(عَنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلَ یُفْضِی إِلَی امْرَأَتِہِ وَتُفْضِی إِلَیْہِ ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّہَا )[ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ إِفْشَاءِ سِرِّ الْمَرْأَۃِ ]
” عبدالرحمن بن سعد ؓ سے روایت وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بد ترین وہ شخص ہوگا جو اپنی بیوی کی مخصوص باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ نکاح کے لیے مسلمان عورت کو ترجیح دینا چاہیے۔
2۔ جماع سے پہلے طلاق کی صورت میں عورت کے لیے عدّت نہیں۔ ایسی صورت میں رجوع نہیں ہوسکتا البتہ عقد ثانی ہوسکتا ہے۔
3۔ حق مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ معاف فرمانے اور رحم کرنے والا ہے :
1۔ اے نبی ! میرے بندوں کو بتاؤ کہ میں بخشنے اور رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب بھی دردناک ہے۔ (الحجر : 49 تا 50)
2۔ ” اللہ “ توبہ کرنے والوں کو اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے بیشک اللہ معاف کرتا اور رحم فرماتا ہے۔ (التوبۃ : 99)
3۔ ” اللہ “ توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (التوبۃ : 27)
4۔ جو سچے دل سے تائب ہوجائے ایمان کے ساتھ اعمال صالح کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ (الفرقان : 70)
5۔ گناہ گار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
6۔ جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تیرا رب بڑا غفور الرّحیم ہے۔ (النحل : 119)
7۔ ” اللہ “ جلد پکڑنے والا اور غفور الرّحیم ہے۔ (الانعام : 165)
8۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے کیونکہ وہ غفور الرّحیم ہے۔ (النور : 22)
Ayah 33:50فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مومنوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے ہوئے اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اسی طرح سرور دوعالم کے لیے بھی ضروری ہے کہ آپ بھی اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ تاہم آپ کو اپنی بیویوں کے بارے میں کچھ رعایت دی گئی ہے تاکہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں گھریلو حالات رکاوٹ نہ بن سکیں۔
1 مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے ازواجی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ جس میں ازواجی زندگی میں نبی ﷺ کے امتیازات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو حق مہر کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اس لیے پہلے وضاحت فرمادی کہ آپ ﷺ کے لیے وہ عورتیں بھی حلال ہیں جن کا آپ حق مہرادا کردیں اور آپ کے لیے مال غنیمت میں آنے والی لونڈیاں بھی حلال ہیں۔
حضرت زینب ؓ نبی اکرم ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں جن کو حضرت زید ؓ نے طلاق دی۔ نبی اکرم ﷺ نے وحی آنے پر ان کے ساتھ نکاح کیا لیکن رسومات کے پجاریوں نے اسے پراپیگنڈہ کا ذریعہ بنا کر آپ کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ حالانکہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت زینب ؓ کو اپنے حرم میں داخل فرمایا تھا جس کا ذکر اسی سورة کی آیت 37 میں ہوچکا ہے اب پھر ضروری سمجھا گیا کہ ایک دفعہ پھر وضاحت کردی جائے جس طرح دوسرے مردوں کے لیے یہ رشتے حلال ہیں اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے لیے بھی یہ رشتے حلال ہیں۔
چنانچہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ آپ کے لیے آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں حلال ہیں اور وہ مومن عورت بھی آپ کے لیے حلال ہے جو اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرتی ہے بشرطیکہ آپ اس سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں یہ آپ کے لیے خصوصی رعایت ہے کہ آپ حق مہر کے بغیر کسی مومنہ سے نکاح کرسکتے ہیں۔ البتہ کوئی مومن حق مہر مقرر کیے بغیر نکاح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں کیا چیز فرض قرار دی ہے۔ آپ ﷺ کو حق مہر سے اس لیے مستثنیٰ قراردیا گیا ہے تاکہ آپ کو کسی قسم کا مالی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق مہر کی رخصت کے باوجود آپ ﷺ نے اپنی تمام بیویوں کا حسب استطاعت حق مہر ادا فرمایا۔ آیت مبارکہ میں حلال رشتوں کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ﷺ پر یہ شرط عائد فرمائی گئی کہ بیشک یہ عورتیں آپ کے لیے حلال قرار دی گئی ہیں لیکن آپ ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کی ہے۔ بیشک انہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو یا آپ کے بعد۔
اس آیت میں یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ چار بیویوں کی پابندی صرف مومنوں کے لیے ہے نبی اکرم ﷺ کو اس تعداد سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ آپ ﷺ کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر چار سے زیادہ بیویوں کی ضرورت تھی۔ سبب یہ ہے کہ آپ کے ذمے جو مشن لگایا گیا تھا اس کا تقاضا تھا کہ آپ کے خاندانی تعلقات وسیع تر ہوں تاکہ دین کی دعوت تھوڑے عرصے میں زیادہ سے زیادہ پھیل سکے چناچہ یہی کچھ ہوا کہ آپ کے ازواجی رشتوں کی بنا پر عرب کے بڑے بڑے قبائل میں دین بڑی سرعت سے پھیل گیا۔
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ پر حق مہر کی پابندی نہ تھی۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ چار بیویوں کی پابندی سے مستثنیٰ تھے۔
3۔ اس فرمان کے بعد نبی ﷺ اس مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتے تھے جس نے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت نہ کی ہو۔ عام مسلمانوں کے لیے یہ پابندی نہ تھی۔
4۔ مخصوص حالات میں شریعت کی پابندیوں کے ساتھ لونڈی رکھنا جائز ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں بیویوں کے حقوق :
1۔ عورتوں کو ان کا حق مہرخوشی سے ادا کیا جائے۔ (النساء : 4) 2۔ بیویوں پر بےجا سختی نہ کی جائے۔ (النساء : 19)
3۔ بیویوں کو تکلیف نہ دی جائے۔ (الطلاق : 6) 4۔ حق زوجیت ادا کیا جائے۔ (النساء : 3)
5۔ حق مہر واپس نہیں لینا چاہیے۔ (النساء : 20) 6۔ بچے کی وجہ سے ماں کو تکلیف نہ دی جائے۔ (البقرۃ : 233)
7۔ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تم چار بیویوں کے درمیان عدل نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی یا ایک لونڈی ہی کافی ہے۔ ( النساء : 3)
8۔ اگر ایک سے زیادہ بیویاں نکاح میں ہوں تو سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے۔ (النساء : 129)
9۔ طلاق دینے کے بعد جب مدت پوری ہوجائے تو بیوی کو اچھے طریقے سے رخصت کیا جائے یا اچھے انداز سے رکھ لیا جائے۔ (البقرۃ : 231)
Ayahs 33:51–52فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو مزید اختیارات۔
نبوت کے فرائض کی انجام دہی کے لیے نبی معظم ﷺ کو حق مہر اور بعض ازواجی پابندیوں سے آزاد کردیا گیا تاکہ آپ ایک حد تک گھریلو ما حول سے آزاد ہو کر دعوت کا کام جاری رکھ سکیں۔ آپ کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ جس بیوی کو چاہیں اپنے سے الگ رکھیں جس کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں اور جس کو چاہیں الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلالیں۔ گویا کہ جس بیوی سے جیسا برتاؤ کرنا چاہیں کریں آپ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بفرض محال اگر کسی بیوی کے ساتھ کوئی کمی، بیشی ہوجاتی ہے تو وہ اسے محسوس نہ کرے۔ اس طرح ہر بیوی اپنے مقام پر مطمئن رہے گی۔ کہ یہ نبی کریم ﷺ کا مجھ پر احسان ہے کہ آپ نے مجھے اپنے جرم میں رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کی حالت سے واقف ہے اور سب کو جاننے کے باوجود حوصلے والا ہے۔
اس رعایت کا یہ بھی مقصد تھا کہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کی باہمی رقابت سے بےنیاز ہوجائیں۔ اس رعایت کے باوجود نبی کریم ﷺ نے ازراہ شفقت اپنی ازواج کے لیے باری مقرر کی اور اسکی پابندی فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ آخری بیماری میں مبتلا ہوئے تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب فرمائی کہ مجھے عائشہ ؓ کے گھر میں رہنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ تمام ازواج مطہرات نے خوشی سے اجازت دی۔ کیونکہ وہ آپ ﷺ کی خوشی کو اپنی خوشی سے مقدم جانتی تھیں اور یہ بات اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ آپ ﷺ کا ہمیں اپنے حرم میں شامل فرمانا ہم پر ایسا احسان ہے جس کا بدلہ چکاناہم میں سے کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہی وجہ ہے ایلا کے موقع پر جب آپ ﷺ نے ازواج مطہرات کو دو باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقعہ دیا تو تمام ازواج نے بیک زبان عرض کی کہ ہم دنیا کے مال و متاع کے مقابلے میں آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
(عَنْ أَنَس ؓ قَالَ آلَی رَسُول اللَّہ ﷺ مِنْ نِسَاءِہِ ، وَکَانَتِ انْفَکَّتْ رِجْلُہُ ، فَأَقَامَ فِی مَشْرُبَۃٍ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ آلَیْتَ شَہْرًافَقَالَ إِنَّ الشَّہْرَ یَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ )
[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِی ﷺ إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَأَفْطِرُوا ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا آپ کے پاؤں کو موچ آئی اور آپ نے بالاخانے میں انتیس راتیں بسرکیں پھر آپ نیچے تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کی کہ اے اللہ رسول ﷺ ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے ایلاء کیا تھا۔ آپ نے جواب دیا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ “
نبی معظم ﷺ نے اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے یا الگ ہونے کا کلّی اختیار دیا تو ازواج مطہر ات نے آپ ﷺ کی ذات اقدس کو ترجیح دی۔ کسی ایک بیوی نے بھی آپ ﷺ سے الگ ہونا گوارہ نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس محبت اور تعلق کو قبول نبی ﷺ کے حق میں قبول فرمایا اور نبی کریم ﷺ کو پابند کردیا کہ اے نبی ﷺ آپ نے اپنی بیویوں کے ایثار، اخلاص اور انپے ساتھ پرخلوص تعلق کو جانچ لیا ہے لہٰذا آپ کو اب اختیار نہیں کہ آپ کسی ایک بیوی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں بیشک وہ کتنی ہی حسین کیوں نہ ہو۔ البتہ لونڈیاں رکھنے کی آپ کو اجازت ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے۔
مسائل
1۔ نبی ﷺ کو اپنے بیویوں کے بارے میں کلّی اختیار حاصل تھا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ چیز پر نگران ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور ہر چیز پر نگران ہے :
1۔ جو بھی تم عمل کرتے ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (یونس : 61)
2۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو جاننے والا ہے۔ (یٰس : 79)
3۔ جو لوگ جہالت کی وجہ سے برائی کرتے ہیں، پھر جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 17)
4۔ اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو یقیناً اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 32)
5۔ جو کچھ تم اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا ہے۔ (النساء : 39)
6۔ قیامت کا، بارش کے نازل ہونے کا، اور جو کچھ رحموں میں ہے اور انسان کل کیا کمائے گا اور اسے کہاں موت آئے گی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ (لقمان : 34)
7۔ اللہ تعالیٰ بحروبر اور ہر گرنے والے پتے کو جانتا ہے۔ (الانعام : 59)
8۔ فرشتوں نے کہا تو پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھلایا ہے اور تو جاننے والا، حکمت والا ہے۔ (البقرۃ : 32)
Ayahs 33:53–54فہم القرآن
ربط کلام : ازواجی زندگی کے اصول بتلانے کے ساتھ مسلمانوں کو آداب معاشرت سمجھائے جاتے ہیں یہاں دورجاہلیت کی ایک اور رسم کے خاتمے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے کچھ مسلمان نبی کریم ﷺ کے گھر میں بلا اجازت داخل ہوجاتے اور بن بلائے مہمان بن جایا کرتے تھے۔ حیا کے پیش نظر آپ ﷺ انہیں کچھ نہ کہتے۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ اے صاحب ایمان لوگو ! نبی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو اور نہ ہی بن بلائے مہمان بننے کی کوشش کیا کرو۔ جب تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ خواہ مخواہ باتیں کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے گھر میں بیٹھے رہنے سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے۔ آپ حیا کی وجہ سے تمہیں اٹھنے کے لیے نہیں کہتے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ حق بات بتلانے میں حیا نہیں کرتا۔
جب نبی اکرم ﷺ کے اہل خانہ سے کوئی چیز لینا مقصود ہو تو ان سے پردہ میں رہ کر مانگا کرو۔ یہ تمہارے لیے نہایت پاکیزہ طریقہ ہے اور نبی اکرم ﷺ کے اہل خانہ کے لیے بھی بہتر ہے۔ اے مسلمانو ! ایسی ہر حرکت سے اجتناب کرو جس سے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ رسول معظم ﷺ کی بیویاں تمہارے لیے محترم ہیں جن کے ساتھ تمہارا کبھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ امت کے رشتے کا ذکر کرتے ہوئے اسی سورت کی آیت 6 میں ارشاد ہوا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیویاں تمہاری مائیں ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ماں کے ساتھ کسی صورت میں بھی بیٹا نکاح نہیں کرسکتا ایسا سوچنا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔
امّت کے لوگوں کو مزید انتباہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپائے رکھو۔ اللہ تعالیٰ ہر چیزکو جاننے والا ہے۔ اس آیت کریمہ میں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کو معاشرت کے عظیم اور بہترین آداب سے سکھلائے گئے ہیں۔ اگر مسلمان معاشرہ میں ان آداب کا خیال رکھا جائے تو بہت سی اخلاقی بیماریوں کا از خود قلع قمع ہوسکتا ہے۔ اس حکم کے مطابق غیر محرم عورتوں سے ہر سطح پر ہر قسم کا اختلاط ناجائز ہے۔ افسوس اس کے باوجود آج کے نام ونہاد دانشور سکولوں، کالجز، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں مرد وزن کا اختلاط جائز قرار دیتے ہیں حالانکہ اس کے مضمرات نے معاشرے کو اخلاقی طور پر تباہ کے رکھ دیا ہے۔
(عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ کَانَ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ أَبُو شُعَیْبٍ ، وَکَانَ لَہُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَقَالَ اصْنَعْ لِی طَعَامًا أَدْعُو رَسُول اللَّہ ﷺ خَامِسَ خَمْسَۃٍ ، فَدَعَا رَسُول اللَّہ ﷺ خَامِسَ خَمْسَۃٍ ، فَتَبِعَہُمْ رَجُلٌ فَقَال النَّبِی ﷺ إِنَّکَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَۃٍ وَہَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِءْتَ أَذِنْتَ لَہُ ، وَإِنْ شِءْتَ تَرَکْتَہُ قَالَ بَلْ أَذِنْتُ لَہُ )[ رواہ البخاری : باب الرَّجُلِ یَتَکَلَّفُ الطَّعَامَ لإِخْوَانِہِ ]
” ابو مسعود انصاری بیان کرتے ہیں ایک انصاری آدمی جس کا نام ابو شعیب تھا اس کا ایک غلام قصاب تھا۔ ابو شعیب نے اپنے غلام کو کہا میرے لیے کھانا تیار کرو تاکہ میں نبی اکرم ﷺ اور پانچ آدمیوں کو دعوت دوں۔ چناچہ ابو مسعود ؓ نے نبی اکرم ﷺ سمیت پانچ آدمیوں کو دعوت دی۔ نبی ﷺ کے ساتھ ایک اور آدمی چل پڑا۔ آپ ﷺ نے ابو شعیب کو فرمایا کہ آپ نے پانچ آدمیوں کو دعوت پر بلایا ہے لیکن یہ آدمی اپنے طور پر آگیا ہے اگر تو چاہتا ہے تو اسکو اجازت دے دے اور اگر نہیں چاہتا ہے تو اسے واپس کر دے۔ ابو شعیب نے کہا کہ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ﷺ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَہُ بِعَصَاۃٍ ، فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ ، لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ جُنَاحٌ )[ رواہ البخاری : باب مَنْ أَخَذَ حَقَّہُ أَوِ اقْتَصَّ دُون السُّلْطَانِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی بندہ اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا لاٹھی کے ساتھ اس کی آنکھ پھوڑ دے تو لاٹھی مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ “
مسائل
1۔ کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا گناہ ہے۔ 2۔ کسی کے ہاں بن بلائے مہمان بن بیٹھنا جائز نہیں۔
3۔ دعوت کھانے کے بعد خواہ مخواہ میزبان کے گھر بیٹھے رہنا آداب کے منافی ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ 5۔ غیر محرم عورتوں سے اختلاط حرام ہے۔
6۔ کسی کے اہل خانہ سے کوئی چیز لینا مطلوب ہو تو پردے میں رہ کر سوال کرنا چاہیے۔
7۔ امہات المومنین کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنا اور ان کے بارے میں بد کلامی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
8۔ ازواج مطہرات امت کی مائیں تھیں اس لیے ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں تھا۔
تفسیر بالقرآن
نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کا احترام فرض ہے :
1۔ آپ ﷺ کو دور سے آواز نہ دی جائے۔ (الحجرات : 4) 2۔ آپ ﷺ کی آواز سے اونچی آواز نہ کی جائے۔ (الحجرات : 2 )
3۔ آپ ﷺ سے آگے قدم نہ اٹھایا جائے۔ (الحجرات : 1) 4۔ آپ ﷺ کی مکمل اتباع کی جائے۔ (محمد : 33)
5۔ نبی معظم ﷺ کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہیں ہونا چاہیے۔ (الاحزاب : 53)
Ayah 33:55فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں پردے کا ذکر ہوا۔ اب ان رشتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
پہلی آیت میں ازواج مطہرات کے حوالے سے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پردے میں رہ کر ان سے سوال کیا کریں۔ بظاہر یہ حکم امّہات المومنین کے متعلق دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں امت کی ماؤں کو مخاطب کر کے پو ری امت کی عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ جس میں یہ وضاحت موجود نہ تھی کہ کون سے مردوں سے پردہ نہیں کرنا چاہیے۔ اب ان رشتوں کی وضاحت کی جاتی ہے جن سے پردہ نہیں کرنا۔ اگر خاوند، باپ اور بھائی کے علاوہ ہر کسی سے پردہ کرنا عورت کے لیے واجب ہوتا تو اس سے عورت ایک طرح کی قیدی بن کر رہ جاتی۔ اسلام نے جائز حد تک عورت کو آزادی عنایت فرمائی ہے۔ اس لیے یہ حکم نازل ہوا کہ عورتوں پر اپنے باپوں اپنے بیٹوں، اپنے بھائیوں، اپنے بھتیجوں، اپنے بھانجوں، اپنی عورتوں اور غلاموں سے کوئی پردہ نہیں۔ عورتوں کو ہر حال میں اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران ہے۔
” وَلَانِسَآءِہِنَّ “ کے بارے میں اہل علم کے تین مؤقف ہیں۔ 1 عورت کو عورت سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ 2 مسلمان عورت کو غیر رشتہ دار عورتوں سے پردہ کرنا چاہیے۔ 3 مسلمان عورتوں کو ان عورتوں سے بھی پردہ کرنا چاہیے جو معاشرے میں بےحیائی پھیلاتی ہیں تاکہ ان کے ساتھ نفرت کا اظہار کرنے کے ساتھ ان کے شر سے بچا جاسکے۔
(کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؓ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِینَ یَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ وَمَعَہُنَّ نِسَاءُ أَہْلِ الْکِتَابِ فَامْنَعْ ذَلِکَ ۔۔ )[ رواہ البیھقی : باب مَا جَاءَ فِی إِبْدَاءِ الْمُسْلِمَۃِ زینَتَہَا لِنِسَاءِہَا دُونَ الْکَافِرَاتِ قَال اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ (أَوْ نِسَاءِہِنَّ )]
” حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو ایک خط میں یہ بات لکھی کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ مسلمان عورتیں اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ حمام میں اکٹھی غسل کرتی ہیں لہٰذا میں اس سے منع کرتا ہوں۔ “
پردہ کی اہمیت :
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِی ﷺ قَالَ الْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ )[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی کَرَاہِیَۃِ الدُّخُولِ عَلَی الْمُغِیبَاتِ ]
” جناب عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت بےپردہ باہر نکلتی ہے تو شیطان صفت لوگ اس کو اپنی نظروں کا نشانہ بناتے ہیں۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ہے (1) ایک گروہ وہ جن کے ہاتھوں میں بیل کی دموں کی مانند کوڑے ہوں گے اور وہ ان کوڑوں کے ساتھ بلاجواز لوگوں کو ماریں گے۔ (2) اور دوسراگروہ ان عورتوں کا ہے جنہوں نے بظاہر لباس پہنا ہوا ہوگا۔ لیکن حقیقت میں ان کے بدن ننگے ہوں گے۔ وہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور مٹک مٹک کر چلنے والی ہوں گی۔ ان کے سر لمبی گردنوں والے اونٹوں کی کوہانوں کی طرح اٹھے ہوئے ہوں گے وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی۔ بلکہ جنت کی خوشبو کو بھی نہ پاسکیں گی۔ جبکہ جنت کی خوشبو اتنے اور اتنے فاصلے سے محسوس کی جائے گی۔ “ [ رواہ مسلم : باب النَّارُ یَدْخُلُہَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّۃُ یَدْخُلُہَا الضُّعَفَاءُ ]
مسائل
1۔ باپ، بیٹے، بھائی، بھتیجے، اور بھانجے سے پردہ نہیں۔
2۔ جس طرح نسبی رشتوں سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں اسی طرح رضاعی رشتوں سے بھی پردہ نہ کرنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے :” یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَایَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ “ (رواہ البخاری : باب مَا یَحِلُّ مِنَ الدُّخُولِ وَالنَّظَرِ ۔۔” رضاعت سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کے لحاظ سے حرام ہیں۔