33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsفہم القرآن

Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ اور اس کے ملائکہ نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی نبی پر درود وسلام بھیجو

فہم القرآن ربط کلام : آیت 54 میں نبی ﷺ کو ذات اور ازواج مطہرات کے حوالے سے ایذاء پہچانے سے منع کیا گیا ہے یہاں بین السطور یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ نبی کی ذات اقدس کو کسی اعتبار سے معمولی نہ سمجھو، آپ ﷺ کی ذات اس قدر اعلیٰ مقام کی حامل اور واجب الاحترام ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی آپ پر درود بھیجتے ہیں اس لیے نبی کو تکلیف پہنچانے سے اجتناب کرنے کے ساتھ تم اس کے لیے درود پڑھا کرو۔ سرورِ دو عالم ﷺ کے مخالفین آپ کو ہر وقت آپ کی اذّیت پہنچانے کے درپے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مراتب کو بلند کرنے اور آپ کے مخالفین کو رسوا کرنے کے لیے آپ کو ایسا اعزاز بخشا جو کسی نبی بھی کو عطا نہیں کیا گیا۔ وہ یہ کہ ربِّ کریم اور ملائکہ آپ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ یہی حکم مومنوں کو دیا گیا ہے کہ وہ بھی اللہ کے نبی ﷺ پر درود بھیجا کریں۔ یہ اعزاز آپ کو اس وقت عطا کیا گیا جب آپ کی عظمت اور دین کی سر بلندی دیکھ کر منافق اور یہود و نصاریٰ ہر قسم کی ہرزہ سرائی کرنے کے ساتھ آپ کے خلاف کئی قسم کی سازشیں کر رہے تھے۔ 1 اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺ پر درود پڑھنے کا یہ معنٰی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ذات اقدس پر لگاتار اپنی رحمتوں کا نزول فرما رہا ہے۔ 2 ملائکہ کے درود کا معنٰی یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کے حضور التجائیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس پر مسلسل اپنی رحمت فرما اور آپ کی دعوت کو کامیاب فرما۔ 3 مومنوں کے درود کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے دعائیں کرتے رہیں کہ بار الٰہا نبی کریم کی ذات اقدس پر ہر وقت اپنی رحمتوں کا نزول فرمانے کے ساتھ آپ کی دعوت کو ترقی عطا فرما۔ درود آپ ﷺ کے احسانات کا اعتراف، آپ کی قربت و محبت کا وسیلہ، غموں اور پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ، گناہوں کی معافی، بلندئ درجات اور روز محشر آپ کی سفارش کا موجب ہے مگر شر ط یہ ہے کہ درود کے الفاظ وہ ہونے چاہییں جو آپ ﷺ نے اپنی ذات اقدس کے لیے پسند فرمائے ہیں۔ جامع اور بہترین درود التحیات میں پڑھا جانے والا درود ابراہیم ہے جس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ ایسا درود جس میں الفاظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہو وہ درود کہلوانے کے حقدار نہیں ہوسکتا۔ آج کل درود ہزاری ‘ لکھی اور بیشمار مصنوعی درود تیار کیے گئے ہیں جو نبی محترم ﷺ کی شان والاصفات کے شایان شان نہیں اور من گھڑت ہیں ان سے پرہیز لازم ہے۔ درود پڑھو ! ضرور پڑھو ! مگر مسنون پڑھو آپ ﷺ کے شرف و کمال کی انتہا ہے کہ خالق کائنات نے کسی کام کا اس نسبت کے ساتھ حکم نہیں دیا کہ یہ کام میری ذات عظیم بھی کر رہی ہے، لہٰذا مسلمانوں کو بھی کرنا چاہیے۔ یہ آپ ﷺ کی شان وصفات ہے کہ درود پاک کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس عمل کا آغاز اپنی ذات سے فرمایا ہے۔ درود پڑھنے کی فضیلت اور نہ پڑھنے والے کی مذمت : (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ مَنْ صَلَّی عَلیَّ وَاْحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَےْہِ عَشْرًا) [ مسلم : باب الصلوۃ علی النبی ] ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مجھ پر ایک مر تبہ دردوبھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ “ (عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الْبَخِیلُ الَّذِی مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ )[ باب قَوْلِ رَسُول اللَّہِ ﷺ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ] ” حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؓ نے فرمایا وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا نام لیا جائے لیکن وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔ “ صلوٰۃ کا معنی رحمت، دعا اور تعریف و توصیف کرنا ہے اور سلام کا معنی سلامتی ہے مفہوم یہ ہوا کہ ہمیشہ آپ ﷺ کا نام اور کام سلامت رہے پھر سلام اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں سے ایک نام ہے جس کا مفہوم یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی خیرو عافیت اور سلامتی کا اہتمام قیامت تک کردیا گیا ہے۔ درود پاک سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کے مخالف آپ کے کام اور نام کو نیچا نہیں دکھا سکیں گے۔ کیونکہ آپ کا تذکرہ آسمانوں سے اوپر عرش معلی پر خالق کائنات فرما رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ ﷺ دنیا اور آخرت میں عزت و عظمت کی ان بلندیوں پر فائز ہوں گے جو کائنات میں کسی کے نصیب اور حصہ میں نہیں آسکتیں۔ (أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَک وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ أَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَ کَ ) [ الانشراح : 1 تا 4] ” اے نبی ﷺ ! کیا ہم نے تیرا سینہ آپ کے لیے کھول نہیں دیا ؟ اور آپ سے وہ بھاری بو جھ نہیں اتاردیا جو آپ کی کمر تو ڑے جا رہا تھا اور آپ کی خاطر آپ کا ذکر کا شہرہ بلند نہیں کردیا۔ “ (وَالضُّحٰی۔ وَاللَّےْلِ إِذَا سَجٰی۔ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔ وَللَاْٰخِرَۃُ خَےْرٌلَّکَ مِنَ الْأُوْلٰی۔ وَلَسَوْفَ ےُعْطِےْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی۔ )[ والضحیٰ : 1 تا 5] ” قسم ہے روز روشن اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے۔ اے نبی ﷺ ! تمہارے رب نے تم کو ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا ہے یقیناً آپ کے لیے آنے والا وقت پہلے وقت سے بہتر ہے اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ خو ش ہوجائیں گے۔ “
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذّیت دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے، اور ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بلاوجہ تکلیف دیتے ہیں انہوں نے بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا وبال اپنے آپ پر لیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ایک طرف اپنے محبوب پیغمبر ﷺ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور دوسری جانب ان لوگوں پر پھٹکار کرتا ہے جو نبی اکرم ﷺ کی گستاخیاں کرتے ہیں۔ اس فرمان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کبریاء کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ” اللہ “ کو تکلیف دیتے ہیں ” اللہ “ ان پر لعنت پھٹکار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ” فِیْ نَفْسِہٖ “ کوئی چیز تکلیف نہیں دے سکتی۔ بالفرض کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی باغی اور سرکش ہوجائے تو رائی کے دانے سے ہزاروں گنا کم بھی اللہ تعالیٰ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ وہ کا ئنات کی خیر وشر سے کامل اور اکمل طور پر بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچانے سے مراد اس کے رسول اور مومن بندوں اور بندیوں کو تکلیف پہنچانا ہے۔ گستاخوں کی گستاخی اور بد فطرت لوگوں کی بد فطرتی کو واضح اور ان کے جرم کی سنگینی بتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اذّیت کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے تاکہ جرم کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے گستاخ لوگ نبی ﷺ کی گستاخی کرنے سے باز آجائیں۔ جہاں تک نبی ﷺ کو تکلیف پہنچانے کا تعلق ہے کفار، مشرکین، منافق اور یہود و نصارٰی نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود نبی ﷺ پورے حوصلے کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہے تآنکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں وہ کامیابی اور شہرت دوام عنایت فرمائی جو آپ ﷺ سے پہلے اور آپ کے بعد قیامت تک کسی کو حاصل نہ ہوگی۔ جس طرح دین اسلام کے مخالفوں نے نبی ﷺ کو اذیتیں پہنچائیں اسی طرح ہی انہوں نے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کو ہر قسم کی تکالیف دیں۔ حالانکہ صحابہ اور صحابیات کا کوئی گناہ نہیں تھا جس کی بناء پر دشمن انہیں تکلیف دیتے۔ یہاں تک کہ حضرت عائشہ طاہرہ صدیقہ ؓ کے دامن پاک پر دھبہ لگانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کے دامن کو پاک صاف رکھا۔ جن لوگوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگایا اور نبی اور صحابہ کرام ؓ اور مومن خواتین و حضرات کو اذیت پہنچائی۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں ان پر لعنت برساتا ہے اور آخرت میں انہیں ذلیل کردینے والا عذاب دے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إنَّّ اللّٰہَ قَالَ مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْب) [ رواہ البخاری : باب التواضع ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی۔ میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُْوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَاوَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الوصایا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ گناہ کون کون سے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی جان کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن، مومن، بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے۔ 2۔ جو لوگ پاک دامن مومن خواتین و حضرات پر تہمت لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کردینے والا عذاب دے گا۔
Ayahs 33:59–62

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے فرماؤ کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں، یہ بہت ہی مناسب ہے تاکہ وہ نہ پہچانی جائیں اور نہ ستائی جائیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربانی فرمانے والا ہے

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور جو مدینہ میں سنسنی خیز افواہیں پھیلاتے ہیں، اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھائیں گے پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ مشکل سے رہ سکیں گے

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کیے جائیں گے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کا طریقہ ہے پہلے سے ایسے لوگوں کے معاملے میں چلا آرہا ہے اور تو اللہ کے طریقہ میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : مومن عورتوں کو اوباش لوگوں کی اذّیت سے بچانے کے لیے پردے کا حکم اور اس کا طریقہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ کے مشرکین اللہ کے رسول ﷺ کے انتہا درجہ کے مخالف تھے۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی لیکن اس کے باوجود وہ خاندانی روایات کا خیال رکھتے ہوئے کسی حد تک اخلاقی اقدار کا احترام کرتے تھے۔ یہ اخلاقی پاسداری کا نتیجہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر انہوں نے رات بھر آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیے رکھا لیکن دیواریں پھلانگ کر آپ کے گھر داخل نہ ہوئے کہ اس طرح خواتین خانہ کی بےحرمتی ہوگی اور عرب میں ہماری بدنامی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں مدینہ کے یہود اور منافقین کی اخلاقی گراوٹ کا یہ حال تھا کہ انہیں جونہی موقعہ ملتاوہ مسلمان عورتوں کو پریشان کرنے کی کوشش کرتے۔ اس صورت حال کے پیش نظر اور مسلمان خواتین کی ناموس کو بچانے کے لیے ہمیشہ کے لیے یہ قانون جاری ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ ! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومن خواتین کو حکم دیں کہ جب وہ گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں پر چادریں لٹکا کر گھونگھٹ نکال لیا کریں۔ اس طرح وہ عام عورتوں سے ممتاز ہوں گی اور اوباش آدمی ان پر دست درازی کرنے سے گھبرائے گا۔ اس سے پہلے پردہ کے بارے میں جو کوتاہی سرزد ہوگئی اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے گا کیونکہ وہ انتہائی شفقت فرمانیوالا ہے۔ اس کے باوجود منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں شرارت اور بےحیائی کا روگ ہے اگر وہ تہمت طرازی اور بےحیائی پھیلاتے ہیں تو ہم مسلمانوں کو ان پر مسلط کردیں گے پھر وہ تھوڑی مدت ہی مدینہ میں ٹھہر سکیں گے۔ وہ جہاں بھی ہوں گے ان پر پھٹکار ہوگی اور جہاں پائے جائیں گے قتل کردیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے پہلے مجرموں کے ساتھ یہی سلوک اور قانون تھا۔ اے نبی ﷺ آپ ” اللہ “ کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ پردے کے بارے میں اس سورة کی آیت 53 میں اور سورة نور کی کی آیت 31 میں تفصیلی احکام گزر چکے ہیں۔ یہاں صرف یہ بات عرض کی جائے گی کہ قرآن مجید نے پردہ کے لیے جلابیب کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی اہل علم نے گھونگھٹ کیا ہے۔ جو لوگ چہرے کے پردے کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ کیونکہ انسان کا چہرہ ہی اس کی پہچان، اس کے حسن و جمال اور جذبات کا ترجمان ہوتا ہے۔ اگر کسی عورت کا چہرہ ناپسند ہو تو کوئی آدمی اس عورت کی طرف راغب نہیں ہوتا۔ اس لیے عورت کے لیے چہرے کا پردہ کرنا فرض ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا دستور تھا کہ سفر کے دوران جب کوچ کرتے تو ایک آدمی کو پیچھے چھوڑتے تاکہ قافلے کی گری پڑی چیز کو اٹھائے اور اس کے مالک تک پہنچائے۔ اس آیت کا یہی مفہوم امہات المومنین سمجھتی تھیں۔ حضرت عائشہ ؓ اپنا واقعہ بیان فرماتی ہیں کہ غزوہ تبوک سے واپسی پر ” صفوان بن معطل ؓ لشکر کے پیچھے تھے۔ صبح کے وقت وہ میری ٹھکانہ پر پہنچ گئے انہوں نے مجھے سوئے ہوئے دیکھا تو پہچان لیا کیونکہ انہوں نے پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ صفوان ؓ نے مجھے دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔ میں نے اٹھ کر فوراً اپنا چہرہ چادر کے ساتھ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم ! میں نے افسوس کے کلمات کے علاوہ ان سے کوئی بات نہیں سنی۔ “ [ رواہ البخاری : باب حدیث الافک ] حضرت عائشہ ؓ کے عمل سے ثابت ہوا کہ چہرے کا پردہ لازم ہے۔ اگر عورت نے پوری سنجیدگی کے ساتھ شرعی پردہ کیا ہو اور اس کی چال ڈھال میں شرافت اور متانت ہو تو اوباش آدمی اس کی طرف بڑھنے سے گھبراتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پردہ میں عورت کے لیے ایک رعب اور وقار رکھا ہے۔ جو لوگ باحیا اور پردہ نشین عورتوں کے بارے میں تہمت درازی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر پھٹکار کرتا ہے یاد رہے کہ مسلمان معاشرے میں اخلاقی قدریں اتنی بلند ہونی چاہیے کہ اوباش آدمی جہاں جائے اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اوباش لوگوں کو گرفتار کرے اور انہیں قرار واقعی سزا دے ہجرت کے بعد اور مدینہ کے ابتدائی دور میں کچھ اوباش بازار میں چلتے وقت مسلمان عورتوں کو تنگ کرتے اس لیے نبی ﷺ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہ ﷺ قَالَ لاَ تَبْدَءُ وا الْیَہُودَ وَلا النَّصَارَی بالسَّلاَمِ فَإِذَا لَقِیتُمْ أَحَدَہُمْ فِی طَرِیقٍ فَاضْطَرُّوہُ إِلَی أَضْیَقِہِ ) [ رواہ الترمذی : باب النَّہْیِ عَنِ ابْتِدَاء۔۔] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہودیوں اور عسائیوں کو سلام میں پہل نہ کرو ! جب ان میں سے کوئی راستے میں ملے تو اس کو تنگ راستے کی طرف مجبور کردو ! “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ کی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ مسلمان عورتوں کو بھی پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ 2۔ پردہ مومن عورتوں کی پہچان اور شان ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقران اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور معاف کرنے والا ہے : 1۔ میرے بندوں کو میری طرف سے خبر کردو کہ میں بخشنے والا، رحم کرنے والا ہوں۔ (الحجر : 49) 2۔ تیرا پروردگار بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الکہف : 58) 3۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : 218) 4۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : 109)
Ayahs 33:63–65

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی ؟ فرمائیں اسے تو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ تمہیں کیا خبر شاید کہ وہ قریب ہی آچکی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

یقینی بات ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ کسی کو حامی اور مددگار نہیں پائیں گے

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں کے دلوں میں منافقت اور بےحیائی کی بیماری ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت پر بھی یقین نہیں رکھتے۔ اگر ان کا قیامت پر یقین ہو تو وہ بےحیائی اور منافقت سے باز آجائیں۔ اگر منافقین کا قیامت پر سچا ایمان ہو تو وہ ایسی حرکات سے اجتناب کریں۔ ان کا قیامت پر یقین نہیں ہے اس لیے یہ لوگ معاشرے میں بےحیائی پھیلاتے ہیں رسول معظم ﷺ سے بار بار سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی۔ اس پر آپ کو حکم ہوا کہ دلائل کے تکرار کی بجائے آپ اس موقعہ پر بس اتنا فرمائیں کہ قیامت کے برپا ہونے کا دن صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ انہیں یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ تمہیں کیا خبر ! کہ قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ جس طرح منافقوں اور بےحیاؤں پر دنیا میں اللہ کی لعنت برستی ہے اسی طرح ہی ان پر قیامت کے دن پھٹکار ہوگی اور ان کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں نہ ان کے دوست کام آئیں گے اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کرنے والا ہوگا۔ قیامت قریب آچکی ہے یہ زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی : (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْہُ وَ ھُمْ یَلْعَبُوْنَ ) [ الانبیاء : 1، 2] ” لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو نصیحت آتی ہے اس کو مشکل سے سنتے ہیں اور کھیل کود میں پڑے رہتے ہیں۔ “ ” آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوگی ؟ فرمادیں اس کا علم میرے رب کے پاس ہے اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا وہ آسمانوں اور زمین پر بھاری ہوگئی ہے اور تم پر اچانک آئے گی۔ “ (الاعراف : 187) جہنم کی آگ : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “ مسائل 1۔ منافقین کو قیامت کے قائم ہونے پر یقین نہیں آتا۔ 2۔ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ 3۔ قیامت کے منکروں پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔ 4۔ منکرین قیامت کے لیے جہنم کی آگ بھڑکائی جا چکی ہے۔ 5۔ جہنم میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے برپا ہونے کے دلائل : 1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ آج کس کی بادشاہی ہے ؟۔ (المومن : 16) 2۔ قیامت کے دن اللہ ہی کی بادشاہی ہوگی۔ (الفرقان : 26) 3۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ لوٹائے گا تاکہ نیک وبد کو جزا وسزا مل سکے۔ ( یونس : 4) 4۔ اللہ تعالیٰ کا قیامت قائم کرنے کا وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (النحل : 38) 5۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت ہی سخت ہوگا۔ (الحج : 1) 6۔ قیامت کے دن اللہ ہی فیصلے صادر فرمائے گا۔ (الحج : 56) 7۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : 19)
Ayahs 33:66–68

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

وہ آہ زاریاں کریں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کردیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب ان کو دوہرا عذاب دو اور ان پر سخت لعنت کرو

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی جہنم میں حالت اور فریادیں۔ جہنمیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا جہنمی سانس لینے کی غرض سے جہنم کی آگ سے منہ نکال کر آہ و زاریاں کرتے ہوئے کہیں گے ہائے کاش ! ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے سرداروں اور بڑوں کی پیروی کی اور گمراہ ہوئے۔ اے ہمارے رب ہماری درخواست ہے کہ ہمارے سیاسی اور مذہبی پیشواؤں کو دوگنا عذاب کیجیے اور ان پر بڑی سے بڑی پھٹکار کیجئے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کے مقابلے میں فرمائے گا کہ تم سب کو دوگنا عذاب ہے لیکن تمہیں معلوم نہیں۔ ( الاحزاب : 38) فہم القرآن جلد دوم سورة الاعراف کی آیت 38 میں وضاحت موجود ہے کہ انہیں دوگنا عذاب کیوں دیا جائے گا کیونکہ یہ لوگ خود بھی گمراہ تھے اور اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کی گمراہی کا بھی سبب بنے تھے اس لیے حکم ہوگا کہ سب کے لیے دوگنا عذاب ہے۔ اور تم سب کے سب جہنم میں جلتے رہو گے۔ آج تمہاری کوئی بھی مدد نہیں کرسکے گا یہاں تک کہ شیطان بھی انہیں کہہ دے گا کہ آج میں تمہارا کچھ نہیں کرسکتا۔ ( ابراہیم : 22) (عَنْ بِلَالٍ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ أَنَّہُ مَنْ أَحْیَا سُنَّۃً مِنْ سُنَّتِی قَدْ أُمِیتَتْ بَعْدِی فَإِنَّ لَہُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْءًا وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَۃَ ضَلاَلَۃٍ لاَ یَرْضَاہَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ کَانَ عَلَیْہِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِہَا لاَ یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أَوْزَار النَّاسِ شَیْءًا )[ رَوَاہٗ التِّرْمَذِیُّ : باَبُ مَا جَاءَ فِی الأَخْذِ بالسُّنَّۃِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ ] ” حضرت بلال بن حارث مزنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری سنت کو اس کے مٹ جانے کے بعدجاری کیا اس کو اس نیکی کا اجر بھی اور بعد میں عمل کرنے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا لیکن ان کے اجر میں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ جس نے ایسا طریقہ رائج کیا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں۔ اس کو اس کا گناہ ہوگا اور بعد میں اس کا ارتکاب کرنے والوں کا گناہ بھی اسے ملے گا مگر ان کے گناہوں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ جہنمی جہنم میں آہ وزاریاں کرتے ہوئے اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔ 2۔ جہنمی اپنے بڑوں پر پھٹکار بھیجیں گے۔ 3۔ گناہ کرنے والوں کو اپنے اور دوسروں کے گناہوں کی بھی سزا ملے گی۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کا ایک دوسرے پر پھٹکار کرنا : 1۔ اس دن اللہ تعالیٰ انہیں جمع کرے گا اور وہ خیال کریں گے گویا کہ وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی ہی ٹھہرے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو پہچان لیں گے۔ (یونس : 45) 2۔ جب سارے جہنم میں جمع ہوجائیں گے تو پچھلے پہلوں کے بارے میں کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ (الاعراف : 38) 3۔ تم پر اللہ کی مار تمہاری وجہ سے اس مصیبت کا ہمیں سامنا کرنا پڑا ہے۔ (ص : 60) 4۔ اے کاش آپ ظالموں کو دیکھتے جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کی بات کا جواب دیں گے۔ (سبا : 31) 5۔ جب وہ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور بڑوں کو کہیں گے کہ یقیناً ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹاسکتے ہو ؟ “ (المومن : 47)
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذّیت دی تھی۔ اللہ نے ان کی کہی ہوئی باتوں سے موسیٰ کی برأت فرمائی اور موسیٰ اللہ کے بڑے نزدیک بڑے باعزت تھے

فہم القرآن ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت 53 سے ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ اے مسلمانو ! نبی اکرم ﷺ کے ہاں بن بلائے مہمان نہ بنا کرو اس طرح مہمان بننے سے نبی اکرم ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔ اب اس خطاب کا اختتام بھی مومنوں کو آداب سکھلاتے ہوئے کیا جارہا ہے ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو ! کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں جیسا کردار اختیار نہ کرنا۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذّیت پہنچائی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کرم فرمایا اسے ان کی یا وہ گوئی سے بچا لیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بڑا وجیہ پیدا فرمایا تھا وجیہ کا معنٰی ہے جمال اور جلال رکھنے والا اور بڑی عزت کا مالک۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ کَانَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ وَ کَانَ مُوْسٰی یَغْتَسِلُ وَحْدَہٗ فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَایَمْنَعُ مُوْسٰی أَنْ یَّغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّہٗ آدَرُ فَذَھَبَ مَرَّۃً یَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَہٗ عَلٰی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہٖ فَخَرَجَ مُوْسٰی فِيْ إِثْرِہٖ یَقُوْلُ ثَوْبِيْ یَاحَجَرُ حَتّٰی نَظَرَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالُوْا وَاللّٰہِ مَابِمُوْسٰی مِنْ بَأْسٍ وَأَخَذَ ثَوْبَہٗ فَطَفِقَ بالْحَجَرِ ضَرْبًا) [ رواہ البخاری : کتاب الغسل، باب من اغتسل عریاناوحدہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ ننگے نہایا کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھا کرتے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے ہی غسل کرتے تھے۔ یہودیوں نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) اس وجہ سے غسل نہیں کرتے کہ ان کے خصیتین میں بیماری ہے۔ ایک مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کررہے تھے تو پتھر کپڑے لے کر چل نکلا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ اے پتھر ! میرے کپڑے دے دے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ حالت میں دیکھ کر کہا : اللہ کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی تکلیف نہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے پکڑ کر پتھر کو مارنا شروع کردیا۔ “ مسلمانوں کو حکم : (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آَمَنُوا لَا تَقُولُوا راعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَلِیمٌ)[ البقرۃ : 104] ” اے ایمان والو ! تم ” رَاعِنَا “ نہ کہو بلکہ ” اُنْظُرْنَا “ کہو اور سنو ! کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ “ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ ) [ رواہ الطبرانی فی الصغیر صفحہ 236 جلد 1] ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں۔ “ (تفصیل جاننے کے لیے البقرۃ آیت 104 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو لوگوں کی ایذا سے محفوظ فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برأت کا اہتمام کیا۔ 3۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہی صاحب جمال اور کمال پیغمبر تھے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مرتبہ ومقام کی ایک جھلک : 1۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النّساء : 125) 3۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : 35) 4۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں خلیفہ بنایا۔ (ص : 26) 4۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص : 20) 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ ( یو سف : 83) 6۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : 31) 7۔ ادریس (علیہ السلام) کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : 57) 8۔ نبی ﷺ رحمۃ العالمین ہیں۔ (الانبیاء : 107) 9۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ : 12 تا 14) 10۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (لنّساء : 171)
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو اور بات ٹھیک کیا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تمہارے اعمال درست کرے گا اور تمہاری غلطیوں سے درگزر فرمائے گا، جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بڑی کامیابی حاصل کی

فہم القرآن ربط کلام : جاری خطاب کی ابتدا میں مومنوں کو ایک دوسرے کو اذّیت دینے سے منع کیا گیا ہے۔ یہاں اسی فرمان کا تتّمہ ہورہا ہے۔ اے مومنو ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور ایک دوسرے سے ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کیا کرو۔ اگر تم صاف اور سیدھی بات کا طریقہ اپناؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے کردار کی اصلاح فرمائے گا۔ جس کے بدلے تمہارے گناہ معاف کیے جائیں گے۔ تمہارے رب کی طرف سے یہ کھلی اور عام دعوت ہے کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی پائے گا۔ یہ آیات ان آیات میں شامل ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ خطبہ نکاح میں پڑھا کرتے تھے۔ ان میں تین ہدایات دی گئی ہیں۔ 1 انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ 2 ہمیشہ صاف اور سیدھی بات کرنی چاہیے۔ 3 ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنے کا حکم اور اس کے فائدے : 1۔ (النساء : 77۔ یٰسین : 11۔ آل عمران : 175۔ البقرہ : 189۔ الاحزاب : 70۔ المائدۃ : 100۔ الحجرات : 10۔ النساء : 1)
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اس سے ڈر گئے، اور اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

اس کا نتیجہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے۔ اللہ درگزر کرنے والا اور مہربانی فرمانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کی وہ کامیابی پائے گا اور وہی امانت کا حق ادا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے بارامانت کو آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کیا۔ لیکن انہوں نے اس بوجھ کو اٹھانے سے معذرت کی۔ کیونکہ وہ اس امانت کی ذمہ داری سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بیشک انسان بڑا ظالم اور جاہل ہے۔ اہل علم کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ” اَلْاَمَانَۃَ “ سے مراد خلافت کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہ ایسا اختیار اور ذمہ داری ہے جس کو اٹھانے سے آسمانوں نے اپنی وسعت وبلندی، زمین نے اپنی جسامت اور کشادگی، پہاڑوں نے اپنی بلندیوں اور مضبوطی کے باوجودعرض کی کہ بارالٰہا ہم یہ اختیار لینے سے آپ کے حضور معذرت کرتے ہیں۔ ہم تو صرف آپ کی سمع و اطاعت کرتے رہیں گے۔ جب یہ امانت انسان کے سامنے پیش کی گئی تو اس نے کمزور ہونے کے باوجود اسے اٹھا لیا جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں اپنی حد سے آگے بڑھنا اور بلا سوچے سمجھے کوئی کام کرگزرنا اور اس میں منصب کے حصول کا شوق بھی پایا جاتا ہے۔ جو جہالت اور ظلم کی ایک قسم ہے۔ اسی سبب اپنے آپ اور دوسروں پر انسان ظلم اور جہالت کا ارتکاب کرتا ہے۔ جب کسی کو کچھ اختیار ملتے ہیں تو وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کر تاکہ میں اس منصب کا حق ادا کرسکوں گا یا نہیں۔ انسان منصب، شہرت، مفادات اور اختیارات کے شوق میں ذمہ داری پر ذمہ داری اٹھاتا جاتا ہے۔ ایک طرف اس کا حق ادا نہ کر کے اپنے آپ پر ظلم کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف اپنے اقتدار اور اختیار سے تجاوز کر کے دوسروں پر ظلم ڈھاتا ہے اور اپنے رب کا باغی بن جاتا ہے یہ انسان کی بہت بڑی جہالت اور ظلم ہے۔ جن لوگوں نے اپنے رب کے عطا کردہ اختیارات سے تجاوز یا جان بوجھ کر تساہل کیا اور جن لوگوں نے منافقت کی یا اپنے رب کی ذات اور اسکی صفات میں کسی کو شریک ٹھہرایا وہ مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ انہیں سزا دے گا۔ جنہوں نے خدائی اختیارات کو امانت و دیانت اور پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ وہ نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں دیتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارتے ہوئے فرمایا ‘ اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو بلا شبہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا ‘ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حق کو سوچ سمجھ کر استعمال کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ “ ” حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے قبیلے کے دو آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دونوں میں سے ایک نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے عہدہ دیجیے اور دوسرے نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا آپ ﷺ نے فرمایا : یقیناً ہم ایسے شخص کو عہدہ نہیں دیتے جو عہدہ طلب کرے اور نہ ہی ایسے شخص کو جو عہدے کا حریص ہو۔ “ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور وہ اپنی ذمہ داری کا جواب دہ ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ ] مسائل 1۔ اَلْاَمَانَۃُ سے مراد خلافت کی ذمہ داری ہے۔ 2۔ انسان اختیارات کے بارے میں بڑا ظالم اور جاہل واقع ہوا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی فطرتی کمزوریاں : 1۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (النساء : 28) 2۔ انسان جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : 11) 3۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔ (الانبیاء : 37) 4۔ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل : 100) 5۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : 6) 6۔ بیشک انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ (ا برا ہیم : 34)