Ayah 34:1فہم القرآن
الاحزاب کے آخر میں فرمایا کہ منافقین اور مشرکین کو ان کے کیے کی ٹھیک ٹھیک سزا دینا اور ایمانداروں کی کمزوریوں کو معاف کرتے ہوئے ان پر اپنا کرم فرمانا یہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی کا نتیجہ ہے۔ سورة سبا کا آغاز اس ارشاد سے ہو رہا ہے کہ اس پر مومنوں کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
عربی زبان میں ” ال “ کا لفظ کئی معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں استغراق بھی شامل ہے۔ استغراق کا معنٰی ہے جس میں ہر چیز کا احاطہ کرلیا جائے۔ گویا کہ ” اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ “ سے مراد ہے کہ ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ تعریف با لواسطہ ہو یا بلا واسطہ۔ مفہوم یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص پھول کے حسن و جمال کی تعریف کرتا ہے تو دراصل یہ اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے کیونکہ پھول کو حسن و جمال دینے والا صرف ” اللہ “ ہے۔ اس طرح جو خوبی اور صفت مخلوق میں پائی جاتی ہے در حقیقت وہ اللہ کی ہی عطا کردہ ہے۔ اس لیے اللہ کی ذات کو کوئی مانے یا نہ مانے، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر نہ صرف اللہ تعالیٰ کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کی تعریف بھی کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ شعوری طور پر اپنے رب کو مان کر اس کی تعریف کرنے والا اجر پائے گا۔ اور جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کی محض عادتاً تعریف کرتا ہے وہ اجر سے محروم ہوگا۔
حمد کے لفظ میں شکر اور تعریف دونوں کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہاں الحمد کا معنٰی ہے کہ تمام تعریفات اس ” اللہ “ کے لیے ہیں جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ دنیا میں بھی تعریف اس کے لیے ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف کی جائے گی۔ اس نے جو چیز بھی پیدا فرمائی اور جو بھی حکم دیا اس میں لا تعداد حکمتیں ہیں۔ وہ انسان کے ایک ایک لمحے سے واقف اور اپنی مخلوق کے تمام حالات سے ہر وقت با خبررہتا ہے۔
حمد کی فضیلت :
(عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر ]
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے معاملات عجیب ہیں۔ اس کے تمام معاملات میں خیر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے اگر اس کو آسانی ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یہ اسکے لیے بہتر ہے۔ اگر اسے تکلیف آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ ، خَفِیْفَتَانِ عَلَیْ اللِّسَانِِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِیْ الْمِیْزَانِ سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ )[ رواہ البخاری : کتاب التوحید ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں، زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن کے لحاظ سے بھاری ہیں۔
” حضرت ابومالک اشعری ؓ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے، ” الحمدللہ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ “ [ رواہ مسلم : باب فَضْلِ الْوُضُوءِ ]
مسائل
1۔ ہر قسم کی حمدو ستائش اللہ کے لیے ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔
2۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتی ہے :
1۔ تمام تعریفیں جہانوں کو پالنے والے ” رب “ کے لیے ہیں۔ (الانعام : 45)
2۔ اللہ کی حمدوثنا بیان کرنا مومنوں کی صفت ہے۔ ( التوبۃ : 112)
3۔ بجلی کی کڑک اور فرشتے بھی اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ ( الرعد : 13)
4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : 1)
5۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 44)
6۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ( الشوریٰ : 5)
Ayah 34:2فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے باخبر ہونے کی انتہا ہی نہیں۔
اس سے پہلی آیت کے ابتدائی الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر ہوا ہے۔ ایک یہ کہ ہر چیز اس کی حمدوثنا میں رطب اللّسان ہے اور دوسری یہ کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ مالک کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی مملوک کی زبان کو جانتاہو اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ کونسی چیز کہاں اور کس حالت میں ہے۔ انسان کو یہ حقیقت سمجھانے کے لیے بتلایا گیا ہے کہ ” اللہ “ وہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے اور کیا اوپر جاتا ہے۔ یہ بات بتلا کر انسان کو یہ عقیدہ سمجھایا ہے کہ اے انسان جس طرح ہر چیز اپنے خالق کی حمد و شکر میں لگی ہوئی ہے تجھے بھی اپنے رب کی حمد وشکر میں رطب اللّسان رہنا چاہیے۔ اے انسان ! تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ تیرا رب جانتا ہے جو کچھ تو زبان سے کہتا ہے اور جو تیرے اعضاء سے صادر ہوتا ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ تیری خطاؤں اور گناہوں کو معاف کرتارہتا ہے کیونکہ وہ نہایت رحم فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے۔
” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ “ (الرعد : 8)
” میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ میں اسے ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ “ [ الاعراف : 156]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو زمین سے باہر نکلتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس کی طرف چڑھتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا اور معاف فرمانے والا ہے۔
Ayahs 34:3–5فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح صرف ” اللہ “ ہی جانتا ہے کہ جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو اس میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اوپر چڑھتا ہے۔ قیامت کب قائم ہوگی صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے لوگوں کو ایک وقت تک مہلت دے رکھی جس سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منکرین قیامت اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے تو پھر اسے کس طرح اٹھایا جاسکتا ہے۔
اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں اپنے رب کی قسم اٹھا کر بتلائیں کہ مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ یہ اعلان اس رب کی طرف سے ہے جس سے زمین و آسمانوں میں ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر چھوٹی، بڑی چیز کو جانتا ہے اور اس نے ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ کفار کا خیال تھا اور ہے کہ آج تک کروڑوں، اربوں انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوچکے ہیں ان میں آگ میں جل کر مرنے والے بھی ہیں اور پانی میں ڈوب کر جان دینے والے بھی۔ جنہیں مچھلیوں نے کھالیا ان سب کو کیسے زندہ کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے اور بھی جواب دئیے ہیں۔
یہاں قیامت کے قیام کی ایک عقلی دلیل دی ہے کہ قیامت برپا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اللہ تعالیٰ صاحب کردار ایمانداروں کو بہترین جزا دے اور ان کی خطائیں معاف کرے اور ان کو بہترین نعمتوں سے نوازے۔ ان کے مقابلے میں جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو حقیر جانا اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا انہیں اذّیت ناک عذاب دے گا۔
منکرین قیامت ہمیشہ سے یہی دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو دوبارہ کس طرح اسے زندہ کیا جائے گا۔ قرآن مجید نے مختلف مقامات پر اس بات کی تردید اور قیامت برپا ہونے کے درجنوں ثبوت دینے کے ساتھ ساتھ انبیاء کے ذریعے اس کے عملی تجربے پیش کیے ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو ذبح کروانے کے بعد انہیں زندہ کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے ایک مقتول کا زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کا نام بتلانا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو زندہ کیا جانا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور ان کا گدھا سو سال کے بعد زندہ کیے گئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ کیا۔ اتنے ٹھوس دلائل اور واضح حقائق پیش کرنے کے باوجود جو لوگ قیام قیامت کو نہیں مانتے انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے :
(وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّ رَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ )[ الانعام : 59]
” اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اسے جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی تر اور خشک دانہ نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ “
(یٰبُنَیَّ اِنَّھَآ اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِے الْاَرْضِ یَاْتِ بِھَا اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ) [ لقمان : 16]
” بیٹا کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو۔ کسی چٹان یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا۔ کیونکہ وہ نہایت باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کی قسم ! قیامت ہر صورت برپا ہوگی۔ 2۔ زمین و آسمانوں میں کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں۔
3۔ قیامت اس لیے برپا کی جائے گی تاکہ ایمان داروں کو جزا ملے اور انکار کرنے والوں کو سزا دی جائے۔
تفسیر بالقرآن
مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت :
1۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : 7)
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : 60)
3۔ ” اللہ “ تمام مردوں کو اٹھائے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : 36)
4۔ قیامت کے دن ” اللہ “ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انہیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : 6 تا 18)
5۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : 7)
6۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12)
7۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور پچھلوں کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : 47 تا 50)
8۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 56)
9۔ جس دن تم سب کو جمع ہونے والے دن میں اللہ تعالیٰ جمع کرے گا۔ (التغابن : 9)
10۔ جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : 109)
11۔ یہ فیصلہ کا دن ہے ہم نے تم کو اور تم سے پہلوں کو بھی جمع کرلیا ہے۔ (المرسلات : 38)
Ayah 34:6فہم القرآن
ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بارے میں ایک اور ثبوت۔
کسی بھی حقیقت کو جاننے کے لیے دنیا میں جو ثبوت اور دلائل پائے جاتے ہیں ان میں یہ بات ہمیشہ سے مسلّمہ رہی ہے کہ اس مسئلہ کے بارے اس دور کے منعف مزاج اہل علم کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ اگر صحیح اور ٹھوس علم رکھنے والے لوگ اس بات کی تائید کریں تو معاشرتی اعتبار سے اس کو تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ جہاں تک قیامت برپا ہونے کا عقیدہ ہے اس کے بارے میں ہر دور کے دانش ور اور اہل علم یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور رکھیں گے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوگی۔ اور عقل کا بھی یہ تقاضا ہے کہ قیامت قائم ہونی چاہیے تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کی جزا یا سزا مل سکے۔
اسی فکر کی بنیاد پر قرآن مجید نے منکرین قیامت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر تمہیں قیامت کے برپا ہونے کے بارے میں شک ہے تو اپنے دور کے اہل علم سے استفسار کیجیے وہ یقیناً تمہیں بتلائیں گے کہ جس قرآن سے تمہیں قیامت برپا ہونے کے دلائل دیئے جاتے ہیں وہ حقیقتاً آپ کے رب کی طرف سے سچ اور حق بن کر نازل ہوا ہے قرآن کو نازل کرنے والا ہی کائنات کی ہر چیز پر غالب اور ہر لحاظ سے تعریف کے لائق ہے۔ اور قرآن صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔
اہل علم سے مراد صحابہ ؓ اور وہ حضرات ہیں جو اہل کتاب کے نیک علماء ہیں اور جن پر ان کے ہم عصر اور ہم مکتب لوگ اعتماد کرتے تھے۔ عبداللہ بن سلام ؓ یہود کے ممتاز علماء میں سے تھے اور حقیقت پسند تھے۔ جب آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور عبداللہ بن سلام نے آپ میں وہ نشانیاں دیکھیں جو تورات میں نبی آخر الزماں کی بتلائی گئی ہیں آپ سے چند سوالات پوچھنے کے بعد وہ اسلام لے آئے۔ اور رسول محترم ﷺ کو یہود کی سرشت سے آگاہ کیا ‘ جس پر یہود ان کے دشمن بن گئے۔ بعد ازاں زنا کے ایک مقدمہ میں یہود نے تورات سے رجم کی آیت کو چھپانا چاہا تو عبداللہ بن سلام ؓ نے اس آیت کی نشاندہی کر کے یہود کو شرمندہ کیا۔ [ رواہ ابوداؤد : کتاب الحدود، باب فی رجم الیہودیین ]
(عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَاد۔۔ رَأَیْتُ رُؤْیَا عَلَی عَہْدِ النَّبِی ﷺ فَقَصَصْتُہَا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ قَال۔۔ فَأَنْتَ عَلَی الإِسْلاَمِ حَتَّی تَمُوت۔۔ )[ رواہ البخاری : کتاب المناقب ‘ باب مناقب عبداللہ بن سلام ]
” قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام ؓ کو ایک خواب آیا جس کی تعبیر رسول اللہ ﷺ نے یہ بتلائی کہ عبداللہ بن سلام آخر دم تک اسلام پر ثابت قدم رہیں گے۔ “
مسائل
1۔ ہر دور کے اہل علم قیامت آنے کی تصدیق کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
2۔ اہل علم سے مراد وہ لوگ ہیں جو تورات، انجیل اور قرآن مجید کو تسلیم کرتے ہیں
3۔ ” اللہ “ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ 4۔ قیامت ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ ہی ہدایت دینے والا ہے :
1۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 2۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56)
3۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 4۔ ہدایت پر چلانا انبیاء کی ذمہ داری نہیں۔ (البقرۃ : 272)
5۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43)
6۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرعد : 33)
7۔ ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ (الحجرات : 17) 8۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے۔ (الکہف : 17)
9۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 142) 10۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (ابراہیم : 4)
11۔ جسے اللہ گمراہ کر دے کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ (الاعراف : 186)
12۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور (ہدایت دینے والا) ہے۔ (النور : 35)
13۔ اللہ ہی اندھیرے اور روشنی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام : 1)
Ayahs 34:7–8فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کی سب سے بڑی دلیل اور اس کا ردّ ۔
منکرین قیامت ہمیشہ سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو اسے دوبارہ کس طرح زندہ کیا جائے گا۔ نبی آخر الزمان ﷺ کے سامنے یہی دلیل ایک شخص نے دی جس نے اپنے ہاتھ پر ایک مردہ انسان کی بوسیدہ ہڈی رکھ کر اسے مسلتے ہوئے کہا کہ اے محمد ﷺ اس خاک میں کون جان پیدا کرے گا ؟ جس کا تفصیلی جواب سورة یٰس کی آخری پانچ آیات میں دیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی منکرین قیامت لوگوں کو اپنا ہم فکر رکھنے کے لیے کہا کرتے تھے کہ ہم تمہیں ایسا شخص نہ دکھلائیں جو اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ جب تم مر کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تمہیں از سرنو پیدا کرلیا جائے گا۔ ہمارے خیال کے مطابق یہ شخص جھوٹ بولتا ہے یا پھر اسے پاگل پن کا مرض لاحق ہوچکا ہے۔
کفار کے بےہودہ الفاظ اور پراپیگنڈہ کے جواب میں یہاں صرف اتنی بات کہی گئی ہے کہ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں اور انہیں ہر صورت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ دنیا میں ان کے لیے عذاب یہ ہے کہ بعض بھلے کام کرنے کے باوجود ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ہاں اجرپانے سے مایوس ہوتے ہیں۔ ان کی صرف یہی ایک سزا نہیں بلکہ آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے یہ موت سے بھی ڈرتے ہیں۔ اگر ان کا مقابلہ مجاہدین اسلام سے ہو تو آخرت کے انکار کی وجہ سے یہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جہاں تک آخرت کے عذاب کا معاملہ ہے یہ لوگ ہمیشہ جہنم میں رکھے جائیں گے۔ ان کی گمراہی کو دور کی گمراہی اس لیے کہا گیا ہے کہ انسان بنیادی طور پر دو ہی وجہ سے ہدایت کی جستجو کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا تصور۔ یہی دو سبب انسان کو حقیقت پر غور کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ منکرین قیامت کا ذہن ان دونوں باتوں سے خالی ہوتا ہے جس وجہ سے ان کا ہدایت پانا بعید از قیاس قرار دیا گیا ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دوسرا صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں جانتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میرا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز مٹی ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ [ رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ ]
مسائل
1۔ منکرین قیامت دنیا اور آخرت میں سزا پائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
گمراہ لوگ :
1۔ جو ایمان کو کفر کے ساتھ بدل دے وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا۔ (البقرۃ : 108)
2۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (النساء : 116)
3۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء : 136)
4۔ جو نافرمانی کرے اللہ اور اس کے رسول کی وہ گمراہ ہوگیا۔ (الاحزاب : 36)
5۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال کے ساتھ فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ ( البقرۃ : 26)
6۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پامال کرنے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (المائدۃ : 12)
7۔ کفار سے دلی دوستی رکھنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : 1)
8۔ دین کے معاملات میں غلو کرنے والا سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ : 77)
9۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (ابراہیم : 30)
Ayah 34:9فہم القرآن
ربط کلام : گمراہ لوگوں کو انتباہ۔
یہاں منکرینٍ قیامت کو اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کیا یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ انہیں اوپر نیچے اور آگے پیچھے سے زمین و آسمان نے گھیر رکھا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کفر کی وجہ سے انہیں زمین میں دھنسا دے یا پھر آسمان سے کوئی آفت انہیں تہس نہس کردے اگر یہ غور کریں تو اس انتباہ میں ان کے لیے بڑی عبرت ہے۔ لیکن اس انتباہ سے وہی لوگ متنبہ ہوتے ہیں جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنیوالے ہیں۔
آسمان کے حوالے سے ڈراتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ جس آسمان کی چھت کے تلے تم اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرتے اور اپنی موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہو اگر یہی تم پر ٹوٹ پڑے تو تم اس سے بچ نہیں سکتے گویا کہ تم ہر وقت مقیّدہو اور تم کسی اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر نہیں ہو اس لیے اس سے ڈرو اور حقائق کو تسلیم کر کے اپنے آپ کو اسکی گرفت سے محفوظ کرلو اگر تم نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہو۔
(یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِِنسِ اِِنْ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنفُذُوْا مِنْ اَقْطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانفُذُوْا لاَ تَنفُذُوْنَ اِِلَّا بِسُلْطٰنٍ ) [ الرحمن : 33]
” اے جنوں اور انسانوں کی جماعت اگر تم میں طاقت ہو کہ آسمانوں و زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ اور سلطٰنکے سوا تم نکل نہیں سکتے۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَر ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اِزَارَہٗ مِنَ الْخُیَلَاءِ خُسِفَ بِہٖ فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک دفعہ ایک شخص تکبر کے ساتھ چادر گھسیٹ کر چل رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ انسان زمین و آسمان کے درمیان مقیّد ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ انسان کو زمین میں دھنسانے اور اس پر آسمان کا ٹکڑا گرانے پر قادر ہیں۔
3۔ عبرت حاصل کرنے والے کے لیے زمین و آسمان میں بیشمار عبرت کے آثار موجود ہے۔
تفسیر بالقرآن
زمین میں دھنسائے جانا اور آسمان سے آفت آنا :
1۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : 45)
2۔ اگر اللہ کا ہم پہ احسان نہ ہوتا تو ہم زمین میں دھنسا دیے جاتے۔ ( القصص : 82)
3۔ کیا تم بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تمہیں دریا کے کنارے زمین میں دھنسا دے یا تم پر تندوتیز آندھی بھیج دے۔ (بنی اسرائیل : 68)
4۔ ان کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا کسی پر تند ہوا بھیجی، کسی کو ہولناک آواز نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو غرق کردیا۔ (العنکبوت : 40)
5۔ کیا بستیوں والے بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کا عذاب رات کے وقت اپنی لپیٹ میں لے لے اور وہ سوئے ہوئے ہوں۔ (الاعراف : 95)
6۔ جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان کی بستی کو الٹا دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسا دی۔ (ھود : 82)
7۔ قوم لوط کو ایک سخت آواز نے پکڑ لیا۔ (الحجر : 73) 8۔ قوم لوط پر کنکر کے پتھر برسائے گئے۔ (الذاریات : 33)
9۔ ہم نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش نازل کی دیکھیے مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (الاعراف : 84)
Ayahs 34:10–11فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والے بندے کے لیے زمین و آسمان میں بہت سے نشان عبرت ہیں۔ اور ” اللہ “ کی طرف رجوع کرنے والوں میں حضرت داؤد (علیہ السلام) سر فہرست ہیں۔ اس لیے اس موقعہ پر ان کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بیت اللحم کے رہنے والے قبیلہ یہودہ کے ایک نوجوان تھے۔ فلسطینیوں کے خلاف ایک معرکے میں جالوت جیسے کڑیل اور جری دشمن کو قتل کیا جس بنا پر بنی اسرائیل میں مقبول ہوئے اور طالوت کی وفات کے بعد پہلے موجودہ الخلیل میں یہودیہ کے حکمران بنائے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے مل کر ان کو اپنا بادشاہ منتخب کیا اور انہوں نے یروشلم کو فتح کرکے اسے اسرائیل کا دارالحکومت بنایا۔ ان کوششوں سے پہلی مرتبہ ایک فلسطین میں اسلامی سلطنت قائم ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ایک سپاہی کے درجے سے اٹھا کر نہ صرف ملک کا حکمران بنایا بلکہ تاج نبوت اور زبور جیسی پُر تاثیر کتاب عطا فرمائی جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) زبور کی تلاوت کرتے تو نہ صرف پرندے مسحور ہوجاتے بلکہ جہاں تک ان کے پڑھنے کی آواز جاتی پہاڑ بھی جھوم اٹھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اپنا فضل ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر اپنے رب کی تسبیح بیان کیا کرو اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تاکہ داؤد (علیہ السلام) ایسی زرہیں بنائیں جن کی کڑیاں مضبوط ہونے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوں۔ اسے اور پہننے والے کو کسی قسم کی الجھن محسوس نہ ہو۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ اقتدار اور طاقت کے نشہ سے بچتے ہوئے صالح اعمال کرتے رہنا اور ہر دم یاد رکھنا کہ تمہارا رب تمہیں ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کا نغمہ سرا ہونا، پرندوں کا جھوم اٹھنا اور انکے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہوجانا، یہ ان کا معجزاتی عمل تھے۔
امام رازی ؓ لکھتے ہیں کہ صرف پہاڑوں اور پرندوں پر یہ کیفیت نہ ہوتی بلکہ ہر چیز پر یہی حالت طاری ہوجاتی تھی۔ ( تفسیر کبیر)
مسائل
1۔ مسلمانوں کو صنعت و حرفت میں ترقی کرنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے لوہے میں طاقت اور برکت رکھی ہے۔
3۔ اقتدار اور قوت حاصل ہوجانے کے بعد آدمی کو نیک اعمال سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خصوصیت اور قرآن مجید میں ان کا تذکرہ :
1۔ داؤد (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔ ( الانعام : 84)
2۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو بادشاہت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ( البقرۃ : 251)
3۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ ( النساء : 163)
4۔ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا۔ (ص : 26)
5۔ ہم نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا۔ (النمل : 15)
6۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنے فضل سے نوازا۔ (سبا : 10)
7۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو حمد و ثنا کے لیے مسخر کردیا۔ (الانبیاء : 79)
8۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کی سلطنت مضبوط کی اور انہیں فیصلہ کن خطاب کا ملکہ دیا۔ ( ص : 20)
Ayah 34:12فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت اور اقتدار عطا فرمایا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کے حضور یہ درخواست پیش کی۔” اے میرے رب ! مجھے ایسا اقتدار عطا فرما کہ اس جیسا اقتدار میرے بعد کسی شخص کو حاصل نہ ہو۔ “ [ صٓ: 35]
اس دعا کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا پر اختیار دیا کہ وہ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک دو مہینوں کی مسافت طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تانبے کا چشمہ جاری کردیا اور جنات کو ان کے تابع فرما دیا۔ جو اللہ کے حکم کے مطابق ان کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ اگر کوئی جِن حکم عدولی کرتا تو اسے آگ کا عذاب دیا جاتا۔ ہوا پر اختیار دینے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مفسرین نے دو طرح کی تشریح کی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسی تکنیک سکھلائی گئی جس کی بنیاد پر وہ ہوا پر کنٹرول کرتے تھے اس وجہ سے ان کے بحری بیڑے ہر موسم میں اس قدر تیز رفتاری سے سمندر میں چلتے کہ وہ صبح سے شام تک اتنی منزلیں عبور کرجاتے جتنا سفر ایک سبک رفتار گھوڑا مہینے میں طے کرتا ہے۔ گویا کہ موسم کی ناہمواری دن کی تپش اور رات کے اندھیرے ان کے بحری بیڑوں کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتے تھے۔ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ انہوں نے ایسا تخت تیار کیا تھا کہ جس پر بیٹھ کر وہ صبح و شام دو مہینوں کی مسافت طے کرجایا کرتے تھے۔ جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ضرور ایسا ہوائی جہاز تیار کیا ہوگا جسے صبح وشام اتنی مسافت عبور کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی تھی۔ جہاں تک ان کے لیے تانبے کا چشمہ جاری کرنے کا معاملہ ہے عین ممکن ہے کہ انہیں زمین سے معدنیات کے نکالنے کا علم اور طریقہ بھی سکھلایا گیا ہو۔ ان کے ملک میں جو معدنیات کے ذخائر نکلے ان میں تانبے کی معدنیات سرفہرست تھی۔
تانباوہ معدنی قوت ہے جو ایٹم بم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ زمین سے تانبا نکالنے اور پھر اس سے مختلف قسم کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے جنات کو ان کے تابع کردیا گیا تھا۔ اگر کوئی جِنّ اپنی ڈیوٹی سے کوتاہی کرتا تو اسے آگ کے کوڑوں سے سزا دی جاتی۔ آگ کے کوڑے انسانوں پر برسانا ہماری شریعت میں حرام قرار دیا گیا لیکن جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اس لیے انہیں آگ کے کوڑوں سے سزا دی جاتی تھی۔
” حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے آپ قضائے حاجت کے لیے علیحدہ ہوئے۔ اچانک ہمیں ایک فاختہ اور اس کے دو بچے نظر آئے ہم نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا فاختہ نے پھڑ پھڑ انا شروع کردیا رسول اللہ ﷺ واپس آئے اور آپ نے فاختہ کو پریشان دیکھ کر پوچھا کہ اس کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے پریشان کیا ہے اس کے بچوں کو چھوڑ دو ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے کچھ چیونٹیوں کو جلا ہوا دیکھ کر پوچھا کہ ان کو کس نے جلایا ہے ہم نے عرض کیا کہ ہم نے جلایا ہے۔ آپ نے فرمایا آگ کا عذاب اللہ رب العزت کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔ “ [ رواہ ابوداؤد : باب فِی کَرَاہِیَۃِ حَرْقِ الْعَدُوِّ بالنَّار ]ِ
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جنات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو تانبے کی معدنیات عطا فرمائیں۔
تفسیر بالقرآن
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیات :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو غیر معمولی بادشاہت عطا فرمائی۔ ( الانبیاء : 79)
2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو تابنے کے چشمے عطا فرمائے۔ ( سبا : 12)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو صنعت وحرفت میں کمال عطا فرمایا۔ ( سبا : 13)
4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو فہم و فراست عطا کی۔ (الانبیاء : 79)
5۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا۔ (الانبیاء : 81)
Ayah 34:13فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جو کام جنات کرتے ان میں بڑے بڑے حفاظتی قلعے بھی تعمیر کیا کرتے تھے جن پر بہترین قسم کے نقش ونگار بنائے جاتے اور ایسی دیگیں بنائی جاتیں جنہیں ایک جگہ نصب کرکے بیک وقت ہزاروں لوگوں کا کھانا تیار کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر قسم کی خوشحالی اور عروج و اقبال سے نوازتے ہوئے یہ حکم دیا اے داؤد اور اس کے گھر والو ! تمہیں ان انعامات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ یاد رکھو ! اللہ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔
قلعے :۔ قرآن مجید سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دفاع کے طور پر وسیع قلعے تعمیر کرنے کی ابتداء حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں ہوئی۔
تَمَاثِیْلَ : ” تَمْثَالٌ“ کی جمع ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل معانی ہیں۔ 1 ” تَمْثَالٌ“ عربی زبان میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنائی جائے۔ 2 ” تَمْثَالٌ“ نام ہے ہر اس مصنوعی چیز کا جو اللہ تعالیٰکی بنائی ہوئی چیز کے مانند بنائی گئی ہو۔ 3 ” تَمْثَالٌ“ ہر اس تصوّر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل ہو۔ خواہ وہ جاندار ہو یا بےجان۔
طشت اور دیگیں :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی رعایا پر بڑے مہربان اور فیّاض تھے۔ انہوں نے پورے ملک میں معذروں، مسافروں اور غریبوں کے لیے ریسٹورنٹ قائم کیے۔ جہاں صبح و شام بڑے بڑے عوامی دستر خوان بچھائے جاتے جن پر ہزاروں لوگ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس لیے کھانا پکانے کے لیے غیر معمولی قسم کی دیگیں اور اچھے خاصے تالاب کی مانند طشت تیار کیے جاتے تھے تاکہ لوگوں کے لیے بروقت اور وافر کھاناتیار ہوسکے اور وہ پوری آزادی کے ساتھ کھا سکیں۔
تصویر کشی حرام ہے :
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہٗ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِیًّا وَإِمَامُ ضَلَالَۃٍ وَمُمَثِّلٌ مِّنَ الْمُمَثِّلِیْنَ ) [ مسندا حمد : باب مسند عبداللہ بن مسعود ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سخت ترین عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو نبی نے قتل کیا یا اس نے نبی کو قتل کیا اور گمراہ امام اور تصویریں بنانے والے کو عذاب ہوگا۔ “
(عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ الأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ؓ أَلاَّ أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنائز ]
” ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں مجھے علی بن ابی طالب ؓ نے کہا کیا میں تجھے اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا کہ ہر تصویرکو مٹادو اور جو اونچی قبر نظر آئے اسے برابر کردو۔ “
کون سی تصویر جائز ہے ؟
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ کُلُّ مُصَوِّرٍ فِی النَّارِ یَجْعَلُ لَہُ بِکُلِّ صُورَۃٍ صَوَّرَہَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُہُ فِی جَہَنَّمَ وَقَالَ إِنْ کُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَہُ )[ رواہ مسلم : باب لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَءِکَۃُ بَیْتًا فیہِ کَلْبٌ وَلاَ صُورَۃٌ]
” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہر تصویر بنانے والا آگ میں جلے گا ہر تصویر کو ایک نفس کی شکل دی جائے گی اور تصویر بنانے والے کو اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اگر تو ضرور تصویر بنانا چاہتا ہے تو درخت یا اس چیز کی تصویر بنا جس میں جان نہ ہو۔
مسائل
1۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جنات بڑے بڑے قلعے، طشت اور دیگیں تیار کیا کرتے تھے۔
2۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی رعایا پر بڑے مہربان اور فیاض تھے۔
3۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے اہل و عیال اپنے رب کا شکر ادا کرنے والے تھے۔
Ayah 34:14فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت۔
دنیا میں جو شخص آیا ہے اسے بالآخر یہاں سے جانا ہے۔ بیشک وہ بادشاہ ہو یا فقیر، نیک ہو یا بد یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر بھی دنیا سے کوچ کر گئے مفسرین نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری دور میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر شروع کروائی جسے یہودی ہیکل سلیمانی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیرجاری تھی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بتلایا گیا کہ آپ کی موت کا وقت قریب آپہنچا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) حجرے میں جا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔ طویل قیام کے لیے لاٹھی کے سہارے پر کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کرلی گئی۔ جس کے متعلق بتلایا جارہا ہے کہ جب ہم نے ان کی موت کا فیصلہ کیا یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے۔ فوت ہونے کے باوجود جنات کو انکی خبر نہ ہوپائی وہ اسی طرح ہی تعمیر اور مشکل کاموں میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ جس لاٹھی کے سہارے پر کھڑے ہو کر عبادت کررہے تھے اسے دیمک نے چاٹ لیا اور حضرت کا جسداطہر زمین پر گرپڑا۔ اب جنوں کو پتہ چلا کہ ہمارا بادشاہ تو فوت ہوچکا ہے۔ جنات کی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے۔ کہ اگر جنّات کو پہلے سے معلوم ہوجاتا تو وہ کبھی بھی مشکل کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جنات بھی غیب نہیں جانتے۔ سلیمان (علیہ السلام) کا وجودِاطہرکتنا عرصہ جوں کا توں کھڑا رہا۔ اسکے بارے میں غیر مستند حوالوں سے لکھا گیا ہے کہ انکا وجود چار مہینے یا ایک سال تک کھڑا رہا۔ واللہ اعلم
(عَنْ عَاءِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ أَنَّہَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الْمَدِینَۃَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلاَل ؓ قَالَت فَدَخَلْتُ عَلَیْہِمَا فَقُلْتُ یَا أَبَتِ کَیْفَ تَجِدُکَ وَیَا بلاَلُ کَیْفَ تَجِدُکَ قَالَتْ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْہُ الْحُمَّی یَقُولُ کُلُّ امْرِءٍ مُصَبَّحٌ فِی أَہْلِہِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی وَبَاءِ الْمَدِینَۃِ ]
” ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر اور بلال ؓ کو شدید بخار ہوگیا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں ان کے ہاں گئی اور ان کی تیماداری کی۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ ہر انسان اپنے گھر میں صبح کرتا ہے اور موت جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ ﷺ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ ، وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَی ہَذَا الَّذِی فِی الْوَسَطِ ، مِنْ جَانِبِہِ الَّذِی فِی الْوَسَطِ وَقَالَ ہَذَا الإِنْسَانُ ، وَہَذَا أَجَلُہُ مُحِیطٌ بِہِ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہِ وَہَذَا الَّذِی ہُوَ خَارِجٌ أَمَلُہُ ، وَہَذِہِ الْخُطُطُ الصِّغَارُ الأَعْرَاضُ ، فَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا، وَإِنْ أَخْطَأَہُ ہَذَا نَہَشَہُ ہَذَا )[ رواہ البخاری : باب فِی الأَمَلِ وَطُولِہِ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے چوکور خط کھینچا اور ایک خط اس کے درمیان میں سے کھینچا جو چوکور خط سے باہر نکل رہا تھا اور اس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے اور خط کھینچے آپ نے فرمایا درمیان والا خط انسان ہے اور چاروں طرف سے اس کی اجل اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو خط باہر نکل رہا ہے یہ اس کی حرص ہے اور چھوٹے چھوٹے جو خطوط ہیں یہ اس کی خواہشات ہیں اگر ایک سے بچے تو دوسری خواہش دامن تھام لیتی ہے۔ “
مسائل
1۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی بچ پایا اور نہ بچ پائے گا۔ 2۔ جنات غیب نہیں جانتے۔
تفسیر بالقرآن
موت ہر ذی روح کا مقدر ہے :
1۔ ہر شے فنا ہوجائے گی۔ (الرحمن : 26، القصص : 88) 2۔ قلعہ بند ہونے کے باوجود کسی کو موت نہیں چھوڑتی۔ (النساء : 78)
3۔ موت کی جگہ اور وقت مقرر ہے۔ (الاعراف : 34) 4۔ سب کو موت آنی ہے۔ (الانبیاء : 35)
5۔ پہلے انبیاء فوت ہوئے۔ (آل عمران : 144) 6۔ رسول اللہ ﷺ بھی موت سے ہمکنار ہوئے۔ (الزمر : 30)
Ayahs 34:15–17فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بےپناہ وسائل کے حامل، زبردست حکمران اور انتہائی ترقی یافتہ مملکت کے سربراہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے یہاں تک کہ موت کے وقت بھی اپنے رب کے شکر میں مشغول تھے ان کے بعد ایک نافرمان ترقی یافتہ قوم کا ذکر۔
قوم سبا کا علاقہ موجودہ یمن کی سرزمین تھی۔ سبا ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ اس سے دس قبیلے معرض وجود میں آئے۔ اس قوم کے عروج وزوال کا دور صدیوں پر محیط ہے۔ ایک وقت تھا کہ اقتدار اور اختیار اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے اس قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ اس قوم کا آب پاشی کا نظام نہایت ہی مربوط اور منظم تھا۔ اس قوم نے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بند بنا رکھے تھے۔ ان کا دارالخلافہ مآرب تھا۔ سب سے مضبوط بند اسی جگہ تعمیر کیا گیا جو سدِّ مآرب کے نام سے معروف تھا۔ ان کی مملکت میں اکثر راستوں کے دونوں طرف باغات کا لامتناہی سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ سفر کرنے والے کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ باغات کی سیر کر رہا ہے۔
آبپاشی کا نظام اور قوم کی مسلسل محنت کی وجہ سے ہزاروں میلوں پر پھیلا ہوا علاقہ حسن و جمال کا پیکر دکھائی دیتا تھا۔ اس ملک کی فصلوں میں انگور، کھجور، دارچینی اور بخارات کے درخت کثرت سے پائے جاتے تھے۔ صبح اور شام کے وقت باغات کی بھینی بھینی خوشبو پورے علاقے کو معطر کردیتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ” بَلَدٌ طَیْبَۃٌ“ قرار دیا ہے۔ رزق کی فراوانی اور وسائل کی بہتات کی وجہ سے یہاں کے لوگ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مست ہوئے کہ انہوں نے خالق حقیقی کو اس طرح فراموش کردیا جیسے ان کا کوئی خالق ہی نہ ہو۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث کیا۔ مگر اس قوم نے فخر و غرور کی بناء پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت کو مسترد کردیا۔ جس مآرب نامی مضبوط ڈیم پر یہ قوم فخر کرتی اور اس کے بل بوتے پر ترقی کر رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بارشوں کا ایسا سلسلہ جاری فرمایا کہ ڈیم پانی کو برداشت نہ کرسکا اور وہ اس طرح پھٹ پڑا جیسے خربوزہ پھٹ جاتا ہے۔ اوپر سے بارشیں اور نیچے سے بند ٹوٹنے کی وجہ سے اس قدر تباہ کن سیلاب آیا کہ جس کا قوم تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ملک کا وسیع علاقہ ریت اور بھل کی وجہ سے دلدل بن گیا۔ اور آبپاشی کا نظام درہم برہم ہوا، بڑے بڑے محلات میں ناقابل مرمت دراڑیں واقع ہوگئیں۔ تعمیر نو کی کوئی صورت کار گر ثابت نہ ہوئی۔ جس سرزمین پر باغات مہکتے تھے اور فصلیں لہلہایا کرتی تھیں وہاں خار دار جھاڑیاں اور اس طرح کی جڑی بوٹیاں پیدا ہوئیں کہ ملک ایک بھیانک جنگل کا منظر پیش کر رہا تھا۔ خار دار جھاڑیوں میں کہیں کہیں خود رو بیریوں کے درخت اگ پڑے۔ جن کے بیروں پر یہ قوم ایک عرصہ تک اپنا پیٹ بھرنے پر مجبور ہوئی۔
جو ملک اپنی ترقی کے حوالے سے دوسری اقوام کے لیے ایک نمونہ تھا وہی عبرت کا مجسمہ بنا۔ جس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ قوم سبا کو یہ سزا ان کی نا شکری کی وجہ سے دی گئی جو صرف ان کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ہم ہر نا شکرے کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
(عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ عَلَی الْمِنْبَرِ مَنْ لَمْ یَشْکُرِ الْقَلِیلَ لَمْ یَشْکُرِ الْکَثِیرَ وَمَنْ لَمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَالتَّحَدُّثُّ بِنِعْمَۃِ اللَّہِ شُکْرٌ وَتَرْکُہَا کُفْرٌ وَالْجَمَاعَۃُ رَحْمَۃٌ وَالْفُرْقَۃُ عَذَابٌ)[ رواہ احمد : مسند نعمان بن بشیر ]
” حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا جس نے چھوٹی نعمت پر اللہ کا شکر ادا نہ کیا وہ بڑی نعمت پر شکر ادا نہیں کرسکتا اور جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا اس کا شکر کرنے کے مترادف ہے اور جس نے ان نعمتوں کو استعمال نہ کیا گویا اس نے ناشکری کی جماعت اللہ کی رحمت کا باعث ہے اور تفرقہ بازی اللہ کا عذاب ہے۔ “
نبی کریم ﷺ کی شکر کی دعا :
(اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِ کَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ ]
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ قوم سبا کو ان کی ناشکری کی وجہ سے تباہ کردیا گیا۔ 2۔ قوم سبا کے بیراج ہی ان کی تباہی کا سبب ثابت ہوئے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ناشکرے لوگوں کو دنیا اور آخرت میں سزا دے گا۔
تفسیر بالقرآن
ناشکری اور کفر کے نقصانات :
1۔ اگر تم اس کی ناشکری کرو گے تو اللہ تعالیٰ بےپروا اور لائقِ تعریف ہے۔ (ابراہیم : 8)
2۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اگر ناشکری کرو تو اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (ابراہیم : 7)
3۔ اللہ تمہیں عذاب نہیں دے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ۔ (النساء : 147)
4۔ بستی والوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان پر بھوک اور خوف مسلّط کردیا۔ (النحل : 112)
5۔ جو شخص شکر کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو ناشکری کرتا ہے میرا رب اس سے بےپروا ہے۔ (النمل : 40)
6۔ اگر انسان پر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے مصیبت آجائے تو ناشکرا ہوجاتا ہے۔ (الشوریٰ : 48)
7۔ بیشک انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ (ابراہیم : 34) 8۔ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل : 100)
9۔ اللہ تعالیٰ انسانوں پر فضل فرماتا ہے لیکن ان کی اکثریت شکرادا نہیں کرتی۔ (یونس : 60)
10۔ اگر انسان کو اللہ رحمت دے کر چھین لے تو یہ مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ (ہود : 9)
Ayah 34:18فہم القرآن
ربط کلام : قوم سبا کا تمدّن۔
قوم سبا اپنے دور میں نظام آبپاشی اور زراعت میں ہی خود کفیل اور انتہائی ترقی یافتہ نہ تھی بلکہ تہذیب و تمدّن کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ اور باکمال تھی۔ اس کے اکثر شہر اور بستیاں شاہراؤں پر واقع تھے جس سے سفر آسان، محفوظ اور مسافروں کو کھانے پینے اور قیام میں کوئی دقت پیش نہیں آیا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعمیر و ترقی کی ایسی صلاحیتیں عطا فرمائیں تھیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے ٹھیک منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیراتی کام کیے اور شہروں کے بہترین نقشے بنائے جس سے عوام کو ہر قسم کی سہولت میسرتھی۔ لوگ پُر سکون اور عیش کی زندگی بسر کررہے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ پُر سکون زندگی اور ملک کی ترقی پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے لیکن انہوں نے شکر کی بجائے نا شکری کا رویہ اختیار کیا اور اس قدر بغاوت کی۔ کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے شہروں کے درمیان مسافت پیدا کردے۔
اس طرح انہوں نے آبادی کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے لیے بوجھ جانا۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی ترقی اور خوشحالی کو ان کے لیے وبال بنایا اور شدید سیلاب کے ذریعے انہیں تہس نہس کردیا جو طویل عرصہ تک اپنے بعد آنیوالی اقوام کے لیے عبرت گاہ بن گئے۔ قوم سبا کی تاریخ اور آثار اس شخص کے لیے سامان عبرت ہیں جو مشکلات پر صبر اور خوشحالی پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔
ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے زبان ہی سے یہ دعا کی ہو کہ ” اللہ “ ہماری بستیوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے۔ دراصل جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے گویا وہ زبان حال اور اپنے برے کردار کے ذریعے یہ کہتا ہے کہ الٰہی میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔
Ayah 34:19امام رازی نے لکھا ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل نے من وسلویٰ کے بارے میں اکتاہٹ کا اظہار کیا اور پیاز وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا اسی طرح ہی قوم سبانے یہ مطالبہ کیا تھا یا پھر وہ تکبر کے طور پر کہنے لگے کہ ہمارے با غات تباہ نہیں ہوسکتے اور ہمارے سفر مشکل نہیں بن سکتے۔ اس تکبر کے نتیجے میں ہی ان کا سب کچھ تباہ کردیا گیا۔ (اللہ اعلم)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کو بہت سی برکات سے نوازا تھا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کو سفر وحضر میں ہر قسم کی سہولت عنایت فرمائی تھی۔
3۔ قوم سبا نے شکر کی بجائے کفر کا راستہ اختیار کیا جس بناء پر انہیں تہس نہس کردیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
نشانات عبرت سے سبق سیکھنے والے لوگ :
1۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یوسف : 7)
2۔ انبیاء کے قصے برحق ہیں مومنین کے لیے اس میں نصیحت ہے۔ (ھود : 120)
3۔ یہ قصے برحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ (آل عمران : 62)
4۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصے میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ (یوسف : 111)
5۔ انبیاء کے واقعات میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے تابع داروں کے لیے تسلی کا سامان ہے۔ ( ہود : 120)
6۔ رات اور دن کے مختلف ہونے، آسمان سے رزق اتارنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الجاثیۃ : 5)
7۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6)