Ayahs 34:20–21فہم القرآن
ربط کلام : جو مصیبت پر صبر نہیں کرتا اور اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ شیطان کی بات کو سچ کر دکھاتا ہے۔ ہمیشہ ان لوگوں کی اکثریت رہی ہے۔
ابلیس غیب کا علم نہیں جانتا تھا لیکن وہ سمجھتا تھا کہ جن عناصر پر حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا گیا ہے وہ باہم متصادم ہیں جس بنا پر آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کرنا آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ ابلیس جِنّات کو بھی دیکھ چکا تھا کہ ان کی اکثریت گمراہ ہوچکی ہے۔ ابلیس کے اسی گمان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ابلیس نے اپنے گمان کو سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی جماعت کے علاوہ باقی سب لوگ اس کی پیروی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے شیطان کو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسا اختیار نہیں دیا جس سے وہ اپنی طاقت کے زور پر لوگوں کو گمراہ کرسکے۔ شیطان کو صرف یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے جھوٹے وعدوں، مکر و فریب اور برے اعمال کو فیشن کے طور پر پیش کرکے لوگوں کو گمراہ کرسکے۔ اسی بنیاد پر شیطان سچے اور پکے ایمان داروں کے سوا دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار اس لیے دیا ہے کہ شیطان کے ذریعے امتیاز ہوسکے کہ کون شخص آخرت پر سچا اور پکا ایمان رکھتا ہے اور کون آخرت کے بارے میں شک کا شکار ہوتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ کا رب ہر چیز پر نگران ہے۔ آخرت پر ایمان کا اس لیے حوالہ دیا ہے کہ آخرت پر یقین رکھنے والا شخص بالآخر سیدھے راستے پر آجاتا ہے۔ کیونکہ اسے احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنے اعمال کا اپنے رب کے حضور جواب دینا ہے۔
نگران کی صفت بیان فرما کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے یعنی اس سے کوئی بات اور چیز پوشیدہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی آزمائش کرنے اور مومنوں سے گمراہوں کو جدا کرنے کے لیے اس نے شیطان کو ایک حد تک اختیار دے رکھا ہے جس بنا پر وہ ایسے لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جن کا آخرت پر سچا اور پکا ایمان نہیں ہوتا۔ جس آدمی کا جس قدر آخرت کی جوابدہی کے بارے میں سچا اور پکا ایمان ہوگا وہ اسی قدر ہی شیطان کے پھندوں سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ شیطان کو اس طرح کا اختیار اور غلبہ نہیں دیا گیا جس بنا پر وہ لوگوں کو گمراہ کرسکے اس لیے قیامت کے دن جہنمیوں کے سامنے شیطان اپنے بارے میں اس بات کا اظہار کرے گا۔ کہ جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا تھا وہ سچا تھا اور جو وعدہ میں تمہارے ساتھ کیا کرتا تھا وہ جھوٹا تھا۔ میرا تم پر کوئی زور نہ تھا۔ بس میں نے تمہیں گمراہی کی دعوت دی جسے تم نے قبول کرلیا۔ اب مجھے ملامت کرنے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں اور نہ ہی تم میری مدد کرسکتے ہو۔ دنیا میں جو تم مجھے اللہ کا شریک بناتے رہے ہو میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ یقیناً ظالموں کے لے اذّیت ناک عذاب ہے (ابراہیم : 32)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ سچا ہے اور شیطان کے تمام وعدے جھوٹے ہیں۔
2۔ شیطان قیامت کے دن ہر قسم کے شرک سے انکار کردے گا۔
3۔ انسان کو گمراہ کرنے کے لے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو کوئی تسلّط نہیں دیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے اذّیت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا ہر وعدہ سچا ہے اور شیطان کے تمام وعدے جھوٹے ہیں :
1۔ اللہ تعالیٰ کی بات سے کسی کی بات سچی نہیں ہوسکتی۔ (النساء : 87) 2۔ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (آل عمران : 9)
3۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ (لقمان : 33)
4۔ جو اللہ کا وعدہ پورا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ (البقرۃ : 40)
5۔ شیطان کا وعدہ فریب ہے۔ (بنی اسرائیل : 64) 6۔ شیطان مفلسی سے ڈراتا اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ (البقرۃ : 268)
7۔ شیطان برے اعمال فیشن بنا دیتا ہے۔ (النحل : 63) 8۔ لوگو ! شیطان تمہارا دشمن ہے اسے اپنا دشمن سمجھو۔ ( فاطر : 6)
Ayahs 34:22–23فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کا سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ انسان سے شرک کروائے، مشرک کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بزرگوں کو اپنی اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے جس کی تردید کی گئی ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں خو بتلائیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی مدد کے لیے بلائیں۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ زمین و آسمان میں ایک ذرہ کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ ہی ان میں کسی چیز میں حصہ دار ہیں اور نہ ہی ان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا معاون اور مددگار تھا اور ہے اور نہ ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ کی خدائی میں رائی کے دانے کے برابر بھی حصہ دار نہیں تو وہ اس کے حضور سفارش کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور وہی سفارش کرپائے گا جسے وہ اجازت عنایت کرے گا۔ ہر دور کے مشرکوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کی عبادت اور ریاضت سے خوش ہو کر انہیں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں اس لیے اگر بزرگ کسی کے حق میں سفارش کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو مسترد نہیں کرپائے گا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ایسا اختیار نہیں دیا البتہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ سفارش کا حق دے گا وہ بھی کسی کے حق میں اتنی ہی سفارش کریں گے جتنی اللہ تعالیٰ اجازت دے گا۔
سفارش کرنے والے اور جن کے حق میں سفارش کی جائے گی وہ ڈر کے مارے بڑی آہستہ آواز اور چپکے سے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ رب ذوالجلال نے اس سفارش کا کیا جواب دیا ہے ؟ سفارش کرنے والا اور جس کے حق میں سفارش کی جائے گی وہ خوف کے مارے ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہمارا رب جو حکم صادر فرمائے گا وہ ہر حال میں حق اور عدل پر مبنی ہوگا کیونکہ وہ ظلم کرنے سے مبّرا اور ہر قسم کے شرک سے بلند وبالا ہے۔ بعض مفسرین نے اس گفتگو کو ملائکہ کی طرف منسوب کیا ہے کہ ملائکہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہر اعتبار سے حق اور سچ ہے۔ یہاں دونوں مفہوم لینے کی گنجائش پائی جاتی ہے۔
مسائل
1۔ کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور معاون نہ تھا اور نہ ہے اور نہ ہو گا
2۔ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ جس کو پکارتے ہیں وہ ذرہ برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔
3۔ مشرک جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے حضور صرف وہی سفارش کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اجازت عطا فرمائے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے مشرکوں کے تصورات سے بلندو بالا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کرنے کے آداب :
1۔ کون ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے۔ (البقرۃ : 255) 2۔ قیامت کے دن سفارش کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ : 254)
3۔ کافر اور مشرک کو کوئی سفارش فائدہ نہیں پہنچائے گی۔ (المدثر : 48) 4۔ کافروں کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا۔ (انعام : 51)
5۔ ظالموں کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارشی۔ (المومن : 18) 6۔ بزرگ اور سردار بھی سفارش نہ کریں گے۔ (الروم : 13)
Ayahs 34:24–27فہم القرآن
ربط کلام : مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیار دے رکھے ہیں وہ ان کے رزق کے بارے میں بھی اختیار رکھتے ہیں۔
مشرک کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب تک کسی بت یا قبر پر نذرانہ پیش نہ کیا جائے اس وقت تک ہمارے رزق میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے مشرک سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ ان بزرگوں کی طفیل ملتا ہے۔ اسی بناء پر بت پرست بتوں کے سامنے، فوت شدگان کے سامنے جھکنے والے مزارات پر اور حضرت خضر کو حاجت روا سمجھنے والے دریاؤں اور سمندروں میں نذرانے ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ کلمہ پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ اگر ہم نے پیر عبدالقادر جیلانی کے نام پر گیارہویں پیش نہ کی تو وہ ناراض ہو کر ہمارے رزق میں کمی کردیں گے۔ قرآن مجید نے ایسے لوگوں سے کئی مرتبہ سوال کیا ہے کہ بتلاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کون رزق دینے اور اس میں کمی بیشی کرنے والا ہے ؟
اس کے جواب میں ہر دور کا مشرک یہ اقرار کرتاآرہا ہے اور کرتا رہے گا کہ رزق دینا اور اس میں کمی بیشی کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس اقرار کے باوجود مشرک اپنے عقیدہ سے تائب ہونے اور شرک کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی مشرکین مکہ کی کیفیت تھی جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کہ آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان سے تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ کون تمہارے کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ؟ کون زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے ؟ کون پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔ (یونس : 31)
ان کا جواب یہ تھا کہ اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے اور سارے کام چلا رہا ہے۔ ان سے فرمائیں کہ پھر تم شرک سے باز کیوں نہیں آتے ؟ اللہ ہی تمہارا سچا رب ہے۔ اس سچائی کے بعد تو گمراہی ہی گمراہی ہے۔ اس کے باوجود تم کیوں بہکے جا رہے ہو ؟ در اصل آپ کے رب کا فرمان نافرمانوں کے بارے میں سچ ثابت ہوا کہ وہ سب کچھ سمجھنے کے بعد ایمان نہیں لائیں گے۔ (یونس : 31 تا 33)
پھر ارشاد ہوا کہ مشرکین سے استفسار کریں کہ بتاؤ کون مخلوق کو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے اور پھر اپنی طرف لوٹائے گا اور کون آسمان اور زمین سے تمہیں رزق دیتا ہے کیا ” اللہ “ کیساتھ کوئی اور بھی شامل ہے ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو۔ (النمل : 64)
سورۃ روم میں اس مسئلے کو یوں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیتا ہے، پھر تمہیں موت دے گا موت کے بعد پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو ان کاموں میں کوئی کام کرکے دکھائے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مشرکانہ عقیدہ سے مبرّا اور باطل تصورات سے بالاتر ہے۔ کیونکہ ہر دور کا مشرک اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ لہٰذا اس مقام پر فرمایا کہ آپ خود ہی جواب دیں کہ ” اللہ “ ہی زمین و آسمان سے رزق دینے والا ہے۔ اب ان سے پوچھیں کہ بتلاؤہم میں سے کون سیدھے راستے پر ہے اور کون گمراہ ہوچکا ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ ہم بھٹکے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ حقائق تسلیم نہیں کرتے لہٰذا انہیں فرما دیں کہ ہمارے گناہوں پر تمہیں پکڑ نہیں ہوگی اور نہ تمہارے جرائم کے بارے میں ہم سے سوال نہیں ہوگا۔ انہیں پھر فرمادیں کہ جس قیامت کا تم انکار کرتے ہو ہمارا رب اس دن سب کو جمع فرماکر ہمارے درمیان حق اور عدل کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
ایک مرتبہ پھر ان سے مطالبہ کریں کہ مجھے وہ لوگ دکھاؤ جن کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایسا کبھی نہیں کرسکتے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے کاموں میں کوئی شریک نہیں ہے اور نہ ہوگا۔ وہی ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ ہر دور کا مشرک اس بات کا اقرار کرتا رہا اور کرتا رہے گا کہ صرف ” اللہ “ ہی رزق دینے والا ہے۔
2۔ ہر شخص اپنے عقیدہ و عمل کا ذمہ دار ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو اپنے حضور جمع فرماکرحق اور عدل کے ساتھ فیصلہ فرمادے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنیوالا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
5۔ ہر دورکا مشرک حقائق کی روشنی میں کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ثابت کرسکا اور نہ ہی کبھی ثابت کرسکے گا۔
6۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر فرمان اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر دور کے مشرک سے سوالات :
1۔ مشرک سے سوال کیا جائے کہ آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے کہتے ہیں اللہ ہی رزق دیتا ہے۔ (یونس : 31)
2۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (یونس : 34)
3۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ کہتے ہیں اللہ ہی خالق ہے۔ (الزمر : 38)
4۔ مشرکوں سے پوچھاجائے سات آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ ہی مالک ہے۔ (المومنون : 86۔ 87)
5۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر بادشاہت کس کی ہے ؟ جواب دیتے ہیں اللہ کی بادشاہی ہے۔ (المومنون : 88۔ 89)
6۔ اگر تو ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور کس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، اب فرمائیں کہ پھر کہاں سے بہکائے جا رہے ہیں۔ (العنکبوت : 61)
Ayah 34:28فہم القرآن
ربط کلام : اگر مشرکین ” اللہ “ کی توحید کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو اے نبی ﷺ ! آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ کیونکہ آپ صرف مکہ والوں کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے رسول بنائے گئے ہیں۔
اس فرمان میں ایک طرف نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر آپ کے مخاطبین آپ کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو آپ کو دل برداشتہ ہونے کی بجائے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی ایک بستی، قوم یا نسل کے لیے رسول منتخب نہیں کیا۔ آپ تو ہر دور کے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب کیے گئے ہیں۔ آپ کی دعوت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اس پر ایمان لائیں گے وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو ہوں گے۔ جنہوں نے اس کا انکار کیا وہ دنیا میں نقصان اٹھائیں گے اور آخرت میں اذیت ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ آپ کی دعوت سراسر لوگوں کی خیر خواہی کے لیے ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کی غالب اکثریت اسے جاننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں۔ نبی اکرم ﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیاء مبعوث کیے گئے وہ محدود علاقے اور مخصوص وقت کے لیے نبی بنائے گئے تھے۔ صرف آپ ﷺ کی ذات ایسی ہے جسے قیامت تک کے لیے ہر علاقے اور نسل کے لیے رسول منتخب کیا گیا ہے۔
” اے پیغمبر اعلان فرما دیں کہ اے لوگو ! میں تم سب کے لیے اللہ کا رسول بنایا گیا ہوں۔ “ [ الاعراف : 158]
(بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ) [ رواہ احمد ]” میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ “
تفسیر بالقرآن
نبی (علیہ السلام) کی عالمگیر نبوت :
1۔ رسول اللہ ﷺ پوری دنیا کے رسول ہیں۔ (الاعراف : 158) 2۔ نبی ﷺ سب کے رسول ہیں۔ (سباء : 28)
3۔ رسول اللہ ﷺ مبشر اور نذیر ہیں۔ (الاحزاب : 45) 4۔ آپ ﷺ رحمتِ دو عالم ہیں۔ (الانبیاء : 107)
5۔ رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40)
Ayahs 34:29–30فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کفار اس بات کا مذاق اڑاتے اور کہتے ہیں کہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟
سرور دو عالم ﷺ نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ ثابت کردیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ لیکن منکرین قیامت ہر قسم کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے باربار مطالبہ کرتے تھے کہ جس قیامت کے برپا ہونے کا آپ بار بار تذکرہ کرتے ہیں اور اسے اپنے رب کا وعدہ قرار دیتے ہیں اگر آپ سچے ہیں تو بتائیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ کیونکہ اس سوال کے متعدد جواب دیئے جا چکے ہیں اس لیے اس موقعہ پر آپ ﷺ کو فقط یہ حکم ہوا کہ آپ انہیں یہ فرمائیں کہ قیامت کا دن متعین ہے جب وہ دن آئے گا تو نہ تم اسے ٹال سکو گے اور نہ کوئی اسے پہلے لاسکتا ہے۔ اس میں کوئی ایک لمحہ تقدیم و تاخیر نہیں کرسکتا۔ با لفاظ دیگر قیامت کا برپا کرنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے جس کا اس نے ایک دن مقرر کر رکھا ہے کسی کے ٹالنے سے وہ دن ٹل نہیں سکتا اور کسی کے مطالبے پر وہ پہلے نہیں آسکتا۔ البتہ جس دن کے لیے تم عجلت کا مظاہرہ کرتے ہو وہ زمین و آسمان پر بھاری ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کا ایک دن مقرر ہے :
1۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12)
2۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے ضرور اکٹھے کیے جائیں گے۔ (الواقعۃ : 47 تا 50)
3۔ جس دن ” اللہ “ رسولوں کو جمع کرے گا۔ (المائدۃ : 109) 4۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : 7)
5۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انہیں خبر دے گا۔ ( المجادلۃ : 6 تا 18)
Ayahs 34:31–32فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کی ہٹ دھرمی کی انتہا اور اس کا جواب۔
توحید و رسالت اور قیامت کے دلائل سُننے اور ان کے سامنے جھکنے کی بجائے منکرین قیامت ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہا کرتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن کو ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی اس سے پہلی کتابوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے جو شخص کسی دلیل کو ماننے اور کھلی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اسے سمجھانا اور منوانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی کیفیت منکرین قیامت کی تھی اس لیے ان کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! اب تو یہ لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ انکار کیے جاتے ہیں۔ کاش ! آپ اس وقت ان کا حال دیکھیں جب ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت یہ لوگ اپنے کفر کو ایک دوسرے کے ذمے لگائیں گے۔ ماتحت لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم رکاوٹ نہ بنتے تو ہم ضرور ایمان لانے والوں میں شامل ہوتے۔
گویا کہ مرید اپنے پیروں، ور کر اپنے لیڈروں اور ماتحت اپنے حاکموں کو مورودِالزام ٹھہراتے ہوئے اپنے آپ کو بری الذّمہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ اس کے جواب میں پیر، لیڈر اور حاکم اپنے ماتحتوں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ ایسا ہرگز نہیں تم تو خود ہی مجرم تھے یعنی تم پہلے سے ہی دین کے باغی اور قیامت کے منکر بنے ہوئے تھے۔
مسائل
1۔ ہٹ دھرم لوگ کسی دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
2۔ حق کا انکار کرنیوالے لوگ ایک دوسرے کو مجرم ٹھہرائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کا آپس میں تکرار کرنا :
1۔ جہنم میں مرید، پیروں، ور کر، لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابع تھے کیا تم اللہ کے عذاب کا کچھ حصہ دور کرسکتے ہو ؟ (ابراہیم : 21)
2۔ جب جہنمی اپنے سے پہلے لوگوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے انہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : 38)
3۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : 25)
4۔ وہ آہ زاریاں کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کردیا۔ (الاحزاب : 67)
5۔ اے رب ان کو دوہرا عذاب دو اور ان پر سخت لعنت کرو۔ (الاحزاب : 68)
6۔ قیامت کے دن پیروکار کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے براءت کا اظھار کریں گے۔ (البقرۃ : 167)
Ayah 34:33فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن مجرموں کا آپس میں تکرار اور کمزور لوگوں کا بڑے لوگوں کو جواب۔
تابع لوگ اپنے مطاع لوگوں کی بات کو رد کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہرگز نہیں ! بلکہ تمہاری صبح و شام کی مکاریاں تھیں کہ تم نے اپنے مکرو فریب سے ہمیں ایسے راستے پر چلایا کہ ہم اللہ کیساتھ کفر کریں اور دوسروں کو اس کا شریک بنائیں۔ صبح و شام کے مکروفریب سے مراد پیروں کے گھو رکھ دندھے، لیڈروں کی چالبازیاں اور علمائے سوء کی بدعات و رسومات ہیں جن کے لیے سیاست دان سیاست اور مذہبی پیشوا مذہب کے نام پر عوام کو قابو میں رکھتے ہیں۔ بہرحال ماتحت لوگ اپنے کفر و شرک کو بڑوں کے ذمّے لگائیں گے اور خود اپنی براءت کا اظہار کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی رہنما عوام کو کفر اور بےدینی کے کاموں میں مبتلا کرتے ہیں۔ برے علماء اور پیر بظاہر کفر یہ حرکات کی دعوت نہیں دیتے لیکن دین کے نام پر بنائی ہوئی رسومات اور بدعات سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اور جھوٹی کرامات سنا، سنا کر مریدوں سے کفر و شرک کے کام کرواتے اور نذرانے وصول کرتے ہیں۔
جب بڑے اور چھوٹے، حاکم اور محکوم، پیر اور مرید، علماء اور مقتدی جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو ان کے چہروں پر پریشانی عیاں ہوگی۔ بڑے لوگ اس لیے پریشان ہوں گے کہ دنیا میں جو ہم لوگوں سے وعدے کیا کرتے تھے وہ جھوٹے ثابت ہوئے۔ چھوٹے اس لیے پریشان ہوں گے کہ ہم نے اپنی حماقت کی بنیاد پر ان پر بھروسہ کیا جبکہ آج یہ ہماری طرح ہی مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ بڑے اور چھوٹے اس سوچ و بچار میں ہوں گے تو اچانک ملائکہ ان کی گردنوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالتے ہوئے کہیں گے کہ یہ تمہارے کفر و شرک کا بدلہ ہے۔ اس حالت میں گھسیٹ کر انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن جہنمی اپنی گمراہی کو ایک دوسرے کے ذمّہ لگائیں۔
2۔ جہنمیوں کو محشر کے میدان میں طوق اور بیڑیاں پہنائی جائیں گی۔
3۔ جہنمیوں کو ان کے کفر و شرک کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر جہنم میں پھینکا جائے گا :
1۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : 49)
2۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقۃ : 30۔ 31)
3۔ بدترین لوگوں کو منہ کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا۔ (الفرقان : 34)
4۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی۔ (المعارج : 44)
5۔ قیامت کے دن مجرموں کو دھکتی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ (الغاشیۃ : 4)
6۔ جہنمیوں کو آگ کا لباس پہناکر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (الحج : 19)
7۔ جو شخص برے اعمال کے ساتھ آیا اسے اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ (النمل : 90)
8۔ اللہ کے ساتھ کسی اور الہ کو پکارنے والاجہنم میں پھینک دیا جائیگا۔ (بنی اسرائیل : 39)
9۔ منافق جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار پڑتی رہے گی۔ (التوبۃ : 68)
Ayahs 34:34–35فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی گمراہی میں مال دار طبقہ کا کردار۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے جس بستی میں بھی لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والا بھیجا۔ وہاں کے مال دار طبقے نے ہمیشہ انہیں کہا کہ جس دعوت کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے انکار کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے اور کہتے تھے کہ ہم اس ڈرانے والے اور اس کی اتباع کرنے والوں سے مال اور افرادی قوت میں زیادہ ہیں اور ہم کسی صورت عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ یہی سوچ اور کردار مکہ والوں کا تھا۔ وہ اپنی افرادی قوت اور مال پر اتراتے ہوئے نبی ﷺ کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو اور تیری پیروی کرنے والے حق پر ہیں تو پھر تمہیں دنیا کا مال و دولت کیوں نہیں دیا گیا ؟ تمہارے بقول اگر ہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک برے اور مغضوب ہیں تو ہم پر عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ تمہارے بار بار اعلان کرنے کے باوجود ہم پر عذاب نازل نہیں ہوا تو اس کا صاف مطلب ہے کہ اللہ ہم پر راضی ہے اس لیے اس نے ہمیں مال و دولت، وقار اور اقتدار دے رکھا ہے اور قیامت کے دن بھی ہمیں سزا نہیں دی جائے گی۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَرَّ بالسُّوْقِ دَاخِلًا مِّنْ بَعْضِ الْعَالِیَۃِ وَالنَّاسُ کَنَفَتُہٗ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَکَّ مَیِّتٍ فَتَنَاوَلَہٗ فَأَخَذَ بِأُذُنِہٖ ثُمَّ قَالَ أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنَّ ھٰذَا لَہٗ بِدِرْھَمٍ فَقَالُوْا مَانُحِبُّ أَنَّہٗ لَنَا بِشَیْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِہٖ قَالَ أَتُحِبُّوْنَ أَنَّہٗ لَکُمْ قَالُوْا وَاللّٰہِ لَوْکَانَ حَیًّاکَانَ عَیْبًا فِیْہِ لِأَنَّہٗ أَسَکَّ فَکَیْفَ وَھُوَ مَیِّتٌ فَقَالَ فَوَاللّٰہِ لَلدُّنْیَا أَھْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا عَلَیْکُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد والرقائق ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک جانب سے بازار میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے آپ ایک مردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے ایک کان کو پکڑ کر پوچھا کون اسے ایک درہم کے بدلے لینا پسند کرے گا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : ہم تو اسے کسی چیز کے بدلے بھی لینا نہیں چاہتے۔ ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ یہ بکری کا بچہ تمہارا ہوتا ؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو کان چھوٹے ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا جاتا۔ اب تو یہ مردہ ہے اس لیے ہم اسے کیسے پسند کریں۔ آپ نے فرمایا : جیسے تمہارے نزدیک یہ بکری کا مردہ بچہ بڑا ہی حقیر ہے۔ اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ “
مسائل
1۔ مال دارطبقہ کی اکثریت نے ہمیشہ انبیائے کرام کی دعوت کو ٹھکرایا ہے۔
2۔ مال دار لوگوں کی اکثریت اپنے مال اور افرادی قوت پر اترایا کرتی ہے۔
3۔ بےدین اور مال دار لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر گرفت نہیں ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
مال دار لوگوں کا کردار اور مال کی حقیقت :
1۔ جو کچھ زمین میں ہے وہ باعث آزمائش ہے۔ (الکہف : 7)
2۔ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں قلیل اور حقیر ہے۔ (التوبۃ : 38)
3۔ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے۔ (العنکبوت : 64)
4۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے۔ (آل عمران : 185)
5۔ لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی معمولی فائدہ ہے۔ (الرعد : 26)
6۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ (الحدید : 20)
7۔ دنیا کی زندگی کی مثال آسمان سے نازل ہونے والی بارش کی طرح ہے۔ (یونس : 24)
8۔ مالدار بخل کو اپنے لیے اچھا خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : 180)
9۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر ہے۔ (البقرۃ : 174)
Ayahs 34:36–38فہم القرآن
ربط کلام : بےدین مال دار طبقہ کا جواب اور رزق کی حقیقت۔
مال دار آدمی کا آہستہ آہستہ یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مال کی فراوانی میری محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے بالخصوص وہ مال دار طبقہ جنہیں کئی نسلوں سے مال کی کشادگی حاصل ہو اور وہ من مانی کی زندگی گزار رہے ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسی دراز کردی جاتی ہے تو وہ یقین کر بیٹھتے ہیں کہ یہ مال ہماری اور ہمارے بڑوں کی محنت اور ذہانت کا صلہ ہے۔ ان لوگوں کو یہ حقیقت باور کروانے کے لیے نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں بتلائیں کہ رزق کی کشادگی اور اس کا کم کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ انسان کو صرف محنت اور ذہانت کی بنیاد پر رزق کی کشادگی حاصل نہیں ہوتی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جسے چاہے رزق کی فراخی سے سرفراز کرے اور جس کا چاہے رزق کم کردے لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے لا علم ہوتی ہے۔ یعنی اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
لوگو ! مال اور اولاد پر اترانے کی بجائے اپنے رب کا شکرادا کرو اور اس کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرو۔ جس مال پر تم اتراتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ہونے کی نشانی نہیں۔ مال اور اولاد اکثر دفعہ انسان کو اپنے رب سے دور کردیتے ہیں۔ ہاں وہ شخص اللہ تعالیٰ کے ضرور قریب ہوگا بیشک وہ مال دار ہو یا غریب جو حقیقی طور پر ایمان لائے اور صالح اعمال کرتا رہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کے اعمال کا دوگنا بدلہ ہوگا اور وہ جنت کے بالاخانوں میں پُر سکون رہیں گے۔ سکون کے ذکر فرما کر اشارہ کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ دنیا کا مال اور اولاد انسان کے لیے سکون کا باعث ہو اکثر دفعہ مال اور اولاد بےسکونی کا باعث ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انہیں جہنم کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا جس میں یہ ناقابل برداشت اذّیت پائیں گے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن نیک اور بد لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا مل کررہے گی۔
2۔ نیک لوگ جنت میں امن و سلامتی کے ساتھ رہیں گے۔ 3۔ کفار جہنم میں ہمیشہ رسوا ہوتے رہیں گے۔
تفسیر بالقرآن
مال اور اولاد آزمائش ہیں :
1۔ مال اور اولاد دنیا کی نمائش ہیں باقی رہنے والے نیک اعمال ہیں۔ (الکہف : 46)
2۔ قیامت کے دن مال اور اولاد کام نہیں آئیں گے۔ (الشعراء : 88)
3۔ جان لو کہ مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔ (الانفال : 28)
4۔ اے ایمان والو تمہیں مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ (المنافقون : 9)
5۔ مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15)
6۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کے مال اور جان کے بدلے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ (التوبۃ : 111)
Ayah 34:39فہم القرآن
ربط کلام : بےدین مالداروں کا انجام بتلانے کے بعد اب پھر مال کی حقیقت بتلائی جارہی ہے۔
دنیا پرست لوگوں کے دلوں میں یہ بات سما جاتی ہے کہ مال و اسباب اور اقتدار ہماری محنت اور ذہانت کا نتیجہ ہے یہ لوگ اس غلط فہمی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں کہ کسی کو مال اور اقتدار کا ملنا اللہ تعالیٰ کی رضا کا نتیجہ ہے۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جسے چاہے رزق کشادہ عطا فرمائے اور جس کا چاہے رزق تنگ کر دے یہ اس کی اپنی حکمت ہے کہ دنیا میں اقتدار اور اسباب اکثر ان لوگوں کے پاس رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نافرمان اور اس کے بندوں پر ظلم کرنے والے تھے اور ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ اپنے رب سے ڈر ڈر کر زندگی گزار نے والے ہوتے ہیں نہ صرف اکثر ان کی گزران تنگ ہوتی ہے بلکہ ہمیشہ ظالموں کے ظلم کا شکار رہتے ہیں۔ ظالموں کے رزق کو بڑھانا اور نیک لوگوں کا رزق کم رکھنا یہ منعم حقیقی کی مشیّت پر منحصر ہے۔ وہ جس کا چاہے رزق کم کرے اور جس کا چاہے بڑھاتا چلا جائے یہ اس کی مرضی ہے اس میں کسی کا عمل دخل نہیں اور نہ ہی اس کے ہاں یہ کسی کے اچھا اور برا ہونے کا معیار ہے۔ البتہ جو نیک لوگ اس کی رضا کے لیے خرچ کریں گے وہ اس کا بدلہ پائیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہترین رزق دینے والا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے شرف قبولیت بخشتے ہیں۔ پھر اس کو اس طرح بڑھاتے ہیں جس طرح کہ تم اپنے بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔[ رواہ البخاری : باب الصَّدَقَۃِ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ ]
Ayahs 34:40–42فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں مال کو کفر و شرک کا ایک سبب قرار دیا ہے جس پر اترا کر لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد مال کا انجام ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی نیکو کار مخیرحضرات کا تذکرہ فرمایا کہ وہ جو خرچ کرتے ہیں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب ان مشرکوں کا عقیدہ اور انجام ذکر کیا جاتا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔
مشرکین میں ہمیشہ سے ایک طبقہ ایسا رہا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتا اور ان سے مدد طلب کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ قیامت کے دن ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ ایسے لوگوں کے سامنے ملائکہ کو کھڑے کر کے سوال کیا جائے گا کہ بتلاؤ یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے اور تمہارا ان کے ساتھ کیا واسطہ تھا ؟ ملائکہ دست بستہ ہو کر عرض کریں گے کہ بار الٰہا آپ تو ہر قسم کے شرک سے پاک اور مبرّا ہیں جہاں تک ہمارا معاملہ ہے۔ ہمارا مشرکوں سے کیا واسطہ، ہمارے مالک تو آپ ہیں یہ لوگ ہمارے نام پر جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انکاجنات پر ہی ایمان تھا۔ ملائکہ کی برأت کے بعد رب ذو الجلال اعلان فرمائیں گے کہ آج تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نفع اور نقصان دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اس کے بعد حکم صادر ہوگا کہ انہیں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ جہنم کو جھٹلایا کرتے تھے۔
یاد رہے کہ ملائکہ کو ” اللہ “ کی بیٹیاں قرار دینے اور ان کی عبادت کرنے والے صرف مکہ اور عرب کے مشرک ہی نہ تھے بلکہ آج بھی جاپان، فرانس اور دیگر ممالک میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی عبادت کرتے اور ان سے مدد مانگتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن ملائکہ ہمارے سفارشی ہوں گے۔
(کَانُوْا إِذَا نَزَلُوْا الْوَادِیَ قَالُوْا نَعُوْذُ بِسِیِّدِ ہٰذَا الْوَادِیْ مِنْ شرِّ مَا فِیْہِ ، فَتَقُوْلُ الْجِنُّ م ﷺ ا نَمْلکُِ لَکُمْ وَلَا لِاأنْفُسِنَا ضَرًّا وَلَا نَفْعاً )[ تفسیر الطبری : تفسیر سورة الجن ]
” عرب لوگ جاہلیت میں جب کسی جنگل یا وادی میں سفر کرتے تو آوازیں دیتے کہ ہم اس جنگل کی چیزوں کے شر سے سردار جن سے پناہ مانگتے ہیں۔ جن آگے سے جواب دیتے کہ ہم نہ تمہارے اور نہ اپنے نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ مشرکوں میں ایک طبقہ ہمیشہ سے ملائکہ اور جنّات کی عبادت کرتا آرہا ہے۔
2۔ قیامت کے دن ملائکہ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کی برأت کریں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک اور مبرّا ہے۔ 4۔ مشرکوں کو جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دنیا اور آخرت میں کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن ملائکہ کی حالت :
1۔ قیامت کے دن تمام فرشتے اور جبرائیل (علیہ السلام) اپنے رب کے روبرو قطار میں کھڑے ہوں گے۔ (النباء : 38)
2۔ قیامت کے دن فرشتے صف بنا کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (الفجر : 22)
3۔ قیامت کے دن فرشتے جنتیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے انہیں جنت میں داخل کریں گے۔ (الرعد : 23، 24)
4۔ قیامت کے دن ملائکہ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کا انکار کردیں گے۔ (سبا : 41)
Ayahs 34:43–45فہم القرآن
ربط کلام : توحید کی دعوت کے مقابلے میں مشرکین کا ردّ عمل۔
مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتیں تو ان کے کئی قسم کے ردّعمل ہوا کرتے تھے۔ کبھی آپ ﷺ کو مجنون اور جادو گر قرار دیتے اور کبھی جادو زدہ کہتے تھے۔ کبھی جھوٹا ہونے کا الزام لگایا کرتے اور لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے کہ یہ آدمی اپنی طرف سے آیات بنا بنا کر ہمیں اپنے آباء و اجداد کے طریقۂ عبادت سے ہٹانا چاہتا ہے۔ جب دیکھتے کہ ہمارے تمام الزامات اور ہتھکنڈوں کے باوجود لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہوتے جارہیں ہیں تو یہ لوگ قرآن مجید کو کھلا جادو قرار دے دیتے۔ ان کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس سے پہلے ان کی طرف نہ کوئی کتاب نازل کی گئی اور نہ ہی کوئی رسول ان کے پاس بھیجا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ لوگ بلا دلیل اپنی جہالت پر قائم ہیں۔ دراصل یہ لوگ اپنی مالداری کی بنا پر حقائق کو جھٹلائے جارہے ہیں۔ حالانکہ انہیں پہلے لوگوں کے مقابلے میں دنیا کے مال کا عشروعشیر بھی نہیں دیا گیا۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی جنہیں ہولناک عذاب نے آلیا جس سے انہیں بچانے والا کوئی نہ تھا۔
مسائل
1۔ اکثر لوگ حقائق کے باوجود اپنے آباء و اجداد کے طریقہ پر قائم رہتے ہیں۔
2۔ لوگ بلا دلیل انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا کرتے تھے۔
3۔ اہل مکہ کے پاس قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ سے پہلے کوئی کتاب اور نبی نہیں آیا تھا۔
4۔ کسی قوم کو دنیا کے مال و اسباب عذاب سے نہیں بچا سکتے۔
تفسیر بالقرآن
دنیا کے مال و اسباب کی حیثیت :
1۔ مال اور اولاد دنیا کی زینت ہیں۔ باقی رہنے والے نیک اعمال ہیں۔ (الکہف : 46)
2۔ قیامت کے دن مال اولاد کام نہیں آئیں گے۔ (الشعراء : 88)
3۔ جان لو کہ مال، اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔ (الانفال : 28)
4۔ اے ایمان والو تمہیں مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ (المنافقون : 9)
Ayah 34:46فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کو پے در پے پانچ استفسارات کرنے کے بعد سمجھایا گیا ہے کہ عذاب الٰہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنے قول و کردار پر غور کرو۔
قرآن مجید اپنی دعوت کو جبر سے منوانے کی بجائے لوگوں کو غورو فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اللہ کے لیے دو ، دو یا اکیلے اکیلے ہو کر سوچو کہ کیا مجھے جنون ہوگیا ہے ؟ میں تو تمہیں سخت عذاب سے متنبہ کررہا ہوں کہ اگر تم اسی روش پر چلتے رہے تو شدید عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے اور تمہیں کوئی بھی بچانے والا نہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ مگر اس کے باوجود لوگ بالخصوص اہل مکہ آپکی دعوت پر غور کرنے کی بجائے آپ کو مجنون کہتے۔ حالانکہ آپ نے ان میں چالیس سال کا عرصہ گزارا تھا جب صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر سر عام دعوت پیش کی تو سب سے پہلے یہ سوال کیا تھا کہ بتاؤ میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ جواب میں لوگوں نے بیک زبان ہو کر کہا تھا کہ ہم نے آپ کو ہر اعتبار سے سچا اور امین پایا ہے۔ (سیرت ابن ہشام) مگر اس کے باوجودک بھی آپ ﷺ کو مجنون کہتے اور کبھی جادو گر قرار دیتے تھے۔ حالانکہ بیت اللہ میں حجر اسود نصب کرنے کے وقت تمام لوگ آپ کی عقل و دانش کو خراج تحسین پیش کرچکے تھے۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ خَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی صَعِدَ الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَابَنِیْ فِھْرٍ یَابَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتَّی اجْتَمَعُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَّخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَاھُوَ فَجَاءَ اَبُوْ لَھَبٍ وَقُرَیْشٌ فَقَالَ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلاً تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ اَنَّ خَیْلًا تَخْرُجُ بالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ قَالُوْا نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا قَالَ فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ قَالَ اَبُوْ لَھَبٍ تَبًّا لَّکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَااَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ ) [ رواہ البخا ری : باب وانذر عشیرتک الاقربین ]
” عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں “ تو نبی ﷺ نکلے اور صفا پہاڑی پر چڑھ گئے ‘ آپ پکارنے لگے ‘ اے بنو فہر ! اے بنوعدی ! اسی طرح آپ نے قریش کے تمام قبائل کو مخاطب کیا۔ یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے گرد جمع ہوگئے۔ اور جو شخص نہ آسکا تو اس نے معلوم کرنے کے لیے کہ کیا معاملہ ہے، اپنا نمائندہ بھیج دیا۔ ابولہب اور قریش کے لوگ بھی آئے۔ آپ نے فرمایا ‘ مجھے بتاؤ ‘ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کی اوٹ سے نکل رہا ہے دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک لشکر وادی سے نکل کر تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے، تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ سب نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ ہم نے آپ کے بارے میں ہمیشہ سچائی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ‘ میں تمہیں اس شدید عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہیں پیش آنے والا ہے۔ یہ سن کر ابو لہب کہنے لگا، تو تباہ ہوجائے کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی ” ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و بربادہو جائے۔ “
مسائل
1۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو بار بار غور و فکر کی دعوت دی۔
2۔ اہل مکہ آپ ﷺ کی دانشمندی کا اعتراف کرنے کے باوجود آپ کو مجنون کہتے تھے۔
3۔ آپ ﷺ لوگوں کو عذاب شدید سے متنبہ فرمایا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
نبی کریم ﷺ پر لگائے گئے الزامات :
1۔ کفار نبی کریم ﷺ کو جادوگر کہا کرتے تھے۔ (یونس : 2)
2۔ کفار آپ ﷺ کو کاہن اور مجنون کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ آپ کاہن اور مجنون نہیں ہیں۔ (الطور : 29)
3۔ کفار آپ ﷺ کو شاعر کہتے تھے۔ (الطور : 30) 4۔ کفار نبی اکرم ﷺ کو جادوگر اور کذّاب کہتے تھے۔ (ص : 4)
5۔ کفار آپ ﷺ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ قرآن مجید خود بنا لیتے ہیں۔ (النحل : 101)
6۔ کفار نے انبیاء ( علیہ السلام) کو جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذّاریات : 52)
Ayahs 34:47–51فہم القرآن
ربط کلام : آدمی کی حماقت کی ایک وجہ اس کا مفاد اور لالچ ہوا کرتا ہے نبی معظم ﷺ کو لوگوں سے کوئی دنیوی مفاد نہ تھا جس بنا پر کفار کے سامنے حق بیان کرتے ہوئے چار استفسار کیے گئے ہیں۔
اے پیغمبر ﷺ ! انہیں فرما دیں کہ کیا میں نے تم سے اس دعوت کے کام پر کسی قسم کا کوئی مطالبہ کیا ہے جس بنا پر تم مجھے مجنون کہتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں کسی لالچ کے پیش نظرتمہارے نظریات کی مخالفت کرتا ہوں ؟ ہرگز نہیں میرا مقصد تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ لہٰذا اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ میرا صلہ میرے رب کے ذمہ ہے جو میرے اور تمہارے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب مجھ پر حق نازل کرتا ہے جسے میں من و عن تم تک پہنچا رہا ہوں۔ اس سے کسی کا کوئی معاملہ اور بات پوشیدہ نہیں کیونکہ وہ ہر قسم کے غیب سے واقف ہے۔ یاد رکھو ! حق آشکا رہ ہوچکا ہے کہ معبودان باطل نے نہ پہلی بار کسی چیز کو پیدا کیا اور نہ دوسری مرتبہ کسی کو پیدا کرسکتے ہیں۔ ان حقائق کے باوجود تم اپنے نقطہ نظر کے مطابق مجھے بھٹکا ہوا سمجھتے ہو تو اس کا وبال مجھ پر ہوگا اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کا نتیجہ ہے جو میری طرف میرا رب بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر بات فوری طور پر سننے والا ہے۔ یہ آپ کے بارے میں ایک سوال کا جواب ہے ورنہ آپ ﷺ حق پر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورة یٰس میں قسم کھا کر فرمایا ہے۔
(یٰسٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) [ یٰسٓ: 1 تا 4]
” یٰسٓ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی۔ کہ یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔ اور سیدھے راستے پر ہو۔ “
ان آیات میں قل کہہ کر چار باتیں آپ ﷺ کی زبان سے کہلوائی گئی ہیں۔ 1 میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ 2 جو کچھ میں تمہیں پہنچاتا ہوں وہ ” اللہ “ ہی کا نازل کرتا ہے۔ 3 حق یہ ہے کہ معبودان باطل نہ پہلی بار پیدا کرسکتے ہیں اور نہ دوسری بار 4 یقیناً میں اپنے رب کی ہدایت پر ہوں۔
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ دعوت کے بدلے میں کچھ نہیں لیتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سے باخبر ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ہی آپ ﷺ پر حق نازل فرمایا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر بات فی الفور سنتا ہے۔
5۔ نبی اکرم ﷺ حق پر قائم اور لوگوں تک حق پہنچانے والے تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر انسان کے قریب ہے اور اس کی ہر بات سننے والا ہے :
1۔ بیشک میرا رب دعاؤں کو سننے والا ہے۔ ( آل عمران : 38) 2۔ بیشک اللہ دعاؤں کو سننے والا ہے۔ ( ابراہیم : 39)
3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : 1) 4۔ اللہ تعالیٰ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ (ق : 16)
5۔ اللہ تعالیٰ انسان کے قریب ہے اور ہر کسی کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ ( البقرۃ : 186)
Ayahs 34:52–54فہم القرآن
ربط کلام : کفر و شرک پر قائم رہنے والوں کا انجام۔
کفار اور مشرکین جہنم کو دہکتے اور ہانپتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے پسینے چھوٹ جائیں گے اور ان کے کلیجے منہ کو آجائیں گے وہ اپنے طور پر بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ ابھی وہ بھاگنے کا سوچ ہی رہے ہوں گے کہ ملائکہ ان کی گردنیں دبوچتے ہوئے ان کے گلے میں جہنم کے طوق ڈال دیں گے اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں پہنا دیں گے۔ ان کو کوڑوں سے ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف دھکیل دیں گے۔ اس صورت حال میں جہنمی حسرت بھرے الفاظ اور انداز میں فریاد کریں گے کہ اب ہم ایمان لاتے ہیں کیونکہ ہم نے وہ سب کچھ دیکھ اور پالیا ہے جس کی ہم تکذیب کیا کرتے تھے۔ لیکن اس وقت ایمان لانے کا مقام اور موقعہ کہاں ہوگا۔ ایمان ان سے بہت دور ہوگا۔ یعنی انہیں ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے دنیا کی زندگی میں پورا پورا موقعہ دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے اس موقعہ کو کھو دیا۔ اب دار العمل کی بجائے دار الامتحان ہوگا اور اس کا انجام پانے کا وقت اور مقام ہوگا اس وقت ان کی امیدوں اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے گا۔ جس طرح ان سے پہلے جہنمیوں کے درمیان حائل کردیا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے بارے میں بےیقینی کا شکار تھے جو لوگ دنیا میں بےچینی کا شکار تھے اور آخرت میں ان کے اضطراب کی کوئی حد نہ ہوگی۔
کچھ مفسرین نے ان آیات کو دنیا کے عذاب پر منطبق کیا ہے کہ جب ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے تو وہ اس وقت بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں پاتے وہ ایمان لانے کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کا ایمان قبول نہیں کیا جاتا۔ جس شک میں مبتلا ہوتے اسی حالت میں موت کے گھاٹ اتار دیئے جاتے ہیں اور اسی انجام کو پہنچ جاتے ہیں جس انجام سے ان کے پیش رو دوچار ہوئے تھے۔
مسائل
1۔ مجرم جہنم کا عذاب دیکھ کر گھبرا کر بھاگنے کی کوشش کررہے ہوں گے تو انہیں جکڑ لیا جائے گا۔
2۔ مجرم ایمان لانے کی خواہش کا اظہار کریں گے لیکن انہیں موقعہ نہیں دیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
مجرموں کی خواہش اور آرزوئیں :
1۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : 12)
2۔ جہنمی جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو دوبارہ لوٹادیے جائیں گے۔ (السجدۃ : 20)
3۔ جب بھی ارادہ کریں گے کہ ہم جہنم سے نکلیں تو اس میں واپس لوٹائے جائیں گے۔ (الحج : 22)
4۔ اے رب ہمارے ! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : 37)
5۔ اے رب ہمارے ! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون : 107)