Ayah 35:1فہم القرآن
تمام تعریفات ” اللہ “ ہی کے لیے ہیں جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ وہی ملائکہ کو پیغام رساں بنانے والا ہے۔ اسی نے ملائکہ کو دو دو، تین تین اور چارچار پَر عطا فرمائے ہیں۔ وہ جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ ہر کام کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لیے بھی تعریف کا مستحق ہے کہ اس نے زمین و آسمانوں کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ اس نے آسمانوں کو اسی ساخت اور پرداخت کیساتھ بنایا جس طرح ان کی تخلیق کا مقصد تھا۔ زمین کو تہہ در تہہ بچھایا اور اس میں ایسی صلاحیتیں رکھیں جو اس کے بسنے والوں کے لیے ضروری تھیں۔
ملائکہ کی تخلیق کے بیان کے فوراً بعد ” یَزِیْدُ “ کا لفظ لا کر یہ واضح فرمایا کہ ملائکہ صرف چار چار پَر رکھنے والے ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے ملائکہ بھی پیدا فرمائے ہیں جن کا وجود سینکڑوں پروں پر مشتمل ہے۔ اس کی تخلیق میں جمود اور ٹھہراؤ نہیں بلکہ وہ مخلوق در مخلوق پیدا کرنیوالا ہے۔ زمین کی طرف دیکھیے جو نباتات آج سے ایک صدی پہلے موجود نہ تھی آج وہ بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ نامعلوم قیامت تک کون کون سی نباتات زمین سے برآمد ہونے والی ہیں۔ یہی حالت معدنیات کی ہے جس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ آسمان کی طرف کسی لطیف ترین دوربین سے دیکھیں تو عقل حیران رہ جائے گی کہ لاکھوں کی تعداد میں مٹنے والے سیاروں کی جگہ دوسرے سیارے نمودار ہورہے ہیں۔ آسمان کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم ہی انہیں وسعت دینے والے ہیں۔ (الذّاریات : 47) ملائکہ کی تخلیق کے ذکر میں ارشاد ہے کہ انہیں پیغام رسانی کے لیے بنایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے ملائکہ کو مختلف قسم کی ذمہ داریاں دے رکھی ہیں جو انتہائی تابع فرمان خادم کی حیثیت سے اپنے خالق کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہیں ان کی ذمہ داریوں میں پیغام رسانی کا ذکر فرما کر انسانوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ تمہاری تمام حرکات و سکنات کو ملائکہ نہ صرف نوٹ کرتے ہیں بلکہ وہ اسے اپنے رب کے حضور پیش بھی کرتے ہیں۔ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے کارکنان ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو براہ راست دیکھنے والا اور جاننے والا ہے۔” قَدِیْرٌ“ کا لفظ استعمال فرما کر مشرکوں کے اس عقیدہ کی نفی کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خدائی میں ملائکہ کو بھی کچھ اختیار دے رکھے ہیں ایسا ہرگز نہیں۔ کیونکہ وہ پوری کائنات میں بلا شرکت غیرے کامل اور مکمل اختیار رکھنے والا ہے۔
(عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِی ﷺ رَأَی جِبْرِیلَ وَلَہُ سِتُّمِاءَۃِ جَنَاحٍ )[ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ وَالنَّجْمِ ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اس کے چھ سو پر تھے۔ “
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں ملائکہ کا تذکرہ اور ان کے کام :
1۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی گواہی دیتے ہیں۔ ( النساء : 166)
2۔ قرآن مجید میں 4 فرشتوں کا نام آیا ہے۔ جبرائیل، میکائیل، ملک الموت، مالک۔ (البقرۃ، 98، السجدۃ : 11، الزخرف : 77)
3۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں۔ (نبا : 38) 4۔ جبریل (علیہ السلام) مقرب ترین فرشتہ ہے۔ (النجم : 8)
5۔ جبریل (علیہ السلام) طاقتور فرشتہ ہے۔ (النّجم : 5) 6۔ جبریل (علیہ السلام) دیانت دار فرشتہ ہے۔ (الشعراء : 193)
7۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر قرآن اتارا ہے۔ (البقرۃ : 97)
8۔ (اسرافیل) قیامت کے دن صور پھونکے گے۔ (الزمر : 68) 9۔ جہنم کے کنٹرولر فرشتے کا نام مالک ہے۔ (الزخرف : 77)
10۔ قیامت کے دن 8 فرشتے اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 17)
11۔ اللہ تعالیٰ کے عرش کو ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں اور مومنوں کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں۔ (المؤمن : 7)
12 فرشتے جنت پر معمور ہیں۔ (الزمر : 73) 13۔ فرشتے جہنم پر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ ( الزمر 71)
14۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 30) 15۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دیتے ہیں۔ ( ہود : 69)
16۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے نافرمانوں کو عذاب دیتے ہیں۔ (ہود : 77) 17۔ ملائکہ لوگوں کے اعمال کا درج کرتے ہیں۔ ( انفطار : 11)
18۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں۔ ( آل عمران : 124، 125)
Ayah 35:2فہم القرآن
ربط کلام : قادر قدیر کے اختیار ات کی ایک اور جھلک پر غور کریں۔
مشرکین میں سے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں یہاں اس عقیدہ کی کھلے الفاظ میں نفی کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی ذات کو رائی کے دانے کے برابر بھی اپنی خدائی میں اختیارات نہیں دیئے۔ وہ کسی کو اپنی رحمت سے سرفراز کرنا چاہے تو اسکی رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اسے کوئی نازل کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے حکم اور فیصلے نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پوری طرح غلبہ حاصل ہونے کے باوجود اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کہ وہی دینے اور عطا فرمانے والا ہے۔ یہ ایسا عقیدہ اور فکر ہے جس سے انسان نہ صرف مخلوق سے بےنیاز ہوجاتا ہے بلکہ در در کی ٹھوکریں کھانے سے بھی بچ جاتا ہے۔ اس کے اخلاق اور معاملات میں اخلاص کا پہلو غالب رہتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ ہمدردی اس لیے نہیں کرتا کہ آنے والے کل کو یہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے گا۔ وہ کسی بڑے کو سلام کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ خوف نہیں ہوتا کہ اگر اس نے اسے سلام نہ کیا تو یہ اسے کسی چیز سے محروم کر دے گا۔ کیونکہ اس کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ جو چیز میرا رب مجھے عطا کرنا چاہے گا اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو اس نے روک لیا اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ اسی عقیدہ کو تازہ اور پختہ رکھنے کے لیے نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
” حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پڑھتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے، تو اس ثناء کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو ثناء اور عظمت تیرے لیے بندہ بیان کرتا ہے ہم تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء کرنا چاہیے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع دینے والا نہیں۔ “ [ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے گا۔ تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر کرم فرمائے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
4۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم کرنا چاہے تو کوئی اسے دے نہیں سکتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے غالب ہے۔
تفسیر بالقرآن
زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں :
1۔ ” اللہ “ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ : 107)
2۔ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ (آل عمران : 26)
3۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران : 26)
4۔ ” اللہ “ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : 26)
5۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ : 49)
6۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک : 1)
7۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح : 14)
Ayah 35:3فہم القرآن
ربط کلام : یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی نعمتوں سے سرفراز کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو رحمت اور نعمتوں سے نوازنے والا ہے اس کے سوا کوئی کسی کو ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی عطا نہیں کرسکتا۔ وہی منعم حقیقی اور خالق کل ہے اس کا ارشاد ہے کہ لوگو ! میری نعمتوں کو یاد رکھا کرو۔ جب انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ مجھے صرف اللہ ہی نوازنے والا ہے، وہی میرا رازق اور خالق ہے تو پھر اس کے حاشیہ خیال سے یہ بات نکل جاتی ہے کہ مجھے کوئی اور بھی نوازسکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ لوگوں سے استفسار فرماتا ہے کہ بتاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں زمین و آسمان سے رزق فراہم کرتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں۔ جب اس کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں تو پھر کس بنیاد پر تم دوسروں کو داتاو دستگیر، حاجت روا، مشکل کشا کہتے اور سمجھتے ہو ؟
یاد رہے کہ یہاں الٰہ کا لفظ خالق اور رازق کے معنٰی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں تو پھر اس کو چھوڑ کر یا اس کے ساتھ دوسروں کو ملا کر کیوں گمراہی میں بھٹکتے ہو ؟
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا انسان کو کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ نعمت بھی عطا نہیں کرسکتا۔
2۔ اللہ ہی کائنات کا خالق اور رازق ہے۔ 3۔ اس کے سوا زمین و آسمان میں کچھ بھی کوئی دینے والا نہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو داتا و دستگیر کہنے والا راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے۔
Ayah 35:4فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید کی وجہ سے ہی لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور توحید کی وجہ سے ہی مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو جھوٹا ہونے کا الزام دیا۔
اعلان توحید سے پہلے اہل مکہ رسول کریم ﷺ کو ” الصّادق “ اور ” الامین “ القاب کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو وہ لوگ نہ صرف آپ کے مخالف ہوئے بلکہ انہوں نے آپ کو جھوٹا قرار دیا۔ جس پر آپ کا رنجیدہ ہونا فطری بات تھی۔ حقیقت بتلانے اور آپ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ آپ کو جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا لہٰذا گھبرانے اور افسردہ خاطرہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر کسی نے لوٹ کر اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ ان الفاظ میں آخرت کا عقیدہ سمجھاتے ہوئے ایک انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ دنیا میں جو چاہو کرلو بالآخر تم نے ہمارے حضور حاضر ہونا ہے۔
سورۃ الانعام آیت 33 میں آپ ﷺ کو اس طرح تسلی دی گئی کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی ہرزہ سرائی آپ کو پریشان کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظالم آپ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ سورة الانعام آیت 34 میں آپ ﷺ کو یہ بتلا کر تسلی دی گئی کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا ہے لیکن انہوں نے اس تکذیب پر صبر کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آپہنچی۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ کے رب کے ارشادات تبدیل نہیں ہوا کرتے یقیناً آپ کے پاس پہلے انبیاء (علیہ السلام) کے حالات پہنچ چکے ہیں۔
(عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ، قَالَ إِنِّی لَقَاءِمٌ بِسُوْقِ الْمَجَازِ إِذْ اأقْبَلَ رَجُلٌ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ لَہٗ وَہُوَ یَقُوْلُ یٰاَ یُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا، وَرَجُلٌ یَتْبَعُہٗ یَرْمِیْہِ بالْحِجَارَۃِ یَقُوْلُ یٰاَ یُّہَا النَّاسُ إِنَّہٗ کَذَّابٌ فَلَا تُصَدِّقُوْہٗ ، فَقُلْتُ مَنْ ہٰذَا ؟ قَالَ ہٰذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِیْ ہَاشِمٍ الَّذِیْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ، قَالَ فَقُلْتُ مَنْ ہٰذَا الَّذِیْ یَفْعَلُ بِہٖ ہٰذَا ؟ قَالَ ہٰذَا عَمُّہٗ عَبْدُ الْعُزّٰی )[ رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ : باب قدوم طارق بن عبداللہ وأ صحابہ علی النبی ﷺ وقول المرأۃ التی کانت معہم فی رسول اللہ ﷺ ]
” طارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ کے مجاز نامی بازار میں کھڑا تھا جب ایک آدمی بازار میں داخل ہوا اور وہ جبّہ پہنے ہوئے تھا۔ وہ کہہ رہا تھا اے لوگو ! اس بات کا اقرار کرلو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ فلاح پا جاؤ گے۔ دوسرا آدمی اس کے پیچھے پیچھے اسے پتھر مار رہا تھا اور کہہ رہا تھا لوگو ! اس جھوٹے کی بات کو نہ مانوں میں نے پوچھا یہ کون ؟ ہے اس نے کہا یہ بنی ہاشم کا ایک فرد ہے جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتا ہے میں نے کہا جو اس کے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے وہ کون ہے ؟ اس نے کہا یہ اس کا چچا عبدالعزیّٰ ہے۔ (ابو لہب) “
مسائل
1۔ نبی کریم ﷺ اور ان سے پہلے انبیاء کو جھٹلایا گیا۔ 2۔ بالآخر ہر کام کا انجام اللہ کے ہاں پیش ہوتا ہے
تفسیر بالقرآن
آپ ﷺ اور آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں کا سلوک :
1۔ اگر انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران : 184)
2۔ آپ کو اگر انہوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ (یونس : 41)
3۔ اگر انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : 147)
4۔ اگر انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح اور دوسرے انبیاء۔ (الحج : 42)
5۔ جو لوگ جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ : 39)
6۔ قوم نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ (العنکبوت : 37)
7۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گذرتے تھے تو وہ ان سے مذاق کرتے۔ (ہود : 38)
8۔ یہ لوگ آپ سے مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (التوبۃ : 79)
9۔ جب وہ ہماری نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصّٰفٰت : 14)
10۔ جب بھی ان کے پاس رسول آیا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ (الحجر : 11)
11۔ جب بھی ان کے پاس آپ سے پہلے رسول آئے تو انہوں نے انہیں جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذّاریات : 52)
12۔ لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جب بھی رسول آئے تو انہوں نے ان کے ساتھ استہزاء کیا۔ (یٰس : 30)
Ayahs 35:5–6فہم القرآن
ربط کلام : سب نے ” اللہ “ کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ ایک اعلان ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہوگا۔
ہر کسی نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ اس لیے سمجھایا گیا ہے کہ لوگو ! اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور پکا ہے کہ بالآخر تمہیں اپنے اعمال کے ساتھ میرے حضور پیش ہونا ہے۔ لہٰذا دنیا کے دھندوں اور مفادات میں پھنس کر اپنے رب کے وعدے کو بھول نہ بیٹھنا اور نہ ہی اپنے رب کے بارے میں شیطان کے فریب میں آنا۔ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا اور اس سے بچتے رہنا وہ اپنے پیچھے چلنے والوں کو جہنم کی طرف ہی بلاتا اور دھکیلتا ہے۔ دوسرے مقام پر شیطان کی شیطنت سے بچانے کے لیے یہاں تک ارشاد فرمایا کہ اے آدم کی اولاد ! شیطان تمہیں اس طرح نہ پھسلا دے جس طرح تمہارے ماں، باپ آدم اور حوا ( علیہ السلام) کو پھسلا کر جنت سے نکلوا دیا تھا۔ جنت میں انکا لباس اتر گیا اور وہ جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرمگاہوں کو چھپاتے رہے۔ خبر دار ! شیطان اور اس کے چیلے تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ (الاعراف : 28)
(عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ مَعَ إِحْدَی نِسَاءِہِ فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ فَدَعَاہُ فَجَاءَ فَقَالَ یَا فُلاَنُ ہَذِہِ زَوْجَتِی فُلاَنَۃُ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ مَنْ کُنْتُ أَظُنُّ بِہِ فَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّ بِکَ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ )[ رواہ مسلم : باب بَیَانِ أَنَّہُ یُسْتَحَبُّ لِمَنْ رُءِیَ خَالِیًا بامْرَأَۃٍ وَکَانَتْ زَوْجَۃً أَوْ مَحْرَمًا لَہُ أَنْ یَقُولَ ہَذِہِ فُلاَنَۃُلِیَدْفَعَ ظَنَّ السَّوْءِ بِہِ ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ کھڑے تھے وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا آپ نے اسے بلا کر فرمایا اے فلاں یہ میری فلاں بیوی ہے۔ اس نے عرض کی آپ کے متعلق کون ایسا گمان کرسکتا ہے ؟ نہ ہی میں نے ایسا سوچا ہے۔ آپ نے فرمایا شیطان خون کی گردش کی طرح آدمی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ “
شیطان سے بچنے کا حکم اور دعا :
” حضرت سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کی موجودگی میں آپس میں گالی گلوچ کی اور ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں میں سے ایک شدید غصے میں تھا اور دوسرے کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ تھا۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا میں ایسی بات جانتا ہوں اگر وہ اسے پڑھ لے تو اس سے اس کا غصہ جاتا رہے۔ وہ پڑھے : أَعُوذ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیمِ ” میں شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ “ صحابہ کرام ؓ نے اس شخص سے کہا کیا تم نبی اکرم ﷺ کا فرمان نہیں سنتے ہو ؟ اس شخص نے کہا میں پاگل تو نہیں ہوں۔ (اس کا یہ مقصد ہے کہ میں نے آپ کا فرمان سن لیا ہے اور اسے پڑھتا ہوں) “ [ رواہ البخاری : کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب ]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے کہ قیامت برپاہو کر رہے گی۔ 2۔ دنیا کے مال و اسباب پر دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کے مغالطوں سے بچنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
دنیا کی حقیقت :
1۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ (الرّعد : 26)
2۔ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں نہایت مختصر ہے۔ (التّوبۃ : 38)
3۔ دنیا کی زندگی تھوڑی ہے اور آخرت متقین کے لیے بہتر ہے۔ (النّساء : 77)
4۔ یقیناً دنیا کی زندگی عارضی فائدہ ہے اور آخرت کا گھر ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔ (المؤمن : 43)
5۔ دنیا کا فائدہ قلیل ہے۔ (النساء : 77) 6۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر ہے۔ (البقرۃ : 174)
Ayah 35:7فہم القرآن
ربط کلام : شیطان کے پیچھے لگنے اور قیامت کے دن کو جھٹلانے کا انجام۔ شیطان سے بچنے، آخرت پر ایمان لانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا انعام۔
قرآن مجید اپنے اسلوب کے مطابق یہاں بھی نیکی اور بدی، اچھائی اور برائی کا نتیجہ بیک مقام ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن کے قاری کوفی الفور معلوم ہو کہ برائی کا انجام کیا ہوگا اور اچھائی کا کیا صلہ ملے گا۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کفر و شرک کیا اور قیامت کی تکذیب کی انہیں جہنم میں شدید عذاب دیا جائے گا۔ جو اللہ اور اس کے رسول پر حقیقتاً ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے۔ ان کی بشری کوتاہیوں کو معاف کرتے ہوئے انہیں اجرِعظیم سے نوازاجائے گا۔
جنت اور جہنم کا موازنہ :
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِّنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِّنَ نَّارِ جَھَنَّمَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْھِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَّتِسْعِیْنَ جُزْءً ا کُلُّھُنَّ مِثْلُ حَرِّھَا)
[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں یقیناً اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول ! جلانے کے لیے یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا اس آگ سے وہ انہتر حصے زیادہ گرم ہے ان میں سے ہر حصے کی گرمی دنیا کی آگ جیسی ہے۔ “
(وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ یَّسِیْرُ الرَّاکِبُ فِیْ ظِلِّھَا ماءَۃَ عَامٍ لَایَقْطَعُھَا وَلَقَابُ قَوْسِ اَحَدِکُمْ فِیْ الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِّمَّا طَلَعََتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ اَوْتَغْرُبُ )
[ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سایہ میں سو سال چلتا رہے ‘ تب بھی اس سایہ ختم نہ ہو سکے گا اور یقیناً تم میں سے کسی ایک شخص کی جنّت میں کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے ‘ جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔ “
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے) ۔ “
مسائل
1۔ کفر و شرک کرنے والوں کو شدید عذاب دیا جائے گا۔
2۔ سچے ایمان کے مطابق صالح اعمال کرنے والوں کو اجرِکبیر سے سرفراز کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا :
1۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ (الزلزال : 7 تا 8)
2۔ برائیوں میں مرنے والے کے لیے جہنم ہے۔ (البقرۃ : 71)
3۔ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اس کا بدلہ جہنم ہے۔ (النازعات : 37)
4۔ شیطان اور اس کے پیروکاروں کو جہنم کی سزا دی جائے گی۔ (بنی اسرائیل : 63)
5۔ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیوں کا بدلہ ملے گا جو برائی کرے گا اس کی سزا صرف اتنی ہی ہوگی۔ (الانعام : 160)
6۔ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا ہے۔ (الانبیاء : 86)
7۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہ ظاہر کامیابی ہے۔ (الجاثیۃ : 30)
8۔ قیامت کے دن نیک لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے اس میں ان کی دعا سلام ہوگا۔ (ابراہیم : 23)
9۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہ ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26)
Ayah 35:8فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کے جہنم میں جانے کی بنیادی وجہ۔
قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ شیطان انسان کے سامنے برے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ جو لوگ فکری طور پر گمراہ ہوچکے ہوتے ہیں انہیں ایسے اعمال اور حرکات بہت اچھی لگتی ہیں۔ جیسا کہ ہمارے دور میں بیشمار نوجوان ہیں جو عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھتے ہیں اور الٹی سلائی والے لباس پہنتے ہیں۔ دیکھنے والے کو ان کی شکل و صورت اور لباس اس قدر مکروہ نظر آتے ہیں کہ شریف آدمی دوبارہ دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ لیکن ایسے نوجوانوں کو بالکل حیا نہیں آتی بلکہ وہ اس تہذیب پر فخر کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر دور اور معاشرے میں فیشن کے نام پر نئے سے نئے ڈیزائن اپنائے جاتے ہیں جو دیکھنے میں انتہائی برے لگتے ہیں لیکن شیطان برے لوگوں کے لیے ایسے کاموں کو فیشن بنا دیتا ہے۔
ابتدا میں یہ باتیں کچھ لوگوں کے ضمیر پر بوجھ ہوتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ شیطان ان کے ضمیر پر اس طرح مسلط ہوجاتا ہے کہ جو کام کل انہیں برے محسوس ہوتے تھے اگلے دن وہی کام ان کے لیے خوبصورت بن چکے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو گمراہی میں کھلا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ یہ ہدایت کے مقابلے میں گمراہی، اچھائی کے بدلے برائی پسند کرنے والے ہیں۔ کیونکہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو اس سے ہدایت چاہتا ہے اسے ہدایت مل جاتی ہے اور جو گمراہی کا طلبگار ہوتا ہے اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس اصول کے پیش نظر اللہ تعالیٰ گمراہی اور ہدایت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! ہدایت واضح ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اپنے لیے گمراہی کو پسند کرلیا ہے تو آپ کو ان کی حالت پر حد سے زیادہ غمگین نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ انہیں خبردار کرتے رہیں کہ جو کچھ یہ کہتے اور کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے۔ گویا کہ ان الفاظ میں ان کے لیے ایک انتباہ ہے تاکہ یہ لوگ اپنے افکار و اعمال پر نظر ثانی کریں۔
(فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ عَلَی آَثَارِہِمْ إِنْ لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہَذَا الْحَدِیْثِ أَسَفًا) [ الکھف : 6]
” شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کرنے والے ہیں، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔ “
(فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ أَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) [ الشعراء : 3]
” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھودیں گے اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ “
مسائل
1۔ برے لوگوں کے لیے شیطان ان کے اعمال خوبصورت بنا دیتا ہے۔ 2۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
3۔ برے لوگوں کے اعمال پر حد سے زیادہ افسردہ نہیں ہونا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔
تفسیر بالقرآن
شیطان کن لوگوں کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیتا ہے :
1۔ ظالموں کے دل سخت ہوگئے اور شیطان ان کے اعمال کو مزین کر دکھاتا ہے۔ (الانعام : 43)
2۔ اکثر مشرکین کے لیے قتل اولاد کا عمل مزین کردیا۔ (الانعام : 137)
3۔ اللہ کے علاوہ سورج کو سجدہ کرنے والوں کے برے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (النمل : 24)
4۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
5۔ ہر گروہ کے بد اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (الانعام : 109)
6۔ شیطان نے کہا میں ضرور ان کے اعمال ان کے سامنے مزین کر کے پیش کروں گا اور انہیں گمراہ کرونگا۔ (الحجر : 39)
7۔ حد سے تجاوز کرنے والوں کے اعمال ان کے لیے مزین کیے جاتے ہیں۔ (یونس : 12)
8۔ انہوں نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ان کے لیے برے اعمال مزین کر دئیے گئے۔ (التوبۃ : 37)
9۔ کفار کے لیے ان کی تدابیر کو مزین کردیا گیا تو انہوں نے اللہ کی راہ سے روکنا شروع کردیا۔ (الرعد : 33)
Ayah 35:9فہم القرآن
ربط کلام : برے اعمال پر خوش ہونے والے لوگ در حقیقت آخرت کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد جی اٹھنے کا ثبوت بارش کے حوالے سے دیا اور سمجھایا گیا ہے۔
دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہیں جو اعتقاداً یا عملاً آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ اعتقادی طور پر آخرت کا انکار کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ جب انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو پھر اسے کس طرح زندہ کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ سوچو اور دیکھو ! کہ جب بارش کا نام و نشان نہیں ہوتا اور لوگ بارش کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں فصلیں ویران اور جڑی بوٹیاں گل سڑ جاتی ہیں۔ جس سے نہ صرف صحراء اور بیاباں بھیانک منظر پیش کرتے ہیں بلکہ شہروں میں بسنے والے ہزاروں لوگ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ شہروں کی چہل پہل پر مردگی چھا جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سینکڑوں میلوں سے بادلوں کو اٹھا کر ایسے مقامات پر بارش برساتی ہیں جہاں کی زمین مردہ ہوچکی ہوتی ہیں یعنی وہ چیز اگاتی۔ بارش کے بعد وہی مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے جہاں صحراء نظر آتا تھا وہاں ہریالی اور سبزہ دکھائی دیتا ہے۔ جو اللہ مردہ زمین سے نباتات پیدا کرتا ہے وہی قیامت کے دن اس زمین سے مردوں کو زندہ کرے گا۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ اَرْبَعُوْنَ قَالُوْ یَا اَبَا ھُرَیْرۃَ اَرْبَعُوْنَ یَوْمًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ شَھْرًا قَالَ اَبَیْتُ قَالُوْا اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَبَیْتُ ثُمَّ یُنْزِلُ اللّٰہُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَیُنْبَتُوْنَ کَمَآ یَنْبُتُ الْبَقْلُ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ )[ متفق علیہ ] وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمِ قَالَ کُلُّ اِبْنِ اٰدَمَ یَاکُلُہٗ التُّرَاب الاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْہُ خُلِقَ وَفِیْہِ یُرَکَّبُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ ابوہریرہ ؓ سے ان کے شاگردوں نے کہا چالیس دن ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ہیں ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں ؟ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا، انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ (بخاری و مسلم) مسلم کی ایک روایت میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا انسان کے تمام اعضاء کو مٹی کھاجائے گی۔ لیکن دمچی کو نہیں کھائے گی انسان اس سے پیدا کیا جائے گا اور اسی سے جوڑا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہی ہواؤں کے ذریعے بادلوں کو چلاتا اور بارش برساتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش کے بعد زندہ کرتا ہے۔ 3۔ قیامت کے دن اسی طرح ہی مردوں کو زندہ کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو دوبارہ پیدا کرے گا :
1۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : 7)
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : 60)
3۔ تمام مردوں کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : 36)
4۔ قیامت کے دن ” اللہ “ ہی سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ : 6 تا 18)
5۔ یقیناً قیامت کے دن اللہ تمہیں جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں۔ (الانعام : 12)
6۔ آپ فرما دیں تمہارے پہلے اور آخر والے سب کو ضرور اکٹھا کیا جائے گا۔ (الواقعۃ : 47 تا 50)
7۔ پھر ہم تمہیں تمہاری موت کے بعد اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 56)
8۔ آپ فرما دیں اللہ ہی نے تخلیق کی ابتداء کی پھر دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم کہاں بہک گئے ہو ؟ (یونس : 34)
9۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11)
Ayah 35:10فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اسی طرح ہی عزت اور ذلّت کا مالک ہے۔
انسان کا وقار اوراقبال اسی میں ہے کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کا عقیدہ اپنے ذہن میں ہر دم تازہ اور قائم رکھے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ جس انسان کا آخرت کے بارے میں عقیدہ اٹھ جاتا ہے وہ بےہودہ اور برے کاموں میں عزت تلاش کرتا ہے۔ یہی سوچ اور روّیہ اہل مکہ کا تھا وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے اس نبی کی دعوت تسلیم کرلی تو لوگوں کی نظروں میں ہمارا وقار ختم ہوجائے گا۔ اسی کے پیش نظر نبی ﷺ کی مخالفت کے درپے رہتے تھے۔ انہیں اور ان کے حوالے سے دنیا بھر کے لوگوں کو یہ عقیدہ بتلایا اور سمجھایا جارہا ہے کہ عزت ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو ایک خاک نشین کو آسمان کی بلندیوں سے ہمکنار کردے اور چاہے تو بادشاہ کو اس کے برے اعمال کی وجہ سے ذلت سے دوچار کر دے۔ وہ عزت اور ذلّت دینے پر پوری طرح قادر ہے۔ اسی کی طرف پاکیزہ کلمات اور صالح اعمال اٹھائے جاتے ہیں جو انسان کی حقیقی عزت اور دائمی اقبال کا زینہ ہیں۔ جو شخص پاکیزہ خیالات، اچھے کلمات، اعلیٰ اخلاق اور صالح کردار کا حامل ہوتا ہے وہی اس کی بارگاہ میں عزت پاتا ہے۔ جو لوگ دین حنیف کے مقابلے میں بری تدبیریں کرتے ہیں نا صرف ان کے مکروفریب نا کام ہوجائیں گے بلکہ انہیں شدید عذاب سے بھی دوچار کیا جائے گا۔ کلمہ طیبہ سے مراد عقیدہ توحید ہے۔ جس بنا پر آدمی ذہنی پستی سے نکل کر فکر و کردار کی بلندی حاصل کرتا ہے۔ وہ کسی کی تکریم اس لیے نہیں کرتا کہ اس سے مجھے عزت ملے گی۔ اس کا ایمان ہوتا ہے کہ عزت اور ذلّت صرف ” اللہ “ کے ہاتھ میں ہے۔ یہاں تک ” حق “ کے خلاف مکرو فریب کرنے والوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ذلیل کردیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مکروفریب کو پسند نہیں کرتا اور آخرت میں مکروفریب کرنے والوں کو شدید عذاب دیا جائے گا۔
(عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَلاَ یَتْرُکُ اللَّہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَہُ اللَّہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ عِزًّا یُعِزُّ اللَّہُ بِہِ الإِسْلاَمَ وَذُلاًّ یُذِلُّ اللَّہُ بِہِ الْکُفْرَوَکَانَ تَمِیمٌ الدَّارِیُّ یَقُولُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِی لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرُ وَالشَّرَفُ وَالْعِزُّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِراً الذُّلُّ وَالصَّغَارُ وَالْجِزْیَۃُ ) [ رواہ احمد : مسند تمیم دارمی ]
” حضرت تمیم داری ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات کا اندہیرا اور دن کا اجالا پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کچے پکے مکان کو نہیں چھوڑے گا مگر دین کو وہاں داخل فرمائے گا۔ معزز کو عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلیل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ معزز کو دین اسلام کے ساتھ عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلت کفر سے ملے گی۔ حضرت تمیم داری ؓ کہا کرتے تھے میں اپنے گھروالوں میں سے انہیں پہچانتا ہوں جو دین کی وجہ سے معزز ہوئے اور بھلائی حاصل کی۔ اور جو کافر تھے ان پر ذلت، حقارت مسلط کردی گئی اور وہ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے۔ “
مسائل
1۔ ہر قسم کی عزت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 2۔ مکّار لوگوں کے مکر و فریب بالآخر نا کام ہوجاتے ہیں۔
3۔ عقیدہ توحید اور صالح کردار کے سبب ہی انسان حقیقی عزت پاسکتا ہے۔
4۔ دین کے خلاف مکروفریب کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ شدید ترین عذاب دے گا۔
تفسیر بالقرآن
مکرو فریب کی ناکامیاں :
1۔ ان کے مکر کا انجام دیکھیں ہم نے مکر کرنے والوں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النّمل : 51)
2۔ عنقریب جرائم اور مکر و فریب کرنے والوں کو اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (الانعام : 124)
3۔ ان سے پہلے لوگ بھی مکر و فریب کرچکے ہیں۔ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ (الرّعد : 42)
4۔ عیسائیوں نے تدبیر کی اللہ نے وہ تدبیر انہی پر لوٹا دی اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 54)
5۔ انہوں نے آپ ﷺ کے خلاف سازش کی اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش ناکام بنا دی۔ (الانفال : 30)
Ayah 35:11فہم القرآن
ربط کلام : مرنے کے بعد قیامت کے دن جی اٹھنے کی دوسری دلیل۔
اس آیت سے دو آیات پہلے ” بعث بعد الموت “ کو بارش اور مردہ زمین سے تشبیہ دی گئی ہے یہاں انسان کی مرحلہ وارتخلیق کے حوالہ سے انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والو ! ذرا اپنی تخلیق پر غور کرو کہ جس ” اللہ “ نے تمہیں پیدا کیا ہے وہی تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گا اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے کو تمہاری تخلیق کا ذریعہ بنایا، پھر تمہارے درمیان میاں بیوی کا ناطہ جوڑا۔ کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے۔ کسی کو زیادہ یا تھوڑی عمر ملنا بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔ عمر میں کمی، بیشی کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور سب کچھ اس کے ہاں لوح محفوظ میں تحریر ہے۔ یہ تمام معاملات اور اختیارات اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جنہیں بروئے کا لانا اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت ہی آسان ہے۔ اس آیت مبارکہ میں سات کاموں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی تفصیلات قرآن مجید کے کئی مقامات پر بیان ہوئی ہیں۔ 1 اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر مٹی کے جوہر سے انسان کی تخلیق کا سلسلہ شروع کیا۔ 2 ہر انسان جوہرِحیات یعنی نطفے سے تخلیق پاتا ہے۔ 3 اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے میاں بیوی کا رشتہ قائم فرمایا۔ 4 اللہ تعالیٰ حاملہ کے حمل سے پوری طرح واقف ہوتا ہے۔ 5 کسی کو زیادہ یا تھوڑی عمر دینا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 6 اللہ تعالیٰ نے ہر بات لوح محفوظ پر درج کر رکھی ہے۔ 7 اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرنا مشکل نہیں۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ وَرَفَعَ الْحَدِیثَ أَنَّہُ قَالَ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَکَّلَ بالرَّحِمِ مَلَکًا فَیَقُولُ أَیْ رَبِّ نُطْفَۃٌ أَیْ رَبِّ عَلَقَۃٌ أَیْ رَبِّ مُضْغَۃٌ فَإِذَا أَرَاد اللَّہُ أَنْ یَقْضِیَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَکُ أَیْ رَبِّ ذَکَرٌ أَوْ أُنْثَی شَقِیٌّ أَوْ سَعِیدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَیُکْتَبُ کَذَلِکَ فِی بَطْنِ أُمِّہِ )[ رواہ مسلم : باب کَیْفِیَّۃِ الْخَلْقِ الآدَمِیِّ فِی بَطْنِ أُمِّہِ وَکِتَابَۃِ رِزْقِہِ وَأَجَلِہِ وَعَمَلِہِ وَشَقَاوَتِہِ وَسَعَادَتِہِ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رحم میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہے وہ پوچھتا ہے اے میرے رب ! یہ نطفہ ہے اے میرے رب ! یہ گوشت کا لوتھڑا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی کی تخلیق کا فیصلہ فرماتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب مذکر یا مؤنث بدبخت یا خوش بخت اس کا رزق کتنا ہے اس کی عمر کتنی ہے اسی طرح سب کچھ انسان کی ماں کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ “
تفسیر بالقرآن
انسان کی تخلیق کے مراحل :
1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 2۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12)
3۔ اللہ نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الحجر : 27) 4۔ حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ (النساء : 1)
5۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : 4) 6۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
7۔ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے۔ (النساء : 1)
8۔ اللہ نے انسانوں میں سے ہی ان کی بیویاں بنائیں اور ان سے بچے پیدا فرمائے۔ (النحل : 72)
9۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
10۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکھف : 37)
11۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر انسان بنایا۔ (الحج : 5)
Ayah 35:12فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا تعارف کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو ہوائیں چلاتا اور بارش برساتا ہے، وہی عزت کا مالک ہے اور اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر ایک نطفے سے انسان کی تخلیق کا سلسلہ شروع فرمایا۔ اب ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ ہی سمندر کے میٹھے اور کڑوے پانی کو اکٹھا چلانے والا ہے۔ وہ اپنی قدرتوں اور نعمتوں کا اس لیے تذکرہ کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔
دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ کیا کفار نے غور نہیں کیا کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا اور اسی نے ہر زندہ چیز پانی سے پیدا فرمائی۔ کیا پھر بھی تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ (الانبیاء : 30) جس پانی سے زندہ مخلوق کو پیدا کیا گیا ہے اس پانی کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں ایک میٹھا اور خوش ذائقہ ہے دوسرا اتنا کھاری ہے جو حلق کو زخمی کردیتا ہے۔ سورة الرحمن آیت 19 تا 20 میں یہ بھی وضاحت فرمائی ہے کہ دو سمندر ہیں ایک میٹھا اور دوسرا کھاری، دو نوں ایک ہی جگہ بہہ رہے ہیں۔ لیکن آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے کیوں کہ رب رحمن نے دونوں کے درمیان نظر نہ آنے والا پردہ حائل کر رکھا ہے جو ایک دوسرے کو ملنے نہیں دیتا ؟ پردے سے مراد وہ اجزا بھی ہوسکتے ہیں جو دونوں پانیوں میں الگ الگ ہوتے ہیں جو دونوں پانیوں کو آپس میں ملنے نہیں دیتے۔ (اللہ اعلم) لوگو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کی ناقدری کرو گے۔ غور کرو ! کہ ایک سمندر کا پانی اتنانمکین اور کڑوا ہے کہ حلق سے گزر نہیں سکتا لیکن اسی پانی میں پیدا ہونے اور پلنے والی مچھلیاں جن کا تم گوشت کھاتے ہو ان میں کسی قسم کی کڑواہٹ نہیں پائی جاتی۔ آخر یہ کس کی قدرت کا نتیجہ ہے کہ عمر بھر کڑوئے پانی میں رہنے والی مچھلی کا گوشت نہ صرف کڑواہٹ سے پاک ہے بلکہ خوراک کے اعتبار سے انتہائی مفید ہے جس میں دل کو تکلیف پہنچانے والی چکناہٹ نہیں پائی جاتی ہے۔
بے شک انسان نے تیز سے تیز رفتار ہوائی جہاز اور مواصلات کے ذرائع تیار کر لئے ہیں مگر آج بھی پوری دنیا کی تجارت کا بیشتر حصہ بحری جہازوں اور کشتیاں کا محتاج ہے۔ اسی طرح سب سے قیمتی ہیرے، جو ہرات سمندر سے نکالے جاتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے پانی کو کھاری اور میٹھا بنایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کی تہہ میں ہیرے جواہرات پیدا فرمائے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو سمندر کے سینے پر جہاز چلانے کی صلاحیت عطا فرمائی۔
تفسیر بالقرآن
پانی اور اس کے فوائد :
1۔ ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی۔ (الانبیاء : 30)
2۔ اللہ تعالیٰ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11)
3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تاکہ تم طہارت حاصل کرو۔ (الانفال : 11)
4۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ (النمل : 60)
5۔ اللہ تعالیٰ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99)
6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے مختلف انواع کے پھل پیدا فرمائے۔ (فاطر : 37)
7۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے ذریعے تمہیں پھلوں جیسا رزق عطا فرمایا : (البقرۃ : 22)
8۔ اللہ تعالیٰ نے تمام نباتات کو پانی کے ذریعے پیدا کیا۔ ( طٰہٰ : 53)
9۔ پانی کے ذریعے ہی بنجر زمین زرخیز ہوتی ہے۔ ( النحل : 65) 10۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پانی اور مٹی سے پیدا کیا۔ ( الطارق : 6)
11۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے برکت والا پانی نازل فرما کر اس کے ذریعے بہت سے باغات سرسبز و شاداب کر دئیے۔ ( ق : 9)
Ayah 35:13فہم القرآن
ربط کلام : میٹھے اور کڑوے پانی، مچھلیوں، کشتیوں اور جو ہرات کے ذکر کے بعد رات اور دن کا ذکر کیونکہ رات اور دن بھی قدرت کی بڑی، بڑی نشانیوں میں سے عظیم نشانی ہیں اور اسی سے ہی زندگی کا نظام ترتیب پاتا ہے۔
قرآن مجید میں کئی بار ذکر ہوا ہے کہ لیل و نہار کی گردش، سورج اور چاند کا آنا جانا ” اللہ “ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں۔ بنیادی طور پر دن اور رات کا تعلق سورج اور چاند کی گردش کے ساتھ ہے۔ سورج اور چاند کے بارے میں سورة یٰس میں فرمایا ہے کہ نہ سورج چاند کو پاسکتا ہے اور نہ چاند سورج کے ساتھ مل سکتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ رات اور دن کے آنے، جانے میں سورج کا مرکزی کردار ہے۔ جونہی سورج طلوع ہوتا ہے تو رات کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کا اندھیرا عود کر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا نظام اس طرح بنایا اور چلایا ہے کہ کبھی دن رات پر ایک حد تک غلبہ پاتا ہے اور کبھی رات دن کے ایک حصے کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ نہ دن رات کے کچھ حصہ پر یکدم غلبہ پاتا ہے اور نہ رات یکبارگی دن کو اپنے دامن میں لپیٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لیے ایک رفتار اور نظام الاوقات مقرر کر رکھا ہے۔ سائنسدان کی ریسرچ کے مطابق کھربوں سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ آج تک لیل ونہار کی آمد ورفت میں خلل واقع نہیں ہوا۔ یہ سلسلہ مضبوط نظم کے ساتھ قیامت تک جاری رہے گا۔ اس میں قدرت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انہیں بنانے اور چلانے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ اگر اس کے سوا یا اس کے ساتھ اور کوئی چلانے والے ہوتے تو بالیقین اس نظام میں کوئی نہ کوئی خلل واقع ہوتا۔ کیونکہ اسے چلانے والا ایک ہی الٰہ ہے۔ اس لیے یہ نظام منظم طریقے کے ساتھ جاری وساری ہے جو قیامت تک اس طرح ہی چلتا رہے گا۔ جہاں تک سورج کی روشنی اور اس کی تپش کے فوائد ہیں اور چاند کی چاندنی اور اس کے فائدے ہیں وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی ان کا شمار نہیں کرسکتا اور یہی حال رات اور دن کے فوائد کا ہے جن سے ہر آدمی مستفید ہوتا ہے۔ اپنی نعمتوں سے مستفید کرنے والا اور لوگوں کی زندگی ترتیب دینے والا صرف ایک اللہ ہے اور وہی لوگوں کا رب اور بادشاہ ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے خالق اور مالک کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا خیرخواہ اور مددگار سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ پکارا جاتا ہے وہ کھجور کی گھٹلی کے پردے کے برابر بھی اختیارات نہیں رکھتے۔” قِطْمِیْرُ “ کھجور کے اس پردے کو کہا جاتا ہے جو اس کی گھٹلی کے درمیان لکیر میں پایا جاتا ہے یہ پردہ اس قدر باریک اور نازک ہوتا ہے کہ اکثر اوقات کھجور کے گودے کے ساتھ چمٹا رہتا ہے اور دیکھنے والے کو دکھائی نہیں دیتاگویا کہ بہت ہی حقیر اور کمزور ہوتا ہے۔ مگر مشرک ان لوگوں کو خدا کی خدائی میں شریک کرتے ہیں جن کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی سب کا مالک ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی نے چاند اور سورج کو مسخر فرمایا ہے۔ 4۔ چاند اور سورج اپنے اپنے وقت اور مدار میں چلے جارہے ہیں۔
5۔ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنیوالا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو کھجور کی گٹھلی کے پردے کے برابر بھی اختیار نہیں دیا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہی میں کسی کو کچھ بھی اختیار نہیں دیا :
1۔ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ (الحج : 41) 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرہ : 20)
3۔ ” اللہ “ پیدا کرتا ہے اور مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔ (القصص : 68)
4۔ قیامت کے دن آسمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ( الزمر : 67)
Ayah 35:14فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو مشرکین پکارتے ہیں ان کی حیثیت۔
قرآن مجید باربار ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو نہ پکارا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ سے بھی مدد مانگتا ہے اور اس کے ساتھ بتوں، فوت شدگان، جنّات، ملائکہ یا کسی اور غیر مری طاقت سے بھی امداد طلب کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے قیام، رکوع، سجدہ اور نذرونیاز پیش کرتا ہے اسی طرح ہی درسروں کے سامنے جھکتا اور نذرانے پیش کرتا ہے۔ گو یا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عبادت کرتا اور ان کو پکارتا ہے۔
قرآن مجید اس بات سے بھی روکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہ پکاراجائے۔ پہلے طریقہ کے لیے ” وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہٖ “ کے الفاظ آئے ہیں اور دوسرے انداز کے لیے ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہٖ “ یا ” مِنْ دُوْنِہٖ “ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس کا صاف معنٰی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے مدد طلب نہیں کرنی چاہیے۔ بیشک وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا حضرت عزیر (علیہ السلام) یا کوئی فوت شدہ ہستی۔ تمام فوت شدگان کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ نہیں سنتے۔ بفرض محال اگر وہ سن بھی لیں تو وہ تمہاری فریاد کا جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے دن جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ اپنے پکارنے والوں کا انکار کردیں گے۔ اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے یہ الفاظ لا کر ثابت کیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی نہ سن سکتے ہیں اور نہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔
لوگو ! سنو اور سوچو ! تمہارا رب تمہیں شرک کے بارے میں کس طرح باربار روکتا ہے اور اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ اس علیم وخبیر کے سوا کوئی تمہیں اس طرح نہ سمجھا سکتا اور نہ بتلا سکتا ہے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ]
” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب پانے والے سے فرمائے گا کہ اگر دنیا اور جو کچھ اس میں ہے تیرے پاس ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پر دینے کے لیے تیار ہے ؟ وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا وہ یہ کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا مگر تو شرک سے باز نہ آیا۔ “
مسائل
1۔ فوت شدگان کسی کی بات نہیں سنتے اور نہ ہی جواب دے سکتے ہیں۔
2۔ قیامت کے دن فوت شدگان اپنے ساتھ کیے گئے شرک کی نفی کریں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ باربار لوگوں کو شرک کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے سوا کسی اور کو پکارنا شرک ہے :
1۔ بس ایک الٰہ کے سوا کسی دوسرے الٰہ کو نہ پکارو۔ (القصص : 88) 2۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام : 41)
3۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاروجو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ (یونس : 106)
4۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں صرف اسی کو پکارو (المومن : 65)
5۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نا پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہی ہے۔ (القصص : 88)
6۔ وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں خالصتاً اسی کو پکارو۔ (المومن : 65)
7۔ سب کو صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو۔ (البینۃ : 5)
8۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکاریں ورنہ آپ عذاب میں مبتلا ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ (الشعراء : 213)
9۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (النساء : 36)
10۔ مومنو ! اللہ کو اخلاص کے ساتھ پکارو اگرچہ کفار کے لیے یہ ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ (المومن : 14)