Ayahs 35:42–43فہم القرآن
ربط کلام : اے پیغمبر ﷺ ! آج جو لوگ آپ کی دعوت اور ذات کی مخالفت کرتے ہیں ان کی حالت یہ تھی کہ آپ کی بعثت کے انتظار میں ایک دوسرے کے سامنے قسمیں اٹھایا کرتے اور کہتے تھے کہ ہم مبعوث ہونے والے نبی پر ضرور ایمان لائیں گے۔
مکہ اور سرزمین حجاز میں مدت مدید تک کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ یہاں کے باسیوں کو اہل کتاب جہالت اور گمراہی کے طعنہ دیتے تھے جس کے جواب میں اہل مکہ قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے کہ جب ہم میں کوئی نبی مبعوث ہوگا تو ہم اس کی دعوت ضرور قبول کریں گے اور تم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔ لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں میں حضرت محمد ﷺ کو رسول منتخب فرمایا اور آپ نے اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی توحید سے کیا تو اہل مکہ نے شرک و کفر چھوڑنے کی بجائے آپ کے خلاف ایک سے ایک بڑھ کر گھناؤنی سازش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہ صرف ان کی مخالفت میں ناکام اور نامراد کیا بلکہ ان کی مخالفت کا نتیجہ انہیں کے خلاف نکلا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بسا اوقات سازش کرنے والوں کی سازشیں کامیاب بھی ہوجاتی ہیں۔ جس طرح پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور آپ ﷺ کے بارے میں کچھ واقعات پائے جاتے تھے۔ جس میں بظاہر کفار کامیاب ہوئے۔ آپ ﷺ طائف گئے تو وقتی طور پر آپ کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا لیکن آخر کار اہل طائف آپ پر ایمان لائے اہل مکہ نے بھی متحد ہو کر آپ کو قتل کرنے کے لیے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا جس میں آپ کا بچ نکلنا محال تھا۔ لیکن اہل مکہ کو اپنے منصوبہ میں بد ترین ذلت اٹھانا پڑی۔ اس کے بعد بار بار مدینہ پر یلغار کرتے رہے لیکن بالآخر آپ ﷺ کے سامنے معافی کے خواستگار ہوئے۔ ” علی ھٰذا لدّلائل “ کفار کے مکر و فریب ان کے خلاف ثابت ہوئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ مکروفریب کرنے والا بالآخر خود ہی اس کا خمیازہ بھگتا کرتا ہے۔ دنیا میں اکثر اور آخرت میں ہر صورت ایسا ہی ہوگا۔ اے نبی ﷺ جہاں تک آپ کے مخالفوں کا معاملہ ہے یہ بھی عملاً اسی انتظار میں ہیں کہ ان کے ساتھ پہلے لوگوں جیسا سلوک کیا جائے۔ یقین رکھیں کہ ان کے ساتھ ایسا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اصول کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ چناچہ مکہ کے اکثر سردار بدر میں قتل ہوئے اور باقی مسلمان ہوگئے۔
مسائل
1۔ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کا انتظار ہورہا تھا۔ 3۔ مکرو فریب کا انجام خود مکار کے خلاف ہوا کرتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے اصول بدلا نہیں کرتے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کے خلاف سازشیں اور انکا انجام :
1۔ کفار نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئے۔ ( الشعراء : 119)
2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو جلانے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے۔ ( الانبیاء : 68)
3۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی دھمکی دی مگر ناکام ہوا۔ ( الشعراء : 65)
4۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو پھانسی دینے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ (النساء : 158)
5۔ منافقین نے سازشیں کرنے کے لیے مسجد ضراربنائی جسے مسمار کردیا گیا۔ (التوبۃ : 107)
6۔ نبی ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کی گئی مگر مکہ والے ناکام اور ذلیل ہوئے۔ (الانفال : 30)
Ayah 35:44فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کی آمد اور حقائق جاننے کے باوجود اہل مکہ آپ کے خلاف مکروفریب کر رہے تھے اس لیے انہیں تاریخ کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے ایک بار پھر سمجھایا گیا ہے۔
دنیا میں عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع میں ایک بہت بڑا ذریعہ تاریخ عالم پڑھنا اور اس پر غور کرنا ہے۔ جس سے آدمی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ پہلی اقوام کا کردار کیا تھا اور ان کا انجام کیا نکلا ؟ اسی لیے قرآن مجید کئی مرتبہ لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا اور فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اپنے برے کردار کے برے انجام کے بارے میں شک ہے تو دنیا کی تاریخ پڑھو اور اس کا جغرافیہ دیکھو ! یقیناً تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جو لوگ تم سے پہلے نیست و نابود کیے گئے ان کا کردار اور انجام کیا ہوا ؟ مکر کرنے والے اپنی جاہ و حشمت اور مال و دولت پر بڑے نازاں تھے۔ اس لیے آپ کے مخالفوں کو باربار انتباہ کیا گیا ہے کہ دیکھو اور غور کرو کہ تم سے پہلے ذلت کے گھاٹ اترنے والی قومیں کس قدر قوت و سطوت کی مالک تھیں۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا تو وہ سسکیاں لے لے کر اپنی جانیں جان آفریں کے حوالے کررہے تھے اس وقت کوئی ان کو چھڑا نے اور بچانے والا نہ تھا۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ مہلت دیئے ہوئے ہے تو یہ اس کی کرم نوازی اور مشیت کا تقاضا ہے۔ لیکن جب وہ کسی فرد اور قوم کو ذلّت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر زمینوں اور آسمانوں میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بےبس کرنے والا نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ سب کچھ جاننے والا اور اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayah 35:45فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس لیے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اس کے حضور اپنے گناہوں کی توبہ کرلیں۔
رب کریم کی عطاکردہ مہلت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کی بجائے مجرم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فی الفور ہماری گرفت نہیں کرتا اور ہمیں بدستور دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت دیئے جارہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہم پر ناراض نہیں۔ ایسے لوگوں کی خوش فہمی دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے جرائم کی وجہ سے انہیں دنیا میں پوری، پوری سزا دینا چاہے تو روئے زمین پر کوئی بھی چلنے پھر نے والا باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک وقت معین تک مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے جب کسی قوم یا فرد کی مہلت پوری ہوجاتی ہے تو وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اس میں دنیا اور آخرت کے دونوں انجام شامل ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر جگہ اور ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔ ” بَصِیْرً “ کی صفت لا کر ایک دفعہ پھر انتباہ کیا ہے کہ مجرموں کو مہلت دینے کا معنٰی یہ نہیں کہ ” اللہ “ ان کے باطل افکار اور برے کردار سے بیخبر ہے۔ نہیں وہ سب کچھ دیکھتا ہے مگر اپنے طے شدہ فیصلے کے مطابق مہلت دئیے جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کی دنیا میں پکڑ کرتا ہے اور کچھ کو چھوڑ دیتا ہے۔ تاہم آخرت میں مجرموں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو پوری، پوری طرح سزا دینا چاہے تو زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا باقی نہ رہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو باربار مہلت دیتا ہے۔ 2۔ ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر ہے۔