36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

یٰس کا تعارف سورة یٰس مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی۔ پانچ رکوع اور تراسی آیات پر مشتمل ہے۔ ربط سورة : سورة فاطر کا اختتام اس انتباہ پر ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے پکڑنے پر آئے تو زمین میں انسان ہی نہیں بلکہ چوپائے بھی نہ بچ سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک وقت تک لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے جب اس مہلت کا وقت ختم ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے سامنے پیش کر دے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو ہر حال میں دیکھنے والا ہے۔ سورة یٰس کا آغاز اس فرمان سے شروع ہوا کہ اے رسول لوگوں کی ہرزہ سرائی پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپ اپنے رب کے نزدیک لوگوں کے لیے قائد اور سردار ہیں اور آپ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں لہٰذا اپنا کام جاری رکھیں اور ” اللہ “ پر بھروسہ رکھیں۔ (عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ یسَ مَنْ قَرَأَ یس کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِقِرَاءَتِہَا قِرَاءَ ۃَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ وَقَالَ أَبُو عیسَی ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ)[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ یٰسٓ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر چیز کا دل ہوتا ہے قرآن کا دل سورة یٰسٓ ہے جو ایک دفعہ سورة یٰس پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَرَأَ طہ ویس قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ ، فَلَمَّا سَمِعْتِ الْمَلاَءِکَۃُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوبَی لأُمَّۃٍ یَنْزِلُ ہَذَا عَلَیْہَا، وَطُوبَی لأَجْوَافٍ تَحْمِلُ ہَذَا، وَطُوبَی لأَلْسِنَۃٍ تَتَکَلَّمُ بِہَذَا) [ رواہ الدارمی : باب فِی فَضْلِ سُورَۃِ طہ ویس (لم تتم دراستہ)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے ہزار سال پہلے سورة طٰہ اور یٰس کی تلاوت فرمائی۔ فرشتوں نے قرآن کی تلاوت سنی تو کہنے لگے اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ قرآن نازل ہوگا، ان سینوں کے لیے مبارک ہو جو اس قرآن کو اٹھائیں گے اور ان زبانوں کو خوش آمدید ہو جو اس قرآن کی تلاوت کریں گی۔ “ سورة یٰسکے پہلے دورکوع میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا ثبوت دیا گیا ہے جس کی ابتدا اس طرح کی ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں اس سے پہلے ڈرانے والا نہیں آیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی کیونکہ ان کی گردنوں میں جہالت کے طوق پڑچکے ہیں اس لیے ان کو سمجھانا یا نہ سمجھانا برابر ہوچکا ہے۔ ان کے سامنے اس بستی کا ذکر کریں جس میں اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے تین پیغمبر بھیجے۔ بستی والوں نے ان پر ایمان لانے کی بجائے یہ دھمکی دی کہ کہ ہم تمہیں پتھر مار مار کر ختم کردیں گے۔ پیغمبروں کی تائید کے لیے اسی بستی کے مضافات سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اس بستی والوں کو سمجھایا لیکن انہوں نے اسے شہید کردیا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے جنّت میں داخل کیا اور اس کے پیغام کو قرآن مجید میں ذکر فرمایا۔ سورت کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں ہر قسم کی نباتات اور شمس و قمر کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح چاند اور سورج طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور مردہ زمین سے نباتات اگتی ہیں یہی انسان کی زندگی کا معاملہ ہے اور اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا۔ جوں ہی اسرافیل دوسرا صور پھونکے گا تو لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف اس طرح جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ جوں ہی لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو قیامت کا انکار کرنے والے اپنے آپ پر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم پر افسوس ! ہم قیامت کا انکار کرتے تھے حالانکہ انبیائے کرام (علیہ السلام) صحیح فرماتے تھے۔ اس دن جنتی لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ مسندوں پر بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مشغول ہوں گے اور جو چاہیں گے ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان پرربّ کریم کی مسلسل اور ہمیشہ ہمیش کرم نوازیاں ہوتی رہیں گی۔ ان کے مقابلے میں مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے پوچھا جائے گا کیا تم سے یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے مگر تم نے اپنے عہد کی پاسداری نہ کی لہٰذا جہنّم میں داخل ہوجاؤ۔ سورة یًٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعروشاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی آپ کی شان ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے شعرگوئی کریں۔ اس لیے قرآن مجید شاعرانہ تخیّل نہیں ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اگر تمہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تو اپنی پیدائش پر غور کرو اور زمین و آسمان کو دیکھو ! جس رب نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ اگر انہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تو انہیں بتلائیں اور سمجھائیں وہی رب دوبارہ پیدا کرے گا جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو بغیر نمونے کے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ اپنی مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ وہ سب کچھ پیدا کرنے والا اور ہر بات کا علم رکھنے والا ہے جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف ” کُنْ “ کا حکم صادر فرماتا ہے اور وہ کام بالکل اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے اور زمین و آسمانوں کی ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تم سب نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔

Ayahs 36:1–2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے قرآن حکیم کی

فہم القرآن سورۃ فاطر کے آخری رکوع میں اہل مکہ کے ایک قول کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ جو نہی نبی آخرالزماں آئے گا تو ہم دوسروں سے بڑھ کر ہدایت پانے والے ہوں گے لیکن جب آپ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو یہ لوگ تکبر کی بنا پر کفر و شرک میں اور ہی آگے بڑھ گئے اور پروپگنڈا کرنے لگے محمد ﷺ صراط مستقیم سے بھٹک چکا ہے۔ سورة یٰس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے سردار ہیں، انبیاء (علیہ السلام) کی جماعت میں شامل ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ اہل علم نے لفظ ” یٰسین “ کے دو معانی ذکر کیے ہیں۔ عربی کی ایک لغت کے مطابق یٰس کا معنٰی اے انسان ! اور دوسری لغت کے مطابق اس کا معنٰی ہے اے سردار۔ دونوں حوالوں اور اس سورت کے سیاق وسباق کے اعتبار سے یہ حقیقت بالکل آشکارا ہے کہ یٰس سے مراد سروردوعالم کی ذات اقدس ہے کیونکہ جنس کے اعتبار سے آپ انسان تھے اور مقام کے لحاظ سے تمام انسانوں بلکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ کو سردار کے لقب سے پکارنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کے مخالفوں کو معلوم ہو کہ جس شخصیت کی شان گھٹانے کے درپے ہو وہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر صاحب شان اور علوّمرتبت کی حامل ہے کہ خالق کائنات اسے انسانوں کا سردار کہہ کر پکارتا ہے اس میں ایک طرف سرور دوعالم کے لیے تسلی کا پہلو پایا جاتا ہے اور دوسری طرف مخالفین کو یہ باور کرانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کس شان سے نوازا ہے۔ آپ کی شان صرف سردار کے لقب کے ساتھ ہی خاص نہیں کیا گیا بلکہ خالق کائنات نے قرآن کریم کی قسم اٹھا کر آپ کو اطمینان بخشا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کا تعلق اور شمار ” اللہ “ کے رسولوں میں ہے۔ کفار آپ کے بارے میں جو چاہیں ہرزہ سرائی کریں لیکن آپ ہر حال میں سردار اور صراط مستقیم پر ہیں۔ قرآن مجید کی قسم اٹھانا : حضرت امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ایک باب باندھا ہے (باب الْحَلِفِ بِعِزَّۃِ اللَّہِ وَصِفَاتِہِ وَکَلِمَاتِہٖ ) جس میں انہوں نے دو احادیث ذکر کی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی قسم اٹھائی جاسکتی ہے کیونکہ قرآن مجید ” اللہ “ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس لیے قرآن مجید کی قسم اٹھانا جائز ہے۔ آپ ﷺ کی شان اور مقام : ” بیشک میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا پھر اس کو مزین کیا لیکن صرف ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی۔ لوگ اس گھر کو دیکھتے اور اس ایک اینٹ کی جگہ خالی پا کر تعجب کا اظہار کرتے اور کہتے : یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ؟ آپ نے فرمایا : میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب خاتم النبیین ] (أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَبِیَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ یَوْمَءِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاہُ إِلَّا تَحْتَ لِوَاءِيْ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْہُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب المناقب ] ” میں قیامت کے دن آدم کی ساری اولاد کا سردار ہوں گا مگر اس اعزاز پر فخر نہیں کرتا اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اس پر میں اتراتا نہیں۔ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) سمیت تمام نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا مگر اس پر کوئی فخر نہیں کرتا۔ “ مسائل 1۔ سرورِدوعالم ﷺ پوری کائنات کے سردار اور امام ہیں۔ 2۔ نبی ﷺ صراط مستقیم کے داعی ہیں۔ 3۔ قرآن مجید بڑی ہی پُر حکمت کتاب ہے۔ تفسیر بالقرآن سرورِدوعالم ﷺ کا مقام اور آپ کی شان : 1۔ آپ ﷺ کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف : 158) 2۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء : 107) 3۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : 40) 4۔ نبی کریم ﷺ کو لوگوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبۃ : 128) 5۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی الی اللہ، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : 45۔ 46)
Ayahs 36:3–5

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

اور سیدھے راستے پر ہیں

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ قرآن غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے

فہم القرآن ربط کلام : آپ ﷺ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو کفار آپ کے مخالف ہوگئے۔ ان کی مخالفت کا سبب بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں کفار کا پروپیگنڈہ تھا کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی ہرزہ سرائی کرتے تھے کہ سردار عبد المطلب کا پوتا راہ راست سے بھٹک چکا ہے۔ ان الزامات کی تردید کے لیے آپ کو سردار کے لقب سے پکارتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا حلف دے کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ کو اس لیے صاحب قرآن رسول بنا کر بھیجا تاکہ ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کے انجام سے ڈرائیں جن کے باپ دادا کو متنبّہ نہیں کیا گیا تھا اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان پر آپ کے رب کا فرمان سچ ثابت ہوا کہ ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے ماضی، حال اور مستقبل کا علم ہے اس لیے یہ بات آپ ﷺ کے سامنے واضح کردی گئی کہ آپ کا کام لوگوں کو غفلت سے بیدار کرنا ہے منوانا نہیں۔ جہاں تک ان کے فکر و عمل کا معاملہ ہے ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی اور یہی کچھ ہوا کہ نبوت کے آغاز میں مکہ کے جو سردار آپ کی مخالفت میں پیش پیش تھے آخر دم تک ان کی اکثریت ایمان کی دولت سے محروم رہی اور اسی حالت میں نبوت کے چودھویں سال بدر کے میدان میں قتل کردئیے گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے لوگوں کو ڈرانے والا کوئی رسول نہیں آیا تو پھر وہ ان کے باپ دادا مجرم کیسے ٹھہرے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل مکہ اور اس کے قرب و جوار میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول نہیں آیا لیکن بیت اللہ کی برکت اور اس کی مرکزیت کی وجہ سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد جو رسول عرب میں مبعوث کیے گئے ان کی تعلیم یقیناً اہل مکہ تک پہنچتی رہی جس میں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا گیا تھا مگر اس کے باوجود اہل مکہ نے ملت ابراہیم (علیہ السلام) سے تغافل اختیار کیے رکھا۔ اسی بنا پر یہ الفاظ استعمال ہوئے کہ اہل مکہ کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا جائے کیونکہ ایک مدت بیت چکی ہے کہ ان کے پاس براہ راست ڈرانے والا نہیں آیا۔ آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی دعا۔ (رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُھُمْ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) [ البقرۃ : 129] ” اے ہمارے رب ! ان میں انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کے سامنے تیری آیات پڑھے انہیں کتاب و حکمت سکھائے۔ اور وہ انہیں پاک کرے یقیناً تو غالب حکمت والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ 2۔ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد لوگوں کو غفلت سے بیدا کرنا ہے۔ 3۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لایا کرتی۔ تفسیر بالقرآن نزول قرآن کا مقصد : 1۔ قرآن مجید شک و شبہ سے بالا تر کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 3۔ قرآن کریم برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 2۔ قرآن مجید ایمان والوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (النحل : 64) 4۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 5۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے باعث رحمت اور شفا ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 6۔ قرآن حمید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : 1) لوگوں کی اکثریت کا حال : 1۔ اکثر لوگ حقیقت نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 2۔ لوگوں کی اکثریت شکر نہیں کرتی۔ (یوسف : 38) 3۔ آپ ﷺ کے چاہنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ (یوسف : 103) 4۔ قرآن آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (ھود : 17)
Ayahs 36:6–8

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہیں کیے گئے اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

ان میں سے اکثر لوگ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں، اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دئیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے ہوئے ہیں، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی اکثریت کیوں ایمان نہیں لاتی ؟ ایمان کی دولت پانے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنی انا اور جہالت سے کنارہ کش ہوجائے۔ جو شخص جہالت اور انا پرستی نہیں چھوڑتا درحقیقت وہ متکبر ہوتا ہے۔ متکبر انسان حقیقت اور سچائی کو تسلیم کرنا اپنے لیے عار سمجھتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی جس بنا پر ان کے بڑوں نے یہ کہہ کر آپ ﷺ کی نبّوت کا انکار کیا اور کہا کہ نبّوت مکہ یا طائف کے بڑے سرداروں میں سے فلاں کو ملنا چاہیے تھی۔ کچھ لوگوں نے آباء و اجداد کی رسومات کا بہانہ بنا کر آپ ﷺ کی اتباع سے اجتناب کیا۔ اس طرح وہ مختلف قسم کے تعصبات اور فخر و غرور میں مبتلا تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی گردنیں اس طرح اکڑی ہوئی تھیں جیسے ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق پڑے ہوئے ہوں۔ جس کی وجہ سے ان کے سر نہیں جھکتے۔ اس استکبار کی وجہ سے مکہ والوں کی حالت یوں ہوچکی تھی جیسے ان کے آگے پیچھے دیوار کھڑی کردی گئی ہو اور ان کے چہروں پر پردہ ڈال دیا گیا ہو جس وجہ سے وہ نہ ہدایت کی طرف آسکتے ہیں اور نہ ہی چشم بصیرت سے دیکھ سکتے ہیں۔ جس شخص یا قوم کی یہ حالت ہوجائے ظاہر ہے کہ اسے کوئی بھی راہ راست پر نہیں لاسکتا۔ انہیں سمجھانا اور نہ سمجھانا یکساں ہوا کرتا ہے اس لیے ارشاد ہوا کہ اے ﷺ محبوب آپ ! انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اسی بات کو سورة البقرہ کی آیت 7 میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ان کو عظیم عذاب ہوگا “ البقرۃ کی آیت گیارہ میں فرمایا کہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اب یہ ہدایت نہیں پائیں گے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “ مسائل 1۔ ہدایت کے مقابلے میں تعصب اور تکبر اختیار کرنے والوں کے آگے پیچھے دیوار کردی جاتی ہے۔ 2۔ گمراہی پر مطمئن ہونے والوں کو سمجھانا اور نہ سمجھانا برابر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن گمراہ لوگوں کی حالت : 1۔ جو ایمان کو کفر کے ساتھ بدل دے وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا۔ (البقرۃ : 108) 2۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النّساء : 116) 3۔ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (النساء : 136) 4۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہوگیا۔ (الاحزاب : 36) 5۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرّعد : 33) 6۔ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مثال کے ساتھ فاسق ہی گمراہ ہوتے ہیں۔ ( البقرۃ : 26) 7۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پامال کرنے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (المائدۃ : 12) 8۔ کفار سے دلی دوستی کرنے والا سیدھی راہ سے دور چلا جاتا ہے۔ (الممتحنۃ : 1) 9۔ دین کے معاملات میں غلو کرنے والا سیدھی راہ سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ (المائدۃ : 77) 10۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانے والا سیدھے راستہ سے بھٹک جاتا ہے۔ (ابراہیم : 30)
Ayahs 36:9–11

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

ہم نے ایک دیوار ان کے آگے اور ایک دیوار ان کے پیچھے کھڑی کردی ہے، ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے اب انہیں کچھ نہیں سوجھتا

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

آپ انہیں خبر دار کریں یا نہ کریں ان کے لیے یکساں ہے کہ یہ نہیں مانیں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

آپ اسی شخص کو خبردار کرسکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا اور بغیر دیکھے رحمان سے ڈرتا ہے، اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دیں

فہم القرآن ربط کلام : بیشک لوگوں کی اکثریت ایمان کے بارے میں اندھی ہوچکی ہے لیکن آپ ﷺ لوگوں کو ضرور انتباہ فرمائیں کیونکہ جو شخص اپنے رب سے غیب میں ڈرنے والا ہے وہ ضرور ہدایت پالے گا۔ ہدایت پانے والے کو جنت کی خوشخبری دیجیے۔ بیشک گمراہ لوگ آپ کی محنت کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور حق کے معاملے میں اندھے ہوچکے ہیں لیکن آپ سلیم الفطرت لوگوں کو سمجھاتے رہیں کیوں کہ ” اللہ “ سے ڈرنے والے نصیحت حاصل کیا کرتے ہیں۔ جو انسان آخرت کی جواب دہی کو بھول جائے حقیقت میں وہ اندھا ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ اٹھانے اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دلانے کے لیے اسے حقیقت حال سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ اس سچائی میں کوئی شک نہیں کہ ہم قیامت کے دن مردوں کو زندہ کریں گے اور مرنے والے جو کچھ آگے بھیجتے رہے اور جو اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہم اس کو ضبط تحریر میں لارہے ہیں اور ہم نے اسے کتاب مبین میں واضح طور پر لکھ رکھا ہے۔ بنیادی طور پر ہر انسان کے اچھے اور برے اعمال کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ جن کا ہر حال میں اندراج ہوتا رہتا ہے۔ انسان جونہی کوئی عمل کرتا ہے تو کراماً کاتبین اس کے نامۂ اعمال میں لکھ کر صبح و شام آسمان کی طرف لے جاتے ہیں جو اس کے دفترِاعمال میں محفوظ کرلیے جاتے ہیں۔ اعمال کی دوسری صورت یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہ کر جو نیکی یا بدی کرتا ہے اس کے برے اور بھلے اثرات دنیا میں بھی باقی رہتے ہیں۔ نیک اعمال کرنے والے کو نیکی کی جزا قیامت تک ملتی رہے گی اور جس نے اپنے حلقہ اثر میں برے اعمال چھوڑے وہ ان کے منفی اثرات کی سزا قیامت تک بھگتتا رہے گا۔ قیامت کے دن اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اگر اس کا اعمال نامہ اچھا ہوا تو وہ اپنے عزیز و اقرباء کو بلا بلا کرک ہے گا کہ دیکھیے میرا اعمال نامہ کس قدر اچھا ہے (الحاقۃ : 19۔ 20) اس کے مقابلے میں برا آدمی اپنے اعمال نامے کو دیکھے گا تو اس تمنا کا اظہار کرے گا کہ کاش ! میں مٹی کے ساتھ مٹی ہی بنا رہتا۔ (النباء : 40) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَآءِکَۃٌ باللَّےْلِ وَمَلَآءِکَۃٌ بالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَاٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ )[ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ صَلاَۃِ الْعَصْر ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس رات اور دن میں فرشتے ایک دوسرے کے آگے پیچھے آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ جب رات والے فرشتے جاتے ہیں تو ان سے اللہ تعالیٰ سوال کرتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے ملائکہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم ان کے ہاں گئے تو وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ان کو چھوڑ کر آئے تو پھر بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ أَعْمَالَ بَنِیْٓ آدَمَ تُعْرَضُ کُلَّ خَمِیْسٍ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ فَلاَ یُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ ) [ رواہ أحمد وہوحدیث حسن ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا یقیناً انسان کے اعمال جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں۔ پس رشتہ داری توڑنے والے کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے۔ “ (وَإِنَّ عَلَیْکُمْ لَحَافِظِیْنَ کِرَامًا کَاتِبِیْنَ )[ الانفطار : 10، 11] ” اور بیشک تم پر عزت دار لکھنے والے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہر کسی کو زندہ فرمائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز اور ہر کسی کے اعمال کو لوح محفوظ پر لکھ رکھا ہے۔ 2۔ ہر کسی کے اگلے پچھلے اور اچھے برے اعمال اس کے سامنے پیش کردئیے جائیں گے۔ تفسیر بالقرآن انسان کے تمام اچھے برے اعمال لکھے جاتے ہیں : 1۔ بیشک تمہاری چال بازیوں کو ہمارے قاصد لکھ رہے ہیں۔ (یونس : 21) 2۔ ہم ان کی جزا لکھ لیں گے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ (الاعراف : 156) 3۔ جو لوگ بولتے ہیں ہم لکھ لیتے ہیں۔ (آل عمران : 181) 4۔ ہمارے قاصد ان کے اعمال لکھ رہے ہیں۔ (الزخرف : 80) 5۔ ہم ان کی کہی ہوئی بات لکھ لیں گے اور ان کے عذاب کو بڑھا دیا جائے گا۔ (مریم : 79) 6۔ کسی کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی بیشک ہم اس کو لکھ لیتے ہیں۔ (الانبیاء : 94)
Ayahs 36:12–13

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

ہم یقیناً ایک دن مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں جو اعمال انہوں نے کیے ہیں وہ ہم لکھتے جا رہے ہیں اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم لکھ رہے ہیں ہر بات کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

انہیں حوالے کے طور پر اس بستی والوں کا واقعہ سنائیں جب اس میں رسول آئے

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد ہوا ہے کہ ہم موت وحیات پر اختیار رکھنے والے اور ہر بات کو اپنے ہاں لکھنے والے ہیں۔ اب موت وحیات کے حوالے سے ایک قریہ کی مثال بیان کی جاتی ہے۔ اے محبوب پیغمبر ﷺ اپنے سامعین کے سامنے اس بستی کی تاریخ اور مثال پیش فرمائیں جس کے پاس آپ کے رب نے یکے بعد دیگرے تین رسول مبعوث فرمائے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کے لیے دو رسول بھیجے جنہوں نے بڑے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ اہل قریہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قریہ والوں نے انہیں یکسر طور پر مسترد کردیا۔ ان کی تائید کے لیے ہم نے تیسرا رسول بھیجا اس نے پہلے دو انبیاء کی تائید کی اور ان کے ساتھ مل کر لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کرنے کی طرف دعوت دی لیکن بد بخت قوم نے تینوں رسولوں کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا کہ تم ہمارے جیسے انسان ہو اور تم جھوٹ بولتے ہو۔ رب رحمن نے تمہاری طرف کوئی پیغام نازل نہیں کیا اور نہ ہی تم اس کے رسول ہو۔ قوم کے الزام کے جواب میں انبیائے کرام (علیہ السلام) نے فقط اتنا ہی ارشاد فرمایا کہ اے قوم ! اگر تم ہمیں ماننے کے لیے تیار نہیں تو ہمارا کام اپنے رب کا پیغام پہنچانا تھا جسے ہم نے پوری طرح پہنچا دیا۔ اب تمہارا معاملہ ” اللہ “ کے حوالے ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو نیست و نابود کردیا۔ یہ کون سی بستی تھی اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ شام کا ایک مشہور شہر انطاکیہ ہے لیکن قدیم مفسرین میں سے علامہ ابن کثیر اور عصر حاضر کے مفسرین نے تاریخی حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد انطاکیہ نہیں کیونکہ انطاکیہ ہمیشہ سے عسائیت کا گڑھ رہا ہے اور انطاکیہ کی بربادی کا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ جہاں تک رسولوں کی ذات کا معاملہ ہے ان سے مراد عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری اور ان کے بھیجے ہوئے نمائندے نہیں بلکہ یہ شخصیات براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شہر کی طرف مبعوث کی گئی تھیں جنہیں اس شہر کے لوگوں نے ماننے سے انکار کیا اور وہ برے انجام سے دوچار ہوئے۔ جہاں تک اہل قریہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اے رسولو ! تم ہمارے جیسے انسان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول مبعوث فرمائے ہیں وہ بشر ہی تھے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد کہ میں بشر ہوں : (عَنْ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِیُّ اللَّہ ﷺ الْمَدِینَۃَ وَہُمْ یَأْبُرُون النَّخْلَ یَقُولُونَ یُلَقِّحُون النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا کُنَّا نَصْنَعُہُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا کانَ خَیْرًافَتَرَکُوہُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ دینِکُمْ فَخُذُوا بِہِ وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ رَأْیٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ )[ رواہ مسلم : باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَہُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَکَرَہ مِنْ مَعَایِشِ الدُّنْیَا عَلَی سَبِیل الرَّأْیِ ] ” سیدنا رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور کی پیوندکاری کرتے تھے آپ نے فرمایا : یہ کیا کرتے ہو ؟ صحابہ کرام ؓ نے جواب دیا ہمارا یہی طریقہ ہے آپ نے فرمایا : اگر تم یہ کام نہ کرو تو ہوسکتا ہے اس میں بہتری ہو۔ صحابہ ؓ نے پیوند کرنا چھوڑ دیا۔ تو کھجوریں پھل کم لائیں۔ صحابہ ؓ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے عرض کی۔ آپ نے فرمایا : میں بھی ایک بشر ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو۔ جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو آخر میں بھی آدمی ہوں۔ “ مسائل 1۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) ایک دوسرے کی تائید کرتے تھے۔ 2۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) انسان تھے۔ 3۔ انبیاء کی ذمہ داری حق پہنچانا تھا منوانا نہیں تھا۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم انسان ہیں : 1۔ نبی آخر الزماں ﷺ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔ (حم السجدۃ : 6) 2۔ رسول اللہ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشرہوں۔ (الکہف : 110) 3۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم میں انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : 4) 4۔ انبیاء (علیہ السلام) اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11) 5۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : 109) 6۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : 43) 7۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : 29، 30) 8۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : 186) 9۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : 24) 10۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : 154) 11۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : 33)
Ayahs 36:14–18

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

ہم نے ان کی طرف دورسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے ان کی مدد کے لیے تیسرا رسول بھیجا۔ انہوں نے اپنی قوم کو کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

بستی والوں نے کہا تم کچھ بھی نہیں مگر ہم جیسے انسان ہو، رحمان نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے تم محض جھوٹ بولتے ہو

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

رسولوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرورتمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

بستی والے کہنے لگے ہم تمہیں اپنے لیے منحوس سمجھتے ہیں، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی درد ناک سزا پاؤ گے

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کو قوم کی دھمکی اور الزام۔ بدبخت لوگوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے انبیائے کرام اور مصلح حضرات کو طعن وتشنیع اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی کچھ اس شہر کے لوگوں نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ قوم انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کہنے لگی کہ جب سے تم ہمارے شہر میں آئے ہو اس وقت سے لے کر ہم مسائل اور مصائب کا شکار ہوئے جارہے ہیں۔ اگر تم اپنے کام سے باز نہ آئے تو ہم ہر صورت تمہیں سنگسار کرڈالیں گے اور تمہیں اذیت ناک سزا دیں گے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) نے جواباً فرمایا کہ جن مسائل اور مصائب سے تم دوچار ہو یہ تمہارے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ مگر افسوس ! تم سمجھنے اور سدھرنے کی بجائے ہمیں سنگسار کرنے کی سوچتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم شرافت کی تمام حدوں کو پھلانگ چکے ہو۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ منطقی نتیجہ ہوتا ہے کہ جو قوم اپنے نبی کی نافرمانی پر تل جائے اسے آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کے مقدر میں تباہی لکھی ہوتی ہے وہ اپنی اصلاح کی بجائے بگاڑ میں آگے ہی بڑھا کرتے ہیں اور اصلاح کرنے والوں کو اپنے انجام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہر پیغمبر کے ساتھ اس کی قوم کے فجار اور سرکش لوگوں نے یہی روّیہ اختیار کیا تھا۔ جہاں تک بد شگونی اور بری فال نکالنے کا تعلق ہے رسول اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ ایک طرف انسان کا عقیدہ کمزور ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ اعصابی اور ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ ( لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) [ الترغیب و الترہیب ]ِ ” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادو کرئے یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ “ کیا کوئی چیز منحوس ہوسکتی ہے ؟ (وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا عَدْوٰی وَلَا طِےْرَۃَ وَ لَا ھَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب الْجُذَامِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں۔ بد شگونی بھی نہیں ہے۔ نہ الوبد روح ہے اور نہ صفر کا مہینہ نحوست والا ہے اور کوڑھی شخص سے اس طرح بھاگوجس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ “ مسائل 1۔ مشرکین اور کفار انبیائے کرام (علیہ السلام) کو منحوس قرار دیتے تھے۔ 2۔ انسان کو اپنے برے اعمال کی کچھ نہ کچھ سزا دنیا میں بھگتنا پڑتی ہے۔ 3۔ سرکش اور نافرمان لوگ ہمیشہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ تفسیر بالقرآن نافرمان قوم کا اپنے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ رویہ : 1۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : 10) 2۔ کفار نے انبیاء سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : 13) 3۔ حضرت نوح کو قوم کے سرداروں نے کہا تو تو ہمارے جیسا ہی ایک آدمی ہے اور تیری پیروی کرنے والے بھی ادنیٰ لوگ ہیں۔ (ھود : 27) 4۔ حضرت موسیٰ کو فرعون نے کہا کیا تم اپنے جادو سے ہمیں ہماری زمین سے نکالنا چاہتے ہو۔ (طٰہٰ : 57 ) 5۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو قتل کیا گیا۔ ( البقرۃ : 87) 6۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر آل فرعون نے منحوس ہونے کا الزام لگایا۔ (الاعراف : 131)
Ayahs 36:19–20

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

رسولوں نے جواب دیا تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اتنے میں شہر کے دور کے کونے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! رسولوں کی پیروی اختیار کرو

فہم القرآن ربط کلام : تین انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ قوم کی کشمکش کی انتہا اور ایک خیرخواہ کا قوم کو آخری بار سمجھانا۔ قوم نے شرافت کی دیواریں پھلانگتے ہوئے جب یہ فیصلہ کرلیا کہ تینوں انبیاء کو بیک وقت قتل کردیا جائے۔ اس صورت حال کا جونہی شہر کے مضافات میں رہنے والے ایک شخص کو علم ہوا تو وہ بےقرار ہو کر دوڑتا ہوا اپنی قوم کے سر کردہ لوگوں کے پاس آیا اور انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کرنے کی بجائے ان کی اتباع کرنی چاہیے۔ ناصرف یہ ہستیاں افکار اور کردار کے لحاظ سے ہم سب سے اعلیٰ اور ممتاز ہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کرو کہ ان کی دعوت کے پیچھے ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ تم سے کسی معاوضہ کے طلب گار نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور اس کی طرف سے ہدایت یافتہ اور تمہیں ہدایت کی دعوت دینے والے انبیاء کرام ہیں۔ مضافات شہر سے آنے والی شخصیت کا نام ” حبیب “ بتلایا گیا ہے اس نے حالات کی نزاکت اور موقع کی مناسبت کی بنیاد پر رسولوں کے دو اوصاف کا ذکر کیا ہے۔ 1 یہ رسول اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ اور تمہارے لیے ہدایت کے امام ہیں۔ 2 اس دعوت کے نتیجہ میں جو مصائب اور مشکلات برداشت کررہے ہیں اس کے پیچھے ان کا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ میں یہ اوصاف ہمیشہ نمایاں اور ممتاز رہے ہیں کہ ناصرف وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہوا کرتے تھے بلکہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنے رب کی ہدایت کے مطابق بسر ہوتا تھا۔ وہ اپنے رب کی طرف سے لوگوں کے لیے ہدایت کے پیشوا ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی دعوت کے سلسلہ میں جتنی مشقتیں اٹھائیں اور جس قدر محنت کی اس کے پیچھے ان کا ذاتی مفاد نہیں ہوا کرتا تھا۔ اہل مکہ اور نبی محترم ﷺ کے درمیان کشمکش اپنی انتہا کو پہنچی تو اہل مکہ نے اپنے ایک سردار ولید بن عتبہ کو آپ کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے آپ کے سامنے تین پیشکشیں کیں۔ 1 اگر کسی حسین لڑکی کے ساتھ شادی کے خواہش مند ہو تو جہاں چاہتے ہو ہم شادی کروا دیتے ہیں۔ 2 اگر دولت چاہتے ہو تو ہم آپ کی خواہش کے مطابق دولت پیش کردیتے ہیں۔ 3 مکہ کا سب سے بڑا سردار بننا پسند کرتے ہو ہم آپ کی سرداری قبول کرتے ہیں۔ آپ نے تینوں باتوں کو مسترد کرتے ہوئے سورة حٰم سجدہ کی ابتدائی آیات تلاوت کیں۔ جن میں مرکزی بات یہ ہے کہ میں تو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں اور تمہارے جیسا انسان ہوں مگر میری طرف میرے رب کی وحی آتی ہے جس میں پہلی دعوت یہ ہے لوگو ! تمہارا معبود صرف ایک ہے اس کے تابعدار ہوجاؤ۔ (وَعَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اُنْصُرْ أَخَاکَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَقَالَ رَجُلٌ یَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ أَنْصُرُہٗ مَظْلُومًا فَکَیْفَ أَنْصُرُہٗ ظَالِمًا قَالَ تَمْنَعُہٗ مِنَ الظُّلْمِ فَذٰلِکَ نَصْرُکَ اِیَّاُہ )[ رواہ البخاری : باب اعن اخاک ظالمًا او مظلوماً ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اپنے بھائی کی مدد کرو ‘ خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کیا مظلوم کی مدد کروں ‘ مگر ظالم کی کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا ‘ تمہارا اس کو ظلم سے روکنا ہی اس کی مدد کرنا ہے۔ “ مسائل 1۔ مظلوم کی مدد کرنے میں آدمی کو پوری مستعدی سے کام لینا چاہیے۔ 2۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) ہدایت کے پیکر اور مبلغ ہوا کرتے تھے۔ 3۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنی قوم سے کسی قسم کے مفاد اور معاوضہ کے طلب گ انکار نہیں ہوتے تھے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) بلا معاوضہ دین اور قوم کی خدمت سرانجام دیتے تھے : 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : 29) 2۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعرا : 127) 3۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا اجر اللہ رب العالمین پر ہے اور میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ (الشعرا : 141، 145) 4۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میرا اجر اللہ پر ہے اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : 47) 5۔ میرا اجر اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ہود : 51) 6۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تجھ سے نہ اجر چاہتا ہوں اور نہ کسی قسم کا تکلف کرتا ہوں۔ (ص : 86)
Ayahs 36:21–22

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتے اور یہ ٹھیک راستے پر ہیں

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

آخر میں کیوں نہ اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے

فہم القرآن ربط کلام : مضافات شہر سے آنے والے صالح انسان کا اپنی قوم کو خطاب جاری ہے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ اور ان کی اتباع کی تلقین کرنے کے بعد صالح انسان نے اپنا عقیدہ قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے پاس کیا عذر ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں ؟ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم نے بھی لوٹ کرجانا ہے کیا میں اسے چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لوں جبکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی انسان کے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ اگر رب رحمن میرے نقصان کا فیصلہ کرے تو جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی سفارش نہ مجھے فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی یہ کسی مصیبت سے نجات دلا سکتے ہیں اگر میں انہیں عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھوں تو میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا۔ میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ اس لیے میری بات پر توجہ فرماؤ۔ اس صالح انسان نے اپنے خطاب میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کی فطرت میں رچی بسی ہوئی ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ پوری کائنات اور انسان کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ ہر انسان یہ بھی عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔ ہر کوئی مانتا ہے کہ نفع و نقصان اللہ کے اختیار میں ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں یہی شرک کی بنیاد ہے کہ مشرک سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں کو اپنی خدائی میں سے کچھ اختیارات دے رکھے ہیں اور یہ بزرگ اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہیں کہ ان کی سفارش کو اللہ تعالیٰ مسترد نہیں کرسکتا۔ اس باطل عقیدہ کی تردید اور مشرک کی تیز مزاجی کو سمجھتے ہوئے مخاطب کی ضمیر استعمال کرنے کی بجائے صالح اور سمجھ دار مبلّغ نے اپنے آپ کو خطاب کیا اور دوسروں کو یہ بات سمجھائی ہے کہ اگر ربٍ رحمٰن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو تمہارے سفارشی مجھے چھڑا اور بچا نہیں سکتے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا بڑا ہی گمراہ کن عقیدہ ہے اگر میں اس عقیدہ کو اختیار کروں تو میرے گمراہ ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہے گی۔ جس رب نے مجھے اور تمہیں پیدا کیا ہے میں اس پر ایمان لایا اور تمہیں بھی اس بات کی دعوت دیتا ہوں۔ اس دعوت پر توجہ فرماؤ تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ہی کائنات اور انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ 2۔ ہر شخص نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جسے مشکل میں مبتلا کرے اسے کوئی چھڑانے اور بچانے والا نہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ 6۔ توحید کے مبلّغ کو اپنی دعوت سمجھداری کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں : 1۔ ” اللہ “ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60) 2۔ ” اللہ “ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا۔ کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61) 3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62) 4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63) 5۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
Ayahs 36:23–26

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لوں ؟ اگر الرّحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی شفاعت میرے کسی کام نہیں آسکتی اور نہ وہ مجھے چھڑا سکتے ہیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اگر میں ایسا کروں تو میں واضح طور پر گمراہ ہوجاؤں گا

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا تم بھی میری بات مان لو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا اس نے کہا کاش میری قوم کو معلوم ہوجائے

فہم القرآن ربط کلام : شہید مبلّغ کا بہترین انجام اور صلہ۔ قرآن مجید نے لفظاً یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ اس عظیم مبلّغ کا اپنی قوم کے ہاتھوں کیا انجام ہوا۔ البتہ سیاق وسباق سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ قوم نے اس عظیم مبلّغ کو شہیدکر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرمایا جونہی اس کی روح جنت میں داخل ہوئی تو پکار اٹھی کہ کاش ! میری قوم کو میرے بہترین انجام کی خبر ہوجائے۔ میرے رب نے میری خطاؤں کو معاف فرما کر مجھے اپنے مقرب بندوں میں شامل کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رہتی دنیا تک اسے یہ اعزاز بخشا گیا کہ اس کے خیالات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے الفاظ میں ہمیشہ ہمیش کے لیے محفوظ فرمایا اور آنے والے انسانوں کو اس کے پیغام اور بہترین انجام سے آگاہ فرمایا تاکہ توحید کی دعوت دینے والے حضرات جان جائیں کہ بیشک یہ راستہ پر کٹھن ہے لیکن بالآخر اس کی منزل جنت الفردوس اور اپنے رب کا تقرب پانا ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِجَابِرٍ یَاجَابِرُ أَلَاأُبَشِّرُکَ قَالَ بَلٰی بَشِّرْنِيْ بَشَّرَکَ اللّٰہُ بالْخَیْرِ قَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَحْیَاأَبَاکَ فَأَقْعَدَہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ تَمَنَّ عَلَيَّ عَبْدِيْ مَاشِءْتَ أُعْطِکَہٗ فَقَالَ یَارَبِّ مَاعَبَدْتُّکَ حَقَّ عِبَادَتِکَ أَتَمَنّٰيْ عَلَیْکَ أَنْ تَرُدَّنِيْ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقَاتِلُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ مَرَّۃً أُخْرٰی فَقَالَ سَبَقَ مِنِّيْ إِنَّکَ إِلَیْھَا لَاتَرْجِعُ ) [ المستدرک علی الصحیحین : باب مناقب عبداللہ بن عمروحرام ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جابر ؓ سے فرمایا جابر ! کیا میں تجھے بشارت نہ دوں ؟ انہوں نے عرض کی کیوں نہیں ! اللہ آپ کو بہتری اور خیر کی بشارتعطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کو زندہ کرکے اپنے سامنے بٹھاکر فرمایا کہ میرے بندے مجھ سے مانگ ! میں تجھے عطا کروں۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا میری عرض ہے کہ آپ مجھے دنیا میں بھیج دیں تاکہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مل کر قتال کروں اور پھر تیری راہ میں شہید ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا فیصلہ ہوچکا ہے کہ تو دنیا میں دوبارہ نہیں جائے گا۔ “ ” عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کیے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پوٹوں میں رکھ دیا وہ جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں اور اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں سونے کی قندیلوں میں بسیرا اور ٹھکانہ کرتی ہیں جب ان کی روحوں کو کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل ہوئی، تو کہا کون ہے جو ہماری طرف سے ہمارے بھائیوں کو یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور کھاتے پیتے ہیں تاکہ وہ بھی جنت کے حصول میں بےرغبتی نہ کریں اور قتال کے وقت سستی نہ دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہاری خبر پہنچاؤں گا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس کھلائے، پلائے جاتے ہیں) ۔ “ [ رواہ ابوداؤد : کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ ] شہید کے گناہ معاف : (أَوَّلُ مَا یُہْرَاقُ مِنْ دَمٍ اَلشَّہِیْدُ یُغْفَرُ لَہٗ ذَنْبُہٗ کُلُّہٗ إِلَّا الدّیْنَ ) [ صحیح الجامع : باب اول مایقضیٰ بین الناس یوم القیامۃ فی الدماء ] ” شہید کے خون کے پہلے قطرہ سے قرض کے سوا سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ صالح لوگوں کی ارواح کو جنت میں داخل کردیا جاتا ہے۔ 2۔ شہادت کے وقت شہید کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ شہید اور صالح لوگوں کو اپنے نیک بندوں میں شامل فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن صالح لوگوں کا صلہ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور مومنات سے ہمیشہ کی جنت اور اپنی رضا مندی کا وعدہ فرمایا ہے یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 72، 89، 100) 2۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جنت کے بدلے ان کے مال و جان خرید لیے ہیں یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 111) 3۔ اے اللہ نیک لوگوں کو برائی سے بچا جو برائی سے بچ گیا اس پر تیرا رحم ہوا یہ بڑی کامیابی ہے۔ (المومن : 9) 4۔ ان کا جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کے فضل سے ہوگا اور یہی کامیابی ہے۔ (الدّخان : 57) 5۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا یہ واضح کامیابی ہے۔ (الجاثیۃ : 30) 6۔ مومنوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے جس میں پاک صاف مکان ہیں یہ بڑی کامیابی ہے۔ (الصف : 12)
Ayahs 36:27–28

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ میرے رب نے کس بات کی بدولت مجھے معاف کردیا ہے اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل فرمایا ہے

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ اور نہ ہی ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی ضرورت تھی

فہم القرآن ربط کلام : عظیم مبلّغ کے عظیم اور بہترین انجام کے مقابلے میں قوم کا بد ترین انجام۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کے رہنے والوں کو ایک چٹخار کے ذریعے اس طرح نیست و نابود کیا کہ دیکھنے والے کو اس کا نشان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جونہی شہر والوں نے اس عظیم مبلّغ کو قتل کیا رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم نے اس کی موت کے بعد اس شہر کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اسے تباہ کرنے کے لیے ہم نے کوئی لشکر جرار نہیں بھیجا تھا کیونکہ ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے ملائکہ بھیجنے یا ان پر لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ انہیں تباہ کرنے کے لیے ایک خوفناک چیخ ہی کافی ہے۔ لہٰذا انہیں ایک دھماکہ خیز چٹخار نے خاکستر بنا دیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کو معلوم ہوجائے کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے چٹخار ہی کافی ہے۔ مسائل 1۔ کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی کافی ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی ایک چٹخار نے اس بستی کو بےنام و نشان کردیا۔
Ayahs 36:29–30

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

بس ایک دھماکہ ہوا اور یکدم سب کے سب بھسم ہو کر رہ گئے

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس بندوں کے حال پر جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے

فہم القرآن ربط کلام : تباہ ہونے والی اقوام کا انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ سلوک اور ان کا انجام۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ” اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن “ ہے اس لیے اپنے بندوں کو باربار موقعہ اور مہلت دیتا ہے کہ وہ بغاوت اور سرکشی سے باز آجائیں لیکن جب کوئی قوم اور لوگ تمرد اور سرکشی کی انتہا کردیتے ہیں تو پھر زمین کا نظام چلانے اور اسے متوازن رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ جس میں ایک طرف ظالموں کو کیفرِکردار تک پہنچانا مطلوب ہوتا ہے اور دوسری طرف حق والوں اور مظلوموں کی مدد کرنا مقصود ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ ظالموں پر افسوس ! کہ وہ اپنے سے پہلی اقوام کا انجام دیکھنے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے اپنی تباہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے پاس جب کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آیاتو انہوں نے اس کی دعوت پر غور کرنے کی بجائے اسے استہزا کا نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ذلت کی موت مارا اور قیامت کے دن انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ جب یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے تو اس وقت افسوس کا اظہار کریں گے کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ ہم مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے لیکن آج ہمیں اپنے اپنے اعمال نامے کے ساتھ رب ذوالجلال کے سامنے پیش کردیا گیا ہے۔ اس پر وہ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور حسرت کا اظہار کریں گے کہ کا ش ! ہم انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرتے اور اس انجام سے بچ جاتے۔ قیامت کے دن آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گھڑی ہوگی اور ہر امت کو اس کی کتاب کی طرف بلایا جائے گا۔ (الجاثیہ : 28) جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم اکٹھا کریں گے اس دن آنکھیں پیلی ہوچکی ہوں گی۔ ( طٰہٰ : 102) ” اس دن آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل ظاہر ہوگا اور فرشتے گروہ درگروہ اتاردیے جائیں گے۔ اس دن حقیقی بادشا ہی صرف الرّحمان کی ہوگی وہ دن منکرین کے لیے بڑاسخت ہوگا۔ ظالم انسان اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا ہائے میری کم بختی۔ کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ “ (الفرقان : 25، 28) ” جس دن روح القدس اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے کوئی بات تک نہ کرسکے گا مگر جس کو الرّحمن اجازت دے گا اور وہ ٹھیک ٹھیک بات کہے گا۔ یہی وہ دن ہے جس کا آنا برحق ہے پھر جس کا جی چاہے وہ اپنے مالک کے پاس ٹھکانہ بنا لے۔ ہم نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہے جو نزدیک ہے جس دن آدمی اپنے کیے ہوئے اعمال کو دیکھے گا اور کافر کہے گا کاش ! میں مٹی بنا رہتا۔ “ (النبا : 38 تا 40) مسائل 1۔ بیشمار اقوام نے اپنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو تضحیک کا نشانہ بنایا۔ 2۔ انبیاء ( علیہ السلام) کو تضحیک کا نشانہ بنانے والوں کا بدترین انجام ہوا۔ 3۔ نیک و بد نے بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن بڑی بڑی اقوام کی تباہی : 1۔ ہم نے ان سے پہلے کئی بستیوں کو ہلاک کیا جو ٹھاٹھ باٹھ میں بہت آگے تھے۔ (مریم : 74) 2۔ ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں، جو قوت میں مکہ والوں سے بڑھ کر تھیں۔ (ق : 36) 3۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ نے ان سے پہلے بستیوں والوں کو ہلاک کیا۔ (القصص : 78) 4۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 5۔ قوم لوط کو آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ ( ھود : 82) 6۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13) 7۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : 35) 8۔ قوم نوح سیلاب کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 9۔ قوم نوح کی ہلاکت کا سبب بتوں کی پرستش تھی۔ (نوح : 23) 10۔ قوم لوط کی تباہی کا سبب اغلام بازی کرنا تھی۔ (الاعراف : 81) 11۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا سبب ماپ تول میں کمی تھی۔ (ھود : 84، 85)
Ayahs 36:31–33

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

ان سب کو ایک دن ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے مردہ زمین بھی ایک نشانی ہے ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ لوگ کھاتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک ہونے والے باغیوں اور نافرمانوں کا خیال تھا کہ مرنے کے بعد ہمیں کوئی اٹھا نہیں سکے گا۔ لہٰذا مارنے کے بعد اٹھا لینے کی دلائل اور مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔ انسان ! اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان ہو یا نافرمان ہر کوئی اسی زمین پر رہتا اور مرتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونے کی مثال زمین اور لیل و نہار سے پیش کی جاتی ہے۔ جس کا ہر شخص صبح و شام زندگی بھر مشاہدہ کرتا ہے۔ زمین پر غور فرمائیں تو بظاہر یہ بےجان دکھائی دیتی ہے۔ دیکھنے میں اس میں کوئی حِس و حرکت دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہ صرف بارش سے زندہ کرتا ہے بلکہ اَن گنت مخلوق کی زندگی کا سبب بھی بنا دیتا ہے۔ بارش سے پہلے زمین مردہ ہوتی ہے۔ جوں ہی یہ سیراب ہوتی ہے تو اپنے پیٹ میں چھپائے ہوئے بیج کو اس طرح اپنے سینے پر سجا لیتی ہے کہ جس کا اس سے پہلے تصور کرنا محال تھا۔ خاص طور پر ویران زمین پر غور کریں کہ بارش سے پہلے آدمی سوچتا ہے کہ یہ زمین بھی سر سبزو شاداب ہوسکے گی لیکن جوں ہی بارش ہوتی ہے تو اس طرح سبزہ اگاتی ہے کہ دیکھنے والا ” اللہ “ کی قدرت پر عش عش کر اٹھتا ہے۔ بالخصوص ایک زمیندار کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ کس طرح وہ زمین میں دانہ ڈالتا ہے اور اس کے سامنے کس طرح بیج اگتا، پودا بنتا اور پھل دیتا ہے۔ پھر یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ زمین، پانی، فضا اور ہوا ایک ہی ہوتی ہے لیکن ہر بیج اپنی جوہری صلاحیت کی بنیاد پر اگتا، پرورش پاتا اور پھل دیتا ہے۔ جس کے لیے چار چیزوں کا قدرت کاملہ نے اہتمام کیا ہے جو کسی زرعی سائنسدان اور حکمران کے بس کی بات نہیں۔ 1 ۔ زمین کو ایک خاص حد تک نرم رکھنا۔ یہاں تک کہ پہاڑ کے سینے میں بھی یہ نرمی رکھی گئی ہے کہ وہ بیج کو اگائے جس کا مشاہدہ ہم پہاڑوں پر اگنے والے بلندو بالا اور سرسبزو شاداب درختوں کی صورت میں کرتے ہیں۔ 2 ۔ بارش، شبنم، چشموں اور ندی نالوں کے ذریعے زمین کو سیراب کرنا اور اس میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ 3 ۔ ہوا میں ایک مخصوص مقدار میں نمی قائم رکھنا اور ہوا کے ذریعے نردرختوں کے جرثوموں کو مادہ درختوں تک پہنچانا اور پھر اسے ہائیڈروجن مہیا کرنا۔ 4 ۔ سورج کے ذریعے زمین میں پڑے ہوئے بیج کو ایک خاص مقدار سے حرارت دینا اور فصلوں، پودوں اور درختوں تک سورج کی توانائی کو پہنچانا۔ اس سارے نظام میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا عمل دخل نہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپاؤں، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی روزی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اس نظام پر انسان معمولی سا بھی غور کرے تو اسے توحید باری تعالیٰ کی سمجھ آسکتی ہے۔ اس حیرت انگیز انتظام پر جو شخص بھی غور کرے گا بشرطیکہ وہ ہٹ دھرمی اور تعصّب میں مبتلا نہیں تو اس کا دل گواہی دے گا کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ نہیں ہوسکتا۔ اس میں صریح طور پر ایک حکیمانہ منصوبہ کام کررہا ہے جس کے تحت زمین، پانی، ہوا اور موسم کی مناسبتیں نباتات کے ساتھ اور نباتات کی مناسبتیں حیوانات اور انسانوں کی حاجات کے ساتھ، انتہائی نزاکتوں اور باریکیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے قائم کی گئی ہیں۔ کوئی ہوش مند انسان یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ایسی ہمہ گیر مناسبتیں محض حادثہ کے طور پر قائم ہوسکتی ہیں۔ پھر یہی انتظام اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ یہ بہت سے خداؤں کا کارنامہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو ایک ہی ایسے خدا کا انتظام ہے اور ہوسکتا ہے جو زمین، ہوا، پانی، سورج، نباتات، حیوانات اور نوع انسانی میں سے سب کا خالق ومالک ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے خدا الگ الگ ہوتے تو کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک جامع، ہمہ گیر اور گہری حکیمانہ مناسبتیں رکھنے والا منصوبہ بن جاتا اور لاکھوں کروڑوں برس تک اتنی باقاعدگی سے چلتا رہتا۔ (تفہیم القرآن، سورة یٰسٓ ) توحید کے حق میں دلائل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ “ کیا جس رب نے سب سامان ان کے لیے مہیا کیا ہے اس کے یہ شکرگزار نہیں ہوتے اور اس کی نعمتیں کھا کھا کر دوسروں کے شکریے ادا کرتے ہیں ؟ اس کے آگے نہیں جھکتے اور ان معبودوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں جنہوں نے ایک تنکا بھی ان کے لیے نہیں پیدا کیا۔ مسائل 1۔ مردہ زمین کو زندہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ 2۔ اللہ ہی زمین کو زندہ کرنے والا اور اس سے اناج نکالنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی زمین سے بیج اگاتا ہے : 1۔ بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ (الواقعۃ : 63۔ 64) 2۔ اللہ تعالیٰ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11) 3۔ اللہ تعالیٰ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19) 4۔ اللہ تعالیٰ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99) 5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141) 6۔ تمہارے لیے مسخر کیا نباتات کو زمین پر پھیلاکر، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : 13)