Ayah 36:34فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات زمین سے دانہ اگاتی ہے اسی ذات نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے ہیں۔
عرب میں کھجور اور انگور کے باغ کثرت سے پائے جاتے تھے۔ صحراء میں رہنے والے لوگ عام طور پر کھجور پر ہی گزارا کرتے تھے۔ متمدن لوگ کھجور اور انگور کو مختلف طریقوں کے ساتھ خوراک کے طور پر استعمال کرتے اور کھجور اور انگور سے کئی قسم کے مشروبات تیار کرتے اور اسی سے شراب بناتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جن لوگوں کو کھجور اور انگورکا مشترکہ باغ دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ اس سے پُر کشش باغ کسی اور درخت کا نہیں ہوتا۔ خاص طور پر انگوروں اور کھجوروں کے جس باغ میں پانی کے چشمے جاری ہوں اس کی ہریالی اور خوبصورتی کا اَن دیکھے تصور کرنا محال ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات اور چشموں کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش فرمایا ہے اور مشرکین کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اپنے رب کی قدرتوں کی طرف دیکھو کہ اس نے تمہارے لیے کس قسم کے باغات پیدا کیے تاکہ تم ان کے ثمرات سے لطف اندوز ہو سکو کیا پھر تم اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔ نمک حرامی کی حد یہ ہے کہ مشرک اپنے رب کی نعمتیں کھاتا ہے لیکن اس کے سامنے جھکنے کی بجائے دوسروں کے سامنے جھکتا ہے جنہوں نے اس کے لیے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ اسی نے نباتات کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور اسی نے انسانوں کے جوڑے بنائے۔ اس نے ان چیزوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں جو لوگوں کے احاطۂ علم سے باہر ہیں۔ انسان شروع ہی سے صرف اپنے بارے میں جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد وزن کی شکل میں جوڑے پیدا کیے ہیں لیکن یہ حقیقت بہت کم لوگ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے اگنے والی ہر چیز کو ازواج کی شکل میں پیدا فرمایا ہے۔ عرب، کھجور کے بارے میں کسی حد تک علم رکھتے تھے کہ کھجور کی نسل میں نر اور مادہ پائے جاتے ہیں اس سے آگے نباتات کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے تھے یہ حقیقت پہلی دفعہ قرآن مجید نے لوگوں کے سامنے آشکارا کی ہے کہ نباتات میں بھی ازواج ہوتے ہیں۔ ” زَوْجٌ“ کی جمع ” اَزْوَاجٌ“ ہے جس کا معنٰی جوڑا ہے یعنی نر اور مادہ، میٹھا اور پھیکا وغیرہ۔
لیکن یہاں صرف کھجور اور انگور کے بارے میں کچھ معلومات دی جاتی ہیں۔ کیونکہ ان کو دیگر پودوں پر ایک امتیاز اور برتری حاصل ہے۔ یوں تو تمام نباتات اور پودے خالق ارض و سماء کے پیدا کیے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پودوں کا اپنے کلام میں تذکرہ فرما کر ان پودوں کا نام ابد الآباد تک کلام الٰہی میں محفوظ کردیا گیا ہے۔
کھجور
قرآنی نام :
1۔ نَخْل، نَخِیل، نَخْلَۃ
دیگر نام :
Date (انگریزی ) ، Datte (فرانسیسی) ، Tamar-Tamarim (عبرانی ) ، کھجور (اردو، پنجابی، ہندی) ، خرما (فارسی ) ، کھرجور (سنسکرت) کر جور و (کشمیری) ۔
نباتاتی نام :
(Phoenix dactylifera Linn. (Family: Palmae /Aracaceae )
قرآنی ارشادات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے متعدد بار ان احسانوں اور مہربانیوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے پھلوں کی صورت میں انسان پر کیے ہیں۔ جس پھل اور درخت کا حوالہ سب سے زیادہ دیا گیا ہے وہ کھجو رہے۔ اس کا بیان مختلف الفاظ میں قرآن کریم میں بیس مرتبہ آیا ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کھجور کی کاشت آٹھ ہزار سال قبل جنوبی عراق میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت دنیا میں کہیں بھی پھلدار پودوں کی کھیتی کا تصور تک نہ تھا۔ کھجور کا پھل انسان کے لیے بہترین غذا ہے۔ اس کی غذائیت کا اندازہ اس کے کیمیاوی اجزاء سے کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں تقریباً ساٹھ فیصد Invert sugar اور Sucrose کے علاوہ اسٹارچ، پروٹین، Cellulose, pe ctin, Tannin اور چربی مختلف مقدار میں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں وٹامن اے، وٹامن بی، وٹامن بی ٹو اور وٹامن سی بھی پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنیاتی اجزاء بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں، یعنی یہ سوڈیم، کیلشیم، سلفر، کلورین، فاسفورس اور آئرن، سے بھرپور ہے۔ کھجور میں نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ دونوں کے پھولوں کے ذریعہ (Cross Polination) ہوتا ہے۔ تب ہی مادہ پودوں میں پھل آتے ہیں۔ ایک نر درخت کے پھول ایک سو مادہ درختوں کے (Polination) کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ (تفصیل کے دیکھیں الانعام : 147)
انگور
انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا ذکر ” عِنْبٌ“ اور ” اَعْنَابٌ“ (جمع) کے نام سے گیارہ آیات میں کیا گیا ہے۔ انگور فارسی کا لفظ ہے جس کا نباتاتی نام Vitis Vinifera ہے۔ کھجور کے بعد انگور کی تاریخ بھی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاسکتی ہے۔
انگور کی قسمیں آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
کیمیاوی طور سے انگور، گلوکوز اور فرکٹوزکا بہترین ذریعہ ہے جو اس میں پندرہ سے پچیس فیصد تک پائے جاتے ہیں اس کے سوا Tartaric acid اور Malic acid بھی خاصی مقدار میں ملتے ہیں۔ سوڈیم پوٹاشیم، کیلشیم اور آئرن کی قابل قدر مقدار اس میں موجود ہے جبکہ پروٹین اور چربی برائے نام ہے۔ اس میں ایک بہت اہم کمپاؤنڈ بھی دریافت ہوا ہے جس کو وٹامن ” پی “ (P) کہا گیا ہے۔ یہ کیمیاوی جز ذیابیطس سے پیدا شدہ خون کے بہنے کو روکتا ہے۔ جسم کے ورم اور نسوں کی سو جن کو کم کرتا ہے اور Athe rosclerosis کا مؤثر علاج ہے۔ کیمیاوی اجزاء کی بنا پر انگور ایک ایسا لاجواب ثمر ہے جو نہایت ہاضم ہونے کے ساتھ انتہائی فرحت بخش اور Demulcent ہے۔ خون کو صاف کرتا ہے اور جسم میں خون کی مقدار بڑھاتا ہے اور جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ کچے انگور کا رس گلے کی خرابیوں میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پتیاں اسہال کو روکتی ہیں۔ اس کی بیلوں سے حاصل کیا گیا رس (Sap) جلد کی بیماریوں میں کام میں لایا جاسکتا ہے۔ انگوری سرکہ معدہ کی خرابیوں، ہیضہ اور قولنج کی اچھی دوا ہے۔ ( تفصیل کے لیے دیکھئے الانعام آیت 141)
Ayahs 36:35–37فہم القرآن
ربط کلام : نباتات اور لوگوں کے اپنے نفوس سے اپنی قدرت کی نشاندہی کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ آفاق کی نشانیوں کی طرف مبذول کروائی ہے۔
انسان ہی نہیں دنیا میں بسنے والی ہر چیز کی زندگی، رات اور دن کے حساب سے شمار کی جاتی ہے۔ ہر ذی روح اور ہر چیز پر رات اور دن کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دن کی روشنی اور اس کی تپش کے اپنے اثرات اور فوائد ہیں۔ رات کی تاریکی اور اس کی نم ناکی کے اپنے نتائج ہیں جو ہر متحرک اور غیر متحرک چیز پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ رات اور دن میں سب سے بڑی ” اللہ “ کی قدرت کی نشانی یہ ہے کہ رات کی تاریکی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ ہر ذی روح نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور صبح طلوع ہونے پر اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوجاتا ہے یہی انسان کی موت وحیات کا معاملہ ہے۔ جس طرح ہر ذی روح نیند کے بعد اپنے آپ بیدار ہوجاتا ہے اسی طرح ہی قیامت کے دن صور پھونکنے پر ہر کوئی اپنے اپنے مدفن سے نکل کھڑا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سورج اور چاند ایسی نشانیاں ہیں جس کی کائنات میں کوئی نظیر موجود نہیں۔ سورج کی وجہ سے رات دن تبدیل ہوتے ہیں اور چاند رات کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔ رات کو پوری طرح تاریک رکھنے کے لیے چاند اپنے مدار کے اس حصہ میں داخل ہوجاتا ہے جہاں اس کی روشنی زمین کے حصہ سے غائب ہوجاتی ہے بالآخر چاند کھجور کی سوکھی ہوئی لکڑی کی طرح ٹیڑھا دکھائی دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے مدار قائم کر رکھے ہیں جو اپنی اپنی منازل طے کرتے ہوئے طلوع اور غروب کے عمل سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ سورج چاند کے مدار میں داخل ہوجائے یا چاند سورج کو پالے۔ نامعلوم کتنی صدیاں بیت چکیں لیکن چاند اور سورج، رات اور دن ایک دوسرے سے سبقت نہیں کرسکے اور نہ ہی کبھی ایسا ہوگا۔
یہاں سورج کے بارے میں ارشاد ہوا کہ یہ چاند کو نہیں پاسکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند سورج کے آگے آگے چلتا ہے کیونکہ رات پہلے ہوتی ہے اور دن رات کے بعد نمودار ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا تقویمی حساب ہے جو قیامت تک اسی طرح جاری اور ساری رہے گا لیکن جب اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوگا تو چاند بےنور ہو کر گرپڑے گا اور سورج اپنی جگہ پر تھم جائے گا۔ چاند اور سورج کے آنے جانے، رات اور دن کی آمدروفت میں انسان کے لیے ایک ایسا سبق ہے جس سے انسان اپنی موت اور زندگی کے بارے میں سوچ سکتا ہے کہ اسی طرح ہی ایک وقت آئے گا کہ میری زندگی کے سورج نے غروب ہونا ہے اور قیامت کے دن مجھے زندہ کیا جائے گا۔
یہاں سورج کے لیے ” مُسْتَقَرٌّ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے اہل علم نے اس کے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ مستقر سے مراد وہ جائے استقرار ہے جہاں پہنچ کر سورج دنیا کے ایک حصہ سے اوجھل ہوجاتا ہے اور اس عمل کو سورج کا سجدہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جماعت کا خیال ہے کہ مستقر سے مراد وہ مقام ہے جہاں قیامت کے دن سورج کو رک جانے کا حکم ہوگا۔
رات کے بارے میں فرمایا کہ ہم اس سے دن ہٹا دیتے تو اندھیرہ چھا جاتا ہے۔ غور فرمائیں کہ اگر دن آدھی رات کے وقت نکل آئے تو لوگوں اور درندوں، پرندوں کی کیا حالت ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے لیل ونہار کا ایسا نظام ترتیب دیا ہے کہ دونوں اپنے اپنے وقت کے مطابق آتے جاتے ہیں کبھی اس نظام میں خلل واقع نہیں ہوا۔
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا مگر اسے اجازت نہ ملے۔ اسے حکم ہوگا جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ ‘ ‘
سورج اور چاند کا انجام :
” حضرت ابو سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو اکٹھا جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ حسن (رح) نے پوچھا ان کا جرم کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میں تمہیں نبی ؓ کی حدیث سنا رہا ہوں ابو سلمہ کی بات سن کر حسن خاموش ہوگئے۔ “ [ الابانۃ الکبریٰ لابن بطۃ : باب ذکر ما جاءت بہ السنۃ من طاعۃ رسول اللہ ﷺ ]
مسائل
1۔ رات اور دن کے آنے جانے میں انسان کے لیے ہدایت کا عظیم سبق ہے۔
2۔ چاند اور سورج اپنے اپنے مدار میں رواں دواں ہیں۔ 3۔ سورج اور چاند ایک دوسرے کو نہیں پاسکتے۔
4۔ نہ رات دن پر سبقت کرسکتی ہے اور نہ دن رات سے آگے نکل سکتا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے چاند کے لیے منازل اور سورج کے لیے ایک مستقر قائم کیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
لیل و نہار کا آنا جانا :
1۔ رات دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ (الاعراف : 54)
2۔ رات دن کو اور دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (الزمر : 5) 3۔ رات اور دن کا بڑھنا، گھٹنا۔ (الحدید : 6)
4۔ رات آرام اور دن کام کے لیے ہے۔ (الفرقان : 47) 5۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص : 72)
6۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون : 80)
Ayahs 36:38–41فہم القرآن
ربط کلام : آفاق کی نشانیاں پیش کرنے کے بعد بحری نشانی کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔
دنیا میں بیشمار لوگ موجود رہے ہیں اور رہیں گے جو آمدروفت اور تجارت کی غرض سے بحری سفر اختیار کرتے ہیں۔ بحری سفر کرنے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب وہ بھنور میں پھنستے ہیں تو صرف اور صرف ایک ” اللہ “ کو صدائیں دیتے ہیں۔ لیکن ساحل سمندر پر پہنچ کر شر کیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ کوئی خضر (علیہ السلام) کو نجات دہندہ قرار دیتا ہے اور کوئی بہاول حق کا نام لیتا ہے۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا اشارتاً ذکر فرما کر مشرکوں کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کی طرف دیکھیے جو ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور نذرانے پیش کرتے تھے۔ جب ان کا واسطہ ایسے طوفان کے ساتھ پڑا جس کی لہریں بلندو بالا پہاڑوں کی چوٹیوں کے ساتھ ٹکرا رہی تھیں، اوپر سے موسلا دھار بارش برس رہی تھی اور نیچے سے زمین سے چشمے جاری تھے۔ ایک طرف مشرک ڈبکیاں لے رہے تھے اور دوسری طرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کشتی پر بیٹھے ہوئے اپنی قوم کا انجام دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی کشی کے ذریعے مومنوں کو نجات دی اور مشرکوں کو ڈبکیاں دے دے کر ذلت آمیز موت کے منہ دھکیل دیا۔ نہ صرف حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی روحانی اولاد کو طوفان باد و باراں سے نجات بخشی بلکہ لوگوں کو کشتی بانی کے ہنر سے بھی سرفراز فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ سمجھ بھی عطا فرمائی کہ وہ نقل و حمل کے لیے دیگر ذرائع اختیار کرے جس میں ہر دور کے ذرائع شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ فہم کا نتیجہ ہے کہ انسان نے اپنی زبان سے نکلی ہوئی آواز سے زیادہ تیز رفتار جہاز تیار کرلیے ہیں۔ نہ معلوم کہ قیامت تک مزید کون کون سی تیز رفتار سواریاں معرض وجود میں آئیں گی۔ ذرائع آمدروفت کی نئی نئی ایجادات کا اشارہ دے کر ایک دفعہ پھر بحری سفر کرنے والوں کو یہ حقیقت باور کروائی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں غرق کرنے پر آجائے تو زمین آسمان میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو ڈوبنے والوں کو بچا سکے۔ پھر بھی مشرک شرک کرنے سے باز نہیں آتے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔
بھری ہوئی کشتی سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے جس میں نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی سوار تھے۔ کیونکہ ان کے سوا باقی لوگوں کو غرق کردیا گیا تھا۔ اس لیے بعد کے لوگ انہی کی اولاد میں سے ہیں جن کے لیے ” ذُرِّیَّتَھُمْ “ کا لفظ بولا گیا ہے۔ اس کا یہ مفہوم لینے کی بھی گنجائش ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے حضرات زیادہ تھے جس بنا پر ” ذُرِّیَّتَھُمْ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو طوفان سے نجات بخشی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نقل و حمل کے لیے بہترین سواریاں بنانے کی صلاحیت عطا فرمائی۔
3۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو مشرکوں کو سمندر میں غرق کر دے لیکن وہ اپنی رحمت سے لوگوں کو نجات اور مہلت دیتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کسی کو غرقاب کرنا چاہے تو زمین و آسمان میں اسے کوئی بچا نہیں سکتا۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں کشتیوں کا تذکرہ :
1۔ اللہ تعالیٰ نے نہروں اور کشتیوں کو مسخر فرمایا۔ (ابراہیم : 32)
2۔ کشتیوں کا غرق ہونے سے بچنا اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ (یٰس : 44)
3۔ جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65)
4۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کی ہر چیز مسخر کردی، اور کشتیاں دریاؤں میں اسی کے حکم سے چلتی ہیں۔ (الحج : 65)
5۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کشتیاں سمندروں میں اللہ کے فضل سے چلتی ہیں۔ (لقمان : 31)
6۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے دریاؤں کو مسخر کردیا تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے رواں دواں ہوں۔ (الجاثیہ : 12)
Ayahs 36:42–45فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو مہلت پر مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی درستگی کرلیں۔ مگر پھر بھی لوگ اعراض ہی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اپنی قدرتیں بتلا اور دکھلا کر باربار سدھرنے کا موقع دیتا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں سمجھانے والا یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور شرک سے باز آجاؤ۔ ورنہ جو کچھ تم اپنے آگے بھیج رہے ہو اور جو کچھ چھوڑ جاؤ گے وہ تمہاری ذلت و رسوائی کا سبب بنے گا لیکن مشرک اور نافرمان لوگ اپنے رب سے ڈرنے کی بجائے اس کی طرف سے دئیے جانے والے دلائل سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے مستحق قرار پانے کی بجائے اس کے غضب کے سزاوار ہورہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور مہربانی فرمانا چاہتا ہے۔
مسائل
1۔ مشرک اور نافرمان لوگ اپنے انجام سے نہیں ڈرتے۔
2۔ انسان جو کچھ اپنے آگے بھیجے گا اور جو کچھ پیچھے چھوڑے گا اس کا اچھا یا برا انجام دیکھ لے گا۔
3۔ مشرک اور نافرمان لوگ کسی دلیل سے قائل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
Ayahs 36:46–47فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں کا انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں رویہ۔
جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض کرنے کا رویہ اختیار کرلے تو وہ اس بات کو فراموش کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے رزق عطا فرمایا ہے۔ اس میں کسی غریب کا حق بھی پایا جاتا ہے۔ دنیادار مال کی محبت میں اس حد تک مبتلا ہوجاتا ہے کہ اگر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کی جائے تو وہ کسی غریب پر خرچ کرنے کی بجائے یہ کہتا ہے کہ میں اسے کیوں دوں ؟ جسے اللہ نے کچھ نہیں دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو اس کی تونگری منظور ہوتی تو وہ خود اسے رزق کی فروانی سے ہمکنار کرتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے کشادگی سے ہمکنار کرنا ٹھیک نہیں سمجھا تو ہم اس کی امداد کیوں کریں ؟ کسی شخص کا ایسا سوچنا اور کہنا اس کی پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام چلانے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھنے کے لیے انہیں ایک دوسرے کا ضرورت مند بنایا ہے اس کا فرمان ہے۔
(اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَرَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا وَرَحْمَۃُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ) [ الزخرف : 32]
” کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی کے لیے وسائل ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں۔ اور ان میں بعض کو بعض پر ہم نے برتری دی ہے۔ تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور جو وہ سمیٹ رہے ہیں تیرے رب کی رحمت اس سے زیادہ قیمتی ہے۔ “
(عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ۔۔ ، فَقَال النَّبِی ﷺ ہَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلاَّ بِضُعَفَاءِکُمْ )[ رواہ البخاری : باب مَنِ اسْتَعَان بالضُّعَفَاءِ وَالصَّالِحِینَ فِی الْحَرْبِ ]
” حضرت مصعب بن عمیر ؓ بیان کرتے ہیں۔۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری مدد اور تمہیں رزق تمہارے کمزوروں کی وجہ سے دیا جاتا ہے۔ “
Ayah 36:48فہم القرآن
ربط کلام : بخیل اور گمراہ شخص آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے۔
مال کی محبت ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو انسان میں بخل پیدا ہوجاتا ہے۔ بخیل انسان عملاً قیامت کا منکر ہوتا ہے مکہ کے اکثر سردار قیامت کے منکر تھے جس وجہ سے وہ نبی ﷺ سے بار بار سوال کرتے کہ جس قیامت کا ہمارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس وعدے کے بارے میں بتلاؤ کہ وہ کون سے سال، کس مہینے اور کس دن پورا ہوگا ؟
سورۃ الاعراف کی آیت 187 میں کفار کے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کب نازل ہوگی ؟ ان سے فرمائیں ! اس کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ وہ اپنے وقت پر ہر صورت برپا ہوگی۔ البتہ یاد رکھو کہ جب برپا ہوگی تو اچانک آجائے گی اور وہ زمین و آسمان پر اس طرح بھاری ہوگی کہ وہ اس کے وارد ہونے کا بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اس مقام پر کفار کے سوال کا صرف اتنا جواب دیا ہے کہ جب قیامت کا پہلا نفخہ پھونکا جائے گا تو اس قدر اچانک ہوگا کہ تم آپس میں دنیا کے معاملات میں بحث و تکرار کررہے ہو گے تو قیامت برپا ہوجائے گی۔ کسی شخص کو اپنی اولاد کو وصیت کرنے کا موقعہ نہیں مل سکے گا اور اپنے گھر سے باہر ہونے والا شخص اپنے گھر نہ پلٹ سکے گا تو قیامت اسے دبوچ لے گی۔ ہر انسان کی فطری کمزوری اور خواہش ہوتی ہے کہ اسے گھر میں موت آئے اور وہ اپنی اولاد کو کوئی نہ کوئی نصیحت کرجائے۔ اگر گھر سے باہر ہو تو وہ مصیبت کے وقت جلد از جلد گھر پلٹنا چاہتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن کسی کو کسی حال میں مہلت نہیں مل سکے گی۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لاَ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِکَ حینَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہِ وَلاَ یَطْوِیَانِہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہِ فَلاَ یَطْعَمُہُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَہْوَ یَلِیطُ حَوْضَہُ فَلاَ یَسْقِی فیہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہُ إِلَی فیہِ فَلاَ یَطْعَمُہَا)[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر تمام کے تمام لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت ان کو ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جو اس سے قبل ایمان نہ لایا اور نہ اس نے نیک اعمال کیے۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا دکاندار کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ حوض پروارد ہونے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ انسان منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
مسائل
1۔ منکرین حق قیامت برپا ہونے سے پہلے حق بات تسلیم نہیں کریں گے۔
2۔ قیامت کے دن کوئی شخص کسی کو وصیّت کرنے کی مہلت نہیں پائے گا۔
3۔ قیامت کے دن اپنے گھر سے باہر ہونے والا شخص گھر نہیں پلٹ سکے گا کہ قیامت کا زلزلہ اسے مار ڈالے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کا اچانک برپا ہونا اور اس کی ہولناکیاں :
1۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : 1) 2۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعۃ : 1)
3۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1)
4۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187)
5۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 4)
6۔ قیامت کے دن پہاڑ اون کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 5) 7۔ زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ ( الواقعہ : 4)
8۔ قیامت کے دن لوگ مدہوش ہونگے حالانکہ انہوں نے شراب نہیں پی ہوگی۔ ( الحج : 2)
Ayahs 36:49–51فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف دوڑیں گے۔
دوسرے نفخہ کے بعد لوگ قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جیسے شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ اللہ کے باغی قبروں سے نکلتے ہی واویلا کریں گے۔ ہائے افسوس ! ہمیں کس نے قبروں سے نکال باہر کیا ہے۔ قیامت کی ہولناکیوں اور محشر کے میدان میں اکٹھے کیے جانے کا حال دیکھ کر انہیں یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے جس کا ہمارے ساتھ ربِّ رحمن نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پیغمبریاد دہانی کروایا کرتے تھے۔ جس قیامت کے بارے میں یہ لوگ جھگڑتے اور کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں آئے گی وہ تو اسرافیل کی ایک پھونک کا نتیجہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جوں ہی اسرافیل صور میں پھونک ماریں گے تو زمین میں شدید ترین زلزلے ہوں گے یہاں تک کہ پھٹ جائے گی۔ ہر کوئی اپنے اپنے مدفن سے نکل کھڑا ہوگا اور سب کے سب ربِّ ذوالجلال کے حضور کھڑے ہوجائیں گے۔ لوگ پسینے سے شرابور ہوں گے اور اس طرح حواس باختہ ہوں گے جیسے انہوں نے نشہ کیا ہوا ہو۔ یہ حالت ان کی نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ محشر کی سختی اور ربِّ ذوالجلال کے جلال کی وجہ سے ہوگی۔ اس موقع پر اعلان ہوگا کہ آج کسی پر رائی کے دانے کے برابر ظلم نہیں ہوپائے گا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ یُحْشَرُالنَّا سُ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کَیْفَ الْحَشْر ]
Ayah 36:52حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے وہ ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس دن معاملہ اس کے برعکس ہوگا یعنی کوئی ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھ سکے۔ “
(عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوق ﷺ حَدَّثَنِی أَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُونَ ثَلاَثَۃَ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاکِبِینَ طَاعِمِینَ کَاسِینَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلاَءِکَۃُ عَلَی وُجُوہِہِمْ وَتَحْشُرُہُمُ النَّارُ وَفَوْجٌ یَمْشُونَ وَیَسْعَوْنَ یُلْقِی اللَّہُ الآفَۃَ عَلَی الظَّہْرِ فَلاَ یَبْقَی حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَکُونُ لَہُ الْحَدِیقَۃُ یُعْطِیہَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لاَ یَقْدِرُ عَلَیْہَا )[ رواہ النسائی : باب البعث ]
حضرت حذیفہ بن اسید حضرت ابوذر ؓ سے بیان کرتے ہیں بیشک کائنات میں سے سچے انسان نے مجھے خبر دی کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین طریقوں سے جمع کیا جائیگا۔ ان میں سے ایک جماعت کے لوگ سوارہوں گے، بھوکے اور ننگے ہوں گے، اور تیسری جماعت کو فرشتے چہروں کے بل گھسیٹیں گے اور آگ ان کو اکٹھا کرے گی اور ایک جماعت بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان پر آفت مسلط فرمائیں گے اس سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا حتیٰ کہ ایک آدمی کا باغ ہوگا وہ اس باغ کو ایسی سواری کے بدلے دیدے گا جس پر اسے کچھ اختیار نہ ہوگا۔
( عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ کُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِی ظِلِّ غُرْفَۃٍ لِرَسُول اللّٰہِ ﷺ فَذَکَرْنَا السَّاعَۃَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَنْ تَکُونَ أَوْ لَنْ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُونَ قَبْلَہَا عَشْرُ آیَاتٍ طُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَخُرُوج الدَّابَّۃِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلَاثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِکَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْیَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوق النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ ) [ رواہ ابوداؤد، کتاب الملاحم، باب أمارات الساعۃ ]
” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی معظم ﷺ کے حجرہ مبارک کے سائے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے دوران گفتگو ہم نے قیامت کا ذکر کیا اور بات چیت کے دوران ہماری آوازیں بلند ہوگئیں۔ رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ پوری ہوجائیں۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دابہ جانور کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دجال کا آنا، عیسیٰ ابن مریم [ کا نزول، دھواں کا ظاہرہونا اور زمین کا تین مرتبہ دھنسنا ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ مشرق میں اور ایک مرتبہ جزیرۃ العرب میں اور آخر میں آگ یمن سے عدن کی طرف رونما ہوگی جو لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کرے گی۔ “
مسائل
1۔ اسرافیل کے دوسری دفعہ صور پھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
2۔ لوگ محشر کے میدان کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے کوئی ادھر ادھر نہیں جاسکے گا۔
3۔ قبروں سے اٹھتے ہی ظالموں کو یقین ہوجائے گا کہ قیامت بر پا ہوچکی ہے۔
4۔ رب رحمن کی طرف سے اعلان ہوگا کہ آج کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
صور کا پھونکا جانا :
1۔ پہلے نفخہ سے لوگ بےہوش ہوجائیں گے۔ اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزّمر : 62)
2۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : 51)
3۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : 53)
4۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النبا : 18)
5۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکھف : 99)
6۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر لائیں گے۔ (طہٰ : 102)
7۔ جس دن صورپھونکا جائے گا تو سب آسمان اور زمین والے سب کے سب گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (النّمل : 78)
Ayahs 36:53–55فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی حواس باختہ، پریشان اور انتہائی ذلت میں ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جنتی چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے۔
مجرموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جن کے لیے اعلان ہوگا کہ آج تم پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ جنتیوں کا ذکر کرتے ہوئے محشر کے دن کے مختلف مراحل کا ذکر چھوڑ کر انہیں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ آج تمہیں جنت میں داخل کیا جاتا ہے جس میں تم ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر خوش و خرم بیٹھے ہوئے خوش گپیاں کرو گے اور جو چاہو گے وہ پاؤ گے۔
قبروں سے نکلتے ہی جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان واضح فرق دکھائی دے گا۔ جہنمیوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست چھائی ہوگی۔ جنتیوں کے چہروں پر نور اور خوشی پھوٹ رہی ہوگی۔ جہنمیوں کو رسوا کرکے محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا۔ ان میں سے کثیر تعداد کو منہ کے بل چلا کر محشر کے میدان میں لے جایا جائے گا اور ان کے پیچھے آگ لگی ہوگی۔ ان کے مقابلے میں جنتیوں کو درجہ بدرجہ سواریاں مہیا کیں جائیں گی۔ ان میں سے ایسے بھی خوش قسمت ہوں گے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے محشر کے میدان میں پہنچادیئے جائیں گے۔ جہنمیوں کو دبر کی طرف سے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جائیں گے جنتیوں کو دائیں ہاتھ میں پیش کیے جائیں۔ جہنمی اپنے اعمالنامے دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹیں گے جنتی اعمالنامے دیکھ کر خوش ہونگے اور اپنے عزیزواقربا کو دکھائیں گے۔ حساب و کتاب کے بعد اعلان ہوگا کہ جنتیوں اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔ جنتی جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ان کے دل میں جو بھی چاہت پیدا ہوگی پوری کردی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلامتی نازل ہوگی اور ملائکہ انہیں سلام پیش کریں گے۔
( عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ خَیْلٍ قَالَ إِنِ اللَّہُ أَدْخَلَکَ الْجَنَّۃَ فَلاَ تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فیہَا عَلَی فَرَسٍ مِنْ یَاقُوتَۃٍ حَمْرَاءَ یَطِیرُ بِکَ فِی الْجَنَّۃِ حَیْثُ شِءْتَ إِلاَّ فَعَلْتَ قَالَ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ ہَلْ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ إِبِلٍ قَالَ فَلَمْ یَقُلْ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِصَاحِبِہِ قَالَ إِنْ یُدْخِلْکَ اللَّہُ الْجَنَّۃَ یَکُنْ لَکَ فیہَا مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَیْنُکَ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ خَیْلِ الْجَنَّۃِ ]
” حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے آپ نے فرمایا اللہ تجھے جنت میں داخل کرے۔ اگر تیری جنت میں یہ چاہت ہوئی کہ تو سرخ یاقوت سے مزین گھوڑے پر سوارہو۔ تو گھوڑے تجھے جنت میں لیے اڑتے پھریں گے تیری یہ خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ ایک اور آدمی نے پوچھا کیا جنت میں اونٹ ہوں گے تو آپ ﷺ نے اسے بھی پہلے شخص جیسا جواب دیا اس کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں داخل کردیاتو تجھے جنت میں وہ کچھ ملے گا جو تیرا جی چاہے گا اور جو تیری آنکھ کو بھائے گا۔ “
مسائل
1۔ جنتی جنت میں ہشاش بشاش اور آپس میں شغل مغل کریں گے۔
2۔ جنت میں میاں بیوی صوفوں پر بیٹھے ہوئے جو چاہیں گے وہ پائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
جنتیوں کو سلامیاں پیش کی جائیں گی :
1۔ جنتی جنت میں آپس میں ملاقات کے وقت اللہ کی تسبیح بیان کریں گے اور سلام کہیں گے۔ (یونس : 10)
2۔ جنتیوں کا ایک دوسرے کو تحفہ سلام ہوگا۔ (الاحزاب : 44)
3۔ جنتیوں کو بالاخانے ملیں گے اور وہ آپس میں ملتے وقت دعا وسلام کریں گے۔ (الفرقان : 75)
4۔ ملائکہ جنتیوں کو سلام کہتے ہوئے کہیں گے کہ جنت کے دروازوں سے داخل ہوجاؤ۔ (الرعد : 23۔ 24)
5۔ فرشتے کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (النحل : 32)
6۔ جنت کے دربان کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو مزے سے رہو اور ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (الزمر : 73)
Ayahs 36:56–59فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کو جنت میں داخل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں کو خطاب۔
محشر کے میدان میں جہنمیوں کو جنتیوں سے الگ کردیا جائے گا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس موقعہ پر جہنمیوں کو ان کے جرائم کے مطابق گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگلے مرحلے میں ہوگا۔ کیونکہ قرآن مجید کا سیاق وسباق بتلا رہا ہے کہ اس موقعہ پر تمام جہنمیوں کو اجتماعی خطاب ہوگا جس میں رب ذوالجلال انہیں وہ عہد یاد دلائیں گے جو عالم ارواح میں پوری بنی نوع انسان سے لیا تھا۔
” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم شہادت دیتے ہیں۔ کہ آپ ہمارے رب ہیں فرمایا ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو کہ ہم اس عہد سے غافل تھے یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد آئے کیا ہمیں ان کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے جو ان لوگوں نے کیا ؟ “ (الاعراف : 172، 173)
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیثَاقَ مِنْ ظَہْرِ اٰدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّیَّۃٍ ذَرَأَہَا فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہٖ کَالذَّرِّ ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قِبَلًا قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلٰی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَکَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِہِمْ أَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ )[ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عباس ؓ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عرفہ کے مقام پر آدم اور اس کی اولاد سے وعدہ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تمام اولاد نکالی جس کو پیدا فرمانا تھا۔ انھیں اپنے سامنے چیونٹیوں کی طرح پھیلایا پھر ان سے کلام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اب قیامت کے دن یہ نہ کہنا کہ ہم تو اس سے غافل تھے یا تم کہو شرک تو ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا اور ہم ان کی اولاد تھے۔ کیا تو ہمیں باطل کام کرنے والوں کی وجہ سے ہلاک کرتا ہے۔
مسائل
1۔ اسرافیل کے دوسری مرتبہ صور پھونکنے کے ساتھ ہی محشر کے دن کا آغاز ہوجائے گا۔
2۔ قیامت کے منکر اس دن اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کریں گے۔
تفسیر بالقرآن
صراط مستقیم کا تعارف :
1۔ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ ( مریم : 36)
2۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : 87)
3۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یٰسٓ: 61) 4۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر بیخبر ہیں۔ (الروم : 40)
5۔ اللہ کی خالص عبادت کرنا صراط مستقیم پر گامزن ہونا ہے۔ (آل عمران : 51)
6۔ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اس میں شک نہیں کرنا چاہیے یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : 68)
7۔ یقیناً اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : 64)
8۔ آپ اسے مضبوطی سے پکڑ لیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : 3 4)
9۔ اے اللہ ہمیں صراط مستقیم دکھا۔ ( الفاتحہ : 6) 10۔ اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج : 54)
11۔ صراط مستقیم کے سنگ میل۔ (الانعام : 151 تا 153) 12۔ ہر کسی کو صراط مستقیم کی ہی دعوت دینا چاہیے۔ ( الانعام : 153)
13۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 142)
14۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمّسک کا نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 101)
Ayahs 36:60–62فہم القرآن
ربط کلام : رب رحمٰن نے بنی آدم سے عہد لینے کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس لیے اس سے بچنا اور صرف میرا ہی حکم ماننا اور میری ہی بندگی کرنا۔
خالق حقیقی سے عہد کرنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے شیطان کی پیروی کی۔ جسے شیطان کی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ عبادت میں اطاعت شرط اوّل ہے۔ البتہ ہر اطاعت بندگی اور عبادت میں شامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ناصرف لوگوں سے اپنی عبادت کرنے کا عہد لیا تھا بلکہ انہیں اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس سے ہر صورت بچے رہنا۔ لیکن لوگوں کی اکثریت شیطان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئی اور انہوں نے اتنی بھی عقل اور غیرت نہ کی کہ وہ اپنے ازلی دشمن کے پیچھے نہ چلے۔ یاد رہے کہ اللہ کے سوا کسی سے دعا کرنا، اس کے سامنے جھکنا، سجدہ کرنا اور نذرو نیاز پیش کرنا اور شریعت کو چھوڑ کر کسی دوسرے کا حکم ماننا۔ حقیقت میں یہ شیطان کی عبادت کرنا ہے۔ عبادت میں ہر قسم کی تابعداری شامل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنا کفر اور شرک ہے جس سے منع کیا گیا ہے ایسے لوگوں کو کہا جائے گا کہ یہ جہنم ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ لہٰذا شیطان کی عبادت کرنے کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوجاؤ۔
مسائل
1۔ لوگوں کی اکثریت کو شیطان گمراہ کردیتا ہے۔ 2۔ عقل مند وہ ہے جو شیطان کی پیروی کرنے سے بچا رہے۔
Ayahs 36:63–65فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے داخلے کا اعلان سنتے ہی مجرموں کی حالت۔
محشر میں ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ مجرم اپنے اعمال نامے اور دوسری شہادتوں کا انکار کردیں گے۔ اس پر ان کے مونہوں پر مہریں لگا دی جائیں گی۔ حکم ہوگا کہ آج تمہارے ہاتھ اور پاؤں ہمارے حضور گواہی دیں گے۔ دوسرے مقام پر ہے کہ مجرموں کے ہاتھ پاؤں گواہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں، کان اور جسم کا ایک ایک رونگٹا بول پڑے گا کہ خدایا اس کی زبان جھوٹ بول رہی ہے اس شخص نے ہمارے ذریعے یہ تمام جرم کیے ہیں جو اس کے اعمال نامے میں درج ہیں ( حٰمٓ السجدۃ : 20، 21)
اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دنیا میں بھی مجرموں کے اعضاء ختم اور ان کی آنکھیں مسخ کردے جس سے ان کا وجود جامد اور ساکت ہوکررہ جائے۔ بعض مجرموں کو قیامت کے دن یہ سزا دی جائے گی جس وجہ سے وہ ان الفاظ میں آہ و زاریاں کریں گے۔
” جو کوئی میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی بد نصیبی کی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ کہے گا کہ اے میرے پر ودگا مجھے تو نے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھا کرتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ تیرے پاس میرے احکام پہنچے تھے مگر تو ان کو بھول گیا اسی طرح آج تجھے بھلا دیا گیا ہے۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے احکام سے تجاوز کرے اور ایمان نہ لائے ہم اس کو اسی طرح سزا دیں گے اور آخرت کا عذاب بہت ہی سخت اور دائمی ہے۔ “ (طہٰ : 124 تا 127)
انسان کی بےبسی کا عالم :
اگر مجرموں کو اس بات پر یقین نہیں تو کسی بوڑھے کو دیکھ لیں جس کے کان، ناک، آنکھیں اور بظاہر پورے کا پور اجسم موجود ہوتا ہے لیکن نہ سن سکتا ہے اور نہ اسے بو اور خوشبو کا احساس ہوتا ہے۔ آنکھیں ہیں مگر دکھائی نہیں دیتا، پاؤں ہیں لیکن چل نہیں سکتا، زبان ہے مگر بات سمجھا نہیں سکتا۔ یہاں تک سوچتا کچھ ہے اور کہتاکچھ ہے۔ گویا کہ پورا جسم نکارہ ہوچکا ہے۔ بس روح اور جسم کے رشتہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح بعض لوگ اس قدر ضعف اور بڑھاپے کا شکار ہوجاتے ہیں کہ بچوں کی طرح دوسرے کے سہارے کے بغیرنہ چل سکتے نہ خود کھا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اٹھنے، بیٹھنے میں بھی دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں اور بچوں جیسی باتیں اور حرکتیں کرتے ہیں۔
(عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْف فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَا رَسُول اللَّہِ وَمَتَی ذَاکَ قَالَ إِذَا ظَہَرَتِ الْقَیْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ )
[ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی عَلاَمَۃِ حُلُولِ الْمَسْخِ وَالْخَسْفِ ]
” عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اس امت میں دھنسایا جانا، شکلیں تبدیل ہونا اور تہمت لگا ناعام ہوجائے گا۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ایسا وقت کب آئے گا۔ آپ نے فرمایا جب گانا گانے والیاں، بانسریاں بجانا اور شراب نوشی عام ہوجائے گی۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِک ٍ اَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَانَ یَدْعُو أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْکَسَلِ ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ، وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی أَرْذَلِ الْعُمُرِ )]
” حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! میں بخیلی، سستی، رذیل عمر، عذاب قبر، دجال کے فتنے اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن مجرم کے ہاتھ اور پاؤں اس کے جرائم کی گواہی دیں گے۔
2۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو مجرموں کے اعضاء ختم اور ان کی شکلیں مسخ کردے۔
Ayahs 36:66–69فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح مشرکین مکہ اللہ کی توحید کے بارے میں بےسمجھی کا مظاہرہ کرتے اسی طرح ہی قرآن مجید کے متعلق بےعقلی کی بات کرتے کہ قرآن کسی شاعر کا کلام ہے یہاں ان کے الزام کا جواب دیا گیا ہے۔
کفار کا کہنا تھا کہ محمد ﷺ شاعرانہ تخیلات پیش کرتا ہے جس کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو شعر و شاعری نہیں سکھلائی اور نہ ہی اس کی یہ شان ہے کہ وہ شعرگوئی کرے۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے۔ جو لوگوں کے لیے نصیحت کے طور پر اتارا گیا ہے لیکن نصیحت وہی شخص حاصل کرکے گا جو ہوش، گوش رکھتا ہے۔ اور قرآن لوگوں پر کھلی حجت ہے یہاں تک شاعر اور اس کے تخیلات کا تعلق ہے اس کے بارے میں سورة الشعراء کی آیت 221 تا 226 میں وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان ہر جھوٹے اور برے آدمی پر آیا کرتے ہیں۔ جو ان کے کان میں جھوٹی باتیں ڈالتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرنے والے اکثر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ کیا تم لوگ شاعروں کو نہیں جانتے کہ وہ ہر وادی میں سرگردان پھرتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر ان کا عمل نہیں ہوتا۔ ان کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ نبوت سے پہلے بھی بات کے سچے اور قول کے پکے تھے اور آپ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر شاعرانہ کلام نازل نہیں کیا اور نہ ہی آپ کی شان ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے شعر گاتے پھریں۔ شعروں کے پرستار لوگ قرآن و سنت اور عقل کی بات پر اتنی توجہ نہیں دیتے جتنی شعر و شاعری پر دیا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے شعر نہ پڑھا جائے تو انہیں قرآن سننے کا بھی لطف نہیں آتا جو لطف وہ شعر میں محسوس کرتے ہیں۔ یہاں تک اگر قرآن مجید فطری اور سادہ انداز میں پڑھا جائے تو انہیں ایسی تلاوت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کا ثبوت عوامی جلسوں میں دیکھا اور سنا جاسکتا۔ جس جماعت اور معاشرے میں یہ صورت حال پیدا ہوجائے۔ اس معاشرے اور جماعت میں دن بدن شعور اور علم رخصت اور جہالت کا غلبہ ہوتا جاتا ہے۔
مولانا حالی کا قول :
متحدہ ہندوستان کے دور میں مولانا الطاف حسین حالی ان چند شعراء میں شامل تھے جن کا اس زمانہ میں طوطی بولتا تھا وہ اپنی کتاب مقدمہ شعر و شاعری میں لکھتے ہیں۔ شاعری کا ماحول عام طور پر جہالت کے دور میں زیادہ پنپتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یونان کے مشہور فلسفی اور مفکر ارسطو کا حوالہ دیا ہے کہ جب اس نے پہلی مرتبہ یونان کا دستور مرتب کیا تو ہر طبقہ کی ضرورت محسوس کی لیکن شاعروں کے طبقہ کو اس لیے در غور اعتنانہ سمجھا کیونکہ بقول اس کے کہ شاعر لوگ عام طور پر باتیں جوڑنے اور بنانے کے سوا کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ارسطو کے قول کے بارے میں نہ معلوم دانشوروں کی کیا رائے ہوگی تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ شعر و شاعری کے ماحول میں علم اور عقل کی بات کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ میں نے زندگی میں ان گنت عوامی اجتماعات میں تقریر کی اور خطیبوں کے خطاب سنے ہیں۔ جس اجتماع میں کوئی خطیب شعر یا ترنم کے ساتھ بات نہیں کرتا بیشک وہ کتنا ہی اچھا خطیب اور عالم کیوں نہ ہو اکثر لوگ اس کی بات سننے کی طرف دھیان نہیں دیتے۔ جس معاشرے اور جماعت میں ایسا ماحول پیدا ہوجائے وہاں علم اور علماء کی قدر اٹھ جاتی ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شعر و شاعری کے فوائد کم اور اس کے نقصانات گہرے، زیادہ اور دیرپا ہوتے ہیں۔
امام جصّاص ؓ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ عائشہ ؓ سے کسی نے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کبھی شعر پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ ایک شعر ابن طرفہ کا آپ ﷺ نے پڑھا تھا۔
ستبدی لک الایام ما کنت جاھلا و یأتیک بالاخبار من لم تزوّد
” اس کو آپ ﷺ نے وزن شعری کو توڑ کر من لم تزوّد بالاخبار پڑھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ شعر اس طرح نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں شاعر نہیں، نہ ہی میرے لیے شعرو شاعری مناسب ہے “۔[ مسند احمد : باب مَا جَاءَ فِی إِنْشَاد الشِّعْر ]ِ
اس لیے نبی اکرم ﷺ نے پوری حیات مبارکہ میں کسی خطاب میں شعر کہنا پسند نہیں فرمایا۔ حالانکہ بعض شاعروں کے کلام کی آپ ﷺ نے نہ صرف تعریف فرمائی ہے بلکہ حضرت حسان بن ثابت ؓ کو اپنے ممبر پر بٹھایا اور خود نیچے تشریف فرما ہوتے ہوئے اس کے لیے ان الفاظ میں دعا کی ” اَللّٰہُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ “” اے اللہ جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے اس کی مدد فرما۔ [ رواہ البخاری : باب ذِکْرِ الْمَلاَءِکَۃِ ]
اس لیے کسی خلیفہ اور صحابی ؓ سے ثابت نہیں کہ اس نے خطبہ جمعہ میں کبھی شعر پڑھا ہو۔ ہمیں بھی شعر و شاعری سے اجتناب کرنا چاہیے۔