36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsفہم القرآن

Ayahs 36:70–71

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ نبی ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہے اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہوجائے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے ہیں یہ ان کے مالک ہیں

فہم القرآن ربط کلام : سورة یٰس کا مرکزی مضمون بعث بعد الموت ہے۔ سابقہ آیات میں اسی کے دلائل دیئے گئے ہیں۔ درمیان میں قرآن مجید کے بارے میں کفار کے ایک الزام کی تردید کی گئی ہے۔ اب پھر موت کے بعد جی اٹھنے کے دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید تحریر کی صورت میں نہیں بلکہ تقریر اور خطاب کے انداز میں نازل ہوا ہے۔ خطاب کے دوران اگر سامع کوئی اعتراض یا سوال اٹھائے یا خطاب کرنے والا خود محسوس کرے تو وہ اپنے مضمون سے زرا ہٹ کر اس اعتراض کا جواب دینا لازم سمجھتا ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو پورے کا پورا خطاب بےاثر ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے اسی اصول کے پیش نظر قرآن مجید ایک مضمون بیان کرتے ہوئے اس کے متعلقات کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتا ہے۔ کیونکہ اہل مکہ توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت کی تردید کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ سرے سے قرآن مجید کو ہی مشکوک قرار دے دیا جائے اس لیے اس موقعہ پر قرآن مجید کے بارے میں وضاحت کردی گئی کہ یہ شاعرانہ کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ قرآن کی صورت میں نصیحت ہے مگر اس سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کا ضمیر زندہ ہوگا۔ مردہ ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے یہ دلیل دی جارہی ہے کیا انہوں نے کبھی غور کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے کیسے چوپائے پیدا کیے اور پھر لوگوں کو ان کا مالک بنا دیا۔ انسان سے کئی گنا زیادہ، جسیم اور طاقتور چوپائے اس کے تابع فرمان کردیے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جن پر یہ سواری کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کا انسان دودھ پیتے اور گوشت کھاتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بیشمار فوائد ہیں مگر لوگ اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اونٹ کو دیکھیں کس قدر طویل القامت، جسیم اور طاقتور جانور ہے لیکن اس کی مہار پکڑے ہوئے ایک بچہ بھی اس کو ادھر ادھر لیے پھر تا ہے۔ گھوڑے پر غور کریں کہ اس قدر سر پٹ دھوڑتا ہے کہ آدمی اسے پکڑنا چاہے تو پکڑ نہیں سکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح انسان کا تابع دار بنا دیا ہے کہ یہ جب چاہے گھوڑے پر سورا ہوجائے اور جب چاہے اس سے باربرداری کا کام لینا شروع کر دے۔ جانوروں کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ لغت کے اعتبار سے ید کی جمع ” اَیْدِیْ “ ہے جس کا معنٰی ہاتھ ہے۔ اس کا معنٰی نعمت بھی کیا گیا ہے۔ یہاں اہل علم نے ” اَیْدِیْ “ کا معنٰی قدرت کیا ہے۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کیا لوگوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ہم نے اپنی قدرت سے چوپائے پیدا کیے اور لوگوں کو ان کا مالک بنایا ہے۔ چوپاؤں کو ہم نے لوگوں کے تابع کردیا کچھ پر یہ سوار ہوتے اور کچھ کا گوشت کھاتے ہیں۔ چوپاؤں میں اور فائدوں کے ساتھ یہ فائدہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے آبپاشی کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ یہ نعمتیں پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا عمل دخل نہیں لیکن پھر بھی لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ قرآن مجید میں چوپاؤں، آسمانوں اور انسان کے بارے میں ” یَدٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کے بارے میں ” یَدٌ“ کا لفظ استعمال کیا ہے اور باقی کے بارے میں ” اَیْدِیْ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ” یَدٌ“ کا ہاتھ کے علاوہ کوئی معنٰی نہیں کیا جاسکتا اس کی تاویل کر ناجائز نہیں۔ لیکن ” اَیْدِیْ “ کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے کہ وہ اس کا معنٰی ہاتھ کی بجائے قدرت کرتے تھے اور اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ مسائل 1۔ اللہ کی تخلیق پر انسان کو غور کرنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بیشمار فوائد رکھے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن شکر کا حکم اور فائدے : 1۔ لوگو ! اللہ کو یاد کرو اللہ تمہیں یاد کرے گا اور اس کا شکر ادا کرو کفر نہ کرو۔ (البقرۃ : 152) 2۔ لوگو ! تم اللہ کا شکر ادا کرو اور ایمان لاؤ۔ اللہ بہت ہی قدر دان ہے۔ (النساء : 147) 3۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو وہ مزید عطا فرمائے گا۔ (ابراہیم، آیت : 7) 5۔ اللہ کی پاکیزہ نعمتیں کھا کر اس کا شکر کرو۔ (البقرۃ : 172) 6۔ اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرو۔ (العنکبوت : 17)
Ayahs 36:72–74

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

ہم نے چوپاؤں کو اس طرح ان کے تابع کردیا ہے کہ ان میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں کسی کا گوشت کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے لیے ان میں طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں کیا پھر بھی یہ شکر گزار نہیں ہوتے

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو درکنار اکثر انسان اللہ تعالیٰ کو اعتقاداً اور عملاً الٰہ ہی نہیں مانتے۔ انسان کی اپنے رب کے بارے میں ناقدری اور بغاوت کی انتہا دیکھیں کہ کھاتا، پیتا، پہنتا اور نعمتیں اپنے رب کی استعمال کرتا ہے۔ جن میں بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن کو کسی صورت میں بھی انسان اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان نعمتوں کو انسان کے تا بع فرمان نہ کرتا۔ جن میں چوپائے بھی شامل ہیں جو جسم اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے کئی گنا بڑے اور طاقتور ہیں۔ مگر وہ انسان کے غلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے مطیع کردیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ انسان اپنے خالق اور منعم حقیقی کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکتا اور نہ ہی کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا۔ مگر انسان نے اللہ تعالیٰ کے سوا کئی معبود اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر ان میں سے کوئی بڑا، نوری ہو یا ناری کوئی بھی انسان کی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ تو سب کے سب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیے جائیں گے۔ ان الفاظ کے اہل علم نے دو مفہوم اور بھی لیے ہیں کہ معبودان باطل اور ان کی عبادت کرنے والوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کردیا جائے گا۔ معبودان باطل اور ان کے پیچھے لگنے والوں کو جہنّم میں ایک دوسرے کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔ یہ ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔ نہ صرف قیامت کے دن ایک دوسرے کی مدد نہیں کر پائیں گے۔ بلکہ دنیا میں بھی اس کی ہر دور میں مثالیں موجود رہی ہیں اور رہے گی کہ جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو وہ فرد ہو یا قوم اسے کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ود، سُواع، یغوث، یعوق اور نسر کو پنچتن پاک بنا رکھا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو کوئی بھی کسی کو نہیں بچا سکا تھا۔ فرعون اپنی قوم کا رب الاعلیٰ بنا ہوا تھا۔ جب وقت آیا تو سب کے سب سمندر میں غرق کردئیے گئے۔ رب الاعلیٰ کا دعویٰ کرنے والا خود اپنی مدد کے لیے دوہائی دے رہا تھا۔ یہی صورتحال ہر دور کے ظالموں کی رہی ہے۔ ابوسفیان کا اقرار : فتح مکہ کے موقع پر ابوسفیان رات کے وقت مسلمانوں کے لشکر کا جائزہ لے رہا تھا۔ اچانک اس کی ملاقات حضرت عباس ؓ کے ساتھ ہوگئی رات کے اندھیرے میں دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ اس موقعہ پر دونوں کے درمیان اور باتیں بھی ہوئیں جن میں ایک بات یہ تھی کہ عباس ؓ نے ابوسفیان سے پوچھا کیا اب بھی تجھے یقین نہیں آتا کہ لات، عزیٰ اور ہبل کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ ابوسفیان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اگر واقعی ہبل اور دوسرے خدا مدد کرسکتے تو آج ہماری مدد کرتے۔ یہی بات عکرمہ بن ابوجہل نے فتح مکہ کے وقت کہی تھی۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مشرک اس لیے دوسروں کے سامنے جھکتا، سجدہ کرتا اور نذرونیاز پیش کرتا ہے تاکہ مشکل کے وقت اس کی مدد کی جائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ 3۔ معبودان باطل اور ان کے چاہنے والوں کو جہنّم میں اکٹھا کردیا جائیگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے : 1۔ جنوں اور انسانوں کو اللہ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ (الذاریات : 56) 2۔ تمام رسول، اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔ (النحل : 36) 3۔ اللہ ہی کے لیے رکوع و سجود اور ہر عبادت ہونی چاہیے۔ (الحج : 77) 4۔ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (النساء : 36) 5۔ اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کرنی چاہیے۔ (الزمر : 2) 6۔ اللہ ہی مشکل کشا ہے۔ (الانعام : 17) 7۔ اللہ ہی حاجت رواہے۔ (الانبیاء : 87) 8۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام : 41) 9۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ (یونس : 107) 10۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (بنی اسرائیل : 56) 11۔ کون ہے جو اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور مصیبت دور کرنے والا ہے۔ (النمل : 62) 12۔ کہہ دیجیے اگر اللہ تعالیٰ نقصان پہچانے پر آئے کیا کوئی نقصان دور کرسکتا ہے ؟ (الفتح : 11) 13۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : 16)
Ayahs 36:75–76

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ آپ کو غمگین نہ کریں ہم ان کی چھپی اور ظاہر سب باتوں کو جانتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی حقیقت اور اس کا انجام بتلانے کے بعد نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو رؤف اور رحیم بنایا تھا۔ ( التوبۃ : 128) اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ العٰلمین بنایا۔ (الانبیاء : 107) آپ نرم دل تھے۔ ( آل عمران : 159) اپنی طبیعت اور منصب نبوت کی اہمیت کے پیش نظر آپ ﷺ صبح وشام لوگوں کو سمجھاتے، مگر مکہ کے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ سمجھنے کی بجائے آپ کی جان کے دشمن بن چکے تھے۔ انہوں نے بار ہا دفعہ آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود آپ کی کیفیت یہ تھی کہ آپ لوگوں کی اصلاح کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ رات کو تہجد میں رو رو کر دعائیں کرتے اور دن کو دعوت الی اللہ دیتے۔ آپ کی محنت کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ ایک صحابی ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے استفسار کیا کہ کیا اللہ کے رسول بیٹھ کر بھی نفل پڑھا کرتے تھے ؟ ام المؤمنین ؓ نے فرمایا ہاں اس وقت جب آپ کو لوگوں نے چور چور کردیا تھا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیقٍ ؓ قَالَ قُلْتُ لِعَاءِشَۃَ ؓ ہَلْ کَان النَّبِیُّ ﷺ یُصَلِّی وَہُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَہُ النّاسُ )[ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافر ین، باب جواز النافلۃ قائما وقاعدا ] ” حضرت عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پو چھا کیا نبی محترم ﷺ بیٹھ کر بھی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ ام المومنین ؓ نے فرمایا ہاں لوگوں نے آپ کو چور چور کردیا تھا۔ “ (قَالَ ہَنْدُ بْنُ اَبِیْ ہَالَۃَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُتَوَاصِلَ الْاَحْزَنِ دَاءِمَ الْفِکْرَۃِ لَیْثَتْ لَہٗ رَاحَۃٌ) [ الرحیم المختوم : باب کمال النفس ومکارم الاخلاق ] ” ہند بن ابی ہالہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل غم سے دوچار رہتے، ہمیشہ غوروفکر فرماتے رہتے تھے۔ آپ کے لیے راحت نہ تھی۔ “ (یعنی جب آپ خلوت میں ہوتے تو لوگوں کے غم میں مسلسل فکر مند رہتے۔ ) اس صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے کئی بار نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ ﷺ کو ایک حد سے زیادہ غمگین نہیں ہونا چاہیے آپ کا کام لوگوں تک حق پہچانا ہے منوانا نہیں۔ جہاں تک ان لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں کا معاملہ ہے آپ یقین کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعلانیہ اور خفیہ کی ہوئی ہر حرکت کو جانتا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے کئی بار نبی کریم ﷺ کو تسلی عطا فرمائی۔ 2۔ داعی الی اللہ کو ایک حد سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں لوگوں کے خفیہ اور اعلانیہ گفتگو اور معاملات سے واقف رہتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا نبی کریم ﷺ کو پریشانی کے وقت تسلی دینا : 1۔ کفار کی باتوں سے آپ پریشان نہ ہوں۔ (یٰسٓ: 76) 2۔ کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے۔ ( الشعراء : 3) 3۔ آپ اس لیے پریشان نہ ہوں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ( الکہف : 6) 4۔ جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ آپ کو پریشان نہ کردیں۔ (آل عمران : 176) 5۔ آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (الروم : 60) 6۔ آپ صاحب عزم رسولوں کی طرح صبر کریں۔ (الاحقاف : 35) 7۔ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر افسوس کرتے ہوئے اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا نہ کریں۔ (الاحقاف : 6) 8۔ نبی ﷺ ! کو صبر کا حکم دیا گیا۔ (المعارج : 5) 9۔ اے پیغمبر ﷺ ! صبر کرو متقین کا بہتر انجام ہے۔ (ہود : 49)
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ نبی اکرم ﷺ سے ہی نہیں جھگڑتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی جھگڑا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ کیا انسان اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتا کہ ہم نے اسے ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے اور پھر انسان اپنے رب سے ہی جھگڑا کرنے پر اترآتا ہے۔ اس میں بھی نبی ﷺ کو مخصوص انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ غور فرمائیں کہ یہ لوگ صرف آپ سے ہی جھگڑا نہیں کرتے بلکہ اپنے خالق کے ساتھ بھی جھگڑا کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے انسان کو کئی بار اس کی تخلیق کے بارے میں توجہ دلائی ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ کیا اس کی تخلیق میں کسی اور کا عمل دخل ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین انسان کی تخلیق کا ذریعہ بنائے گئے ہیں لیکن کتنے جوڑے ہیں جو صحت مند ہونے اور زندگی بھر ازدواجی عمل کرنے کے باوجود اولاد سے محروم رہتے ہیں۔ یہی حقیقت انسان کی سمجھ میں آجائے تو وہ غیروں کی بجائے رب کا بندہ بن سکتا ہے۔ مگر مشرک کی حالت یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کی بجائے یہ عقیدہ رکھتا اور کہتا ہے کہ فلاں بزرگ اولاد دینے یا دلوانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اگر اسے سمجھایا جائے تو وہ اپنے شرکیہ عقیدہ کے بارے میں بحث و تکرار کرتا ہے اور جن کو وہ خدا کی خدائی میں شریک سمجھتا ہے ان کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ ایسا ہی طرز عمل ان لوگوں کا ہے جو آخرت کو جی اٹھنے کا یقین نہیں رکھتے۔ مکہ کے لوگوں کی غالب اکثریت کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے اور اس کے بعد اس نے زندہ نہیں ہونا اور نہ ہی اسے کوئی زندہ کرسکتا ہے۔ کیونکہ انسان مٹی سے بنا تھا اور وہ مرنے کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنے والا ایک شخص رسول محترم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور ایک گلی سڑی ہڈی کو اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوئے کہا کہ اے محمد ! اس مٹی کو کس طرح انسان کی شکل میں زندہ کیا جائے گا اس کے تکرار کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان ہمارے سامنے بوسیدہ ہڈی کی مثال پیش کرتا ہے۔ کہ اسے کون زندہ کرے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی پیدائش بھول گیا ہے اگر اسے اپنی پیدائش یاد ہوتی تو یہ ہمارے سامنے یہ مثال ہرگز پیش نہ کرتا۔ (قَالَ قَتَادَۃُ ؓ جَاءَ أُبَیٌّ بْنُ خَلْفٍ إِلٰی رَسُو ﷺ لِ اللّٰہِ ﷺ وَفِیْ یَدِہٖ عَظْمٌ رَمِیْمٌ وَہُوَ یُفَتِّتُہٗ وَیُذْرِیْہِ فِیْ الْہَوَاءِ وَہُوَ یَقُوْل یَا مُحَمَّدُ ، اأتَزْعَمُ اأنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ ہٰذَا ؟ فَقَالَ نَعَمْ ، یُمِیْتُکَ اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ یَبْعَثُکَ ، ثُمَّ یَحْشُرُکَ إِلٰی النَّاِروَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَاتُ مِنْ آخِرِ یٰس (أَوَلَمْ یَرَ الإنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُطْفَۃٍ ) ، إِلٰی آخِرِہُنَّ )[ تفسیر ابن کثیر، سورة یٰسٓ ] ” حضرت قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابی بن خلف نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا۔ ہڈی کو مسلا اور ہوا میں اڑا کر کہنے لگا۔ اے محمد ﷺ ! آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو زندہ کرلے گا۔ آپ نے جواب دیاہاں ایسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تجھے فوت کرے گا پھر زندہ کرے گا پھر وہ تجھے جہنّم کی طرف لے جائے گا۔ اس پر سورة یٰسکی آخری آیات نازل ہوئیں۔ “ مسائل 1۔ مشرک اپنی تخلیق کو بھول کر اپنے رب کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔ 2۔ آخرت کا منکر بوسیدہ ہڈی کے ذریعے سمجھتا ہے کہ اسے کوئی زندہ کرنے والا نہیں۔ 3۔ آخرت کا انکار کرنے والا حقیقت میں اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ مردوں کو ضرور زندہ کرے گا : 1۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : 51) 2۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55) 3۔ اللہ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : 4) 4۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11) 5۔ کیا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو زندہ فرمائے۔ (القیامۃ : 40)
Ayahs 36:78–80

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اب وہ اپنی پیدائش کو بھول کر ہم پر مثالیں چسپاں کرتا اور کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جب یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

اس سے فرمائیں کہ انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

اسی نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے اور تم اس سے آگ جلاتے ہو

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے منکر کو اس کی پیدائش کا حوالہ دے کر قیامت قائم ہونے کا ثبوت دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ اگر انسان کو اپنی تخلیق یاد ہو تو وہ قیامت کا انکار نہ کرے اور نہ ہی اس کے بارے میں بحث و تکرار کرے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ پیدا کرنا جانتا ہے۔ اس نے نہ صرف انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے بلکہ تمہارے لیے ہر بھرے درخت سے آگ پیدا کی ہے جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ کیا انسان اس پر بھی غور نہیں کرتا کہ جس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جس نے سبز درخت میں آگ پیدا کی اور جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا۔ کیا اب وہ انہیں پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ کیوں نہیں ! وہ تو بڑی سے بڑی چیز پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کی طاقت اور اختیارات کا عالم یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا حکم صادر فرماتا ہے کہ ہوجا۔ وہ چیز اس کی منشاء کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے کا ثبوت دیتے ہوئے چار دلائل دئیے ہیں۔ 1 پہلے انسان اپنی تخلیق پر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر ہر انسان کو اس کے ماں باپ کے نطفہ سے پیدا کرتا ہے اب نطفہ پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کس طرح انسان کو پیدا کرتا ہے۔ 2 وہ انسان کو اس لیے دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور کرے گا کیونکہ اس نے اسے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ ظاہر ہے جو کسی میٹریل اور پہلے سے موجودہ نقشے کے بغیر انسان کو پیدا کرسکتا ہے تو دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا ؟ اس کے ثبوت اس سے پہلی آیت کی تفسیر بالقرآن میں دئیے گئے ہیں۔ 3 انسان اپنی محدود عقل کے مطابق سمجھتا ہے کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مل جائے گا تو اس کے ذرّات کو مٹی سے الگ کرنا پھر اس کا ڈھانچہ بنانا اور اس میں زندگی پیدا کرنا مشکل ہے۔ اس باطل عقیدہ کے حامل شخص کو ایک ایسے درخت کے ذریعے آخرت کا عقیدہ سمجھایا گیا ہے جس سے پرانے زمانے کے عرب آگ حاصل کیا کرتے تھے۔ انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ غور کرو۔ درخت اپنے بیج کی بنیاد پر مٹی اور پانی کے جوہر سے اگتا ہے اور اس کے پتے اور ٹہنیاں انتہائی سبز ہوتی ہیں۔ جن میں ایک خاص مقدار میں پانی ہوتا ہے مگر جب تم اس کی ٹہنیوں کو آپس میں رگڑتے ہو تو اس سے آگ نکلتی ہے حالانکہ دونوں چیزیں آپس میں متضاد ہیں۔ جو ذات سبز اور تروتازہ ٹہنی سے آگ نکال سکتی ہے کیا وہ مٹی سے بنے ہوئے انسان کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتی ؟۔ یہ اشارہ مرخ اور عفار نامی دو درختوں کی طرف ہے جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی۔ قدیم زمانے میں عرب کے بدو آگ جلانے کے لیے چقماق استعمال کرتے تھے اور ممکن ہے دور دراز کے صحراؤں میں رہنے والے بادیہ نشین آج کل ایسا کرتے ہوں۔ 4 قیامت کا منکر انسان اپنی سمجھ کے مطابق دوبارہ پیدا ہونے کو انوکھا اور بڑا کام سمجھتا ہے کیا وہ غور نہیں کرتا کہ زمین و آسمان اس کے وجود اور اس کی تخلیق کے اعتبار سے بڑے نہیں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ہی انہیں پیدا کیا ہے اور وہ پوری مخلوق اور اس جیسی دوسری مخلوقات کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ کیونکہ وہ بڑا ہی خلّاق اور علیم ہے۔ اسے پیدا کرنے کے لیے کسی بنے بنائے نقشے اور میٹریل کی ضرورت نہیں جب وہ کسی کام یا چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ” کُنْ “ کا لفظ بولتا ہے اور وہ چیز عین اس کی مرضی کے مطابق بن جاتی ہے۔ مسائل 1۔ منکرین قیامت کو بتلائیں کہ وہی ” اللہ “ انہیں دوبارہ پیدا کرے گا جس نے پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا ہے۔ 2۔ اسی نے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کی جس سے تم آگ حاصل کرتے ہو۔ 3۔ وہی ذات کبریا ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور وہ جب چاہے اس جیسی مخلوق پیدا کرسکتا ہے۔ 4۔ صرف ایک ” اللہ “ ہی سب کچھ پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف کن فرماتا ہے اور وہ کام اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قاد رہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ : 20) 2۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : 29) 3۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 148) 4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 284) 5۔ آسمان و زمین کی بادشاہت ” اللہ “ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189) 6۔ اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 7۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ نے ہر چیز کو اپنے احاطہ قدرت میں لے رکھا ہے۔ (النساء : 126) 8۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں ان سب چیزوں کو اللہ نے احاطہ میں لے رکھا ہے۔ (النساء : 108) 9۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ بیشک میرے رب نے جو تم کرتے ہو اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ (ھود : 92) 10۔ جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (آل عمران : 120) 11۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اپنے علم کے ذریعہ احاطہ کر رکھا ہے۔ (الطلاق : 12)
Ayahs 36:81–83

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے۔ کیوں نہیں وہ تو سب کچھ جاننے والا اور خلّاق ہے

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے اور مشرک کے عقیدہ اور قیامت کے منکر کی سوچ سے اعلیٰ اور مبرّا ہے۔ مشرک کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنے وسیع و عریض نظام کو اکیلا نہیں چلا سکتا اس لیے اسے معاونین کی ضرورت ہے قیامت کا منکر اس لیے جی اٹھنے سے انکار کرتا ہے کہ ایسا ہونا اس کے نزدیک بڑا محال ہے۔ ایسے لوگوں کے نظریات کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی قوت وسطوت، اقتدار اور اختیار کا ذکر پورے جلال کے ساتھ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس ذات کے بارے میں ضعیف اور کمزور تصورات رکھتے ہو اس کے اقتدار واختیار کا عالم یہ ہے کہ ہر چیز کی بادشاہی اس کے پاس ہے وہی سب کا مالک اور خالق ہے۔ وہ اس قدر قادر ہے کہ تم چاہو یا نہ چاہو بالآخر تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اس کا فرمان ہے : (قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُ وْسَھُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھُوَ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا) [ بنی اسرائیل : 50 تا 51] ” فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ پھر وہ آپ کے سامنے اپنے سر ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا ؟ فرمادیں امید ہے عنقریب ہوگا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری اور شرک سے پاک ہے۔ 2۔ کائنات کے ذرّہ ذرّہ پر اس کی بادشاہی ہے۔ 3۔ وہی ہر چیز کا مالک اور خالق ہے اور سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔