37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

Ayahs 37:1–5

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قطار در قطار صف باندھنے والے فرشتوں کی قسم

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان کی قسم جو ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان کی قسم جو نصیحت بیان کرنے والے ہیں

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو زمین اور آسمانوں اور ان تمام چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں اور رب المشارق ہے

فہم القرآن سورة یٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔ اس کے کن کہنے سے ہر چیز عین اس کی منشا کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے ملائکہ قطار اندر قطار اور دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ وہی حقیقی الٰہ ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا فرمائے گا۔ ” اَلصّٰفّٰتِ “ کا معنی ہے صفیں باندھنے والے۔” اَلزّٰجِرَاتَ “ ، ڈانٹنے والے۔ اور ” اَلتّٰلِیٰتَ “ تلاوت کرنے والے۔ رب ذوالجلال نے یہاں تین قسمیں اٹھائی ہیں جن کے بارے میں مفسرین کی غالب اکثریت کا خیال ہے کہ صفیں باندھنے والے، ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے اور اللہ کے ارشادات کو یاد رکھنے والوں سے مراد مخصوص ملائکہ ہیں جو اپنے رب کے حضور ہر وقت صف بندی کی صو رت میں دست بستہ کھڑے رہتے ہیں کہ کب رب ذوالجلال کا حکم صادر ہو اور ہم اس کی تعمیل میں کمر بستہ ہوجائیں۔ یہ ملائکہ تعمیل حکم میں اپنے رب کے احکام کو من وعن یاد رکھتے ہیں اور اس پیغام کی شیاطین سے حفاظت بھی کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے ملائکہ کی تین اقسام مراد لی ہیں۔ 1 اللہ کے حضور ہر وقت صف بستہ رہنے والے 2 اللہ تعالیٰ کے احکام عرش معلی سے نیچے پہنچانے والے 3 آسمان دنیا تک پہنچنے والے شیاطین کا تعاقب کرنے والے۔ تدبرِقرآن کے مفسر نے ملائکہ کی تین حالتیں مراد لیتے ہوئے لکھا ہے کہ بندے کی نماز میں یہی تین حالتیں ہوتی ہیں نماز میں پہلے صف بندی ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ سے شیطان سے بچنے کے لیے حفاظت طلب کی جاتی ہے اور اس کے بعد اس کی حمد و ستائش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قسمیں اٹھانا : آدمی کے لیے حکم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی قسم نہیں اٹھا سکتا۔ انسان دوسرے کے سامنے دو وجوہات کی بنا پر قسم اٹھاتا ہے۔ اپنی بات میں پختگی پیدا کرنے اور سننے والے کے اعتماد میں اضافہ کرنے کے لیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم اٹھائے اس کی ذات پر کسی قسم کی پابندی نہیں اور نہ ہی اسے اپنے بارے میں کسی کا اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کی ذات حق اور اس کی ہر بات سچ ہے۔ البتہ انسانی ذہن کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کسی چیز کی قسم اس لیے اٹھاتا ہے تاکہ انسان کے ذہن میں اس چیز یا اس کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کیا جائے اور اس کے بعد ہونے والی بات پر انسان پوری توجہ مبذول کرئے۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی قسمیں اس لیے کھائی ہیں کہ ہر دور میں ایسے لوگ رہے ہیں اور ہونگے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں تصور کرتے ہوئے اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ گویا کہ ملائکہ کو اللہ کی ذات کا حصہ اور اس کی خدائی میں شریک سمجھتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی کچھ ڈیوٹیاں لگارکھی ہیں لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ وہ رب کی خدائی میں شریک ہوگئے ہیں ایسا ہرگز نہیں۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو پیدا کرنے والا ایک ہی رب ہے اور صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی رکوع و سجود کے لائق نہیں۔ وہی عطا کرنے والا اور بگڑی بنانے والا ہے اور نظام کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے۔ یہاں ” مَشَارِقْ “ کا لفظ لا کر یہ واضح فرمایا ہے کہ بیشک سورج مشرق کی جانب سے طلوع ہوتا ہے لیکن معلوم ہونا چاہیے سورج ہمیشہ مشرق کے ایک ہی مقام سے طلوح نہیں ہوتا بلکہ ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہے۔ جسے موجودہ سائنسدان اور فلکیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس لیے ” مَشَارِقْ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی میں ” مَشَارِقْ “ کا لفظ فاصلے کی طوالت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ سبحان اللہ قرآن مجید میں کیسی بلاغت پائی جاتی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا ماذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ) ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ جب آسمان پر کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اللہ کے ڈر کی وجہ سے فرشتوں کے پروں میں آواز پیدا ہوتی ہے جیسے صاف پتھر پر لوہے کی زنجیر کھینچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دورہوجاتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں ‘ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ؟ اوپر والے ملائکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو بیان کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ ہے اللہ کا ارشاد ہے جو بلند وبالا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے اس کو اجازت نہ ملے بلکہ اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ مسائل 1۔ ملائکہ اپنے رب کے حضور صف بندی کی حالت میں دست بستہ حاضر رہتے ہیں۔ 2۔ ملائکہ اپنے رب کے احکام کو یاد رکھنے اور انہیں آسمان دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ 3۔ ملائکہ اپنے رب کے حکم کی حفاظت کرتے ہوئے شیطان کا تعاقب کرتے ہیں۔ 4۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کچھ ایک رب کا پیدا کردہ اور اس کی ملکیت ہے۔ 5۔ زمین آسمان اور ہر چیز کا رب ہی الٰہ حقیقی ہے بس اسی کی ہی عبادت کرنا اور اسی سے ہی مانگنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن الٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں : 1۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ (النساء : 87) 2۔ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہے۔ (النساء : 171) 3۔ اللہ کے علاوہ کوئی خالق نہیں۔ (فاطر : 3) 4۔ اللہ رحمٰن اور رحیم ہے۔ (الفاتحۃ : 3) 5۔ اللہ ہی رزّاق ہے۔ (الذّاریات : 58) 6۔ اللہ ہی مشکل کشا ہے۔ (الانعام : 17)
Ayahs 37:6–10

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے خوبصورت بنایا ہے

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا ہے

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے کیونکہ انہیں ہر طرف سے مار پڑتی ہے

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کی مسلسل سزا ہے

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک بھٹکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے آسمانوں کو بنایا ہے اسی نے پہلے آسمان کو ستاروں سے روشن فرمایا ہے اور اس کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ آسمان دنیا یعنی پہلا آسمان جو لوگوں کو نظر آتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے دو فائدے اور بھی ذکر فرمائے ہیں۔ ان سے لوگ راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر بر ستے ہیں اس طرح شیاطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط کردیا گیا ہے۔ اس بندوبست سے پہلے شیاطین آسمان کے قریب جا کر ملائکہ کی کچھ نہ کچھ باتیں سن کر کاہنوں، نجومیوں اور اس قسم کے لوگوں کے دلوں میں جھوٹ، سچ ملا کر کوئی نہ کوئی بات القا کرتے تھے۔ جسے آٹھویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس جھوٹ کی طرف مائل ہوں اور وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ برائیاں کریں جو یہ کررہے ہیں۔ “ (الانعام : 113) اسی بات کو اہل مکہ نبی ﷺ پر چسپاں کرتے اور کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس فرشتہ نہیں بلکہ جنات آتے ہیں جو پہلے لوگوں کے واقعات سنانے کے ساتھ اسے مزید باتیں بتاتے ہیں۔ اس الزام کی یہاں خاص انداز میں تردید کی گئی ہے۔ انیسویں پارے میں کھلے الفاظ میں وضاحت فرمائی۔ ” کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں وہ ہر ایک جھوٹے اور بد کردار پر اترتے ہیں اور سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں۔ “ (الشعراء : 221 تا 223) ستاروں کے بارے میں کیا عقیدہ ہونا چاہیے : ” حضرت خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ؓ نے حدیبیہ مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو ہونے والی بارش کے اثرات فضا میں نمایاں تھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور صحابہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔ انہوں نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کچھ بندوں نے ایمان کی حالت میں صبح کی اور کچھ نے کفر کی حالت میں۔ جس نے کہا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان لایا اور اس نے ستاروں کا انکار کیا اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی اس نے میرا انکار کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔ “ [ رواہ البخاری : باب یَسْتَقْبِلُ الإِمَام النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ ] تفسیر بالقرآن ستاروں کا بیان اور ان کے فوائد : 1۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو اندھیروں میں تمہاری رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا۔ (الانعام : 97) 2۔ لوگ ستاروں کی علامات سے راہ پاتے ہیں۔ (النحل : 16) 3۔ چاند، سورج اور ستارے اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ (الاعراف : 54) 4۔ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے انھیں خوبصورت بنایا۔ (الحجر : 16) 5۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : 61) 6۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے خوبصورت بنایا ہے۔ (الصّٰفٰت : 6) 7۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور شیطانوں سے محفوظ فرمایا۔ (حٰم السجدۃ : 12) 8۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسے بنایا اور سجایا ہے۔ (ق : 6) 9۔ جِنّات نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہو اپایا۔ (الجن : 8)
Ayahs 37:11–18

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

ان سے پوچھو ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کی ہیں ہم نے انسانوں کو لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

تم حیران ہو کہ یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

سمجھایا جاتا ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے مذاق کرتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی بن جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو اس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے پہلے فوت ہونے والے آباؤ اجداد بھی اٹھائے جائیں گے۔ ؟

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

ان سے کہو ہاں اور تم اللہ کے مقابلے میں بےبس ہو

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج کے طلوع و غروب اور ستاروں کا حوالہ دے کر انسان کو دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت دیا گیا ہے۔ سورة یٰس کا اختتام اس مسئلہ پر ہوا تھا کہ جس رب نے زمین آسمانوں کو بنایا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کس طرح مشکل ہوسکتا ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں تین قسمیں کھا کر بتلایا کہ معبود حقیقی ایک ہی ہے جس نے زمین و آسمانوں کو بنایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا ا اور ان کے ذریعے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندوبست فرمایا ہے۔ اب انسان سے استفسار فرمایا ہے کہ وسیع و عریض زمین اور اتنے بڑے آسمانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا انسان کو دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اے انسان ذرا سوچ کہ تجھے صرف چپکنے والے گارے سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسانوں کی ابتدا آدم (علیہ السلام) سے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ستاروں کا ذکر فرما کر بات مزید کھول دی ہے کہ جو رب لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں بڑے بڑے ستارے پیدا کرتا اور انہیں شہاب ثاقب کی صورت میں گراتا اور ختم کرتا رہتا ہے کیا اسے انسان جیسی ناچیز شے کو پیدا کرنا مشکل ہے ؟۔ ” کیا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ! لوگوں کے دوبارہ پیدا کرنے سے بڑا کام نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان کو پیدا کرنا زمین و آسمانوں، ستاروں اور سیّاروں سے پیدا کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن بہت سے لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے۔ “ (المومن : 57) یاد رہے کہ ہر روز لاکھوں کی تعداد میں ستارے معرض وجود میں آتے ہیں اور مٹتے رہتے ہیں۔ جنہیں فلکیات کا علم رکھنے والے سائنسدان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کافر اس حقیقت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب انہیں بعث بعد الموت کے دلائل دیئے جاتے ہیں تو نبی ﷺ کو جادو گر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کیا ہم مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو پھر زندہ کیا جائے گا۔ اے پیغمبر ﷺ انہیں بتادیں کہ ہاں صرف زندہ ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں ذلیل کرکے اٹھایا جائے گا۔ مسائل 1۔ زمین و آسمانوں کی تخلیق سے کہیں بڑھ کر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آسان ہے۔ 2۔ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انہیں ذلیل کرکے اٹھایا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن دوبارہ زندہ ہونے کے عقلی اور مشاہدتی دلائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 73) 2۔ عزیر (علیہ السلام) کو سو سال کے بعد زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259) 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 260) 4۔ اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : 25) 5۔ عیسیٰ نے اللہ کے حکم سے مردہ زندہ کیا : (المائدۃ : 110) 6۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243) 7۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : 51) 8۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55)
Ayahs 37:19–25

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

بس ایک ہی جھڑکی دی جائے گی اور یکایک یہ دیکھ رہے ہوں گے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو قیامت کا دن ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

حکم ہوگا گھیرلاؤ سب ظالموں اور ان کی بیویوں اور ان معبودوں کو جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

حکم ہوگا کہ ذرا انہیں ٹھہراؤ ان سے کچھ پوچھنا ہے

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تمہیں کیا ہے کہ اب ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کا لوگ انکار کرتے ہیں اس کا آغاز اس طرح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا فیصلہ فرمائے گا جس کا دن اور وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ جوں ہی وہ دن اور گھڑی آئے گی تو اسرافیل فرشتہ کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی تو زمین میں ایسے زلزلے ہوں گے جس سے پہاڑ روئی کی طرح اڑنے شروع ہوں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اس کے بعد نہ معلوم کتنی مدت مخلوق فنا رہے گی۔ اس کے بعد اسرافیل کو زندہ کیا جائے گا اسے دوبارہ صور میں پھونک مارنے کا حکم ہوگا۔ اس کے پھونک مارنے کے ساتھ ہی لوگ قبروں سے اٹھنا شرو ع ہوں گے۔ اس وقت قیامت کے منکروں کو یقین ہوجائے گا کہ یہ تو وہی دن ہے جس کی ہم تکذیب کیا کرتے تھے۔ کہیں گے کہ ہم پر افسوس یہ تو فیصلے کا دن آپہنچا ہے۔ تفسیر بالقرآن دوسرے صور کے بعد مردوں کا زندہ ہونا : 1۔ پہلے نفخہ سے لوگ بےہوش ہوجائیں گے اور دوسرے نفخہ سے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ (الزمر : 68) 2۔ دوسرے نفخہ کے ساتھ ہی تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ (یٰس : 51) 3۔ ایک چیخ سے ہی تمام لوگ ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے۔ (یٰس : 53) 4۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (النّبا : 18) 5۔ جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو جمع کرلیں گے۔ (الکہف : 99) 6۔ صور پھونک دیا جائے گا اور وہی دن عذاب کے وعدے کا ہو گاہے۔ (ق ٓ: 20)
Ayahs 37:26–34

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

آج یہ اپنے آپ اور ایک دوسرے کو حوالے کیے جا رہے ہیں

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور آپس میں بحث و تکرار شروع کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں سے کہیں گے تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے تم تو خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا بلکہ تم خود ہی سرکش تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

آخر کار ہم اپنے رب کے اس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

سو ہم نے تمہیں بہکایا ہم خود بہکے ہوئے تھے

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

اس طرح وہ سب اس دن عذاب میں اکٹھے ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ یہی سلوک کیا کرتے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو قیامت کو جھٹلانے والوں سے سوال ہوگا۔ جب حساب و کتاب کے بعد مجرمین کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم میں داخل کردیا جائے۔ ملائکہ انہیں ہانک کر جہنم کی طرف لے جا رہے ہونگے تو ذات کبریاء کی طرف سے حکم ہوگا کہ انہیں چند لمحے ٹھہرایا جائے۔ جہنمی کہیں گے کہ شاید ہمیں کوئی رعایت دی جارہی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ رب ذوالجلال ارشاد فرمائیں گے کہ تمہیں کیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ اگر ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو تو کرو ! اس وقت حالت یہ ہوگی کہ پیر اور ان کے مرید، لیڈر اور ان کے ور کر، عابد، اور ان کے معبود علماء سو اور ان کے مقتدی سب کے سب فرمانبرداری کا مظاہرہ کررہے ہوں گے۔ رب ذوالجلال کا ارشاد سنتے ہی یہ لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ آج ہماری مدد کیوں نہیں کرتے ہو ؟ دنیا میں ہمارے پاس آکر بڑے بڑے دعوے کرتے اور ہمیں امیدیں دلایا اور کہا کرتے تھے کہ ہم دنیا میں بھی تمہارے خیر خواہ ہیں اور آخرت میں بھی تمہارے نجات دہندہ ہوں گے۔ بالخصوص جھوٹے پیر اور برے علماء یہ بات کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں کہ مرشد کے بغیر ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور مرشد ہی قیامت کے دن اپنے مریدوں کی نجات کا ذمہ دار ہوگا۔ اس امید کی بنیاد پر مرید اپنے پیروں کو ور کر اپنے لیڈروں کو کہیں گے کہ آج ہماری چارہ جوئی کرو کیونکہ تم دنیا میں ہماری نجات کی ذمہ داری کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ عربی زبان میں ” یَمِیْنٌ“ کے کئی معانی ہیں جن میں مشہور تین ہیں 1” یَمِیْنِ “ کا معنٰی دایاں ہاتھ یا جانب 2 قسم 3 غلام۔ گویا کہ جہنمی کہیں گے کہ ہم تو کسی نہ کسی طرح تمہارے غلام یعنی ماتحت تھے اور تم ہی نے قسمیں اٹھا، اٹھا کر ہمیں گمراہ کیا تھا اب ہماری چارہ جوئی کرو ! ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ کی وضاحت اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کی جاچکی ہے موقع کی منا سبت سے یہاں پھر مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ 1” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں حائل ہوتی ہو یا اسے حائل کرلیا جائے۔ اس میں وہ بت اور مجسمّے بھی شامل ہیں جن کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جائے کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے اور ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔ قیامت کے دن انہیں بھی جہنم میں جھونک دیا جائے گا تاکہ انہیں متبرک سمجھنے والے اپنی آنکھوں سے ان کا حشر دیکھ سکیں۔ یہ بت جہنم کے انگارے بن کر انکی سزا میں اضافہ کا باعث ثابت ہوں گے۔ 2 ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ سے مراد ہر قسم کے گمراہ پیر، حکمران، لیڈر اور مرشد ہیں جنہوں نے اپنے چاہنے والوں کو راہ راست سے گمراہ کیا یا گمراہی کا ماحول پیدا کیا۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگان دین جہنم سے محفوظ ہوں گے۔ بیشک لوگوں نے ان کے نام سے شرک کیا اور بدعات ورسومات رائج کیں۔ یہ بزرگ اس لیے جہنم سے دور رکھے جائیں گے کیونکہ وہ لوگوں کو شرک و بدعات سے منع کرتے تھے۔ جہنم کی ہولناکیاں دیکھ کر پیر اپنے مریدوں، عابد اپنے معبودوں اور لیڈر اپنے ور کروں، علماء اپنے مقتدیوں کو کہیں گے تمہاری گمراہی میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں۔ کیونکہ تم خود ہی ایمان لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ تمہیں گمراہ کرنے میں ہمیں کوئی اختیارنہ تھا۔ تم تو خود ہی اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب پر ہمارے رب کا فرمان سچ ثابت ہوا کہ ہم مجرموں کو عذاب کا ذائقہ چکھاتے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ اس کا اعتراف کریں گے کہ ہم نے تمہیں اس طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ تھے۔ اس طرح عذاب پانے والے ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم مجرموں کو اس طرح ہی سزا دیتے ہیں۔ مسائل 1۔ جہنمیوں کو ایک جگہ جمع کرکے آخری مرتبہ سوال ہوگا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ 2۔ جہنمی اپنے گناہوں کی ذمہ داری اپنے راہنماؤں پر عائد کریں گے۔ 3۔ جہنمیوں کے پیشوا گناہوں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کریں گے۔ تفسیر بالقرآن محشر کے میدان میں جہنمیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تکرار کرنا : 1۔ قیامت کے دن معبودان باطل اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (یونس : 28) 2۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کے معبود انکار کریں گے۔ (النحل : 86) 3۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودان کو دیکھ کر کہیں گے ہمیں یہ گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : 63) 4۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : 166) 5۔ جہنم میں داخل ہونے والے اپنے سے پہلوں کو دیکھ کر کہیں گے۔ ہمیں گمراہ کرنے والے یہی لوگ تھے الٰہی انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ (الاعراف : 38)
Ayahs 37:35–39

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کیا ہم ایک شاعر اور مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے پہلے رسولوں کی تصدیق کی تھی

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

تم ضرور درد ناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں جو سزا دی جارہی ہے وہ انہی اعمال کی ہے جو تم کرتے رہے ہو

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا سب سے بڑا جرم۔ جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کا سب سے بڑا جرم یہ ہوگا کہ وہ ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کے منکر ہوں گے۔ دنیا میں جب بھی ایسے لوگوں کو انبیائے کرام یا ان کے سچے جانشینوں نے ” لَا اِلٰٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ لوگوں کی غالب اکثریت نے اس دعوت کے ساتھ تکبر کا مظاہرہ کیا۔ مشرک کی عادت ہے کہ جوں ہی اسے توحیدِخالص کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ منہ بسوڑتا اور تکبر کا اظہار کرتا ہے۔ دعوت توحید کے ساتھ تکبر کرنے والوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزّماں کی دعوت کو یہ کہہ کر ٹھکرایا کیا ہم اس شاعر اور دیو انے کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ اس الزام اور خرافات کے ساتھ انہوں نے یہ بھی پراپیگنڈہ کیا کہ ہمارے لیے اس نبی کی دعوت انوکھی ہے حالانکہ ان کے پہلے الزامات کی طرح یہ بات بھی سراسر جھوٹ تھی اور ہے۔ کیونکہ نبی آخر الزماں ﷺ صرف دعوت حق پیش کرنے والے نہیں تھے بلکہ پہلے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تصدیق بھی فرماتے تھے۔ ” ان کو تعجب ہوتا ہے کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آدمی سمجھانے والا آیا اور منکر کہتے ہیں کہ یہ جادوگر اور بڑا جھوٹا ہے۔ اس نے تمام معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود بنا لیا ہے کچھ شک نہیں کہ یہ عجیب بات ہے۔ ان کے سردار کہنے لگے کہ اپنے معبودوں پر جمے رہو اس کے پیچھے تو کوئی غرض دکھائی دیتی ہے۔ “ (صٓ: 4 تا 7) نبی کریم ﷺ کو کافر اس لیے دیوانہ کہتے تھے کہ اس شخص کی معاشرے میں بہت عزت بنی ہوئی تھی لیکن اس نے محض اپنی دعوت کی خاطر ساری عزت برباد کرلی ہے اور دیوانوں کی طرح ایک ہی بات دھراے جاتا ہے۔ وہ اس لیے بھی آپ کو دیوانہ کہتے تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ہی خدا اتنی بڑی کائنات کا نظام اکیلا چلا سکے۔ وہ آپ کو اس لیے بھی دیوانہ کہتے تھے کہ ہر قسم کی پیشکش کی ہے لیکن یہ دیوانوں کی طرح ہر بات کو ٹھکراتے جا رہا ہے۔ ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ یہ ضرور اذّیت ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے اور یہ ان کو ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ مسائل 1۔ لوگوں کی غالب اکثریت دعوت توحید کے ساتھ تکبر کرتی ہے۔ 2۔ مشرکین اور کفار نے نبی اکرم ﷺ کو دیوانہ اور شاعر ہونے کا الزام دیا۔ 3۔ کفار نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کو انوکھی بات قرار دیا۔ 4۔ نبی معظم ﷺ تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والے تھے۔ تفسیر بالقرآن لَا اِلٰٰہَ اِلَّااللّٰہَ کے ساتھ منکرین کا روّیہ : 1۔ جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو وہ تکبر کرتے ہیں۔ ( الصافات : 35) 2۔ جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جل اٹھتے ہیں۔ ( الزمر : 45) 3۔ جب تنہا ایک رب کی طرف بلایا جاتا ہے تو مشرکین اس دعوت کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ( المؤمن : 12) 4۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو تو وہ انکار کرتے ہوئے مزید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ (الفرقان : 60) 5۔ جب قرآن میں آپ کے اکیلے رب کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ اپنی پیٹھوں کے بل بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 46) 6۔ جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے آباء و اجداد کی پیروی کریں گے۔ ( البقرۃ : 170)